حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَال: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْوَلِيدِ اسْمُهُ: عُبَيْدُ سَنُوطَا.
Khawlah bint Qais, who was the wife of Hamzah bin 'Abdul-Muttalib narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:
Indeed this wealth is green and sweet. Whoever gets what he deserves of it then he shall be blessed in it. And many a person who deals with what he wants for himself, from the wealth of Allah and His Messenger, gets nothing on the Day of Judgment but the Fire.
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۵۸۲۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مال سے مراد دنیا ہے، یعنی دنیا بے انتہا میٹھی، ہری بھری، اور دل کو لبھانے والی ہے، زبان اور نگاہ سب کی لذت کی جامع ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے حرام طریقہ سے بچ کر صرف حلال طریقہ اپنانا چاہیئے، کیونکہ حلال طریقہ اپنانے والے کے لیے جنت اور حرام طریقہ اپنانے والے کے لیے جہنم ہے۔
2374
Sahih