حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ صَاحِبَهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Umar:
The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited taking two dates at a time until seeking permission from one's companion.
He said: There is something on this topic from Sa'd the freed slave of Abu Bakr.
[Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد مولی ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرکة ۴ (۲۴۹۰)، صحیح مسلم/الأشربة ۲۵ (۲۰۴۵)، سنن ابی داود/ الأطعمة ۴۴ (۳۸۳۴)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ۴۱ (۳۳۳۱)، (تحفة الأشراف : ۶۶۶۷)، و مسند احمد (۲/۶۰)، سنن الدارمی/الأطعمة ۲۵ (۲۱۰۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بے انتہا حریص اور لالچی ہو، اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو، اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے، خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو، یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
1814
Sahih