Surat Younus

Surah: 10

Verse: 43

سورة يونس

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۴۳﴾

And among them are those who look at you. But can you guide the blind although they will not [attempt to] see?

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ آپ کو دیکھ رہے ہیں ۔ پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ ... And among them are some who look at you, They look at you and at what Allah has given you in terms of dignity, noble personality and great conduct. There is in all of this clear evidence of your Prophethood to those who have reason and insight. Other people also look but they do not receive guidance like them. Believers look at you with respect and dignity while disbelievers regard you with contempt. وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً And when they see you, they treat you only in mockery. (25:41) ... أَفَأَنتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُواْ لاَ يُبْصِرُونَ but can you guide the blind -- even though they see not! Then Allah announces that He is never unjust with anyone. He guides whomever He wills and opens the eyes of the blind, makes the deaf hear and removes neglect from the hearts. At the same time He lets others go astray, moving away from faith. He does all of that yet He is always Just, for He is the Ruler and has full authority over His kingdom. He does whatever He wills without any restrictions. No one can question Him as to what He does while he will question everyone else. He is Omniscient, All-Wise, and All-Just. So Allah said:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

43۔ 1 اسی طرح بعض لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن مقصد ان کا بھی چونکہ کچھ اور ہوتا ہے اس لئے انہیں بھی اس طرح کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جس طرح ایک اندھے کو نہیں ہوتا۔ بالخصوص وہ اندھا جو بصارت کے ساتھ بصیرت سے بھی محروم ہو۔ لیکن ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی اندھا جو دل کی بصیرت سے بھی محروم ہو مقصد ان باتوں سے نبی کی تسلی ہے۔ جس طرح ایک حکیم اور طبیب کو جب معلوم ہوجائے کہ مریض علاج کروانے میں سنجیدہ نہیں اور میری ہدایت اور علاج کی پرواہ نہیں کرتا، تو وہ اسے نظر انداز کردیتا ہے اور وہ اس پر اپنا وقت صرف کرنا پسند نہیں کرتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٨] دل بینا اور ظاہری بینائی :۔ یعنی جو لوگ دل کے بہرے ہیں وہ اگر آپ کی باتیں سن بھی لیں تو ان کے دل پر کیا اثر ہوسکتا ہے ؟ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بےعقل بھی ہوں کہ اگر وہ سن نہیں سکتے تو کم از کم اشاروں سے ہی کچھ سمجھ جائیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہیں جو دل کے اندھے ہیں ان کا دل آپ کی باتوں کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ پھر اگر وہ آپ کی باتیں سننے کے لیے آپ کی طرف دیکھ بھی رہے ہوں تو اس دیکھنے کا انہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بےبصیرت بھی ہوں کہ اگر کوئی بات ان کے کانوں میں پڑ بھی جائے تو اسے سمجھ ہی نہ سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ظاہری طور پر سننے اور دیکھنے سے آپ یہ توقع مت رکھیں کہ آپ کی باتوں کا ان پر کچھ اثر ہوگا اور وہ ایمان لے آئیں گے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کا سننا اور دیکھنا بالکل چوپایوں کی طرح ہے وہ بھی عقل و فہم سے کورے یہ بھی کورے۔ اور بدتر اس لحاظ سے کہ چوپایوں میں تو عقل و فہم کا ملکہ پیدا ہی نہیں کیا گیا، جبکہ ان میں ایسا ملکہ موجود ہونے کے باوجود اس سے کام نہیں لے رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّنْظُرُ اِلَيْكَ۝ ٠ ۭ اَفَاَنْتَ تَہْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ۝ ٤٣ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٣) اور ان یہود اور مشرکین عرب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کو دیکھ رہے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو ہدایت کا راستہ دکھلا رہے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہیں اور حق وہدایت کو دیکھنے کا وہ ارادہ بھی نہیں رکھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اَفَاَنْتَ تَہْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوْا لاَ یُبْصِرُوْنَ ) چنانچہ جب ان لوگوں کی نیت ہی ہدایت حاصل کرنے کی نہیں ہے ‘ جب ان کے دل ہی اندھے ہوچکے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں آنا اور آپ کی صحبت میں بیٹھنا ‘ ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوسکتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

51. The import of the statement is substantially the same as that made above. The limb called the 'eye' is of little service if it serves no other purpose than that of observation. For the eye, as an instrument of observation, is also available to animals and they use it solely for that purpose. What is of true worth is the mental eye which ought to enable man to see not only that which is apparent and evident, but also that which is beyond that. If a man is not possessed of this mental eye - which is the true eye - then even though he might be able to observe in the literal sense of the word, he cannot be considered to be one who truly sees. Both these verses are addressed to the Prophet (peace be on him). But it is to those whom he wanted to reform rather than directly to himself that the reproach was directed. Moreover, the purpose of the statement is not just to reproach. The pinching sarcasm which has been employed in the statement aims at awakening the slumbering humanity of people so that they may be able to take heed. The manner of the discourse brings to mind the image of a righteous man who lives in the midst of a corrupt people. He is a man who maintains for himself extremely high standards of character and conduct. At the same time, he attempts, out of sincerity and goodwill, to awaken his fellow-beings to realize the low depths to which they have sunk. He also seeks to explain to them, out of sincere concern for them, how evil their ways of life are. And above all, he highlights for them the contours of the right way of life. But the people around him are such that they are neither inspired to righteousness by his practical and righteous example, nor do they pay any heed to his earnest counsel and admonition. The purpose of what has been said here, viz.'... will you, then, make the deaf hear even though they understand nothing?' should be understood in the above context. This statement resembles the remark of someone who, feeling disgusted when he finds his friend fails to make people hear his earnest exhortations, throws up his hands in exasperation and says: 'Are you not wasting your time, my friend, trying to make the deaf hear, or trying to direct the blind to the right path? The ears that would make them listen to the voice of the truth are sealed; the eyes that could have made them perceive the truth have been blinded.' The purpose of so saying is not to reproach that righteous person for his sincere exhortation nor to prevent him from making his efforts to reform people. What

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :51 یہاں بھی وہی بات فرمائی گئی ہے کہ جو اوپر کے فقرے میں ہے ۔ سر کی آنکھیں کھلی ہونے سے کچھ فائدہ نہیں ، ان سے تو جانور بھی آخر دیکھتا ہی ہے ۔ اصل چیز دل کی آنکھوں کا کھلا ہونا ہے ۔ یہ چیز اگر کسی شخص کو حاصل نہ ہو تو وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتا ۔ ان دونوں آیتوں میں خطاب تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر ملامت ان لوگوں کو کی جا رہی ہے جن کی اصلاح کے آپ درپے تھے ۔ اور اس ملامت کی غرض بھی محض ملامت کرنا ہی نہیں ہے بلکہ طنز کا تیر و نشتر اس لیے چبھویا جا رہا ہے کہ ان کی سوئی ہوئی انسانیت اس کی چبھن سے کچھ بیدار ہو اور ان کی چشم و گوش سے ان کے دل تک جانے والا راستہ کھلے ، تا کہ معقول بات اور درد مندانہ نصیحت وہاں تک پہنچ سکے ۔ یہ انداز بیان کچھ اس طرح کا ہے جیسے کوئی نیک آدمی بگڑے ہوئے لوگوں کے درمیان بلند ترین اخلاقی سیرت کے ساتھ رہتا ہو اور نہایت اخلاص و دردمندی کے ساتھ ان کو ان کی اس گری ہوئی حالت کا احساس دلا رہا ہوں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ۔ اور بڑی معقولیت و سنجیدگی کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہو کہ ان کے طریق زندگی میں کیا خرابی ہے اور صحیح طریق زندگی کیا ہے ۔ مگر کوئی نہ تو اس کی پاکیزہ زندگی سے سبق لیتا ہو نہ اس کی ان خیر خواہانہ نصیحتوں کی طرف توجہ کرتا ہو ۔ اس حالت میں عین اس وقت جبکہ وہ ان لوگوں کو سمجھانے میں مشغول ہو اور وہ اس کی باتوں کو سنی ان سنی کیے جا رہے ہوں ، اس کا کوئی دوست آکر اس سے کہے کہ میاں یہ تم کن بہروں کو سنا رہے ہو اور کن اندھوں کو راستہ دکھانا چاہتے ہو ، ان کے تو دل کے کان بند ہیں اور ان کی ھیے کی آنکھیں پھوٹی ہوئی ہیں ۔ یہ بات کہنے سے اس دوست کا منشا یہ نہیں ہوگا کہ وہ مرد صالح اپنی سعی اصلاح سے باز آجائے ۔ بلکہ دراصل اس کی غرض یہ ہوگی کہ شاید اس طنز اور ملامت ہی سے ان نیند کے ماتوں کو کچھ ہوش آجائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

23: آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی امت پر جو غیر معمولی شفقت تھی اس کی وجہ سے آپ اکثر اس بات سے غمگین رہتے تھے کہ یہ کافر لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے، یہ آیت آپ کو تسلی دے رہی ہے کہ آپ اسی شخص کو راہ راستہ پر لا سکتے ہیں جو دل میں حق کی طلب رکھتا ہو۔ لیکن جن لوگوں میں اس طلب کا فقدان ہے، ان کی مثال تو بہروں اور اندھوں کی سی ہے کہ آپ کتنا ہی چاہیں، نہ انہیں کوئی بات سنا سکتے ہیں، نہ کوئی راستہ دکھا سکتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری آپ پر نہیں، خود انہی پر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں کہ دوزخ کا راستہ اپنا رکھا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:43) عمی۔ اندھے۔ آنکھوں سے اندھے یا دل کے اندھے۔ دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اعمی کی جمع۔ عمیاء واحد مؤنث۔ ہر دو کی جمع عمی ہے۔ عمی یعمی (سمع) عمی۔ اندھا ہونا۔ دل کا اندھا ہونا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ اور بعض ایسے ہیں جو بظاہر پھاڑ پھاڑ کر آپ کی طرف دیکھتے ہیں مگر حقیقت میں یہ اندھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے بظاہر سننے یا دیکھنے سے یہ توقع ہرگز نہ رکھیں کہ وہ ایمان لے آئیں۔ مقصد تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومنھم من ینظر الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ‘ سچائی کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ علامات نبوی ان کو نظر آتی ہیں لیکن ان کے دل نابینا ہیں۔ قلبی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق نہیں کرتے (گویا وہ اندھے بھی ہیں اور بےبصیرت بھی) ۔ افانت تھدی العمی ولو کانوا لا یبصرون۔ تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا دیں گے خواہ وہ (بےبصر ہونے کے ساتھ) بےبصیرت بھی ہوں۔ مفقود البصر اگر معدوم البصیرت بھی ہو تو اس کو راستہ کیسے نظر آسکتا ہے۔ ایمان نہ لانے والے کافروں سے بیزاری ظاہر کرنے اور رخ پھیر لینے کا سابق آیت میں حکم دیا تھا۔ ان دونوں جملوں میں اس حکم کی علت بھی بیان فرما دی جس سے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو تسلی دینا بھی مقصود ہے کہ وہ بہرے جن میں شنوائی کی طاقت ہی نہ ہو اور وہ اندھے جو معدوم البصیرت ہوں ‘ ان کو تم سنا سکتے ہو نہ راہ دکھا سکتے ہو۔ پس جن کو میں نے ایمان سے محروم کردیا ہے ‘ تم ان کو توفیق ایمان نہیں دے سکتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

60: اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے آپ کی طرف دیکھتے اور آپ کی صداقت اور نبوت کے دلائل کا واضحہ کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر دل سے آپ کی تصدیق نہیں کرتے کیونکہ مہر جباریت کی وجہ سے ان کی بصیرت معطل ہوچکی ہے اور ان کی مثال ان اندھوں کی سی ہے جو ظاہری آنکھوں کے ساتھ ساتھ اندرونی بصیرت یعنی عقل و فراست بھی محروم ہوں اس لیے ان کے راہ راستہ پر آنے کی اب کوئی امید نہیں یعنی “ انھم فی الیاس من ان یقبلوا و یصدقوا کالصم والعمی الذین لا عقول لھم ولا بصائر ” (مدارک ج 2 ص 126) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

43 اور کچھ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو آپ کو بظاہر دیکھ رہے ہیں تو کیا بھلا آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں گو وہ بصیرت بھی نہ رکھتے ہوں یعنی طلب حق کا ارادہ نہیں تو خالی دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا کسی طرف منہ کرکے بیٹھا ہو پھر مزید برآں یہ کہ بصیرت بھی نہ ہو اور ہئے کے بھی اندھے ہوں تو ایسے لوگوں راہ مستقیم آپ کیوں کر دکھا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ بہروں کو بوجھ نہیں اور اندھوں کو سوجھ نہیں پھر کام چلے تو کیسے چلے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کان رکھتے ہیں یا نگاہ رکھتے ہیں اس توقع پر کہ ہمارے دل میں تصرف کردیں جیسا کہ بعضوں پر ہوگیا سو یہ بات اللہ کے ہاتھ ہے 12 خلاصہ یہ کہ کسی زندگی کو بغور مطالعہ کرتے رہنا اور کسی کی باتیں اور کلام کو کان لگا کر سننا جب ہی مفید ہوسکتا ہے جب کہ طلب حق کا ارادہ بھی ہو۔