Surat Younus

Surah: 10

Verse: 90

سورة يونس

وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَ جُنُوۡدُہٗ بَغۡیًا وَّ عَدۡوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۹۰﴾

And We took the Children of Israel across the sea, and Pharaoh and his soldiers pursued them in tyranny and enmity until, when drowning overtook him, he said, "I believe that there is no deity except that in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims."

اورہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا میں ایمان لاتا ہوں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Children of Israel were saved and Fir`awn's People drowned Allah tells; وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَايِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ ... And We took the Children of Israel across the sea, and Fir`awn with his hosts followed them in oppression and enmity, till when drowning overtook him, he (Fir`awn) said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims." Allah tells how He caused Fir`awn and his soldiers to drown. The Children of Israel left Egypt in the company of Musa. It was said that there were six hundred thousand soldiers, plus offspring. They borrowed a lot of ornaments from the Coptics and took that with them. Fir`awn became very angry with them. So he sent heralds to all the cities to send their soldiers. He embarked, following behind them, filled with great pride and with massive armies. Allah wanted this to happen for He had a plan for them. No one that had any authority or power remained behind in Fir`awn's kingdom. They were all together and caught the Children of Israel at sunrise. فَلَمَّا تَرَاءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ And when the two hosts met each other, the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken." (26:61) They said that because when they got to the seashore Fir`awn was behind them. The two groups met face to face. The people with Musa kept asking, "How can we be saved today!" Musa replied, "I have been commanded to come this way." Musa said: كَلَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ Nay, verily, with me is my Lord. He will guide me. (26:62) It had been so difficult, but it suddenly became easy. Allah commanded him to strike the ocean with his staff. He did and the sea was cleft asunder, each part stood like a mighty mountain. The sea was split into twelve paths, each route for each Israelite tribe. Allah then commanded the wind and the path was dry for them. فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى And strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken (by Fir`awn) nor being afraid (of drowning in the sea). (20:77) The water in between the paths appeared as windows and every tribe was able to see the other so they would not think that others were destroyed. The Children of Israel crossed the sea. When the last one crossed, Fir`awn and his soldiers had arrived at the edge of the other shore. They were one hundred thousand black horses in addition to horsemen of other colors. When Fir`awn saw the sea he was frightened. He wanted to turn back, but it was too late. Allah's decree prevailed and the prayer of Musa was answered. Jibril came on a war stallion. He passed by Fir`awn's horse. Jibril's horse whinnied at Fir`awn's and then Jibril rushed into the sea, and Fir`awn did the same behind him. Fir`awn no longer had any control over matters. He wanted to sound strong before his chiefs, so he said: "The Children of Israel do not have more right in the sea." So they rushed into the sea. Mika'il was behind their army pushing them all to join. When they all were in the sea and the first of them was about to emerge on the other side, Allah, the All-Powerful, commanded the sea to strand them. The sea closed over them and none was saved. The waves took them up and down. The waves accumulated above Fir`awn and he was overwhelmed by the stupors of death. While in this state, he said: ... قَالَ امَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِي امَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَايِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ I believe that none has the right to be worshipped but He (Allah) in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims. He believed at a time when he couldn't benefit from his faith. فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ So when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners." Then their faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants. And there the disbelievers lost utterly (when Our torment covered them). (40:84-85) Therefore Allah said, as a response to Fir`awn,

دریائے نیل ، فرعون اور قوم بنی اسرائیل فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہو نے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے ۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی ۔ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا ۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں ، فوجوں ، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا ۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا ۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا ۔ ٹھیک سورج چڑھے ، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا ۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے لو اب پکڑ لئے گئے کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے ۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں ۔ میرا رب میرے ساتھ ہے ۔ وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا ۔ تم بےفکر رہو ۔ وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے ۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ اپنی لکڑی دریا پر مار دے ۔ آپ نے یہی کیا ۔ اس وقت پانی پھٹ گیا ، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہو گیا ۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے ۔ تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو نے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا ۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے ۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو ۔ بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے ۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے ۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے ۔ فرعون بڑا کائیاں تھا ۔ دل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا ۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی ۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا ۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آگئے ۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا ۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا ۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا ۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے ۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو ۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا ۔ حضرت میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے ۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا ، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے ۔ پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہوگئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا ۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کرکے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کردئیے ۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں ۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے ۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا ۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا ۔ ملک میں فساد مچاتا رہا ۔ خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا ۔ لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا ۔ قیامت کے دن بےیارومددگار رہے گا ۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہو نے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے ۔ ابن عباس فرماتے ہیں ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی ۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے واللہ اعلم ۔ کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہو گیا تھا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں ۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی ۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں ۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا ۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے ۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

90۔ 1 یعنی سمندر کو پھاڑ کر، اس میں خشک راستہ بنادیا۔ (جس طرح کہ سورة بقرہ آیت 50 میں گزرا اور مذید تفصیل سورة شعرا میں آئے گی) اور تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ 90۔ 2 یعنی اللہ کے حکم سے معجزانہ طریق پر بنے ہوئے خشک راستے پر، جس پر چل کر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم نے سمندر پار کیا تھا، فرعون اور اس کا لشکر بھی سمندر پار کرنے کی غرض سے چلنا شروع ہوگیا۔ مقصد یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو جو میری غلامی سے نجات دلانے کے لئے راتوں رات لے آیا تو اسے دوبارہ قید غلامی میں لایا جائے۔ جب فرعون اور اس کا لشکر، اس سمندری راستے میں داخل ہوگیا تو اللہ نے سمندر کو حسب سابق جاری ہوجانے کا حکم دے دیا۔ نتیجتاً فرعون سمیت سب کے سب غرق دریا ہوگئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٠] جن حالات میں موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تھے اور جس طرح بعد میں فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا تعاقب کیا تھا نیز دریا کے پھٹنے، بنی اسرائیل کے بخیر و عافیت پار اتر جانے اور فرعون اور اس کے لشکر کے اس دریا میں غرق ہونے کی تفصیل پہلے سورة اعراف آیت نمبر ١٣٦ میں گذر چکی ہے۔ یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ فرعون کو جب موت سامنے نظر آگئی تو کہنے لگا کہ && فی الواقع رب میں نہیں تھا بلکہ حقیقی معبود وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں میں بھی اب اس پر ایمان لاتا ہوں اور اس کا فرمانبردار بن کر رہوں گا && فرعون کا یہ اقرار دراصل اقتدار سے اپنی دستبرداری کا اعلان تھا بشرطیکہ اسے موت سے نجات مل جائے اور یہ وہی بات ہے جس کا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں ذکر کیا تھا کہ ان کے دل اس قدر سخت ہوچکے ہیں کہ جب تک کوئی سخت عذاب نہ دیکھ لیں ایمان لانے پر تیار نہ ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ : یعنی بنی اسرائیل کا سمندر پار کرنا انسانی اسباب کے ساتھ نہ تھا، بلکہ انسان کے اختیار سے باہر خاص ہمارے پار کرانے سے تھا۔ بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے، فرعون کے تعاقب، موسیٰ (علیہ السلام) کے لاٹھی مارنے سے سمندر کے پھٹنے اور پانی کے منجمد ہو کر راستے دینے کی تفصیل سورة شعراء (٥٢ تا ٦٨) اور دخان (٢٣ تا ٣١) میں آئے گی۔ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّعَدْوًا : فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا انھیں ستانے، ان پر زیادتی کرنے اور انھیں دوبارہ غلام بنانے کے لیے کیا، یعنی ان کی نیت صلح یا اصلاح کی نہ تھی۔ ” بَغْیاً “ اور ” عَدْواً “ حال بمعنی اسم فاعل یا مصدر برائے مفعول لہ ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا عبدہ (رض) نے قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ” بَغْیٌ“ وہ زیادتی ہے جو قول سے ہو اور ” عَدْوٌ“ وہ جو فعل سے ہو اور طنطاوی نے لکھا ہے : ” بَغٰی فُلَانٌ عَلٰی فُلاَنٍ بَغْیًا “ جب کوئی کسی پر دست درازی اور ظلم کرے اور ” عَدَا عَلَیْہِ عَدْوًا “ جب اس سے اس کا حق چھین لے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ سمندر سے پار ہو کر اسے اسی حالت میں رہنے دو ۔ (دیکھیے دخان : ٢٤) چناچہ جب بنی اسرائیل کا آخری آدمی بھی نکل گیا اور فرعون کا پورا لشکر ان کے پیچھے مع فرعون سمندر میں داخل ہوگیا تو سمندر کا پانی برابر ہوگیا۔ حَتّٰٓي اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ ۔۔ : غرق یعنی ڈوبنے نے اسے پا لیا، گویا غرق اللہ کا سپاہی تھا جس نے اسے آپکڑا اور واقعی اللہ کے لشکروں اور سپاہیوں کا شمار نہیں۔ تو فرعون نے تین دفعہ مسلمان ہونے کا اقرار کیا : 1 ۔ اٰمَنْتُ 2 ” اَنَّہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ “ 3 وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ یہ سارا معاملہ غیب کا ہے، ڈوبتے وقت اس نے کیا کہا ؟ اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتوں کے سوا وہاں کون تھا ؟ سو یہ ساری بات اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کے ذریعے بتائی، جو آپ کی نبوت کی زبردست دلیل ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mentioned in the fourth verse (90) was the famous miracle of Sayyidna Musa (علیہ السلام) - the crossing of the sea and the drowning of Pha¬raoh. There it was said: حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَ‌كَهُ الْغَرَ‌قُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَ‌ائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ Until when he was about to drown, he said, |"I believe that there is no god but the One in Whom the children of Isra&il be¬lieve, and I am among those who submit|".

چوتھی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مشہور معجزہ عبور دریا کا اور فرعون کے غرق ہونے کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے، (آیت) حَتّٰٓي اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ ۙقَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ ، یعنی جب اس کو غرقابی نے پکڑ لیا تو بول اٹھا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ جس خدا پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اطاعت کرنے والوں میں سے ہوں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُہٗ بَغْيًا وَّعَدْوًا۝ ٠ ۭ حَتّٰٓي اِذَآ اَدْرَكَہُ الْغَرَقُ۝ ٠ ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝ ٩٠ جاوز قال تعالی: فَلَمَّا جاوَزَهُ هُوَ [ البقرة/ 249] ، أي : تجاوز جوزه، وقال : وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ [ الأعراف/ 138] ، وجَوْزُ الطریق : وسطه، وجاز الشیء كأنه لزم جوز الطریق، وذلک عبارة عمّا يسوغ، وجَوْزُ السماء : وسطها، والجوزاء قيل : سمیت بذلک لاعتراضها في جوز السماء، وشاة جوزاء أي : ابیضّ وسطها، وجُزْتُ المکان : ذهبت فيه، وأَجَزْتُهُ : أنفذته وخلّفته، وقیل : استجزت فلانا فأجازني : إذا استسقیته فسقاک، وذلک استعارة، والمَجَاز من الکلام ما تجاوز موضعه الذي وضع له، والحقیقة ما لم يتجاوز ذلك . ( ج و ز ) جو ز اطریق کے معنی راستہ کے وسط کے ہیں اسی سے جازاشئیء ہے جو کسی چیز کے جائز یا خوشگوار ہونے کی ایک تعبیر ہے گو یا ۔ اس نے وسط طریق کو لازم پکرا ۔ جو اسماء وسط آسمان ۔ الجوزاء آسمان کے ایک برج کا نام ہے کیونکہ وہ بھی وسط آسمان میں ہے سیاہ بھیڑ جس کے وسط میں سفیدی ہو ۔ ( جاوزہ کسی چیز کے وسط میں سفیدی ہو ۔ ( جاوزہ کسی چیز کے وسط سے آگے گزر جانا ؟ قرآن میں ہے فَلَمَّا جاوَزَهُ هُوَ [ البقرة/ 249] پھر جب وہ حضرت طالوت ) اس دریا کے وسط سی آگے گزر گئے یعنی پار ہوگئے ۔ وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ [ الأعراف/ 138] اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا ۔ جزت المکان کسی جگہ میں گزرنا ۔ اجزتہ میں نے اسے نافذ کردیا اس کو پیچھے چھوڑدیا ۔ ( میں نے اس سے ( جانوروں یا کھیتی کے لئے ) پانی طلب کیا چناچہ اس نے مجھے دے دیا ۔ یہ بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے ۔ اور کسی لفظ کا حقیقی معنی وہ ہوتا ہے جو اپنے وضعی معنی میں استعمال ہو اور اس سے تجاوز نہ کرے ورنہ اسے مجازا کہتے ہیں ) اِسْرَاۗءِيْلَ ( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو .(إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال . بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في العلم : التوسع واعتبر من البحر تارة ملوحته فقیل : ماء بَحْرَانِي، أي : ملح، وقد أَبْحَرَ الماء . قال الشاعر : 39- قد عاد ماء الأرض بحرا فزادني ... إلى مرضي أن أبحر المشرب العذب «2» وقال بعضهم : البَحْرُ يقال في الأصل للماء الملح دون العذب «3» ، وقوله تعالی: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] إنما سمي العذب بحرا لکونه مع الملح، كما يقال للشمس والقمر : قمران، وقیل السحاب الذي كثر ماؤه : بنات بحر «4» . وقوله تعالی: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] قيل : أراد في البوادي والأرياف لا فيما بين الماء، وقولهم : لقیته صحرة بحرة، أي : ظاهرا حيث لا بناء يستره . ( ب ح ر) البحر ( سمندر ) اصل میں اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے پانی جمع ہو پھر کبھی اس کی ظاہری وسعت کے اعتبار سے بطور تشبیہ بحرت کذا کا محارہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی سمندر کی طرح کسی چیز کو وسیع کردینا کے ہیں اسی سے بحرت البعیر ہے یعنی میں نے بہت زیادہ اونٹ کے کان کو چیز ڈالا یا پھاڑ دیا اور اس طرح کان چر ہے ہوئے اونٹ کو البحیرۃ کہا جا تا ہے قرآن میں ہے ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] یعنی للہ تعالیٰ نے بحیرہ جانور کا حکم نہیں دیا کفار کی عادت تھی کہ جو اونٹنی دس بچے جن چکتی تو اس کا کان پھاڑ کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ بوجھ لادیتے ۔ اور جس کو کسی صنعت میں وسعت حاصل ہوجائے اسے بحر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ بہت زیادہ دوڑ نے والے گھوڑے کو بحر کہہ دیا جاتا ہے ۔ آنحضرت نے ایک گھوڑے پر سواری کے بعد فرمایا : ( 26 ) وجدتہ بحرا کہ میں نے اسے سمندر پایا ۔ اسی طرح وسعت علمی کے اعتبار سے بھی بحر کہہ دیا جاتا ہے اور تبحر فی کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں چیز میں بہت وسعت حاصل کرلی اور البتحرفی العلم علم میں وسعت حاصل کرنا ۔ اور کبھی سمندر کی ملوحت اور نمکین کے اعتبار سے کھاری اور کڑوے پانی کو بحر انی کہد یتے ہیں ۔ ابحرالماء ۔ پانی کڑھا ہوگیا ۔ شاعر نے کہا ہے : ( 39 ) قدعا دماء الا رض بحر فزادنی الی مرض ان ابحر المشراب العذاب زمین کا پانی کڑوا ہوگیا تو شریں گھاٹ کے تلخ ہونے سے میرے مرض میں اضافہ کردیا اور آیت کریمہ : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] بحرین ھذا عذاب فرات ولھذا وھذا ملح اجاج ( 25 ۔ 53 ) دو دریا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری ہے چھاتی جلانے والا میں عذاب کو بحر کہنا ملح کے بالمقابل آنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمران کہا جاتا ہے اور بنات بحر کے معنی زیادہ بارش برسانے والے بادلوں کے ہیں ۔ اور آیت : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ بحر سے سمندر مراد نہیں ہے بلکہ بر سے جنگلات اور بحر سے زرخیز علاقے مراد ہیں ۔ لقیتہ صحرۃ بحرۃ میں اسے ایسے میدان میں ملا جہاں کوئی اوٹ نہ تھی ؟ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شہاے ت میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ درك الدَّرْكُ کالدّرج، لکن الدّرج يقال اعتبارا بالصّعود، والدّرک اعتبارا بالحدور، ولهذا قيل : درجات الجنّة، ودَرَكَات النار، ولتصوّر الحدور في النار سمّيت هاوية، وقال تعالی: إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] ، والدّرك أقصی قعر البحر . ويقال للحبل الذي يوصل به حبل آخر ليدرک الماء دَرَكٌ ، ولما يلحق الإنسان من تبعة دَرَكٌ کالدّرک في البیع قال تعالی: لا تخافُ دَرَكاً وَلا تَخْشى [ طه/ 77] ، أي : تبعة . وأَدْرَكَ : بلغ أقصی الشیء، وأَدْرَكَ الصّبيّ : بلغ غاية الصّبا، وذلک حين البلوغ، قال : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، وقوله : لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، فمنهم من حمل ذلک علی البصر الذي هو الجارحة، ومنهم من حمله علی البصیرة، وذکر أنه قد نبّه به علی ما روي عن أبي بکر رضي اللہ عنه في قوله : (يا من غاية معرفته القصور عن معرفته) إذ کان غاية معرفته تعالیٰ أن تعرف الأشياء فتعلم أنه ليس بشیء منها، ولا بمثلها بل هو موجد کلّ ما أدركته . والتَّدَارُكُ في الإغاثة والنّعمة أكثر، نحو قوله تعالی: لَوْلا أَنْ تَدارَكَهُ نِعْمَةٌ مِنْ رَبِّهِ [ القلم/ 49] ، وقوله : حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيها جَمِيعاً [ الأعراف/ 38] ، أي : لحق کلّ بالآخر . وقال : بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ [ النمل/ 66] ، أي : تدارک، فأدغمت التاء في الدال، وتوصّل إلى السکون بألف الوصل، وعلی ذلک قوله تعالی: حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيها [ الأعراف/ 38] ، ونحوه : اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ [ التوبة/ 38] ، واطَّيَّرْنا بِكَ [ النمل/ 47] ، وقرئ : بل أدرک علمهم في الآخرة وقال الحسن : معناه جهلوا أمر الآخرة وحقیقته انتهى علمهم في لحوق الآخرة فجهلوها . وقیل معناه : بل يدرک علمهم ذلک في الآخرة، أي : إذا حصلوا في الآخرة، لأنّ ما يكون ظنونا في الدّنيا، فهو في الآخرة يقين . ( درک ) الدرک اور درج کا لفظ اوپر چڑھنے کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اور الدرک کا لفظ نیچے اترنے کے لحاظ سے اس لئے درجات الجنۃ اور درکات النار کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ پستی کے اعتبار سے دوذخ کو ھاویۃ کہا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے ۔ اور سمندر کی گہرائی کی تہہ اور اس رسی کو جس کے ساتھ پانی تک پہنچنے کے لئے دوسری رسی ملائی جاتی ہے بھی درک کہا جاتا ہے اور درک بمعنی تاوان بھی آتا ہے مثلا خرید وفروخت میں بیضانہ کو درک کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لا تخافُ دَرَكاً وَلا تَخْشى [ طه/ 77] پھر تم کو نہ تو ( فرعون کے ) آپکڑے نے کا خوف ہوگا اور نہ غرق ہونے کا ( ڈر ۔ ادرک ۔ کسی چیز کی غایت کو پہچنا ، پالنا جیسے ادرک الصبی لڑکا بچپن کی آخری حد کو پہنچ گیا یعنی بالغ ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ اس کو غرق ( کے عذاب ) نے آپکڑا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] وہ ایسا ہے کہ ( نگا ہیں اس کا اور اک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا اور اک کرسکتا ہے ۔ کو بعض نے ادارک بصری کی نفی پر حمل کیا ہے اور بعض نے ادارک کی نفی ملحاظ بصیرت مراد دلی ہے اور کہا ہے کہ اس آیت سے اس معنی پر تنبیہ کی ہے جو کہ حضرت ابوبکر کے قول اے وہ ذات جس کی غایت معرفت بھی اس کی معرفت سے کوتاہی کا نام ہے ) میں پایا جاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی غایت یہ ہے کہ انسان کو تمام اشیاء کا کماحقہ علم حاصل ہونے کے بعد یہ یقین ہوجائے کہ ذات باری تعالیٰ نہ کسی کی جنس ہے اور نہ ہی کسی چیز کی مثل ہے بلکہ وہ ان تمام چیزو ن کی موجد ہی ۔ التدارک ۔ ( پالینا ) یہ زیادہ تر نعمت اور رسی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْ تَدارَكَهُ نِعْمَةٌ مِنْ رَبِّهِ [ القلم/ 49] اگر تمہارے پروردگار کی مہر بانی ان کی یاوری نہ کرتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيها جَمِيعاً [ الأعراف/ 38] یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے کے معنی یہ ہیں کہ جب سب کے سب اس میں ایک دوسرے کو آملیں گے ۔ پس اصل میں تدارکوا ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ [ النمل/ 66] بلکہ آخرت کے بارے میں انکا علم منتہی ہوچکا ہے ۔ میں ادراک اصل میں تدارک ہے تاء کو دال میں ادغام کرنے کے بعد ابتدائے سکون کی وجہ سے ہمزہ وصلی لایا گیا ہے جس طرح کہ آیات : ۔ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ [ التوبة/ 38] میں ہے ایک قراءت میں ہے ۔ حسن (رح) نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ امور آخرت سے سراسر فاعل ہیں مگر اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ آخرت کو پالینے سے انکا علم بنتی ہوچکا ہے اس بنا پر وہ اس سے جاہل اور بیخبر ہیں ۔ بعض نے اس کے یہ معنی کئے کہ انہیں آخرت میں ان چیزوں کی حقیقت معلوم ہو جائیگی کیونکہ دنیا میں جو چیزوں معلوم ہو جائیگی کیونکہ دنیا میں جو چیزیں محض ظنون نظر آتی ہیں آخرت میں ان کے متعلق یقین حاصل ہوجائے گا ۔ غرق إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] الٰہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٠) اور جب ہم نے بنی اسرائیل کو اس دریا سے پار کردیا تو ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور ان کے قتل کے ارادہ سے چلا لیکن وہ دریا سے پار نہ ہوسکا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں اب ایمان لاتا ہوں کہ بجز اس کے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم ایمان لائی، کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں کے دین میں داخل ہوتا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(حَتّٰیٓ اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ ) یعنی جب فرعون غرق ہونے لگا تو :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

91. Though this event is not mentioned in the Bible, it is explicitly recorded in the Talmud in the following words: 'Who is like Thee, O Lord, among the gods?' We settled the Children of Israel in a blessed land,94 and provided them with all manner of good things. They only disagreed among themselves after knowledge (of the truth had) come to them.95 Surely your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning their disagreements.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :91 بائیبل میں اس واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے ، مگر تلمود میں تصریح ہے کہ ڈوبتے وقت فرعون نے کہا میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اے خداوند تیرے سوا کوئی خدا نہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٠۔ ٩٢۔ ان آیتوں میں فرعون اور اس کے رفیقوں کی دریا میں ڈوبنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے جب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر سے نکلے جن کی تعداد چھ لاکھ تھی تو فرعون کو یہ خبر معلوم ہوئی اور اس نے شہر میں آدمی بھیج کر اور لشکر اکٹھا کر کے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے فرعون کو لشکر سمیت آتے ہوئے دیکھ کر بہت ہی خوف کرنے لگے جب فرعون بالکل قریب آگیا تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ان لوگوں کے ہاتھ سے کیوں کر رہائی ہوگی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اسی راہ سے جانے کی ہدایت ہوئی ہے خدا خود رستہ بتلا دے گا جب وقت بالکل تنگ ہوگیا اور فرعون اور اس کے لشکر نے آگھیرا تو خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا کہ عصا اٹھا کر دریا پر مارو عصا مارنا تھا کہ بارہ راستے دریا میں نمودار ہوگئے۔ ہوا نے خدا کے حکم سے زمین کو خشک کردیا رستوں کے درمیان میں پانی پہاڑ کی طرح سخت ہوگیا اور بڑے بڑے سوراخ اس میں پڑگئے تاکہ ادھر کے آدمی ادھر کے آدمی کو دیکھ کر اطمینان رکھیں اور یہ گمان نہ کریں کہ کوئی ہلاک ہوا غرض کہ موسیٰ اور ان کے سب ساتھ کا لشکر دریا سے پار ہوگئے فرعون جب دریا کے کنارے آیا تو ہول کھانے لگا فوراً جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم ہوا وہ گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے سامنے سے نکلے۔ فرعون کا گھوڑا بھی گھوڑی دیکھ کر پیچھے ہولیا اور دونوں دریا میں گھس گئے جب فرعون کا کچھ قابو نہ چلا تو کہنے لگا کہ بنی اسرائیل ہم سے زیادہ دریا پر حق نہیں رکھتے ہیں کیا میں دریا سے پار نہیں ہوسکتا پھر تو سب کے سب اس کے پیچھے دریا میں اتر گئے اس وقت خدا کا حکم ہوا کہ دریا کا پانی جوں کا توں ہوجائے دریا کا پانی برابر ہوگیا اور سب کے سب تہ وبالا ہو کر ہلاک ہوگئے جب فرعون ڈوبنے لگا تو کہا کہ میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لایا اور میں بھی مسلمان ہوں خدا نے فرمایا اب ایمان لایا پہلے سے نہیں اب بھلا کیا فائدہ ہوسکتا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب فرعون ڈوب گیا تو بعض لوگوں کو فرعون کی موت میں شک ہوا کہ وہ نہیں ڈوبا بچ گیا اس لئے اللہ پاک نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش دریا کے باہر ٹیلہ پر پھینک دے ١ ؎ جب لوگوں نے اس کی لاش دیکھی تو یقین ہوا جیسا کہ خود اللہ جل شانہ نے فرمایا { الیوم ننجیک ببدنک } کہ آج اگر ہم نجات دیں گے تو بغیر روح کے تیرے بدن کو نجات دیں گے تاکہ جو دیکھے وہ عبرت پکڑے اور غفلت میں نہ پڑا رہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت اور صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبادہ بن الصامت (رض) کی روایت اوپر گزر چکی ہے۔ ٢ ؎ کہ جب موت کے فرشتے نظر آنے لگتے ہیں تو ایسے مجبوری کے وقت کی فرمانبرداری داخل فرمانبرداری نہیں ہے یہ حدیثیں (الان وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین) کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا ہوئی ہے مجبوری کی حالت میں یہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بےوقت کی فرمانبرداری کا یہ جواب دیا کہ ایسے وقت کی فرمانبرداری نا مقبول ہے اس آخری وقت پر فرعون جیسے عمر بھر کے نافرمان شخص نے جو فرمانبرداری کا اقرار کیا اور حضرت جبرئیل نے اس کے اس اقرار کو بر خلاف انتظام الٰہی سمجھ کر فرعون کے منہ میں قلزم کی کیچڑ ٹھونس دی مسند امام احمد اور ترمذی کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی معتبر روایت اس باب میں اوپر گزر چکی ہے ٣ ؎ اور اس روایت پر امام فخر الدین رازی نے جو اعتراض کیا ہے اس کا جواب بھی اوپر گزر چکا ہے اس آیت سے بھی امام فخر الدین رازی کے اعتراض کا یہ جواب نکل سکتا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جو کچھ کیا وہ حکم الٰہی اور انتظام کے موافق تھا اس لئے اس پر کوئی اعتراض کا محل نہیں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت پر یہ جو اعتراض ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید کو یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے اس کا جواب بھی علما نے دے دیا ہے کہ ترمذی کی دوسری سند میں علی بن زید نہیں ہے بلکہ شعبہ کی عدی بن ثابت والی سند شرط بخاری کے موافق صحیح ہے۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٢١ ج ٢۔ ٢ ؎ یعنی سابقہ صفحہ ٦١۔ ٣ ؎ یعنی صفحہ ٦١ پر

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:90) جوزنا۔ ماضی جمع متکلم۔ مجاوزۃ (مفاعلۃ) سے ہم نے پار کردیا۔ ادرکہ۔ اس نے اس کو پالیا۔ ادراک سے جس کے معنی کسی شے کو پوری طرح پاینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر کا مرجع فرعون ہے۔ الغرق۔ اسم فعل۔ ڈوبنا۔ غرقابی۔ ادر کہ الغرق۔ جب غرقابی نے اس کو اچھی طرح آلیا یعنی جب اس کا غرق ہوجانا یقینی ہوگیا

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ یعنی سمندر میں ان کے پیچھے گھس گیا۔ فرعون کے بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے اور پھر سمندر میں ان کے پیچھے گھسنے کی کیفیت تفصیل سے دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔ (مثلاً دیکھئے الشعراء رکوع 4) ۔ 7 ۔ یعنی بنی اسرائیل کو ستناے اور ان پر ظلم کرنے کے لے بغی اس زیادتی کو کہتے ہیں جو قول سے ہو اور عدو جو فعل سے ہو۔ (قرطبی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92 جاوزنا (ہم نے پارا تار دیا) البحر (سمندر، دریا) اتبع (پیچھے چلا) جنود (لشکر) بغی (زیادتی) عدو (دشمنی) ادر کہ (اس نے اس کو پا لیا) عصیت (تو نے نافرمانی کی) ننجی (ہم نجات دیں گے) خلف (پیچھے) غفلون (غفلت کرنے والے، پروانہ کرنے والے) تشریح :- آیت نمبر 90 تا 92 اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اپنی امت کے خیر خواہ بن کر تشریف لاتے ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو جو دنیا کی چمک دمک کر تکبر اور غرور کا پیکر بن جاتے ہیں ان کو راہ راست پر لائیں۔ ان کو وہ راستہ دکھائیں جس پر چل کر وہ نجات کی منزل تک پہنچ جائیں۔ لیکن جب کفر، شرک، فسق و فجور ضد اور ہٹ دھرمی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہ رہے تب انبیاء کرام اللہ کی بارگاہ میں آنے والی نسلوں کو بچانے کے لئے یہ درخواست کرتے ہیں کہ اے اللہ اب ایسا لگتا ہے کہ ان کے غرور تکبر اور کفر و شرک میں ڈوب جانے کی وجہ سے ان کی اصلاح ممکن نہیں ہے لہٰذا آپ ان پر اپنا فیصلہ نافذ فرما دیجیے۔ اللہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی دعا کو قبول کر کے اپنی مشیت کے مطابق اپنا عذاب اس قوم پر مسلط کردیتا ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے زمانہ میں بھی یہی ہوا کہ وہ قوم کی اصلاح کے لئے جدوجہد اور کوشش فرماتے رہے اور یہ بتاتے رہے کہ فرعون اور قوم فرعون جس طرح بنی اسرائیل پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں اگر وہ باز نہ آئے تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا مگر فرعون اور اس کی قوم اپنی حرکتوں اور سازشوں سے باز نہ آئی۔ جب فرعون اور سا کے متکبر سرداروں کا ظلم و ستم اپنی حدوں کو پار کر گیا تب حضرت موسیٰ نے یہ دعا فرما دئی کہ اے اللہ ! آج فرعون اور اس کے لشکری دولت و اقتدار کے نشے میں اندھے بن چکے ہیں وہ غرور تکبر کے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں وہ خود بھی گمراہ ہوچکے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ حق سے بھٹکا کر گمراہ کر رہے ہیں اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایمان کی دولت سے محروم رہیں گے اے اللہ ! ان کے وہ مال و دولت جن کی وجہ سے یہ لوگ ہر طرح کے ظلم و ستم کر رہے ہیں یہاں تک کہ ماؤں کی گود سے ان کے معصوم بچوں کو چھین کر ذبح کر رہے ہیں اے اللہ ! ان کے مال و دولت کو تباہ و برباد کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہریں لگا دے جن سے ان کو ایمان لانا نصیب ہی نہ ہو حضرت موسیٰ اس نافرمان قوم کے لئے بد دعا فرما رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہتے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ اے موسیٰ و ہارون تمہاری دعا قبول کرلی گی لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرما دیا گیا کہ تم دونوں اپنے اس سچے اور نیک مشن اور مقصد میں لگے رہو اور ان نادانوں کی طرح نہ ہوجانا جو ہر کام میں جلدی کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے لئے یہ حکم آگیا کہ تم دونوں بنی اسرائیل کو مصر سے فلسطین کی طرف لے کر کوچ کر جائو۔ چناچہ اشارہ الٰہی ملتے ہی حضرت موسیٰ تمام قوم بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوگئے ہیں تو اس کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اب مملکت اور اس کے نظام کا کیا ہوگا کیونکہ ان ہی کی بناادوں پر تو حکومت کا کاروبار چل رہا تھا۔ اس نے فوری طور پر ایک بہت بڑا لشکر ترتیب دیا اور اپنی پوری قوت و طاقت کے ساتھ اس طرف روانہ ہوگیا جس راستے سے بنی اسرائیل فلسطین کی طرف رواں دواں تھے۔ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو بحر قلزم کی طرف سے لے کر جا رہے تھے۔ جب سمندر کے کنارے پہنچ گئے تو فرعون بھی بڑی تیزی سے قوم بنی اسرائیل کے قریب پہنچ گیا۔ اب قوم بنی اسرائیل گھبرا گئی کہ آگے بڑھتے ہیں تو سمندر، رکتے ہیں تو فرعون کا لشکر ان کو کچلنے کے لئے سر پر پہنچ گیا ہے اس وقت ان کو چاروں طرف سے اپنی موت نظر آرہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے یہی فرمایا کہ صبر سے کام لو جس اللہ کے حکم سے ہم سب نکلے ہیں وہی کوئی راستہ نکالے گا چناچہ اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ اے موسیٰ اپنا عصا پانی پر ماریئے چناچہ جیسے ہی حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو پانی پر مارا سمندر کا پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا اور درمیان سے راستہ بن گیا جس سے گذر کر سہولت کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچا جاسکتا تھا۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے تو اللہ نے سمندر میں بارہ ہی راستے بنا دیئے جن سے بنی اسرائیل کا ہر خاندان بغیر کسی دشواری کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔ ادھر فرعون اور اس کا زبردست لشکر جب سمندر کے کنارے پہنچا اور اس نے سمندر میں راستوں کو دیکھا تو وہ خود اور اس کا لشکر بھی سمندر کے ان راستوں میں اتر گیا۔ لیکن اللہ کا حکم آتے ہی سمندر پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون کا پورا لشکر اس پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ جب فرعون نے موت کو سامنے پایا تب اس کی زبان پر یہ جملہ آگیا ” سچا معبود تو وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اب میں بھی اس معبود پر ایمان لاتا ہوں اور میں اللہ کے فرماں برداروں میں شامل ہوتا ہوں “ اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتوں کے ذریعہ یہ جواب دیا گیا کہ اے فرعون ! تو اب ایمان لاتا ہے ؟ جب کہ موت کے فرشتے تیرے سامنے کھڑے ہیں۔ تیری پوری زندگی تو غفلت، نادانی اور کفر و شرک میں گذری ہے اب موت کو سامنے دیکھ کر تجھے اللہ یاد آگیا۔ فرمایا کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ جب موت کا فرشتہ سامنے آجائے تو پھر کسی کی دعا اور توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب تک موت کے فرشتے یا اللہ کا عذاب سامنے نہ آجائے اس وقت تک توبہ قبول کی جاتی ہے۔ اگر کوئی اس سے پہلے توبہ کرلے تو ممکن ہے اس کی مغفرت کا سامان ہوجائے۔ لکنئ وقت گذرنے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کی توبہ قبول کی جائے۔ چونکہ فرعون نے ڈوبنے سے پہلے معافی مانگ لی تھی تو اس کی توبہ تو قبول نہیں ہوئی البتہ دنیا میں عبرت و نصیحت کے لئے اس کے بدن کو باقی رکھنے کا وعدہ فرمایا گیا تاکہ دنیا دیکھ لے کہ موت اور حیات سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے زندگی دے جس کو چاہے موت دے جس کے بدن کو چاہے مچھلیوں کی غذا بنا دے اور جس کے بدن کو باقی رکھنا چاہے باقی رکھے۔ چنانچہ فرعون کو بھی اس پانی میں ڈبو دیا گیا لیکن اس کی لاش کو سمندر کے کنارے پھینک دیا۔ جب قوم فرعون نے فرعون کی لاش کو دیکھا تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور انہوں نے شرمندگی سے بچنے کے لئے فرعون کی لاش کو کچھ مصالحے لگا کر چھپا دیا کیونکہ مصریوں کو ایسے مصالحوں کا علم تھا جس سے وہ لاشوں کو باقی رکھ سکتے تھے۔ چناچہ انیسویں صدی میں جب مصر میں آثار قدیمہ کی کھدائی کی گئی تو ان دونوں فرعونوں کی لاشیں نکلیں جو حضرت موسیٰ کے زمانے کے فرعون تھے گویا اللہ تعالیٰ کی پیشین گوئی جو قرآن کریم میں موجود ہے برسوں کے بعد ساری دنیا کے سامنے ظاہر ہو کر رہی۔ انگلینڈ اور مصر کے عجائب گھروں میں ان فرعونوں کی لاشیں موجود ہیں جن کو دیکھا جاسکتا ہے۔ کئی سال پہلے جب میں مصر گیا تو مصر کے عجائب گھر میں میں نے اپنی آنکھوں سے ” فرعونوں کی اس ممی “ کو دیکھا جو دنیا کے سامنے عبرت کا نشان ہے۔ ان لاشوں کو دیکھ کر یہ احساس پوری طرح زندہ ہوجاتا ہے کہ واقعی انسان انتہائی بےبس ہے۔ اس کا اپنے وجود پر بھی اختیار نہیں ہے مگر وہ دنیا کی وقتی چمک دمک اور دولت کی ریل پیل میں اتنا گم ہوجاتا ہے کہ اس میں تکبر اور غرور کی بری عادتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ فرعون اور اس کے ماننے والے جو اپنے غرور تکبر میں حد سے گزر چکے تھے اللہ کے فیصلے کے سامنے وہ کچھ نہ کرسکے اور بالآخر ذلت کی موت سے دوچار ہوئے۔ اللہ کا قانون یہی ہے کہ وہ ان سروں کو کچل دیتا ہے جن میں غرور تکبر اپنی انتہا کے ساتھ بھر جاتا ہے۔ ان آیات کے مطالعہ کے بعد چند سوالات جو ذہنوں میں ابھرتے ہیں ان کے جوابات پر بھی غور کرلیا جائے۔ 1) حضرت موسیٰ جو اللہ کے جلیل القدر اور محبوب پیغمبروں میں سے ہیں اور بھٹکے ہوئے انسانوں کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے بیشک وہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں سے مایوس تھے مگر کیا اللہ کے ایک پیغمبر کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ وہ جن کی اصلاح کے لئے تشریف لائیں ان ہی کے لئے بد دعا فرمائیں ؟ 2) فرعون کے بدن کو کیوں محفوظ رکھا گیا اس میں بظاہر اللہ کی کیا مصلحت ہے ؟ 3) فرعون تو مصر کے ایک حکمران خاندان کا لقب تھا۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جو فرعون تھا اس کا کیا نام تھا ؟ ان تینوں سوالوں کا جواب ترتیب دار عرض ہے : 1) انبیاء کرام بلاشک و شبہ اس قوم کے خیر خواہ اور مخلص ہوتے ہیں جن کی طرف وہ بھیجے جاتے ہیں اور وہ زندگی کے آخری لمحے تک اپنے اس مشن اور مقصد میں لگے رہتے ہیں لیکن قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قوم کی اصلاح و تبلیغ کرنے کے باوجود غرور، تکبر، ضد اور ہٹ دھرمی پر وہ قوم جم جاتی ہے اور ان کی اصلاح کی کوئی امیدن ہیں رہتی تب انبیاء کرام کے ہاتھ اس بددعا کے لئے اٹھ جاتے ہیں کہ اے اللہ ! اب بظاہر اس قوم کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اب آپ فیصلہ فرما دیجیے۔ اور اللہ اپنے نبیوں کی دعا کو رد نہیں فرماتا اور اس طرح اس قوم پر عذاب نازل ہوجاتا ہے سوائے اس کے کہ وہ پوری قوم عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلے تو پھر عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جیسے حضرت یونس کی قوم کو جب اس بات کا پوری طرح اندازہ ہوگیا کہ حضرت یونس شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں اور عذاب آنے ہی والا ہے تب پوری قوم نے سچے دل سے توبہ کی اور اس طرح اللہ کا وہ عذاب جو قوم یونس کو تباہ و برباد کردیتا وہ ان سے ان کی توجہ کی وجہ سے ٹل گیا۔ حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی امت کی اصلاح کرنے کی کوشش کی مگر وہ قوم اپنے کافرانہ کردار سے باز نہیں آئی تب حضرت نوح نے بد دعا فرمائی اور پھر وہ طوفان آیا جس میں سوائے ان لوگوں اور جانداروں کے جو سفینہ نوح میں تھے روئے زمین کا ہر فرد غرق کردیا گیا۔ دراصل ان آیات میں کفار عرب کو یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک اور غرور تکبر سے توبہ کرلیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ رحمتہ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لئے بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھاویں اور تم تباہ و برباد ہو کر رہ جائو۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر امت کے لئے رحم و کرم کا وہ جذبہ غالب تھا کہ آپ نے نادانوں کی ہر بات کو برداشت فرمایا اور کبھی کسی کے لئے بد دعا نہیں فرمائی۔ لیکن اگر آپ چاہتے تو بد دعا فرما سکتے تھے مگر اللہ نے آپ کو سراپا رحمت بنا کر بھیجا تھا اور آپ قیامت تک پوری امت اور دنیا بھر کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں۔ 2) دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ کا یہ نظام ہے کہ وہ اس کائنات میں جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے کسی کو فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور کسی کو عبرت کے لئے باقی رکھتا ہے۔ فرعون کے بدن کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والے لوگ یہ دیکھ لیں کہ وہ لوگ جو مال و دولت، اقتدار، فوج اور اولاد کی کثرت کے گھمنڈ اور غرور تکبر میں مست رہ کر اپنے سے بڑا کسی کو نہیں سمجھتے ان کی حیثیت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا تکبر کا سر ہمیشہ نیچے کردیا جاتا ہے۔ فرمایا گیا کہ اللہ کو عاجزی اور انکساری بہت پسند ہے لیکن غرور تکبر سخت ناپسند ہے۔ آج بھی جو شخص فرعون کے راستے پر چلے گا اس کا انجام فرعون سے مختلف نہیں ہوگا۔ لیکن جو شخص نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام کی جیسی زندگی اختیار کرے گا اس کو دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرمائی جائیں گی۔ 3) تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں فرعون کا ذکر تو فرمایا گیا لیکن حضرت موسیٰ کے زمانہ میں کونسا فرعون تھا اس کا نام نہیں لیا کیونکہ اس کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اصل میں تو اس کردار کو سامنے لایا گیا ہے جس کا انجام برا رہوا۔ عبرت و نصیحت کے لئے یہی کافی ہے۔ البتہ معلوماتی اعتبار سے اس سلسلہ میں چند باتیں سامنے رہیں تو اچھا ہے۔ فراعنہ مصر کا خاندان تقریباً تین ہزار سال سے مصر پر حکمرا تھا اور ہر وہ شخص جو اس تخت پر بیٹھتا تھا اس کو فرعون کہا جاتا تھا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں دو فرعون گذرے ہیں جن کے نام تاریخ میں آتے ہیں ایک رعمسیس تھا جس کے محل میں حضرت موسیٰ کی پرورش ہوئی۔ اس کے مرنے کے بعد رعمسیس کا بیٹا اس تخت پر بیٹھا اس کا نام منفتاح تھا جو اس کا جانشین تھا جس کے دربار میں حضرت موسیٰ نے عصا کا معجزہ دکھایا اور تمام جادوگروں نے اس سچائی کو دیکھ کر جادو سے توبہ کی اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو قبول کر کے اللہ پر ایمان لے آئے۔ فرعون کے ڈرانے اور دھمکانے کے باوجود یہ راہ سے نہ ہٹے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی ایمانی راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور گمراہوں کے ہر راستے سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ جب اللہ نے فرعون کو ہلاک کرنا چاہا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے باہر نکال لے جایئے چناچہ وہ سب کو لے کر چلے اور رستہ میں دریائے شور حائل ہوا اور موسیٰ کی دعا سے اس میں رستہ ہوگیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا کا نتیجہ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور ان کی قوم کی آہ و زاریوں کو قبول فرمایا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ فرعون اور اس کے لشکروں کو ڈبکیاں دے دے کر مارا جس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار اور امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردے یعنی انہیں آزاد کردیا جائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرکشی نہ کرو میں تمہیں واضح طور پر دلائل دے رہا ہوں۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دہمکی دی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بچانے کی ضمانت دی ہے اگر تم میری بات نہیں مانتے تو میرا راستہ چھوڑ دو ایک مدت کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ۔ ہاں یہ بات یاد رکھنا کہ فرعون اور اس کا لشکر تمہارا پیچھا کریں گے۔ سمندر کے پانی کو کھڑا چھوڑ کر پار ہوجانا کیونکہ ہم انہیں غرق کردیں گے۔ (الدخان : ١٧۔ ٢٤) چناچہ اس طرح فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو غرق کردیا گیا۔ جب فرعون ڈبکیاں لینے لگا تو اس نے موت وحیات کی کشمکش کے دوران دہائی دیتے ہوئے کہا کہ میں اس اللہ پر ایمان لاتے ہوئے مسلمان ہوتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں یہاں تک کہ اس نے اس کا بھی اقرار کیا کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ لیکن اس کے ایمان کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ کیا اب ایمان لاتا ہے ؟ اس سے پہلے تو بار بار انکار کرچکا اور انتہا درجے کا فسادی تھا۔ بس آج تیرے وجود کو لوگوں کی عبرت کے لیے باقی رکھا جائے گا تاکہ آنے والوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ بیشک لوگوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہوتی ہے۔ بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب فرعون نے آخری وقت کلمہ پڑھ لیا تھا تو اس کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوئی ؟ یہ سوال کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ فرعون کی توبہ تین و جہ سے قبول نہیں کی گی۔ ١۔ سورة الاعراف کی آیت : ١٣٣۔ ١٣٥ میں گزر چکا ہے کہ یکے بعددیگرے کئی عذابوں میں مبتلا ہونے اور بار بار عہد کرنے کے باوجود یہ لوگ عہد شکنی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا حال معلوم تھا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اب بھی عہد شکنی کریں گے اس لیے ان کی توبہ قبول نہ کی گئی۔ ٢۔ طویل مدت تک موسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار مہلت دینے کے باوجود یہ لوگ ایمان نہ لائے جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے ایمان نہ لانے کی بددعا کی تھی گویا کہ اس بدعا کی وجہ سے اس کا ایمان قبول نہ ہوا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ انسان کی توبہ نزع کے عالم سے پہلے قبول ہوتی ہے جب موت کی واردات کا آغاز ہوتا ہے تو آدمی کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اس بنا پر بھی فرعون کی توبہ مسترد کردی گئی۔ جہاں تک اس کی لاش محفوظ رکھنے کی حکمت ہے وہ قرآن مجید نے خود ہی بیان کردی ہے تاکہ اس کی لاش کو دیکھنے والے عبرت حاصل کریں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کو خوف کے مارے یہ یقین نہیں ہورہا تھا ان کے خوف کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پانی کی لہروں کو حکم دیا کہ اس کی لاش کو پانی سے باہر اونچی جگہ پھینک دے جسے دیکھ کر بنی اسرائیل کو یقین ہوا کہ ان کا دشمن مرچکا ہے فرعون کی لاش کے بارے میں (فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ ) کہ آج ہم تیرے وجود کو باقی رکھیں گے کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا کہ یہ قیامت تک محفوظ رہے گی جبکہ دوسرے اہل علم کا خیال ہے کہ یہ صرف اسی زمانے کے لوگوں کے لیے اعلان تھا۔ واللہ اعلم۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ اللَّہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات باب قبول توبۃ العبد مالم یغرغر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ سانس کے اٹکنے سے پہلے پہلے قبول کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ ظلم کرنے والے تباہ ہوجاتے ہیں۔ ٢۔ نزع کے وقت ایمان قبول نہیں ہوتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے باغیوں کو نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ ٤۔ اکثر لوگ اللہ کی نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن فرعون اور اس کے حواریوں کا انجام : ١۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : ٩٢) ٢۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الاعراف : ٦٤) ٣۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں دریا برد کردیا۔ (الزخرف : ٥٥) ٤۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : ١٠٣) ٥۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : ٦٦) ٦۔ قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور وہ انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ (ہود : ٩٨) ٧۔ ہم نے انہیں اور ان کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ (الذاریات : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وجاوزنا ببنی اسراء یل البحر اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار کرا دیا۔ یعنی عبور کرا کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ پانی پھٹ کر ادھر ادھر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم والے (خشک زمین پر چل کر) پار نکل گئے۔ فاتبعھم فرعون و جنودہ بنی اسرائیل کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر بھی جا پہنچا۔ تَبِعَاور اَتْبَعَ جا پہنچا ‘ پیچھے سے چلا اور اگلے لوگوں سے جا کر مل گیا۔ اِتَّبَعَ (باب افتعال) پیروی کی۔ بعض نے کہا : اَتْبَعَ (باب افعال) اور اِتَّبَعَ (باب افتعال) دونوں ہم معنی ہیں۔ بغیًا وعدوا ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے۔ بعض نے کہا : بغی سے مراد ہے قول میں زیادتی اور عدوًاسے مراد ہے فعل میں زیادتی۔ غرض فرعون لشکر کو لے کر جب دریا کے کنارے پہنچا تو اندر گھسنے سے سب کو ڈر لگا مگر (غیب سے انسانی شکل بنا کر) حضرت جبرئیل گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب سے آگے پانی میں گھس پڑے۔ گھوڑی کے پیچھے فوج کے گھوڑے بھی دریا میں داخل ہوگئے۔ جب آخری آدمی تک دریا میں گھس گیا اوّل ترین آدمی نے دوسرے کنارہ سے نکلنے کا ارادہ کرلیا تو یکدم پانی برابر ہوگیا اور سب کے اوپر آگیا۔ حتی اذا ادر کہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل وانا من المسلمین۔ یہاں تک کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو بولا : مجھے یقین ہوگیا کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں جس کو بنی اسرائیل مانتے ہیں اور میں (اس کے) فرمانبراروں میں سے ہوں۔ حضرت جبرئیل نے فوراً اس کے منہ میں کیچڑ بھر دی اور توبہ قبول ہونے سے پہلے وہ مر گیا۔ جب قبول توبہ کا وقت تھا تو بدبخت منہ موڑے رہا اور جب قبول توبہ کا وقت جاتا رہا تو پرزور توبہ کی (جس کا کوئی نتیجہ نہ ہوا) ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

90 اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے اتار دیا اور پار کردیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم کی غرض سے گزر جانیوالوں کا تعاقب کیا یہاں تک کہ جب اس کو غرق نے اور ڈوبنے نے آلیا تو اس نے گھبرا کر کہا اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں بھی اطاعت گزاروں اور فرمانبرداروں میں شامل ہوں یعنی جب غرض کے عذاب نے آگھیرا اور عذاب کے فرشتے نظر آنے لگے تو پریشان و شراسیمہ ہوکر کہنے لگا کہ میں ایمان لایا لیکن عذاب کے فرشتے نظر آنے اور عذاب کے گھیر لینے کے بعد پھر ایمان لانا کیا اور ایمان کہاں ؟ وانی لھم التاوش من مکان بعید