TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3712 - باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب - Chapters on virtues - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا،‏‏‏‏ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ،‏‏‏‏ فَأَصَابَ جَارِيَةً،‏‏‏‏ فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ،‏‏‏‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ،‏‏‏‏ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
Narrated 'Imran bin Husain: that the Messenger of Allah (ﷺ) dispatched an army and he put 'Ali bin Abi Talib in charge of it. He left on the expedition and he entered upon a female slave. So four of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) scolded him, and they made a pact saying: [If] we meet the Messenger of Allah (ﷺ) we will inform him of what 'Ali did. When the Muslims returned from the journey, they would begin with the Messenger of Allah (ﷺ) and give him Salam, then they would go to their homes. So when the expedition arrived, they gave Salam to the Prophet (ﷺ), and one of the four stood saying: O Messenger of Allah! Do you see that 'Ali bin Abi Talib did such and such. The Messenger of Allah (ﷺ) turned away from him. Then the second one stood and said as he said, and he turned away from him. Then the third stood before him, and said as he said, and he turned away from him. Then the fourth stood and said as they had said. The Messenger of Allah (ﷺ) faced him, and the anger was visible on his face, he said: What do you want from 'Ali?! What do you want from 'Ali?! Indeed 'Ali is from me, and I am from him, and he is the ally of every believer after me.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( لشکر ) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی رضی الله عنہ کو مقرر کیا، چنانچہ وہ اس سریہ ( لشکر ) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کر لیا ۱؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چنانچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ۱؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔
3712
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 46, Hadith 3712 Arabic reference : Book 49, Hadith 4077
صحيح، الصحيحة (2223) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3712
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ۱۰۸۶۱)، و مسند احمد (۴/۴۳۷-۴۳۸)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : یہ لونڈی مال غنیمت میں سے تھی، تو لوگوں نے اس لیے اعتراض کیا کہ ابھی مال غنیمت کی تقسیم تو عمل میں آئی نہیں، اس لیے یہ مال غنیمت میں خردبرد کے ضمن میں آتا ہے، یا اس لیے اعتراض کیا کہ مال غنیمت کی لونڈیوں میں ضروری ہے کہ پہلے ایک ماہواری سے ان کے رحم کی صفائی ہو جائے، اور علی رضی الله عنہ نے ایسا نہیں کیا ہے، یہ بات تو علی رضی الله عنہ سے بالکل بعید ہے کہ استبراء رحم (رحم کی صفائی) سے پہلے لونڈی سے ہمبستری کر بیٹھیں، ہوا یہ ہو گا کہ ایک دو دن کے بعد ہی وہ ماہواری سے فارغ ہوئی ہو گی، تو اب مزید ماہواری کی تو ضرورت تھی نہیں۔ ۲؎ : اس جملہ سے اہل تشیع کا یہ استدلال کرنا کہ علی رضی الله عنہ سارے صحابہ سے افضل ہیں درست نہیں ہے کیونکہ کچھ اور صحابہ بھی ہیں جن کے متعلق آپ نے یہی جملہ کہا ہے، مثلاً جلیبیب کے متعلق آپ نے فرمایا : ” «ہذا منی و أنا منہ» “ اسی طرح اشعریین کے بارے میں آپ نے فرمایا : ” «فہم منی و أنا منہم» “ یہ دونوں روایتیں صحیح مسلم کی ہیں، مسند احمد میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی ناجیہ کے متعلق فرمایا : «أنا منہم وہم منی» ۔ نیز اس سے یہ استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ” علی مجھ سے ہیں “ کا مطلب ہے : علی آپ کی ذات ہی میں سے ہیں، اس سے مراد ہے : نسب۔

Related Chapters

1,154
1
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
2
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
3
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
4
باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
5
باب: معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
6
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
7
یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
8
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییمن کی طرف مہم کا بیان
Musnad Ahmad
9
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
Musnad Ahmad
10
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
Sahih Bukhari
11
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence of the Prophet (s.a.w) And His Family
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
17
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
18
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
Jam e Tirmazi
19
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
24
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
25
باب: ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
33
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
34
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
39
باب: سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
40
باب: قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
44
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
46
بَاب مَنَاقِب عَليّ بن أبي طَالب
علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان
Mishkat
47
کاتبین میں سے ایک سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
Musnad Ahmad
48
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
49
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
50
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

203
Silsila Sahih
3566
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جَيْشًا وَّاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ فَأَصَابَ جَارِيَةً فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ وَتَعَاقَدَوا أَرْبَعَةٌ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: إنْ لَّقِينَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ : مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ؟ إِنَّ عَلِيًّا مِّنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي. ( )
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو نگران بنایا ، وہ سر یے میں روانہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک لونڈی سےجماع کیا ،لوگوں نے اسے برا محسوس کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ نےعہد کر لیا، کہنے لگے: اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو انہیں علی رضی اللہ عنہ کے کارنامے کی خبر دیں گے ۔ مسلمان جب کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے، پھر اپنے گھروں کو جاتے۔ جب یہ سریہ واپس آیا تو انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو سلام کہا، ان چاروں میں سے ایک کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ علی بن ابی طالب کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے یہ کام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ پھر دوسرا کھڑا ہوا اور اسی طرح کی بات کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے بھی منہ موڑ لیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اور جو بات انہوں نے کہی تھی اسی طرح کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی اعراض کرلیا۔ پھر چوتھا کھڑا ہوا اور اس نے بھی وہی بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہوئے،غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے صاف نظر آرہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم علی سے کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مومن کا دوست ہے۔
Jam e Tirmazi
190
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ اتَّخِذُوا قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
Ibn Umar narrated: When the Muslims arrived in AI-Madinah, they used to assemble for the Salat, and guess the time for it there was no one who called for it (the prayer). One day they discussed that and some of them said that they should use a bell like the bell the Christians use. Others said they should use a trumpet like the horn the Jews use. But Umar [bin Al-Khattab] said: 'Wouldn't it better if we had a man call for the prayer?' He said: So Allah's Messenger said: 'O Bilal! Stand up and call for the Salat.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگاتے تھے، کوئی نماز کے لیے پکار نہ لگاتا تھا، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ۱؎ چنانچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنا لو، بعض نے کہا کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن ( یعنی کسی جانور کا سینگ ) بنا لو۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: اس پر عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو نماز کے لیے پکارے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال اٹھو جاؤ نماز کے لیے پکارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی ( اس ) روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ ( جسے بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے ) ۱؎۔
Jam e Tirmazi
575
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا يَعْنِي النَّجْمَ وَالْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ السُّجُودَ فِي سُورَةِ النَّجْمِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِي الْمُفَصَّلِ سَجْدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Ibn Abbas narrated: The Messenger of Allah prostrated for it - meaning (in Surat) An-Najm - and so did the Muslims, the idolaters, the Jinns, and the people.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یعنی سورۃ النجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور انسانوں نے بھی سجدہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کی رائے میں سورۃ النجم میں سجدہ ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مفصل کی سورتوں میں سجدہ نہیں ہے۔ اور یہی مالک بن انس کا بھی قول ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
Jam e Tirmazi
871
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِأَرْبَعٍ:‏‏‏‏ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَجْتَمِعُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَا مُدَّةَ لَهُ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ. ح
Zaid bin Uthai said: XI asked Ali: What is it that you were sent with? He said: With four things: None will be admitted into Paradise except for the soul that is a Muslim. None is to perform Tawaf around the House while naked. The Muslims and the idolaters will not be gathering (in Makkah) together after this year. And for whomever there is a covenant between him and the Prophet, then his covenant is (valid) until its term, and for that in which there was no term, then it shall be four months.
زید بن اثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے؟ ۱؎ انہوں نے کہا: چار باتوں کا: جنت میں صرف وہی جان داخل ہو گی جو مسلمان ہو، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں، جس کسی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہد ہو تو اس کا یہ عہد اس کی مدت تک کے لیے ہو گا۔ اور جس کی کوئی مدت نہ ہو تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
1352
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ جَدِّهِ،‏‏‏‏ أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ،‏‏‏‏ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا،‏‏‏‏ أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا،‏‏‏‏ وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا،‏‏‏‏ أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Kathir bin 'Amr bin 'Awf Al-Muzani narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Reconciliation is allowed among the Muslims, except for reconciliation that makes the lawful unlawful, or the unlawful lawful. And the Muslims will be held to their conditions, except the conditions that make the lawful unlawful, or the unlawful lawful.
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہو گی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1506
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ،‏‏‏‏ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأُضْحِيَّةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ ؟ فَقَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ ،‏‏‏‏ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَعْقِلُ،‏‏‏‏ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ أَنَّ الْأُضْحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ،‏‏‏‏ وَلَكِنَّهَا سُنَّةٌ مِنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُعْمَلَ بِهَا ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ.
Narrated Jabalah bin Suhaim : That a man asked Ibn 'Umar about the Udhiyah, Is it obligatory? So he said: The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Udhiyah as did the Muslims. He repeated the question. So he said: Do you understand ? The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered as did the Muslims.
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی الله عنہما سے قربانی کے بارے میں پوچھا: کیا یہ واجب ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے، اس آدمی نے پھر اپنا سوال دہرایا، انہوں نے کہا: سمجھتے نہیں ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، اور اس پر عمل کرنا مستحب ہے، سفیان ثوری اور ابن مبارک کا یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1552
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَتَخْرِيبِ الْحُصُونِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:‏‏‏‏ وَنَهَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَنْ يَقْطَعَ شَجَرًا مُثْمِرًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يُخَرِّبَ عَامِرًا، ‏‏‏‏‏‏وَعَمِلَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالتَّحْرِيقِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ وَقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَالثِّمَارِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ وَقَدْ تَكُونُ فِي مَوَاضِعَ لَا يَجِدُونَ مِنْهُ بُدًّا، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا بِالْعَبَثِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تُحَرَّقْ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ التَّحْرِيقُ سُنَّةٌ إِذَا كَانَ أَنْكَى فِيهِمْ.
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) burnt the palm trees of Bani Nadir and cut them down at Al-Buwairah. So Allah revealed: Whatever you cut down of their palm trees, or you left them standing on their trunks, then it was by the permission of Allah, and in the order to disgrace the rebellious.(59:5)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا اور کٹوا دیئے ۱؎، یہ مقام بویرہ کا واقعہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ” ( مسلمانو! ) ، ( یہود بنی نضیر کے ) کھجوروں کے درخت جو کاٹ ڈالے ہیں یا ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا اور اپنے تنوں پر ہی ان کو کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اللہ عزوجل کو منظور تھا کہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے“ ( الحشر: ۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، وہ درخت کاٹنے اور قلعے ویران کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں، ۴- بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں، اوزاعی کا یہی قول ہے، ۵- اوزاعی کہتے ہیں: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے یزید کو پھل دار درخت کاٹنے اور مکان ویران کرنے سے منع کیا، ان کے بعد مسلمانوں نے اسی پر عمل کیا، ۶- شافعی کہتے ہیں: دشمن کے ملک میں آگ لگانے، درخت اور پھل کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۲؎۔ ۷- احمد کہتے ہیں: اسلامی لشکر کبھی کبھی ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا، لیکن بلا ضرورت آگ نہ لگائی جائے، ۸- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: آگ لگانا سنت ہے، جب یہ کافروں کی ہار و رسوائی کا باعث ہو۔
Jam e Tirmazi
1556
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ، ‏‏‏‏‏‏كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ:‏‏‏‏ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي:‏‏‏‏ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَكَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، ‏‏‏‏‏‏وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا بِسَهْمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يُسْهَمُ لِلْمَرْأَةِ وَالصَّبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:‏‏‏‏ وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصِّبْيَانِ بِخَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْهَمَتْ أَئِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِكُلِّ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:‏‏‏‏ وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ بِخَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يُرْضَخُ لَهُنَّ بِشَيْءٍ مِنَ الْغَنِيمَةِ، ‏‏‏‏‏‏يُعْطَيْنَ شَيْئًا.
Narrated Yazid bin Hurmuz: That Najdah Al-Haruri wrote to Ibn 'Abbas asking if the Messenger of Allah (ﷺ) would fight along with women, and if he would fix a share of the spoils of war for them. Ibn 'Abbas wrote to him: You wrote to me asking me if the Messenger of Allah (ﷺ) would fight along with women. He did fight along with them, as they would treat the wounded. They received something from the spoils of war, but as for their share, then he did not fix a share for them. There is something on this topic from Anas and Umm 'Atiyyah. This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to most of the people of knowledge. It is the view of Sufyan Ath-Thawri and Ash-Shafi'i. Some of them said that a share is given to the woman and the boy, and this is the view of Al-Awza'i. Al-Awza'i said: The Prophet (ﷺ) gave a portion to the boys at Khaibar, and the Aimmah of the Muslims gave a portion to every child born in the land of war. Al-Awza'i said: The Prophet (ﷺ) gave a portion to the women at Khaibar, and that was followed by the Muslims after him. This was narrated to us by 'Ali bin Khashram (who said): 'Eisa bin Yunus narrated this to us from Al-Awza'i. The meaning of his saying: They received something from the spoils of war it is said that he conferred something on them (the women) from the spoils of war.
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس یہ سوال لکھ کر بھیجا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ اور کیا آپ ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ بھی مقرر فرماتے تھے؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے ان کو جواب میں لکھا: تم نے میرے پاس یہ سوال لکھا ہے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ ۱؎ ہاں، آپ ان کے ہمراہ جہاد کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کرتی تھیں اور مال غنیمت سے ان کو ( بطور انعام ) کچھ دیا جاتا تھا، رہ گئی حصہ کی بات تو آپ نے ان کے لیے حصہ نہیں مقرر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ام عطیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: عورت اور بچہ کو بھی حصہ دیا جائے گا، اوزاعی کا یہی قول ہے، ۴- اوزاعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں بچوں کو حصہ دیا اور مسلمانوں کے امراء نے ہر اس مولود کے لیے حصہ مقرر کیا جو دشمنوں کی سر زمین میں پیدا ہوا ہو، اوزاعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر میں عورتوں کو حصہ دیا اور آپ کے بعد مسلمانوں نے اسی پر عمل کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1582
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ أَوْ أَبْجَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَرَكَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَفَهُ الدَّمُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَسَمَهُ أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَكَمَ أَنْ يُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ يَسْتَعِينُ بِهِنَّ الْمُسْلِمُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Jabir: On the day of (the battle of) Al-Ahzab, Sa'd bin Mu'adh was struck by an arrow such that the upper vein or lower vein of his forearm was severed. So the Messenger of Allah (ﷺ) tried to stop it with fire, but it made his arm bleed profusely so he left it. Then he did it another time but it caused it to bleed profusely. Upon seeing that he said: 'O Allah! Do not allow my soul depart until my eyes are comforted by elimination of Banu Quraizah.' He pressed his vein closed and it did not bleed a drop before they surrendered to the arbitration of Sa'd bin Mu'adh. He (the Prophet (ﷺ)) sent to him (Sa'd) who judged that their men should be killed, their women should be spared, and that the Muslims may share them among themselves. With this, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have judged according to Allah's judgement for them.' And they were four hundred. Then when he finished killing them, his vein opened up and he died. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed and 'Atiyyah Al-Qurazi. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کو تیر لگا، کفار نے ان کی رگ اکحل یا رگ ابجل ( بازو کی ایک رگ ) کاٹ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آگ سے داغا تو ان کا ہاتھ سوج گیا، لہٰذا آپ نے اسے چھوڑ دیا، پھر خون بہنے لگا، چنانچہ آپ نے دوبارہ داغا پھر ان کا ہاتھ سوج گیا، جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ ( کی ہلاکت اور ذلت سے ) میری آنکھ ٹھنڈی نہ ہو جائے، پس ان کی رگ رک گئی اور خون کا ایک قطرہ بھی اس سے نہ ٹپکا، یہاں تک کہ بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے حکم پر ( قلعہ سے ) نیچے اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو بلایا انہوں نے آ کر فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں کو زندہ رکھا جائے جن سے مسلمان خدمت لیں ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کیا ہے، ان کی تعداد چار سو تھی، جب آپ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد کی رگ کھل گئی اور وہ انتقال کر گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عطیہ قرظی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔