46. Mount Judi is situated to the north-east of the Island of Ibn 'Umar in Kurdistan. According to the Bible, the Ark's resting place was Ararat, which is the name of a particular mountain as well as of a whole range of mountains in Armenia. Ararat, in the sense of a mountain range, extends from the Armenian plateau to southern Kurdistan. The mount called Judi is part of this range and is known even today by the same name. In ancient historical accounts, Mount Judi is mentioned as the place where the Ark rested. Around 250 B.C., a Babylonian priest, Berasus, wrote a history of his country based on Chaldean traditions. He mentions Judi as the resting-place of Noah's Ark. The history written by Abydenus, a disciple of Aristotle, also corroborates this. Abydenus further remarks that many people in Mesopotamia possessed pieces of the Ark which they used as a charm. They ground those pieces in water and gave the preparation to the sick so as to cure them of their ailments.
In connection with this great incident one is also faced with the question of whether the Flood was universal or whether it was limited to the area inhabited by the people of Noah. This question remains unanswered to this day. Under the influence of Israelite traditions, it is believed that it was a universal Flood (Genesis 7: 18-24). The Qur'an, however, does not explicitly say so. There are several allusions in the Qur'an which indicate that subsequent generations of mankind are the descendants of those who were saved from the Flood. But that does not necessarily mean that the Flood covered the whole world. For, it is quite plausible that at that point in history the human population was confined only to the area which was overtaken by the Flood, and that those born after the Flood gradually dispersed to other parts of the world.
This view is supported by two things. Firstly, ancient historical traditions, archaeological discoveries and geological data provide evidence that a great flood took place at some period in the distant past in the Tigris-Euphrates region. There is no such evidence for a universal flood. Secondly, traditions about a great flood have been popular among all communities of the world down the ages. Such traditions are found even in the folklore of such distant regions as Australia, America and New Guinea. One may thus conclude that at some time in the past the ancestors of all these communities lived together in some region which was overtaken by the Flood. Since presumably their descendants subsequently dispersed to, and settled down in. different parts of the world, they transmitted and preserved the traditions of this great Flood. (For details see Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf 7 n. 47, pp. 37-8.)
سورة هُوْد حاشیہ نمبر :46
جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرہ ابن عمر کے شمالی مشرقی جانب واقع ہے ۔ بائیبل میں اس کشتی کے ٹھیرنے کی جگہ اراراط بتائی گئی ہے جو ارمینیا کے ایک پہاڑ کا نام بھی ہے اور ایک سلسلہ کوہستان کے نام بھی ۔ سلسلہ کوہستان کے معنی میں جس کو اراراط کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک چلتا ہے اور جبل الجودی اسی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے جو آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے ۔ قدیم تاریخوں میں کشتی کے ٹھیرنے کی یہی جگہ بتائی گئی ہے ۔ چنانچہ مسیح علیہ السلام سے ڈھائی سو برس پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بیراسس ( Berasus ) نے پرانی کلدانی روایات کی بنا پر اپنے ملک کی جو تاریخ لکھی ہے اس میں وہ کشتی نوح کے ٹھیرنے کا مقام جودی ہی بتاتا ہے ۔ ارسطو کا شاگرد ابیڈنیوس بھی اپنی تاریخ میں اس کی تصدیق کرتا ہے ۔ نیز وہ اپنے زمانہ کا حال بیان کرتا ہے کہ عراق میں بہت سے لوگوں کے پاس اس کشتی کے ٹکڑے محفوظ ہیں جنہیں وہ گھول گھول کر بیماروں کو پلاتے ہیں ۔
یہ طوفان جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے ، عالمگیر طوفان تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آباد تھی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا ۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا ( پدائش 7:18-24 ) مگر قرآن میں یہ بات کہیں نہیں کہی گئی ہے ۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں جو طوفان نوح سے بچالیے گئے تھے ، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو ، کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود رہی ہو جہاں طوفان آیا تھا ، اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں ۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے ایک یہ کہ دجلہ وفرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثوبت تاریخی روایات سے آثار قدیمہ سے اور طبقات الارض سے ملتا ہے ۔ لیکن روئے زمیں کے تمام خطوں میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے ۔ دوسرے یہ کہ روئے زمین کی اکثر وبیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں ، حتی کہ آسٹریلیا ، امریکہ اور نیوگنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آباؤ واجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا ۔ اور پھر جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ گئیں ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ اعراف حاشیہ نمبر47 )