Surat Hood

Surah: 11

Verse: 33

سورة هود

قَالَ اِنَّمَا یَاۡتِیۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ اِنۡ شَآءَ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۳۳﴾

He said, " Allah will only bring it to you if He wills, and you will not cause [Him] failure.

جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گا اگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

"...if you are of the truthful." (In reply to this), He said: "Only Allah will bring it (the punishment) on you, if He wills, and then you will escape not. This means, `It is only Allah Who can punish you and hasten your punishment for you. He is the One from Whom nothing escapes.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 یعنی عذاب کا آنا خالص اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، یہ نہیں ہے کہ جب میں چاہوں، تم پر عذاب آجائے۔ تاہم جب اللہ عذاب کا فیصلہ کرلے گا یا بھیج دے گا، تو پھر اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہیں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] نوح (علیہ السلام) نے اس کا جواب بھی صاف صاف دے دیا کہ عذاب کا لانا یا نہ لانا میرے قبضہ اختیار میں نہیں۔ یہ عذاب تو اللہ کی مشیئت کے مطابق اپنے وقت پر ہی آئے گا ہاں میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم اسی طرح اپنی سرکشی پر ڈٹے رہے تو عذاب آئے گا ضرور اور جب عذاب آگیا تو پھر تم بچ نہ سکو گے اور یہ سب باتیں بھول جاؤ گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

نوح (علیہ السلام) نے جواب میں کسی تلخی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ اپنی اور اللہ تعالیٰ کی حیثیت واضح فرمائی کہ عذاب لانا یا نہ لانا میرا کام نہیں، یہ تو اللہ کا اختیار ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل نہیں سکو گے اور جس طرح کائنات کا ایک ذرہ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر حرکت یا سکون میں نہیں آسکتا، انسان ہدایت اور گمراہی کی ایک حد تک اختیار رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی توفیق کے بغیر پیغمبر کی خیر خواہی اور نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِہِ اللہُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۝ ٣٣ عجز عَجُزُ الإنسانِ : مُؤَخَّرُهُ ، وبه شُبِّهَ مُؤَخَّرُ غيرِهِ. قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] ، والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال تعالی: أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ [ المائدة/ 31] ، وأَعْجَزْتُ فلاناً وعَجَّزْتُهُ وعَاجَزْتُهُ : جعلته عَاجِزاً. قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، وَما أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ [ الشوری/ 31] ، وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ الحج/ 51] ، وقرئ : معجزین فَمُعَاجِزِينَ قيل : معناه ظانّين ومقدّرين أنهم يُعْجِزُونَنَا، لأنهم حسبوا أن لا بعث ولا نشور فيكون ثواب و عقاب، وهذا في المعنی کقوله : أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ أَنْ يَسْبِقُونا [ العنکبوت/ 4] ، و «مُعَجِّزِينَ» : يَنسُبُون إلى العَجْزِ مَن تَبِعَ النبيَّ صلّى اللہ عليه وسلم، وذلک نحو : جهّلته وفسّقته، أي : نسبته إلى ذلك . وقیل معناه : مثبّطين، أي : يثبّطون الناس عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کقوله : الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ الأعراف/ 45] ، وَالعَجُوزُ سمّيت لِعَجْزِهَا في كثير من الأمور . قال تعالی: إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الصافات/ 135] ، وقال : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ [هود/ 72] . ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز الانسان ۔ انسان کا پچھلا حصہ تشبیہ کے طور ہر چیز کے پچھلے حصہ کو عجز کہہ دیا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] جیسے کھجوروں کے کھو کھلے تنے ۔ عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ [ المائدة/ 31] اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ میں ۔۔۔۔ ۔ اعجزت فلانا وعجزتہ وعاجزتہ کے معنی کسی کو عاجز کردینے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ وَما أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ [ الشوری/ 31] اور تم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے ۔ وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ الحج/ 51] اور جہنوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرادیں گے ۔ ایک قرات میں معجزین ہے معاجزین کی صورت میں اس کے معنی ہوں گے وہ یہ زعم کرتے ہیں کہ ہمیں بےبس کردیں گے کیونکہ وہ یہ گمان کرچکے ہیں کہ حشر ونشر نہیں ہے کہ اعمال پر جذا وسزا مر تب ہو لہذا یہ باعتبار معنی آیت کریمہ : أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ أَنْ يَسْبِقُونا [ العنکبوت/ 4] کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ۔ کے مترادف ہوگا اور اگر معجزین پڑھا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ آنحضرت کے متبعین کیطرف عجز کی نسبت کرتے ہیں جیسے جھلتہ وفسقتہ کے معنی کسی کی طرف جہالت یا فسق کی نسبت کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک معجزین بمعنی مثبطین ہے یعنی لوگوں کو آنحضرت کی اتباع سے روکتے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ الأعراف/ 45] جو خدا کی راہ سے روکتے ( ہیں ) اور بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الصافات/ 135] مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی ۔ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ [هود/ 72] اے ہے میرے بچہ ہوگا اور میں تو بڑھیا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣) حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ عذاب تو اللہ تعالیٰ ہی تم پر لائے گا اگر اس کو منظور ہوگا اور اس کے ذریعے وہی تمہیں عذاب دے گا اور اس وقت تم عذاب الہی سے بچ نہیں سکو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ (قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِہِ اللّٰہُ اِنْ شَآءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ) اگر اس نے تمہیں عذاب دینے کا فیصلہ کرلیا تو پھر تم لوگ اس کا مقابلہ کر کے اس کے عذاب سے بچ کر بھاگ نہیں سکو گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:33) معجزین ملاحظہ ہو (11:20) عاجز کردینے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح کا رد عمل کیا ہے ؟ یہ تکذیب اور یہ معاندانہ چیلنج ان کو ایک دینی اور رسول کریم کے جادہ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتا۔ وہ حق اور صداقت کی تبلیغ سے ہاتھ نہیں کھینچ لیتے۔ وہ مسلسل ان کے سامنے وہ سچائی پیش کرتے چلے جاتے ہیں ، بھلایا ہوا سبق یاد کراتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا رویہ بہت ہی جاہلانہ ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لے آئیے وہ عذاب ! آپ ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ بھائیو ! میں تو فقط رسول ہوں اور میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پیغام تم تک پہنچا دوں۔ رہا عذاب الہی تو وہ امر الہی کے تابع ہے اور تمام امور کی تدبیر تو اللہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے کہ عذاب جلدی لے آئے یا اسے کسی وقت تک موخر کردے۔ یہ اس کی سنت کے مطابق آئے گا اور سنت الہیہ میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ ایک نبی نہ تو سنت الہیہ میں تبدیلی کرسکتا ہے اور نہ اس کا رخ پھر سکتا ہے۔ رسول کا فریضہ اور ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ آخری لمحے تک تبلیغ کرتا رہے۔ لوگوں کی جانب سے تکذیب اور روگردانی اور چیلنج کی وجہ سے رسول کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا۔ اگر سنت الہی کا تقاضا یہ ہوا کہ تم اپنی گمراہی کی وجہ سے ہلاک ہوجاؤ تو یہ سنت تم پر جاری ہوکر رہے گی ، چاہے جس قدر جدوجہد کروں ، اس لیے نہیں کہ اللہ تمہیں میری نصیحت سے استفادہ کرنے سے روکتے ہیں ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اختیار تمیزی کو اس طرح استعمال کر رہے ہو کہ سنت الہی کے مطابق تم اس انجام تک پہنچ جاؤگے۔ اور اس سلسلے میں تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ہو۔ تم تو دائماً اس کے قبضہ قدرت میں ہو ، اللہ ہی تدبیر امور کرتا ہے۔ اور تقصیرات کا تعین کرتا ہے۔ تم سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ حساب و کتاب دینا ہے اور جزاء و سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ " وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے " ۔۔۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

33 نوح (علیہ السلام) نے کہا اس عذاب کو وہی تم پر لادے گا اور اللہ تعالیٰ ہی اگر اس کو منظور ہوگا تو وہ لائے گا اور تم کہیں بھاگ کر اس کو تھکا نہیں سکو گے یعنی میں تو تبلیغ کرتا ہوں عذاب کا مجھ سے کیا تعلق وہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔