Surat Hood

Surah: 11

Verse: 28

سورة هود

قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ اٰتٰىنِیۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَعُمِّیَتۡ عَلَیۡکُمۡ ؕ اَنُلۡزِمُکُمُوۡہَا وَ اَنۡتُمۡ لَہَا کٰرِہُوۡنَ ﴿۲۸﴾

He said, "O my people have you considered: if I should be upon clear evidence from my Lord while He has given me mercy from Himself but it has been made unapparent to you, should we force it upon you while you are averse to it?

نوح نے کہا میری قوم والو! مجھے بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت عطا کی ہو پھر وہ تمہاری نگاہوں میں نہ آئی تو کیا یہ زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں حالانکہ تم اس سے بیزار ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Response of Nuh Allah says, informing about the response of Nuh to his people, قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّيَ وَاتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَ He said: "O my people! Tell me, if I have a clear proof from my Lord, and a mercy (Prophethood) has come to me from Him, but that (mercy) has been obscured from your sight. Shall we compel you (to accept) it when you have a strong hatred for it! Allah says, informing about the response of Nuh to his people, ... أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّيَ ... Tell me, if I have a clear proof from my Lord, Bayyinah means certainty, a clear matter, and truthful Prophethood. That is the greatest mercy from Allah upon him (Nuh) and them (his people). فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ (but that (mercy) has been obscured from your sight), "Obscured from your sight" in this verse means, `it was hidden from you and you are not guided to it. Thus, you (people) did not know its importance so you hastily rejected and denied it.' أَنُلْزِمُكُمُوهَا (Shall we compel you (to accept) it), This means, "Should we force you to accept it, while you actually detest it."

بلااجرت خیر خواہ سے ناروا سلوک حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا کی سچی نوبت یقین اور واضح چیز میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے آچکا ہے ۔ بہت بڑی رحمت و نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تم اسے نہ دیکھ سکے نہ تم نے اس کی قدر دانی کی نہ اسے پہنچانا بلکہ بےسوچے سمجھے تم نے اسے دھکے دے دئیے اسے جھٹلانے لگ گئے اب بتاؤ کہ تمہاری اس ناپسندیدگی کی حالت میں میں کسیے یہ کر سکتا ہوں کہ تمہیں اس کا ماتحت بنا دوں؟

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28 1 بینۃ سے مراد ایمان و یقین ہے اور رحمت سے مراد نبوت۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو سرفراز کیا تھا۔ 28۔ 2 یعنی تم اس کے دیکھنے سے اندھے ہوگئے۔ چناچہ تم نے اس کی قدر پہچانی اور نہ اسے اپنانے پر آمادہ ہوئے، بلکہ اس کو جھٹلایا اور رد کے درپے ہوگئے۔ 28۔ 3 جب یہ بات ہے تو ہدایت و رحمت تمہارے حصے میں کس طرح آسکتی ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] نبی اور عام کافروں کی زندگی کا فرق :۔ نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ امتیازی باتیں تو مجھ میں موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ تمہارے امتیاز کا معیار اور ہے اور میرے نزدیک دوسرا ہے۔ میں نے ایک اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہیں کی ہمیشہ حق بات کہتا ہوں اور حق کی ہی دعوت دیتا ہوں ہر ایک شخص کا ہمدرد ہوں کسی کو دکھ نہیں پہنچاتا نہ دغا فریب کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ اللہ نے مجھے نبوت عطا کرکے اپنی رحمت سے نوازا بھی ہے گویا میری اور تمہاری زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پھر بھی اگر تمہیں کوئی امتیازی فرق نظر نہیں آتا تو میں زبردستی تمہیں کیسے قائل کرسکتا ہوں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ ۔۔ : نوح (علیہ السلام) نے ان کے تمام اعتراضات کا جامع جواب دیا، ایک تو یہ کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت کے مضبوط دلائل اور پختہ یقین موجود ہے، یعنی ” وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ “ دوسرا یہ کہ یہ نبوت کسی کی محنت کا نتیجہ یا کسی کے آبا و اجداد کی جائداد نہیں، یہ تو محض اللہ تعالیٰ کی اپنے پاس سے خاص عنایت ہے، اس کی تقسیم تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ یہ اللہ جسے چاہے دیتا ہے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، جیسا کہ مکہ والوں نے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کیا تھا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ ) [ الزخرف : ٣١ ] ” اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟ “ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا : (اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۭ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) [ الزخرف : ٣٢ ] ” کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں ؟ ہم نے خود ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی۔ “ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ : اس کا مادہ ” عَمْیٌ“ ہے، اندھا ہونا، یعنی یہ بتاؤ کہ اگر تمہیں اس دلیل اور رحمت سے اندھا رکھا گیا ہو اور تمہاری بےوقوفی کی وجہ سے وہ تم پر ایسی مخفی رہی ہو کہ تم دیکھ ہی نہ سکے ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ : یعنی کیا ہم زبردستی تمہیں اس دلیل کا قائل کرلیں اور اس رحمت کے سائے میں دھکے سے داخل کرلیں، جب کہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور دور بھاگتے ہو۔ ” اَنُلْزِمُكُمُوْهَا “ میں ایک لفظ کے اندر تین ضمیروں کو ایسے طریقے سے جمع کیا ہے کہ لفظ انتہائی خوبصورت اور واضح ہوگیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ۝ ٠ ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا كٰرِہُوْنَ۝ ٢٨ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] بَيِّنَة والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . ( ب ی ن ) البَيِّنَة کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے لزم لُزُومُ الشیء : طول مكثه، ومنه يقال : لَزِمَهُيَلْزَمُهُ لُزُوماً ، والْإِلْزَامُ ضربان : إلزام بالتّسخیر من اللہ تعالی، أو من الإنسان، وإلزام بالحکم والأمر . نحو قوله : أَنُلْزِمُكُمُوها وَأَنْتُمْ لَها كارِهُونَ [هود/ 28] ( ل ز م ) لزمہ یلزمہ لزوما کے معنی کسی چیز کا عرصہ دراز تک ایک جگہ پر ٹھہرے رہنا کے ہیں ۔ اور الزام ( افعال ) دوقسم پر ہے ایک تو الزام بالتسخیر ہے اسکی نسبت اللہ تعالیٰ اور انسان دونوں کی طرف ہوسکتی ہے اور دوسرے الزام بالحکم والامر یعنی کسی چیز کو حکما واجب کردینا جیسے فرمایا : أَنُلْزِمُكُمُوها وَأَنْتُمْ لَها كارِهُونَ [هود/ 28] تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ۔ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہورہے ہو ۔ كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر میں ایسی دلیل پر قائم ہوں جو کہ میرے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے اور اس نے مجھے اپنے پاس سے نبوت اور دولت اسلام عطا فرمائی ہو اور پھر میرے دین اور میری نبوت میں تمہیں شبہ ہو یا شبہ میں ڈال دیا ہو تو کیا ہم اس دعوی کو تم پر مسلط کردیں اور کسی طرح تمہارے حلق میں اس کو زبردستی اتار دیں اور تم اس کا انکار کیے جاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ ) یہ لفظ بَیِّنَۃ اس سورت میں بار بار آئے گا۔ یعنی میں نے اپنی زندگی تمہارے درمیان گزاری ہے ‘ میرا کردار ‘ میرا اخلاق اور میرا رویہ ‘ سب کچھ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تم لوگ جانتے ہو کہ میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان ہوں۔ لہٰذا تم لوگ غور کرو کہ پہلے بھی اگر میں ایسی شخصیت کا حامل انسان تھا : (وَاٰتٰٹنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ ) یعنی میرے اوپر اللہ کی رحمت سے وحی آتی ہے جس کی کیفیت اور حقیقت کا ادراک تم لوگ نہیں کرسکتے۔ میں اس کے بارے میں تم لوگوں کو بتا ہی سکتا ہوں ‘ دکھا تو نہیں سکتا۔ (اَنُلْزِمُکُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کٰرِہُوْنَ ) اب اگر ایک بات آپ لوگوں کو پسند نہیں آرہی تو ہم زبردستی اس کو تمہارے سر نہیں تھوپ سکتے۔ ہم آپ لوگوں کو مجبور تو نہیں کرسکتے کہ آپ ضرور ہی اللہ کو اپنا معبود اور مجھے اس کا رسول مانو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

34. This amounts to virtually repeating the statement mentioned earlier (see verse 17 and n. 17 ff. above). The statement suggested that the Prophet (peace be on him) had reached the stage of affirming the unity of God as a result of his own reflection. Whereafter, God favoured him by designating him a Prophet and providing him with direct knowledge of the truths about which his heart was already convinced. This also shows that the Prophets attain belief regarding the realm of the Unseen before they are appointed to the office of prophethood. When they are subsequently designated Prophets, they are endowed with faith in the truths belonging to the realm of the Unseen as a result of direct knowledge of those truths.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :34 یہ وہی بات ہے جو ابھی پچھلے رکوع میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوائی جا چکی ہے کہ پہلے میں خود آفاق و انفس میں خدا کی نشانیاں دیکھ کر توحید کی حقیقت تک پہنچ چکا تھا ، پھر خدا نے اپنی رحمت ( یعنی وحی ) سے مجھے نوازا اور ان حقیقتوں کا براہ راست علم مجھے بخش دیا جن پر میرا دل پہلے سے گواہی دے رہا تھا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام پیغمبر نبوت سے قبل اپنے غور و فکر سے ایمان بالغیب حاصل کر چکے ہوتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ ان کو منصب نبوت عطا کرتے وقت ایمان بالشہادۃ عطا کرتا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٨۔ یہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے جواب میں کہا کہ جو دین میں خدا کی طرف سے لایا ہوں اور جس بات کی تمہیں ہدایت کرتا ہوں تم پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور جو تم نے جواب دئیے ہیں کوئی بھی ٹھیک نہیں انسان ہونے میں بیشک ہم تم برابر ہیں مگر انسان ہونا نبوت کے مخالف نہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ سب کے سب جتنے انسان ہیں نبی ہوجائیں یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجتا ہے اگر تم میں اس کی قابلیت اور صلاحیت ہوتی تو ممکن تھا کہ تم بھی رسول بنادئیے جاتے اور رذیلوں کے ایمان لانے سے بھی میری نبوت پر کچھ الزام نہیں آتا کیونکہ تمہاری طرح یہ بھی بشر ہیں ان کو بھی تمہاری طرح عقل و فہم ہے ان کا تابع ہونا میرے لئے حجت ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ دیکھو تم ہی لوگوں میں سے یہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہیں تم کیوں کر ان کے ایمان لانے سے مجھ پر الزام لگا سکتے ہو تمہاری تو بعینہ وہ مثال ہے کہ کوئی گروہ صحرا میں بھٹکتا پھرتا ہو اور اپنے رہبر کا کہنا نہ مانتا ہو وہ گروہ راستہ پر نہیں آسکتا اسی طرح جب تم مجھے جھٹلاتے ہو اور دین حق کے قبول کرنے سے بیزار ہو تو میں زبردستی تم کو راستہ پر نہیں لاسکتا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو گمراہ ٹھہر چکا اس کو زبردستی کون راہ راست پر لاسکتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی روایت ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا علم الٰہی کے موافق جو شخص جنت میں جانے کے قابل ٹھہرا ہے وہ ویسے ہی عمل کرتا ہے اور ویسے ہی کاموں کے کرنے میں اس کو آسانی نظر آتی ہے اور جو شخص دوزخ میں جانے کے قابل ٹھہرا ہے وہ ویسے ہی عمل کرتا ہے اور ویسے ہی کاموں کے کرنے میں اس کو آسانی نظر آتی ہے ١ ؎ نوح (علیہ السلام) کے جواب کا یہ مطلب اس حدیث سے خوب حل ہوجاتا ہے کہ علم الٰہی کے موافق نبوت معجزہ سب چیز کی صداقت جن لوگوں کی نظر سے اس طرح چھپی ہوئی ہے کہ وہ ان حق باتوں کے قبول کرنے سے بیزار رہیں اور یہی بیزاری ان کو آسان اور حق باتوں کی صداقت مشکل نظر آتی ہے تو ایسے لوگوں کو دوزخ کے راستہ سے پھیر کر جنت کے راستہ پر زبردستی کوئی نہیں لاسکتا آگے جا کر نوح (علیہ السلام) نے ان لفظوں میں جو جواب دیا ہے۔ { لا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم (١١، ٣٤)} یہ دوسرا جواب گویا پہلے خواب کی تفسیر ہے اور اس دوسرے جواب اور حضرت علی (رض) کی حدیث کو ملا کر پہلے جواب کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٧٣٨ تفسیر سورة واللیل اذا یشی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:28) ارء یتم۔ اخبرونی۔ مجھے بتاؤ تو۔ بھلا یہ تو بتاؤ۔ فعمیت علیکم۔ پھر وہ پوشیدہ کردی گئی ہو تم پر (یعنی وہ تمہاری نظرون سے پوشیدہ ہو) ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ لعمیۃ (تفعل) سے ۔ جس کے معنی اندھا کردینے اور چھپا دینے کے ہیں۔ انلزمکموھا۔ الف استفہامیہ نلزم مضارع جمع متکلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول اول ۔ ھا مفعول دوئم۔ ضمیر کا مرجع الرحمۃ ہے۔ واؤ دو ضمیروں کے درمیان وصل کے لئے ہے۔ کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں۔ کیا ہم اس کو تمہارے گلے مڑھ دیں۔ (تھانوی) اسی طرح استینکموہ (15:22) وانتم لہا کارھون۔ حالانکہ تم اس سے کراہت کرتے ہو۔ جب کہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ یعنی وہ دلیل تمہیں نظر نہ آئی یا وہ رحمت (نبوت) تم سے مخفی رہی۔ اور تم اسے اپنی بےوقوفی سے سمجھ نہ سکے۔ یہ ان کے پہلے اعتراض کا جواب ہے کہ ” تم ہماریجی سے بشر ہو۔ “ (روح) ۔۔ 8 ۔ یعنی کیا ہم زبردستی تمہیں اس دلیل کا قائم کردیں حالانکہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور اس سے بھاگتے ہو۔ (روح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ مطلب یہ کہ تمہارا کہنا کہ جی کو نہیں لگتا محض استبعاد ہے امتناع اجتماع نبوت و بشریت کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں اور میرے پاس وقوع اجتماع کی دلیل موجود ہے یعنی معجزہ وغیرہ نہ کہ کسی کا اتباع اس سے اس کا جواب بھی ہوگیا کہ ان کا اتباع حجت نہیں۔ لیکن انتاج دلیل کا موقوف ہے نظر پر تم نظر کرتے نہیں اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو جواب۔ حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کی سطحی اور بےبنیاد گفتگو کا نہایت ہی مدبرانہ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اے میری قوم کیا تم غور نہیں کرتے ؟ کہ میں نے تمہارے سامنے جو دعوت پیش کی ہے اس کے کتنے واضح دلائل اپنے رب کی طرف سے پیش کیے ہیں، جہاں تک میرے بشرہونے کا تعلق ہے اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ میں واقعی بشرہی ہوں۔ لیکن اس میں بھی غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنافضل وکرم فرمایا ہے۔ اس نے تم سب میں سے مجھے ہی اپنے پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اگر تم جان بوجھ کر حقائق دیکھنے اور ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو میں کس طرح تم پر ہدایت مسلط کرسکتا ہوں۔ اللہ کی ہدایت کو قبول کرنا اس کی رحمت اور فضل کے بغیر ممکن نہیں ہوا کرتا۔ پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ میں تمہیں یہ دعوت اس لیے نہیں دے رہا کہ اس کے بدلے مجھے کسی مال، منصب یا شہرت کی غرض ہے۔ میں آپ سے اجرکاطالب ہونے کی بجائے اپنے رب پر بھروسہ رکھتا ہوں کہ وہی مجھے اس کا اجر عنایت فرمائے۔ جہاں تک آپ کے اس مطالبے کا تعلق ہے کہ میں غریب اور کمزور ایمانداروں کو چھوڑدوں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ جو اپنے رب کی رضا اور ملاقات کی چاہت رکھتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں۔ میں رب کے منکروں کو ترجیح دوں، تمہارا یہ مطالبہ سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ اگر میں مخلص اور ایمان میں سچے لوگوں کو اپنے سے دور کردوں تو اس جرم کے بدلے اللہ تعالیٰ سے مجھے کون چھڑائے گا ؟ کیا تم اس حقیقت اور دعوت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو ؟ مسائل ١۔ انبیاء ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات لے کر آتے ہیں۔ ٢۔ کسی کو ہدایت دیناانبیاء کے اختیار میں نہیں تھا۔ ٣۔ انبیاء (علیہ السلام) لوگوں سے اجر کے خواہاں نہیں ہوتے تھے۔ ٤۔ انبیاء (علیہ السلام) مسکینوں کو التفات خاص سے محروم نہیں کرتے۔ ٥۔ ایمان والے اپنے رب سے ملاقات کریں گے۔ ٦۔ ایمان والوں کو کم تر اور حقیر جاننے والے جاہل ہوتے ہیں۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ کے تابع داروں سے کبھی اعراض نہیں کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) نبوت کے کام پر کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے : ١۔ حضرت نوح نے فرمایا میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ (ہود : ٢٩) ٢۔ حضرت ہود نے فرمایا کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعرا : ١٢٧) ٣۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ میرا اجر اللہ رب العالمین پر ہے اور تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ (الشعرا : ١٤١، ١٤٥) ٤۔ میرا اجر اللہ پر ہے اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا : ٤٧) ٥۔ میرا اجر اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ہود : ٥١) ٦۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تجھ سے نہ اجر چاہتا ہوں اور نہ کسی قسم کا تکلف کرتا ہوں۔ (ص : ٨٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت نوح ان الزامات ، اس سرکشی اور استکبار کو نہایت ہی خوش اخلاقی کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ وہ یقین ، ثابت قدمی اور نہایت ہی ٹھنڈے انداز میں اس سچائی کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں جو اللہ نے ان پر نازل کی ہے۔ وہ نہایت ہی وضاحت سے بات کرتے ہیں ، نہایت ہی سلجھے ہوئے انداز میں گہرے شعور اور یقین کے ساتھ ان سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ وہ ان کی زبان میں بات نہیں کرتے ، وہ الزام کا جواب الزام سے نہیں دیتے۔ وہ ایسا دعویٰ نہیں کرتے جو وہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے بارے میں حقیقی تاثر کے بجائے کوئی مبالغہ آمیز تصور نہیں دیتے۔ وہ اپنی رسالت اور منصب رسالت کے بارے میں ان کے سامنے نہایت ہی حقیقی بات کرتے ہیں۔ قَالَ يٰقَوْمِ " اے برادران قوم " کس قدر مہذب ، پرخلوص داعیانی خطاب ہے ! ان کی نسبت اپنی طرف اور اپنی نسبت ان کی طرف۔ آپ فرماتے ہیں کہ تم اعتراض یہ کرتے ہو کہ میں تمہاری جیسا ایک آدمی ہی ہوں تو بظاہر تمہاری تو درست ہے لیکن اگر میرا میرے رب کے ساتھ پیغمبرانہ اتصال ہو تو ذرا سوچو تمہاری اس رائے کے نتائج تمہارے لیے کس قدر خطرناک ہوسکتے ہیں۔ میں تو واضح طور پر اپنے رب کے ساتھ رابطہ رکھتا ہوں۔ اور مجھے اس کا شعور بھی ہے اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس سے تم لوگ محروم ہو۔ اللہ نے مجھے اپنا رسول ہونے کا منصب دیا ہے اور یہ اس کی جانب سے میرے لیے رحمت ہے یا مجھے ایسے خصائص عطا کیے جن کی بنا پر میں اس رحمت الہی کا حامل ہوگیا ہوں اور یہ بیشک ایک عظیم رحمت ہے۔ تم اس پوزیشن پر بھی ذرا غور کرلو کہ اگر مجھ پر یہ رحمت ہو۔ اور تم اس کو سمجھ نہ پا رہے ہو ، کیونکہ تم عقل کے اس قدر کورے ہو کہ اس عظیم حقیقت کے ادراک ہی سے محروم ہو۔ تم اس کو دیکھ نہیں سکتے ہو تو ہمارے پاس اب اور کیا ذریعہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو زبردستی تمہارے ذہن میں ڈال دیں۔ نہ میں ایسا کرسکتا ہوں اور نہ ایسا کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ خصوصاً جب کہ تم اس کے تسلیم کرنے کو ناپسند کرتے ہو۔ جب نفرت کی خلیج حائل تو تم سمجھ ہی کب سکتے ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نہایت پیار کے ساتھ ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرماتے ہیں اور ان کے احساس کو تیش فرماتے ہیں تاکہ وہ ان بلند حقائق کو سمجھنے کی سعی کریں۔ اور رسالت کے بارے میں وہ جس غلط فہمی اور غفلت کا شکار ہیں اس سے باہر نکل آئیں۔ ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) یہ حقیقت سمجھانے کی کو ششش کرتے ہیں کہ رسالت کا معاملہ اس قدر سطحی نہیں ہے جس قدر وہ اسے سمجھ رہے ہیں۔ لیکن حضرت نوح اپنے اس نرم کلام میں ان کو یہ عظیم اصول بتا رہے ہیں کہ عقیدے کا معاملہ خالص کسی شخص کی سمجھ پر موقوف ہے اور کسی عقیدے کا اختیار ایک شخص کے ذاتی غور و فکر پر منحصر ہے۔ اس باب میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی اور نہ کسی پر کوئی عقیدہ ٹھونسا جاسکتا ہے۔ خواہ کوئی جس قدر جبر اور تشدد چاہے ، اختیار کرلے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29: حضرت نوح (علیہ السلام) نے مشرکین کی کٹ حجتی کا نہایت معقول اور متین جواب دیا اے میری قوم ! اگر میرے پاس اللہ کی جانب سے اپنے دعوے کی سچائی پر واضح دلائل موجود ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے مجھے نبوت بھی عطا فرما دی ہو اور میں اللہ کے حکم اور اس کی وحی کے مطابق تمہیں توحید کی دعوت دوں مگر بد قسمتی سے ان دلائل وبراہین میں تم غور وفکر نہ کرو اور میرے دعوے کی صداقت نہ سمجھ پاؤ تو اب تم خود ہی بتاؤ اس میں قصور کس کا ہے۔ 30: ھَا ضمیر کلمہ توحید یا البینۃ یا رحمۃ کی طرف راجع ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وقیل الھا ترجع الی الرحمۃ وقیل الی البینۃ ای نلزمکم قبوھا الخ (قرطبی ج 9 ص 25) یعنی یہ تو ناممکن ہے کہ تمہارے دل کلمہ توحید اور دلائل توحید کو ماننے پر تیار نہ ہوں بلکہ اس سے متنفر ہوں اور ہم جبراً تم سے منوالیں یہ بات ہماری طاقت و استطاعت سے باہر ہے۔ استفہام انکاری ہے یعنی ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ ھذا استفھام معناہ الانکار ای لا اقدر علی ذلک والذی اقدر علیہ ان ادعوکم الی اللہ ولیس لی ان اضطرکم الی ذلک قال قتادۃ واللہ لو استطاع نبی اللہ لالزمھا قومہ ولکنہ لم یملک ذلک (خازن ج 3 ص 228) اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے انبیاء (علیہم السلام) کے اختیار میں نہیں اور نہ وہ متصرف و مختار ہیں اگر حضرت نوح (علیہ السلام) مختار و متصرف ہوتے تو اپنی ساری قوم کو رشد و ہدایت سے بہرہ ور کردیتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28 حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتلائو کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن اور واضح دلیل پر قائع ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت یعنی نبوت عطا فرمائی ہو اور مجھ کو اپنی نبوت سے نوازا ہو پھر وہ نبوت تمہاری آنکھ سے پوشیدہ اور اوجھل ہوگئی ہو ار تم کو کہ نہ سوجھتی ہو تو کیا ہم زبردستی اس رحمت کو تم سے چمٹا دیں اور تمہارے گلے منڈھ دیں حالانکہ تم اس سے نضرت ہی کرتے رہو اور اس کو برا ہی سمجھے ہو یعنی تم مال و دولت اور ظاہری ٹیپ ٹاپ کو نبوت کی دلیل سمجھتے ہو حالانکہ نبوت بلندیٔ اخلاق اعلیٰ تعلیم اور خدا کی رحمت کا نام ہے وہ تم کو دکھائی نہیں دیتی کیونکہ غور نہیں کرتے تو اس نبوت کا اقرار زبردستی تو نہیں کرایا جاسکتا اور اقرار نبوت کو تمہارے گلے تو نہیں منڈھا جاسکتا۔