Surat Younus

Surah: 10

Verse: 67

سورة يونس

ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۶۷﴾

It is He who made for you the night to rest therein and the day, giving sight. Indeed in that are signs for a people who listen.

وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور بنایا کہ دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے ، تحقیق اس میں دلائل ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُواْ فِيهِ ... He it is Who has appointed for you the night that you may rest therein, and the day to make things visible (to you). Allah informed us that He is the One Who made the night for His servants to rest therein from weariness and exhaustion. ... وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ... And the day to make things visible (to you). bright and clear for them to seek livelihood and to travel to fulfill their needs. ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لايَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ Verily, in this are Ayat for a people who listen. Those who hear these proofs and take a lesson from them. These Ayat can lead them to realize the greatness of their Creator and Sustainer.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨١] یعنی اللہ کو تو مختار کل ماننے کے لیے بیشمار دلائل موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے رات اور دن کو پیدا فرمایا اب اس ایک نشانی میں غور کرنے سے مزید بیشمار ایسی نشانیاں مل جاتی ہیں جو اللہ کے مختار کل، قادر مطلق اور مقتدر ہستی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ تنہا اسے ہی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے نیز اسے پکارنے اور خالص اسی کی عبادت کرنے کے لیے تو ایسے ٹھوس حقائق موجود ہیں لیکن جو لوگ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو پکارتے یا ان کی پرستش کرتے ہیں ان کے پاس ایسی کون سی دلیل موجود ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ان کا بھی اس کائنات میں کچھ حصہ یا اختیار و تصرف ہے لہذا ایسے سب لوگوں نے محض ظن وتخمین سے کام لے کر قیاسی فلسفے گھڑ رکھے ہیں جن کے نیچے کوئی ٹھوس یا علمی بنیاد موجود نہیں ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ ۔۔ : اپنی قدرت، احسان اور وحدانیت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (٧١ تا ٧٣) ” مُبْصِراً “ کا لفظی معنی ہے دیکھنے والا، یہ باب لازم استعمال ہوتا ہے۔ یعنی دن روشن ہوتا ہے تو ہرچیز نظر آنے لگتی ہے، رات اندھیری ہوتی ہے تو سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعون : یعنی ان میں صرف یہی حکمت نہیں جو ذکر فرمائی ہے، بلکہ رات اور دن کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ ” لایت “ بہت سی نشانیاں اور دلائل۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر وہ ( اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ ( بوجہ روشن ہونے کے) دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے اس ( بنانے) میں دلائل ( توحید) میں ان لوگوں کے لئے جو ( تدبر کے ساتھ ان مضامین کو) سنتے ہیں ( مشرکین ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور شرک کی باتیں کرتے ہیں چنانچہ) وہ کہتے ہیں ( نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ ( کیسی سخت بات کہی) وہ تو کسی کا محتاج نہیں ( اور سب اس کے محتاج ہیں) اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ( پس سب مملوک ہوئے اور وہ مالک ہوا پس ثابت ہوا کہ کمالات میں کوئی اس کا مشارک و مجانس نہیں، پس اگر اولاد کو اللہ کا مجانس یعنی ہم جنس کہا جائے تو مجانست باطل ہوچکی اور اگر غیر مجانس کہو تو ناجنس اولاد ہونا عیب ہے اور عیوب سے اللہ تعالیٰ پاک ہے، جیسا سُبْحٰنَهٗ میں اس طرف اشارہ بھی ہے، پس اولاد کا ہونا مطلقاً باطل ہوگیا ہم نے جو نفی اولاد کا دعوی کیا تھا اس پر تو ہم نے دلیل قائم کردی ہے، اب رہا تمہارا دعوی سو) تمہارے پاس ( بجز بیہودہ دعوی کے) اس ( دعوی) پر کوئی دلیل ( بھی) نہیں ( تو) کیا اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کو تم ( کسی دلیل سے) علم نہیں رکھتے آپ ( ان کا مفتری ہونا ثابت کرکے اس افتراء کی وعید سنانے کے لئے) کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں ( جیسے مشرکین) وہ ( کبھی) کامیاب نہ ہوں گے ( اور اگر کسی کو شبہ ہو کہ ہم تو ایسوں کو دنیا میں خوب کامیاب اور آرام و راحت میں پاتے ہیں، تو جواب یہ ہے کہ) یہ دنیا میں ( چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے ( جو بہت جلد ختم ہوجاتا ہے) پھر ( مر کر) ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے پھر ( آخرت میں) ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سزائے سخت (کا مزا) چکھا دیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ھُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا۝ ٠ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۝ ٦٧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، وقال تعالی: وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] ، ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] ، فمن الأوّل يقال : سکنته، ومن الثاني يقال : أَسْكَنْتُهُ نحو قوله تعالی: رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] ، وقال تعالی: أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] ( س ک ن ) السکون ( ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ اور فرمایا : ۔ وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے ۔ ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] تاکہ اس میں آرام کرو ۔ تو پہلے معنی یعنی سکون سے ( فعل متعدی ) سکنتہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی کو تسکین دینے یا ساکن کرنے کے ہیں اور اگر معنی سکونت مراد ہو تو اسکنتہ کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] اے پروردگار میں نے اپنی اولاد لا بسائی ہے أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] 25 ) ( مطلقہ ) عورتوں کو ( ایام عدت میں ) اپنے مقدرو کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧) اور تمہارا اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پیدا کیا تاکہ تم اس میں آرام کرسکو اور دن کو بھی اسی طرح پیدا کیا کہ وہ آنے جانے کے لیے روشنی کا ذریعہ ہے اس بنانے میں ایسے لوگوں کے لیے عبرت کی چیزیں ہیں جو نصائح قرآنی کو سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ (ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا) رات کو پرسکون بنایا تاکہ رات کے وقت آرام کرو ‘ اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں اپنی معاشی ذمہ داریاں نبھاؤ اور دوسرے کام کاج نپٹاؤ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

65. What is being said here in a summary fashion requires some elaboration. The statement refers to philosophical inquiry which aims atdiscovering the reality underlying the physical phenomena of the universe. All those who do not look up to revelation in order to know what such reality is, have to fall back, willy-nilly, on philosophical inquiry. Whether a person ends up with atheism, polytheism or monotheism, he perforce has recourse to philosophical inquiry of some sort in order to arrive at some conclusion about reality. Likewise, the worth of the religious doctrines propounded by the Prophets can also be determined by resort to philosophical reflection after which a person is likely to arrive at some conclusion as to whether the reality to which the physical phenomena allude makes any sense or not. The soundness of the conclusion at which a person arrives totally depends, however, on the soundness of the method of philosophical inquiry that is adopted. If the method is sound, so would the conclusion be; and vice versa. Let us now examine the methods that were adopted by different groups in this pursuit. Of these, the method used by the polytheists is based on superstition. As for the gnostic and ascetic hermits, even though they flaunt meditation as their characteristic method and claim their ability to penetrate the reality that lies beyond the phenomenal veil, their quest is based merely on conjecture. Likewise, what they claim to have observed is actually a product of their fancy. Swayed by it, they mistake their fancies for the truth. Now, philosophers are guided in their quest for reality by speculation which, it would seem, is nothing less than conjecture. But realizing that their conjecture has no respectable ground upon which to stand, philosophers provide the crutches of logical reasoning and phoney rationalism to support their quest, and give it the imposing title of philosophical inquiry. Then we come across scientists. In their own field, they resort to scientific methods of inquiry, but as soon as they enter the realm of the metaphysical, they abandon this method and proceed with guesswork and conjecture. The outlook of all these groups is impaired, afflicted with bias and prejudice of one sort or another. This makes them impervious to everything which is alien to them with the net result that they cling adamantly to their cherished ways. The Qur'an brands this kind of intellectual quest as essentially fallacious. It tells such people that the real cause of their malady is guesswork and conjecture in their pursuit of reality, and that they do not heed the reasonable counsel of others because of their deep-seated prejudices. The result is not only are they incapable of independently grasping reality, but their prejudice renders them incapable of arriving at any sound judgement regarding it even when it is expounded by the Prophets. In sharp contrast to these fallacious methods, the Qur'an lays down an altogether different method to guide men in their quest of reality. This requires, first of all, that one should heed with open ears and consider with open minds the statements of those who claim to be expounding their doctrine about reality not on the basis of speculation or conjecture, nor on the basis of meditation or intuitive conviction, but on the basis of 'knowledge'. They should then proceed to consider the phenomena which form a part of man's observation or experience of the universe (called ayat - signs - in the Qur'anic parlance); to systematize all that they come to know in this manner and to seriously reflect whether the phenomena seem to testify to the reality underlying the phenomena to which these people [i.e. the Prophets] have drawn their attention. If one finds sufficient grounds to affirm the truths propounded by the Prophets, why on earth should anyone contradict such truths? In our view, this very method is the basis of the philosophy of Islam and it is regrettable that even Muslim philosophers abandoned it and set out to follow in the footsteps of Plato and Aristotle. Not only does the Qur'an urge people, over and over again, to follow this method, but by frequently drawing attention to the physical phenomena and then showing how right conclusions can be derived from them, it also seems to train them to follow this method. Were one to consider even the present verse by way of example one would encounter reference to a couple of physical phenomena - night and day. The alternation of day and night is the outcome of an absolutely precise and well-regulated movement of the earth around the sun. This is an incontrovertible sign of the existence of an all-encompassing controller, of an all-powerful Lord Whose dominion embraces the whole universe. This alternation of day and night is also indicative of the infinite wisdom and purposiveness of the Creator since a lot of creatures of the earth depend upon it. This alternation is also indicative of the Providence, Mercy and Lordship of the Creator since it is evident that He Who has created all beings on earth has also made arrangements to cater to all their requirements. What this unmistakably proves is that the Creator is the One Who fully controls the entire universe and that far from being arbitrary and capricious. He is Wise. His actions also go to show that in view of His benevolence and providence He alone deserves to be served and worshipped. Also, this alternation of day and night clearly reveals that anything which is subject to the system of alternation of night and day is a servant and not the Lord. All this being the testimony of the natural phenomena, how can it ever be entertained that the religious doctrines developed by polytheists on the basis of their guesswork and conjecture have even a shred of legitimacy?

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :65 یہ ایک تشریح طلب مضمون ہے جسے بہت مختصر لفظوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ فلسفیانہ تجسّس ، جس کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ اس کائنات میں بظاہر جو کچھ ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کے پیچھے کوئی حقیقت پوشیدہ ہے یا نہیں اور ہے تو وہ کیا ہے ، دنیا میں ان سب لوگوں کے لیے جو وحی و الہام سے براہ راست حقیقت کا علم نہیں پاتے ، مذہب کے متعلق رائے قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔ کوئی شخص بھی خواہ وہ دہریت اختیار کرے یا شرک یا خدا پرستی ، بہرحال ایک نہ ایک طرح کا فلسفیانہ تجسّس کیے بغیر مذہب کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا ۔ اور پیغمبروں نے جو مذہب پیش کیا ہے اس کی جانچ بھی اگر ہو سکتی ہے تو اسی طرح ہو سکتی ہے کہ آدمی ، اپنی بساط بھر ، فلسفیانہ غور و فکر کر کے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ پیغمبر ہمیں مظاہرِ کائنات کے پیچھے جس حقیقت کے مستور ہونے کا پتہ دے رہے ہیں وہ دل کو لگتی ہے یا نہیں ۔ اس تجسّس کے صحیح یا غلط ہونے کا تمام تر انحصار طریقِ تجسّس پر ہے ۔ اس کے غلط ہونے سے غلط رائے اور صحیح ہونے سے صحیح رائے قائم ہوتی ہے ۔ اب ذرا جائزہ لے کر دیکھیے کہ دنیا میں مختلف گروہوں نے اس تجسّس کے لیے کون کون سے طریقے اختیار کیے ہیں: مشرکین نے خالص وہم پر اپنی تلاش کی بنیاد رکھی ہے ۔ اشراقیوں اور جو گیوں نے اگرچہ مراقبہ کا ڈھونگ رچایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ہم ظاہر کے پیچھے جھانک کر باطن کا مشاہدہ کر لیتے ہیں ، لیکن فی الواقع انہوں نے اپنی اس سراغ رسانی کی بنا گمان پر رکھی ہے ۔ وہ مراقبہ دراصل اپنے گمان کا کرتے ہیں ، اور جو کچھ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نظر آتا ہے اس کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ گمان سے جو خیال انہوں نے قائم کر لیا ہے اسی پر تخیل کو جما دینے اور پھر اس پر ذہن کا دباؤ ڈالنے سے ان کو وہی خیال چلتا پھرتا نظر آنے لگتا ہے ۔ اصطلاحی فلسفیوں نے قیاس کو بنائے تحقیق بنایا ہے جو اصل میں تو گمان ہی ہے لیکن اس گمان کے لنگڑے پن کو محسوس کر کے انہوں نے منطقی استدلال اور مصنوعی تعقل کی بیساکھیوں پر اسے چلانے کی کوشش کی ہے اور اس کا نام ”قیاس“ رکھ دیا ہے ۔ سائنس دانوں نے اگرچہ سائنس کے دائرے میں تحقیقات کے لیے علمی طریقہ اختیار کیا ہے ، مگر مابعد الطبیعیات کے حدود میں قدم رکھتے ہی وہ بھی علمی طریقے کو چھوڑ کر قیاس و گمان اور اندازے اور تخمینے کے پیچھے چل پڑے ۔ پھر ان سب گروہوں کے اوہام اور گمانوں کو کسی نہ کسی طرح سے تعصب کی بیماری بھی لگ گئی جس نے انہیں دوسرے کی بات نہ سننے اور اپنی ہی محبوب راہ پر مڑنے ، اور مڑ جانے بعد مڑے رہنے پر مجبور کر دیا ۔ قرآن اس طریق تجسّس کو بنیادی طور پر غلط قرار دیتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ تم لوگوں کی گمراہی کا اصل سبب یہی ہے کہ تم تلاش حق کی بنا گمان اور قیاس آرائی پر رکھتے ہو اور پھر تعصب کی وجہ سے کسی کو معقول بات سُننے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہوتے ۔ اسی دُہری غلطی کا نتیجہ یہ ہے کہ تمہارے لیے خود حقیقت کو پا لینا تو ناممکن تھا ہی ، انبیاء علیہم السلام کے پیش کردہ دین کو جانچ کر صحیح رائے پر پہنچنا بھی غیر ممکن ہو گیا ۔ اس کے مقابلہ میں قرآن فلسفیانہ تحقیق کے لیے صحیح علمی و عقلی طریقہ یہ بتاتا ہے کہ پہلے تم حقیقت کے متعلق ان لوگوں کا بیان کھلے کانوں سے ، بلاتعصب سنو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قیاس و گمان یا مراقبہ و استدراج کی بنا پر نہیں بلکہ ”علم“ کی بنا تمہیں بتا رہے ہیں کہ حقیقت یہ ہے ۔ پھر کائنات میں جو آثار ( باصطلاح قرآن ”نشانات“ ) تمہارے مشاہدے اور تجربے میں آتے ہیں ان پر غور کرو ، ان کی شہادتوں کو مرتب کر کے دیکھو ، اور تلاش کرتے چلے جاؤ کہ اس ظاہر کے پیچھے جس حقیقت کی نشاندہی یہ لوگ کر رہے ہیں اس کی طرف اشارہ کرنے والی علامات تم کو اسی ظاہر میں ملتی ہیں یا نہیں ۔ اگر ایسی علامات نظر آئیں اور ان کے اشارے بھی واضح ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں تم خواہ مخواہ ان لوگوں کو جھٹلاؤ جن کا بیان آثار کی شہادتوں کے مطابق پایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی طریقہ فلسفہ اسلام کی بنیاد ہے جسے چھوڑ کر افسوس ہے کہ مسلمان فلاسفہ بھی افلاطون اور ارسطو کے نقش قدم پر چل پڑے ۔ قرآن میں جگہ جگہ نہ صرف اس طریق کی تلقین کی گئی ہے ، بلکہ خود آثار کائنات کو پیش کر کر کے اس سے نتیجہ نکالنے اور حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی گویا باقاعدہ تربیت دی گئی ہے تاکہ سوچنے اور تلاش کرنے کا یہ ڈھنگ ذہنوں میں راسخ ہو جائے ۔ چنانچہ اس آیت میں بھی مثال کے طور پر صرف دو آثار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ، یعنی رات اور دن ۔ یہ انقلاب لیل و نہار دراصل سورج اور زمین کی نسبتوں میں انتہائی باضابطہ تغیر کی وجہ سے رونما ہوتا ہے ۔ یہ ایک عالمگیر ناظم اور ساری کائنات پر غالب اقتدار رکھنے والے حاکم کے وجود کی صریح علامت ہے ۔ اس میں صریح حکمت اور مقصدیت بھی نظر آتی ہے کیونکہ تمام موجودات زمین کی بے شمار مصلحتیں اسی گردش لیل و نہار کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ اس میں صریح ربوبیت اور رحمت اور پروردگاری کی علامتیں بھی پائی جاتی ہیں کیونکہ اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ جس نے زمین پر یہ موجودات پیدا کی ہیں وہ خود ہی ان کے وجود کی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالمگیر ناظم ایک ہے ، اور یہ بھی کہ وہ کھلنڈرا نہیں بلکہ حکیم ہے اور با مقصد کام کرتا ہے ، اور یہ بھی کہ وہی محسن و مربی ہونے کے حیثیت سے عبادت کا مستحق ہے ، اور یہ بھی کہ گردش لیل و نہار کے تحت جو کوئی بھی ہے وہ رب نہیں مربوب ہے ، آقا نہیں غلام ہے ۔ ان آثاری شہادتوں کے مقابلہ میں مشرکین نے گمان و قیاس سے جو مذہب ایجاد کیے ہیں وہ آخر کس طرح صحیح ہو سکتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:67) ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا۔ تسکنوا۔ سکن یسکن (نصر) سکون سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم سکون پذیر ہو۔ تم چین حاصل کرو۔ اصل میں تسکنون تھا۔ لام کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ مبصرا۔ اسم فاعل واحد مذکر حالت نصب۔ ابصار مصدر (باب افعال) ابصار کے معنی دیکھنا۔ جاننا۔ سمجھنا کے بھی آتے ہیں اور دکھانے اور سمجھانے کے بھی۔ اسی بناء پر مبصر کے معنی دیکھنے والا اور دکھانے والا دونوں ہوسکتے ہیں۔ جو خود روشن ہو وہ بھی مبصر ہے اور جو دوسروں کو واضح اور روشن کر دے وہ بھی مبصر ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو۔ اور (جس نے تمہارے لئے) روشن دن بنادیا ۔ لیکن جب رات کو دن کے مقابلہ میں لایا گیا ہے تو تسکنوا کے مقابلہ میں دن کے وقت کے لئے تتحرکوا متوقع تھا لیکن اس کو وہاں حذف کیا گیا ۔ اسی طرح جب دن کے لئے مبصرا لایا گیا ہے تو اس کے مقابلہ میں رات کے وقت کے لئے مظلما کا استعمال چاہیے تھا جو یہاں محذوف ہے۔ یعنی عبارت یوں ہوتی۔ ھو الذی جعل لکم الیل مظلما لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا لتتحرکوا۔ یعنی وہی ہے جس نے رات کو اندھیروالی بنایا کہ تم (چونکہ عدم روشنی کی وجہ سے اور کوئی کام نہیں کرسکتے تو) اس میں تم آرام کرو۔ اور ان کو روشن بنایا (کہ تم اس کی روشنی میں اپنے کاروبار کے لئے چلو پھرو) لیکن متن قرآن کے مطابق تسکنوا کی رعایت سے تتحرکوا اور مبصرا کی رعایت سے مظلما کو ذہن میں لانا مشکل نہیں۔ مبصرا۔ یہاں بمعنی روشن یا دوسروں کو روشن کرنے والا۔ دیکھنے والا۔ یا دکھانے والا دونوں صحیح ہیں۔ دیکھنے والا کے معنی میں یہ ترکیب ایسی ہے جیسے کہتے ہیں نھارہ صائم اس کا دن روزہ رکھتا ہے۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دن کا روزہ رکھتا ہے۔ فعل کی نسبت فاعل کی طرف کرنے کے ظرف کی طرف کردی۔ جیسا ہم اردو میں بولتے ہیں ندی بہہ رہی ہے۔ حالانکہ ندی ظرف مکان ہے۔ اور اپنی جگہ قائم ہے اس میں جو پانی ہے وہ بہہ رہا ہے اسی طرح مبصرا سے مراد یہ نہیں کہ دن دیکھ رہا ہے بلکہ لوگ دن کے وقت دیکھد ہے ہوتے ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ یعنی ان میں صرف یہی حکمت نہیں ہے جو ذکر کی ہے بلکہ رات اور دن کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بہت سے دلائل ہیں۔ (روح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

دون اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہے۔ خواہ فرشتے، بت، مورتیاں اور مدفون بزرگ ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ مشرکین مکہ میں کچھ لوگ ملائکہ کو، عیسائی حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو، یہودی حضرت عزیر کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے اور آج بھی ان کا یہی عقیدہ اور عمل ہے۔ حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے لیے رات کو سکون اور نیند کا باعث بنایا اور دن کو روشن فرمایا تاکہ لوگ اپنی معاشی اور دیگر ضروریات کو پورا کرسکیں ان لوگوں کے لیے اس بات میں بڑے دلائل ہیں اگر وہ صحیح معنوں میں سننے کا حق ادا کریں۔ سننے کا حق یہ ہے کہ آدمی دل کی گہرائی اور کانوں کو کھول کر حق سنے اور اس پر غور کرے۔ (ق : ٣٧) یہاں رات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اسے سکون اور آرام کا ذریعہ بنایا ہے۔ غور فرمائیں کہ آدمی کتنا ہی تھکا ماندہ اور غم زدہ ہو صبح بیدا رہوتا ہے تو اس کا غم ہلکا اور نہ صرف تھکاوٹ دور ہوچکی ہوتی ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ اس کے جسم کی صرف ہونے والی توانائی نیند کے بعد بحال ہوجاتی ہے اگر انسان کو کسی وجہ سے رات نیند نہ آئے تو جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ جہاں تک روز روشن کا مسئلہ ہے اگر دن کی روشنی ختم ہوجائے تو دنیا کا نظام چند دنوں کا مہمان ٹھہرے۔ کیونکہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں نہ صرف کاروبار نہیں ہوسکتا بلکہ انسان کی بینائی بھی کام نہیں دیتی اور بالآخر ختم ہوجاتی ہے۔ اگر رات اور دن اندھیرے میں ڈوب جائیں تو گھبراہٹ سے انسان کا کلیجہ پھٹ جائے۔ کاش مشرک اس بات پر غور کرتے اور اپنے رب کی ذات اور قدرت کا اعتراف کرکے بلا شرکت غیرے اس پر ایمان لاکر اس کی بندگی میں سکون پاتے۔ رات، دن کی مثال دے کر شرک کی تاریکیوں اور توحید کی روشنی کی طرف اشارہ کیا گیا کہ شرک اور توحید میں رات اور دن کی مانند فرق ہے۔ لیکن یہ فرق وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو حقیقت سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ من دون اللہ کی وضاحت قرآن مجید کی روشنی میں : ” فرمائیے اے لوگو ! اگر تمہیں کچھ شک ہو۔ میرے دین کے بارے میں۔ تو سن لو میں عبادت نہیں کرتا ان بتوں کی جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا۔ لیکن میں تو عبادت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جو مارتا ہے تمہیں۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں اہل ایمان سے۔ “ [ یونس : ١٠٤] ” آپ فرمائیے مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں پوجوں انہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا۔ آپ فرمائیے میں نہیں پیروی کرتا تمہاری خواہشوں کی ایسا کروں تو گمراہ ہوگیا میں۔ اور نہ رہا میں ہدایت پانے والوں سے۔ “ [ الانعام : ٥٦] من دون اللہ سے مرادبت : ” آپ فرمائیے کیا ہم پوجیں اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے ہمیں اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور کیا ہم پھرجائیں الٹے پاؤں اس کے بعد کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے ؟ “ [ الانعام : ٧١] من دون اللہ سے مراد فوت شدگان بزرگ : ” اللہ کے سوا وہ نہیں پیدا کرسکتے کوئی چیز۔ بلکہ وہ خود پید اکیے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں، وہ زندہ نہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ کب انہیں اٹھایا جائے گا۔ “ [ النحل : ٢٠۔ ٢١] یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ ان سے مراد انبیاء، شہداء، صالحین اور فوت شدہ شخصیات ہیں۔ جن کو ان کے عقیدت مندحاجت روا اور مشکل کشاسمجھتے ہیں۔ یادر ہے قیامت کے دن پتھر اور لکڑی وغیرہ کے بتوں کو نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کوئی ان کے زندہ ہونے کا قائل ہے۔ (قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رض) اِنَّ ہَؤُلَآءِ کَانُوْا قَوْمًا صَالِحِیْنَ فِیْ قَوْمِ نُوْحٍ فَلَمَّا مَاتُوْا عَکَفُوْا عَلٰی قُبُوْرِہِمْ ثُمَّ صَوَّرُوْا تَمَاثِیْلَہُمْ فَعَبَدُوْہُمْ ثُمَّ صَارَتْ ہٰذِہ الَاوْثَانِ فِیْ قَبَاءِلِ العَرَبِ ) [ مستفاض من کتب التفاسیر والبخاری ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ سب ( وَدّ ، سُواع وغیرہ) ” قوم نوح “ کے اولیاء اللہ تھے۔ جب وہ مرگئے تو لوگ ان کی قبروں سے وابستہ ہوگئے اور پھر ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر انھیں کے مجسمے بتوں کی صورت میں عرب کے قبائل میں پھیل گئے۔ “ من دون اللہ سے مراد علماء اور اولیاء : ” انہوں نے بنا لیا اپنے پادریوں اور راہبوں کو (اپنے پروردگار) اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح مریم کے فرزند کو بھی۔ “ [ التوبۃ : ٣١] حضرت سید پیر نصیر الدین آف گولڑہ کے الفاظ میں من دون اللہ کی وضاحت : بعض درگاہی ملاؤں اور خانقاہی زلہ خوروں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے مشائخ اور علماء کو معبود تو نہیں سمجھتے، ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے، پھر ہمیں کیوں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ آئیے ہم یہ کیس (Case) دربار رسالت میں پیش کرتے ہیں، تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا فیصلہ فرما دیں کہ کیا علماء و مشائخ پر بھی أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کے الفاظ کا اطلاق کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اس سلسلے میں ایک روایت معتبرہ ملاحظہ ہو۔ ” حضرت عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میری گردن میں ایک سونے کی صلیب پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا اے عدی ! اس بت کو اپنے سے اتار پھینکو اور میں نے یہ سنا کہ آپ سورة براۃ کی یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے کہ ” جن لوگوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔ “ پس میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ لوگ (یہودونصاریٰ ) اپنے بزرگوں کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کیا وہ لوگ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام نہیں کرتے تھے اور یہ معتقد انہیں حرام تسلیم کرلیتے تھے اور کیا وہ لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال نہیں کرتے تھے اور یہ انہیں حلال مان لیتے تھے۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایساتو ہے پس آپ نے فرمایا یہی عبادت ہے۔ “ جن حضرات کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جن آیات میں اصنام کو خطاب کیا گیا، ان آیات کو انبیاء واولیاء پر منطبق کرنا نہ صرف جہالت ہے، بلکہ تحریف قرآنی ہے۔ وہ ہماری تحقیق بھی ذہن نشین کرلیں کہ غیر اللہ، من دون اللہ، شریک اور انداد کے الفاظ قرآن میں جہاں بھی آئے ہیں، ان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا ہو اور جو وصول الی اللہ میں رکاوٹ بنتی ہو۔ اگر اصنام رکاوٹ بن رہے ہوں تو ان الفاظ سے مراد اصنام ہوں گے اور اگر انسان بن رہے ہوں تو انسان مراد ہوں گے۔ اگر کوئی عالم یا شیخ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے تو وہ یصدون عن سبیل اللہ کے زمرے میں آئے گا۔ پس ایسا شخص غیر اللہ، من دون اللہ، شریک اور انداد کے الفاظ کا مصداق ٹھہرے گا۔ معلوم ہوا کہ جو چیز اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنے وہ غیر اللہ ہے۔ چاہے وہ اصنام ہوں یا کوئی انسان۔[ اعانت واستعانت کی شرعی حقیقت ازقلم حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرصاحب آف گولڑہ ] مسائل ١۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ ٢۔ بد عقیدہ لوگ محض اپنے خیالات کی پیروی کرتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے سکون حاصل کرنے کے لیے رات کو بنایا ہے۔ ٤۔ علم رکھنے والوں کے لیے دن اور ات میں نشانیاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن من دون اللہ کے دلائل : ١۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : ١٠٤) ٢۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : ٥٦) ٣۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : ٧١) ٤۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : ٢٠) ٥۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : ١٩٤) ٦۔ انھوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبۃ : ٢١) انہوں نے کہا بنائی ہے اللہ نے اولاد وہ پاک ہے وہ تو بےپروا ہے اسی کے لیے ہے جو کچھ میں آسمانوں اور جو کچھ میں زمین نہیں ہے تمہارے پاس سے کوئی دلیل اس بات کی کیا تم کہتے ہو پر اللہ جس کا نہیں تم علم رکھتے ؟ ” انھوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہ بےپروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تمہارے پاس اس کی اولاد بنانے کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ کچھ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ؟ “ (٦٨) فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر اس کے ہاں سفارشی بنا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی حیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نانی کے نذر ماننے سے لے کر ان کی والدہ حضرت مریم کی پیدائش حضرت مریم کا نذر کرنا، حضرت مریم کا جوان ہونا، بغیر خاوند کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت قوم کا حضرت مریم پر تہمت لگانا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گود میں اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نہیں ہوں، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بڑے ہو کر رسالت کا فریضہ سرانجام دینا، دشمنوں کا آپ کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کرنا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر اپنے حواریوں کو مدد کے لیے بلانا، اللہ تعالیٰ کا انہیں صحیح سالم آسمانوں پر اٹھا لینا، قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ بھیجنا اور پھر انہیں موت دینا، ان میں سے ایک ایک بات ان کی عاجزی، بےبسی اور ان کے عاجز بندہ ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ یہی یہودیوں کا حال ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال تک مارے رکھا۔ جب انہیں سو سال کے بعد زندہ کیا اور پوچھا کہ آپ کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ انہیں خبر نہ تھی کہ میں ایک سو سال مردہ پڑا رہا ہوں۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کہنے لگے کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سو سال تک ٹھہرے رہے ہو۔ تفصیل کے لیے البقرۃ آیت (٢٥٩) کی تلاوت کریں۔ جو لوگ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا دامن بھی دلیل سے خالی ہے۔ اس کے باوجود عیسائی اپنی جہالت اور یہودی اپنی ضد ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے اپنی بےعلمی پر اڑے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر فرمایا ہے۔ (اِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِہٰذَا اَ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللَّہ مَالَا تَعْلَمُوْنَ )[ یونس : ٦٨] ” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے یا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ “ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم اور گناہ ہے : (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا۔ لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا إِدًّا۔ تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا۔ أَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَمَا یَنْبَغِی للرَّحْمٰنِ أَنْ یَتَّخِذَ وَلَدًا۔ )[ مریم : ٨٨۔ ٩٢] ” اور انہوں نے کہا رحمن کی اولاد ہے۔ یہ تو اتنی بری بات تم گھڑ لائے ہو جس سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے، پہاڑ گرپڑیں۔ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ رحمن کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں۔ ٤۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ٥۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے : ١۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے اللہ اولاد سے بےنیاز ہے۔ (یونس : ٦٨) ٢۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنائی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (البقرۃ : ١١٦) ٣۔ مشرکین نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ سارے اسی کے بندے ہیں۔ (الانبیاء : ٢٦) ٤۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ (المومنون : ٩١) ٥۔ ہمارے پروردگار کی شان بڑی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے نہ اس کی اولاد ہے۔ (الجن : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے سکون کیلئے رات بنائی۔ یعنی دن کی محنت سے جو تم تھک جاتے ہو ‘ رات میں اس تکان سے آرام حاصل کرلو۔ والنھار مبصرًا اور دن کو روشنی بخش بنایا ‘ جس کی روشنی میں دنیا کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون۔ اس میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو سنیں۔ یعنی اللہ نے جو اپنی حکمت کے زیر اثر اتنی بڑی بڑی چیزیں پیدا کیں ‘ ان کی تخلیق کے اندر ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اللہ کی قدرت تامہ ‘ نعمت عظیمہ اور حکمت شاملہ کو ظاہر کر رہی ہیں اور اللہ کو مستحق معبودیت ثابت کر رہی ہیں ‘ مگر یہ تمام نشانیاں انہی لوگوں کیلئے مفید ہیں جو اللہ کا کلام اور ہدایت کرنے والوں کی نصیحت کو تفکر و عبرت کے کانوں سے سنیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ ) (اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا فرمایا تاکہ تم اس میں آرام کرو) (وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا) (اور دن کو ایسی چیز بنایا جس میں دیکھ بھال کرتے ہو) اس میں چیزیں صاف واضح نظر آتی ہیں۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔ (یعنی حق کو قبول کرنے کی نیت سے سنتے ہیں اور سنی کو ان سنی نہیں کردیتے) رات اور دن دونوں ایسی چیزیں ہیں جو نظروں کے سامنے ہیں۔ پوری دنیا ان دونوں وقتوں سے خالی نہیں ہوتی کہیں رات ہوتی ہے کہیں دن ہوتا ہے اور دنیا کے بسنے والوں میں کوئی ایسا نہیں جو رات میں یا دن میں نہ ہو ہر علاقہ میں یہ دونوں یکے بعد دیگرے گزرتے ہیں۔ ان دونوں کا الٹ پھیر کرنے والا اور آگے پیچھے لانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے آرام کرنے کیلئے بنایا اور دن کو بھی بہت بڑا فائدہ ہے اس میں لوگ چلتے پھرتے ہیں دیکھتے بھالتے ہیں۔ کسب معاش کرتے ہیں یہ سب اوقات اور سب حالات اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں پھر بھی مشرکین غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے کی نشانیاں سامنے ہیں وہ ان کے سامنے لائی جاتی ہیں تو انہیں سننا نہیں چاہتے اور سن لیتے ہیں تو ان کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلتے حق کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

87: توحید پر دسویں عقلی دلیل۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے کہ اس نے رات کو تمہارے آرام کے لیے اور دن کو تمہارے کاروبار کے لیے بنایا تو کیا پھر اس کے سوا کوئی اور کارساز یا متصرف ومختار ہوسکتا ہے ؟ معطوف علیہ میں “ جَعَلَ ” کا مفعول ثانی محذوف ہے اصل میں تھا “ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ مظلماً لِّتَسْکُنُوْا فِیْهِ ” یعنی اس نے رات کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو۔ اور معطوف میں مفعول ثانی کا متعلق محذوف ہے۔ “ اي والنھار مبصرا لتبصروا فیه ” اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم دیکھ سکو اور معاش وغیرہ کا انتظام کرسکو۔ (مدارک و روح) معطوف علیہ میں متعلق کا ذکر معطوف میں اس کے حذف کا قرینہ ہے علی ہذا معطوف میں مفعول ثانی کا ذکر معطوف علیہ میں اس کے مقدر ہونے پر قرینہ ہے یہ ایجاز اور بلاغت بھی قرآن کا اعجاز ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

67 وہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام و چین حاصل کرو اور تمہارے لئے دن کو روشن اور دیکھنے بھالنے کا ذریعہ بنایا بیشک اس رات دن کے بنانے میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل توحید ہیں جو ان مضامین کو سننے کی صلاحیت رکھتے اور پورے تدبیر کے ساتھ سنتے ہیں۔