Surat Younus

Surah: 10

Verse: 22

سورة يونس

ہُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَ جَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوۡا بِہَا جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَہُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ ۚ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۲۲﴾

It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah , sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."

وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ( برے ) آگھرے ( اس وقت ) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

ہُوَ
وہی ہے
الَّذِیۡ
جو
یُسَیِّرُکُمۡ
چلاتا ہے تمہیں
فِی الۡبَرِّ
خشکی میں
وَالۡبَحۡرِ
اور سمندر میں
حَتّٰۤی
یہاں تک کہ
اِذَا
جب
کُنۡتُمۡ
ہوتے ہو تم
فِی الۡفُلۡکِ
کشتیوں میں
وَجَرَیۡنَ
اور وہ لےچلتی ہے
بِہِمۡ
انہیں
بِرِیۡحٍ
ساتھ ہوا
طَیِّبَۃٍ
عمدہ کے
وَّفَرِحُوۡا
اور وہ خوش ہوتے ہیں
بِہَا
ساتھ اس کے
جَآءَتۡہَا
آجاتی ہے ان (کشتیوں ) پر
رِیۡحٌ
ہوا
عَاصِفٌ
شدید
وَّجَآءَہُمُ
اور آجاتی ہے ان پر
الۡمَوۡجُ
موج
مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ
ہر طرف سے
وَّظَنُّوۡۤا
اور وہ سمجھتے ہیں
اَنَّہُمۡ
کہ بیشک وہ
اُحِیۡطَ
گھیر لیا گیا ہے
بِہِمۡ
انہیں
دَعَوُا
وہ پکارتے ہیں
اللّٰہَ
اللہ کو
مُخۡلِصِیۡنَ
خالص کرنے والے ہو کر
لَہُ
اس کے لیے
الدِّیۡنَ
دین کو
لَئِنۡ
البتہ اگر
اَنۡجَیۡتَنَا
نجات دی تونےہمیں
مِنۡ ہٰذِہٖ
اس سے
لَنَکُوۡنَنَّ
البتہ ہم ضرور ہوجائیں گے
مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ
شکر گزاروں میں سے
Word by Word by

Nighat Hashmi

ہُوَ
وہی ہے
الَّذِیۡ
جو
یُسَیِّرُکُمۡ
وہ چلاتا ہے تمہیں
فِی الۡبَرِّ
خشکی میں
وَالۡبَحۡرِ
اور سمندر میں
حَتّٰۤی
یہاں تک کہ
اِذَا
جب
کُنۡتُمۡ
ہوتے ہو تم
فِی الۡفُلۡکِ
کشتیوں میں
وَجَرَیۡنَ
اور وہ چلتی ہیں
بِہِمۡ
ساتھ ان کے
بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ
عمدہ ہوا کے ساتھ
وَّفَرِحُوۡا
اور وہ خوش ہوتے ہیں
بِہَا
اس پر
جَآءَتۡہَا
آ جاتی ہے ان کے پاس
رِیۡحٌ عَاصِفٌ
سخت تیز ہوا
وَّجَآءَہُمُ
اور آتی ہے ان پر
الۡمَوۡجُ
موج
مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ
ہر جانب سے
وَّظَنُّوۡۤا
اوروہ یقین کرتے ہیں
اَنَّہُمۡ
بیشک وہ
اُحِیۡطَ
گھیر لیا گیا ہے
بِہِمۡ
انہیں
دَعَوُا
وہ پکارتے ہیں
اللّٰہَ
اللہ تعالیٰ کو
مُخۡلِصِیۡنَ
خالص کرتے ہوئے
لَہُ
اس کے لیے
الدِّیۡنَ
عبادت کو
لَئِنۡ
یقیناً اگر
اَنۡجَیۡتَنَا
تو نے نجات دےدی ہمیں
مِنۡ ہٰذِہٖ
اس سے
لَنَکُوۡنَنَّ
تو ہم ضرور ہوں گے
مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ
شکر ادا کرنے والوں میں سے
Translated by

Juna Garhi

It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah , sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."

وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ( برے ) آگھرے ( اس وقت ) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

وہی تو ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں سیر کراتا ہے۔ حتیٰ کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں باد موافق سے انہیں لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ (یکدم) ان کشتیوں کو آندھی آلیتی ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگنے شروع ہوجاتے ہیں اور انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ اب گھیرے میں آگئے تو اس وقت عبادت کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ : اگر تو نے ہمیں اس (طوفان) سے بچا لیا تو ہم شکرگزار بن کر رہیں گے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وہی ہے جوخشکی اورسمندرمیں تمہیں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہواوروہ انہیں لے کرعمدہ ہوا کے ساتھ چلتی ہیں اور وہ اس پرخوش ہورہے ہوتے ہیں کہ اچانک سخت تیز ہواآجاتی ہے اوران پرہرجانب سے موج آجاتی ہیں اوروہ یقین کرلیتے ہیں کہ بے شک انہیں گھیرلیاگیاہے تووہ اﷲ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے اُسی کو پکارتے ہیں کہ اگرآپ ہمیں اس سے نجات دے دیں توہم ضرورشکرکرنے والوں میں سے ہوں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

He is the One who enables you to travel on land and at sea, until when you are in the boats and they sail with those on board under a good wind and they are pleased with it, there comes upon them a violent wind, and the wave comes upon them from many sides. And (when) they think that they are encircled, they pray to Allah, having faith in Him alone, (and say,) |"If You deliver us from this, we shall be grateful indeed.|"

وہی ہے تم کو پھراتا ہے جنگل اور دریا میں، یہاں تک کہ جب تم بیٹھے کشتیوں میں اور لے کر چلیں وہ لوگوں کو اچھی ہوا سے اور خوش ہوئے اس سے، آئی کشتیوں پر ہوا تند اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور جان لیا انہوں نے کہ وہ گھر گئے پکارنے لگے اللہ کو خالص ہو کر اس کی بندگی میں، اگر تو نے بچالیا ہم کو اس سے تو بیشک ہم رہیں گے شکر گزار،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

وہی ہے جو تمہیں سیر کراتا ہے خشکی اور سمندر میں یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ چل رہی ہوتی ہیں انہیں (سواروں کو) لے کر خوشگوار (موافق) ہوا کے ساتھ اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں کہ اچانک تیز ہوا کا جھکڑ چل پڑتا ہے اور ہر طرف سے موجیں ان کی طرف بڑھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ ان (لہروں) میں گھیر لیے گئے ہیں اس وقت ) وہ پکارتے ہیں اللہ کو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کہ ( اے اللہ ! ) اگرُ تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم لازماً ہوجائیں گے بہت شکر کرنے والوں میں سے

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

He it is Who enables you to journey through the land and the sea. And so it happens that when you have boarded the ships and they set sail with a favourable wind, and the passengers rejoice at the pleasant voyage, then suddenly a fierce gale appears, and wave upon wave surges upon them from every side, and people believe that they are surrounded from all directions, and all of them cry out to Allah in full sincerity of faith: 'If You deliver us from this we shall surely be thankful.

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے ۔ چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ ( طوفان میں ) گھِر گئے ، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے ۔ 31

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو ، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوشگوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے ۔ تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں ( اور کہتے ہیں کہ ) ‘‘ ( یا اللہ ! ) اگر تو نے ہمیں اس ( مصیبت سے ) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گذار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے ۔ ’’

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

وہی خدا ہے جو خشکی اور تری زمین اور پانی میں تم کو لئے پھرتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور موافق ہوا سے وہ لوگوں کو لے کر چلتی ہیں اور لوگ اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ایک ہی ایکا) زور کی آندھی چلنے لگتی ہے اور ہر طرف سے پانی کی لہر ان پر آپہنچتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اب بلا میں گٹھ گئے (طوفان سے ہلاک ہوئے) بس اس وقت خالص خدا ہی کو مان کر اس سے دعا کرنے لگتے ہیں اے خدا اگر تو ہم اس بلا سے چھڑا دے تو بیشک ہم تیرے شکر گزار ہوں گے 8

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

وہی (اللہ) ہے جو تم کو خشکی اور سمندر میں چلنے پھرنے کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ تم کشتیوں (بحری جہازوں) میں سوار ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) پاکیزہ ہوا کے جھونکوں سے ان کو لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ (ناگہاں) مخالف تیز ہوا چل پڑتی ہے اور ان پر ہر طرف سے موجیں (اٹھ اٹھ کر) آنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ان (لہروں) میں گھر گئے ہیں اس وقت خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر آپ ہم کو اس سے نجات بخشیں تو ہم ضرور (آپ کے) شکرگزار ہوں گے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

وہ اللہ ہی تو ہے جو خشکی اور تری میں تمہیں چلاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں (جہازوں) میں سوار ہوتے ہو اور وہ کشتیاں موافق ہوائوں کے ساتھ تمہیں لے کر چلتی ہیں اور تم خوشی کی کیفیت محسوس کرتے ہو کہ اچانک ہوا کا تیز (طوفان) جھونکا آتا ہے۔ ہر طرف سے بڑی بڑی موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے طوفان میں گھر چکے ہیں تب وہ پورے خلوص اور اعتقاد سے اللہ کو پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں (اس طوفان سے) نجات عطا کردی تو ہم شکر گذار بن جائیں گے۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

He it is who enableth you to travel by land and sea until when ye are in ships and they run away with them with a goodly wind and they rejoice thereat, there cometh upon them a tempestuous wind and there cometh unto them a billow from every side, and they imagine that they are encompassed therein, they cry unto Allah making there faith pure for Him: If Thou deliverest us from this. we would surely be of those who are thankful.

وہ وہی (اللہ) ہے جو تم کو خشکی اور سمندر میں لئے لئے پھرتا ہے چناچہ جب تم کشتی میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو ہوائے موافق کے ذریعہ سے لے کرچلتی ہیں اور وہ لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ (ناگہاں) ایک تھپیڑا ہوا کا آتا ہے اور ان کے اوپر ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ (بس اب) ہم گھرگئے ۔ (تو اس وقت) اللہ کو اس کے ساتھ اعتقاد کو (بالکل) خالص کرکے پکارتے ہیں (کہ) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دلادی تو ہم یقیناً بڑے شکر گزاروں میں ہوں گے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تَری میں سفر کراتا ہے ۔ یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتیاں ہوائے موافق سے چل رہی ہوتی ہیں اور وہ اس میں مگن ہوتے ہیں کہ دفعۃً ایک بادِ تند آتی ہے اور ان پر ہر جانب سے موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ہم ہلاک ہوئے تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں ، خالص اسی کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے کہ اگر تونے ہمیں اس آفت سے نجات دی تو ہم تیرے شکرگذار بندوں میں سے ہوکر رہیں گے ۔

Translated by

Mufti Naeem

اﷲ ( تعالیٰ ) وہی ہیں جو تمہیں خشکی اور سمندر میں سیر کراتے ہیں یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتی موافق ہوا کے ذریعے چلنے لگتی ہے اور اس میں موجود لوگ خوش ہونے لگتے ہیں اس کشتی پر سخت تیز ہوا کا جھونکا آجاتا ہے اور ہر طرف سے موجیں ان پر اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں اب وہ گھِرگئے ( ایسے موقعے پر ) وہ لوگ اﷲ ( تعالیٰ ) کیلئے اپنا اعتقاد خالص کر کے اسے پکارنے لگتے ہیں کہ اگر آپ نے اس مصیبت سے ہمیں نجات دیدی تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار لوگوں میں سے ہوں گے

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

وہی تو ہے جو تم کو خشکی اور دریا میں (چلنے پھرنے اور) سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا کے نرم نرم جھونکوں سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور ہر طرف سے جوش مارتی ہوئی لہریں ان پر آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اب تو لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص اللہ ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ اے اللہ ! اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم تیرے بہت شکر گزار ہوں گے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

وہ (اللہ) وہی تو ہے جو تم کو چلاتا (پھراتا) ہے خشکی میں کبھی، اور تری میں بھی، یہاں تک کہ جب تک تم لوگ بیٹھے ہوتے ہو کشتیوں میں، اور وہ کشتیاں اپنی سواریوں (یعنی تم) کو لے کر باد موافق کے ذریعے رواں دواں ہوتی ہیں، اور یہ لوگ ان (کی رفتار) سے شاداں و فرھاں ہوتے ہیں، تو یکایک آ دبوچتا ہے ان کو ایک جھونکا زور دار ہوا کا، اور لگنے لگتے ہیں ان کو موجوں کے تھپیڑے ہر طرف سے، اور ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ پوری طرح گھر گئے ہیں، تو اس وقت یہ پکارنے لگتے ہیں اللہ کو، خالص کر کے اس کے لئے اپنے دین کو کہ (مالک ! ) اگر تو نے ہم کو نجات دے دی اس بلا سے، تو ہم یقیناً شکر گزار بن جائیں گے تیرے

Translated by

Noor ul Amin

وہی ہےجو تمہیں خشکی اور سمندرمیں سیرکراتا ہے حتیٰ کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتیاں موافق ہوائوں کے سہارے انہیں لے کرچلتی ہیں جن سے وہ خوش ہوتے ہیں اور جب ( یکدم ) ان کشتیوں کو آندھی آلیتی ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اب گھیرے میں آگئے تواس وقت عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے دعامانگتے ہیں کہ:’’اگرتونے ہمیں اس سے بچالیاتوہم شکر گزاربن کر رہیں گے‘‘

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے ( ف۵۲ ) یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ ( ف۵۳ ) اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے ( ف۵٤ ) ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہو کر ، کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ( ف۵۵ )

Translated by

Tahir ul Qadri

وہی ہے جو تمہیں خشک زمین اور سمندر میں چلنے پھرنے ( کی توفیق ) دیتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ( سوار ) ہوتے ہو اور وہ ( کشتیاں ) لوگوں کو لے کر موافق ہوا کے جھونکوں سے چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں تو ( ناگہاں ) ان ( کشتیوں ) کو تیز و تند ہوا کا جھونکا آلیتا ہے اور ہر طرف سے ان ( سواروں ) کو ( جوش مارتی ہوئی ) موجیں آگھیرتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ( اب ) وہ ان ( لہروں ) سے گھر گئے ( تو اس وقت ) وہ اللہ کو پکارتے ہیں ( اس حال میں ) کہ اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں ( اور کہتے ہیں: اے اللہ! ) اگر تو نے ہمیں اس ( بَلا ) سے نجات بخش دی تو ہم ضرور ( تیرے ) شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے

Translated by

Hussain Najfi

وہ ( خدا ) وہی ہے جو تمہیں خشکی و تری میں سیر و سفر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ موافق ہوا کے مطابق مسافروں کو لے کر چلتی ہیں اور وہ خوش و خرم ہوتے ہیں تو پھر اچانک بادِ مخالف کا تھپیڑ آجاتا ہے اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم بالکل گھر گئے ہیں ( اور زندہ بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی ) تو اس وقت دین کو اللہ کے لئے خالص کرکے یعنی بڑے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں کہ ( یا اللہ ) اگر تو ہمیں اس ( مصیبت ) سے نجات دے دے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

He it is Who enableth you to traverse through land and sea; so that ye even board ships;- they sail with them with a favourable wind, and they rejoice thereat; then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think they are being overwhelmed: they cry unto Allah, sincerely offering (their) duty unto Him saying, "If thou dost deliver us from this, we shall truly show our gratitude!"

Translated by

Muhammad Sarwar

When you are rejoicing in a boat, a favorable breeze and a violent storm arises with waves surrounding you from all sides. Thinking that you will not survive, you start to pray sincerely to God. In prayer, you say, "If You rescue us from this we shall certainly be grateful".

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

He it is Who enables you to travel through land and sea, till when you are in the ships, and they sail with them with a favorable wind, and they are glad therein, then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think that they are encircled therein. Then they invoke Allah, making their faith pure for Him (alone), (saying): "If You (Allah) deliver us from this, we shall truly, be of the grateful."

Translated by

Muhammad Habib Shakir

He it is Who makes you travel by land and sea; until when you are in the ships, and they sail on with them in a pleasant breeze, and they rejoice, a violent wind overtakes them and the billows surge in on them from all sides, and they become certain that they are encompassed about, they pray to Allah, being sincere to Him in obedience: If Thou dost deliver us from this, we will most certainly be of the grateful ones.

Translated by

William Pickthall

He it is Who maketh you to go on the land and the sea till, when ye are in the ships and they sail with them with a fair breeze and they are glad therein, a storm-wind reacheth them and the wave cometh unto them from every side and they deem that they are overwhelmed therein; (then) they cry unto Allah, making their faith pure for Him only: If Thou deliver us from this, we truly will be of the thankful.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

वह अल्लाह ही है जो तुमको ख़ुश्की और तरी में चलाता है; चुनाँचे जब तुम कश्ती में होते हो और कश्तियाँ लोगों को लेकर मुवाफ़िक़ हवा से चल रही होती हैं और लोग उससे ख़ुश होते हैं कि यकायक एक तेज़ हवा आती है और उन पर हर जानिब से मौजें उठने लगती हैं और वे गुमान कर लेते हैं कि हम घिर गए, उस वक़्त वे अपने दीन को अल्लाह ही के लिए ख़ालिस करके उसको पुकारने लगते हैं कि अगर आपने हमें इससे नजात दे दी तो यक़ीनन हम शुक्रगुज़ार बंदे बनेंगे।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

اور (الله) ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں لیے پھرتا ہے (7) یہاں تک کہ جب بعض (اوقات) تم کشتی میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان (کی رفتار) سے خوش ہوتے ہیں (اس حالت میں دفعتا) ان پر ایک جھونکا (مخالف) ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے (اس وقت) سب خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں (کہ اے الله) اگر آپ ہم کو اس (مصیبت) سے بچا لیں تو ضرور ہم حق شناس (موحد) بن جاویں۔ (22)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

” وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کرموافق ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان کشتیوں کے مخالف ہوا آجاتی ہے اور ان پر ہر مقام سے موجیں چھاجاتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یقیناً ان کو گھیر لیا گیا ہے، تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ہر قسم کی عبادت اس کیلئے خالص کرنے والے ہوتے ہیں یقیناً اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔ “ (٢٢) ”

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چناچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوکر باد موافق پر شاداں وفرحاں سفر کررہے ہوتے ہو اور اور پھر یکایک باد مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے ، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لئے خالص کر کے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ وہ ہے جو تمہیں سمندر اور خشکی میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں موجود ہو اور وہ کشتی اچھی ہوا کے ساتھ چلنے لگے اور جو لوگ اس میں سوار ہوں وہ اس پر خوش ہوجائیں تو اس کشتی پر ایک سخت ہوا آجائے اور ہر جگہ سے ان پر موجیں آنے لگیں اور وہ یقین کرلیں کہ انہیں گھیر لیا گیا ہے تو اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اس کیلئے خالص اعتقاد کر کے اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

وہی تم کو پھراتا ہے جنگل اور دریا میں یہاں تک کہ جب تم بیٹھے کشتیوں میں اور لے کر چلیں وہ لوگوں کو اچھی ہوا سے اور خوش ہوئے اس سے، آئی کشتیوں پر ہوا تند اور آئی ان پر، موج ہر جگہ سے اور جان لیا انہوں نے کہ وہ گھر گئے پکارنے لگے اللہ کو خالص ہو کر اس کی بندگی میں اگر تو نے بچا لیا ہم کو اس سے تو بیشک ہم رہیں گے شکر گزار

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

وہ خدا ہے جو تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کبھی کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ لیکر چلتی ہیں اور وہ لوگ اس ہوا سے بہت خوش ہوتے ہیں اسی حال میں یکایک ان کشتیوں پر مخالف ہوا کا ایک تیز جھونکا آجاتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر چکے ہیں تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت اختیار کرکے خدا کو پکارتے ہیں کہ اے خدا اس آفت سے بچالے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار رہیں گے پھر جب خدا ان کو اس طوفان سے نجات دے دیتا ہے تو وہ زمین میں بیجا سرکشی کرنے لگتے ہیں