Surat Hood

Surah: 11

Verse: 118

سورة هود

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۙ

And if your Lord had willed, He could have made mankind one community; but they will not cease to differ.

اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راہ پر ایک گروہ کر دیتا ۔ وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah has not made Faith universally accepted Allah says; وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً ... And if your Lord had so willed, He could surely have made mankind one Ummah, but they will not cease to disagree. Allah, the Exalted, informs that He is able to make all of mankind one nation upon belief, or disbelief. This is just as He said, وَلَوْ شَأءَ رَبُّكَ لامَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. (10:99) Allah goes on to say, ... وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

جس پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہو اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں ۔ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کردے لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری و ساری ہیں ۔ طریقے مختلف ، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے ۔ جن پر اللہ کا رحم ہو جائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں ۔ اب وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطیع ہیں ۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں ۔ چنانچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے ۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے ، اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے ، سب جہنمی ہیں سوائے ایک جماعت کے ، صحابہ نہ پوچھا یا رسول وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے جواب دیا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں ہو اور میرے اصحاب ( مستدرک حاکم ) بقول عطا مختلفین سے مراد یہودی ، نصرانی ، مجوسی ہیں اور اللہ کے رحم والی جماعت سے مراد یک طرفہ دین اسلام کے مطیع لوگ ہیں ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت ہے گو ان کے وطن اور بدن جدا ہوں اور اہل معصیت فرقت و اختلاف والے ہیں گو ان کے وطن اور بدن ایک ہی جا جمع ہوں ۔ قدرتی طور پر ان کی پیدائش ہی اسی لیے ہے شقی و سعید کی ازلی تقسیم ہے ۔ یہ بھی مطلب ہے کہ رحمت حاصل کرنے والی یہ جماعت بالخصوص اسی لیے ہے ۔ حضرت طاؤس کے پاس دو شخص اپنا جھگڑا لے کر آئے اور آپس کے اختلاف میں بہت بڑھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جھگڑا اور اختلاف کیا اس پر ایک شخص نے کہا اسی لیے ہم پیدا کئے گئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ، غلط ہے اس نے اپنے ثبوت میں اسی آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس لیے نہیں پیدا کیا کہ آپس میں اختلاف کریں ، بلکہ پیدائش تو جمع کے لیے اور رحمت حاصل کرنے کے لیے ہوئی ہے جیسے کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ رحمت کے لیے پیدا کیا ہے نہ کہ عذاب کے لیے ۔ اور آیت میں ہے ( وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ 56؀ ) 51- الذاريات:56 ) میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے ۔ تیسرا قول ہے کہ رحمت اور اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے ۔ چنانچہ مالک اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک فرقہ جنتی اور ایک جہنمی ۔ انہیں رحمت حاصل کرنے اور انہیں اختلاف میں مصروف رہنے کے لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کا یہ فیصلہ ناطق ہے کہ اس کی مخلوق میں ان دونوں اقسام کے لوگ ہوں گے اور ان دونوں سے جنت دوزخ پر کئے جائیں گے ۔ اس کی کامل حکمتوں کو وہی جانتا ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت دوزخ دونوں میں آپس میں گفتگو ہوئی ۔ جنت نے کہا مجھ میں تو صرف ضعیف اور کمزور لوگ ہی داخل ہوتے ہیں اور جہنم نے کہا میں تکبر اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ مخصوص کی گئی ہوں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے ، جسے میں چاہوں اسے تجھ سے نواز دوں گا ۔ اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے جس سے میں چاہوں تیرے عذاب کے ذریعہ اس سے انتقام لوں گا ۔ تم دونوں پر ہو جاؤ گی ۔ جنت میں تو برابر زیادتی رہے گی یہاں تک کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا اور اسے اس میں بسائے گا اور جہنم بھی برابر زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس پر اللہ رب العزت اپنا قدم رکھ دے گا تب وہ کہے گی تیری عزت کی قسم اب بس ہے بس ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣١] اختلاف کی اصل وجہ :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں سے کوئی ایک راہ انتخاب کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے اگر یہ آزادی انتخاب و اختیار انسان سے چھین لی جائے تو اختلاف کا ہونا ممکن نہیں رہتا اور جب تک یہ آزادی موجود ہے لوگ اختلاف کرتے ہی رہیں گے نیز اگر یہ آزادی انسان سے چھین لی جائے تو انسان کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے انسان کو خیر و شر کی راہیں سجھا دی گئیں۔ پھر اسی غرض کے لیے انبیاء آئے اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں لیکن تھوڑے ہی لوگ تھے جنہوں نے اس آزادی انتخاب و اختیار کا درست استعمال کیا زیادہ لوگ ایسے غلط کار ہی ثابت ہوئے جنہوں نے گمراہی کی راہیں اختیار کرکے اپنے آپ کو جہنم کا اہل ثابت کیا۔ یہ ارادہ و اختیار کی قوت انسان کے علاوہ جنوں کو بھی دی گئی ہے انسانوں کی طرح جنوں کی اکثریت بھی گمراہ اور جہنم کی مستحق ہی رہی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً : یعنی اے میرے رسول ! تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء : ٣) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا : (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ) [ یونس : ٩٩ ] مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں کیا، سمع و بصر دے کر اور راستہ بتا کر اختیار دے دیا کہ حق و باطل میں سے جو چاہو اختیار کرو۔ اس لیے یہ سب لوگ کبھی ایمان پر متفق نہیں ہوسکتے، بلکہ ان میں ہمیشہ اختلاف رہے گا، کوئی مومن ہے کوئی کافر، کوئی فرماں بردار کوئی نافرمان، فرمایا : ( وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ ) ” اور اس نے انھیں اسی (آزمائش کے) لیے پیدا فرمایا ہے۔ “ مائدہ میں ہے : ( وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ) [ المائدۃ : ٤٨ ] ” اور لیکن تاکہ وہ تمہیں اس میں آزمائے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ “ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی طے کردی ہے کہ میں جہنم کو اس آزمائش میں ناکام ہونے والے جن و انس سے بھروں گا اور اس بات کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں کہ آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو اپنی جنت سے نوازوں گا۔ وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ : معاویہ بن ابو سفیان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا : ( أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَکُمْ مِنْ أَھْلِ الْکِتَابِ افْتَرَقُوْا عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً ، وَإِنَّ ھٰذِہِ الْمِلَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلاَثٍ وَ سَبْعِیْنَ ، ثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ وَوَاحِدَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ و ھِيَ الْجَمَاعَۃُ ) زَادَ ابْنُ یَحْیَی وَعَمْرٌو فِيْ حَدِیْثِھِمَا : ( وَإِنَّہٗ سَیَخْرُجُ فِيْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَجَارَی بِھِمْ تِلْکَ الْأَھْوَاءُ کَما یَتَجَارَی الْکَلَبُ لِصَاحِبِہِ ، وَقَالَ عَمْرٌو : الْکَلَبُ بِصَاحِبِہِ لاَ یَبْقَی مِنْہٗ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَہٗ )[ أبوداوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ : ٤٥٩٧۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ١؍٤٠٤، ح ٢٠٤ ] ” یاد رکھو ! تم سے پہلے اہل کتاب بہتر (٧٢) ملتوں میں جدا جدا ہوگئے اور یہ ملت تہتر (٧٣) میں جدا جدا ہوجائے گی۔ بہتر (٧٢) آگ میں اور ایک جنت میں ہوگا اور وہ ” الجماعۃ “ ہے۔ “ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایتوں میں مزید کہا : ” میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں یہ خواہشات و بدعات اس طرح رگ رگ میں جاری ہوجائیں گی جیسے باؤلے پن کی بیماری، اس بیماری کے مریض کے رگ و ریشے میں جاری ہوجاتی ہے۔ “ 3 اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ کسی امت کا اتفاق اور اجتماع رحمت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور صاف ظاہر ہے کہ امت مسلمہ صرف اسی چیز پر جمع ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اور وہ کتاب وسنت ہے۔ یہی طریق مستقیم ہے اور اسی پر چلنے والے ” الجماعۃ “ ہیں، باقی سب فرقے بعد میں اس سیدھے راستے سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ۔ 3 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام لوگوں میں مشہور روایت ” اِخْتَلاَفُ أُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ“ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے، یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صاف جھوٹ ہے۔ حافظ ابن حزم (رض) نے اسے موضوع ثابت کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات یہ بھی لکھی کہ اگر اسے صحیح مانا جائے تو پھر امت کا اتفاق زحمت ہوگا، کیونکہ اختلاف رحمت ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر اپنے رحم کا ذکر کیا ہے جو اختلاف کرنے والے نہیں ہوں گے۔ اس لیے سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لینا ہی راہ نجات ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Difference: Blameworthy and Praiseworthy When it was said in the fifth verse (118) - ` had your Lord willed, He would have made all the people a single community& - the sense is that had it been the will of Allah, He would have made all human beings accept Islam by force. All of them would have then become nothing but Muslims without any difference remaining between them. But, such are the dictates of His wisdom that, in this world, Allah Ta` ala does not compel anyone to do something. Instead, He has entrusted man with a kind of choice under which he could do whatever good or bad he wishes to do. Then, human temperaments differ, ways differ and deeds differ. The outcome is that there always will be some people who would keep at loggerheads against the true faith - of course, with the exception of those whom Allah Ta` ala has blessed with His mercy, that is, those who have been following the noble prophets. This tells us that ` difference& at this place means hostility and op-position to the true faith and the teachings of prophets. The difference based on Ijtihad, which is inevitable among religious authorities and jurists of Islam, an ongoing process since the period of the Sahabah, is not included under this purview, nor is it contrary to Divine mercy. In fact, it is the very dictate of Allah&s wisdom and mercy. Those who have declared the differences among Mujtahid Imams to be counter to Mercy in terms of this verse, have done something which is itself coun¬ter to the context of this verse as well as counter to the consistent practice of the Sahabah and Tabi` in. واللہُ سُبحَانہ و تعالیٰ اَعلم And Allah is Pure and High and He knows everything best.

اختلاف مذموم اور محمود : پانچویں آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت و ملت بنا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام انسانوں کو زبردستی قبول اسلام پر مجبور کر ڈالتے سب کے سب مسلمان ہی ہوجاتے ان میں کوئی اختلاف نہ رہتا مگر بتقاضائے حکمت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو کسی عمل پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اس نے انسان کو ایک قسم کا اختیار سپرد کردیا ہے اس کے ماتحت وہ اچھا یا برا جو چاہے عمل کرسکتا ہے، اور انسان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے راہیں مختلف ہوتی ہیں اور عمل مختلف ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ دین حق سے اختلاف کرتے ہی رہیں گے بجز ان لوگوں کے جن پر اللہ تعالیٰ نے رحمت فرمائی، یعنی انبیاء (علیہم السلام) کا اتباع کرنے والے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف سے مراد اس جگہ دین حق اور تعلیم انبیاء کی مخالفت ہے، اجتہادی اختلاف جو ائمہ دین اور فقہاء اسلام میں ہونا ناگزیر ہے اور عہد صحابہ سے ہوتا چلا آیا ہے، وہ اس میں داخل نہیں، نہ وہ رحمت الہٰی کے خلاف ہے بلکہ مقتضائے حکمت و رحمت ہے، جن حضرات نے ائمہ مجتہدین کے اختلاف کو اس آیت کی رو سے غلط، خلاف رحمت قرار دیا ہے، یہ خود سیاق آیت کے بھی خلاف ہے اور صحابہ وتابعین کے تعامل کے بھی۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ۝ ١١٨ ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور والحمام، إلى غير ذلک من الطبائع التي تخصص بها كل نوع . وقوله تعالی: كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً [ البقرة/ 213] أي : صنفا واحدا وعلی طریقة واحدة في الضلال والکفر، وقوله : وَلَوْ شاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً واحِدَةً [هود/ 118] أي : في الإيمان، وقوله : وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ [ آل عمران/ 104] أي : جماعة يتخيّرون العلم والعمل الصالح يکونون أسوة لغیرهم، وقوله : إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلى أُمَّةٍ [ الزخرف/ 22] أي : علی دين مجتمع . قال : وهل يأثمن ذو أمّة وهو طائع وقوله تعالی: وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ [يوسف/ 45] أي : حين، وقرئ ( بعد أمه) أي : بعد نسیان . وحقیقة ذلك : بعد انقضاء أهل عصر أو أهل دين . وقوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً لِلَّهِ [ النحل/ 120] أي : قائما مقام جماعة في عبادة الله، نحو قولهم : فلان في نفسه قبیلة . وروي :«أنه يحشر زيد بن عمرو بن نفیل أمّة وحده» وقوله تعالی: لَيْسُوا سَواءً مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ [ آل عمران/ 113] أي : جماعة، وجعلها الزجاج هاهنا للاستقامة، وقال : تقدیره : ذو طریقة واحدة فترک الإضمار أولی. الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں ۔ میں امم سے ہر وہ نوع حیوان مراد ہے جو فطری اور ت سخیری طور پر خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہو ۔ مثلا مکڑی جالا بنتی ہے اور سرفۃ ( مور سپید تنکوں سے ) اپنا گھر بناتی ہے اور چیونٹی ذخیرہ اندوزی میں لگی رہتی ہے اور چڑیا کبوتر وغیرہ وقتی غذا پر بھروسہ کرتے ہیں الغرض ہر نوع حیوان اپنی طبیعت اور فطرت کے مطابق ایک خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہے اور آیت کریمہ :۔ { كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة البقرة 213) ( پہلے تو سب ) لوگ ایک امت تھے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تما لوگ صنف واحد اور ضلالت و کفر کے ہی کے مسلک گامزن تھے اور آیت کریمہ :۔ { وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة المائدة 48) اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ہی شریعت پر کردیتا ۔ میں امۃ واحدۃ سے وحدۃ بحاظ ایمان مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ { وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ } ( سورة آل عمران 104) کے معنی یہ ہیں کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہونی چاہیے جو علم اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرے اور دوسروں کے لئے اسوۃ بنے اور آیت کریمہ ؛۔ { إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ } ( سورة الزخرف 22 - 23) ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک متفقہ دین پر پایا ہے ۔ میں امۃ کے معنی دین کے ہیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہی ع (25) وھل یاثمن ذوامۃ وھوطائع ( طویل ) بھلا کوئی متدین آدمی رضا اور رغبت سے گناہ کرسکتا ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ } ( سورة يوسف 45) میں امۃ کے معنی حین یعنی عرصہ دارز کے ہیں اور ایک قرات میں بعد امہ ( ربالھاء ) ہے یعنی نسیان کے بعد جب اسے یاد آیا ۔ اصل میں بعد امۃ کے معنی ہیں ایک دور یا کسی ایک مذہب کے متبعین کا دورگزر جانے کے بعد اور آیت کریمہ :۔ { إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا } ( سورة النحل 120) کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم عبادت الہی میں ایک جماعت اور قوم بمنزلہ تھے ۔ جس طرح کہ محاورہ ہے ۔ فلان فی نفسہ قبیلۃ کہ فلاں بذات خود ایک قبیلہ ہے یعنی ایک قبیلہ کے قائم مقام ہے (13) وروی انہ یحشر زیدبن عمرابن نفیل امۃ وحدہ اورا یک روایت میں ہے کہ حشر کے دن زید بن عمر و بن نفیل اکیلا ہی امت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ :۔ { لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ } ( سورة آل عمران 113) وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ ( حکم خدا پر ) قائم بھی ہیں ۔ میں امۃ بمعنی جماعت ہے زجاج کے نزدیک یہاں قائمۃ بمعنی استقامت ہے یعنی ذو و طریقہ واحدۃ تو یہاں مضمر متردک ہے زال ( لایزال) مَا زَالَ ولا يزال خصّا بالعبارة، وأجریا مجری کان في رفع الاسم ونصب الخبر، وأصله من الیاء، لقولهم : زَيَّلْتُ ، ومعناه معنی ما برحت، وعلی ذلك : وَلا يَزالُونَ مُخْتَلِفِينَ [هود/ 118] ، وقوله : لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ [ التوبة/ 110] ، وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الرعد/ 31] ، فَما زِلْتُمْ فِي شَكٍّ [ غافر/ 34] ، ولا يصحّ أن يقال : ما زال زيد إلّا منطلقا، كما يقال : ما کان زيد إلّا منطلقا، وذلک أنّ زَالَ يقتضي معنی النّفي، إذ هو ضدّ الثّبات، وما ولا : يقتضیان النّفي، والنّفيان إذا اجتمعا اقتضیا الإثبات، فصار قولهم : ما زَالَ يجري مجری (کان) في كونه إثباتا فکما لا يقال : کان زيد إلا منطلقا لا يقال : ما زال زيد إلا منطلقا . ( زی ل ) زالہ یزیلہ زیلا اور مازال اور لایزال ہمیشہ حرف نفی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور یہ کان فعل ناقص کی طرح اپنے اسم کی رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں اور اصل میں یہ اجوف یائی ہیں کیونکہ عربی زبان میں زیلت ( تفعیل ) یاء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور مازال کے معنی ہیں مابرح یعنی وہ ہمیشہ ایسا کرتا رہا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَزالُونَ مُخْتَلِفِينَ [هود/ 118] وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے ۔ لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ [ التوبة/ 110] وہ عمارت ہمیشہ ( ان کے دلوں میں باعث اضطراب بنی ) رہیگی ۔ وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الرعد/ 31] کافر لوگ ہمیشہ ۔۔۔ رہیں گے ۔ فَما زِلْتُمْ فِي شَكٍّ [ غافر/ 34] تم برابر شبہ میں رہے ۔ اور محاورہ میں مازال زید الا منطلقا کہنا صحیح نہیں ہے جیسا کہ ماکان زید الا منطلقا کہاجاتا ہے کیونکہ زال میں ثبت گی ضد ہونے کی وجہ نفی کے معنی پائے جاتے ہیں اور ، ، ما ، ، و ، ، لا ، ، بھی حروف نفی سے ہیں اور نفی کی نفی اثبات ہوتا ہے لہذا مازال مثبت ہونے میں گان کیطرح ہے تو جس طرح کان زید الا منطلقا کی ترکیب صحیح نہیں ہے اس طرح مازال زید الا منطلقا بھی صحیح نہیں ہوگا ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

خدا چاہتا تو سب لوگ ایک ہی امت ہوتے قول باری ہے ولو شاء ربک لعجل الناس امۃ واحدۃ بیشک تیرا رب اگر چاہتاتو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ قتادہ کے قول کے مطابق سب کو مسلمان بنا دیتا۔ وہ اس طرح کہ سب کو ایمان کی طرف چلنے پر مجبور کردیتا ۔ اس میں منع کا پہلو ہے یعنی اگر وہ لوگ اس کے خلاف چلنے کا ارادہ کرتے تو انہیں ایسا کرنے نہ دیا جاتا بلکہ انہیں ایمان کی خوبی اور اس کی منفعت کی وسعت کی طرف مجبورا ً جانا پڑتا۔ قول باری ہے ولا یزالون مختلفین مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے۔ مجاہد عطاء ، قتادہ اور اعمش کے قول کے مطابق مختلف ادیان پر چلتے رہیں گے۔ یعنی کوئی یہودی ہوگا تو کوئی نصرانی تو کوئی مجوسی اور اسی طرح اورادیان فاسدہ کا ماننے والے لوگ ہوں گے۔ حسن سے مروی ہے کہ لوگ ارزاق میں اور ایک دوسرے کو اپنے قابو میں لانے اور غلبہ پانے کے احوال کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ قول باری ہے الا من رحم ربک اور ان بےراہ راویوں سے صر ف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ باطل کی مختلف راہوں پر چلنے والوں سے آیت میں مذکورہ لوگوں کو مستثنیٰ کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مطلق ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جو ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے کہ ایمان ہی باطل کی مختلف راہوں پر چلنے سے بچا سکتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٨) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت یعنی ملت اسلامی پر قائم کردیتا اور آئندہ بھی ہمیشہ لوگ دین حق اور باطل میں اختلاف کرتے رہیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٨ (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ ) جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے مل جل کر رہ رہے ہوں گے ان میں اختلاف رائے کا ہونا بالکل فطری بات ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہے ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور اس کے لیے اپنا اپنا استدلال ہے۔ اسی کے مطابق ان کے نظریات ہیں اور اسی کے مطابق ان کے اعمال و افعال۔ جب تک یہ استدلال علم اور قرآن وسنت کی بنیاد پر ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ‘ بشرطیکہ یہ اختلاف کی حد تک رہے اور تفرقہ کی صورت اختیار نہ کرے اور ” من دیگر م تو دیگری “ والا معاملہ نہ ہو۔ اس نکتہ کو یوں بھی سمجھنا چاہیے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے قرآن و سنت سے استدلال کیا ہے ‘ مگر بعض اوقات دونوں بزرگوں کی آراء میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر ایسے اہل علم حضرات کے ہاں ایسا اختلاف کبھی بھی نزاع اور تفرقہ بازی کا باعث نہیں بنتا۔ ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا کی رونق اور خوبصورتی بھی اسی تنوع اور اختلاف سے قائم ہے۔ گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن اے ذوق اس چمن کو ہے زیب اختلاف سے ! اگر دنیا میں یکسانیت (monotany) ہی ہو تو انسان کی طبیعت اس سے اکتا جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١٨۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ میں یہ بھی قدرت ہے کہ سارے جہان کو ایک ہی دین پر رکھتا سب کے سب دیندار رہتے مگر خدا کی مرضی نہ ہوئی کیوں کہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی دیندار بنانے کے لئے نہیں پیدا کیا اس لئے لوگ الگ الگ فرقے فرقے ہوگئے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے کوئی نصاریٰ کوئی یہود کوئی مجوس کوئی مشرک اسی طرح اپنی اپنی عقل کے موافق الگ الگ مذہب قائم کریں گے ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ میں ابوہریرہ (رض) کی ایک حدیث ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود اکہتر فرقے ہوگئے اور نصاریٰ بہتر فرقے ہوئے اور امت محمد یہ تہتر فرقے ہوں گے ان تہتر فرقوں میں سے بہتر فرقے دوزخ میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا حاکم کی معاویہ (رض) کی حدیث میں یہ ایک بات زیادہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون سا فرقہ ہے جو جنتی ہے فرمایا وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر چلیں گے۔ ابوہریرہ (رض) کی حدیث کو ترمذی نے صحیح کہا ہے۔ اور حاکم کی روایت بھی معتبر ہے۔ اس امت کے بےراہ فرقے وہی سلف کے برخلاف لوگ ہیں جیسے قدریہ جبریہ معتزلہ وغیرہ وغیرہ کہ یہ سب فرقے اپنے عقیدہ اور عمل میں سلف کے برخلاف ہیں اور آپس میں بھی ان میں اختلاف ہے ایک فرقہ دوسرے کو حق پر نہیں جانتا۔ الا من رحم ربک سے اہل سنت کا فرقہ مقصود ہے جو اپنے عقیدہ اور عمل میں سلف کا پیرو ہے اس فرقہ کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر چلنے والے لوگ ہیں حدیث کی کتابوں میں اللہ کے رسول اور آپ کے صحابہ کی حالت جو تفصیل سے لکھی ہے اس حالت کو امت کے موجودہ فرقوں کی حالت سے ملایا جاوے تو خود یہ حالت حدیث کی پیشین گوئی کی صداقت اور یہ حدیث آیت کی تفسیر ہوسکتی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسنگ

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:118) ولا یزالون مختلفین۔ لیکن وہ اختلاف کرنے والے ہمیشہ ہی رہیں گے۔ (اس سے پہلے عبارت محذوف ہے۔ جو بدیں مطلب ہے۔ لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے اس نے ایسا نہ چاہا اب حقیقت یہ ہے کہ وہ لا یزالون مختلفین ۔۔ الخ ولذلک خلقہم اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں ــ۔ ” اس جملہ کا تعلق آیت کے کس حصہ کے ساتھ ہے ؟ بعض نے یہ لکھا ہے کہ اس کا تعلق الا ما رحم ربک کے ساتھ ہے یعنی انسان کی آفرنیش کی غایت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ور ہوتا رہے اور ہمیشہ ہدایت کی راہ پر گامزن رہے۔ فقال ابن عباس و مجاھد وقتادۃ وضحاک ولرحمتہ خلقہم۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا تعلق اختلاف سے ہے یعنی انسان کو اسی لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کوئی راہ اختیار کرلے۔ اسے کسی ایک راہ پر چلنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ قال الحسن والمقاتل و عطاء ۔ ایماء الاشارۃ للاختلاف ای للاختلاف خلقہم۔ ایک اور قول یہ بھی ہے کہ ذلک کا مشار الیہ اختلاف اور رحمت دونوں ہیں اور واحد اسم اشارہ کا مشار الیہ دو متضاد چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ جیسے قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا (10:58) آپ فرما دیجئے یہ کتاب محض اللہ کے فضل اور رحمت سے نازل ہوئی ہے پس چاہیے کہ وہ اس پر خوشی منائیں۔ علامہ قرطبی کے قول کے مطابق اہل عرب ذلک (واحد) کو واحد تثنیہ اور جمع سب کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اب آیت کا مطلب ہوگا کہ اہل اختلاف کو اختلاف کے لئے پیدا کیا اور اہل رحمت کو رحمت کے لئے پیدا کیا گیا۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں ھذا احسن الاقوال انشاء اللہ یہ توجیہہ سب سے بہتر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یعنی یہ مکتلف ادیان، مذاہب اور طریقوں پر چلتے رہینگے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 123 شآء (اس نے چاہا) لجعل (البتہ وہ بنا دیتا) امۃ واحدۃ (ایک جماعت) لا یزالون (ہمیشہ) رحم (رحم کیا) خلق (اس نے پیدا کیا) املئن (میں بھردوں گا) نقص (ہم بیان کرتے ہیں نثبت (ہم جما دیتے ہیں) فواد (دل) موعظۃ (نصیحت) ذکری (دھیان، توجہ دینے کی چیز) انتظروا (تم انتظار کرو) توکل علیہ (اس پر بھروسہ کیجیے) تشریح : آیت نمبر 118 تا 123 سورة ھود کی ان آخری آیات میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو درحقیقت اس سورت کا خلاصہ بھی ہیں۔ 1) پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت اور ایک ہی ملت بنا دیتی کبھی ان کے درمیان اختلاف پیدا نہ ہوتا وہ سب کے سب ایک ہی مرکز کے گرد گھومتے رہتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں زمین، آسمان، چاند ، سورج، ستاروں، پہاڑوں اور دریاؤں کی طرح ان کو بےاختیار نہیں رکھا بلکہ انسانوں کو اختیار اور انتخبا کی آزادی دے کر اس کی قدرت بخش دی کہ وہ اچھے یا برے اعمال میں سے جس راستے کا چاہیں انتخبا کرلیں اچھائی اور برائی، جنت اور جہنم دونوں کے راستے کھول دیئے۔ اب یہ انسان کی اپنی پسند ہے کہ وہ ان میں سے کس راستے کا انتخاب کرتا ہے اسی پر فیصلہ ہوگا۔ اسی آزادی انتخاب کی وجہ سے اختلافات ہونا، عمل اور طبیعتوں میں فرق پیدا ہونا فطری بات ہے۔ نتیجہ یہ کہ کچھ لوگ سچے دین سے بھی اختلاف کرتے ہیں اور یہ سلسلہ قائم رہے گا۔ اس جگہ اور اختلاف کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ خلاف کے معنی ہیں ضد ہٹ دھرمی اور اپنی ہر بات پر بےجا اصرار جب کہ اختلاف کے معنی اس کے برعکس ہیں یعنی کسی علمی، فکری معاملہ میں اتجہادی اختلاف کرنا۔ درحقیقت قرآن و سنت کے خلاف کرنا، ضد اور ہٹ دھرمی پر جم جانا یہ خلاف شریعت ہے جبکہ اختلاف کرنا یہ رحمت ہے اسی لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے۔ اختلاف امتی رحمتہ میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ صحابہ کرام، علماء کرام اور ائمہ مجتہدین کے اختلافات سے علم کے ہزاروں پہلو نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں کیونکہ اس اختلاف میں ضد نفسانیت ، غرور اور تکبر نہیں تھا بلکہ عاجزی، انکساری اور علمی فکر بنیاد ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ائمہ مجتھدین کے نزدیک ایک بات بہت اہم ہوتی ہے جس پر ان کی رائے ہوتی ہے لیکن جب دلائل سے ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق فلاں اصول بنتا ہے تو انہوں نے کھی خلاف نہیں کیا بلکہ اپنی رائے سے فوراً رجوع کرلیا۔ اس کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ خلاف اور اختلاف میں یہی بنیادی فرق ہے۔ 2) سورة ھود میں سات انبیاء کرام اور ان کی امتوں کا ذکر خیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کو یہ تسلی دینے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی بات کو مان کر دین اسلام کی سچائیوں کو قبول کیا نجات ان ہی لوگوں کو نصیب ہوئی لیکن جن لوگوں نے اس کے برخلاف ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا ان کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو کر رہیں۔ ان واقعات پر سرسری نظر ڈالی جائے تو چند باتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ (الف) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اس بات سے یقینا آپ کو سکون قلب اور اطمینان حاصل ہوجائے گا کہ اللہ کا دین پہنچانے میں انبیاء کرام کو کس قدر مشکلات اور پریشانیاں اٹھانا پڑی ہیں۔ جاہلوں اور لا علم لوگوں کی اذیت پر انہوں نے کس قدر تحمل اور برداشت سے کام لیا تھا مگر انجام یہ ہوا کہ اللہ نے ان پر ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت میں سرخ روا اور کامیاب فرمایا اور جنہوں نے ان کی اطاعت و فرماں برداری سے انکار کیا اور غرور تکبر کا طریقہ اختیار کیا اللہ نے ان کو اور ان کی تہذیب کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ (ب) حق و صداقت کی بات اور آواز کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو آخر کار کامیابی اور سرفرازی حق و صداقت کی راہ اختیار کرنے والوں ہی کو نصیب ہوتی ہے اور وہی کمزور آواز قوت و طاقت بن جاتی ہے۔rnْ (ج) امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ ان تمام باتوں سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر کریں جن سے گزشتہ انبیاء کرام کی امتیں تباہ و برباد کردی گئیں۔ ( ’) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! آپ واضح الفاظ میں ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کے مخاطب ہیں کہ اگر تم نے صراط مستقیم کو اختیار نہیں کیا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے رہے تو برے انجام کے لئے تم تیار رہو اور انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں اور آخری بات یہ فرمائی گئی کہ زمین و آسمان کے تمام غیب کا علم اللہ کو ہے وہ جانتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی کائنات کو کس طرح چلایا جاتا ہے وہ اس میں کسی کا محتاج نہیں ہے اور کوئی بھی شخص اللہ کو اپنا محتاج نہ سمجھے بلکہ ہر بات اور ہر معاملہ اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جائے گا وہ اس کے مطابق فیصلہ فرمائے گا لہٰذا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کیجیے اور زندگی کے ہر معاملہ میں اسی ایک ذات پر بھروسہ کیجیے وہ ایک ایک انسان کے ہر عمل سے ہر آن واقف ہے اور اس کا پورا پورا بدلہ عطا فرمائے گا۔ الحمد للہ سورة ھود کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم پر عمل کرنے اور سنت انبیاء کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا اصول اور اس کی مشیّت۔ اس سے پہلے آیت نمبر ١١٥ میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کی تلقین فرمائی کہ حوصلہ رکھیے اور صبر کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہاں دوسرے پیرائے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کے رب کا اصول اور اس کی مشیت ہے کہ اس نے لوگوں کو جبراً ایک امت نہیں بنایا یعنی ہدایت پر اکٹھا نہیں کیا اسی اصول کے پیش نظر لوگ ہمیشہ سے حق والوں کے ساتھ اختلاف کرتے آئے ہیں اور تاقیام قیامت اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اس فرد اور جماعت کے جس پر آپ کا رب رحم فرما دے۔ لوگوں کے اختلافات کی فطری وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مختلف طبائع کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آپ کے رب کا فرمان سچ ثابت ہوگا کہ وہ بیشمار باغی جنوں اور انسانوں کے ساتھ جہنم کو بھرے گا۔ قرآن مجید میں یہ اصول مختلف الفاظ میں کئی مرتبہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کے بارے میں کسی پر جبر نہیں کرتا۔ اس نے ہر انسان کو عقل و فکر اور ایک حد تک آزادی عنایت فرمائی کہ جس میں رہ کر ہر انسان کو کفرو شرک، ہدایت اور گمراہی کے درمیان فیصلہ کرنا ہے۔ یہ آزادی فکر اس لیے عنایت کی ہے کیونکہ اس نے انسان کو عقل و فکر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ کچھ انسان فطری طور پر گمراہ پیدا ہوتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ زندگی بھر گمراہی کا راستہ اختیار کیے رکھتے ہیں ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اللہ نے انسان کو فطری طور پر حق اور ہدایت پر پیدا فرمایا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک انسان میں طبیعت کے بعض پہلوؤں کے اعتبار سے منفی قوت زیادہ ہوتی ہے جو اس کے لیے بطور آزمائش ہوتی ہے۔ منفی قوت پر قابو پانے اور آزمائش میں سرخرو ہونے میں ہی کامیابی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل و شعور کی قوت دینے کے ساتھ قرآن و سنت کی شکل میں مفصل ہدایت نامہ عطا فرمایا ہے تاکہ ہر انسان اس کے مطابق اپنی منفی قوتوں پر قابو پائے اور طبعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہدایت کے راستے پر گامزن رہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا ےُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ ےُھَوِّدَانِہٖ اَوْ ےُنَصِّرَانِہٖ اَوْ ےُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِےْمَۃُ بَھِےْمَۃً جَمْعَآءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِےْھَا مِنْ جَدْعَآءَ ثُمَّ ےَقُوْلُ ” فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَےْھَا لَا تَبْدِےْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذَالِکَ الدِّےْنُ الْقَےِّمُ “ ) [ رواہ البخاری : باب اذا اسلم الصبی فمات ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کو یہودی ‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چارپائے اپنے بچے کو تام الخلقتجنم دیتے ہیں۔ کیا تم ان میں سے کسی بچے کو کان کٹا پاتے ہو ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت تلاوت کی۔” اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے یہ بالکل سیدھا اور درست دین ہے۔ “ مسائل ١۔ اختلاف کرنے والے ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی ہر بات پوری ہوتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جس پر رحمت فرماتا ہے وہ حق کے ساتھ اختلاف کرنے سے اجتناب برتتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ باغی جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھریں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت نہیں دیتا : ١۔ اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن لوگ ہمیشہ ہی اختلاف کرتے رہیں گے۔ (ھود : ١١٨) ٢۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع فرما دیتا پس آپ جاہلوں میں سے نہ ہوں۔ (الانعام : ٣٥) ٣۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور ہدایت دیتا۔ (الانعام : ١٤٩) ٤۔ اگر تیرا رب چاہتا تو سارے کے سارے لوگ مومن ہوجاتے۔ (یونس : ٩٩) ٥۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔ اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا ملے۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کی مشیت کے مطابق جاری وساری ہے۔ اس لیے جو ہدایت کی راہ لیتا ہے وہ اور جو ضلالت اختیار کرتا وہ دونوں ہی اللہ کی سنت کے مطابق چل رہے ہیں اور یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق ہے اور سزاء و جزاء بھی اللہ کی سنت اور مشیت کے مطابق ہے۔ یہ اللہ کی اسکیم تھی کہ لوگ امت جامدہ نہ ہوں ، اور کامیات وہ لوگ ہوں جن کو اللہ نے ہدایت کی توفیق دی اور وہ حق پر جمع ہوجائیں ، کیونکہ ہدایت اور سچائی ایک ہی ہوتی ہے۔ ان میں عتدد نہیں ہے۔ اگرچہ وہ اہل ضلال کے خلافا ہوں۔ ہدایت یافتہ لوگوں کے بالمقابل یہ لوگ ہیں۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (١١ : ١١٩) “ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ” اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ہدایت پر جمع ہوئے ان کا انجام اور ہے ، وہ جنت ہے اور وہ ان سے بھر دی جائے گی جس طرح جہنم ان لوگوں سے بھر دی جائے گی جو اہل حق سے مختلف ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہیں کیونکہ باطل کے انواع و اقسام بہت ہیں۔ اس سورت کا اختتامیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی طرف قصص انبیاء وحی کرنے کا مقصد کیا ہے۔ خصوصا اہل ایمان کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ تعلق ختم کردیں اور ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس انجام تک جا پہنچیں جو ان کے لیے منتظر ہے اور پردہ غیب کے پیچھے ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی ، اللہ پر بھروسہ کریں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ جو چاہیں کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور سب ایک ہی دین پر ہوتے ‘ دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوتا اور وہ سب تکوینی طور پر قہراً وجبراً مسلمان ہوجاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہوا کہ حق اور باطل دونوں راستے بیان کر دئیے جائیں اور جسے ایمان قبول کرنا ہو وہ اپنے اختیار سے قبول کرے اور جسے کفر پر رہنا ہو وہ اپنے اختیار سے کفر پر رہے ‘ جیسا کہ سورة کہف میں فرمایا (وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ اِنَّا اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ نَارًا) (اور آپ فرما دیجئے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے بیشک ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کی ہے) پس جب حق قبول کرنے پر جبر نہیں کیا با اختیاربنا دیا تو شیاطین کی کوششوں اور نفوس انسانیت کے تقاضوں پر چلنے والے کافر رہیں گے اور اس طرح سے اہل حق اور اہل باطل میں ہمیشہ اختلاف رہے گا ہاں جس پر اللہ کی مہربانی ہو وہ حق ہی کو اختیار کرے گا اور حق ہی پر رہے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

98:۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ محذوف ہے بقرینہ آیت سورة مائدہ رکوع 7 وَلَوْ شَاءَ اللہ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحَدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ الایۃ۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی دن (توحید) پر متفق کردیتا لیکن اس صورت میں ابتلاء و امتحان کی حکمت فوت ہوجاتی اور اس طرح سب کا ایمان جبری ہوتا حالانکہ جبری ایمان مطلوب نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کو واضح کرنے کے بعد سمجھ بوجھ کیساتھ دونوں مییں سے ایک کو قبول کرنے کا اختیار دیا۔ اسی اختیار پر جزا وسزا مبنی ہے۔ 99:۔ لوگوں کو چونکہ ایک دین کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا اس لیے وہ ہمیشہ آپس میں مختلف رہیں گے کوئی حق پر ہوگا کوئی باطل پر مگر جن پر اللہ کی رحمت اور اللہ کی توفیق جن کے شامل حال ہوئی ان میں عقائد اور اصول دین کا کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔ وَلِذٰلِکَ خَلَقَہُمْ ای للاختلاف او الابتلاء اور اللہ نے اختلاف یا امتحان ہی کے لیے تو لوگوں کو پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے جو راستہ چاہیں اختیار کریں توحید کا یا شرک کا پھر اسی کے مطابق جزا و سزا ہوگی۔ وَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ الخ : قضاء و قدر میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ جہنم کو مشرک جنوں اور انسانوں سے بھرا جائے گا اس لیے لوگوں کا دین واحد پر متفق ہونا ممکن نہیں اور ان کے درمیان اختلاف کا پایا جانا ناگزیر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

118 اور اگر آپ کے پروردگار کو منظور ہوتا تو وہ سب لوگوں کو ایک ہی طریق اور ایک ہی راستے پر کردیتا چونکہ حضرت حق کو منظور نہ ہوا اس لئے لوگوں نے مختلف طریقہ کار اختیار کرلیا اور آئندہ بھی یہ ہمیشہ آپس میں اختلاف کرتے رہیں گے۔