Surat Younus

Surah: 10

Verse: 47

سورة يونس

وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾

And for every nation is a messenger. So when their messenger comes, it will be judged between them in justice, and they will not be wronged

اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے ، سو جب ان کا وہ رسول آچکتا ہے ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَاء رَسُولُهُمْ ... And for every Ummah there is a Messenger; when their Messenger comes, Mujahid said: "This will be on the Day of Resurrection." ... قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ... (the matter will be judged between them with justice,) is similar to the Ayah: وَأَشْرَقَتِ الاٌّرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا And the earth will shine with the light of its Lord (Allah), (39:69) So every nation will be presented before Allah in the presence of its Messenger and the Book of its deeds. All good and evil deeds will be witnessed upon them. Their guardian angels will be witnesses too. The nations will be brought forth, one by one. Our noble Ummah, while it is the last of the nations, is the first one on the Day of Resurrection to be questioned and judged. This was stated by Allah's Messenger in a Hadith recorded by both Al-Bukhari and Muslim. Allah's Messenger said: نَحْنُ الاْخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَيِق We are the last, the first on the Day of Resurrection. We will be judged before the rest of the creatures. His Ummah attains the honor of precedence only by the honor of its Messenger, may Allah's peace and blessings be upon him forever, until the Day of Judgement. ... وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ and they will not be wronged.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

47 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہر امت میں ہم رسول بھیجتے رہے۔ اور جب رسول اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرچکتا تو پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیتے۔ یعنی پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو بچا لیتے اور دوسروں کو ہلاک کردیتے۔ کیونکہ " وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا " اور ہماری عادت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب بھیج دیا جاتا یا بغیر حجت تمام کیے، ان کا مواخذہ کرلیا جاتا۔ (فتح القدیر) اور دوسرا مفہوم اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق قیامت سے ہے یعنی قیامت والے دن ہر امت جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگی، تو اس امت میں بھیجا گیا رسول بھی ساتھ ہوگا۔ سب کے اعمال نامے بھی ہوں گے اور فرشتے بھی بطور گواہ پیش ہوں گے۔ اور یوں ہر امت اور اس کے رسول کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ امت محمدیہ کا فیصلہ سب سے پہلے کیا جائے گا۔ جیسا کہ فرمایا " ہم اگرچہ سب کے بعد آنے والے ہیں لیکن قیامت کو سب سے آگے ہوں گے " اور تمام مخلوقات سے پہلے ہمارا فیصلہ کیا جائے گا۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الجمعہ، باب ھدایہ ھذہ الامۃ لیوم الجمعہ) (تفسیر ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] اور یہ ضابطہ صرف آپ کی امت سے ہی مختص نہیں بلکہ تمام امتوں کے متعلق اللہ کا یہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتا ہے اس طرح لوگوں پر اتمام حجت کرتا ہے پھر کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ اس کا انکار کرکے اس کے درپے آزار ہوجاتے ہیں اس طرح حق اور باطل کی سرد اور گرم جنگ شروع ہوجاتی ہے اور اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ حق پرستوں کی تائید کرتا ہے اور باطل پرستوں کو ذلت اور عذاب سے دوچار کردیتا ہے اور اللہ کا یہ فیصلہ اس لیے انصاف پر مبنی ہوتا ہے کہ اللہ اتمام حجت سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ۔۔ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک وہ جو اس آیت کا مفہوم ہے : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : ١٥ ] ” اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔ “ یعنی دنیا میں ہر قوم کی طرف کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجا جاتا ہے، پھر اس کی نافرمانی اور فرماں برداری کو مدنظر رکھ کر جزا و سزا کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بےگناہ کو سزا نہیں ہوتی اور نہ حجت تمام کیے بغیر ان کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول پہنچ کر سزا ملتی ہے۔ “ (موضح) پہلی امتوں میں چونکہ دنیا کے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ نہ تھا، اس لیے ہر امت کے لیے الگ الگ رسول مبعوث ہوئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے وقت دنیا کے تمام ممالک کے درمیان روابط پیدا ہوچکے تھے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تمام دنیا ایک آبادی کی طرح بن جانے والی ہے، اس لیے خاتم الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ اب آپ پر ایمان لانا یا نہ لانا قیامت کے دن جنت یا دوزخ میں جانے کا سبب ہوگا۔ دوسرا مفہوم آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر امت کے سامنے اس کا رسول بطور شاہد پیش ہوگا کہ میں نے اس امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا، پھر وہ سب لوگ بھی جنھوں نے دوسروں تک پیغام حق پہنچایا بطور گواہ پیش ہوں گے، پھر ان کی شہادت کی روشنی میں انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔ یہی بات ان آیات میں کہی گئی ہے : ( فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا ) [ النساء : ٤١ ] ” پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ “ اور فرمایا : (وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) [ الزمر : ٦٩ ] ” اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ۝ ٠ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۝ ٤٧ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور والحمام، إلى غير ذلک من الطبائع التي تخصص بها كل نوع . وقوله تعالی: كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً [ البقرة/ 213] أي : صنفا واحدا وعلی طریقة واحدة في الضلال والکفر، وقوله : وَلَوْ شاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً واحِدَةً [هود/ 118] أي : في الإيمان، وقوله : وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ [ آل عمران/ 104] أي : جماعة يتخيّرون العلم والعمل الصالح يکونون أسوة لغیرهم، وقوله : إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلى أُمَّةٍ [ الزخرف/ 22] أي : علی دين مجتمع . قال : وهل يأثمن ذو أمّة وهو طائع وقوله تعالی: وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ [يوسف/ 45] أي : حين، وقرئ ( بعد أمه) أي : بعد نسیان . وحقیقة ذلك : بعد انقضاء أهل عصر أو أهل دين . وقوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً لِلَّهِ [ النحل/ 120] أي : قائما مقام جماعة في عبادة الله، نحو قولهم : فلان في نفسه قبیلة . وروي :«أنه يحشر زيد بن عمرو بن نفیل أمّة وحده» وقوله تعالی: لَيْسُوا سَواءً مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ [ آل عمران/ 113] أي : جماعة، وجعلها الزجاج هاهنا للاستقامة، وقال : تقدیره : ذو طریقة واحدة فترک الإضمار أولی. الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں ۔ میں امم سے ہر وہ نوع حیوان مراد ہے جو فطری اور ت سخیری طور پر خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہو ۔ مثلا مکڑی جالا بنتی ہے اور سرفۃ ( مور سپید تنکوں سے ) اپنا گھر بناتی ہے اور چیونٹی ذخیرہ اندوزی میں لگی رہتی ہے اور چڑیا کبوتر وغیرہ وقتی غذا پر بھروسہ کرتے ہیں الغرض ہر نوع حیوان اپنی طبیعت اور فطرت کے مطابق ایک خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہے اور آیت کریمہ :۔ { كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة البقرة 213) ( پہلے تو سب ) لوگ ایک امت تھے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تما لوگ صنف واحد اور ضلالت و کفر کے ہی کے مسلک گامزن تھے اور آیت کریمہ :۔ { وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة المائدة 48) اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ہی شریعت پر کردیتا ۔ میں امۃ واحدۃ سے وحدۃ بحاظ ایمان مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ { وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ } ( سورة آل عمران 104) کے معنی یہ ہیں کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہونی چاہیے جو علم اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرے اور دوسروں کے لئے اسوۃ بنے اور آیت کریمہ ؛۔ { إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ } ( سورة الزخرف 22 - 23) ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک متفقہ دین پر پایا ہے ۔ میں امۃ کے معنی دین کے ہیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہی ع (25) وھل یاثمن ذوامۃ وھوطائع ( طویل ) بھلا کوئی متدین آدمی رضا اور رغبت سے گناہ کرسکتا ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ } ( سورة يوسف 45) میں امۃ کے معنی حین یعنی عرصہ دارز کے ہیں اور ایک قرات میں بعد امہ ( ربالھاء ) ہے یعنی نسیان کے بعد جب اسے یاد آیا ۔ اصل میں بعد امۃ کے معنی ہیں ایک دور یا کسی ایک مذہب کے متبعین کا دورگزر جانے کے بعد اور آیت کریمہ :۔ { إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا } ( سورة النحل 120) کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم عبادت الہی میں ایک جماعت اور قوم بمنزلہ تھے ۔ جس طرح کہ محاورہ ہے ۔ فلان فی نفسہ قبیلۃ کہ فلاں بذات خود ایک قبیلہ ہے یعنی ایک قبیلہ کے قائم مقام ہے (13) وروی انہ یحشر زیدبن عمرابن نفیل امۃ وحدہ اورا یک روایت میں ہے کہ حشر کے دن زید بن عمر و بن نفیل اکیلا ہی امت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ :۔ { لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ } ( سورة آل عمران 113) وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ ( حکم خدا پر ) قائم بھی ہیں ۔ میں امۃ بمعنی جماعت ہے زجاج کے نزدیک یہاں قائمۃ بمعنی استقامت ہے یعنی ذو و طریقہ واحدۃ تو یہاں مضمر متردک ہے رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ قسط الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] والقِسْطُ : هو أن يأخذ قسط غيره، وذلک جور، والْإِقْسَاطُ : أن يعطي قسط غيره، وذلک إنصاف، ولذلک قيل : قَسَطَ الرّجل : إذا جار، وأَقْسَطَ : إذا عدل . قال : أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] وقال : وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] ، وتَقَسَّطْنَا بيننا، أي : اقتسمنا، والْقَسْطُ : اعوجاج في الرّجلین بخلاف الفحج، والقِسْطَاسُ : المیزان، ويعبّر به عن العدالة كما يعبّر عنها بالمیزان، قال : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] . ( ق س ط ) القسط ( اسم ) ( ق س ط ) القسط ( اسم ) نصف ومصفۃ کی طرح قسط بھی مبنی بر عدل حصہ کو کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مررنا بھیآتے ہیں اس لئے یہ ظلم اور جو رے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے القسط پاؤں میں ٹیڑھا پن یہ افجع کی ضد ہے جس کے نزدیک اور ایڑیوں کی جانب سے دور ہو نیکے ہیں ۔ الا قساط اس کے اصل معنی کسی کو اس کا حق دینے کے ہیں اسی چیز کا نام انصاف ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قسط الرجل فھو قاسط ) کے معنی ظلم کرنے اوراقسط کے معنی انصاف کرنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] اور گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] اور انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ فقسطنا بیننا ہم نے ( کسی چیز کو آپس میں برا بر تقسیم کرلیا چناچہ القسطاس تراز دکو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل ونصاف کے معنی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] اور جب تول کر دو تو ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٧) اور ہر ایک دین والوں (یعنی قوم) کے لیے ایک رسول ہوا ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی دعوت دیتا رہا سو جب ان کا وہ رسول ان کے پاس آچکتا ہے اور وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کے اور ان کے رسوول کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جاتا ہے یا کہ ایسی نافرمان قوم کو ہلاک اور ان کے رسول کو بچا لیا جاتا ہے اور ان کی نیکیوں میں سے ذرا بھی کمی نہیں کی جاتی اور نہ ان کی برائیوں میں کچھ اضافہ کیا جاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَاِذَاجَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بالْقِسْطِ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) اس کی وضاحت کے لیے حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوموں کے معاملات کو ذہن میں رکھئے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

55. The Qur'anic expression ummah is not to be taken in the narrow sense in which the word 'nation' is used. The word ummah embraces all those who receive the message of a Messenger of God after his advent. Furthermore, this word embraces even those among whom no Messenger is physically alive, provided that they have received his message. All those who, after the advent of a Messenger, happen to live in an age when the teachings of that Messenger are extant or at least it is possible for people to know about what he had taught, constitute the ummah of that Messenger, Besides, all such people will be subject to the law mentioned here (see verse 47 and n. 56). In this respect all human beings who happen to live in the age which commences with the advent of Muhammad (peace be on him) onwards are his ummah and will continue to be so as long as the Qur'an is available in its pristine purity. Hence the verse does not say: 'Among every people there is a Messenger.' It rather says: 'There is a Messenger for every people.' 56. When the message of a Messenger of God reaches a people the stage is set and they are left with no valid excuse for not believing. Everything has already been done to communicate the truth to these people and so all that remains is to wait for God's decision to inflict His punishment upon them. And so far as God's judgement is concerned, it is marked with absolute justice. All those who obey that Messenger and mend their behaviour are deemed worthy of God's mercy. On the contrary, those who reject his teaching are considered deserving of His punishment, depending on God's will, both in this world and the Hereafter.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :55 ”امت“ کا لفظ یہاں محض قوم کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ ایک رسول کی آمد کے بعد اس کی دعوت جن جن لوگوں تک پہنچے وہ سب اس کی امت ہیں ۔ نیز اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ رسول ان کے درمیان زندہ موجود ہو ، بلکہ رسول کے بعد بھی جب تک اس کی تعلیم موجود رہے اور ہر شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن ہو کہ وہ درحقیقت کس چیز کی تعلیم دیتا تھا ، اس وقت تک دنیا کے سب لوگ اس کی امت ہی قرار پائیں گے اور ان پر وہ حکم ثابت ہو گا جو آگے بیان کیا جا رہا ہے ۔ اس لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد تمام دنیا کے انسان آپ کی امت ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک قرآن اپنی خالص صورت میں شائع ہوتا رہے گا ۔ اسی وجہ سے آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ ” ہر قوم میں ایک رسول ہے ” بلکہ ارشاد ہو اکہ ” ہر امت کے لیے ایک رسول ہے “ ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :56 اسرائیل کے معنی ہیں عبد اللہ یا بندہ خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، جو ان کو اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی ، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا ۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا مطلب یہ ہے کہ رسول کی دعوت کا کسی گروہ انسانی تک پہنچنا گویا اس گروہ پر اللہ کی حجت کا پورا ہو جانا ہے ۔ اس کے بعد صرف فیصلہ ہی باقی رہ جاتا ہے ، کسی مزید اتمام حجت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ اور یہ فیصلہ غایت درجہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ رسول کی بات مان لیں اور اپنا رویہ درست کرلیں وہ اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔ اور جو اس کی بات نہ مانیں وہ عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں ، خواہ وہ عذاب دنیا اور آخرت دونوں میں دیا جائے یا صرف آخرت میں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:47) قضی بینہم بالقسط۔ (تو پھر) ان کے درمیان فیصلہ عدل و انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے کیونکہ رسول کی بعثت اتمام حجت ہے پھر کوئی امت عذر پیش نہیں کرسکتی کہ ہمارے پاس کوئی راہ ہدایت دکھانے والا آیا ہی نہ تھا۔ یا بینھم سے مراد بین امۃ ورسول ہے کہ باوجود لوگوں کے ظلم و تشدد سے دعوت حق کو روکنے کے۔ حق فتح مند ہوگا اور باطل نامراد۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی بچ گئے اور جھٹلانے والے تباہ ہوگئے۔ (نیز دیکھئے سورة اسراء آیت 51) اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اس قوم کا فیصلہ ہوگیا اور وہ اس طرح کہ اس کے دو گروہ ہوگئے۔ جو ایمان لائے بچ گئے اور جو ایمان نہ لائے تباہ ہوگئے۔ 9 ۔ یعنی وہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ کردئیے جاتے ہیں۔ انہیں بےگناہ سزا نہیں دی جاتی اور نہ حجت تمام کئے بغیر ان کا مواخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہنچ کر سزاملتی ہے۔ (موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ وہ فیصلہ یہی ہے کہ نہ ماننے والوں کو عذاب ابدی میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولکل امۃ رسولٌ اور ہر امت کیلئے ایک رسول ہوا ہے۔ رسول سے مراد ہے قاصد ‘ حکم پہنچانے والا ‘ اسلام کی دعوت دینے والا۔ فاذا جآء رسولھم قضي بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ سو جب ان کا رسول ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ان کے پاس آچکا اور (اور احکام پہنچا چکا اور انہوں نے رسول ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی تکذیب کی تو) اس کے بعد انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا گیا۔ یعنی جب رسول ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے معجزات پیش کر دئیے اور اس کے بعد بھی انہوں نے نہ مانا اور رسول ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو جھوٹا قرار دیا تو اللہ نے رسول ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کا اور اس کی امت کا فیصلہ انصاف سے کردیا۔ تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اور مؤمنوں کو اور رسول ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو محفوظ رکھا اور ہمارا یہ فیصلہ مبنی بر انصاف تھا۔ ہم نے عذاب دینے میں ان پر ظلم نہیں کیا۔ مجاہد اور مقاتل نے آیات کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر امت کا ایک رسول ہوا ہے ‘ جس کو اس امت کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور ہر رسول اپنی امت کے کفر و ایمان کی شہادت دینے آئے گا تو اللہ انصاف کا فیصلہ کرے گا ‘ مؤمنوں کو نجات دے گا اور کافروں کو سزا۔ دوسری آیت میں بھی یہی آیا ہے ‘ فرمایا : وَجِیْئَٓ بالنَّبِیِّیْنَ وَالشَّھَدَآءِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ۔ دوسری جگہ فرمایا : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِءْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلاآءِ شَھِیْدًا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَاءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) کہ قیامت کے دن ہر امت کا رسول موجود ہوگا جو دنیا میں ان کی طرف مبعوث ہوا تھا امتیں موجود ہوں گی اور ان کے رسول بھی موجود ہوں گے جو اہل کفر کے کفر اور اہل ایمان کے ایمان پر گواہی دیں گے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ اس آیت کا یہ مفہوم سورة نساء کی یہ آیت (فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ م بِشَھِیْدٍ ) اور سورة زمر کی آیت (وَجِایْءَ بالنَّبِیّٖنَ وَالشُّھَدَآءِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْحَقِّ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) کے موافق ہے۔ اور بعض مفسرین نے آیت بالا کا یہ مطلب بتایا ہے کہ دنیا میں جو رسول امتوں کے پاس آئے ان کی انہوں نے تکذیب کی اور اس تکذیب پر جو ان پر عذاب آیا اس آیت میں اسی کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر امت کے لئے ایک پیغمبر ہے وہ پیغمبر جب ان کے پاس آجاتا ہے اور احکام پہنچا دیتا ہے پھر اس کے بعد کچھ لوگ مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اہل ایمان کی نجات ہوجاتی ہے اور کافر ہلاک کر دئیے جاتے ہیں اور کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے اتمام حجت کے بعد ہوتا رہا ہے۔ ١ ؂ ١ ؂ خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو امتوں کے احوال گزرے ان کا ذکر۔ ١٢۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64: تخویف دنیوی ہے۔ تمام امم سابقہ کا بالاجمال ذکر کردیا ہے کہ ہم نے ہر قوم میں اپنا رسول بھیجا جس نے ان کو پیغام حق سنایا اور دعوت توحید دی لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو عین عدل و انصاف کے مطابق ان کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔ اے مشرکین مکہ ! تم بھی سن لو نہ مانو گے تو اقوام سابقہ کا سا حشر ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

47 اور ہر قوم کے لئے اور ہر امت کے لئے ایک حکم پہنچانے والا ہوتا ہے پھر جب ان کا رسول ان کی طرف آجاتا ہے اور وہ احکام پہنچا دیتا ہے تو ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کردیاجاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا یعنی جب احکام کی اطلاع رسول کی معرفت دے دی جاتی ہے پھر جو نہیں مانتا وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول کے پہنچنے سے سزا ملتی ہے 12