حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَيُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ: هُوَ أَمْرَأُ وَأَرْوَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَى عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا .
Narrated Anas bin Malik:
That the Prophet (ﷺ) would breathe three times in the vessel and say: It is more wholesome and thirst quenching.
[Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. Hisham Ad-Dastawa'i reported it from Abu 'Isam, from Anas.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے: ( پانی پینے کا یہ طریقہ ) ”زیادہ خوشگوار اور سیراب کن ہوتا ہے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہشام دستوائی نے بھی ابوعصام کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، اور عزرہ بن ثابت نے ثمامہ سے، ثمامہ نے انس سے روایت کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة ۱۶ (۲۰۲۸/۱۲۳)، سنن ابی داود/ الأشربة ۱۹ (۳۷۲۷) (تحفة الأشراف : ۱۷۲۳)، و مسند احمد (۳/۱۱۹، ۱۸۵، ۲۱۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : معلوم ہوا کہ پینے والی چیز تین سانس میں پی جائے، اور سانس لیتے وقت برتن سے منہ ہٹا کر سانس لی جائے، اس سے معدہ پر یکبارگی بوجھ نہیں پڑتا، اور اس میں حیوانوں سے مشابہت بھی نہیں پائی جاتی، دوسری بات یہ ہے کہ پانی کے برتن میں سانس لینے سے تھوک اور جراثیم وغیرہ جانے کا جو خطرہ ہے اس سے حفاظت ہو جاتی ہے۔
1884
Sahih