55. The Qur'anic expression ummah is not to be taken in the narrow sense in which the word 'nation' is used. The word ummah embraces all those who receive the message of a Messenger of God after his advent. Furthermore, this word embraces even those among whom no Messenger is physically alive, provided that they have received his message. All those who, after the advent of a Messenger, happen to live in an age when the teachings of that Messenger are extant or at least it is possible for people to know about what he had taught, constitute the ummah of that Messenger, Besides, all such people will be subject to the law mentioned here (see verse 47 and n. 56). In this respect all human beings who happen to live in the age which commences with the advent of Muhammad (peace be on him) onwards are his ummah and will continue to be so as long as the Qur'an is available in its pristine purity. Hence the verse does not say: 'Among every people there is a Messenger.' It rather says: 'There is a Messenger for every people.'
56. When the message of a Messenger of God reaches a people the stage is set and they are left with no valid excuse for not believing. Everything has already been done to communicate the truth to these people and so all that remains is to wait for God's decision to inflict His punishment upon them. And so far as God's judgement is concerned, it is marked with absolute justice. All those who obey that Messenger and mend their behaviour are deemed worthy of God's mercy. On the contrary, those who reject his teaching are considered deserving of His punishment, depending on God's will, both in this world and the Hereafter.
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :55
”امت“ کا لفظ یہاں محض قوم کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ ایک رسول کی آمد کے بعد اس کی دعوت جن جن لوگوں تک پہنچے وہ سب اس کی امت ہیں ۔ نیز اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ رسول ان کے درمیان زندہ موجود ہو ، بلکہ رسول کے بعد بھی جب تک اس کی تعلیم موجود رہے اور ہر شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن ہو کہ وہ درحقیقت کس چیز کی تعلیم دیتا تھا ، اس وقت تک دنیا کے سب لوگ اس کی امت ہی قرار پائیں گے اور ان پر وہ حکم ثابت ہو گا جو آگے بیان کیا جا رہا ہے ۔ اس لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد تمام دنیا کے انسان آپ کی امت ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک قرآن اپنی خالص صورت میں شائع ہوتا رہے گا ۔ اسی وجہ سے آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ ” ہر قوم میں ایک رسول ہے ” بلکہ ارشاد ہو اکہ ” ہر امت کے لیے ایک رسول ہے “ ۔
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :56
اسرائیل کے معنی ہیں عبد اللہ یا بندہ خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، جو ان کو اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی ، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا ۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا مطلب یہ ہے کہ رسول کی دعوت کا کسی گروہ انسانی تک پہنچنا گویا اس گروہ پر اللہ کی حجت کا پورا ہو جانا ہے ۔ اس کے بعد صرف فیصلہ ہی باقی رہ جاتا ہے ، کسی مزید اتمام حجت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ اور یہ فیصلہ غایت درجہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ رسول کی بات مان لیں اور اپنا رویہ درست کرلیں وہ اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔ اور جو اس کی بات نہ مانیں وہ عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں ، خواہ وہ عذاب دنیا اور آخرت دونوں میں دیا جائے یا صرف آخرت میں ۔