Surat ul Asar

Surah: 103

Verse: 3

سورة العصر

اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾  28

Except for those who have believed and done righteous deeds and advised each other to truth and advised each other to patience.

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ( جنہوں نے ) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ ... Except those who believe and do righteous good deeds. So Allah makes an exception, among the species of man being in loss, for those who believe in their hearts and work righteous deeds with their limbs. ... وَتَوَاصَوْاْ بِالْحَقِّ ... And recommend one another to the truth, This is to perform acts of obedience and avoid the forbidden things. ... وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ And recommend one another to patience. meaning, with the plots, the evils, and the harms of those who harm people due to their commanding them to do good and forbidding them from evil. This is the end of the Tafsir of Surah Al-`Asr, and all praise and thanks are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 ہاں اس خسارے سے وہ لوگ محفوط ہیں جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں، کیونکہ ان کی زندگی چاہے جیسی بھی گزری ہو، موت کے بعد وہ بہر حال ابدی نعمتوں اور جنت کی پر آسائش زندگی سے بہرہ ور ہوں گے۔ آگے اہل ایمان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے۔ 3۔ 2 یعنی اللہ کی شریعت کی پابندی اور محرمات و معاصی سے اجتناب کی تلقین۔ 3۔ 3 یعنی مصائب و آلام پر صبر، احکام و فرائض شریعت پر عمل کرنے میں صبر، معاصی سے اجتناب پر صبر، لذات و خواہشات کی قربانی پر صبر، صبر بھی اگرچہ تواصی بالحق میں شامل ہے، تاہم اسے خصوصیت سے الگ ذکر کیا گیا، جس سے اس کا شرف و فضل اور خصال حق میں اس کا ممتاز ہونا واضح ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] مومنوں کی چار لازمی صفات :۔ اس آیت میں وہ چار صفات مذکور ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے انسان اخروی خسارہ سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ پہلی صفت ایمان بالغیب ہے۔ جس کے چھ اجزاء ہیں اور وہ سورة بقرہ کی آیت نمبر ٣ کے تحت تفصیل سے ذکر کیے جاچکے ہیں۔ دوسری صفت اعمال صالحہ کی بجاآوری ہے۔ اعمال صالحہ کا لفظ اس قدر وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ خیر اور بھلائی کا کوئی کام اس سے باہر نہیں رہتا۔ البتہ اس کی دو اہم شرائط ہیں۔ ایک ایمان بالغیب جس کا پہلے ذکر ہوچکا۔ ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کا کوئی تصور ہی نہیں اور دوسری یہ کہ وہ کام شریعت کی ہدایات کے مطابق سرانجام دیا جائے۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔ حق کی ضد باطل ہے۔ حق کا لفظ عموماً دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (١) سچ اور سچائی۔ حقیقت، درست یعنی ہر وہ بات یا چیز جو تجربہ اور مشاہدہ کے بعد درست ثابت ہو۔ اور (٢) وہ حق جس کا ادا کرنا انسان پر واجب ہو، خواہ وہ اللہ کا حق ہو یا بندوں کا حق ہو یا خود اس کے اپنے نفس کا حق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود ہی راستباز رہنے یا حقوق ادا کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو حق اختیار کرنے اور حق پر قائم رہنے اور حقوق ادا کرنے کی تاکید بھی کرتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام اجتماعی زندگی کو خاص اہمیت دیتا ہے اور ان لوگوں کے کرنے کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں باطل یا برائی سر اٹھانے لگتی ہے تو سب اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور حق کو غالب کرنے اور رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ بالفاظ دیگر تو اصوبالحق کا مفہوم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی ہے جس کی اہمیت کتاب و سنت میں بیشمار مقامات پر مذکور ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ اسلام یا حق کو غالب کرنے یا رکھنے کے راستہ میں جتنی مشکلات حائل ہوتی ہیں یا مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے تو وہ صرف خود ہی صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتے بلکہ ایک دوسرے کو اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں صبر کا ایک مفہوم احکام شریعت پر ثابت قدمی سے پابند رہنا بھی ہے۔ ایسی باتوں کے لیے بھی وہ ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہتے ہیں۔ جس معاشرہ میں اور اس کے افراد میں یہ چاروں صفات پائی جائیں ان کے متعلق یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور آخرت میں وہ خسارہ سے محفوظ رہیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۝ ٠ۥۙ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۝ ٣ ۧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ وصی الوَصِيَّةُ : التّقدّمُ إلى الغیر بما يعمل به مقترنا بوعظ من قولهم : أرض وَاصِيَةٌ: متّصلة النّبات، ويقال : أَوْصَاهُ ووَصَّاهُ. قال تعالی: وَوَصَّى بِها إِبْراهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ [ البقرة/ 132] وقرئ : وأَوْصَى «2» قال اللہ عزّ وجلّ : وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ [ النساء/ 131] ، وَوَصَّيْنَا الْإِنْسانَ [ العنکبوت/ 8] ، يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ [ النساء/ 11] ، مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِها[ النساء/ 12] حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنانِ ، ووَصَّى: أنشأ فضله، وتَوَاصَى القومُ : إذا أَوْصَى بعضُهم إلى بعض . قال تعالی: وَتَواصَوْا بِالْحَقِّ وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ [ العصر/ 3] أَتَواصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طاغُونَ [ الذاریات/ 53] . ( و ص ی ) الوصیۃ : واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنے کے ہیں اور یہ ارض واصیۃ کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی پیوستہ گیا ہ یعنی باہم گھتی ہوئی گھاس والی زمین کے ہیں اور اوصاہ ووصا کے معنی کسی کو وصیت کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَوَصَّى بِها إِبْراهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ [ البقرة/ 132] اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اس بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی ۔ ایک قرات میں اوصی ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَوَصَّيْنَا الْإِنْسانَ [ العنکبوت/ 8] اور ہم نے انسان کو حکم دیا ۔ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِها[ النساء/ 12] وصیت کی تعمیل کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے ۔ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنانِ [ المائدة/ 106] کہ وصیت کے وقت تم دو مر د ۔ وصی ( ایضاء) کسی کی فضیلت بیان کرنا ۔ تواصی القوم : ایک دوسرے کو وصیت کرنا قرآن پاک میں ہے : ۔ وَتَواصَوْا بِالْحَقِّ وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ [ العصر/ 3] اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے ۔ أَتَواصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طاغُونَ [ الذاریات/ 53] کیا یہ لوگ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

البتہ جو حضرات ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو توحید یا یہ کہ قرآن کریم پر بھارتے رہے اور فرائض کی ادائیگی اور ترک معاصی اور مصائب پر صبر کی ترغیب دیتے رہے سو یہ حضرات نفع میں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔ } ” سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔ “ ان شرائط میں پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان ایمان لائے۔ اس میں ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرت سمیت تمام ایمانیات شامل ہیں۔ یعنی انسان اس کائنات کے مخفی اور غیبی حقائق کو سمجھے ‘ ان کا شعور حاصل کرے اور ان کی تصدیق کرے۔ ایمان لانے کے بعد دوسری شرط اس ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے سے متعلق ہے۔ یعنی اگر انسان اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے عمل اور کردار سے ثابت ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بندہ ہے اور اس کی نافرمانی سے ڈرتا ہے۔ غرض وہ ہر اس عمل کو اپنے شب و روز کے معمول کا حصہ بنانے پر کمربستہ ہوجائے جس کا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے اور ہر اس فعل سے اجتناب کرنے کی فکر میں رہے جس سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے۔ تیسری شرط ” تواصی بالحق “ کی ہے ۔ یعنی جس حق کو انسان نے خود قبول کیا ہے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالا ہے اس حق کی تبلیغ و اشاعت کے لیے وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار بن جائے۔ اس کے بعد چوتھی اور آخری شرط ” تواصی بالصبر “ کی ہے اور یہ ” تواصی بالحق “ کا لازمی اور منطقی نتیجہ بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو بندہ ” تواصی بالحق “ کا َعلم اٹھائے گا اسے شیطانی قوتوں کی مخالفت مول لے کر آزمائش و ابتلا کی مشکل گھاٹیوں سے بھی گزرنا ہوگا اور اس راستے پر چلتے ہوئے نہ صرف اسے خود صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا بلکہ اسے اپنے ہمراہیوں اور ساتھیوں کو بھی اس کی تلقین و نصیحت کرنا ہوگی۔ اسی لیے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جب امر بالمعروف کی نصیحت کی تو ساتھ ہی صبر کی تلقین بھی کی تھی : { یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَـآ اَصَابَکَط } (لقمٰن : ١٧) ” اے میرے بچے ! نماز قائم کرو اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور جو بھی تکلیف تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو ! “ بہرحال راہ حق کے مسافروں کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ راستہ آزمائش و ابتلا کے خارزاروں سے ہو کر گزرتا ہے : { وَلَـنَـبْلُوَنَّــکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۔ } (البقرۃ) ” اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوں کو۔ “ ؎ یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 In this Surah an oath has been sworn by the Time to impress the point that man is in sheer loss and only those people are an exception from the loss who are characterised by four qualities: (1) Faith, (2) righteous deeds, (3) exhorting one another to Truth, and (4) exhorting one another to patience. Let us consider each of these parts separately in order to understand the meaning fully. As for the oath, we have explained several times above that Allah has not sworn an oath by any of the created objects on account of its glory or its excellence and wonderful qualities but for the reason that it testifies to the truth which is meant to be established. Therefore, the oath by Time signifies that Time is witness to the truth that man is in sheer loss except for the people who possess the four qualities. The word time is used for the past as well as for the passing time in which the present, in fact, does not signify any long stretch of time. Every moment, when it has passed, becomes past, and every moment of the future, when it is passing, becomes present, and when it has passed, becomes past. Here, since the oath has been sworn by time absolute, both kinds of time are included in its meaning. The oath by the past time means that human history .testifies that the people who were without these qualities, eventually incurred loss, and in order to understand the significance of the oath by the passing time, one should understand that the time which is now passing is, in fact, the time which has been given to every single individual and every single nation to work in the world. Its example is of the time which is allotted to a candidate for answering his question-paper in the examination hall. The speed with which this time is passing can be estimated from the movement of the second-hand in the watch. Even a second is a considerable amount of time, for during this very second light travels 186,000 miles, and in the Kingdom of God there may as well be many things which move even faster than light, but are net yet known to man. However, if the speed of the passing time be regarded the same as of the movement of the second-hand, and we consider that whatever act, good or bad, we perform and whatever occupation we pursue, takes place in the limited span of age that we have been given for work in the world, we feel that our real wealth is this very time, which is passing so quickly. Imam Razi has cited a scholar as saying: "I understood the meaning of Surah AI-`Asr from an ice-seller, who was calling aloud for the attention of the people repeatedly in the bazar: 'Have mercy on the one whose wealth is melting away !' Hearing what he was crying I said to myself: this then is the meaning of Wal- asr-i innal-insana la-fi khusr-in. The age-limit that man has been allotted is passing quickly" like the melting away of ice. if it is wasted, or expended in wrong pursuits, it will be sheer loss to man. Thus, swearing an oath by the Time what has been said in this Surah, means that the fast passing Time is witness that devoid of these four qualities in whatever occupation and work man is expending his limited span of life, he is engaged in bad bargains; only such people are engaged in good bargains, who work in the world, characterised by the four qualities. It would be just like calling attention of the candidate, who was expending the time allotted for solving the question paper in some other pursuit, to the wall clock in the examination hall, to tell him that the passing time bore witness that he was causing loss to himself; the candidate benefiting by the Time was he who was using every moment of the allotted time in solving the paper. , Though the word Man has been used in the singular, in the following sentences those people have been made an exception from it, who are characterised by the four qualities. Therefore, one will have to admit that here the word Man has been used as a collective noun, denoting a class, and it applies equally to individuals, groups, nations, and entire mankind. Thus,. the general statement that whoever is devoid of the above four qualities, is in loss, would be proved in any case whether it is a person who is devoid of these, or a nation, or all men' of the world. It will be just like giving the verdict that poison is fatal for man; it will mean that poison is fatal in any case whether it is taken by an individual, or a nation, or all the people of the world. Poison's being fatal is an unchangeable truth; it dces not make any difference whether one man has taken it, or a nation has decided to take it, or all the people of the world collectively have agreed to take poison. Precisely in the same way this truth by itself is unchangeable that man's being devoid of the above foul qualities brings him loss. The general rule is not at all affected even if one man is devoid of these, or a nation, or all the people of the world agree that they would exhort one another to disbelief, immorality, falsehood and servitude to the self. Now, let us see in what sense has the Qur'an used the word khusr (loss) . Lexically, khusr is an antonym of nafa `(profit) ; in trade this word is used in the case when loss results from one bargain as well as in the case when the whole business is running in loss, and also in the case when man loses all his capital and becomes bankrupt. The Qur'an has made this word a special term of its own and uses it as an antonym of falah (true success) . And just as its concept of falah is not merely synonymous with. worldly prosperity but comprehends man's true success from the world till the Hereafter, so its concept of khusr (loss) also is not merely synonymous with worldly failure or distress but comprehends man's real failure and disappointment from the world till the Hereafter. We have explained the Qur'anic concept of both falah and khusran at several places above which need not be repeated here. (For this please see E.N. 9 of Al-A`raf, E.N. 30 of Al-Anfal, E.N. 23 of Yunus, E.N. 102 of Bani Isra'il, E.N. 17 of Al-Hajj, E N.'s 1, 2, 11, 50 of AI-Mu'minun, E.N.4 of Luqman, E.N. 34 of Az-Zumar) . Besides., one should also understand that although according to the Qur'an true success is man's success in the Hereafter and real loss his failure there, yet in this world too what the people describe as success is not, in fact, real success but its end in this world itself is failure, and what they regard as loss is not, in fact, loss but a means of true success even in this world. This truth has been stated by the Qur'an at several places and we have explained it everywhere accordingly. (Please see E.N. 99 of An-Nahl E.N. 53 of Maryam, E.N. 105 of Ta Ha, E.N.'s 3-5 of Al-Lail) . Thus, when the Qur'an states conclusively and absolutely that Man is certainly in loss, it implies loss both in this world and in the Hereafter; and when it says that only such people are secure from this loss, who are characterised by the four qualities, it implies their being secure from loss and attaining true success both here and in the Hereafter. Now, let us consider the four qualities on the existence of which depends man's being secure from loss and failure. Of these the first quality is Iman (Faith) . Although this word at some places in the Qur'an has been used in the meaning of only verbal affirmation of Faith (e.g. in An-Nisa': 137, AI-Ma'idah 54, Al-Anfal: 20, 27, At-Taubah: 38, As-Saff: 2) it has primarily been used in the meaning of believing sincerely and faithfully, and in the Arabic language also this word has this very meaning. Lexically, amanu lahu means saddaqa-hu wa `tamada 'alai-hi: "affirmed him and put faith in him", and amana bi-hi means aiqana bi hi: "had full faith in him." The Faith which the Qur'an regards as true Faith has been explained in the following verses: "In fact, true believers are those who believed in Allah and His Messenger, then entertained no doubt." (Al-Hujurat: 15) "Those who said: 'Allah is our Lord', and then stood steadfast by it." (Ha Mim As-Sajdah : 30) "True believers are those whose hearts tremble with awe, whenever Allah is mentioned to them. (AI-Anfal : 2) . "Those who have believed adore Allah most ardently." (AI-Baqarah 165) "Nay, (O Prophet) , by your Lord, they can never become believers until they accept you as judge for the decision of the disputes between them, and then surrender to your decision with entire submission without the least resentment in their hearts." (An-Nisa': 65) . The following verse is even more explicit as regards the distinction between verbal affirmation of Faith and true Faith; it says that what is actually desirable is true Faith and not mere verbal affirmation of the Faith: "O you who profess to have believed, believe sincerely in Allah and His Messenger." (An-Nisa': 136) As for the question, what has one to believe in, in order to have true faith? This also has been answered and explained in the Qur'an most explicitly. First, it implies that one has to believe in Allah, not merely in His Being but in the sense that He alone is God; no one else is an associate in His Godhead; He alone is worthy that man should worship, serve and obey Him; He alone can make or mar destinies; man should invoke Him alone and have trust in Him alone; He alone can enjoin things and forbid things; man is under obligation to obey Him and refrain from what he forbids; He sees everything and hears everything; not to speak of any act of man, even his motives and intentions with which he has done an act, are not hidden from Him. Secondly, one has to believe in the Messenger, in the sense that he is a guide and leader appointed by Allah: whatever he has taught, is from Allah, is based upon the truth and has to be acknowledged and accepted. This belief in Apostleship also includes faith in the angels, the Prophets, the Divine Books and in the Qur'an itself, for this forms part of the teachings which the Messenger of Allah has given. Thirdly, one has to believe in the Hereafter, in the sense that man's present life is not his first and last life, but after death man has to be resurrected, to render an account to God of the deeds done in the present life, and has to be rewarded for the good deeds and punished for the evil deeds accordingly. This Faith provides a firm basis for morality and character, upon which can be built the edifice of a pure life, whereas the truth is that without such Faith, the life of man, however beautiful and pleasing outwardly, is like a ship without an anchor, which is at the mercy of the waves wherever they may take it. After Faith the second quality required to save man from loss is to perform righteous deeds (salihalt) Salihat comprehends all kinds of virtuous and good deeds. However, according to the Qur'an, no act can be a good act unless it is based on Faith and it is performed in obedience to the guidance given by Allah and His Messenger. That is why in the Qur'an exhortation to perform good deeds is preceded everywhere by Faith, and in this Surah too it has been mentioned after the Faith. Nowhere in the Qur'an has a deed without Faith been called a good deed, nor any reward promised for a deed performed without Faith. On the contrary, this also is a fact that only that Faith is reliable and beneficial, the sincerity of which is proved by man's own act and deed, otherwise Faith without righteous deeds would be a false claim refuted by the man himself when in spite of this claim he follows a way opposed to the way taught by Allah and His Messenger. The relationship between Faith and righteous deed is of the seed and the tree Unless the seed is sown in the soil no tree can grow out of it. But if the seed is in the soil and no tree is growing out of it, it would mean that the seed is lost in the soil. On this very basis whatever good news has been given in the Qur'an, has been given to the people who believe and do good deeds, and the same has been reiterated in this Surah. What man requires to do after the Faith in order to remain secure from loss is to perform righteous deeds. In other words, mere Faith without righteous deeds cannot save man from loss. The above two qualities are such as must be possessed by every single individual. Then, the Surah mentions two further qualities, which a man must have in order to be saved from loss. They are that the people who believe and do good deeds must exhort one another to truth and to patience. This means that. in the first place, a believing and righteous people should not live as individuals but should create a believeing and righteous society by their combination. Second, that every individual of this society must feel his responsibility not to let the society become degenerate. Thus, all its members are duty bound to exhort one another to truth and to patience. Truth is the antonym of falsehood, and generally it is used in , two meanings: (1) A correct and right thing which is in accordance with justice and truth, whether it relates to belief and faith or to mundane affairs; and (2) the right which is obligatory on tnan to render, whether it is the right of God, the right of man, or the right of one's own self. Thus, to exhort one another to truth means that the society of the believers should not be so insensitive that falsehood may thrive and things against justice and truth be done in it, and the people be watching everything indifferently. On the contrary, it should be a living, sensitive society so that whenever and wherever falsehood appears, the upholders of the Truth should rise up against it, and no member of the society rest content with only himself adhering to truth, righteousness, justice and rendering the rights of others, but should exhort others also to adopt the same way of life. This is the spirit that can ensure security of a society against moral degeneration and decay. If a society becomes devoid of this spirit, it cannot remain secure from loss, and eventually even those people also are affected by the loss, who might in their own way be adhering to the truth, but were insensitive to violation of the truth in their society. The same has been stated in Al-Ma'idah, thus: "Those who adopted the way of disbelief among the children of Israel were cursed by the tongue of David and of Jesus, son of Mary, because they had grown rebellious and become transgressors: they would not forbid one another to do the wrong deeds they committed. ° (w. 78-79) . Then the same idea has been expressed in Al-A`raf, thus: "When the children of Israel totally forgot the teachings (of observing the Sabbath) , We seized with a severe scourge all those who were transgressors, and We saved those who used to forbid evil" (v. 165) ; and in Surah Al-Anfal, thus: "And guard against that mischief which will not bring punishment in particular to the mischief-makers alone from among you." (v. 25) That is why to enjoin what is good and to forbid what is evil, has been enjoined on the Muslim community as a duty (Al-`Imran 104) and the community which performs this duty has been declared to be the best community (Al-`Imran: 110) . Besides exhorting to the truth, the other thing which has been declared as a necessary condition for keeping the believers and their society secure from loss is that the members of the society should enjoin patience upon one another. That is, they should enjoin upon one another to bear with fortitude and steadfastness the difficulties, hardships, trials, losses and deprivations which befall the one who adheres to the truth and supports it. Each one of them should encourage the other to bear up against adversity steadfastly. (For further explanation, see E.N. 16 of Ad-Dahr, E.N. 14 of Al-Balad) .

سورة العصر حاشیہ نمبر : 1 اس سورۃ میں زمانے کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ انسان بڑے خسارے میں ہے ، اور اس خسارے سے صرف وہی لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر چار صفتیں پائی جاتی ہیں ۔ ( 1 ) ایمان ( 2 ) عمل صالح ( 3 ) ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا ( 4 ) ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا ۔ اب اس کے ایک ایک جز کو الگ لے کر اس پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس ارشاد کا پورا مطلب واضح ہوجائے ۔ جہاں تک قسم کا تعلق ہے اس سے پہلے بارہا ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالی نے مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم اس کی عظمت یا اس کے کمالات و عجائب کی بنا پر نہیں کھائی ہے ، بلکہ اس بنا پر کھائی ہے کہ وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہے ۔ پس زمانے کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ انسان بڑے خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جن میں یہ چار صفتیں پائی جاتی ہوں ۔ زمانے کا لفظ گزرے ہوئے زمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ، اور گزرتے ہوئے زمانے کے لیے بھی جس میں حال درحقیقت کسی لمبی مدت کا نام نہیں ہے ۔ ہر آن گزر کر ماضی بنتی چلی جارہی ہے ، اور ہر آن آکر مستقبل کو حال اور جاکر حال کو ماضی بنا رہی ہے ۔ یہاں چونکہ مطلقا زمانے کی قسم کھائی گئی ہے ، اس لیے دونوں طرح کے زمانے اس کے مفہوم میں شامل ہیں ۔ گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو لوگ بھی ان صفات سے خالی تھے وہ بالآخر خسارے میں پڑ کر رہے ۔ اور گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب سمجھنے کے لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جو زمانہ اب گزر رہا ہے وہ دراصل وہ وقت ہے جو ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کو دنیا میں کام کرنے کے لیے دیا گیا ہے ۔ اس کی مثال اس وقت کی سی ہے جو امتحان گاہ میں طالب علم کو پرچے حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے ۔ یہ وقت جس تیز رفتاری کے ساتھ گزر رہا ہے اس کا اندازہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھنے سے آپ کو ہوجائے گا ۔ حالانکہ ایک سیکنڈ بھی وقت کی بہت بڑی مقدار ہے ۔ اسی ایک سیکنڈ میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا راستہ طے کرلیتی ہے ، اور خدا کی خدائی میں بہت سی چیزیں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جو اس سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوں خواہ وہ ابھی تک ہمارے علم میں نہ آئی ہوں ۔ تاہم اگر وقت کے گزرنے کی رفتار وہی سمجھ لی جائے جو گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کے چلنے سے ہم کو نظر آتی ہے ، اور اس بات پر غور کیا جائے کہ ہم جو کچھ بھی اچھا یا برا فعل کرتے ہیں اور جن کاموں میں بھی ہم مشغول رہتے ہیں ، سب کچھ اس محدود مدت عمر ہی میں وقوع پذیر ہوتا ہے جو دنیا میں کام کرنے کے لیے دی گئی ہے ، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ تو یہی وقت ہے جو تیزی سے گزر رہا ہے ۔ امام رازی نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے سورہ عصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ رحم کرو اس شخس پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے ، رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے ، اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا یہ ہے وَالْعَصْرِ ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ ۔ کا مطلب ۔ عمر کی جو مدت انسان کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گزر رہی ہے ۔ اس کو اگر ضائع کیا جائے ، یا غلط کاموں میں صرف کر ڈالا جائے تو یہی انسان کا خسارہ ہے ۔ پس گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھا کر جو بات اس سورہ میں کہی گئی ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ تیز رفتار زمانہ شہادت دے رہا ہے کہ ان چار صفات سے خالی ہوکر انسان جن کاموں میں بھی اپنی مہلت عمر کو صرف کر رہا ہے وہ سب کے سب خسارے کے سودے ہیں ۔ نفع میں صرف وہ ولگ ہیں جو ان چاروں صفات سے متصف ہوکر دنیا میں کام کریں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہم اس طالب علم سے جو امتحان کے مقررہ وقت کو اپنا پرچہ حل کرنے کے بجائے کسی اور کام میں گزار رہا ہو ، کمرے کے اندر لگے ہوئے گھنٹے کی طرف اشارہ کر کے کہیں کہ یہ گزرتا ہوا وقت بتا رہا ہے کہ تم اپنا نقصان کر رہے ہو ، نفع میں صرف وہ طالب علم ہے جو اس وقت کا ہر لمحہ اپنا پرچہ حل کرنے میں صرف کررہا ہے ۔ انسان کا لفظ اگرچہ واح ہے ، لیکن بعد کے فقرے میں اس سے ان لوگوں کو مستثنی کیا گیا ہے جو چار صفات سے متصف ہوں ، اس لیے لا محالہ یہ مانا پڑے گا کہ یہاں لفظ انسان اسم جنس کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق افراد ، گروہوں ، اقوام ، اور پوری نوع انسانی پر یکساں ہوتا ہے ۔ پس یہ حکم کہ مذکورہ چار صفات سے جو بھی خالی ہو وہ خسارے میں ہے ، ہر حالت میں ثابت ہوگا ، خواہ ان سے خالی کوئی شخص ہو ، یا کوئی قوم ، یا دنیا بھر کے انسان ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم اگر یہ حکم لگائیں کہ زہر انسان کے لیے مہلک ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زہر بہرحال مہلک ہے خواہ ایک فرد اس کو کھائے ، یا ایک پوری قوم ، یا ساری دنیا کے انسان مل کر اسے کھا جائیں ۔ زہر کی مہلک خاصیت اپنی جگہ اٹل ہے ، اس میں اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک شخص نے اس کو کھایا ہے ، یا ایک قوم نے اسے کھانے کا فیصلہ کیا ہے ، یا دنیا بھر کے انسانوں کا اجماع اس پر ہوگیا ہے کہ زہر کھانا چاہیے ۔ ٹھیک اسی طرح یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ چار مذکورہ بالا صفات سے خالی ہونا انسان کے لیے خسارے کا موجب ہے ۔ اس قاعدہ کلیہ میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ایک شخس ان سے خالی ہو ، یا کسی قوم نے ، یا دنیا بھر کے انسانوں نے کفر ، بد عملی ، اور ایک دوسرے کو باطل کی ترغیب دینے اور بندگی نفس کی تلقین کرنے پر اتفاق کرلیا ہے ۔ اب یہ دیکھیے کہ خسارے کا لفظ قرآن مجید کس معنی میں استعمال کرتا ہے ۔ لغت کے اعتبار سے خسارہ نفع کی ضد ہے ، اور تجارت میں اس لفظ کا استعمال اس حالت میں بھی ہوتا ہے جب کسی ایک سودے میں گھاٹا آئے اور اس حالت میں بھی جب سارا کاروبار گھاٹے میں جارہا ہو ، اور اس حالت میں بھی جب اپنا سارا سرمایہ کھو کر آدمی دیوالیہ ہوجائے ۔ قرآن مجید اسی لفظ کو اپنی خاص اصطلاح بنا کر فلاح کے مقابلے میں استعمال کرتا ہے ، اور جس طرح اس کا تصور فلاح محض دنیوی خوشحالی کا ہم معنی نہیں ہے بلکہ دنیا سے لے کر آخرت تک انسان کی حقیقی کامیابی پر حاوی ہے ، اسی طرح اس کا تصور خسران بھی محض دنیوی ناکامی یا خستہ حالی کا ہم معنی نہیں ہے بلکہ دنیا سے لے کر آخرت تک انسان کی حقیقی ناکامی و نامرادی پر حاوی ہے ۔ فلاح اور خسران دونوں کے قرآنی تصور کی تشریح اس سے پہلے ہم متعدد مقامات پر کرچکے ہیں اس لیے ان کے اعادے کی حاجت نہیں ہے ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، الاعراف حاشیہ9 ۔ الانفال حاشیہ 30 ۔ یونس حاشیہ 23 ۔ بنی اسرائیل حاشیہ 102 ۔ جلد سوم ، الحج حاشیہ 17 ۔ المومنون حواشی ، 1 ۔ 2 ۔ 11 ۔ 50 ۔ جلد چہارم ، لقمان حاشیہ 4 ۔ الزمر حاشیہ 34 ) اس کے ساتھ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگرچہ قرآن کہ نزدیک حقیقی فلاح آخرت میں انسان کی کامیابی ، اور حقیقی خسارہ وہاں اس کی ناکامی ہے ، لیکن اس دنیا میں بھی جس چیز کا نام لوگوں نے فلاح رکھ چھوڑا ہے وہ دراصل فلاح نہیں ہے بلکہ اس کا انجام خود اسی دنیا میں خسارہ ہے ، اور جس چیز کو لوگ خسارہ سمجھتے ہیں وہ دراصل خسارہ نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں بھی وہی فلاح کا ذریعہ ہے ۔ اس حقیقیت کو قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور ہر جگہ ہم نے اس کی تشریح کردی ہے ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل حاشیہ 99 ۔ جلد سوم ، مریم حاشیہ 53 ۔ طہ حاشیہ 105 ۔ جلد ششم ، اللیل ، حواشی 3 ۔ 5 ) پس جب قرآن پورے زور اور قطعیت کے ساتھ کہتا ہے کہ درحقیقت انسان بڑے خسارے میں ہے تو اس کا مطلب دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ ہے ، اور جب وہ کہتا ہے کہ اس خسارے سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر حسب ذیل چار صفات پائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب دونوں جہانوں میں خسارے سے بچنا اور فلاح پانا ہے ۔ اب ہمیں ان چاروں صفات کو دیکھنا چاہیے جن کے پائے جانے پر اس سورۃ کی رو سے انسان کا خسارے سے محفوظ رہنا موقوف ہے ۔ ان میں پہلی صفت ایمان ہے ۔ یہ لفظ اگرچہ بعض مقامات پر قرآن مجید میں محض زبانی اقرار ایمان کے معنی میں بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ ( مثلا النساء ، آیت 137 ۔ المائدہ ، آیت 54 ۔ الانفال ، آیت 20 ۔ 27 ۔ التوبہ آیت 38 ۔ الصف آیت 2 میں ) لیکن اس کا اصل استعمال سچے دل سے ماننے اور یقین کرنے کے معنی ہی میں کیا گیا ہے ، اور عربی زبان میں بھی اس لفظ کے یہی معنی ہیں ۔ لغت میں امن لہ کے معنی ہیں صدقہ واعتمد علیہ ( اس کی تصدیق کی اور اس پر اعتماد کیا ) اور امن بہ کے معنی ہیں ایقن بہ ( اس پر یقین کیا ) قرآن دراصل جس ایمان کو حقیقی ایمان قرار دیتا ہے ، اس کو ان آیات میں پوری طرح واضح کردیا گیا ہے ۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا ( الحجرات ۔ 15 ) مومن تو حقیقت میں وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک میں نہ پڑے ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا ( حم السجدہ ۔ فصلت ۔ آیت 30 ) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ گئے ۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ( الانفال 2 ) جائے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ( البقرہ ، 165 ) اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت رکھتے ہیں ۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا ( النساء ، 65 ) پس نہیں ( اے نبی ) تمہارے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہیں ہیں جب تک کہ اپنے باہمی اختلاف میں تمہیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں ۔ ان میں بھی زیادہ اس آیت میں زبانی اقرار ایمان اور حقیقی ایمان کا فرق ظاہر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اصل مطلوب حقیقی ایمان ہے نہ کہ زبانی اقرار: يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ( النساء ، آیت 136 ) اے لوگ جو ایمان لائے ہو ، ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر ۔ اب رہا یہ سوال کہ ایمان لانے سے کن چیزوں پر ایمان لانا مراد ہے ، تو قرآن مجید میں پوری طرح اس بات کو بھی کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے ۔ اس سے مراد اولا اللہ کو ماننا ہے ۔ محض اس کے وجود کو ماننا نہیں بلکہ اسے اس حیثیت سے ماننا ہے کہ وہی ایک خدا ہے ، خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے ، وہی اس کا مستحق ہے کہ انسان اس کی عبادت ، بندگی اور اطاعت بجا لائے ۔ وہی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے والا ہے ، بندے کو اسی سے دعا مانگنی چاہیے اور اسی پر توکل کرنا چاہیے ۔ وہی حکم دینے اور منع کرنے والا ہے ۔ بندے کا فرض ہے کہ اس کے حکم کی اطاعت کرے اور جس چیز سے اس نے منع کیا ہے اس سے رک جائے ۔ وہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے ، اس سے انسان کا کوئی فعل تو درکنار ، وہ مقصد اور نیت بھی مخفی نہیں ہے جس کے ساتھ اس نے کوئی فعل کیا ہے ۔ ثانیا رسول کو ماننا ، اس حیثیت سے کہ وہ اللہ تعالی کا مامور کیا ہوا ھادی اور رہنما ہے ، اور جس چیز کی تعلیم بھی اس نے دی ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ، برحق ہے ، اور واجب التسلیم ہے ۔ اسی ایمان بالرسالت میں ملائکہ ، انبیاء اور کتب الہیہ پر ، اور خود قرآن پر بھی ایمان لانا شامل ہے ، کیونکہ یہ ان تعلیمات میں سے ہے جو اللہ کے رسول نے دی ہیں ۔ ثالثا آخرت کو ماننا ، اس حیثیت سے کہ انسان کی موجودہ زندگی پہلی اور آخری زندگی نہیں ہے ، بلکہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا ہے ، اپنے ان اعمال کا جو اس نے دنیا کی اس زندگی میں کیے ہیں ، خدا کو حساب دینا ہے ، اور اس محاسبہ میں جو لوگ نیک قرار پائیں انہیں جزاء ، اور جو بد قرار پائیں ان کو سزا ملنی ہے ۔ یہ ایمان اخلاق اور سیرت و کردار کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کردیتا ہے جس پر ایک پاکیزہ زندگی کی عمارت قائم ہوسکتی ہے ۔ ورنہ جہاں سرے سے یہ ایمان ہی موجود نہ ہو وہاں انسان کی زندگی خواہ کتنی ہی خوشنما کیوں نہ ہو ، اس کا حال ایک بے لنگر کے جہاز کا سا ہوتا ہے جو موجوں کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے اور کہیں قرار نہیں پکڑ سکتا ۔ ایمان کے بعد دوسری صفت جو انسان کو خسارے سے بچانے کے لیے ضروری ہے وہ صالحات ( نیک کاموں ) پر عمل کرنا ہے ۔ صالحات کا لفظ تمام نیکیوں کا جامع ہے جس سے نیکی اور بھلائی کو کوئی قسم چھوٹی نہیں رہ جاتی ۔ لیکن قرآن کی رو سے کوئی عمل بھی اس وقت تک عمل صالح نہیں ہوسکتا جب تک اس کی جڑ میں ایمان موجود نہ ہو ، اور وہ اس ہدایت کی پیروی میں نہ کیا جائے جو اللہ اور اس کے رسول نے دی ہے ۔ اسی لیے قرآن مجید میں ہر جگہ عمل صالح سے پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا ہے اور اس سورہ میں بھی اس کا ذکر ایمان کے بعد ہی آیا ہے ۔ کسی ایک جگہ بھی قرآن میں ایمان کے بغیر کسی عمل کو صالح نہیں کہا گیا ہے اور نہ عمل بلا ایمان پر کسی اجر کی امید دلائی گئی ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایمان وہی معتبر اور مفید ہے جس کے صادق ہونے کا ثبوت انسان اپنے عمل سے پیش کرے ۔ ورنہ ایمان بلا عمل صالح محض ایک دعوی ہے جس کی تردید آدمی خود ہی کردیتا ہے جب وہ اس دعوے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر چلتا ہے ۔ ایمان اور عمل صالح کا تعلق بیج اور درخت کا سا ہے ۔ جب تک بیج زمین میں نہ ہو ، کوئی درخت پیدا نہیں ہوسکتا ۔ لیکن اگر بیج زمین میں ہو اور کوئی درخت پیدا نہ ہورہا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بیج زمین میں دفن ہوکر رہ گیا ۔ اسی بنا پر قرآن پاک میں جتنی بشارتیں بھی دی گئی ہیں انہی لوگوں کو دی گئی ہیں جو ایمان لاکر عمل صالح کریں ، اور یہی بات اس سورہ میں بھی کہی گئی ہے کہ انسان کو خسارے سے بچانے کے لیے جو دوسری صفت ضروری ہے وہ ایمان کے بعد صالحات پر عمل کرنا ہے ۔ بالفاظ دیگر عمل صالح کے بغیر محض ایمان آدمی کو خسارے سے نہیں بچا سکتا ۔ مذکورہ بالا دو صفتیں تو وہ ہیں جو ایک ایک فرد میں ہونی چاہیں ۔ اس کے بعد یہ سورۃ دو مزید صفتیں بیان کرتی ہے جو خسارے سے بچنے کے لیے ضروری ہیں ، اور وہ یہ ہیں کہ ایمان لانے اور عمل صالح کرنے والے لوگ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کریں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اول تو ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کو فرد فرد بن کر نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کے اجتماع سے ایک مومن و صالح معاشرہ وجود میں آنا چاہیے ۔ دوسرے اس معاشرے کے ہر فرد کو اپنی یہ ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے کہ وہ معاشرے کو بگڑنے نہ دے ، اس لیے اس کے تمام افراد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کریں ۔ حق کا لفظ باطل کی ضد ہے اور بالعموم یہ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ ایک صحیح اور سچی اور مطابق عدل و انصاف اور مطابق حقیقت بات ، خواہ وہ عقیدہ ایمان سے تعلق رکھتی ہو یا دنیا کے معاملات سے ۔ دوسرے وہ حق جس کا ادا کرنا انسان پر واجب ہو ، خواہ وہ خدا کا حق ہو یا بندوں کا حق یا خود اپنے نفس کا حق ۔ پس ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کا یہ معاشرہ ایسا بے حس نہ ہو کہ اس میں باطل سر اٹھا رہا ہو اور حق کے خلاف کام کیے جارہے ہوں ، مگر لوگ خاموشی کے ساتھ اس کا تماشا دیکھتے رہیں ، بلکہ اس معاشرے میں یہ روح جاری و ساری رہے کہ جب اور جہاں بھی باطل سر اٹھائے کلمہ حق کہنے والے اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں ، اور معاشرے کا ہر فرد صرف خود ہی حق پرستی اور راستبازی اور عدل و انصاف پر قائم رہنے اور حق داروں کے حقوق ادا کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ دوسروں کو بھی اس طرز عمل کی نصیحت کرے ۔ یہ وہ چیز ہے جو معاشرے کو اخلاقی زوال و انحطاط سے بچانے کی ضامن ہے ۔ اگر یہ روح کسی معاشرے میں موجود نہ رہے تو وہ خسران سے نہیں بچ سکتا اور اس خسران میں وہ لوگ بھی آخر کار مبتلا ہوکر رہتے ہیں جو اپنی جگہ حق پر قائم ہوں مگر اپنے معاشرے میں حق کو پامال ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں ۔ یہی بات ہے جو سورہ مائدہ میں فرمائی گئی ہے کہ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد اور حضرت عیسی ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی اور اس لعنت کی وجہ یہ تھی کہ ان کے معاشرے میں گناہوں اور زیادتیوں کا ارتکاب عام ہو رہا تھا اور لوگوں نے ایک دوسرے کو برے افعال سے روکنا چھوڑ دیا تھا ( آیات ، 78 ۔ 79 ) پھر اسی بات کو سورہ اعراف میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے جب کھلم کھلا سبت کے احکام کی خلاف ورزی کر کے مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں تو ان پر عذاب نازل کردیا گیا اور اس عذاب سے صرف وہی لوگ بچائے گئے جو اس گناہ سے روکنے کی کوشش کرتے تھے ( آیات ، 163 تا 166 ) اور اسی بات کو سورہ انفال میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو ( آیت 25 ) اسی لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو امت مسلمہ کا فریضہ قرار دیا گیا ہے ( آل عمران ۔ 104 ) اور اس امت کو بہترین امت کہا گیا ہے جو یہ فریضہ انجام دے ( آل عمران 110 ) حق کی نصیحت کے ساتھ دوسری چیز جو اہل ایمان اور ان کے معاشرے کو خسارے سے بچانے کے لیے شرط لازم قرار دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس معاشرہ کے افراد ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہیں ۔ یعنی حق کی پیروی اور اس کی حمایت میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ، اور اس راہ میں جن تکالیف سے ، جن مشقتوں سے ، جن مصائب سے اور جن نقصانات اور محرومیوں سے انسان کو سابقہ پیش آتا ہے ان کے مقابلے میں وہ ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہیں ۔ ان کا ہر فرد دوسرے کی ہمت بندھاتا رہے کہ وہ ان حالات کو صبر کے ساتھ برداشت کرے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد ششم ، الدھر ، حاشیہ 16 ۔ البلد حاشیہ 14 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

################

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(103:3) الا الذین امنوا وعملوا الصلحت : الا حرف استثناء یہ الانسان سے استثناء متصل ہے۔ اور اگر الانسان سے یہاں مراد کافر لئے جاویں تو استثناء منقطع ہے۔ الذین اسم موصول امنوا اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر مستثنیٰ ۔ اور الانسان مستثنیٰ منہ۔ وعملوا الصلحت : وتواصوا بالحق۔ وتواصوا بالصبر۔ تینوں جملوں کا عطف امنوا پر ہے اور تینوں الا کے تحت مستثنیٰ ہیں۔ تواصوا : تواصی (تفاعل) مصدر سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ انہوں نے وصیت کی۔ وہ کہہ مرے۔ انہوں نے تاکید کی۔ چونکہ باب تفاعل کی خاصیت میں سے ایک خاصیت اشتراک بھی اہم خاصیت ہے۔ لہٰذا معنی ہوں گے :۔ اور باہم حق بات کی تلقین کرتے رہے اور صبر کی تاکید باہم کرتے رہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 حق سے مراد ہے توحید و رسالت پر ایمان، شریعت کے عائد کردہ احکام پر عمل اور منع کردہ امور سے اجتناب۔2 یعنی راہ حق میں پیش آنے والی دشواریوں اور مصیبتوں سے حوصلہ نہ ہارنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

خسارہ والوں سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ﴾ (سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے) ﴿ وَ تَوَاصَوْا بالْحَقِّ ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بالصَّبْرِ (رح) ٠٠٣﴾ (اور آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور آپس میں ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی) جو حضرات ان صفات سے متصف ہیں وہ نقصان والے نہیں ہیں پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اعمال صالحہ انجام دینے والے ہیں اور دوسری صفت یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتے ہیں یعنی خود تو اچھے اعمال کرتے ہی ہیں (جن میں گناہوں کا چھوڑنا بھی شامل ہے) اپنے آپس کے ملنے جلنے والوں، پاس اٹھنے والوں مجلس کے ساتھیوں ہمسفر اصحاب اور دیگر احباب اور گھر کے لوگ سب آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں کہ حق قبول کریں حق کے ساتھ چلیں اور انہی اعمال کو اختیار کریں جو حق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں صحیح ہوں اور تیسری صفت یہ ہے کہ آپس میں یہ بھی وصیت کریں کہ جو دنیا میں تکلیفیں آئیں انہیں برداشت کریں اور گناہوں سے بچتے رہیں اور نیکیوں پر لگے رہیں (یہ تینوں صبر کے اجزاء ہیں) اور صبر کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ جن لوگوں کو حق کی دعوت دی جائے ان کی برطرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کو بھی برداشت کیا جائے۔ انسان کو سوچنا چاہیے کہ میری زندگی کے لیل و نہار کس طرح گزر رہے ہیں ؟ نقصان والی زندگی ہے یا فائدہ والی ؟ جو لوگ اہل ایمان ہیں اپنے ایمان کی پختگی اور مضبوطی کی طرف دھیان دیں کہ کس درجہ کا ایمان ہے اعمال صالحہ میں بڑھتے چلے جائیں۔ عمر کا ذرا سا وقت بھی ضائع نہ ہونے دیں، ذرا ذرا سے وقت کو آخرت کے کاموں میں خرچ کریں جب اللہ تعالیٰ شانہ نے سب سے بڑے خسارہ یعنی کفر سے بچا دیا ایمان کی دولت سے نواز دیا تو اب اس کے لیے فکر مند ہوں کہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائیں اور آخرت میں بلند درجات حاصل کریں۔ لوگوں کو نہ اپنے آخرت کے منافع کی فکر ہے نہ دین اسلام کی قدردانی ہے۔ خود بھی نیک بنیں دوسروں کو بھی نیک بنائیں گناہوں سے روکیں اور جو کوئی تکلیف پہنچے اس پر صبر کریں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کریں۔ رات دن میں ٢٤ گھنٹے ہوتے ہیں ان میں سے عام طور پر تجارت یا سروس اور محنت مزدوری میں ٨ گھنٹے خرچ ہوتے ہیں کچھ وقت سونے میں گزرتا ہے باقی گھنٹے کہاں جاتے ہیں ؟ ان میں سے مجموعی حیثیت ٣، ٣ گھنٹے نماز کے اور کھانے کے، باقی وقت ضائع ہوجاتا ہے اور یہ ضائع بھی ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے جو گناہوں میں مشغول نہ ہوں کیونکہ جو وقت گناہوں میں لگا وہ تو وبال ہے اور باعث عذاب ہے۔ مسلمان آدمی کو آخرت کی نجات کے لیے اور وہاں کے رفع درجات کے لیے فکر مند ہونا لازم ہے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ملازمتوں سے ریٹائرڈ ہوگئے، کاروبار لڑکوں کے سپرد کردیئے دنیا کمانے کی ضرورت بھی نہیں رہی بہت کرتے ہیں فرض نماز پڑھ لیتے ہیں پوتی پوتا کو گود میں لے لیتے ہیں اس کے علاوہ سارا وقت یوں ہی گزر جاتا ہے حالانکہ یہ وقت بڑے اجر وثواب میں لگ سکتا ہے۔ ذکر میں تلاوت میں، درود شریف پڑھنے میں، اہل خانہ کو نماز سکھانے اور دینی اعمال پر ڈالنے اور تعلیم و تبلیغ میں سارا وقت خرچ کریں تو آخرت کے عظیم درجات حاصل ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پچاس پچپن سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہوتے ہیں کاروبار سے فارع ہوجاتے ہیں اس کے بعد برس ہا برس تک زندہ رہتے ہیں۔ بہت سے لوگ ٨٠ سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں ریٹائر ہونے کے بعد یہ ٢٥۔ ٣٠ سال کی زندگی لایعنی فضول باتوں بلکہ غیبتوں میں، تاش کھیلنے میں، ٹیوی دیکھنے میں وی سی آر سے لطف اندوز ہونے میں گزار دیتے ہیں نہ گناہ سے بچتے ہیں نہ لایعنی باتوں اور کاموں سے پرہیز کرتے ہیں یہ بڑی محرومی کی زندگی ہے۔ گناہ تو باعث عذاب اور وبال ہیں ہی ہوش مند وہ ہے جو اپنی زندگی کو نیک کاموں میں خرچ کرے تاکہ اس کی محنت اور مجاہدہ دوزخ میں جانے کا ذریعہ نہ بنے، آخرت کی عظیم اور کثیر نعمتوں کے نقصان اور خسران اور حرمان کی راہ اختیار نہ کرے۔ آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ مومن کے لیے خود اپنا نیک بننا ہی کافی نہیں ہے دوسروں کو بھی حق اور صبر کی نصیحت کرتا رہے اور اعمال صالحہ پر ڈالتا رہے خاص کر اپنے اہل و عیال کو اور ماتحتوں کو بڑے اہتمام اور تاکید سے نیکیوں پر ڈالے اور گناہوں سے بچنے کی تاکید کرتا رہے۔ ورنہ قیامت کے دن یہ پیار و محبت سے پالی ہوئی اولاد وبال بن جائے گی۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے : ( كلكم راع وكلكم مسؤل عن رعیتہ۔ ) (یعنی تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت ( جس کی نگرانی سپرد کی گئی ) کے بارے سوال کیا جائے گا) ۔ (رواہ البخاری) آج کل اولاد کو دین دار بنانے کی فکر نہیں ہے، ان کو خود گناہوں کے راستے پر ڈالتے ہیں، حرام کمانا سکھاتے ہیں ایسے ممالک میں لے کر جا کر انہیں بساتے ہیں جہاں ہر گناہ کرنے کا ماحول مل جاتا ہے اور اس کا نام ترقی رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سمجھ دے۔ واللہ المستعان وھو والی الصالحین والصابرین

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” الا الذین “ یہ ماقبل سے مستثنی ہے۔ تمام انسان خسارے میں ہیں البتہ جن لوگوں میں یہ چار صفتیں موجود ہوں وہ خسارے میں نہیں ہیں، بلکہ فائدے میں ہیں اور وہ دنیا سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے بلکہ آخرت کا توشہ ساتھ لے کر جائیں گے۔ پہلا وصف ” امنوا “ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسالت، قیامت اور دیگر تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہوں۔ دوسرا وصف ” وعلموا الصالحات “ وہ نیک کام کریں اسلام میں جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجا لائیں اور جن سے روکا گیا ہے ان سے باز رہیں۔ تیسرا وصف ” وتواصوا بالحق وہ آپس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں اور ایک دوسرے کو سچی بات یعنی توحید اور اسلام کے اخلاقی، معاشرتی اور دیگر احکام کی تبلیغ کریں۔ (بالحق) ای بالتوحید، کذا روی الضحاک عن ابن عباس۔ وقال قتادۃ (بالحق) ای بالقران (قرطبی ج 20 ص 181) ۔ چوتھا وصف۔ ” وتواصوا بالصبر “ جن انسانوں میں یہ چار وصوف موجود ہوں گے وہ خسارے میں نہیں رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند بھی رہے اور ایک دوسرے کو دین حق پر قائم رہنے کی تاکید کرتے رہے اور نیز ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی فہمائش کرتے رہے۔ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے بعض دوشت مسلمان ہوگئے بعض کفر پر قائم رہے اور جو لوگ کفر پر قائم رہے وہ مسلمانوں کو طعنہ دیتے تھے کہ تم تو بڑے سمجھ دار تھے تم کیسے مسلمان ہوگئے اور تم نے اپنی عمر کو تباہ کرلیا۔ اسی قسم کی گفتگو ایک دفعہ کلدہ بن اسد نے حضرت صدیق (رض) سے کی انہوں نے فرمایا تو بیوقوف ہے جو آدمی امر حق کو قبول کرتا ہے وہ ٹوٹے اور نقصان میں نہیں پڑتا، خسارے میں وہ ہوتا ہے جو امر حق کے قبول کرنے سے منہ پھیرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی مفسرین کے لفظ عصر میں تین قول ہیں۔ ایک زمانہ جس میں انسان کی عمر بھی داخل ہے دوسرے نماز عصر کا وقت کہ یہ بھی سودوزیاں اور نفع نقصان کا وقت ہے تیسرے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ جس میں نور نبوت کی شعاعیں سب طرف پھیلیں اور جس میں رسالت عظمیٰ اور خلافت کبریٰ کے انوار و برکات سے دنیا مستفیض ہوئی اور بڑے بڑے سرکشوں نے اسلام کی حقانیت اور اسلام کی معجزنما تعلیم کا اعتراف کیا۔ واللہ الحمد ! ہم نے ان تینوں اقوال میں سے پہلا قول اختیار کیا ہے یعنی زمانے کی قسم کھاتا ہوں کہ انسان عمر کے ضائع ہونے کی وجہ سے بڑے نقصان میں ہے یعنی انسان کے پاس بڑا سرمایہ اور بڑی پونچی اس کی عمر ہے جس سے دینی اور دنیوی کمالات حاصل کئے جاتے ہیں مگر یہ پونجی ہر وقت کم ہوتی رہتی ہے۔ عمر جس قدرزیادہ ہوتی رہتی ہے اتنی ہی گھٹتی رہتی ہے انسانی عمر ایک بہترین چیز ہے بشرطیکہ اس کو صحیح کام میں لگایا جائے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ اگر کسی نے اپنی عمر کو محض لذات اور دنیوی خرابات میں خرچ کیا اس کے پاس سوائے ٹوٹے کے اور کیا رہا۔ اور جس نے اپنی عمر کو نیک کاموں میں خرچ کیا اور سعادت و کمال حاصل کیا اس نے ایسا نفع کمایا جو کبھی ختم ہونے والا نہیں اس نے ہر قسم کی دائمی لذتوں کو حاصل کرلیا۔ حضرت حق تعالیٰ نے اس مختصر سورت میں سب ہی کچھ فرمادیا۔ علما کہتے ہیں عمر کی مثال اس برف فروخت کرنیوالے کی ہے جو ہر وقت گھلتی رہتی ہے یعنی رکھے رکھے کم ہوتی رہتی ہے یہی زمانے کا دور اور دن رات کی لٹ پلٹ ایک دن عمر کو فنا کردے گی اور پھر خواہ کتنا ہی افسوس کرو یہ چیز دوبارہ حاصل ہونے والی نہیں۔ لہٰذا ! سمجھ دار انسان وہی ہے جو اس ناپائیدار پونجی کو کمال اور سعادت کے حاصل کرنے میں خرچ کرے اسی لئے فرمایا انسان نقصان اور ٹوٹے میں ہے مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کے پابند رہے۔ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرانے والے اس نقصان سے مستثنیٰ ہیں اور یہی کمال کا حصول ہے اور یہی لوگ خوش نصیب ہیں۔ آگے کمال کے بعد تکمیل کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ساتھ وہ لوگ ایک دوسرے کو آپس میں حق پر قائم رہنے کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔ یعنی دین حق یا اعتقاد حق یا قرآن اور اس کے احکام پر قائم رہنے یا ایمان و توحید پر قائم رہنے کی تاکید کرتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو صبروتحمل کی فہمائش کیا کرتے ہیں یعنی ادائے فرض اور اوامرالٰہی کے ادا کرنے میں یا گناہوں سے بچنے میں جو تکلیف ہو اس کے برداشت کرنے کی فہمائش کیا کرتے ہیں۔ کمال اور تکمیل دونوں مرتبوں کا ذکر فرمادی ۔ سبحان اللہ ! اس مختصر اور چھوٹی سی سورت میں سب ہی کچھ آگیا بعض سلف سے منوقل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ یہی ایک سورت نازل فرماتا تو سمجھ دار بندوں کی ہدایت کے لئے کافی تھی صحابہ کرام (رض) کا عام قاعدہ یہ ہوگیا تھا کہ جب وہ شخص باہم ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو رخصت کرنے سے پہلے سورة والعصر سناتے اور ان کو حق پر قائم رہنے اور تکالیف کو برداشت کرنے کی فہمائش کرتے۔ تم تفسیر سورة العصر