Surat ul Kafiroon

Surah: 109

Verse: 5

سورة الكافرون

وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ﴿۵﴾

Nor will you be worshippers of what I worship.

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And I shall not worship that which you are worshipping. Nor will you worship whom I worship. meaning, `I do not worship according to your worship, which means that I do not go along with it or follow it. I only worship Allah in the manner in which He loves and is pleased with.' Thus, Allah says, وَلاَ أَنتُمْ عَـبِدُونَ مَأ أَعْبُدُ (Nor will you worship whom I worship.) meaning, `you do not follow the commands of Allah and His Legislation in His worship. Rather, you have invented something out of the promptings of your own souls.' This is as Allah says, إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ وَلَقَدْ جَأءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى They follow but a guess and that which they themselves desire, whereas there has surely come to them the guidance from their Lord! (53:23) Therefore, the disavowal is from all of what they are involved. For certainly the worshipper must have a god whom he worships and set acts of worship that he follows to get to him. So the Messenger and his followers worship Allah according to what He has legislated. This is why the statement of Islam is "There is no God worthy of being worshipped except Allah, and Muhammad is the Messenger of Allah." This means that there is no (true) object of worship except Allah and there is no path to Him (i.e., way of worshipping Him) other than that which the Messenger came with. The idolators worship other than Allah, with acts of worship that Allah has not allowed. This is why the Messenger said to them, لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

بعض نے پہلی آیت کو حال کے اور دوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لیے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورة رحمٰن، سورة مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لیے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کرلوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معبود کی اور ایک سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت نمبر ٤ اور ٥ میں آیت ٢ اور ٣ کے مضمون کا ہی تکرار ہے اور اگر اسے تکرار ہی تسلیم کیا جائے تو بھی یہ تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ تاہم یہ محض تکرار نہیں بلکہ ان میں دو قسم کا فرق ہے۔ ایک یہ کہ پہلی دو آیات میں && ما && کو موصولہ اور پچھلی دو آیات میں && ما && کو مصدریہ قرار دیا جائے۔ اس صورت میں پچھلی آیات کا معنی یہ ہوگا کہ جو طریق عبادت میں نے اختیار کیا ہے۔ اسے تم قبول نہیں کرسکتے اور جو تم نے اختیار کر رکھا ہے اسے میں نہیں کرسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریق عبادت یہ تھا کہ آپ نماز میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے تھے اور اس طریق عبادت سے کافروں کو خاصی چڑ تھی اور اس سے منع بھی کرتے تھے جیسا کہ سورت علق میں ابو جہل اور عتبہ بن ابی معیط سے متعلق کئی واقعات درج کیے جاچکے ہیں۔ اور کافروں کا طریق عبادت یہ تھا کہ گاتے، سیٹیاں اور تالیاں بجاتے، کعبہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔ آپ بھلا ان کا یہ طریق عبادت اختیار کرسکتے تھے۔ ؟ اور اگر بعد کی آیات میں بھی && ما && کو موصولہ ہی سمجھا جائے تو بھی دو فرق واضح ہیں۔ ایک یہ کہ پہلی آیت میں لاَاعْبُدُ آیا ہے اور بعد کی آیات میں لاَاَنَا عَابٍِدٌ اور ظاہر ہے کہ جو تاکید لاَاَنَا عَابِدٌ (یعنی میں کسی قیمت پر عبادت کرنے والا نہیں) میں پائی جاتی ہے وہ لاَاَعْبُدُ میں نہیں پائی جاتی اور دوسرا فرق یہ ہے کہ پہلی آیات میں ماتَعْبُدُوْنَ (یعنی جنہیں تم آج کل پوجتے ہو) ہے۔ اور بعد والی آیات میں ماعَبَدْتُمْ صیغہ ماضی میں ہے یعنی جنہیں تم پہلے پوجتے رہے یا تمہارے آباء واجداد پوجا کرتے تھے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ مشرک اپنی حسب پسند اپنے معبودوں میں تبدیلی کرلیا کرتے تھے۔ جو چیز فائدہ مند نظر آئی یا جو خوبصورت سا پتھر نظر آیا اسے اٹھا کر معبود بنا لیا اور پہلے کو رخصت کیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 A section of the commentators is of the view that both these sentences are a repetition of the theme of the first two sentences and the repetition is meant to strengthen the statement in the first two sentences. But many commentators do not regard it as a repetition. They say that a new theme has been expressed in these which is different from the theme of the first two sentences. In our opinion they arc correct in so far as there is no repetition in these sentences, for in these only "nor are you worshippers of Him Whom 1 worship" Gas been repeated, and this repetition also is not in the sense in which this sentence was used first. But after negating the repetition the meanings that this section of the commentators has given of these two sentenses are very different from each other. There is no occasion here to take up and discuss each of the meanings given by the conunentators. Avoiding details we shall only discuss the meaning which is correct in our opinion. In the first sentence, it has been said: "Nor am 1 a worshipper of chase whom you have worshipped." Its theme is absolutely different from the theme of verse2, in which it was said: "I do not worship those whom you warship," These two things widely differ in two aspects. First, that although there is denial, and a forceful denial, in saying that "I do not, or shall not, do such and such a thing", yet there is much greater force in saying that "1 am not a doer of such and such a thing", for it means: "It is such an evil thing that nothing to say of committing it; it is not possible that I would even think of it, or have intention of doing it." Second, that the sentence "whom you worship" applies to only those gods whom the disbelievers are worshipping now. On the contrary, the sentence "whom you have worshipped" applies to aII those gods whom the disbelievers and their forefathers have been worshipping in the past. Now, it is a well known fact that the gods of the polytheists and disbelievers have always been changing and their number increasing and decreasing. In different ages different groups of them have been worshipping different gods and the gods of all the disbelievers have never always been the same everywhere. Therefore, the verse means: "I exonerate myself not only from your gods of today but also from the gods of your forefathers, and I am not a person who would even think of worshipping such gods. " As for the second sentence, although its words in verse 5 are the same as in verse 3, yet its meaning at the two places is different. In verse 3, it follows this sentence: "I do not worship those whom you worship." Therefore, it means: "Nor are you worshippers of the God having the attributes of the One God Whom I worship." And in verse 5, it follows this sentence: "Nor am I a worshipper of those whom you have worshipped." Therefore, it means: "Nor dces it seem you would become worshippers of the One God Whom I worship." Or, in other words, "It is not possible that 1 should become a worshipper of each of those gods whom you and your forefathers have worshipped, and on account of your aversion to adopting worship of One God, instead of many gads, it cannot be expected that you would desist from this wrong worship and will become worshipper of Him Whom 1 worship."

سورة الکافرون حاشیہ نمبر : 4 مفسرین میں سے ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دونوں فقرے پہلے دو فقروں کے مضمون کی تکرار ہیں ، اور یہ تکرار اس غرض کے لیے کی گئی ہے کہ اس بات کو زیادہ پر زور بنا دیا جائے جو پہلے دو فقروں میں کہی گئی تھی ۔ لیکن بہت سے مفسرین اس کو تکرار نہیں مانتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک اور مضمون بیان کیا گیا ہے جو پہلے فقروں کے مضمون سے مختلف ہے ۔ ہمارے نزدیک اس حد تک تو ان کی بات صحیح ہے کہ ان فقروں میں تکرار نہیں ہے ، کیونکہ ان میں صرف اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں کا اعادہ کیا گیا ہے ۔ اور یہ اعادہ بھی اس معنی میں نہیں ہے جس میں یہ فقرہ پہلے کہا گیا تھا ۔ مگر تکرار کی نفی کرنے کے بعد مفسرین کے اس گروہ نے ان دونوں فقروں کے جو معنی بیان کیے ہیں وہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں ۔ یہاں اس کا موقع نہیں ہے کہ ہم ان میں سے ہر ایک کے بیان کردہ معنی کو نقل کر کے اس پر بحث کریں ، اس لیے طول کلام سے بچتے ہوئے ہم صرف وہ معنی بیان کریں گے جو ہمارے نزدیک صحیح ہیں ۔ پہلے فقرے میں فرمایا گیا ہے کہ اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اس کا مضمون آیت نمبر 2 کے مضمون سے بالکل مختلف ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ میں ان کی عبادت نہیں کرنا جن کی عبادت تم کرتے ہو ۔ ان دونوں باتوں میں دو حیثیتوں سے بہت بڑا فرق ہے ۔ ایک یہ کہ میں فلاں کام نہیں کرتا یا نہیں کروں گا کہنے میں اگرچہ انکار اور پرزور انکار ہے ، لیکن اس سے بہت زیادہ زور یہ کہنے میں ہے کہ میں فلاں کام کرنے والا نہیں ہوں ، کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ایسا برا کام ہے جس کا ارتکاب کرنا تو درکنار اس کا ارادہ یا خیال کرنا بھی میرے لیے ممکن نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جن کی عبادت تم کرتے ہو کا اطلاق صرف ان معبودوں پر ہوتا ہے جن کی عبادت کفار اب کر رہے ہیں ۔ بخلاف اس کے جن کی عبادت تم نے کی ہے کا اطلاب سن سب معبودوں پر ہوتا ہے جن کی عبادت کفار اور ان کے آباؤ اجداد زمانہ ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔ اب یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مشرکین اور کفار کے معبودوں میں ہمیشہ ردو بدل اور حذف و اضافہ ہوتا رہا ہے ، مختلف زمانوں میں کفار کے مختلف گروہ مختلف معبودوں کو پوجتے رہے ہیں ، اور سارے کافروں کے معبود ہمیشہ اور ہر جگہ ایک ہی نہیں رہے ہیں ۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے آج کے معبودوں ہی سے نہیں بلکہ تمہارے آباؤ اجداد کے معبودوں سے بھی بری ہوں اور میرا یہ کام نہیں ہے کہ ایسے معبودوں کی عبادت کا خیال تک اپنے دل میں لاؤں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(109:5) ولا انتم عبدون ما اعبد اور نہ تم عبادت کرنے والے بنوگے اس (خدائے واحد لاشریک ) کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں فائدہ : (1) متذکرہ بالا آیات میں تکرار کلام ہے اور عرب کسی کلام میں یا لفظ میں تکرار اس وقت کرتے ہیں جب مخاطب کو سمجھانا اور اس کلام یا لفظ کو مؤکد کرنا ہوتا ہے جس طرح کلام میں اختصار اس وقت کرتے ہیں جب تخفیف اور اعجاز پیش نظر ہوتا ہے پس اس جگہ تکرار کلام تاکید کے لئے ہے۔ کلام عرب میں اس قم کی تاکید نظم و نثر دونوں میں کثیر الاستعمال ہے۔ چناچہ ایک شعر ہے :۔ نعق الغراب ببین لیلی غدوۃ کم کم وکم بفراق لیلی ینعق (جدائی کا کوا صبح کے وقت لیلی کی جدائی کی خبر دینے کے لئے بولا۔ وہ کب تک، کب تک لیلی کے فراق پر چلاتا رہے گا) فائدہ : (2) ان آیات کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ چوتھی آیت دوسری آیت کی تاکید کر رہی ہے کیونکہ دوسری آیت جملہ فعلیہ ہے جو تجدد اور حدوث پر دلالت کرتا ہے اور چوتھی جملہ اسمیہ ہے جو ثبات اور پختگی پر دلالت کرتا ہے۔ چوتھی آیت سے دوسری آیت کو مؤکد کردیا۔ تیسری آیت کی تاکید پانچویں آیت کر رہی ہے۔ کیونکہ الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ فائفہ : (3) اس تکرار کا مدعا یہ ہے کہ کفار کو ہمیشہ کے لئے مایوسی ہوجائے کہ مسلمان ان کے کفر کو ایک لمحے کے لئے بھی قبول نہیں کریں گے۔ نیز ان کے بارے میں بتادیا کہ وہ کبھی مسلمان نہیں ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ موحد ہو کر بلائے شرک میں گرفتار نہیں ہوسکتا، نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک رہ کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے، نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہوسکتے یعنی جب تک تم اپنے معبودوں کے عابد اور مشرک رہو گے اس وقت تک میرے معبود کے عابد یعنی موحد نہ سمجھے جاوگے، پس اس کو پیشنگوئی پر محمول کرنے کی اور اس پر جو سوال ہوتا ہے کہ بعضے تو مسلمان ہوگئے، اس کے جواب میں الکافرون کو معہود پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اور نہ تم ہی میرے معبود کی پوجا کرنے والے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ نہ فی الحال اس قسم کی شرکت ہوسکتی ہے نہ آئندہ اس قسم کی شرکت کا امکان ہے کیونکہ میں موحد ہوکر شرک نہیں کرسکتا اور نہ تم جب تک شرک کرتے رہو گے موحد نہیں بن سکتے یعنی میں نہ فی الحال اور نہ آئندہ شرک کا مرتکب ہوسکتا ہوں اور نہ تم جب تک غیر اللہ کی پرستش کرتے رہو گے موحد قرار دیئے جاسکتے ہو۔ مطلب یہ ہوا لا اعبدالباطل والا تعبدون الحق الفاظ کی ترکیب کے اعتبار سے کئی طرح معنی کئے گئے ہیں۔ بعض حضرات نے یوں مطلب بیان کیا ہے میرے تمہارے درمیان معبود ہیں اشتراک ہے نہ طریق عبادت میں تم بتوں کو پوجتے ہو وہ میرے معبود نہیں میں اس معبود برحق کو پوجتا ہوں جس کی صفات میں کوئی شریک نہیں وہ خدا تمہارا معبود نہیں اور تم جس طرح عبادت کرتے ہو اور جس بےہودگی کا اظہار اپنی عبادت میں کرتے ہو میں اس طرح کی عبادت کرنے والا نہیں ہوں تو اس طرح میرا تمہارا اشتراک نہیں ہوسکتا۔ ہم نے آسان اور سہل طریقے سے مطلب بیان کردیا ہے جس کا ماخذ تفسیر مدارک اور خازن ہے اس سورت میں جو لطائف اور خوبیاں ہیں ان پر علماء نے بہت کچھ بحث کی ہے زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو تفسیر کبیر یا ابن قیم کی بدائع الفوائد ملاحظہ کی جائے اس عدم اشترک کی وجہ سے آخر میں ارشاد ہے۔