TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: شعر پڑھنے کا بیان - باب: شعر پڑھنے کا بیان - Chapters on manners - Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation

Chapter 67 of Chapters on manners in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 67 of 69 · 5 Hadith
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا يُفَاخِرُ أَوْ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated 'Aishah: The Messenger of Allah (ﷺ) had a Minbar placed in the Masjid for Hassan to stand to boast (poetically) about the Messenger of Allah (ﷺ) - or she said: to defend the Messenger of Allah (ﷺ). And the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed Allah has aided Hassan with the holy spirit (Jibril) as he boasts about - or - defends the Messenger of Allah (ﷺ).'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی الله عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ حسان کی مدد روح القدس ( جبرائیل ) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ ( اپنے اشعار کے ذریعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے فخر کرتے یا آپ کا دفاع کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور یہ حدیث ابن ابی الزناد کی روایت سے ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الأدب ۹۵ (۵۰۱۵) (تحفة الأشراف : ۱۶۳۵۱، و۱۷۰۲۰)
2846
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَمْشِي وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَرَمِ اللَّهِ تَقُولُ الشِّعْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَهِيَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَعْبُ بْنُ مَالِكٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا كَانَتْ عُمْرَةُ الْقَضَاءِ بَعْدَ ذَلِكَ.
Narrated Anas: that the Prophet (ﷺ) entered Makkah during 'Umratil-Qada and 'Abdullah bin Rawahah was walking in front of him reciting verses of poetry. O tribes of disbelievers get out of his way - today we will strike you about its revelation; a strike that removes the heads from the shoulders - and makes the friend not concerned about his friend. 'Umar said to him: O Ibn Rawahah! Before the Messenger of Allah (ﷺ), and in the sanctuary of Allah you utter poetry? the Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave him O 'Umar! For it is quicker upon them than the raining arrow.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کفار کی اولاد! اس کے ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ) راستے سے ہٹ جاؤ، آج کے دن ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو گردنوں سے جدا کر دے گی، ایسی مار ماریں گے جو دوست کو دوست سے غافل کر دے گی“ عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! تم رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں کہنے دو، عمر! یہ اشعار ان ( کفار و مشرکین ) پر تیر برسانے سے بھی زیادہ زود اثر ہیں ( یہ انہیں بوکھلا کر رکھ دیں گے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر سے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے انس سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے ( اس وقت ) کعب بن مالک آپ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض محدثین کے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ عبداللہ بن رواحہ جنگ موتہ میں مارے گئے ہیں۔ اور عمرۃ القضاء اس کے بعد ہوا ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۱۰۹ (۲۸۷۶)، و ۱۲۱ (۲۸۹۶) (تحفة الأشراف : ۲۶۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حافظ ابن حجر نے امام ترمذی کے اس قول پر نقد کیا ہے، کہتے ہیں : امام ترمذی کا یہ کہنا کہ عمرۃ القضاء جنگ موتہ کے بعد ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے۔
2847
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ لَهَا:‏‏‏‏ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَتَمَثَّلُ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِوَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Miqdam bin Shuraih: from his father, that 'Aishah was asked: Did the Prophet (ﷺ) used to say any poetry? She said: He would say parables with the poetry of Ibn Rawahah, saying: 'News shall come to you from where you did not expect it.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ۱؎ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ۲۸۷ (۹۹۷) (تحفة الأشراف : ۱۶۱۴۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : پورا شعر اس طرح ہے : «ستبدى لك الأيام ماكنت جاهلا ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ” زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بیخبر ہو گے، اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہو گا “۔
2848
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَريكٌ، عَنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ:‏‏‏‏ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ.
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: The best statement spoken by the Arab is the saying of Labid: 'Everything aside from Allah perishes.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب کا بہترین شعری کلام لبید کا یہ شعر ہے: «ألا كل شيء ما خلا الله باطل» ”سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے ثوری اور ان کے علاوہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مناقب الأنصار ۲۶ (۳۸۴۱)، والأدب ۹۰ (۶۱۴۷)، والرقاق ۲۹ (۶۴۸۹)، صحیح مسلم/الشعرح ۲ (۲۲۵۶)، سنن ابن ماجہ/الأدب ۴۱ (۳۷۵۷) (تحفة الأشراف : ۱۴۹۷۶)، و مسند احمد (۲/۲۴۸، ۳۹۱، ۳۹۳، ۴۴۴، ۴۵۸، ۴۷۰، ۴۸۱)
2849
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكٍ أَيْضًا.
Narrated Jabir bin Samurah: I sat with the Prophet (ﷺ) more than one-hundred times. His Companions used to recite poetry and talk about things that occurred during Jahiliyyah, and he would remain silent, and sometimes he would smile along with them.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے ( سنتے و سناتے ) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۲۱۷۶)
2850
Sahih

Chapters

69
01
باب: چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا
2 Hadith
02
باب: آدمی کو جب چھینک آئے تو کیا کہے؟
1 Hadith
03
باب: چھینکنے والے کا جواب کس طرح دیا جائے؟
3 Hadith
04
باب: چھینکنے والے کے «الحمد للہ» کہنے پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا کرنا واجب ہے
1 Hadith
05
باب: چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟
2 Hadith
06
باب: چھینکتے وقت آواز دھیمی کرنے اور منہ ڈھانپ لینے کا بیان
1 Hadith
07
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
2 Hadith
08
باب: نماز میں چھینک شیطان کی جانب سے آتی ہے
1 Hadith
09
باب: کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے
2 Hadith
10
باب: مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے
1 Hadith
11
باب: بغیر اجازت دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
12
باب: مجلس کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
13
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
2 Hadith
14
باب: ناخن کاٹنے کا بیان
2 Hadith
15
باب: ناخن کاٹنے اور مونچھیں تراشنے کے وقت کا بیان
2 Hadith
16
باب: مونچھیں کترنے کا بیان
2 Hadith
17
باب: داڑھی کے بال (طول و عرض سے) لینے کا بیان
1 Hadith
18
باب: داڑھی بڑھانے کا بیان
2 Hadith
19
باب: ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے کا بیان
1 Hadith
20
باب: ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان
2 Hadith
21
باب: پیٹ کے بل (اوندھے منہ) لیٹنا مکروہ ہے
1 Hadith
22
باب: ستر (شرمگاہ) کی حفاظت کا بیان
2 Hadith
23
باب: تکیہ اور ٹیک لگا کر بیٹھنے کا بیان
7 Hadith
24
باب: آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے
1 Hadith
25
باب: غالیچہ (چھوٹے قالین) رکھنے کی رخصت کا بیان
1 Hadith
26
باب: ایک سواری پر (بیک وقت) تین آدمیوں کے بیٹھنے کا بیان
1 Hadith
27
باب: (غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان
2 Hadith
28
باب: عورتیں مرد سے پردہ کریں اس کا بیان
1 Hadith
29
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
1 Hadith
30
باب: عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بیان
1 Hadith
31
باب: زائد بالوں کا گچھا اپنے بال میں جوڑنے کی حرمت کا بیان
1 Hadith
32
باب: بال جوڑنے اور جڑوانے والی اور گودنا گودنے اور گودوانے والی پر وارد لعنت کا بیان
2 Hadith
33
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
2 Hadith
34
باب: عطر لگا عورت کے گھر سے باہر نکلنے کی حرمت کا بیان
1 Hadith
35
باب: مرد اور عورت کی خوشبو کا بیان
2 Hadith
36
باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے
3 Hadith
37
باب: مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ چمٹنا حرام ہے
2 Hadith
38
باب: ران کے ستر (شرمگاہ) میں داخل ہونے کا بیان
4 Hadith
39
باب: صفائی ستھرائی کا بیان
1 Hadith
40
باب: جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان
1 Hadith
41
باب: غسل خانہ میں جانے کا بیان
3 Hadith
42
باب: جس گھر میں تصویر اور کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے
3 Hadith
43
باب: مردوں کے لیے زرد رنگ میں رنگا اور قسی ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہننا حرام ہے
3 Hadith
44
باب: سفید کپڑے پہننے کا بیان
1 Hadith
45
باب: مردوں کے لیے سرخ لباس پہننے کی اجازت کا بیان
1 Hadith
46
باب: سبز رنگ کے کپڑے کا بیان
1 Hadith
47
باب: کالے کپڑے کا بیان
1 Hadith
48
باب: پیلے کپڑے کا بیان
1 Hadith
49
باب: زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے
2 Hadith
50
باب: (مردوں کے لیے) ریشم اور ریشم سے بنے ہوئے کپڑے مردوں کے پہنے کی حرمت کا بیان
1 Hadith
51
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
1 Hadith
52
باب: کالے موزوں کا بیان
1 Hadith
53
باب: بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے کی ممانعت
1 Hadith
54
باب: مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے
2 Hadith
55
باب: نحوست اور بدبختی کا بیان
1 Hadith
56
باب: تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو کانا پھوسی کریں یہ درست نہیں ہے
1 Hadith
57
باب: عہد و پیمان کا بیان
2 Hadith
58
باب: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان
3 Hadith
59
باب: کسی کو پیار و شفقت سے ”میرے بیٹے“ کہنے کا بیان
1 Hadith
60
باب: نومولود کا نام جلد رکھنے کا بیان
1 Hadith
61
باب: پسندیدہ ناموں کا بیان
2 Hadith
62
باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان
3 Hadith
63
باب: خراب نام کی تبدیلی کا بیان
2 Hadith
64
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسماء گرامی کا بیان
1 Hadith
65
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے
3 Hadith
66
باب: بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں
2 Hadith
67
باب: شعر پڑھنے کا بیان
5 Hadith
68
باب: پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے
2 Hadith
69
باب: فصاحت و بیان کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.