Surat Hood

Surah: 11

Verse: 29

سورة هود

وَ یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾

And O my people, I ask not of you for it any wealth. My reward is not but from Allah . And I am not one to drive away those who have believed. Indeed, they will meet their Lord, but I see that you are a people behaving ignorantly.

میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا میرا ثواب تو صرف اللہ تعالٰی کے ہاں ہے نہ میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells; وَيَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالاً إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى اللّهِ ... And O my people! I ask of you no wealth for it, my reward is from none but Allah. Nuh says to his people, "I do not ask you for any wealth in return for my sincere advice to you." Wealth (Mal) here means, "payment that I take from you." Nuh means, "I am only seeking the reward from Allah, the Mighty and Sublime." Concerning the statement, ... وَمَأ أَنَاْ بِطَارِدِ الَّذِينَ امَنُواْ ... I am not going to drive away those who have believed. This alludes to the fact that they (the disbelievers) requested Nuh to disassociate himself from the believers, because they were averse to them and felt themselves too important to sit with them. This is similar to the request of disbelievers to the seal of the Messengers to disassociate himself from a group of the people who were considered weak in their social status. They wanted the Prophet to sit with them in a special gathering of the elite. Therefore, Allah revealed, وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ And turn not away those who invoke their Lord, morning and afternoon. (6:52) Allah also says, وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُولواْ أَهَـوُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَأ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّـكِرِينَ Thus We have tried some of them with others, that they might say: "Is it these (poor believers) whom Allah has favored from among us!" Does not Allah know best those who are grateful! (6:53) And Nuh says here, ... إِنَّهُم مُّلَقُو رَبِّهِمْ وَلَـكِنِّيَ أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ وَيَا قَوْمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ اللّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ أَفَلَ تَذَكَّرُونَ

دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اسکی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا ، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے ۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دیدوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہو نے کا ۔ یہی طلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری ( وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ 52؀ ) 6- الانعام:52 ) یعنی صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال ۔ اور آیت میں ہے ( وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِيْنَ 53؀ ) 6- الانعام:53 ) اسی طرح ہم نے ایک کو دورے سے آزما لیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کا فضل نازل ہوا ؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نہیں جانتا ؟

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 تاکہ تمہارے دماغوں میں یہ شبہ نہ آجائے کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو دولت دنیا اکٹھا کرنا ہے۔ میں تو یہ کام صرف اللہ کے حکم پر اسی کی رضا کے لئے کر رہا ہوں، وہی مجھے اجر دے گا۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) کے سرداروں نے بھی معاشرے میں کمزور سمجھے جانے والے اہل ایمان کو حضرت نوح (علیہ السلام) سے اپنی مجلس یا اپنے قرب سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہوگا، جس طرح روسائے مکہ نے رسول اللہ سے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیت نازل فرمائیں تھیں ' اے پیغمبر ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کرنا جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ( سورة ، الا نعام 52) (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ۭ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 52؀) 6 ۔ الانعام :52) ' اپنے نفسوں کو ان لوگوں کے ساتھ جوڑے رکھئے ! جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں، اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے گزر کر کسی اور کی طرف تجاوز نہ کریں (سورۃ الکہف۔ 28) (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا) 18 ۔ الکہف :28) 29۔ 3 یعنی اللہ اور رسول کے پیروکار کو حقیر سمجھنا اور پھر انھیں قرب نبوت سے دور کرنے کا مطالبہ کرنا، یہ تمہاری جہالت ہے۔ یہ لوگ تو اس لائق ہیں کہ انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے نہ کہ دور دھتکارا جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] نبوت اور رسالت پر اجر ؟ میں نہ تمہارا تنخواہ دار ہوں نہ تم سے کسی معاوضہ کا مطالبہ کرتا ہوں پھر تم مجھ سے یہ مطالبہ کیسے کرسکتے ہوں کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انھیں میں اپنے ہاں سے رخصت کردوں تم یہ کیسی جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ میں انھیں اس لحاظ سے تم سے بدرجہا بہتر سمجھتا ہوں کہ انہوں نے حق کو حق سمجھ کر قبول کرلیا ہے یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تمہاری طرح سرکش اور ہٹ دھرم نہیں اللہ کے ہاں تو معزز وہ ہے جو ایمان دار اور پرہیزگار ہو ذات کا اونچا یا نیچا ہونا چنداں فائدہ نہیں دیتا اور اگر بالفرض میں تمہارے کہنے پر انھیں اپنے ہاں سے نکال دوں تو میں تو خود اللہ کے ہاں مجرم ٹھہرتا ہوں پھر اللہ کے مقابلہ میں کوئی ہے جو اس وقت میری مدد کرسکے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا۔۔ : اور اے میری قوم ! میں اللہ کا یہ پیغام تمہیں پہنچانے پر تم سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، مبادا تم سمجھو کہ نوح نے مال کھینچنے کے لیے نبوت کا بہانہ کھڑا کرلیا۔ میری اجرت تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے بھی نہیں اور نہ دنیا کی کسی چیز کا تم سے مطالبہ ہے۔ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : یعنی جس طرح اللہ کی رحمت (اسلام) کے دامن میں آنے سے جب تک تم نفرت اور کراہت کرتے رہو گے، میں تمہیں زبردستی اسلام لانے پر مجبور نہیں کرسکتا، اسی طرح جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے، چونکہ وہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں، اس لیے میں انھیں دھکے دے کر نکال دوں، یہ کام میں ہرگز نہیں کرسکتا۔ یہ اسی قسم کا مطالبہ تھا جو قریش کے سردار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورة انعام (٥٢) ، کہف (٢٨) اور سورة عبس۔ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ : یعنی اگر میں ان کو ستاؤں یا اپنی مجلس سے نکال دوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا انصاف چاہیں گے، اس کا میں کیا جواب دوں گا۔ یا یہ کہ وہ لوگ تو اللہ کے ہاں عزت پالیں گے اور اس بارگاہ عالی میں ان کو ایمان و عمل کے باعث مقام و مرتبہ ملے گا، پھر تمہارے ان کو ذلیل سمجھنے سے کیا ہوتا ہے ؟ یہ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ اے نوح ! آپ کے متبع ہمارے رذالے ہیں۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” کافروں نے مسلمانوں کو رذالہ ٹھہرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں اور بات سنیں۔ سو فرمایا کہ دل کی بات اللہ تعالیٰ تحقیق کرے گا جب اسے ملیں گے، میں اگر مسلمانوں کو ہانکوں تو اللہ سے کون چھڑوائے مجھ کو۔ اور رذالہ ٹھہرایا اس پر کہ وہ کسب کرتے تھے۔ کسب سے بہتر کمائی نہیں، اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو۔ “ (موضح) وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـهَلُوْنَ : یعنی تم کسی بات کو بھی صحیح طرح نہیں سمجھتے، تمہاری نظر صرف ظاہر چیزوں پر ہے اور انجام پر غور نہیں کرتے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ فلاں شخص نیچ قوم کا ہے، اس لیے اسے اپنے پاس نہ بیٹھنے دو ؟ اللہ کے نزدیک اسی کو عزت ہے جو ایمان دار اور پرہیزگار ہے۔ بےایمان اور بدکار کتنے ہی اونچے خاندان کا ہو اللہ کے نزدیک چوہڑے اور چمار سے بھی بدتر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Then, they were told: ` As for the condition you impose that I should remove the poor from my company in order that you could believe, then let it be very clear that I cannot do that. They may be poor but they are close to the Highest of the high, the greatest honor one can have. Turning such people out is not a right thing to do.& And: مُّلَاقُو رَ‌بِّهِمْ (They are surely to meet their Lord) could also mean: If, supposedly, I were to turn them out, when they go to their Lord on the day of Qiyamah and complain, what would I have to say? The sub¬ject continues in the fourth verse (30): If I were to turn them out, who would save me from Divine punishment? At the end, it was said: All this is nothing but your ignorance and heedlessness. To you being a man is counter to being a prophet, or you go to the other extreme and demand that poor people should be driven away from his company.

دوسرے یہ بتلایا گیا کہ تم جو ایمان قبول کرنے کے لئے یہ شرط پیش کرتے ہو کہ میں غریب لوگوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو سمجھ لو کہ یہ میں نہیں کرسکتا کیونکہ یہ لوگ اگرچہ غریب ہیں مگر بارگاہ رب العزت میں ان کی رسائی اور اعزاز ہے ایسے لوگوں کو نکالنا کوئی عقل کا کام نہیں، اور مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر بالفرض میں ان کو نکال دوں تو قیامت کے روز یہ لوگ جب اپنے رب کے سامنے جائیں گے اور فریاد کریں گے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا، چوتھی آیت کا یہی مضمون ہے کہ اگر میں ان کو نکال دوں تو مجھے خدا کے عذاب سے کون بچائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ سب تمہاری جہالت ہے کہ تم آدمیت کو نبوت کے منافی سمجھتے ہو یا غریب لوگوں کو نکال دینے کی فرمائش کرتے ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْہِ مَالًا۝ ٠ ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝ ٠ۭ اِنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـہَلُوْنَ۝ ٢٩ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ طرد الطَّرْدُ : هو الإزعاج والإبعاد علی سبیل الاستخفاف، يقال : طَرَدْتُهُ ، قال تعالی: وَيا قَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ [هود/ 30] ( ط ر د) الطرد ( ن ) کسی کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر دور کردینا ہٹا دینا کہاجاتا ہے طردتہ میں نے اسے بھگا دیا قرآن میں ہے : وَيا قَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ [هود/ 30] برادران قوم ! اگر میں ان کو نکال دوں تو عذاب خدا سے کون میری مدد کرسکتا ہے ۔ لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ جهل الجهل علی ثلاثة أضرب : - الأول : وهو خلوّ النفس من العلم، هذا هو الأصل، وقد جعل ذلک بعض المتکلمین معنی مقتضیا للأفعال الخارجة عن النظام، كما جعل العلم معنی مقتضیا للأفعال الجارية علی النظام . - والثاني : اعتقاد الشیء بخلاف ما هو عليه . - والثالث : فعل الشیء بخلاف ما حقّه أن يفعل، سواء اعتقد فيه اعتقادا صحیحا أو فاسدا، كمن يترک الصلاة متعمدا، وعلی ذلک قوله تعالی: قالُوا : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ج ھ ل ) الجھل ۔ ( جہالت ) نادانی جہالت تین قسم پر ہے ۔ ( 1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں اور بعض متکلمین نے کہا ہے کہ انسان کے وہ افعال جو نظام طبعی کے خلاف جاری ہوتے ہیں ان کا مقتضی بھی یہی معنی جہالت ہے ۔ ( 2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتقاد قائم کرلینا ۔ ( 3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہئے اس کے خلاف سر انجام دنیا ہم ان سے کہ متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط مثلا کوئی شخص دیا ۔ دانستہ نماز ترک کردے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے آیت : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] میں ھزوا کو جہالت قرار دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩) اور اے قوم میں تم سے اس تبلیغ توحید پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے اور تمہارے کہنے سے میں تو ان ایمان والوں کو نہیں نکالتا یہ لوگ تو اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں، اس چیز پر وہاں جا کر یہ مجھ سے مخاصمہ کریں گے لیکن تم ہی لوگ خواہ مخواہ جہالت کررہے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ (وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالاً ط اِنْ اَجْرِیَ الاَّ عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) جن لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ وہ ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ‘ وہ سب اہل ایمان ہیں ‘ اور اس لحاظ سے میرے نزدیک وہ بہت اہم اور معزز لوگ ہیں۔ اب میں تمہارے کہنے پر ان کو خود سے دور نہیں ہٹا سکتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

35. The Prophet Noah (peace be on him) told his people that he had sincerely counselled his people about what was conducive to their well-being. Noah bore all kinds of hardship and suffering, and all for the well-being of his people. Noah sought to achieve no personal benefit out of his striving to call 36. The worth of the believers is best known only to their Lord which will become fully evident when they encounter Him on the Day of Judgement. If they indeed are true gems, they will not then become pieces of ordinary rock just because some people in this world had disparagingly thrown them aside. But if, on the contrary, they are indeed nothing but mere pieces of ordinary rock, their Lord has every right to cast them wherever He pleases. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. II, al-An'am 6: 52, and al-Kahf 18:28.)

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :35 یعنی میں ایک بے غرض ناصح ہوں ۔ اپنے کسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ تمہارے ہی بھلے کے لیے یہ ساری مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کر رہا ہوں ۔ تم کسی ایسے ذاتی مفاد کی نشان دہی نہیں کر سکتے جو اس امر حق کی دعوت دینے میں اور اس کے لیے جان توڑ محنتیں کرنے اور مصیبتیں جھیلنے میں میرے پیش نظر ہو ۔ ( ملاحظہ ہو المومنون ، حاشیہ ۷۰ ۔ یٰس حاشیہ ۱۷ ۔ الشوریٰ ، حاشیہ ٤۱ ) سورة هُوْد حاشیہ نمبر :36 یعنی ان کی قدر و قیمت جو کچھ بھی ہے وہ ان کے رب کو معلوم ہے اور اسی کے حضور جا کر وہ کھلے گی ۔ اگر یہ قیمتی جواہر ہیں تو میرے اور تمہارے پھینک دینے سے پتھر نہ ہو جائیں گے ، اور اگر یہ بے قیمت پتھر ہیں تو ان کے مالک کو اختیار ہے کہ انہیں جہاں چاہے پھینکے ۔ ( ملاحظہ ہو الانعام ، آیت ۵۲ ۔ الکہف ، آیت ۲۸ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٩۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اس بات کی تفصیل بیان کی کہ میں جو لوگوں کو راہ حق بتلاتا ہوں اور خدا کا پیغام پہنچاتا ہوں اس سے میرا منشأ یہ نہیں ہے کہ کوئی مجھے اس کی اجرت میں مال و دولت دے یہ نبوت کا دعویٰ ہرگز طلب دنیا کے لئے نہیں ہے جو تم کوئی تہمت مجھ پر دھر سکو گے یہ تو خالص خدا کے واسطے ہے۔ اس کا اجر بھی خدا ہی دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء پر یہ بات فرض ہے کہ وہ خالص دل کی نصیحت کے طور پر احکام الٰہی امت کے لوگوں کو پہنچا دیں۔ اب انبیاء اس نصیحت کے معاوضہ میں اگر امت کے لوگوں سے کچھ اجرت اور مزدوری لیویں تو وہ خالص دلی کی نصیحت کا موقع باقی نہیں رہتا اس واسطے وعظ و نصیحت کے معاوضہ میں انبیاء کو کسی اجرت یا مزدوری کا لینا جائز نہیں ہے رہی یہ بات کہ امت کے علماء انبیاء کے وارث بن کر لوگوں کو قرآن کے موافق کچھ وعظ و نصیحت کریں یا قرآن پڑھاویں تو ان کی اجرت کا کیا حکم ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک قرآن کی تعلیم کے معاوضہ میں کسی اجرت کا لینا جائز نہیں ہے۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ابی بن کعب (رض) اور عبادہ بن الصامت (رض) کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبادہ بن الصامت (رض) اور ابی بن کعب (رض) نے کچھ لوگوں کو قرآن کی سورتیں سکھائیں ان لوگوں نے اپنے ان استادوں کو کچھ تحفہ دیا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو جب اس تحفہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تحفہ قیامت کے دن تحفہ لینے والے کے حق میں دوزخ کی آگ بن جاوے گا ١ ؎ اس حدیث سے امام ابوحنیفہ (رح) کے اور امام احمد (رح) کے مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے جو علماء اس اجرت کے جائز ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کا طرح طرح سے جواب دیا ہے جس کی تفصیل حدیث کی شرح اور فقہ کی کتابوں میں ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٨ باب الاجارہ و شقیح الرواۃ ص ١٩٦ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:29) یقوم۔ اے میری قوم قوم اصل میں قومی تھا۔ علیہ۔ میں ۃ ضمیر واحد مذکر غائب۔ تبلیغ رسالت کے لئے ہے۔ یعنی اس تبلیغ پر میں تم سے کوئی اجز نہیں مانگ رہا۔ طارد۔ طرد سے اسم فاعل واحد مذکر حاضر۔ ہانکنے والا۔ تطرد (باب نصر) ہانکنا، کسی کو ذلیل و حقیر جان کر دور کردینا۔ ہٹا دینا وما انا بطارد الذین امنوا۔ یعنی میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اپنے پاس سے اس واسطے دھتکارنے سے رہا۔ جو تمہاری نظروں میں ذلیل ہیں لیکن وہ درحقیقت خداوند تعالیٰ کے حضور شرف باریابی پانے والے ہیں۔ ایسا ہی مطالبہ کفار نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تھا۔ کہ جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ (الایۃ 6:52) اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں۔ خاص اسی کی رضا کا قصد کرتے ہیں۔ تجھلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جہالت کرتے ہو۔ تم نادانی کرتے ہو۔ الجھل جہالت۔ نادانی۔ جہالت تین قسم پر ہے۔ (1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا۔ اور یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ (2) کسی کام کو جس طرح سرانجام دینا چاہیے اس کے خلاف سرانجام دینا۔ قطع نظر اس کے کہ اس کے متعلق اعتقاد صحیح ہے یا غلط۔ جیسے قصداً نماز ترک کردینا۔ جاہل کا لفظ عموماً بطور مذمت بولا جاتا ہے مگر کبھی بغیر مذمت کے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ آیت یحسبھم الجاہل اغنیاء من التعفف (2:273) نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے۔ ولکنی ارکم قوما تجھلون۔ بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ تم ایسے لوگ ہو کہ جہالت کئے جا رہے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے وہ چونکہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں اس لئے انہیں اپنے پاس سے دھکے دے کر نکال دوں۔ یہ بھی اسی قسم کا مطالبہ تھا جو قریش کے سردار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا کرتے تھے۔ (از شوکانی) ۔ 10 ۔ یعنی میں اگر ان کو ستائوں یا اپنی مجلس سے نکال دوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا انصاف چاہیں گے اس کا میں کیا جواب دوں گا یا یہ کہ وہ لوگ تو اللہ کے ہاں عزت پالیں گے اور اس بارگاہ عالی میں ایمان و عمل کے باعث ان کو یار ملے گا۔ پھر تمہارے ذلیل سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ یہ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (نوح علیہ السلام) کے مقبع ہمارے رذالے ہے۔ (رازی) ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : کافروں نے مسلمانوں کو رذال ٹھہرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں اور بات سنیں۔ سو فرمایا کہ دل کی بات اللہ تحقیق کرے گا جب اسے ملیں گے۔ میں اگر مسلمانوں کو ہانکوں تو اللہ سے کون چھڑوائے مجھ کو اور رذالا ٹھہرایا اس پر کہ وہ کسب کرتے تھے۔ کسب سے بہتر کمائی نہیں اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو۔ (کذافی الروح) ۔ 11 ۔ یعنی کسی بات کو بھی صحیح طور پر نہیں سمجھتے اور تمہاری نظر صرف ظواہر پر ہے اور انجام پر غور نہیں کرتے۔ (کبیر۔ روح) بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ فلاں شخص نیچ قوم کا ہے اس لئے اسے اپنے پاس بیٹھنے نہ دو ؟ اللہ کے نزدیک اسی شخص کی عزت ہے جو ایماندار اور پرہیز گار ہے۔ بےایمان اور بدکار کتنے ہی شریف خاندان کا ہو اللہ کے نزدیک چوہڑے اور چمار سے بھی بدتر ہے۔ (وحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اے برادران قوم " جن لوگوں کو تم رذیل کہتے ہو یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں میں نے دعوت دی اور انہوں نے میری دعوت قبول کرلی اور ایمان لے آئے اور میرا مطالبہ لوگوں سے فقط یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اس کے سوا میرا ان پر کوئی حق نہیں ہے۔ میں جو دعوت دے رہا ہوں ، اس کے عوض میں ان سے کوئی معاضہ طلب کرنے کا حقدار نہیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو میں فقراء کے مقابلے میں امراء کے درپے ہوجاتا۔ میرے نزدیک تمام لوگ برابر ہیں ، فقیر ہوں کہ امیر۔ جو شخص لوگوں کی دولت میں دلچسپی نہیں رکھتا اس کے نزدیک فقراء اور امراء ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ " میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے " صرف اللہ کے ذمہ ، اس کے سوا کسی اور سے میں کسی قسم کے معاوضے کا طلبگار ہی نہیں۔ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا " اور میں ان لوگوں کو دھکے دینے والا بھی نہیں ، جو ایمان لائے ہیں " اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید انہوں نے ایسا کوئی مطالبہ کیا تھا یا ایسے اشارات دیے تھے کہ وہ ان عوام الناس کے ساتھ اکٹھے نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر ان کو دور کردیا جائے تو وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں کیونکہ وہ مجلس نوح میں ان رذیل لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ نہ وہ یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ ہم جیسے بڑے لوگ ان رذیلوں کے طریقے پر چلیں۔ میں ان لوگوں کو دھکے دینے والا نہیں۔ یعنی مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا وہ تو ایمان لے آئے ہیں۔ اب وہ جانیں اور ان کا رب جانے۔ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ " وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں " وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـهَلُوْنَ " مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو " یعنی تم ان اقدار کو نہیں سمجھ سکتے جن کے ساتھ اللہ کے ترازو میں لوگ تولے جاتے ہیں۔ اور تم اس حقیقت کو بھی نہیں سمجھتے کہ سب لوگوں کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو ایمان لائے تھے اور دنیاوی اعتبار سے اونچے درجہ کے افراد نہ تھے (اور قوم کے بڑے لوگ چاہتے تھے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) انہیں اپنے پاس سے ہٹا دیں) (وَمَا اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) (جو لوگ ایمان لائے میں انہیں نہیں ہٹا سکتا) (اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ ) (بےشک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں) یعنی وہ اللہ کے مقرب بندے ہیں کامیاب ہیں ان کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر ہے جس کی وہ انہیں جزا دے گا میں انہیں اپنے پاس سے ہٹا کر اللہ کو کیوں ناراض کروں۔ (وَلٰکِنِّیْ اٰرَکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ ) (میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت کی باتیں کرتے ہو) اور ایمان قبول نہیں کرتے جو سب سے بڑا شرف ہے اور اپنی حقیر دنیا کے پیش نظر اہل ایمان کو ارزل اور گھٹیا بتا رہے ہو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31: میری قوم ! اس تبلیغ دعوت پر میں تم سے تنخواہ یا معاوضہ طلب نہیں کر رہا تاکہ تم پر اس کا بوجھ ہو اس کا معاوضہ مجھے اللہ کی طرف سے ملے گا جس کی میں ڈیوٹی دے رہا ہوں۔ باقی رہی یہ بات کہ تمہاری خاطر میں ان غرباء کو اپنے پاس سے ہٹا دوں جو ایمان لاچے ہیں تو بھی نہیں ہوسکتا۔ اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں اگر میں ایسا کروں تو وہ خدا کے یہاں میری شکایت کریں گے فیشکوننی الیہ ان طردتھم (مدارک ج 2 س 142) یا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مقربین بارگاہِ الہی ہیں اس لیے میں ان کو اپنی مجلس سے کیونکر اٹھا دو لا اطردھم ولا ابعدھم عن مجلسی لانھم من اھل الزلفی المقربون الفائزون عنداللہ تعالیٰ (روح ج 12 ص 41) مگر تم لوگ ہو کہ ایسی جاہلانہ اور سفیہانہ باتیں کرتے چلے جا رہے ہو۔ وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصرُنِیْ نیز یہ بتاؤ اگر میں تمہاری خواہش پر ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دوں اور اس کی وجہ سے اللہ مجھ سے ناراض ہوجائے تو اس کی ناراضی سے مجھے کون بچائے گا یعنی کوئی نہیں بچا سکے گا۔ استفہام انکاری ہے۔ یہ تمہارے معبود تم پجاریوں کے کام نہیں آسکتے تو میرے کس کام آئیں گے اَفَلَاتَذَکَّرُوْنَ کچھ تو عقل سے کام لو اور نصیحت و عبرت حاصل کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

29 اور اے میری قوم اتنا تو سوچو کہ میں تم سے اس دین کی تبلیغ پر کچھ مال طلب نہیں کرتا میرا اجرو ثواب تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور نہ میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اپنے پاس سے نکالنے والا اور ہٹانے والا ہوں کیونکہ وہ سب اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے اور پروردگار کی حضور میں حاضر ہونیوالے ہیں لیکن میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جاہلانہ باتیں کرتے ہو اور خواہ مخواہ کی جہالت کرتے ہو یعنی اس دعوائے نبوت سے اگر دنیا کمانی ہوتی تو میں تم سے مال طلب کرتا رہا ان لوگوں کو اپنے پاس ہنکانا اور نکالنا یہ میں نہیں کرسکتا کیونکہ اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔