The Children of Israel were saved and Fir`awn's People drowned
Allah tells;
وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَايِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ
...
And We took the Children of Israel across the sea, and Fir`awn with his hosts followed them in oppression and enmity, till when drowning overtook him, he (Fir`awn) said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims."
Allah tells how He caused Fir`awn and his soldiers to drown. The Children of Israel left Egypt in the company of Musa.
It was said that there were six hundred thousand soldiers, plus offspring. They borrowed a lot of ornaments from the Coptics and took that with them. Fir`awn became very angry with them. So he sent heralds to all the cities to send their soldiers. He embarked, following behind them, filled with great pride and with massive armies. Allah wanted this to happen for He had a plan for them. No one that had any authority or power remained behind in Fir`awn's kingdom. They were all together and caught the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَاءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
And when the two hosts met each other, the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken." (26:61)
They said that because when they got to the seashore Fir`awn was behind them. The two groups met face to face. The people with Musa kept asking, "How can we be saved today!"
Musa replied, "I have been commanded to come this way."
Musa said:
كَلَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
Nay, verily, with me is my Lord. He will guide me. (26:62)
It had been so difficult, but it suddenly became easy. Allah commanded him to strike the ocean with his staff. He did and the sea was cleft asunder, each part stood like a mighty mountain. The sea was split into twelve paths, each route for each Israelite tribe.
Allah then commanded the wind and the path was dry for them.
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
And strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken (by Fir`awn) nor being afraid (of drowning in the sea). (20:77)
The water in between the paths appeared as windows and every tribe was able to see the other so they would not think that others were destroyed. The Children of Israel crossed the sea.
When the last one crossed, Fir`awn and his soldiers had arrived at the edge of the other shore. They were one hundred thousand black horses in addition to horsemen of other colors. When Fir`awn saw the sea he was frightened. He wanted to turn back, but it was too late. Allah's decree prevailed and the prayer of Musa was answered.
Jibril came on a war stallion. He passed by Fir`awn's horse. Jibril's horse whinnied at Fir`awn's and then Jibril rushed into the sea, and Fir`awn did the same behind him. Fir`awn no longer had any control over matters. He wanted to sound strong before his chiefs, so he said: "The Children of Israel do not have more right in the sea." So they rushed into the sea.
Mika'il was behind their army pushing them all to join. When they all were in the sea and the first of them was about to emerge on the other side, Allah, the All-Powerful, commanded the sea to strand them. The sea closed over them and none was saved. The waves took them up and down. The waves accumulated above Fir`awn and he was overwhelmed by the stupors of death. While in this state, he said:
...
قَالَ امَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِي امَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَايِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
I believe that none has the right to be worshipped but He (Allah) in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims.
He believed at a time when he couldn't benefit from his faith.
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ
So when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners."
Then their faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants. And there the disbelievers lost utterly (when Our torment covered them). (40:84-85)
Therefore Allah said, as a response to Fir`awn,
دریائے نیل ، فرعون اور قوم بنی اسرائیل
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہو نے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے ۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی ۔ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا ۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں ، فوجوں ، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا ۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا ۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا ۔ ٹھیک سورج چڑھے ، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا ۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے لو اب پکڑ لئے گئے کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے ۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں ۔ میرا رب میرے ساتھ ہے ۔ وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا ۔ تم بےفکر رہو ۔ وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے ۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ اپنی لکڑی دریا پر مار دے ۔ آپ نے یہی کیا ۔ اس وقت پانی پھٹ گیا ، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہو گیا ۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے ۔ تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو نے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا ۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے ۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو ۔ بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے ۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے ۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے ۔ فرعون بڑا کائیاں تھا ۔ دل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا ۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی ۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا ۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آگئے ۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا ۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا ۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا ۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے ۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو ۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا ۔ حضرت میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے ۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا ، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے ۔ پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہوگئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا ۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کرکے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کردئیے ۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں ۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے ۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا ۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا ۔ ملک میں فساد مچاتا رہا ۔ خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا ۔ لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا ۔ قیامت کے دن بےیارومددگار رہے گا ۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہو نے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے ۔ ابن عباس فرماتے ہیں ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی ۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے واللہ اعلم ۔
کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہو گیا تھا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں ۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی ۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں ۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا ۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے ۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو ۔