تعارف : دین اسلام امن و سلامتی، ہر ایک سے حسن سلوک، اعلیٰ اخلاق، رواداری اور صلح مندی کو بہترین صفت قرار دے کر اسی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس دین کی تبلیغ میں تشدد، انتہا پسندی اور اپنے خیالات کو دوسروں پر زبردستی تھونپنے اور ٹھونسے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف چند عبادتوں کا نام نہیں ہے بلکہ مکمل نظام زندگی ہے جس کی بنیادیں عبادتوں پر رکھی گئی ہیں لیکن زنگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں دین اسلام اس کی رہنمائی نہ کرتا ہو۔ چونکہ دین اسلام ایکاصولی اور نظریاتی تحریک کا نام ہے جو حسن کردار سے تو پھیلایا جاسکتا ہے لیکن تلوار اور قوت کے زور سے نہیں پھیلا جاسکتا۔ دیکھا گیا ہے کہ طاقت و قوت اور حکومت و اقتدار کے ظلم و ستم کے آگے وقت طور پر لوگوں کے سر تو جھک جات ہیں مگر دل نہیں جھکتے کیونک دل تو اچھے اخلاق و کردار کی بلندی کے سامنے جھکتے ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اسلام نے سروں کو نہیں جھکایا بلکہ دلوں کو فتح کیا ہے۔ اسی میں اس کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ کفار قریش جو صرف چند بتوں کے سامنے جھکنے کو عبادت سمجھتے تھے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے دنیا و آخرت میں کامیابی کا پیغام پہنچایا تو وہ بوکھلا اٹھے۔ ابتداء میں انہوں نے اس بلند ہونے والی آواز کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ آ پکے پیغام کی طرف ہر شخص متوجہ ہوچکا ہے اور قبیلوں اور خاندانوں میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا ہے اور وہ تقسیم ہونا شروع ہگئے ہیں تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس تجویز کو رکھ دیا کہ ہم کوئی ایسا راستہ نکال لیتے ہیں کہ جس سے ہماری قوم بھی تقسیم ہیں ہوگی اور ہر ایک اپنے معبودوں کی عبادت بھی کرتا رہے گا۔ اس مسئلہ میں قریشی سردار ولید ابن مغیرہ، عاص ابن وائل، اسود ابن عبد المطلب اور امیہ ابن خلف وغیرہ سب سے آگے تھے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا ہے کہ قریش کے سرداروں نے آپ کے سامنے چند باتیں پیش کیں (١) کہنے لگے کہ ہم آپ کو اتنا مال دے دیتے ہیں کہ آپ مکہ کے سب سے زیادہ رئیس اور مال دار شخص بن جائیں گے۔ (٢) آپ جس عورت کو پسند کریں گے ہم اس سے آپ کی شادی کرا دیں گے۔ (٣) ہم آپ کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہیں مگر ہماری صرف اتنی سی شرط ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ہم سب کی بھلائی اسی میں ہے کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں الات اور عزتی کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت و بندگی ریں گے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اگر تم ہمارے معبودوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کرنے کو تیار ہیں۔ کفار قریش کی باتوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة الکافرون کو نازل فرمایا جس میں دو ٹوک انداز میں فرما دیا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ میرا دین اور تمہارا دین الگ الگ ہے۔ میں تمہارے معبودوں کی عبادت و بندگی نہیں کرسکتا اور نہ تم میرے معبود کی بندگی کرتے ہو لہٰذا میرا اور تمہارا راستہ الگ الگ ہے۔
سورة الکافرون کا تعارف یہ سورت مکی ہے اس کی چھ آیات ہیں جنہیں ایک رکوع شمار کیا گیا ہے اس کا نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم ہوا کہ آپ دو ٹوک الفاظ میں اعلان کریں کہ میں ان کی کبھی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ ہی تم اس کی عبادت کرنے کے لیے تیار ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں لہٰذا تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔
سورة الکافرون ایک نظر میں عرب اللہ کے منکر نہ تھے ، لیکن ان کی نظروں سے وہ اوصاف اوجھل تھے جن سے اللہ نے اپنے آپ کو متصف فرمایا تھا یعنی احمد ” اکیلا “ اور ” صمد ” جو کسی کا محتاج نہ ہو اور سب اس کے محتاج ہوں “۔ چناچہ وہ کچھ دوسرے لوگوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے اور اللہ کی قدر اس طرح نہ کرتے تھے جس طرح اللہ کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ کئی بتوں کو شریک کرتے تھے۔ یہ بت انہوں نے یا اپنے اسلاف کی طرف منسوب کر رکھے تھے یا بڑے اکابر کی طرف یا فرشتوں کی طرف۔ یاد رہے کہ یہ لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے۔ کہ اللہ اور جنوں کے درمیان نسب اور رشتہ ہے۔ مدت گزرنے کے بعد انہوں نے یہ نسبت بھلا دی اور ان الہوں کی بندگی شروع کردی اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ان بتوں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ان کو اللہ کے زیادہ قریب کرتے ہیں۔ سورة زمر (3) میں کہا گیا ہے۔ مانعبدھم .................... زلفی (3:39) ” ہم ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ذریعے اللہ تک ہماری رسائی ہوجائے “۔ قرآن کریم نے ان کی یہ بات نقل کی ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ زمین و آسمان کی تخلیق اللہ نے کی ہے اور شمس وقمر کو بھی اللہ ہی نے مسخر کیا ہے اور آسمانوں سے پانی بھی اللہ ہی اتارتا ہے۔ سورت العکبوت (61) میں ہے : ولئن ............................ اللہ (61:29) ” اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ اور سورج اور چاند کس کے تابع فرمان ہیں تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے “۔ اور آگے اسی سورت (63) میں کہا گیا ہے۔ ولئن ................................ اللہ (63:29) ” اگر تم ان سے پوچھو کون ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے زمین کو مردہ کے بعد زندہ کیا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے “۔ وہ جب قسمیں کھاتے تو اللہ کے نام کی کھاتے ، واللہ ، باللہ اور تا اللہ اور اپنی دعاﺅں کا آغاز بھی وہ اللھم سے کرتے تھے۔ لیکن اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود شرک نے ان کے عقائد و تصورات ، ان کے رسم و رواج ، ان کے مراسم عبودیت کو خراب کردیا تھا۔ انہوں نے اپنے مزعومہ خداﺅں اور دیوتاﺅں کو اپنے مویشیوں ، اپنی فصلوں اور اپنی اولاد میں شریک کرلیا تھا ، اور اس سلسلے میں وہ اس قدرآگے بڑھ گئے تھے کہ وہ اپنے بیٹوں کو بھی بعض اوقات بتوں پر قربان کرتے تھے۔ سورة انعام (136 تا 140) میں قرآن مجید یہ صراحت کرتا ہے۔ وجعلو اللہ ........................................ مھتدین (136:6 تا 140) ” انہوں نے اللہ کے لئے خود اس کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لئے ہے ، بزعم خود ، اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ، پھر جو چیز ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان شریکوں کو پہنچ جاتا ہے ، کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ ؟ اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنادیا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں انہیں صرف وہی لوگ کھاسکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں ، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی۔ اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے ، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے ، عنقریب اللہ انہیں افترا پردازیوں کا بدلہ دے گا۔ اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لئے مخصوص ہے۔ اور ہماری عورتوں پر حرام ، لیکن اگر وہ مردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں۔ ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا۔ یقینا وہ حکیم اور سب باتوں کی اسے خبر ہے۔ یقینا خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت اور نادانی کی وجہ سے قتل کیا اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو اللہ پر افتراپردازی کرکے حرام ٹھہرالیا۔ یقینا وہ بھٹک گئے اور ہرگز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے “۔ ان کا اعتقاد تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں۔ وہ یہ یقین بھی رکھتے تھے کہ وہ اہل کتاب سے زیادہ ہدایت پر ہیں۔ یہ اہل کتاب ان مشرکین کے ساتھ جزیرة العرب میں دیتے تھے کیونکہ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عزیر اللہ کے بیٹے ہیں۔ عیسائی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں اور خود یہ اہل عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جنوں کی اللہ کے ساتھ رشتہ داری ہے ، لہٰذا وہ اہل کتاب کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے تھے۔ کیونکہ ملائکہ اور جنوں کی نسبت اللہ کی طرف اس عقیدے سے زیادہ قریب الفہم ہے کہ عزیر (علیہ السلام) یا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں ۔ جبکہ یہ سب عقائد شرکیہ ہیں۔ اور شرک میں کوئی درجہ بھی اچھا نہیں ہے۔ البتہ وہ اہل کتاب کے مقابلہ میں اپنے عقائد کو بہتر سمجھتے تھے۔ جب آپکی بعثت ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ میں دین ابراہیم پر ہوں تو انہوں نے کہا جب ہم بھی دین ابراہیم پر ہیں تو ہمیں پھر محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی اطاعت کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے باوجود ان کے ہاں ایک منصوبہ تھا کہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرلی جائے۔ انہوں نے آپ کو یہ پیشکش کی تھی کہ آپ ان کے معبودوں کے سامنے جھک جائیں اور وہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے الٰہ کے سامنے جھک جائیں گے۔ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ہمارے الہوں پر تنقید نہ کریں ، ہم ان کے الٰہ پر تنقید نہ کریں گے۔ اس کے علاوہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ان لوگوں پر جو شرائط عائد کریں آپ کی مرضی۔ ان لوگوں کے خیالات اور تصورات چونکہ مختلف النوع تھے۔ وہ ایک طرف اللہ کی عبادت کا دم بھرتے تھے اور دوسری جانب دوسرے الہوں کے بھی پچاری تھے اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان زفادہ فاصلے نہیں ہیں۔ اور اتحاد ممکن ہے۔ اور کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر باہم فیصلہ ہوسکتا ہے جس میں دونوں فریقوں کی رضاپیش نظر ہو۔ اس خیال کو پوری طرح رد کردینے کی خاطر اور اس کوشش کا راستہ پوری طرح بند کردینے کی خاطر اور اسلامی عبادت اور مشرکانہ عبادت ، اسلامی نظام اور جاہلی نظام ، اسلامی عقائد اور کافرانہ عقائد اور اسلامی طرز زندگی اور کافرانہ طرز زندگی کے درمیان مکمل فرق کردینے کی خاطر یہ دو ٹوک بات کی ضرورت تھی اس لئے یہ سورت نازل ہوئی۔ جس کے اندر یہ بات نہایت تاکیدی انداز میں مکررسہ کرر بیان کی گئی تاکہ اس موضوع پر بات ختم ہوجائے۔ توحید اور شرک کے اتحاد کے تمام راستے بند کردیئے جائیں اور ہر قسم کی سودابازی کی جڑ کاٹ دی جائے اور راستے کے نشانات واضح ہوجائیں اور نہ سودا بازی ہو اور نہ بحث و مباحثہ ہو۔