Surat Hood

Surah: 11

Verse: 109

سورة هود

فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّمَّا یَعۡبُدُ ہٰۤؤُلَآءِ ؕ مَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَعۡبُدُ اٰبَآؤُہُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوۡہُمۡ نَصِیۡبَہُمۡ غَیۡرَ مَنۡقُوۡصٍ ﴿۱۰۹﴾٪  9

So do not be in doubt, [O Muhammad], as to what these [polytheists] are worshipping. They worship not except as their fathers worshipped before. And indeed, We will give them their share undiminished.

اس لئے آپ ان چیزوں سے شک و شبہ میں نہ رہیں جنہیں یہ لوگ پوج رہے ہیں ، ان کی پوجا تو اس طرح ہے جس طرح ان کے باپ دادوں کی اس سے پہلے تھی ۔ ہم ان سب کو ان کا پورا پورا حصہ بغیر کسی کمی کے دینے والے ہی ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Associating Partners with Allah is no doubt Misguidance Allah, the Exalted, says, فَلَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـوُلاء ... So be not in doubt as to what these people worship. This refers to the polytheists. Verily, what they are doing is falsehood, ignorance and misguidance. ... مَا يَعْبُدُونَ إِلاَّ كَمَا يَعْبُدُ ابَاوُهُم مِّن قَبْلُ ... They worship nothing but what their fathers worshipped before (them). This means that they have no support for their Shirk. They are only mimicking their fathers in ignorance. Therefore, Allah will give them due recompense for that and He will punish them with a punishment the likes of which none can give besides Him. If they did any good deeds, then Allah will reward them for those good works in this life, before the life of the Hereafter. Concerning Allah's statement, ... وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍ And verily, We shall repay them in full their portion without diminution. Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "We will pay them in full their portion of punishment without diminution."

مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہو نے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا ۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا ۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہو نے والے ہیں ۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا ۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا ۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا ۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا ۔ چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے ۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں ۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا ۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا ۔ اس قرآۃ کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

109۔ 1 اس سے مراد وہ عذاب ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢١] یہ خطاب رسول اللہ کو محض تاکید مزید کے لیے ہے ورنہ خطاب عام لوگوں کو ہے نبی تو دوسرے لوگوں کے بھی اس قسم کے شکوک رفع کرتا ہے وہ خود کیسے اس قسم کے شک میں مبتلا ہوسکتا ہے ؟ [١٢٢] مشرکانہ عقائد نقل & عقل اور تجربہ کے مطابق غلط ہیں :۔ یعنی جب قوم پر عذاب آیا تو ان کے بت، مجاور اور آستانے انھیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے تو اب ان کفار مکہ کے معبود انھیں کیسے بچا سکتے ہیں یا ان کی حمایت کرسکتے ہیں ؟ لہذا جو کچھ عقائد ان لوگوں نے اپنے معبودوں سے متعلق قائم کر رکھے ہیں وہ عقل اور تجربہ کی کسوٹی پر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ لہذا یہ جو کچھ ہو رہا ہے محض اندھی تقلید کی بنا پر ہو رہا ہے اور ہم ایسے لوگوں کو پوری پوری سزا دیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ : یعنی ان کے معبودوں کے باطل ہونے یا نفع نقصان کا مالک نہ ہونے میں کسی قسم کا شک نہ کر۔ ” مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ “ ( جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں) میں ” یہ لوگ “ سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ میں نے قرآن کی اس اصطلاح کی جستجو کی تو تقریباً گیارہ مقامات میں ایسا ہی پایا۔ یہ بات میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالی گئی ہے اور میں نے آیت : ( وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا) [ النساء : ٤١ ] کی تفسیر میں اس کی وضاحت کی ہے۔ [ التحریر والتنویر ] یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس قسم کا کوئی شک تھا جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما رہا ہے ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ) [ ہود : ١١٤ ] ” نماز قائم کر۔ “ اسی طرح فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ ) [ الأحزاب : ١ ] ” اے نبی ! اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کر۔ “ تو کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے نماز قائم نہیں کرتے تھے ؟ یا کیا آپ اس سے پہلے اللہ سے نہیں ڈرتے تھے ؟ اور کیا آپ کفار و منافقین کی اطاعت کیا کرتے تھے ؟ نہیں، ہرگز نہیں، اس قسم کے احکام جن پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مخلص اہل ایمان پہلے ہی کار بند ہوں، نازل کرنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور پہلے سے عمل کرنے والے ہمیشہ ان پر کاربند رہیں اور استقامت اختیار کریں اور دوسرے تمام انسان بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطے سے اپنے آپ کو مخاطب سمجھ کر ان احکام پر عمل کریں کہ جب نبی کو یہ حکم ہے تو ہماری کیا اوقات ہے کہ ہم اس پر عمل نہ کریں۔ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ :” اٰبَاۗؤُهُمْ “ سے مراد عادوثمود ہیں، کیونکہ عدنانی عربوں کی ماں بنوجرہم سے تھی جو اسماعیل (علیہ السلام) کی بیوی تھی۔ بنو جرہم ثمود سے تھے اور قریش کی ماں بنو خزاعہ سے تھی، جو قصی کی بیوی تھی اور عرب میں بت پرستی عمرو بن لحی نے شروع کی تھی جو خزاعی تھا۔ (ابن عاشور) یعنی ان کی غیر اللہ کی پرستش کی بنیاد سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کچھ نہیں ہے۔ (ابن کثیر) آبا و اجداد کی غیر اللہ کی عبادت کیا تھی ؟ یہی کہ وہ اپنے بزرگوں یا ان کے بتوں یا قبروں کو مصیبت کے وقت پکارتے تھے، انھیں اللہ کا بیٹا یا جز یا عین قرار دیتے تھے۔ اسی طرح عبادت میں ان کے نام کی نذر و نیاز ماننا، اللہ کے حصے کے ساتھ جانوروں اور کھیتیوں میں ان کا حصہ رکھنا، ان کو اللہ کی صفات، مثلاً علم غیب کا مالک، دور سے فریاد سننے اور مدد کرنے والا سمجھنا سبھی شامل ہیں۔ ہر زمانے کے مشرک ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں : (بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْن) [ المؤمنون : ٨١ ] ” بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا “ اور ان کے پاس تقلید آباء کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی اور ان پر وہی محاورہ صادق آتا ہے کہ ” مَا أَشْبَہَ اللَّیْلَۃَ بالْبَارِحَۃِ “ ” آج کی رات کل کی رات کے کس قدر مشابہ ہے۔ “ وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ : انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ کسی شخص کا تقدیر میں دنیا کا جو رزق اور آسائشیں لکھی گئی ہیں، وہ مسلمان ہو یا کافر ہر ایک کو ملیں گی، کافروں کو بھی ان کا حصہ پورا ملے گا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٢٠) دوسری یہ کہ ان کی نیکیاں جو انھوں نے دنیا میں کی ہیں ان کا پورا بدلہ ہم انھیں دنیا ہی میں دے دیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (٢٠) اور تیسری یہ کہ ہم ان کی غیر اللہ کی عبادت اور شرک کا پورا پورا بدلہ دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن ضرور دینے والے ہیں۔ یہاں یہ آخری معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان لوگوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت سے پہلی قوموں کی طرح دنیا میں آسمانی عذاب نہیں دیا گیا، جس سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَۃٍ مِّمَّا يَعْبُدُ ہٰٓؤُلَاۗءِ۝ ٠ ۭ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَـمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُہُمْ مِّنْ قَبْلُ۝ ٠ ۭ وَاِنَّا لَمُوَفُّوْہُمْ نَصِيْبَہُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ۝ ١٠٩ ۧ مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] ، فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هؤُلاءِ [هود/ 109] ، فَلا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقائِهِ [ السجدة/ 23] ، أَلا إِنَّهُمْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقاءِ رَبِّهِمْ [ فصلت/ 54] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] ، بِما کانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ [ الحجر/ 63] ، أَفَتُمارُونَهُ عَلى ما يَرى[ النجم/ 12] ، فَلا تُمارِ فِيهِمْ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] وأصله من : مَرَيْتُ النّاقةَ : إذا مسحت ضرعها للحلب . ( م ر ی) المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد ہوتا ہے ۔ کے ہیں اور یہ شک سے خاص قرآن میں ہے : وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے۔ الامتراء والمماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنا کے ہیں ۔ جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں بما کانوا فِيهِ يَمْتَرُونَ [ الحجر/ 63] جس میں لوگ شک کرتے تھے ۔ أَفَتُمارُونَهُ عَلى ما يَرى[ النجم/ 12] کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو ۔ فَلا تُمارِ فِيهِمْ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] تو تم ان کے معاملے میں گفتگو نہ کرنا ۔ مگر سرسری سی گفتگو ۔ دراصل مریت الناقۃ سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی ہیں اونٹنی کے تھنوں کو سہلانا تاکہ دودھ دے دے ۔ ( مریم ) علیماالسلام ۔ یہ عجمی لفظ ہے اور حضرت عیسیٰ اعلیہ السلام کی والدہ کا نام ( قرآن نے مریم بتایا ہے عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ وُفِّيَتْ وتَوْفِيَةُ الشیءِ : ذله وَافِياً ، واسْتِيفَاؤُهُ : تناوله وَافِياً. قال تعالی: وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور توفیتہ الشیئ کے معنی بلا کسی قسم کی کمی پورا پورادینے کے ہیں اور استیفاء کے معنی اپنا حق پورا لے لینے کے ۔ قرآن پا ک میں ہے : ۔ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا ۔ نقص النَّقْصُ : الخُسْرَانُ في الحَظِّ ، والنُّقْصَانُ المَصْدَرُ ، ونَقَصْتُهُ فهو مَنْقُوصٌ. قال تعالی: وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] ، وقال : وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] ، ( ن ق ص ) النقص ( اسم ) حق تلفی اور یہ نقصتہ ( ن ) فھو منقو ص کا مصدر بھی ہے جس کے معنی گھٹانے اور حق تلفی کر نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] اور جانوں اور مالوں ۔۔۔۔ کے نقصان سے وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پوارا کم وکاست دینے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٩) مگر یقیناً یہ ثواب مسلسل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہوگی (اور اللہ تعالیٰ جنت میں بھیجنے کے بعد پھر دوبارہ وہاں سے نہ نکالے گا سو اہل مکہ جن چیزوں کی پرستش کررہے ہیں اس کے بارے میں ذرا شبہ نہ کرنا کیوں کہ یہ لوگ بھی اسی طرح عبادت کررہے ہیں جیسا کہ اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے اور اسی وجہ سے ہلاک ہوجائیں گے اور ہم ان کی سزا ان کو پوری پوری بغیر کمی بیشی کے دیں گے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت فرقہ قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ ) یہ تو بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

110. This does not mean that the Prophet (peace be on him) entertained any 'doubts' concerning the deities whom the unbelievers associated with God in His divinity. Though this verse is ostensibly addressed to the Prophet (peace be on him), it is really aimed at conveying a message to the people of Makka. The thrust of the verse is that no sensible person should entertain the notion that those who worship false gods and pray to them have any plausible grounds for doing so and for expecting some benefit from such worship. The fact of the matter is that the worship of false deities and the offerings, sacrifices and invocations addressed to them were supported neither by knowledge, careful observation, nor any scientific experimentation. The only basis for such worship was blind imitation of their ancestors. The same shrines found amongst today's polytheists were also found among several past nations of the world. The same miraculous feats which are popular today were equally popular in the past among other nations. However, when God's punishment seized those nations which worshipped false deities, they were utterly destroyed. Their shrines proved altogether unavailing.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :110 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واقعی ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں تھے بلکہ دراصل یہ باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے عامۃ الناس کو سنائی جارہی ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ کسی مرد معقول کو اس شک میں نہ رہنا چاہیے کہ یہ ولگ جو ان معبودوں کی پرستش کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے میں لگے ہوئے ہیں تو آخر کچھ تو انہوں نے دیکھا ہوگا جس کی وجہ سے یہ ان سے نفع کی امیدیں رکھتے ہیں ، واقعہ یہ ہے کہ یہ پرستش اور نذریں اور نیازیں اور دعائیں کسی علم ، کسی تجربے اور کسی حقیقی مشاہدے کی بنا پر نہیں ہیں ، بلکہ یہ سب کچھ نری اندھی تقلید کی وجہ سے ہورہا ہے ، آخر یہی آستانے پچھلی قوموں کے ہاں ھی تو موجود تھے ، اور ایسی ہی ان کی کرامتیں ان میں بھی مشہور تھیں ، مگر جب خدا کا عذاب آیا تو وہ تباہ ہوگئیں اور یہ آستانے یونہی دھرے کے دھرے رہ گئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٩۔ ١١٠۔ اللہ پاک نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں اس کے شرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو جتلا دیا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے پھر فرمایا کہ اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعض نہیں لائے تم پر بھی جو قرآن اتارا گیا تو بعضے ایمان لے آئے اور بعضے ایمان نہیں لائے ہیں یہ اختلاف پہلے سے ہوتا آرہا ہے اس کا کچھ غم نہیں کرنا چاہیے پھر فرمایا کہ اگر ایک خاص مدت تک دنیا کا قائم رکھنا اللہ کو منظور نہ ہوتا اور اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب نہ ہوتی تو ابھی اس کا فیصلہ ہوجاتا پھر فرمایا جو لوگ خدا کی کتاب کی طرف سے اپنے جی میں شک کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی جزا سزا اچھی طرح پوری دی جائے گی خدا کو ان کے ہر ایک عمل کی خبر ہے۔ اوپر ایک جگہ یہ گزرچکا ہے کہ عمرو بن لحی کے زمانہ سے مکہ میں بت پرستی پھیلی اس پر مشرکین مکہ اور ان کے بڑے چلے آتے ہیں اور نادانی سے اسی کو ملت ابراہیم جانتے ہیں اگر یہ لوگ اپنی نادانی کو چھوڑ دیں تو ملت ابراہیمی کا زمانہ تو بہت دور ہے عمرو بن لحی کے زمانہ سے پہلے بھی مکہ میں بت پرستی کے جاری ہونے کی کوئی سند ان کے پاس نہیں ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ بغیر کسی سند ان کے پاس نہیں ہے پھر فرمایا کہ جب یہ لوگ بغیر کسی سند کے اپنی نادانی پر اڑے ہوئے ہیں اور باوجود فہمائش کے باز نہیں آتے تو ایک دن اپنے کئے کی پوری سزا بھگتیں گے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے صحیح قول کے موافق نصیب کے معنے یہاں جزا و سزا کے ہیں ١ ؎ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے جو لوگ راہ راست پر آگئے وہ پوری جزا پاویں گے اور جو اسی شرک کے حال پر رہے وہ پوری سزا پاویں گے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس مکی سورت میں جو پیشین گوئی فرمائی گئی تھی اس کے ظہور کا نمونہ بدر کی لڑائی کے وقت یہ معلوم ہوگیا کہ اس لڑائی کے وقت تک اہل مکہ میں سے جو لوگ راہ راست پر آن کر اس لڑائی میں شریک ہوئے وہ قطعی جنتی ٹھہرے چناچہ مسند امام احمد میں جابر بن عبد اللہ (رض) سے صحیح روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل بدر میں سے کوئی شخص ہرگز دوزخ میں نہ جاوے ٢ ؎ گا۔ اور اس لڑائی کے وقت تک ان میں سے جو لوگ مشرک رہے اور اس لڑائی میں مارے گئے ان کا انجام صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک (رض) کی روایت سے ایک جگہ گزر چکا ہے کہ مرتے ہی وہ لوگ سخت عذاب میں گرفتار ہوگئے اور اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی کسی آیت کے مطلب پر دو صحابیوں کا جھگڑا سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ تم سے پہلے لوگ کتاب آسمانی کے مطلب میں اختلاف ڈال کر برباد ہوگئے۔ یہود کے اختلاف اور پھوٹ کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے تورات کے لفظوں اور معنوں میں یہاں تک اختلاف ڈالا کہ اختلاف نے ان کی عقبیٰ کو برباد کردیا یہود کی موجودہ حالت سے اس حدیث کے مضمون کی پوری صداقت ہوتی ہے کہ ان کے اختلاف اور پھوٹ کے سبب سے ایک تورات کے تین نسخے عبرانی یونانی سامری بن گئے ہیں اور ہر ایک فرقہ اپنے نسخہ کو صحیح کہتا ہے اسی واسطے فرمایا کہ ان لوگوں نے کلام الٰہی کو ایسی شک کی حالت میں ڈال رکھا ہے جس کے سبب سے ایک فرقہ دوسرے کو جھٹلاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ سب فرقوں کے عملوں اور حق و ناحق کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے وقت مقررہ آنے پر ان عملوں کی سزا و جزا کا پورا فیصلہ ہوجاوے گا طبرانی اور مسند بزار کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن سر بمہر لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالیٰ کے روبرو جب پیش ہوں گے تو بہت سے عمل ظاہر حالت سے فرشتوں کو اچھے معلوم ہوں گے مگر اللہ تعالیٰ ان عملوں کو نامقبول ٹھہراوے گا یہ ٣ ؎ حدیث انہ بما یعملون خبیر کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن عملوں کا حال اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں اس غیب دان کو وہ حال بھی خوب معلوم ہے وان کلا لما لیوفینھم ربک اعمالھم آیت کے اس ٹکڑے کو اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فرمایا ہے جس کی اصلی عبارت یوں ہے وان کلھم لما بعثوالیوفینہم ربک اعمالھم اسی واسطے شاہ صاحب نے کلھم کا ترجمہ ” جتنے لوگ “ اور لما بعثوا کا ترجمہ ” جب وقت آیا “ فرمایا ہے۔ ١ ؎ الترغیب ص ٣١ ج ١ الترھیب من الریأ الخ۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٥٨ باب الجکاعنہ الخوف و تفسیر ابن کثیر ص ٤٣٥ ج ٢۔ ٣ ؎ صحیح بخاری ص ٧٣٨ ج ٢ تفسیر سورة واللیل اذا یغشی و مشکوۃ ص ٢٠ باب الایمان بالقدر۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:109) فلاتک تو مت ہو۔ کون فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تک اصل میں تکون تھا لاء نہی کے عمل سے واؤ حرف علت حذف ہوگیا اور نون کو خلاف قیاس حرف علت کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا۔ مریۃ۔ المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد کرنے کے ہیں۔ اور یہ شک سے خاص ہوتا ہے فلا تک فی مریۃ مما یعبد ھؤلائ۔ سو یہ لوگ جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یعنی مذہب شرک شک و تذبذب کا مستحق نہیں صاف صاف قطعی انکار کے قابل ہے۔ لموفوہم۔ لام تاکید کے لئے ہے موفوا اسم فاعل جمع مذکر۔ توفیۃ (تفعیل) مصدر وفی مادہ۔ اصل میں موفیون تھا۔ غیر منقوص۔ منقوصاسم مفعول واحد مذکر۔ نقص مصدر۔ (باب نصر) کم کیا ہوا غیر منقوص۔ پورا پورا ۔ بلاکم و کاست نقص نقصان تنقاص مصدر۔ باب نصر۔ کم ہونا۔ کم کرنا۔ (لازم ومتعدی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ یعنی ان کے باطل ہونے یا ان بتوں کے نفع و نقصان کا مالک نہ ہونے یا ان کی بد انجامی میں شک پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خطاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ ہر انسان سے ہے۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ بلکہ یقین رکھنا کہ ان کا یہ عمل موجب سزا ہے بوجہ باطل ہونے کے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کرام کی دعوت کی یاد دہانی۔ جہنمیوں اور جنتیوں کی سزا، جزا سے پہلے مسلسل انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کے ردّ عمل کا ذکر ہو رہا تھا۔ جس کے آخر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی آویزش کا ذکرہوا۔ اب درمیان میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے توجہ دلائی جارہی ہے کہ اے نبی ! جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں ان کے باطل ہونے کے بارے میں آپ کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو ان کی محض اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ ان سے پہلے ان کے باپ داداعبادت کرتے آرہے ہیں۔ ہم ان کو کسی کمی و بیشی کے بغیر اس کا پورا پورا بدلہ چکائیں گے۔ اس فرمان میں بظاہر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا گیا ہے مگر تمام اہل علم کا نقطہ نظر ہے کہ اصل مخاطب اس سے آپ کی امت ہے۔ جس کا مقصد مسئلہ توحید کی افادیت اجاگر کرنا ہے۔ یہ بات سامنے رہے کہ ہر دور کے مشرک اور کفار جنکی وہ عبادت کرتے ہیں۔ جب انہیں اس سے روکا جاتا ہے تو وہ یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ تو پتھر، مٹی یا لکڑی کے مجسمے ہیں۔ ہماری مراد تو ان کی ارواح ہیں۔ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہتے ہیں اور یہ ہماری دعائیں اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید اس طریقہ کو عبادت قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس کی تردید اور مذمت کرتا ہے۔ بلکہ اسے اللہ کے ساتھ شرک قرار دیتا ہے۔ جو تمام گناہوں کا منبع اور سب سے بڑا ظلم اور جرم ہے۔ اس طرح کی عبادت کرنے والوں کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ جس کے بارے میں فرمایا ہے کہ انہیں اس کا پورا پورا حصہ دیا جائے گا جس میں کوئی کمی نہ ہونے پائے گی۔ (عَنْ اَنَسٍٖ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ لِاَھْوَنِ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْ اَنَّ لَکَ مَا فِیْ الْاَرْضِ مِنْ شَیْءٍ اَکُنْتَ تَفْتَدِیْ بِہٖ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ اَرَدْتُّ مِنْکَ اَھْوَنَ مِنْ ھٰذَا وَاَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ اَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْءًا فَاَبَیْتَ اِلَّا اَنْ تُشْرِکَ بِیْ )[ رواہ البخاری : باب خلق آدم ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دوزخیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والے سے پوچھیں گے اگر تیرے پاس زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اسے اس عذاب سے چھٹکارے کے بدلے میں دے دیتا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ سے اس وقت بہت ہی معمولی مطالبہ کیا تھا۔ جب تو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہر انا ‘ لیکن تو نے انکار کیا اور میرے ساتھ شریک ٹھہراتا رہا۔ “ مسائل ١۔ کفار اپنے اباء و اجداد کے طور طریقہ پر معبود ان باطل کی پرستش کرتے ہیں۔ ٢۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کی پوری جزا یا سزا ملے گی۔ تفسیر با لقرآن ظالموں کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی : ١۔ بیشک ہم ان کو ان کا حصہ بغیر کم وکاست دیں گے۔ (ھود : ١٠٩) ٢۔ قیامت کے دن ہر آدمی کو اس کی کمائی کا پورا پورا صلہ دیا جائیگا۔ ( المومن : ١٧) ٣۔ قیامت کے دن کسی پر ظلم نہ کیا جائیگا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق صلہ دیا جائیگا۔ ( یٰس : ٥٤) ٤۔ جو آدمی برائیاں کرتا رہا اس کو اسی کی مثل سزا دی جائیگی۔ ( المومن : ٤٠) ٥۔ اللہ بروں کو ان کی برائی کی ٹھیک ٹھیک سزا دے گا۔ (النجم : ٣١) ٦۔ قیامت کے دن تمہیں اسی چیز کا بدلہ دیا جائے گا جو تم عمل کرتے ہو۔ (النمل : ٩٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آپ اپنے دل میں ذرہ برابر شک نہ کریں کہ یہ لوگ جن بتوں کی پیروں کرتے ہیں وہ غلط ہیں ، خطاب تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے لیکن ڈر اور اقوام کو ہے یہ اسلوب بسا اوقات زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان یہ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری احکامات دے دئیے ہیں اب اس میں کوئی نزاع کا موقعہ نہیں ہے اور جو لوگ مجرم ہیں ان کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا گویا وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ، اس طرح ان پر زیادہ اثر ہوگا ، بمقابلہ اس کے کہ اگر ان کو براہ راست خطاب کیا جاتا۔ فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ (١٠٩ : ١١) “ پس اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ ” لہذا ان کا انجام بھی اقوام سابقہ کی طرح ہوگا ، یعنی دائمی عذاب۔ لکین یہاں صراحت نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا انجام معروف و معلوم ہے۔ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (١١ : ١٠٩) اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے ، بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ” اور ان کا انجام اسی طرح مشہور و معروف ہے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کے بارے میں سے شدہ ہے اور سابقہ لوگوں کے کچھ مناظر اس سے قبل پیش کیے بھی جا چکے ہیں ، ہاں دنیا میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انہیں مہلت دے دی جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

89:۔ یہ چوتھے دعوے سے متعلق ہے۔ مسئلہ توحید عقلی اور نقلی دلائل سے واضح ہوچکا ہے اور اس میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اس لیے توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے میں کسی کو شک نہیں کرنا چاہئے۔ مَایَعْبُدُوْنَ الخ : ان مشرکین کے پاس کوئی دلیل نہیں وہ محض اپنے باپ دادا کی اندھا دھند پیروی کر رہے ہیں جس طرح وہ بلا دلیل وحجت معبودانِ باطلہ کو کارساز سمجھ کر پکارتے اور ان کی عبادت بجا لاتے تھے اسی طرحیہ کرتے ہیں۔ دلیل نہ ان کے پاس تھی نہ ان کے پاس ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

109 سوائے مخاطب جن بتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں تو ان کے متعلق کسی شک و شبہ میں ذرا نہ پڑیہ لوگ بھی اسی طرح ان بتوں کی پرستش کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے بڑے اور باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے اور یقین جان کہ ہم ان کافروں کو ان کے عذاب کا حصہ بےکم وکاست پورا پورا دینے والے ہیں یعنی بت پرستی کے باطل ہونے میں شک و شبہ نہ کر جس طرح ان کے بڑے بلا دلیل شرک کے مرتکب ہوتے تھے اسی طرح بلا دلیل و حجت یہ اپنے بڑوں کی پیروی کر رہے ہیں۔