Surat Younus

Surah: 10

Verse: 64

سورة يونس

لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ؕ۶۴﴾

For them are good tidings in the worldly life and in the Hereafter. No change is there in the words of Allah . That is what is the great attainment.

ان کے لئے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے اللہ تعالٰی کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا ۔ یہ بڑی کامیابی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الاخِرَةِ ... For them is good news, in the life of the present world, and in the Hereafter. (and said,) "We know the good news of the Hereafter, it is Paradise. But what is the good news in this world?" He said: الرُّوْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا أَوْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّة It is the good dream that a servant may see or it is seen about him. This dream is one part from forty-four or seventy parts of Prophethood. Imam Ahmad recorded that Abu Dharr said, "O Messenger of Allah! What about a man who does deeds that the people commend him for?" Allah's Messenger said, تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُوْمِن That is the good news that has been expedited for the believer. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Amr said that Allah's Messenger said: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الاخِرَةِ For them is good news, in the life of the present world Then he said, الرُّوْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُوْمِنُ جُزْءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَثًا وَلْيُكَبِّرْ وَلاَ يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا The good dream that comes as a good news for the believer is a part of forty-nine parts of Prophethood. So if anyone of you has a good dream, he should narrate it to others. But if he has a dream that he dislikes, then it is from Shaytan to make him sad. He should blow to his left three times, and say: "Allahu Akbar," and should not mention it to anyone." And it was also said, "The good news here is the glad tidings the angels bring to the believer at the time of death. They bring him the good news of Paradise and forgiveness." Similarly, Allah said: إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَـيِكَةُ أَلاَّ تَخَافُواْ وَلاَ تَحْزَنُواْ وَأَبْشِرُواْ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَأوُكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ Verily, those who say: "Our Lord is Allah (alone)," and then they stand straight and firm, on them the angels will descend (at the time of their death) (saying): "Fear not, nor grieve! But receive the glad tidings of Paradise which you have been promised! We have been your friends in the life of this world and are (so) in the Hereafter. Therein you shall have (all) that your souls desire, and therein you shall have (all) for which you ask. An entertainment from (Allah), the Oft-Forgiving, Most Merciful." (41:30-32) In the Hadith narrated by Al-Bara', the Prophet said: إِنَّ الْمُوْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمُوتُ جَاءَهُ مَلَيِكَةٌ بِيضُ الْوُجُوهِ بِيضُ الثِّيَابِ فَقَالُوا اخْرُجِي أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ إِلَى رُوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَانَ فَتَخْرُجُ مِنْ فَمِهِ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فَمِ السِّقَاء When death approaches the believer, angels with white faces and white clothes come to him and say: "O good soul! Come out to comfort and provision and a Lord who is not angry." The soul then comes out of his mouth like a drop of water pouring out of a water skin. Their good news in the Hereafter is as Allah said: لااَ يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الااٌّكْبَرُ وَتَتَلَقَّـهُمُ الْمَلَـيِكَةُ هَـذَا يَوْمُكُمُ الَّذِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ The greatest terror (on the Day of Resurrection) will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised." (21:103) and, يَوْمَ تَرَى الْمُوْمِنِينَ وَالْمُوْمِنَـتِ يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَـنِهِم بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ On the Day you shall see the believing men and the believing women -- their light running forward before them and by their right hands. Glad tidings for you this Day! Gardens under which rivers flow (Paradise), to dwell therein forever! Truly, this is the great success! (57:12) Allah then said: ... لااَ تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ ... No change can there be in the Words of Allah. meaning, this promise doesn't change or breach or fall short. It is decreed and firm, and going to happen undoubtedly. ... ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ This is indeed the supreme success.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

64۔ 1 دنیا میں خوشخبری سے مراد، رؤیائے صادقہ ہیں یا وہ خوشخبری ہے جو موت کے فرشتے ایک مومن کو دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٩] اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت ایسی ہے کہ جو حتمی، یقینی اور ناقابل تغیر و تبدل ہے بالفاظ دیگر جو اللہ کے دوست ہوں یا جن کا دوست اللہ تعالیٰ ہو وہ کہیں بھی اور کسی حال میں بھی پریشان نہ ہوں گے اور ان کے لیے یہی بات سب سے بڑی کامیابی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۔۔ : ” لھم “ پہلے آنے کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہوگیا، یعنی دنیا کی زندگی میں خاص خوش خبری انھی کے لیے ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں : 1 پاکیزہ اور صاف ستھری زندگی، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ) [ النحل : ٩٧ ] ” جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی۔ “ 2 تقدیر پر ایمان کی وجہ سے کفار جیسی بےصبری اور خوف و غم سے محفوظ رہنا، جیسا کہ اوپر گزرا ہے اور فرمایا : (اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا 19؀ۙاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 20؀ۙوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا 21؀ۙاِلَّا الْمُصَلِّيْنَ ) [ المعارج : ١٩ تا ٢٢ ] ” بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔ “ پھر ان نمازیوں کی چند صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ ) [ المعارج : ٣٥ ] ” یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔ “ 3 اچھے خواب، ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا : ( لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَال الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ ) [ بخاری، التعبیر، باب المبشرات : ٦٩٩٠ ] ” نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر مبشرات (بشارت والی چیزیں) ۔ “ لوگوں نے پوچھا : ” مبشرات کیا ہیں ؟ “ فرمایا : ” اچھے خواب۔ “ 4 وہ بشارت بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے جو دنیا کے آخری وقت میں فرشتے اسے موت کے وقت دیتے ہیں۔ عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں : ( اَلْمُؤْمِنُ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ فَلَیْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہُ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَہُ ) [ بخاری، الرقاق، باب من أحب لقاء اللہ۔۔ : ٦٥٠٧ ] ” مومن کے پاس جب موت حاضر ہوتی ہے تو اسے اللہ کی رضا اور اس کی طرف سے عزت عطا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (جنت اور اللہ کی رضا کی صورت میں) ہوتی ہے، تو وہ اللہ کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے (جبکہ کافر کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے) ۔ “ 5 لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت ہونا اور لوگوں کا اس کی تعریف اور مدح و ثنا کرنا، اگرچہ وہ عبادت اس لیے نہیں کرتا بلکہ محض اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، مگر اللہ نیک لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت رکھ دیتا ہے۔ دیکھیے سورة مریم (٩٦) ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : ” یہ بتائیں کہ آدمی خیر کا کوئی عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں ؟ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِ ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب إذا أثنی علی الصالح ۔۔ : ٢٦٤٢ ] ” یہ مومن کو جلد ملنے والی خوش خبری ہے۔ “ 6 دعاؤں کی قبولیت، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ مِنْ عِبَاد اللّٰہِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ ) [ بخاری، الصلح، باب الصلح في الدیۃ : ٢٧٠٣ ] ” اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ اگر اللہ پر قسم ڈال دیں تو وہ اسے پورا کر دے۔ “ وَفِي الْاٰخِرَةِ : اس سے وہ تمام بشارتیں مراد ہیں جو مومنوں کو آخرت میں دی گئی ہیں۔ دیکھیے سورة زمر (٢٠) اور شوریٰ (٢٢، ٢٣) اور بہت ہی بڑی نعمتیں، مثلاً موت کا ذبح کردیا جانا، ہمیشہ جنت میں رہنا، اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا اور اللہ تعالیٰ کا دیدار۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمتیں عطا فرمائے۔ (آمین) یہ تمام چیزیں قرآن مجید اور صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ : لہٰذا اس کے وہ وعدے پورے ہو کر رہیں گے جو اس نے اہل ایمان سے کر رکھے ہیں۔ ذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : ” ھُوَ “ ضمیر فصل کہلاتی ہے۔ اس کے تین فائدے ہوتے ہیں، ایک تاکید، دوسرا حصر اور تیسرا موصوف صفت اور مبتدا و خبر میں فرق۔ محلاً اس کا اعراب کچھ نہیں ہوتا، اس لیے ترجمہ ہے ” یہی بہت بڑی کامیابی ہے “ اس کے سوا اول تو کوئی کامیابی وجود ہی نہیں رکھتی، اگر مان بھی لی جائے تو وہ بےحیثیت ہے، اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar (رض) narrates that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ (la ilaha illallah: There is no god but Allah) will not experience any fright at the time of death, nor inside the grave, nor at the time they rise from it. This is as if my eyes are seeing the scenario of that time when these people will, shak¬ing the dust off, rise from their graves, saying: الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (Praised is Allah who has removed from us [ all ] grief - 35:34) & As for the good news in this world, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, `(they are) the true dreams one sees himself or are seen by someone else with him in it and, in which, there is good news for them. (Reported by al-Bukhri from Sayyidna Abu Hurairah (رض) . Another basharah (good news) of this world unfolds in the form that Muslims at large love someone and take him to be good without any personal motive or interest. About it, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: تِلکَ عَاجِلُ بشرَی المؤمِن that is, ` being taken as good and praiseworthy is, for a true Muslim, good news in ready cash.& (Muslim and al-Baghawi)

آخر آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ اولیاء کے لئے دنیا میں بھی خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی، آخرت کی خوشخبری تو یہ ہے کہ موت کے وقت جب اس کی روح کو اللہ کے پاس لے جایا جائے گا اس وقت اس کو خوشخبری جنت کی ملے گی پھر قیامت کے روز قبر سے اٹھنے کے وقت جنت کی خوشخبری دی جائے گی جیسا کہ طبرانی نے بروایت ابن عمر نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اہل لا الہ الا اللہ کو نہ موت کے وقت کوئی وحشت ہوگی نہ قبر میں اور نہ قبر سے اٹھنے کے وقت، گویا میری آنکھیں اس وقت کا حال دیکھ رہی ہیں جب یہ لوگ اپنی قبروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ، یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہمارا غم دور کردیا۔ اور دنیا کی بشارت کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ سچی خوابیں جو انسان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی دوسرا دیکھے جن میں ان کے لئے خوشخبری ہو۔ ( رواہ البخاری عن ابی ہریرہ ) اور دنیا کی دوسری بشارت یہ ہے کہ عام مسلمان بغیر کسی غرض کے اس سے محبت کریں اور اچھا سمجھیں، اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تلک عاجل بشری المومن یعنی عام مسلمانوں کا اچھا سمجھنا اور تعریف کرنا مومن کے لئے نقد خوش خبری ہے ( مسلم و بغوی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝ ٠ ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللہِ۝ ٠ ۭ ذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝ ٦٤ ۭ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤) اور وہ کون لوگ ہیں ! اب اللہ تعالیٰ ان کا بیان فرماتا ہے کہ جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور کفر وشرک اور فواحش سے بچتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی کہ وہ رؤیائے صادقہ دیکھتے ہیں یا ان کو دکھلائے جاتے ہیں اور آخرت میں بھی کہ ان کو جنت ملے گی، خوشخبری ہے اور جنت کا جو وعدہ فرمایا ہے اس میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا اور یہ بشارت بہت بڑی کامیابی ہے جس کی بدولت جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور دوزخ اور اس کی سختیوں سے چھٹکارا ملے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٤ (لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ) ان بشارتوں کے بارے میں ہم سورة التوبہ کی آیت ٥٢ میں پڑھ چکے ہیں : (ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلآَّ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ) یعنی ہمارے لیے تو دو اچھائیوں کے سوا کسی تیسری چیز کا تصور ہی نہیں ہے ‘ ہمارے لیے تو بشارت ہی بشارت ہے۔ اور اگر بالفرض دنیا میں کوئی تکلیف آ بھی جائے تو بھی کوئی غم نہیں ‘ کیونکہ ہمارے اوپر جو بھی تکلیف آتی ہے وہ ہمارے رب ہی کی طرف سے آتی ہے۔ جیسے سورة التوبہ آیت ٥١ میں فرمایا گیا : (قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ہُوَ مَوْلٰٹنَا) چناچہ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے ؟ وہ ہمارا دوست ہے ‘ اور دوست کی طرف سے اگر کوئی تکلیف بھی آجائے تو سر آنکھوں پر۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس تکلیف میں بھی ہمارے لیے خیر اور بھلائی ہی ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٤۔ مسند امام احمد بن حنبل میں عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ اس آیت میں نیک مسلمانوں کو دنیا میں خوشخبری کا جو ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں اور یہ ایک مسئلہ ہے کہ امت میں سے کسی شخص نے تم سے پہلے مجھ سے نہیں پوچھا ١ ؎ اس بات کے قرار دینے میں کہ خواب کیا چیز ہے لوگوں نے بڑا اختلاف ڈال رکھا ہے۔ طبیب لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس خلط کا غلبہ آدمی کی طبیعت پر ہونا ہے اسی طرح کی چیزیں اس کو سوتے میں نظر آتی ہیں۔ مثلاً بلغمی مزاج کا آدمی کے ذہن میں نقش پذیر ہوجاتی ہیں لیکن یہ دونوں فرقوں کی باتیں محض خیالی باتیں ہیں کیوں کہ اگر خواب کا وجود ایسا ہی خیالی ہوتا جیسا یہ لوگ کہتے ہیں تو خواب کے موافق دنیا میں تعبیر کیوں پیش آیا کرتی کیا خلط اور ذہن میں یہ بھی قدرت ہے کہ خیالی چیز کو دنیا میں پیدا بھی کر دے خواب کی اصل حقیقت وہی ہے جو وحی کے ذریعہ سے صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہے۔ چناچہ صحیح بخاری ابن ماجہ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خواب کی تین قسمیں ہیں ایک تو وہ ہے کہ آئندہ کوئی بات خواب دیکھنے والے کے حق میں ہونے والی ہیں پھر جس طرح جاگتے ہیں الہام ہوتا ہے اسی طرح سوتے میں اللہ تعالیٰ اس بات کو اس شخص کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اسی قسم کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبوت کا جز فرمایا ہے دوسری قسم وہ ہے کہ جس کام میں سونے سے پہلے آدمی لگا ہوا تھا وہی خیال کے طور پر سوتے میں آدمی کو نظر آتا ہے تیسری قسم وہ ہے کہ شیطان ڈرانے کے طور پر خوفناک چیزیں یا خوفناک حالت خواب میں دکھاتا ہے ٢ ؎ دوسری قسم تو محض خیال ہی خیال ہے اس لئے اس کا کوئی حکم حدیث شریف میں نہیں ہے تیسری قسم کی نسبت آپ نے فرمایا کہ آدمی کو چاہیے کہ ایسے خواب کا کسی سے ذکر نہ کرے بلکہ جس کروٹ کے بل یہ خواب دیکھا ہے اس کروٹ کو بدل کر لا حول پڑھے اور بائیں طرف تھوکے اور سو جاوے پھر کوئی نقصان اس خواب سے نہ ہوگا۔ ٣ ؎ پہلی قسم کی نسبت آپ نے فرمایا ہے کہ کسی عالم سے جو اپنا دوست ہو تعبیر پوچھے تاکہ جاہل جہل کے سبب سے اور دشمن حسد اور دشمنی کے سبب سے الٹی تعبیر کہہ کر پریشانی میں نہ ڈالے یہ جو مشہور ہے کہ پہلی تعبیر کوئی کہنے والا کہہ دیتا ہے خواہ وہ اچھی ہو یا بری وہی پیش آتی ہے یہ روایت ترمذی ٤ ؎ ابوداؤد ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح ٥ ؎ بھی کہا ہے لیکن امام بخاری (رض) نے اس روایت کے یہ معنے کئے ہیں کہ اگر پہلے کی تعبیر دینے والے نے خدا کے ارادہ کے موافق تعبیر دے دی ہے تو پہلی تعبیر پیش آوے گی ٦ ؎ کیوں کہ خواب ایک ایسی چیز ہے کہ خدا نے اس کو اپنے بندہ کے دل میں ڈالا ہے اور اسی کے موافق وہ خواب کا معاملہ دنیا میں واقع ہونے والا ہے پھر کسی غلط تعبیر دینے سے وہ معاملہ پلٹ نہیں سکتا طلوع غروب زوال کے وقت یا رات کو یا عورت کے روبرو خواب بیان کرنے کی ممانعت کی حدیثیں تو صحیح نہیں ہیں لیکن مستحب یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد خواب بیان کرے کس لئے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز کے بعد اکثر صحابہ کے خواب سن کر ان کی تعبیرات بیان فرمایا کرتے تھے ٧ ؎ اور یہ بھی بیان فرمایا کرتے تھے کہ اب نبوت تو گئی مسلمانوں کے لئے خوشخبری کی چیز بھی ایک دنیا میں رہ گئی ہے ٨ ؎ اور خواب کو آپ نے نبوت کا جز جو فرمایا ہے اس کی چند روایتیں ہیں کم سے کم چھبیسویں جز کی روایت ہے اور زیادہ سے زیادہ چھیترویں جز کی روایت ہے چالیسویں جز اور اس سے کم کی روایتیں تو صحیح ہیں چالیسویں جز سے زیادہ کی روایتیں ضعیف ہیں ٩ ؎ اور چند روایتوں کا سبب یہ ہے کہ تاریخ نزول وحی سے آپ کی وفات تک ٢٣ برس کا زمانہ ہے اور وحی کے نزول سے پہلے جب آپ تنہا غار حرا میں عبادت کے لئے بیٹھا کرتے تھے اور اس زمانہ میں اکثر آپ کو خواب ہوا کرتے تھے وہ زمانہ چھ مہینے کا ہے اس تیئس برس کے اندر تیرہویں برس جب خواب کا ذکر آیا تو آپ نے خواب کو نبوت کا چھبیسواں جز فرمایا کیوں کہ وہ آپ کا چھ مہینے کا خواب کا زمانہ تیرہ برس کا چھبیسواں جز ہے اسی طرح اور روایتوں کو خیال کرلینا چاہیے سوا اس کے اور باتیں جو علماء نے اس بات میں لکھی ہیں ١٠ ؎ وہ تکلف سے خالی نہیں ہیں آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب زمانہ قریب ہوگا تو مسلمان آدمی کے خواب اکثر سچے ہوں گے۔ ١١ ؎ اس حدیث کے بعضے لوگوں نے یہ معنے بیان کئے ہیں کہ قریب زمانہ سے بہار کا موسم مراد ہے کیوں کہ اس زمانہ میں رات و دن قریب برابر کے ہوتے ہیں اور موسم کے درست ہونے کے سبب سے لوگوں کے مزاج ان دنوں میں اعتدال پر ہوتے ہیں اس لئے اس موسم کا خواب اکثر سچا ہوتا ہے لیکن یہ معنے صحیح نہیں ہیں کیوں کہ موسم مسلمان و فاسق و کافر سب کے لئے درست ہوتا ہے۔ مسلمان کا خواب اس موسم میں سچا ہوگا اس کے پھر کیا معنے ہیں علاوہ اس کے صحیح حدیثوں میں یہ صراحت بھی آچکی ہے کہ جب زمانہ قریب ہوگا اور علم اٹھ جائیگا ١٢ ؎ اس سے بالیقین معلوم ہوگیا کہ قریب زمانہ سے قرب قیامت کا زمانہ مراد ہے نبوت کا زمانہ دور ہوجانے کے سبب سے لوگوں میں طرح طرح کی باتیں اس زمانہ میں پھیل جاویں گی اور نبوت کے ختم ہوجانے اور وحی کے بند ہوجانے کے سب سے اچھے لوگوں کو بشارت اور بدلوگوں کو تنبیہ کا ذریعہ اور کوئی نہ ہوگا اس لئے خواب کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس زمانہ میں بشارت اور تنبیہ فرماوے گا۔ غرض وہ یہی آج کل کا زمانہ ہے جس کی خبر تیرہ سو برس پہلے مخبر صادق نے دی ہے اس لئے آج کل جس مسلمان کو کسی طرح کا بشارت کا خواب ہو تو اس کو خوش ہونا اور اس خواب کو سچا جان کر اس کی تعبیر کا منتظر رہنا چاہیے اور جس کو کسی طرح کی تنبیہ کا خواب ہو تو اس کو اس تنبیہ کی تعبیر دریافت کر کے آئندہ اس تنبیہ طلب کام کو چھوڑ دینا چاہیے حدیث میں اگرچہ نیک مردوں کے خواب کا اکثر ذکر ہے مگر نیک عورتوں کے خواب کا بھی وہی حکم ہے جو مردوں کے خواب کا حکم ہے۔ چناچہ صحیح حدیثوں میں عورتوں کے خو اب کا ذکر بھی آچکا ہے۔ ١٣ ؎ انبیاء کے خواب سب سچے ہوتے ہیں لیکن بعضے تاویل طلب ہوتے ہیں جیسے آپ نے خواب میں تلوار کے پھل کا ٹوٹ جانا اور گائے کا ذبح ہونا دیکھا اور مراد اس سے ستر آدمیوں مسلمانوں کا جنگ احد میں شہید ہونا تھا نیک مسلمانوں کے خواب سچے ہوتے ہیں لیکن اکثر تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں فاسق مسلمانوں کے خواب سچے اور خیال شیطانی دونوں طرح کے ہوتے ہیں کافروں کا خواب ہزار میں ایک سچا کبھی ہوتا ہے حدیث میں بعضی چیزوں کے خواب میں دیکھنے کی تعبیر کا ذکر آگیا ہے مثلاً دودھ سے مراد علم دین ١٤ ؎ اور فطرت اسلام سے تعبیر دینے والے کو چاہیے کہ جس قدر چیزوں کا ذکر حدیث میں آچکا ہے ان کو یاد رکھنے کا علم وحی کے مخالف تعبیر نہ دیوے۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دن رات کے خواب میں کچھ فرق نہیں ہے ١٥ ؎ تابعیوں میں سے حسن بصری (رض) کے ہم عصر محمد بن سیرین (رض) کے قول کا تعبیر میں بڑا اعتبار ہے علماء ان کو اس فن میں امام گنتے ہیں اور روایت حدیث میں بھی محمد بن سیرین ثقہ ہیں۔ مسند امام احمد اور ابوداؤد کے حوالہ سے براء بن عازب (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور مغفرت کی خوشخبری دیتے ہیں ١٦ ؎ قتادہ اور بعضے اور سلف نے اس خوشخبری کو دنیا کی خوشخبری قرار دے کر اسی حدیث کو آیت کی تفسیر ٹھہرایا ہے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسری میں اس اختلاف کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ اچھے خواب اور آخری وقت کی خوشخبری دونوں کو آیت کی تفسیر قرار دیا جاوے تو مناسب ہے۔ ١٧ ؎ { لا تبدیل لکلمات اللّٰہ } کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس خوشخبری کا وعدہ اپنے کلام پاک میں فرمایا ہے وہ وعدہ بدلنے والا نہیں اور یہ وعدہ انسان کے حق میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٤٤ ج ٢۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٣٩ ١٠ ج ٢ باب القید فے المنام و مشکوۃ ص ٣٩٤ کتاب الرؤ یا۔ ٣ ؎ مشکوۃ ایضاً ۔ ٤ ؎ مشکوۃ ایضاً بحوالہ ترمذی، ابوداؤد۔ ٥ ؎ مستدرک حاکم ص ٣٩١ ج ٤ ان الروؤ تقع علی ماتعبر۔ ٦ ؎ صحیح بخاری شرحچ فتح الباری ص ٥١١ ج ٦۔ ٧ ؎ تفصیل کیلئے دیکھئے فتح الباری ٥١٤ ج ٦ باب تعبیر الرؤیا بعد صلوۃ الصبح۔ ٨ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٣٥ ج ٢ باب مبشرات۔ ٩ ؎ دیکھئے فتح الباری ص ٤٧٦ ج ٦ باب رؤیا الصالحین الخ۔ ١٠ ؎ تفصیل فتح الباری ص ٤٧٧ ج ٦ میں دیکھ لی جائے۔ ١١ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٣٥ ج ٢ باب القید فی المقام۔ ١٢ ؎ مشکوۃ کتاب الفتن فصل ادلی بروایت صحیح از ابی ہریرہ (رض) ۔ ١٣ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٤١ ج ٢ باب اذا رأی بقر تخر۔ ١٤ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٣٧ ج ٢ باب اللبن۔ ١٥ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٣٦ ج ٢ کتاب التعبیر۔ ١٦ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٤٤ ج ٢۔ ١٧ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١٣٨ ج ١١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:64) البشری۔ خوشخبری۔ لا تبدیل لکلمت اللہ۔ جملہ معترضہ ہے۔ اللہ کے وعدوں میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ کلمت۔ اقوال ۔ وعدے۔ ذلک سے مراد۔ دنیوی و اخروی زندگی کے متعلق بشارت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ اولیاء اللہ کے لئے آخرت میں بشارت یعنی جنت ہے اور دنیا میں ان کے لئے کئی طرح کی بشارتیں ہیں۔ ایک بشارت تو قرآن کی متعدد آیات میں یہ دی گئی ہے کہ ان پر کوئی خوف و غم نہ ہوگا اور انہیں سچے خواب دکھائے جاتے۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔ الرویا الادقہ بشری المومن۔ کہ سچا خواب مومن کے لئے بشارت ہے۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ لوگوں میں قبولیت حاصل ہوتی ہے اور لوگ مدح و ستائش سے ان کا ذکر کرتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ مدح مومن کے لئے دنیا میں بشارت ہے۔ (روح طعانی۔ شوکانی) ۔ 9 ۔ لہٰذا اس کے وہ وعدے بھی پورے ہوں گے جو اس نے اہل ایمان سے کر رکھ ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی میں انہی کیلئے بشارت ہے۔ یہ بشارت وہی ہے جو رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے صحابہ کو عموماً اور بعض مخصوص صحابہ کو خصوصاً دی تھی۔ ترمذی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت سعید بن زید کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : ابوبکر جنت میں (یعنی جنتی ) ہے ‘ عمر جنتی ہے ‘ عثمان جنتی ہے ‘ علی جنتی ہے ‘ طلحہ جنتی ہے ‘ زبیر جنتی ہے ‘ عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے ‘ سعد بن ابی وقاص جنتی ہے ‘ سعید بن زید جنتی ہے ‘ ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : میری امت میں سب سے پہلے اے ابوبکر ! تم جنت میں جاؤ گے۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : سب سے پہلے زمین پھٹ کر میں برآمد ہوں گا ‘ پھر ابوبکر ‘ پھر عمر۔ ترمذی نے حضرت طلحہ بن عبیدا اللہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرا رفیق جنت کے اندر عثمان ہوگا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بخاری و مسلم نے صحیحین میں بیان کیا کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے حضرت علی سے فرمایا : تم مجھ سے اس جگہ پر ہو جس جگہ پر حضرت ہارون ‘ حضرت موسیٰ سے تھے (یعنی جو قرب درجہ یا قرب نسب یا قرب محبت حضرت موسیٰ کی طرف سے حضرت ہارون کو تھا ‘ وہی قرب تم کو مجھ سے حاصل ہے) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت زید بن ارقم کی روایت سے امام احمد اور ترمذی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : جس کا مولیٰ (آقا ‘ سردار ‘ دوست) میں ہوں ‘ علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ حضرت مسوربن مخرمہ کی روایت سے صحیحین میں آیا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جس نے اس کو ناراض کیا ‘ اس نے مجھے ناراض کیا۔ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ یہ بھی فرمایا : جنت کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ اور فرمایا : عورتوں پر عائشہ کی برتری ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت (باقی) کھانوں پر اور یہ بھی فرمایا کہ عبد اللہ یعنی ابن عمر صالح آدمی ہیں (رواہ البخاری و مسلم فی الصحیحین عن ابن عمر) حضرت عبد اللہ بن سلام کے متعلق فرمایا کہ وہ اہل جنت میں سے ہے ( متفق علیہ عن سعد بن ابی وقاص) اور فرمایا : انصار سے محبت نہیں رکھتا ‘ مگر مؤمن اور ان سے بغض نہیں رکھتا ‘ مگر منافق (یعنی انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت اور ان سے بعض رکھنا نفاق کی نشانی ہے) جو ان سے محبت کرے گا ‘ اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے بعض رکھے گا ‘ اللہ اس سے نفرت کرے گا۔ اور فرمایا : اسید بن حضیر کیسا اچھا آدمی ہے۔ ثابت بن قیس کیسا اچھا آدمی ہے۔ معاذ بن جبل کیسا اچھا آدمی ہے۔ معاذ بن عمرو بن جموح کیسا اچھا آدمی ہے۔ اور فرمایا : جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے : علی ‘ عمار ‘ سلمان۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے اسی طرح بکثرت صحابہ کو تفصیل کے ساتھ بشارتیں دی تھیں۔ اور اللہ نے سب صحابہ کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا ہے : وَکُلاّآ وَّعْدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور اللہ نے ہر ایک (مخلص صحابی) سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ دوسری آیت میں بھی عمومی بشارت دی ہے ‘ فرمایا ہے : مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ الخ۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی (کوہ) احد کے برابر سونا راہ خدا میں صرف کرے تو ان کے ایک سیر بلکہ آدھ سیر (راہ خدا میں صرف کرنے) کو نہیں پہنچے گا۔ رواہ البخاری ومسلم فی الصحیحین عن ابی سعید خدری رزین نے حضرت عمر کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں ۔ جس کی (روشنی کی) پیروی کرو گے ‘ ہدایت پا لوگے۔ اور فرمایا : میری امت میں سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے ہیں ‘ پھر وہ لوگ جو ان سے متصل آئیں گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے متصل آئیں گے (متفق علیہ عن عمران بن حصین) ۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی وفات کے بعد دنیوی بشارت وہ ہوتی ہے جو اللہ اپنے اولیاء کو خواب یا بیداری کی حالت میں عالم مثال کا انکشاف کر کے دیتا ہے۔ رویائے صالحہ (اچھے خواب) سے یہی عالم مثال کا انکشاف مراد ہے۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : سوائے مبشرات (بشارتوں) کے ‘ نبوت کا کوئی جزء باقی نہیں رہا (یعنی میرے بعد لوگوں کو سوائے بشارتوں کے ‘ اللہ کے کسی قول کی اطلاع براہ راست یا ملائکہ کی معرفت آئندہ نہ ہوگی ‘ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا) صحابہ نے عرض کیا : مبشرات کیا ہیں ؟ فرمایا : سچے خواب۔ رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ۔ حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں : میں نے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے آیت لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کی تشریح دریافت کی۔ فرمایا : (بشریٰ سے مراد) سچا خواب ہے جو آدمی کو دکھایا جاتا ہے (بغوی) ۔ حضرت ابو درداء سے لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کا معنی دریافت کیا گیا تو فرمایا : جب سے میں نے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی ‘ اب تک سوائے تیرے کسی نے مجھ سے اس کی تفسیر دریافت نہیں کی۔ میں نے حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے پوچھا تھا تو حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا تھا : جب سے یہ آیت نازل ہوئی ‘ کسی نے تیرے سوا اس کی مراد نہیں دریافت کی۔ (بشریٰ ) سے مراد) سچا خواب ہے جو مؤمن کو دکھایا جاتا ہے۔ دنیوی زندگی میں بھی اس کیلئے بشارت ہے اور آخرت میں جنت بشارت ہوگی (امام احمد و سعید بن منصور) یہ حدیث بہت سندوں سے آئی ہے۔ سچے خواب سے مراد عوام کے خواب نہیں بلکہ اولیاء اور صالحین کے خواب مراد ہیں۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : خواب تین ہوتے ہیں : (ایک) اللہ کی طرف سے بشارت ‘ (دوسرا) حدیث نفس (یعنی دماغی تخیلات یا تحت الشعور تصورات) ‘ (تیسرا) شیطان کی طرف سے ڈراوا (یعنی ہیبت ناک ‘ بےسروپا خواب) ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ ایک شبہ : خواب خواہ اولیاء اور صلحاء کا ہو ‘ مفید یقین نہیں (اور اللہ کی طرف سے بشارت کو مفید یقین ہونا چاہئے) ۔ ازالہ : خواب سے یقین نہیں تو غالب گمان ضرور حاصل ہوجاتا ہے اور بشارت کیلئے غلبۂ ظن ہی کافی ہے۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے ارشاد فرمایا : نبوت کے ٤٦ اجزاء میں سے اک جزء سچا خواب ہے۔ یہ حدیث بخاری نے حضرت ابو سعید راویت سے اور مسلم نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور احمد و ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کی ہے۔ اسی کی مثل ابن ماجہ نے حضرت عوف بن مالک کی روایت سے بھی بیان کیا ہے۔ ١ ؂ امام احمد نے حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ سچا خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک ہے۔ ابن النجار نے حضرت ابن عمر کا قول بیان کیا ہے کہ سچا خواب نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ البشرٰی سے وہ عمومی بشارت مراد ہے جس کا تعلق جنت اور ثواب سے ہے۔ یہ بشارت ضرورتمام مؤمنوں کو دی گئی ہے مگر اس کا ظہور اس وقت ہوگا جب ایمان پر خاتمہ ہو اور ایمان پر خاتمہ کیا معلوم ہو یا نہ ہو۔ بعض علماء کے نزدیک البشرٰی سے مراد لوگوں کی طرف سے ستائش ہے۔ بغوی نے عبد اللہ بن صامت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو ذر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! آدمی (اچھے) کام تو اپنے لئے کرتا ہے مگر لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا : مؤمن کیلئے یہ بشارت (دنیوی) ہے۔ مسلم کی روایت میں (بجائے محبت کرنے کے) لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ‘ آیا ہے۔ زہری اور قتادہ نے کہا : مرنے کے وقت اللہ کی طرف سے ملائکہ بشارت لے کر نازل ہوتے ہیں ‘ البشرٰی سے یہی مراد ہے۔ اللہ نے فرمایا : تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلاآءِکَۃ الاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَلْبَشِرُ وَابَالْجَنَّۃ۔ عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ وفی الاخرۃ اور آخرت میں۔ یعنی جان نکلنے کے وقت مؤمن کی روح کو قرب الٰہی کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اللہ کی خوشنودی کی بشارت دی جاتی ہے اور قیامت کے دن قبر سے نکلنے کے وقت بھی اس کو بشارت دی جائے گی۔ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے ‘ اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ‘ اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ یا کسی اور بی بی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! ہم کو تو موت پسند نہیں۔ فرمایا : یہ مطلب نہیں ہے ‘ بلکہ مؤمن کے مرنے کا جب وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی خوشنودی اور رحمت کی بشارت دی جاتی ہے ‘ پس وہ اللہ سے ملنے کا خواستگار ہوجاتا ہے اور کافر کی موت سامنے آتی ہے تو اس کو اللہ کے عذاب اور سزا کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس کو اپنے سامنے آنے والے عذاب سے زیادہ ناگوار اور کوئی چیز نہیں ہوتی ‘ اسلئے اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا اور اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔ رواہ البخاری ومسلم فی الصحیحین۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : لاآ اِلٰہَ الاَّ اللہ والوں کو نہ موت کے وقت وحشت ہوگی ‘ نہ قبروں میں ‘ نہ قبروں سے اٹھنے کے وقت۔ گویا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ چیخ (صور کی آواز) کے وقت وہ (اہل ایمان) سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے تھے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنُ سزاوار ستائش ہے وہ اللہ جس نے ہم سے سختی کو دور کردیا۔ رواہ الطبرانی۔ ختلی نے دیباج میں حضرت ابن عباس کا مرفوع قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ لا تبدیل لکلمات اللہ اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یعنی اللہ کے وعدوں کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔ وہ یعنی مؤمنوں کا دونوں جہان میں بشارت یافتہ ہونا ہی بڑی کامیابی ہے۔ یہ اور اس سے پہلے کا جملہ ” معترضہ جملے “ ہیں جن سے اس جزاء کی عظمت و حقانیت کا اظہار مقصود ہے جس کی بشارت دی گئی ہے۔ جملہ معترضہ ہونے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ کلام کے اوّل و آخر کے درمیان آئے اور کلام کا آخری حصہ وہ ہو جو اوّل سے مربوط ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

81: اولیاء اللہ کے لیے دنیا اور آخرت میں جنت کی خوشخبری ہے اور اللہ کی طرف سے پختہ وعدہ ہے دنیا میں خوشخبری سے مراد وہ بشارتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرمائی ہیں۔ مثلاً “ یُبَشَّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ ” (توبہ رکوع 3) اور “ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ الخ ” (بقرة رکوع 3) ۔ “ قال الحسنھی ما یبشرھم اللہ تعالیٰ فی کتابه من جنته و کریم ثوابه بقوله یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ الخ ” (قرطبی ج 8 ص 258) ۔ یا دنیا میں خوشخبری سے مراد رؤیائے صالحہ جیسا کہ حدیث مرفوع میں واقع ہے۔ “ ھی الرؤیا الصالحة یراھا المسلم او یري له ” (مدارک ج 2 ص 129) اور آخرت میں خوشخبری سے مراد یہ ہے کہ موت کے بعد یا قبروں سے نکلنے کے بعد فرشتے ان کو جنت کی بشارت دیں گے۔ 82: اللہ تعالیٰ کے ارشادات میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ “ کَلِمَاتٍ ” سے اقوال مراد ہیں خواہ احکام واخبار ہوں یا مواعید یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اٹل ہیں ان میں ترمیم وتبدیل نہیں ہوسکتی مثلاً توحید ہے جو ناقابل تبدیل ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف ناممکن ہے۔ “ اي لا تغییر لاقواله التی من جمل تھا مواعیده الخ ” (روح ج 11 ص 152) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

64 ان ہی لوگوں کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی بشارت و خوشخبری ہے اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں اور نہ اس کے وعدوں میں کوئی فرق ہوا کرتا ہے یہ بشارت ہی تو بہت بڑی کامیابی ہے بشارت یعنی ان کو کوئی اندیشہ و خوف اور نہ کسی چیز کے فوت ہونے کا غم اللہ کی باتیں یعنی اس کے وعدوں میں کوئی تبدیلی یا فرق نہیں ہوتا۔