Surat Younus

Surah: 10

Verse: 83

سورة يونس

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ عَلٰی خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہِمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾

But no one believed Moses, except [some] youths among his people, for fear of Pharaoh and his establishment that they would persecute them. And indeed, Pharaoh was haughty within the land, and indeed, he was of the transgressors

پس موسیٰ ( علیہ السلام ) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعو ن سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا ، اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہو جاتا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Only a Few Youth from Fir`awn's People believed in Musa Allah tells; فَمَا امَنَ لِمُوسَى إِلاَّ ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَى خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَيِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الاَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ But none believed in Musa except the offspring of his people, because of the fear of Fir`awn and his chiefs, lest they should persecute them; and verily, Fir`awn was an arrogant tyrant on the earth, he was indeed one of the transgressors. Allah tells us that despite all the clear signs and irrefutable evidence Musa came with, only a few offspring from Fir`awn's followers believed in him. They were even scared that Fir`awn and his followers would force them to return to Kufr (disbelief). Fir`awn was an evil tyrant and extremely arrogant. His people feared him and his power too much. Al-Awfi reported that Ibn Abbas said: فَمَا امَنَ لِمُوسَى إِلاَّ ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَى خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَيِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ... But none believed in Musa except the offspring of his people because of the fear of Fir `awn and his chiefs, lest they should persecute them. "The offspring that believed in Musa from Fir`awn's people, other than Banu Israel, were few. Among them were Fir`awn's wife, the believer who was hiding his faith, Fir`awn's treasurer, and his wife." The Children of Israel, however, themselves believed in Musa, all of them. They were glad to see him coming. They knew of his description and the news of his advent from their previous Books. They knew that Allah was going to save them through him from the capture of Fir`awn and give them power over him. So when this knowledge reached Fir`awn he was very wary. But his caution and weariness didn't help him one bit. When Musa arrived, Fir`awn subjected them to great harm, and قَالُواْ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِيْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ They said: "We (Children of Israel) suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act.' (7:129) The fact that all of the Children Israel became believers is evidenced by the following Ayat:

بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بہت کم فرعونی ایمان لا سکے ۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی ۔ یہ خبیث رعب دبدبہ والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا ۔ حق ظاہر ہو گیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرت نہ تھی ہر ایک کا خوف تھا کہ اگر آج میں ایمان لے آیا تو کل اس کی سخت سزاؤں سے مجبور ہو کر دین حق چھوڑنا پڑے گا ۔ پس بہت سے ایسے جانباز موحد جنہوں نے اس کی سلطنت اور سزا کی کوئی پرواہ نہ کی اور حق کے سامنے سر جھکا دیا ۔ ان میں خصوصیت سے قابل ذکر فرعون کی بیوی تھی اس کی آل کا ایک اور شخص تھا ایک جو فرعون کا خزانچی تھا ۔ اس کی بیوہ تھی وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے حضرت موسیٰ پر بنی اسرائیل کی تھوڑی سی تعداد کا ایمان لانا ہے ۔ یہ بھی مروی ہے کہ ذریت سے مراد قلیل ہے یعنی بہت کم لوگ ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولاد بھی مراد ہے ۔ یعنی جب حضرت موسیٰ نبی بن کر آئے اس وقت جو لوگ ہیں ان کی موت کے بعد ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ ایمان لائے ۔ امام ابن جریر تو قول مجاہد کو پسند فرماتے ہیں کہ قومہ میں ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ ہیں کیونکہ یہی نام اس سے قریب ہے ۔ لیکن یہ محل نظر ہے کیونکہ ذریت کے لفظ کا تقاضا جوان اور کم عمر لوگ ہیں اور بنو اسرائیل تو سب کے سب مومن تھے جیسا کہ مشہور ہے یہ تو حضرت موسیٰ کے آنے کی خوشیاں منا رہے تھے ان کی کتابوں میں موجود تھا کہ اس طرح نبی اللہ آئیں گے اور ان کے ہاتھوں انہیں فرعون کی غلامی کی ذلت سے نجات ملے گی ان کی کتابوں کی یہی بات تو فرعون کے ہوش و حواس گم کئے ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس نے حضرت موسیٰ کی دشمنی پر کمر کس لی تھی اور آپ کی نبوت کے ظاہر ہو نے سے پہلے اور آپ کے آنے سے پہلے اور آپ کے آجانے کے بعد ہم تو اس کے ہاتھوں بہت ہی تنگ کئے گئے ہیں ۔ آپ نے انہیں تسلی دی کہ جلدی نہ کرو ۔ اللہ تمہارے دشمن کا ناس کرے گا ، تمہیں ملک کا مالک بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو؟ پس یہ تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت سے مراد قوم موسیٰ کی نئی نسل ہو ۔ اور یہ کہ بنو اسرائیل میں سے سوائے قارون کے اور کوئی دین کا چھوڑنے والا ایسا نہ تھا جس کے فتنے میں پڑ جانے کا خوف ہو ۔ قارون گو قوم موسیٰ میں سے تھا لیکن وہ باغی تھا فرعون کا دوست تھا ۔ اس کے حاشیہ نشینوں میں تھا ، اس سے گہرے تعلق رکھتا تھا ۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ملھم میں ضمیر فرعون کی طرف عائد ہے اور بطور اس کے تابعداری کرنے والوں کی زیادتی کے ضمیر جمع کی لائی گئی ہے ۔ یا یہ کہ فرعون سے پہلے لفظ ال جو مضاف تھا محذوف کر دیا گیا ہے ۔ اور مضاف الیہ اس کے قائم مقام رکھ دیا ہے ۔ ان کا قول بھی بہت دور کا ہے ۔ گو امام ابن جریر نے بعض نحویوں سے بھی ان دونوں اقوال کی حکایت کی ہے اور اس سے اگلی آیت جو آ رہی ہے وہ بھی دلالت کرتی ہے کہ بنی اسرائیل سب مومن تھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

83۔ 1 قومہ کے " ہ " ضمیر کے مرجع میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے اس کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے۔ کیونکہ آیت میں ضمیر سے پہلے انہی کا ذکر ہے یعنی فرعون کی قوم میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے، ان کی دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ تو ایک رسول اور نجات دہندہ کے انتظار میں تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں انھیں مل گئے اور اس اعتبار سے سارے بنی اسرائیل (سوائے قارون کے) ان پر ایمان رکھتے تھے۔ اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ (ذُ رِیَّۃُ مِنْ قَوْمِہٖ ) سے مراد، فرعون کی قوم سے تھوڑے سے لوگ ہیں، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ انھیں میں سے اس کی بیوی (حضرت آسیہ) بھی ہیں۔ 83۔ 2 قرآن کریم کی یہ صراحت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ایمان لانے والے تھوڑے سے لوگ فرعون کی قوم میں سے تھے، کیونکہ انہی کو فرعون اس کے درباریوں اور حکام سے تکلیف پہنچانے کا ڈر تھا۔ بنی اسرئیل، ویسے تو فرعون کی غلامی و محکومی کی ذلت ایک عرصے سے برداشت کر رہے تھے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا، نہ انھیں اس وجہ سے مزید تکالیف کا اندیشہ تھا۔ 83۔ 3 اور ایمان لانے والے اس کے اسی ظلم و ستم کی عادت سے خوف زدہ تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٤] ذریت کے معنی نوجوان جرأ تمند نسل :۔ لفظ ذریت کا لغوی معنی اولاد ہے اور یہاں ذریت سے مراد بنی اسرائیل کی نوجوان نسل ہے ان نوجوانوں میں سے بھی چند آدمیوں نے ہمت کرکے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کردیا ورنہ بڑے بوڑھے لوگ تو فرعون کی چیرہ دستیوں سے اس قدر خائف تھے کہ دل سے ایمان لانے کے باوجود اپنے ایمان کا اظہار کرنے میں اپنی موت سمجھتے تھے۔ طویل مدت کی غلامی، بڑھاپے کی کمزوری اور فرعون کے مظالم نے انھیں اتنا پست ہمت بنادیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بنی اسرائیل کے یہ چند نوجوان ہی اتنے دلیر ثابت ہوئے کہ انہوں نے پیش آنے والے مصائب و مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا تہیہ کرلیا اور اپنے ایمان کا برملا اعلان کردیا۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ تقویت حاصل ہوگئی اور آپ نے ان نومسلموں کی تربیت شروع کردی اور سمجھایا کہ اب تمہیں نہایت ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ میرا ساتھ دینا ہوگا اور اگر تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے اور اسی پر بھروسہ کیا تو فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔ موسیٰ کے اس دور کے حالات اور آپ کے حالات کی مماثلت & نوجوان صحابہ اور ان کی عمریں :۔ بالکل ایسی صورت حال مکہ میں بھی پیش آئی تھی۔ آپ پر جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں اکثر نوجوان طبقہ ہی تھا۔ مثلاً سیدنا علی (رض) ، جعفر طیار (رض) ، زبیر بن عوام (رض) (رض) ، سیدنا طلحہ (رض) ، سعد بن ابی وقاص (رض) ، عبداللہ بن مسعود (رض) وغیرہم، یہ سب قبول اسلام کے وقت بیس سال سے کم عمر کے تھے۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) ، بلال بن رباح (رض) اور صہیب (رض) کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان تھیں۔ لے دے کردو صحابہ کو ہی بڑا کہا جاسکتا ہے ایک سیدنا ابوبکر (رض) ، آپ سے دو سال چھوٹے یعنی ٣٨ سال کے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر (رض) آپ کے ہم عمر تھے۔ بالفاظ دیگر ان (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ١٠٠۔ ) 9 ۔ التوبہ :100) میں سے بوڑھا کوئی بھی نہ تھا۔ ابتدائی مراحل میں حق کا ساتھ دینے اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہوجانے کے لیے نوجوان خون اور ان کی جرأت ہی کام آتی ہے۔ بوڑھوں کی مصلحت کوشیاں کام نہیں آتیں الاماشاء اللہ۔ [٩٥] یعنی ایسے لوگ جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ استعمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور ان کے لیے کوئی قانونی یا اخلاقی حد ایسی نہیں ہوتی جہاں جاکر وہ رک جائیں۔ فرعون ایسا ہی سرکش، متکبر اور جابر و قاہر قسم کا انسان تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ ۔۔ : اتنے واضح معجزات دیکھنے اور جادوگروں کی شکست اور ان کے ایمان لانے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) پر اس کی قوم کے چند لڑکوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ یہاں ” اس کی قوم “ سے کس کی قوم مراد ہے ؟ ابن جریر طبری (رض) کی رائے یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی قوم بنی اسرائیل کے چند لڑکے لڑکیوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا، وہ بھی فرعون اور اپنے یعنی بنی اسرائیل کے سرداروں کے خوف کے ہوتے ہوئے جو فرعون کے ایجنٹ تھے کہ وہ انھیں ایمان سے ہٹانے کے لیے آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈالیں گے۔ اس تفسیر کا نتیجہ تو یہی ہے کہ فرعون کی قوم میں سے جادوگروں کے سوا اور بنی اسرائیل میں سے چند لڑکوں کے سوا ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔ فرعون کی پوری قوم اور بنی اسرائیل کے تمام بڑی عمر کے لوگ ایمان سے محروم اور فرعون کے دین پر رہے۔ ابن جریر اور ان کے ہم خیال حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی دور کی ہے، بعد میں تو قارون کے سوا سب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے۔ ” مَلَائِھِم “ (ان کے سرداروں) میں ” ھُمْ “ ضمیر جمع یا تو فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ مصری لوگ فرعون کے لیے بطور تعظیم جمع کی ضمیر استعمال کرتے تھے، یا اس سے مراد بنی اسرائیل کے سردار ہیں، یعنی بنی اسرائیل میں سے جو نوجوان ایمان لائے انھیں ایک طرف فرعون کا ڈر تھا اور دوسری طرف خود اپنے سرداروں کا۔ لیکن حافظ ابن کثیر (رض) نے آیت کے اس مطلب کی سخت تردید کی ہے، ان کی ترجیح میں ” ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ “ میں ” ہٖ “ ضمیر فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ بنی اسرائیل تو پہلے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کے منتظر تھے اور ان کے تشریف لانے پر سب کے سب ایمان لے لائے اور اس کی تائید اگلی آیت بھی کر رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کے تمام بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے، البتہ فرعون کی قوم قبطیوں میں سے چند نوجوان ہی ایسے نکلے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور آیت کا ترجمہ یوں ہوگا : ” پھر موسیٰ پر اس (فرعون) کی قوم قبطیوں میں سے صرف چند نوجوان ہی ایمان لائے اور وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرے کہ کہیں وہ فرعون انھیں آزمائش میں نہ ڈالے۔ “ یہ ترجمہ زیادہ واضح ہے اور علمائے تحقیق نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) اگر غور کیا جائے تو بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے سے پہلے بھی اپنی تمام خرابیوں کے باوجود مسلمان ہونا اور پیغمبروں کی اولاد ہونے پر فخر کرنا معلوم ہے، ورنہ اگر وہ فرعون کا دین قبول کرلیتے اور آزادی کا مطالبہ نہ کرتے تو فرعون کو ان کے لڑکوں کو قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک قبطی کو قتل کرنے کا واقعہ بھی اپنی قوم کے آدمی کی حمایت ہی کی وجہ سے پیش آیا۔ اس وقت بھی موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو اپنی جماعت اور قبطیوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور بنی اسرائیل بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق یہی سمجھتے تھے، تب ہی اس اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدد کے لیے پکارا، حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت تک نبوت عطا نہیں ہوئی تھی۔ اب اگر خدانخواستہ اہل کشمیر ہندو ہوجائیں یا فلسطینی یہودی ہوجائیں تو ہندوؤں اور یہودیوں کو ان پر ظلم و جبر کی کیا ضرورت ہے، مگر عقیدے اور عمل کی بیشمار خرابیوں کے باوجود ان کا مسلمان ہونا اور اس پر استقامت کفار کو کسی صورت برداشت نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر پس ( جب عصا کا معجزہ ظاہر ہوا تو) موسیٰ ( علیہ السلام) پر ( شروع شروع میں) ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ( ظاہر ہونے پر) ان کو تکلیف ( نہ) پہنچاوے اور واقع میں ( ڈرنا ان کا بےجا نہ تھا کیونکہ) فرعون اس ملک میں زور ( سلطنت) رکھتا تھا اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد ( انصاف) سے باہر ہوجاتا تھا ( ظلم کرنے لگتا تھا پھر جو شخص حکومت کے ساتھ ظلم کرتا ہو اس سے تو ڈر لگتا ہی ہے) اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے ( جب ان کو خائف دیکھا تو ان سے) فرمایا اے میری قوم اگر تم ( سچے دل سے) اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو ( سوچ بچار مت کرو بلکہ) اسی پر توکل کرو اگر تم ( اس کی) اطاعت کرنے والے ہو، انہوں نے ( جواب میں) عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ( بعد اس کے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ) اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کا تختہ مشق نہ بنا اور ہم کو اپنی رحمت کے صدقے ان کافروں سے نجات دے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰي خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہِمْ اَنْ يَّفْتِنَھُمْ۝ ٠ ۭ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْاَرْضِ۝ ٠ ۚ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ۝ ٨٣ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ علا العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعُلْوِيُّ والسُّفْليُّ المنسوب إليهما، والعُلُوُّ : الارتفاعُ ، وقد عَلَا يَعْلُو عُلُوّاً وهو عَالٍ وعَلِيَ يَعْلَى عَلَاءً فهو عَلِيٌّ فَعَلَا بالفتح في الأمكنة والأجسام أكثر . قال تعالی: عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] وقیل : إنّ ( عَلَا) يقال في المحمود والمذموم، و ( عَلِيَ ) لا يقال إلّا في المحمود، قال : إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4] ، فقوله : ( علوّا) ليس بمصدر تعالی. كما أنّ قوله ( نباتا) في قوله : أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَباتاً [ نوح/ 17] ، و ( تبتیلا) في قوله : وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا [ المزمل/ 8] ، كذلك ( ع ل و ) العلو کسی چیز کا بلند ترین حصہ یہ سفل کی ضد ہے ان کی طرف نسبت کے وقت علوی اسفلی کہا جاتا ہے اور العوا بلند ہونا عال صفت فاعلی بلند علی علی مگر علا ( فعل ) کا استعمال زیادہ تر کسی جگہ کے یا جسم کے بلند ہونے پر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] ان کے بدنوں پر دیبا کے کپڑے ہوں گے ۔ بعض نے علا اور علی میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ علان ( ن ) محمود اور مذموم دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے لیکن علی ( س ) صرف مستحن معنوں میں بولا جاتا ہے : ۔ قرآن میں ہے : ۔إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4] فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا ۔ لَعالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ [يونس/ 83] اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور ( کبر وکفر میں ) حد سے بڑہا ہوا تھا فَاسْتَكْبَرُوا وَكانُوا قَوْماً عالِينَ [ المؤمنون/ 46] ، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سر کش لوگ تھے ۔ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ [ ص/ 75] کیا تو غرور میں آگیا اور نچے درجے والوں میں تھا۔ لا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 83] جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارداہ نہیں رکھتے ۔ وَلَعَلا بَعْضُهُمْ عَلى بَعْضٍ [ المؤمنون/ 91] اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا ۔ اور مجھ سے سر کشی نہ کرو ۔ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيراً [ الإسراء/ 4 اور بڑی سر کشی کرو گے ۔ وَاسْتَيْقَنَتْها أَنْفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوًّا [ النمل/ 14] اور بےانصابی اور غرور سے ( ان کا انکار کیا) کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سرف السَّرَفُ : تجاوز الحدّ في كلّ فعل يفعله الإنسان، وإن کان ذلک في الإنفاق أشهر . قال تعالی: وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] ، وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] ، ويقال تارة اعتبارا بالقدر، وتارة بالکيفيّة، ولهذا قال سفیان : ( ما أنفقت في غير طاعة اللہ فهو سَرَفٌ ، وإن کان قلیلا) قال اللہ تعالی: وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] ، وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] ، أي : المتجاوزین الحدّ في أمورهم، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] ، وسمّي قوم لوط مسرفین من حيث إنهم تعدّوا في وضع البذر في الحرث المخصوص له المعنيّ بقوله : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] ، وقوله : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ، فتناول الإسراف في المال، وفي غيره . وقوله في القصاص : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] ، فسرفه أن يقتل غير قاتله، إمّا بالعدول عنه إلى من هو أشرف منه، أو بتجاوز قتل القاتل إلى غيره حسبما کانت الجاهلية تفعله، وقولهم : مررت بکم فَسَرِفْتُكُمْ أي : جهلتكم، من هذا، وذاک أنه تجاوز ما لم يكن حقّه أن يتجاوز فجهل، فلذلک فسّر به، والسُّرْفَةُ : دویبّة تأكل الورق، وسمّي بذلک لتصوّر معنی الإسراف منه، يقال : سُرِفَتِ الشجرةُ فهي مسروفة . ( س ر ف ) السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں مگر عام طور پر استعمال اتفاق یعنی خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرجانے پر ہوتا پے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بیچا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں ۔ وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے ( یعنی بڑی ہو کہ تم سے اپنا کا مال واپس لے لیں گے ) اسے فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا ۔ اور یہ یعنی بےجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولاجاتا ہے چناچہ حضرت سفیان ( ثوری ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی میں ایک حبہ بھی صرف کیا جائے تو وہ اسراف میں داخل ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] اور بےجانہ اڑان کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں ۔ یعنی جو اپنے امور میں احد اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جا حد سے نکل جانے والا ( اور ) جھوٹا ہے ۔ اور قوم لوط (علیہ السلام) کو بھی مسرفین ( حد سے تجاوز کرنے والے ) کیا گیا ۔ کیونکہ وہ بھی خلاف فطرف فعل کا ارتکاب کرکے جائز حدود سے تجاوز کرتے تھے اور عورت جسے آیت : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ۔ میں حرث قرار دیا گیا ہے ۔ میں بیچ بونے کی بجائے اسے بےمحل ضائع کر ہے تھے اور آیت : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ( اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہدد کہ ) اے میرے بندو جہنوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی میں اسرفوا کا لفظ مال وغیرہ ہر قسم کے اسراف کو شامل ہے اور قصاص کے متعلق آیت : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] تو اس کا چاہئے کہ قتل ( کے قصاص ) میں زیادتی نہ کرے ۔ میں اسراف فی القتل یہ ہے کہ غیر قاتل کو قتل کرے اس کی دو صورتیں ہی ۔ مقتول سے بڑھ کر باشرف آدمی کو قتل کرنے کی کوشش کرے ۔ یا قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کرے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا ۔ عام محاورہ ہے ۔ کہ تمہارے پاس سے بیخبر ی میں گزر گیا ۔ تو یہاں سرفت بمعنی جھلت کے ہے یعنی اس نے بیخبر ی میں اس حد سے تجاوز کیا جس سے اسے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا اور یہی معنی جہالت کے ہیں ۔ السرفتہ ایک چھوٹا سا کیڑا جو درخت کے پتے کھا جاتا ہے ۔ اس میں اسراف کو تصور کر کے اسے سرفتہ کہا جاتا ہے پھر اس سے اشتقاق کر کے کہا جاتا ہے ۔ سرفت الشجرۃ درخت کرم خور دہ ہوگیا ۔ اور ایسے درخت کو سرقتہ ( کرم خوردہ ) کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٣) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس چیز کو لے کر آئے تھے، اس پر فرعون کی قوم میں تھوڑے آدمی جن کے آباء و اجداد قبطی اور ان کی مائیں بنی اسرائیل سے تھیں، موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے، وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرے رہے کہ کہیں ان کو قتل نہ کردے اور واقعی فرعون دین موسوی کا سخت مخالف اور مشرکوں کا دوست اور ساتھی تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ ) اس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی ‘ جسے قرآن نے ” آل فرعون “ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پر ہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگ فرعون کے ایجنٹ بن چکے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال قارون کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر فرعون کا درباری اور اس کا ایجنٹ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا (اس کا تفصیلی ذکر سورة القصص میں ہے) ۔ بہر حال بنی اسرائیل کے عام لوگ ایسے مخبروں کے ڈر سے حضرت موسیٰ کے قریب ہونے سے گریز کرتے تھے۔ نوجوان چونکہ با ہمت اور پر جوش ہوتے ہیں ‘ اس لیے وہ اس طرح کی انقلابی آواز پر لبیک کہنے کا خطرہ مول لے لیتے ہیں ‘ جبکہ اسی قوم کے ادھیڑ عمر لوگ کم ہمتی اور مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ پورا فلسفہ اس آیت میں موجود ہے۔ ان آیات کے نزول کے وقت اہل مکہ میں سے بھی محمد رسول اللہ کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے وہ چند باہمت نوجوان ہی تھے ‘ نہ کہ مصلحت کوش بوڑھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

78. The word dhurriyah used in this verse literally means 'offspring'. We have, however, rendered this into English as 'a few youths'. We have preferred this translation because the Qur'an employed this particular expression so as to convey the idea that it was a few youths - male and female - who had the courage of their convictions to embrace and champion the truth in those perilous times whereas their parents and the more elderly members of the community were unable to do so. The older segment of the population was too deeply concerned with its materialistic interests, too engrossed in worldliness and too eager to enjoy a life of security to stand by the truth when that seemed to invite all kinds of peril. On the contrary, this older generation tried to persuade the young ones to stay away from Moses for the simple reason that it would invite the wrath of Pharaoh upon themselves and upon others. The Qur'an underscores this point, for once again those who came forward and courageously supported the Prophet (peace be on him) were not the elderly. They were rather a few courageous Makkan youths. Those who embraced Islam at this very early period in its history - the period of revelation of these verses - and who supported the message of truth despite fierce persecution, were all young people. This group was altogether bereft of the aged doters of a life free of peril and hazard. 'Ali ibn abi Talib, Ja'far ibn al-'Aqil, Zubayr, Talhah, Sa'd ibn abi Waqqas, Mus'ab ibn 'Umayr, 'Abd Allah ibn Mas'ud were all young people and each one of them, at the time of embracing Islam, was under twenty. Likewise, 'Abd al-Rahman ibn 'Awf, Bilal and Suhayb were all in their twenties while Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah, Zayd ibn Harithah, 'Uthman ibn 'Affan and 'Umar ibn al-Khattab were between thirty and thirty-five years of age. The oldest among these Companions was Abu Bakr. and when he embraced Islam he too was no older than thirty-eight. 'Ammar ibn Yasir was the same age as the Prophet (peace be on him), and only one Companion, 'Ubaydah ibn Harith al-Muttalibi was older than he. 79. The words which occur in the present verse have given rise to the misunderstanding that all the Israelites were unbelievers, and that in the early phases of Moses' 'prophethood' only a very few persons were believers. The use of the preposition when applied to signifies 'to obey and follow someone'. What these words, therefore, mean is that except for a few young people none in the whole nation of Israel was prepared to accept Moses as his leader, to follow him and support him in his Islamic mission. The part of the verse which follows makes it quite clear that this was not because they had any doubts about the veracity of Moses (peace be on him) or about the truth of his mission. The only reason for them not joining hands with him was that they - especially their elders and nobles - were unwilling to risk Pharaoh's fierce persecution. These people both in terms of pedigree and faith, belonged to the ummah of Abraham, Isaac, Jacob and Joseph (peace be on them) and were, therefore, Muslims. Yet the long subjugation of the Israelites had created such moral degeneration and faint-heartedness among them that they had been rendered altogether incapable of championing the cause of faith and truth or of opposing falsehood and unbelief, or even supporting those who had set out to champion that cause. The overall attitude of the Israelites during the whole of this conflict between Moses and Pharaoh may be gauged by the following statement in the Bible: They met Moses and Aaron, who were waiting for them, as they came forth from Pharaoh; and they said to them, 'The Lord look upon you and judge, because you have made us offensive in the sight of Pharaoh and his servants, and have put a sword in their hand to kill us' (Exodus 5: 20-1). According to the Talmud, the Israelites used to tell the Prophets Moses and Aaron (peace be on them): 'Yea', said the overburdened children of Israel to Moses and Aaron, 'we are like a lamb which the wolf has carried from its flock, the shepherd strives to take it from him, but between the two the lamb is pulled to pieces; between ye and Pharaoh will we all be killed' (H. Polano, The Talmud Selections, p. 152). The Qur'an also refers to much the same when it mentions what the Israelites said to Prophet Moses (peace he on him): We were oppressed before your coming to us and after it (al-A'raf 7: 129). 80. The word which has been used here signifies transgressors, those who exceed the limits. But this literal translation hardly conveys the true spirit of the wored. For it has been used to refer to those who, in order to achieve their objectives, are not deterred from using any means, howsoever evil they may be. Such people do not mind committing injustice, or indulging in acts of moral turpitude. They are also wont to go to any extent in pursuing their desires. Once they have something in mind, they simply know no bounds.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :78 متن میں لفظ ذُرِّیَّۃٌ استعمال ہوا ہے جس کے معنی اولاد کے ہیں ۔ ہم نے اس کا ترجمہ ” نوجوان “ کیا ہے ۔ مگر دراصل اس خاص لفظ کے استعمال سے جو بات قرآن مجید بیان کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اس پرخطر زمانے میں حق کا ساتھ دینے اور علمبردار حق کو اپنا رہنما تسلیم کرنے کی جرأت چند لڑکوں اور لڑکیوں نے تو کی مگر ماؤں اور باپوں اور قوم کے سن رسیدہ لوگوں کو اس کی توفیق نصیب نہ ہوئی ۔ ان پر مصلحت پرستی اور دنیوی اغراض کی بندگی اور عافیت کوشی کچھ اس طرح چھائی رہی کہ وہ ایسے حق کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوئے جس کا راستہ ان کو خطرات سے پر نظر آرہا تھا ، بلکہ وہ الٹے نوجوانوں ہی کو روکتے رہے کہ موسیٰ علیہما السلام کے قریب نہ جاؤ ، ورنہ تم خود بھی فرعون کے غضب میں مبتلا ہو گے اور ہم پر بھی آفت لاؤ گے ۔ یہ بات خاص طور پر قرآن نے نمایاں کر کے اس لیے پیش کی ہے کہ مکہ کی آبادی میں سےبھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھے تھے وہ قوم کے بڑے بوڑھے اور سن رسیدہ لوگ نہ تھے بلکہ چند باہمت نوجوان ہی تھے ۔ وہ ابتدائی مسلمان جو ان آیات کے نزول کی وقت ساری قوم کی شدید مخالفت کے مقابلے میں صداقت اسلامی کی حمایت کر رہے تھے اور ظلم و ستم کے اس طوفان میں جن کے سینے اسلام کے لیے سپر بنے ہوئے تھے ، ان میں مصلحت کش بوڑھا کوئی نہ تھا ۔ سب کے سب جوان لوگ ہی تھے ۔ علی ابن ابی طالب ، جعفر طیّار ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص ، مُصعَب بن عُمَیر ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم جیسے لوگ قبول اسلام کے وقت ۲۰ سال سے کم عمر کے تھے ۔ عبد الرحمٰن بن عوف ، بلال ، صُہَیب رضی اللہ عنہم کی عمریں ۲۰ سے ۳۰ سال کے درمیان تھیں ۔ ابو عبیدہ بن الجراح ، زید بن حارثہ ، عثمان بن عفان اور عمر فاروق رضی اللہ عنہم ۳۰ سے ۳۵ سال کے درمیان عمر کے تھے ۔ ان سے زیادہ سن رسیدہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور ان کی عمر بھی ایمان لانے کے وقت ۳۸ سال سے زیادہ نہ تھی ۔ ابتدائی مسلمانوں میں صرف ایک صحابی کا نام ہمیں ملتا ہے جن کی عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھی ، یعنی حضرت عبیدہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ مُطَّلبی ۔ اور غالبا پورے گروہ میں ا یک ہی صحابی حضور کے ہم عمر تھے ، یعنی عَمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :79 متن میں فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسیٰ کے الفاظ ہیں ۔ اس سے بعض لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید بنی اسرائیل سب کے سب کافر تھے اور ابتداء میں ان میں سے صرف چند آدمی ایمان لائے ۔ لیکن ایمان کے ساتھ جب لام کا صلہ آتا ہے تو وہ بالعموم اطاعت و انقیاد کے معنی دیتا ہے ، یعنی کسی کی بات ماننے اور اس کے کہے پر چلنا ۔ پس دراصل ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ چند نوجوانوں کو چھوڑ کر بنی اسرائیل کی پوری قوم میں سے کوئی بھی اس بات پر آمادہ نہ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا رہبر و پیشوا مان کر ان کی پیروی اختیار کر لیتا اور اس دعوت اسلامی کے کام میں ان کا ساتھ دیتا ۔ پھر بعد کے فقرے نے اس بات کو واضح کر دیا کہ ان کے اس طرز عمل کی اصل وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صادق اور ان کی دعوت کے حق ہونے میں کوئی شک تھا ، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اور خصوصًا ان کے اکابر و اشراف ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دے کر اپنے آپ کو فرعون کی سخت گیری کے خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ یہ لوگ نسل اور مذہبی دونوں حیثیتوں سے ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب اور یوسف علیہم السلام کے امتی تھے اور اس بنا پر ظاہر ہے کہ سب مسلمان تھے ، لیکن ایک مدت دراز کے اخلاقی انحطاط نے اور اس پست ہمتی نے جو زیردستی سے پیدا ہوئی تھی ، ان میں اتنا بل بوتا باقی نہ چھوڑا تھا کہ کفر و ضلالت کی فرمانروائی کے مقابلہ میں ایمان و ہدایت کا علَم لے کر خود اٹھتے ، یا جو اٹھا تھا اس کا ساتھ دیتے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی اس کشمکش میں عام اسرائیلیوں کا طرز عمل کیا تھا ، اس کا اندازہ بائیبل کی اس عبارت سے ہو سکتا ہے: ” جب وہ فرعون کے پاس سے نکلے آرہے تھے تو ان کو موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام ملاقات کے لیے راستہ پر کھڑے ملے ۔ تب انہوں نے ان سے کہا کہ خداوند ہی دیکھے اور تمہارا انصاف کرے ، تم نے تو ہم کو فرعون اور اس کے خادموں کی نگاہ میں ایسا گھنونا کیا ہے کہ ہمارے قتل کے لیے ان کے ہاتھ میں تلوار دے دی ہے“ ۔ ( خروج ٦ : ۲۰ – ۲۱ ) تَلمُود میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے کہتے تھے: ”ہماری مثال تو ایسی ہے جیسے ایک بھیڑیے نے بکری کو پکڑا اور چرواہے نے آکر اس کو بچانے کی کوشش کی اور دونوں کی کشمکش میں بکری کے ٹکڑے ہو گئے ۔ بس اسی طرح تمہاری اور فرعون کی کھینچ تان میں ہمارا کام تمام ہو کر رہے گا “ ۔ انہی باتوں کی طرف سورہ اعراف میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اُوْ ذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْ تِیَنَا وَمِنْم بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ( آیت ۱۲ ) ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :80 متن میں لفظ مُسْرِفِیْنَ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا ۔ مگر اس لفظی ترجمے سے اس کی اصل روح نمایاں نہیں ہوتی ۔ مسرفین سے مراد دراصل وہ لوگ ہیں جو اپنے مطلب کے لیے کسی برے سے برے طریقے کو بھی اختیار کرنے میں تامل نہیں کرتے ۔ کسی ظلم اور کسی بداخلاقی اور کسی وحشت و بربریت کے ارتکاب سے نہیں چوکتے ۔ اپنی خواہشات کے پیچھے ہر انتہا تک جا سکتے ہیں ۔ ان کے لیے کوئی حد نہیں جس پر جا کر وہ رک جائیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

33: شروع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بنو اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لائے تھے۔ اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے، اور فرعون کے سرداروں کو ان نوجوانوں کا سردار اس لیے کہا گیا ہے کہ عملاً وہ ان کے حاکم تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٣۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کا بھی رنج رہتا تھا کہ نبی ہونے کے بعد تیرہ برس آپ مکہ میں رہے اور صرف کچھ کم سو آدمی مسلمان ہوئے آپ چاہتے تھے کہ اسلام جلدی جلدی زور پکڑے اور جھٹ پٹ مسلمانوں کی ایک بڑی سی جماعت قائم ہوجاوے اللہ تعالیٰ نے اس قصہ سے آپ کی تسکین فرمائی کہ یہ کچھ رنج کرنے کی بات نہیں ہے منکروں کے دل بڑی مشکل سے پھرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ایسا بڑا معجزہ قبطیوں نے دیکھا کہ جادوگر سب ہار گئے مگر قبطیوں میں سے چند ہی آدمی مسلمان ہوئے اگرچہ بعضے مفسروں نے آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے اور حافظ ابو جعفر ابن جریر (رض) نے اپنی تفسیر میں ان ہی معنوں کو ترجیح دی ہے لیکن حافظ ابن کثیر کے نزدیک صحیح معنے یہی ہیں کہ آیت میں اس کی قوم سے فرعون کی قوم قبطی لوگ مراد ہیں۔ ١ ؎ قوم موسیٰ (علیہ السلام) مراد نہیں ہے کیونکہ بنی اسرائیل تو سوا قارون اور چند لڑکوں کے اور سب مسلمان ہوگئے تھے پھر یہ بات کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے چند ہی شخص ایمان لائے جس طرح اس آیت سے آگے کی آیت میں توکل کا ذکر ہے اسی طرح قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عبادت کے ساتھ توکل کا اکثر ذکر فرمایا ہے جیسے { ان کنتم امنتم باللّٰہ فعلیہ توکلوا (١٠: ٨٤} اور { ھوالرحمن امنا بہ وعلیہ توکلنا (٦٥: ٢٩} اور { ہو توکل علیہ (١٢: ٢٣} اور { ایاک نعبد وایاک نستعین } ابن ماجہ میں عمرو بن العاص (رض) کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ آدمی کے دل میں طرح طرح کے خیال سمائے رہتے ہیں جو اللہ پر توکل کرے وہ سب خیال پر غالب آسکتا ہے اور جو توکل نہ کرے گا معلوم نہیں کون سا خیال اس کو ڈبو دے گا ٢ ؎ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن آیت { ومن یتوکل علی اللّٰہ فھو حسبہ (٦٥: ٣)} سے اس حدیث کی پوری تائید ہوتی ہے حاصل معنے حدیث کے یہ ہوئے کہ جب تک میں اللہ پر بھروسہ نہیں دل گویا ڈاواں ڈول ہے اور ڈاواں ڈول حالت کو ایمان اور عبادت کا کیا ٹھکانا ہے کیونکہ ڈاواں ڈول حالت کے ایمان والا شخص اعتقادی منافق ہے ڈاواں ڈول حالت کی عبادت والا شخص عملی منافق ہے۔ اعتقادی منافق وہ ہے جس کا اعتقاد احکام شرع پر پورا نہ ہو اور عملی منافق وہ ہے جس کے عمل احکام شرع کے موافق نہ ہوں غرض اس ڈاواں ڈول حالت کو رفع فرمانے کی غرض سے نصیحت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عبادت کے ساتھ جگہ جگہ توکل کا ذکر فرمایا ہے کہ ایمان اور عبادت خالص ہو اسی واسطے اہل توکل کا درجہ بھی بڑا ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن صاحب توکل لوگ ستر ہزار میری امت میں سے بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے یہ درجہ جس کو اللہ دیوے اس کو ملتا ہے چناچہ جس روز آپ نے یہ حدیث بلا حساب جنت میں داخل ہونے کی فرمائی اس روز ایک صحابی عکاشہ بن محصن (رض) نے کہا کہ حضرت میرے واسطے دعا کیجئے کہ اللہ مجھ کو ان میں سے کردیوے آپ نے دعا فرمائی پھر ایک صحابی سعد بن عمارہ (رض) نے کہا حضرت میرے لئے بھی دعا کیجئے آپ نے فرمایا اب تو عکاشہ بازی لے جا چکا۔ ٣ ؎ توکل کے معنے کسی پر بھروسہ رکھنے کے ہیں عبادت کے وقت اللہ پر بھروسہ رکھنے کا یہ مطلب ہے کہ آدمی عبادت کے وقت اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور اس عبادت کے ثواب کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھ کر عبادت کرے۔ عقبیٰ کے ثواب اور دنیا کے دکھاوے دونوں کو دل میں رکھ کر ڈاواں ڈول نہ ہو کہ ایسی عبادت رائیگاں ہے چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر (رض) کی حدیث ایک جگہ گزرچکی کہ آدمی عبادت کرتے وقت یہ خیال کرے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ میسر نہ آوے تو یہ خیال رفع تکلیف کرے بھی تو رفع تکلیف کا اصل بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھے ٣ ؎ جیسا کہ صحیح مسلم میں جابر (رض) کی حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر مرض کی دوا ہے مگر دوا میں شفا کی تاثیر کا دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لمن المسرفین کے ترجمہ میں شاہ صاحب نے یہ جو لکھا ہے کہ اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون لوگوں پر طرح طرح کی دست درازی کرتا تھا چناچہ اس کو جب اپنی بی بی آسیہ کے اسلام کا حال معلوم ہوگیا تو اس نے چار میخیں زمین میں گاڑ کر آسیہ کے ہاتھ پاؤں ان میخوں سے باندھ دئیے اور طرح طرح سے مار پیٹ کی۔ ٤ ؎ جس کا ذکر معتبر سند سے بیہقی اور مسند ابو یعلی میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ہے۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ١١٧ ج ١ باب الدلیل علے دخول طوائف من المسلمین الجنۃ الخ۔ ٢ ؎ صحیح مسلم ص ٢٥ ج ١ کتاب الایمان۔ ٣ ؎ مشکوٰۃ ص ٣٨٧ کتاب الطب۔ ٤ ؎ تفسیر فتح البیان ص ٦٠٨ ج ٤ تفسیر سورة تحریم۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

فما امن۔ ما نافیہ ہے اور امن۔ ایمان سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ذریۃ۔ الذریۃ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں۔ مگر عرف عام میں مطلق اولاد پر یہ لفاظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ کس مادہ سے مشتق ہے اس میں علمائے لغت کا اختلاف ہے۔ ذرر۔ ذرء ۔ ذرو اس کے مصادر بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں ذریۃ سے مراد چھوٹی اولاد (نوجوان) لیا گیا ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔ بالکل چھوٹے بچوں کا ایمان لانا نہ لانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیونکہ وہ اتنا شعور ہی نہیں رکھتے ۔ نوجوان اس لئے یہاں مراد لیا گیا ہے کہ ان کے اس فعل سے جو دوسری جانب سے ظلم و ستم و عذاب و عتاب کا طوفان اٹھ کھڑا ہونے کا ڈر تھا اس کا مقابلہ جو ان خون ہی کرسکتا ہے بوڑھے اس کی تاب نہیں لاسکتے۔ اور اس کی مثال رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی سے بھی ملتی ہے کہ آپ کی دعوت حق پر پہلے پہل جو اصحاب ایمان لائے تھے وہ سب نوجوان ہی تھے۔ حضرت علی بن ابی طالب، حضرت جعفر طیار، حضرت زبیر ، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) یہ تمام حضرات قبول اسلام کے وقت 20 سال سے کم عمر کے تھے۔ ابتدائی مسلمانون میں صرف حضرت عبیدہ بن حارث ہی ایسے تھے جو کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ عمر کے تھے۔ اس لئے یہاں ذریۃ سے مراد نوجوان لینا ہی صحیح ہے۔ قومہ۔ میں ہ ضمیر کا مرجع کون ہے اس کے متعلق بھی مختلف اقوال ہیں۔ (1) بعض کہتے ہیں کہ اس کا مرجع فرعون ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل تو ساری کی ساری ان پر ایمان لاچکی تھی اور ان کی نبوت و رسالت کو مانتی تھی اس لئے چند نوجوانوں کا ایمان لانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔ البتہ فرمعون کی قوم سے چند اشخاص نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا ۔ مثلاً حضرت بی بی آسیہ (فرعون کی بیوی) فرعون کا خزانچی۔ اس کی بیوی اور چند جادوگر جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے تھے۔ لیکن اگر قرآن کریم کے الفاظ پر غور کیا جائے تو ان کا یہ استدلال چنداں وزنی نہیں ہے۔ علماء ادب کی تحقیق کے مطابق اگر امن کا صلہ ب ہو تو اس کے معنی کسی پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ہوتا ہے ۔ اور اگر اس کا صلہ ل ہو تو پھر اس کا معنی اطاعت وانقیاد کے ہوتے ہیں یعنی کسی کی بات ماننا اور اس کے کہے پر چلنا اور عمل کرنا۔ یہاں امن کا صلہ ب نہیں ہے کہ نبی اسرائیل کی اکثریت کا کفر ثابت ہو بلکہ امن ل استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کو مانتے تھے لیکن اس معرکہ حق و باطل میں آپ کا ساتھ دے کر فرعون اور اس کی قوم کے ظلم و ستم کا سامنا کرنا نہیں چاہتے تھے۔ (2) دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس کا مرجع موسیٰ ہے اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکی اور دوسری یہ کہ ضمیر ہمیشہ قریب تر کی طرف راجع ہوتی ہے اور یہاں قریب تر موسیٰ کا لفظ ہے نہ کہ فرعون کا۔ ملائھم۔ ان کے سرداران۔ ان کے سرداروں کی جماعت۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس میں ہم ضمیر کا مرجع کون ہے اس کی تین صورتیں ہیں۔ (1) ہم کا مرجع ذریۃ ہے اور یہاں مراد خود نبی اسرائیل کے وہ نوجوان ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں کھلم کھلا آگے آگئے تھے وہ اپنے سرداران یعنی بڑے بوڑھوں سے ڈرتے تھے کیونکہ اگرچہ ان کے بوڑھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے تھے لیکن کھل کر سامنے آنے سے فرعون کے ظلم و عتاب سے بچنے کے لئے گریز کرتے تھے۔ اور انہیں یہ خدشہ تھا کہ ان کے نوجوانوں کی دیدہ دلیری سے کہیں ساری قوم مورد عتاب نہ ہوجائے اس لئے وہ اپنے نوجوانوں کے اس اقدام پر خوش نہ تھے اور ان کو سختی سے روکتے تھے۔ (2) اس کا مرجع فرعون ہے اور فرعون کے لئے ضمیر جمع لانے کی وجوہات ہیں۔ (ا) فرعون کے لئے جمع کی ضمیر اس کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ (ب) فرعون سے مراد آل فرعون ہے جیسے ربیعہ اور مضر قبیلے کے افراد اپنے سرداروں کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہاں ہم سے مراد آل فرعون ہے۔ یفتنھم۔ مضارع واحد مذکر غائب فتن سے ان کے عمل کی وجہ سے منصوب ہے ہم ضمیر مفعول ۔ الفتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوسکے۔ اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) اس دن جب ان کو آگ میں الٹا سیدھا کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق نفس عذاب پر بھی ہوا ہے۔ جیسے ذوقوا فتنتکم (51:14) اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یعنی عذاب کا مزہ چکھو۔ یہ لفظ قرآن میں متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ آزمائش، مصیبت، فساد، تختہ مشق، عبرت وغیرہ۔ ان یفتنھم۔ میں یفتن صیغہ واحد مذکر غائب استعمال ہوا ہے۔ اس کا فاعل یا تو (1) فرعون ہے اور صیغہ جمع اس لئے نہیں لایا گیا کہ سرداران فرعون بھی اس کے تابع امر تھے (خازن) یا (2) فرعون وملائہم ہے جیسا کہ عبد اللہ یوسف علی نے اپنے ترجمہ میں استعمال کیا ہے کہ وہ انہیں کسی عذاب میں مبتلا نہ کردیں۔ عال۔ سرکش، متکبر، غالب۔ علو سے صیغہ اسم فاعل واحد مذکر۔ عال اصل میں عالو تھا۔ واؤ پہلے ی ہوا ۔ پھر گرگیا۔ کیونکہ جو واؤ اسم فاعل میں کلمہ کے آخر میں ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو وہ ہی ہوکر گرپڑتا ہے۔ مسرفین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اسراف مصدر۔ حد اعتدال سے یاحدّ مقرر سے بڑھنے والے بیجا صرف کرنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ اکثر مفسرین (رح) نے آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے اور ابن جریر نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے ان حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی دور کی ہے۔ بعد میں تو قارون کیس وا سب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے۔ ” ملئھم “ میں ھم کی ضمیر جمع ہے۔ اس کا مرجع یا تع فرعون ہے (جیسا کہ ترجمہ میں ہے) کیونکہ مصری لوگ فرعون کے لئے بطور تعظیم جمع کی ضمیر استعمال کرتے تھے یا اس کر مرجع بنی اسرائیل کے سردار ہیں۔ یعنی بنی اسرائیل ( علیہ السلام) میں سے جو نوجوان ایمان لائے انہیں ایک طرف فرعون کا ڈر تھا اور دوسری طرف خود اپنے سرداروں کا لیکن حافظ ابن کثیر نے آیات کے اس مطلب کی سخت تردید کی ہے۔ ان کی ترجیح میں ” ذریۃ من قومہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف نہیں بلکہ فرعون کی طرف راجع ہے کیونکہ بنی اسرائیل تو پہلے سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی آمد کے منتظر تھے اور ان کے تشریف لانے پر سب کے سب ایمان لے آئے ( اور اس کی تائید اگلی آیت بھی کر رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کے تمام بنی اسرائیل حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لاچکے تھے) البتہ فرعون کی قوم قبطیوں میں سے چند نوجوان ہی ایسے نکلے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ اور آیت کا ترجمہ یوں ہوگا ” پھر موسیٰ ( علیہ السلام) پر اس (فرعون کی قوم) قبطیوں میں سے صرف چند نوجوان ہی ایمان لائے اور وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرے کہ کہیں وہ (فرعون) نہیں آفت میں نہ ڈالے “ یہ ترجمہ زیادہ واضح ہے اور علمائے تحقیق نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر۔ روح المعانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٨٣ تا ٩٢ اسرار و معارف فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔ کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے مل کردعا کی کہ اے اللہ ! ہمیں ان ظالموں کے قابو میں آنے کی آزمائش سے محفوظ رکھ ! اور اپنی خاص رحمت سے نواز کہ یہ کافرقوم کبھی ہمیں ایذانہ دے سکے ان سے ہمیشہ کے لئے ہمارا پیچھا چھڑادے۔ معابد عبادت کرتی تھیں یہ نبی کریم علیہ التحیتہ والتسلیم ہی کی خصوصیت ہے کہ روئے زمین کو مسجد قرار دے دیا گیا ورنہ تمام امتوں کی عبادت صرف عبادت خانوں میں ہوتی تھی ۔ فرعون کہ یہ سوجھی کہ عبادت خانے منہدم کرادیئے جائیں تو اللہ کریم نے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) پر وحی بھیجی کہ کچھ گھر ایسے بنالئے جائیں جو قبلہ رخ ہوں اور مسجدکاکام دے سکیں اور ان مخصوص گھروں میں عبادت کی جائے ۔ یہی حال آجکل یورپ اور دوسرے کافرممالک کا ہے کہ وہاں خاص طرز کی مسجد بنانا ممکن نہیں تو کوئی گھر اگر اس غرض کے لئے مقررکردیاجائے جس میں عبادت قبلہ رخ ہوتودرست ہوگا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ پہلی امتوں میں بھی نماز میں قبلہ رخ ہونا ضروری تھا ۔ ایسے ہی وضو اور سترعورت غیرہ ثابت ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اگرچہ ساری زمین کو مسجد قراردیا گیا مگر فرائض کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے کا بہت بڑاثواب ہے اگرچہ سنت اور نفل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی گھر ادا فرماتے تھے ۔ لہٰذاحکم ہوا کہ ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے کہ دنیا میں اگر کوئی رکاوٹ ہو اور عبادت ایک خاص جگہ نہ کرسکیں تو جہاں کریں گے قبول ہوگی کوئی انھیں اللہ کی عبادت سے محروم نہیں کرسکتا اور آخرت میں کامیابی کی یہی ضمانت بھی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا فرعون کی ہٹ دھرمی سے ناامید ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) نے بددعا فرمائی کہ اللہ ! تو نے انھیں بیشمار نعمتیں دیں دولت دنیا بخشی مگر یہ بدبخت شکر کرنے کی بجائے اسی مال و دولت کے بل بوتے پر آپ کی مخلوق کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اے اللہ ! فرعون اور اس کے امرا کے مال تباہ تباہ کردے اور ان کے دلوں کو مزیدسخت کردے کہ جب تک عذاب سامنے نہ دیکھ لیں ، انھیں ایمان لانے کی توفیق ہی نہ ہو۔ یہ دراصل اس حال کا بیان ہے جو ان کے اعمال اور کردار کا یقینی نتیجہ تھا ، لہٰذا اگر اہل اللہ کی اطاعت نصیب نہ ہو تو ان کی مخالفت سے بچناضروری ہے ورنہ دل سخت ہو کر ایمان کی سعادت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ آپ دونوں کی دعاقبول ہوئی ۔ اگر ا ن بدبختوں نے میرے انبیاء ورسل اور میرے بندوں کو ٹھکرایا ہے تو میں انھیں اپنی بارگاہ سے ٹھکرا کر محروم کردیتا ہوں مگر آپ دونوں ثابت قدم رہیئے اور کسی طرح بھی اللہ کی اطاعت میں کمی یاتبدیلی نہ آنے پائے نہان جاہلوں کی کوئی رسم آپ کو متاثر کرسکے ۔ کفار سے مشابہت ممنوع ہے یہ انبیاء کو مخاطب کرکے امت کو سبق دیا جارہا ہے کہ فرعون تب ہی غرق ہوگا جب تم نے اسلام کی شناخت جداگانہ قائم رکھی اور اگر تم لوگوں نے بھی ان سے مرعوب ہو کر مسلمانی کے باوجود کفار کی بعض عادات اپنا نا شروع کردیں تو پھر وہ بھی تباہ نہ ہوں گے کہ آخرکن لوگوں کے مقابلے میں وہ تباہ ہون جو ان ہی جیسے بن رہے ہیں ۔ جیسے آج کا مسلمان لباس وضع قطع اور سومات تک میں انگریزوں ہندوؤں یہودیوں تک سے مشابہت رکھتا ہے تو اس کے مقابلے میں وہ بھی تباہ نہیں ہوتے ۔ یہی قانون ہے۔ چنانچہ نبی اسرائیل کو سمندر سے پارپہنچادیا اور فرعون اور اس کا لشکر جو بڑے غرور اور غضب سے پچھاکررہا تھا ۔ اسی سمندر میں غرق ہوگیا بلکہ موت سامنے دیکھ کر فرعون کی ساری اکڑفوں نکل گئی اور غوطے لگے اور موت کے فرشتے نظرآئے تو پکار اٹھا اسی الٰہ کو مانتا ہوں جس کو بنی اسرائیل نے مانا ہے میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کے بغیر کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں مسلمان ہوتا ہوں تو ارشاد ہوا اب مانتا ہے جب وقت نکل گیا اور جب ماننے کا وقت تھا تب نافرمانی کرتارہا ا ب جب موت سامنے ہے برزخ نظرآنے لگا عذاب روبرو ہیں تو ماننے کا کیا حاصل کہ جب موت کا عمل شروع ہوجائے تو دنیا کی حیات ختم ہوچکی نہ صرف ایمان معتبر ہے بلکہ کسی مومن کے منہ سے کوئی کلمہ کفر بھی نکل جائے تو معتبرنہ ہوگا اور اسے مومن ہی سمجھاجائے گا یہی بات ارشادات نبوی سے ثابت ہے کہ اللہ توبہ قبول فرماتے رہتے ہیں حتی کہ موت کا غرغرہ شروع ہوجائے چناچہ ارشاد ہوا کہ آج تیرے بدن کو سمندر سے نکال کر باہررکھیں گے کہ ثو اپنے سے آنے کے لئے بھی باعث عبرت بن جائے کہ اکثرلوگ اللہ کی قدرت اور اس کی نشانیوں سے غافل رہتے ہیں چناچہ اسی وقت سمندرنے اس کی لاش باہر پھینک دی کہ بنی اسرائیل بھی اس کی تباہی کا نظارہ کریں اور بعد میں وادی شاہاں سے اس کا بدن محفوظ صورت میں برآمدہواجو آج تک قاہرہ کے عجائب گھر میں درس عبرت بنا ہوا رکھا ہے جب فرعون کی لاش برآمدہوئی تو تحقیق کرنے والے سائنسدان بھی اگرچہ عیسائی تھے اور عیسائی پادریوں نے ان سے زور لگایا کہ یہ نہ کہاجائے کہ یہ وہ فرعون ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں غرق ہوا مگر انھوں نے کہا یہ ہماری مجبوری ہے ورنہ جو کوئی دوسرا تحقیق کرے گا کہہ دے گا کہ صرف اس فرعون کی کھال اور بدن میں سمندری نمکیات کا اثر ہے باقی کسی لاش میں پچھلے آنے والوں کے لئے عبرت کانشان بنی ہوئی ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حق ثابت ہونے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غالب آنے کے باوجود چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ملک کے نامی گرامی صاحب علم لاکھوں کے مجمع میں ہزاروں کی تعداد میں بیک وقت ایمان لے آئے، یاد رہے اس وقت مصر میں جادو ہی ترقی یافتہ علم سمجھا جاتا تھا۔ حق ثابت ہونے اور جادوگروں کے ایمان لانے کے باوجود فرعون کے جورو استبداد اور دبدبہ کی وجہ سے چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ فرعون بہت ظلم کرنے والا تھا۔ فرعون نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایک دفعہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا قتل عام شروع کیا۔ جس میں مردوں کو قتل کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ سورة المومن میں بیان ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس حق پہنچ چکا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کہ ایمانداروں کو قتل کیا جائے اور ان کی عورتوں کو باقی رکھا جائے اور فرعون نے اپنی قوم کو یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل بھی کرنا چاہتا ہوں وہ میرے مقابلے میں اپنے رب کو بلا لے اگر میں نے اسے قتل نہ کیا تو وہ تمہارا دین بدل دے گا اور ملک میں فساد برپا ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فقط اتنا فرمایا کہ میں ہر متکبر اور قیامت کے منکر سے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ( المومن : ٢٥۔ ٢٧) نازک اور پریشان کن حالات میں قوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگی اے موسیٰ آپ کی پیدائش کے وقت اور آپ کی نبوت کے بعد بھی ہمیں ان تکلیفوں کا سامنا ہے۔ حضرت موسیٰ نے انہیں سمجھایا کہ صبرو کرو۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، بالآخر زمین کے وارث نیک لوگ ہی ہوں گے عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو نیست و نابود کرکے تمہیں وارثبنائے گا پھر تمہیں دیکھے گا کہ تم کیا کردار ادا کرتے ہو۔ ( الاعراف : ١٢٨۔ ١٢٩) دین میں نوجوانوں کا کردار : اس میں شک نہیں کہ عمر اور تجربے کے اعتبار سے آدمی جوانی کی نسبت ادھیڑ عمر میں زیادہ پختہ فکر ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوچنے سمجھنے اور کسی موقف کو اختیار کرنے میں انسان بھرپور جوانی کے دور میں ہی صحیح فیصلہ کرسکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کی راہنمائی کا صحیح بندوبست ہو۔ یہ اصول اور سوچ ہمیں انبیائے کرام کی سیرت اور ان کے ابتدائی ساتھیوں سے ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن مجید میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ جب وہ بھرپورجوان ہوئے تو ہم نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ (یوسف : ٢٢) یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بھی قرآن مجید میں موجود ہے کہ جب انہوں نے عراق کے سب سے بڑے بت خانے کو توڑا تھا تو اس وقت وہ بھرپور جوانی کے عالم میں تھے۔ اس لیے مشرکین نے اپنے معبودوں کو اس حال میں دیکھ کر کہا تھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام اس جوان نے کیا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ (الانبیاء : ٦٠) قرآن مجید نے اصحاب کہف کے واقعہ میں (٩) نوجوانوں کے کردار اور ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے رسول ! ہم آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک انداز میں ان نوجوانوں کا واقعہ بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ہدایت میں مزید آگے بڑھایا اور ان کے دلوں کو مضبوط کردیا۔ چناچہ جب انہوں نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جو زمین و آسمان کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی کو الٰہ ماننے کے لیے تیار نہیں اگر ہم دوسروں کو رب تسلیم کریں اور پکاریں تو یہ بڑی بےعقلی کی بات ہوگی۔ (الکہف : ١٣۔ ١٤) یہی کردار موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے نوجوانوں کا تھا۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں نے بھی اسی کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔ چناچہ سیرت طیبہ اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخصیت کو بزرگوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والا شمار کیا جاتا وہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں حالانکہ وہ بھرپور جوانی میں تھے جب وہ ایمان لے آئے تو ان کی عمر تقریباً پونے اڑتیس سال کی تھی۔ مسائل ١۔ لوگ مشکلات سے ڈرتے ہوئے ایمان نہیں لاتے۔ ٢۔ فرعون زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔ ٣۔ ایمان والوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے۔ ٤۔ اللہ کے فرمانبردار بندے اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ ٥۔ ظالموں کے ظلم سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مسلمانوں کو کافروں کے ظلم سے بچاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مومن کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ١۔ حضرت موسیٰ کا ایمانداروں کو ارشاد کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر تم مسلمان ہو۔ (یونس : ٨٤) ٢۔ مومنوں کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ (آل عمران : ١٢٢) ٣۔ مومن اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (الانفال : ٢) ٤۔ جب کسی کام کا ارادہ کر لوتو اللہ پر توکل کرو اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (آل عمران : ١٥٩) ٥۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نیک لوگ اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : ٦٧) ٦۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔ (التغابن : ١٣) ٧۔ جو اللہ کے ہاں ہے وہ مومنوں کے لیے بہتر اور باقی رہنے والا ہے وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (الشورٰی : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلما امن لموسی پس موسیٰ کی تصدیق نہیں کی (باوجودیکہ انہوں نے جادوگروں کے جادو کو نابود کردیا ‘ اور صداقت کی نشانیاں پیش کیں) ۔ الا ذریۃ من قومہ مگر موسیٰ کی قوم کے تھوڑے آدمیوں نے۔ مِنْ قَوْمِہٖ کی ضمیر بعض اہل تفسیر کے نزدیک حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی صرف وہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ پر ایمان لائے جو مصر میں رہتے تھے اور مصر سے نکلنے کے وقت حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے (قبطی ایمان نہ لائے) ۔ مجاہد نے کہا : ایمان لانے والے ان اسرائیلیوں کی اولاد تھے جن کی ہدایت کیلئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ آباء کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے باقی رہے تھے۔ ذریت سے یہی لوگ مراد ہیں۔ بعض علماء نے کہا : جب فرعون نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا آرڈر جاری کردیا تھا تو بعض اسرائیلی عورتوں نے اپنے نوزائیدہ بچے قبطی عورتوں کو ویسے ہی دے دیئے۔ ان بچوں نے قبطیوں کے پاس پرورش پائی اور جس روز حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے ‘ اس روز یہی اسرائیلی ایمان لائے تھے (جو نسلاً اسرائیلی تھے اور بظاہر قبطی زادے) ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہقَوْمِہٖ کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قوم فرعون کے کچھ قلیل آدمی حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے۔ فرعون کی بی بی اور فرعون کا خزانچی اور خزانچی کی بی بی اور فرعون کی بی بی کے بالوں میں کنگھا کرنے والی خادمہ اور مؤمن اٰل فرعون (جس کا تذکرہ سورة یٰسین کی آیت وَجَاءَ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃٍ رَجُلٌ لَیَّسْغٰی میں آیا ہے) انہی لوگوں میں سے تھے اور یہی چند اہل ایمان آیت میں مراد ہیں (اخرجہ ابن جریر) دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : وہ ستر آدمی مراد ہیں جن کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ یہ لوگ اپنی ننہال کے پیرو ہوگئے تھے۔ فراء نے کہا : ان کو ذریت اسلئے کہا گیا کہ ان کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ جس طرح بعض اہل فارس یمن میں آ بسے تھے ‘ ان کی اولاد کو ابناء فارس کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے باپ دوسرے ملک سے تھے اور مائیں دوسرے ملک سے۔ علی خوف من فرعون وملاءھم ان یفتنھم ڈرتے ڈرتے فرعون اور اپنے حاکموں سے کہ (کہیں ایمان کی اطلاع فرعون کو اگر مل گئی تو) ان کو سخت مصیبت میں ڈال دے گا۔ ملاءھم کی ضمیر جمع فرعون کی طرف راجع ہے اور اظہار تعظیم کیلئے ہے۔ یا فرعون سے مراد ہیں اس کے متبعین ‘ یعنی فرعونی لوگ۔ جیسے ربیعہ اور مضر سے مراد ہوتے ہیں ربیعہ اور مضر کی نسل کے قبائل۔ یا ذریت کی طرف راجع ہے ‘ یعنی ذریعت مؤمنہ کو فرعون اور اپنے قبطی حکام سے ڈر تھا۔ یا قوم کی طرف راجع ہے۔ وان فرعون لعال فی الارض وانہ لمن المسرفین۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ فرعون ملک (مصر) میں اونچا (طاقتور ‘ مغرور) تھا اور (اپنی) حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔ کہ باوجود مخلوق اور محتاج ہونے کے ملوکیت سے آگے بڑھ کر ربوبیت کا مدعی بن بیٹھا تھا اور انبیاء زادوں کو باندی غلام بنا رکھا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

99:“ مِنْ قَوْمِهٖ ” کی ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ فرعون اور اس کی قوم اسرائیلیوں کو ایذائین دیتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت بنی اسرائیل کے لیے فرعون کی غلامی سے نجات کا پیغام بھی اپنے اندر رکھتی تھی اس لیے وہ دل سے ان کے حامی تے مگر فرعون اور اس کی قوم کے ڈر سے وہ علانیہ ان کی حمایت نہیں کرسکتے تھے مگر اس کے باوجود کچھ نوجوانوں نے ہمت کر کے ایمان کا اظہار کردیا اور علانیہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر آگئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

83 بایں ہمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا وہ بھی فرعون سے اور اپنے احکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں فرعون ان کو کسی بلا اور مصیبت میں نہ ڈال دے اور کوئی تکلیف نہ پہنچا دے کیونکہ فرعون اس ملک میں زور والا اور غلبہ والا تھا اور یہ بات بھی تھی کہ وہ انصاف کی حد سے آگے نکل جانیوالوں میں سے تھا یعنی باوجود جادوگروں کی شکست کے پھر بھی بہت تھوڑے اور قدرے قلیل لوگ فرعون کے ڈر سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ذریۃ کے معنی بعض نے نوجوان اور بعض نے تھوڑے سے لوگ کئے ہیں بہرحال ! فرعون ایک ظالم اور ناانصاف بادشاہ تھا اور اس کے حکام اس کو خوش کرنے کے لئے بےگناہوں کو گرفتار کرکے جھوٹے مقدموں میں اپنے مخالفوں کو پھنسایا کرتے تھے اس لئے لوگ حق بات کے اعلان اور اظہار سے ڈرتے تھے ۔