Surat Hood

Surah: 11

Verse: 44

سورة هود

وَ قِیۡلَ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ وَ اسۡتَوَتۡ عَلَی الۡجُوۡدِیِّ وَ قِیۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾ الرّبع

And it was said, "O earth, swallow your water, and O sky, withhold [your rain]." And the water subsided, and the matter was accomplished, and the ship came to rest on the [mountain of] Judiyy. And it was said, "Away with the wrongdoing people."

فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا اور اے آسمان بس کر تھم جا ، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا اور کشتی جودی نامی پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ ظالم لوگوں پر لعنت نازل ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The End of the Flood Allah, the Exalted says, وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءكِ وَيَا سَمَاء أَقْلِعِي ... And it was said: "O earth! Swallow up your water, and O sky! Withhold (your rain)." Allah, the Exalted, informs that when the people of the earth were all drowned, except for the people on the ship, He commanded the earth to swallow its water, which had sprang from it and gathered upon it. Then He commanded the sky to cease raining. ... وَغِيضَ الْمَاء ... And the water was made to subside, This means that it (the water) began to decrease. ... وَقُضِيَ الاَمْرُ ... and the decree was fulfilled. This means that all of those who disbelieved in Allah were removed from the people of the earth. Not a single one of them remained upon the earth. ... وَاسْتَوَتْ ... And it (the ship) rested, This is referring to the ship and those who were in it. ... عَلَى الْجُودِيِّ ... on (Mount) Judi. Mujahid said, "Judi is a mountain in Al-Jazirah (Northwest Mesopotamia) where the mountains sought to tower above each other on the day of the drowning. On that day of destruction, all the mountains sought to be higher (to avoid being overcome by the water). However, this mountain (Judi) humbled itself for Allah, the Mighty and Sublime, and therefore it was not drowned. This is why Nuh's ship anchored upon it." Qatadah said, "The ship rested upon it (Mount Judi) for a month before they (the people) came down from it." Qatadah also said, "Allah made Nuh's ship remain on Mount Judi in the land of Al-Jazirah, as a lesson and a sign." Even the early generations of this Ummah saw it. How many ships are there that have come after it and have been destroyed and became dust ... وَقِيلَ بُعْداً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ and it was said: "Away with the people who are wrongdoing!" means destruction and loss for them. The term "away with" here implies being far away from the mercy of Allah. For verily, they were destroyed to the last of them, and none of them survived.

طوفان نوح علیہ السلام کی روداد روئے زمین کے سب لوگ اس طوفان میں جو درحقیقت غضب الٰہی اور مظلوم پیغمبر کی بد دعا کا عذاب تھا غرق ہوگئے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عزوجل نے زمین کو اس پانی کے نگل لینے کا حکم دیا جو اس کا اگلا ہوا اور آسمان کا برسایا ہوا تھا ۔ ساتھ ہی آسمان کو بھی پانی برسانے سے رک جانے کا حکم ہوگیا ۔ پانی گھٹنے لگا اور کام پورا ہوگیا یعنی تمام کافر نابود ہوگئے ، صرف کشتی والے مومن ہی بچے ۔ کشتی بحکم ربی جو دی پر رکی ۔ مجاہد کہتے ہیں یہ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے سب پہاڑ ڈبو دیئے گئے تھے اور یہ پہاڑ بوجہ اپنی عاجزی اور تواضع کے غرق ہو نے سے بچ رہا تھا یہیں کشتی نوح لنگر انداز ہوئی ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں مہینے بھر تک یہیں لگی رہی اور سب اتر گئے اور کشتی لوگوں کی عبرت کے لیے یہیں ثابت و سالم رکھی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اول لوگوں نے بھی اسے دیکھ لیا ۔ حالانکہ اس کے بعد کی بہترین اور مضبوط سینکڑوں کشتیاں بنیں بگڑیں بلکہ راکھ اور خاک ہو گئیں ۔ ضحاک فرماتے ہیں جودی نام کا پہاڑ موصل میں ہے ۔ بعض کہتے ہیں طور پہاڑ کو ہی جودی بھی کہتے ہیں ۔ زربن حبیش کو ابو اب کندہ سے داخل ہو کر دائیں طرف کے زاویہ میں نماز بکثرت پڑھتے ہوئے دیکھ کر نوبہ بن سالم نے پوچھا کہ آپ جو جمعہ کے دن برابر یہاں اکثر نماز پڑھا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کشتی نوح یہیں لگی تھی ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بال بچوں سمیت کل اسی ( 80 ) آدمی تھے ۔ ایک سو پچاس دن تک وہ سب کشتی میں ہی رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کشتی کا منہ مکہ شریف کی طرف کر دیا ۔ یہاں وہ چالیس دن تک بیت اللہ شریف کا طواف کرتی رہی ۔ پھر اسے اللہ تعالیٰ نے جودی کی طرف روانہ کر دیا ، وہاں وہ ٹھہر گئی ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کوے کو بھیجا کہ وہ خشکی کی خبر لائے ۔ وہ ایک مردار کے کھانے میں لگ گیا اور دیر لگا دی ۔ آپ نے ایک کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتوں کے درخت کا پتہ اور پنجوں میں مٹی لے کر واپس آیا ۔ اس سے حضرت نوح علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ پانی سوکھ گیا ہے اور زمین ظاہر ہو گئی ہے ۔ پس آپ جودی کے نیچے اترے اور وہیں ایک بستی کی بنا ڈال دی جسے ثمانین کہتے ہیں ۔ ایک دن صبح کو جب لوگ جاتے تو ہر ایک کی زبان بدلی ہوئی تھی ۔ ایسی زبانیں بولنے لگے جن میں سب سے اعلیٰ اور بہترین عربی زبان تھی ۔ ایک کو دوسرے کا کلام سمجھنا محال ہو گیا ۔ نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سب زبانیں معلوم کرا دیں ، آپ ان سب کے درمیان مترجم تھے ۔ ایک کا مطلب دوسرے کو سمجھا دیتے تھے ۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں کہ کشتی نوح مشرق مغرب کے درمیان چل پھر رہی تھی پھر جودی پر ٹھہر گئی ۔ حضرت قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں رجب کی دسویں تاریخ مسلمان اس میں سوار ہوئے تھے پانچ ماہ تک اسی میں رہے انہیں لے کر کشتی جودی پر مہینے بھر تک ٹھہری رہی ۔ آخر محرم کے عاشورے کے دن وہ سب اس میں سے اترے ۔ اسی قسم کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن جریر میں ہے ، انہوں نے اس دن روزہ بھی رکھا ۔ واللہ اعلم ۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ و علیہ وسلم نے چند یہودیوں کو عاشوررے کے دن روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتارا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو دیا تھا ۔ اور اسی دن کشتی نوح جودی پر لگی تھی ۔ پس ان دونوں پیغمبروں نے شکر الٰہی کا روزہ اس دن رکھا تھا ۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا پھر موسیٰ علیہ السلام کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں اور اس دن کے روزے کا میں زیادہ مستحق ہوں ۔ پس آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے جو آج روزے سے ہو وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جو ناشتہ کر چکا ہو وہ بھی باقی دن کچھ نہ کھائے ۔ یہ روایت اس سند سے تو غریب ہے لیکن اس کے بعض حصے کے شاہد صحیح حدیث میں بھی موجود ہیں ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ظالموں کو خسارہ ، ہلاکت اور رحمت حق سے دوری ہوئی ۔ وہ سب ہلاک ہوئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا ۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ قوم نوح میں سے کسی پر بھی رحم کرنے والا ہوتا تو اس بچے کی ماں پر رحم کرتا ۔ حضرت نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک ٹھہرے آپ نے ایک درخت بویا تھا جو سو سال تک بڑھتا اور بڑا ہوتا رہا پھر اسے کاٹ کر تختے بنا کر کشتی بنانی شروع کی ۔ کافر لوگ مذاق اڑاتے کہ یہ اس خشکی میں کشتی کیسے چلائیں گے؟ آپ جواب دیتے تھے کہ عنقریب اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب آپ بنا چکے اور پانی زمین سے ابلنے اور آسمان سے برسنے لگا اور گلیاں اور راستے پانی سے ڈوبنے لگے تو اس بچے کی ماں جسے اپنے اس بچے سے غایت درجے کی محبت کی تھی وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف چلی گئی اور جلدی جلدی اس پر چڑھنا شروع کیا ، تہائی حصے پر چڑھ گئی لیکن جب اس نے دیکھا کہ پانی وہاں بھی پہنچا تو اور اوپر کو چڑھی ۔ دو تہائی کو پہنچی جب پانی وہاں بھی پہنچا تو اس نے چوٹی پر جا کر دم لیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچ گیا جب گردن گردن پانی چڑھ گیا تو اس نے اپنے بچے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اونچا اٹھالیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچا اور ماں بچہ دنوں غرق ہوگئے ۔ پس اگر اس دن کوئی کافر بھی بچنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس بچے کی ماں پر رحم کرتا ۔ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے کہ کعب احبار ، مجاہد اور ابن جبیر سے بھی اس بچے اور اس کی ماں کا یہی قصہ مروی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 نگلنا، کا استعمال جانور کے لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنے منہ کی خوراک کو نگل جاتا ہے۔ یہاں پانی کے خشک ہونے کو نگل جانے سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ پانی بتدریخ خشک نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ کے حکم سے زمین نے سارا پانی دفعتا اس طرح اپنے اندر نگل لیا جس طرح جانور لقمہ نگل جاتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی تمام کافروں کو غرق آب کردیا گیا۔ 44۔ 3 جودی، پہاڑ کا نام ہے جو بقول بعض موصل کے قریب ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی اسی کے قریب آباد تھی۔ 44۔ 4 بُعْدً ، یہ ہلاکت اور لعنت الٰہی کے معنی میں ہے اور قرآن کریم بطور خاص غضب الٰہی کی مستحق بننے والی قوموں کے لئے اسے کئی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٠] طوفان کا خاتمہ :۔ چھ ماہ تک پانی کی سطح بلند ہوتی رہی پہاڑ تک اس میں ڈوب گئے مجرمین اپنے انجام کو پہنچ گئے اور ان میں سے کوئی بھی اس عذاب سے بچ نہ سکا تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اپنا پانی پھر سے اپنے اندر جذب کرلے اور اللہ کے حکم سے بارش بھی رک گئی۔ کچھ پانی ہواؤں نے خشک کیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جاکر ٹک گئی۔ یہ پہاڑ عراق میں موصل شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ سیلاب دنیا کے کتنے حصے میں آیا :۔ طوفان نوح کے متعلق دو باتیں ہنوز قابل تحقیق ہیں ایک یہ کہ آیا یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا یا صرف قوم نوح کے علاقہ میں آیا تھا۔ اکثر مورخین کا خیال ہے کہ یہ تمام روئے زمین پر آیا تھا اور اس کی دلیل یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ دنیا کی سب اقوام کی قدیم تاریخ میں طوفان نوح کا ذکر موجود ہے لیکن قرآن اس بارے میں خاموش ہے اور عقلی لحاظ سے یہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طوفان صرف اس علاقہ میں ہی آیا ہو جہاں کے مجرموں کو سزا دینا مقصود تھا اور جہاں عذاب الٰہی کے لئے اتمام حجت ہوچکی تھی اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس دور میں زمین کا صرف یہی خطہ آباد ہو۔ رہا سب اقوام کی قدیم تاریخ میں طوفان نوح کے ذکر کا مسئلہ تو یہ دونوں صورتوں میں ممکن ہے۔ کیا نوح کے آدم ثانی ہونے کا نظریہ درست ہے ؟:۔ اور دوسری قابل تحقیق بات یہ ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی صرف نوح کی اولاد سے ہی پھیلی تھی یا یہ ان تمام لوگوں کی اولاد سے ہے جو کشتی میں سوار تھے ؟ عام مورخین کا خیال ہے کہ اس طوفان کے بعد صرف نوح کے تین بیٹوں حام، سام، یافث سے ہی پھیلی ہے اور اس خیال کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہوجاتی ہے۔ ( وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ 77؀ڮ) 37 ۔ الصافات :77) اور ہم نے دنیا میں نوح کی اولاد کو ہی باقی رکھا) اسی لحاظ سے نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم کی ہی دو آیات ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی ان تمام لوگوں کی اولاد سے چلی جو اس کشتی میں سوار تھے مثلاً (١) ( ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا ۝) 17 ۔ الإسراء :3) تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرلیا تھا۔ اور (٢) (مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ ۤ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ 58؀۞{ السجدہ }) 19 ۔ مریم :58) آدم کی اولاد سے اور ان لوگوں کی اولاد سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرلیا تھا۔ اس دوسری آیت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح پوری دنیا پر نہیں آیا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب زیادہ قرین قیاس بات یہی ہے کہ اس طوفان کے بعد نسل انسانی ان تمام لوگوں سے چلی جو کشتی میں سوار تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ ۔۔ : ” بَلَعَ یَبْلَعُ “ (ف) نگلنے کو کہتے ہیں اور انسان یا کوئی بھی جانور عموماً پورا لقمہ اکٹھا ہی نگلتا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ زمین نے پانی آہستہ آہستہ نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ لقمے کی طرح اپنے اندر نگل لیا تھا۔ ادھر آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جا، چناچہ بارش رک گئی۔ سارا پانی زمین کے نیچے اتار دیا گیا اور تمام مشرکوں کو نیست و نابود کرنے کا کام، جس کے لیے طوفان آیا تھا، پورا ہوگیا۔ وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ : جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں (جسے کردستان کہتے ہیں) موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں نوح (علیہ السلام) کی کشتی ٹھہرنے کی جگہ ” ارارات “ بتائی گئی ہے، جو ارمینیا کے پہاڑی سلسلے کا نام ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ چند سال ہوئے مغربی سیاحوں نے اس پہاڑ پر ایک بڑی کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے بھی دریافت کیے ہیں، اگرچہ ان کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہی کے تختے ہیں یا کسی اور کشتی کے۔ واضح رہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم دجلہ اور فرات کی وادی ہی میں آباد تھی، جو بعد میں عراق کے نام سے مشہور ہوئی۔ وَقِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ” بُعْدًا “ کا لفظ دوری، ہلاکت اور لعنت کے معنی میں آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ سب ظالم ہلاک کردیے گئے۔ بائبل (پیدائش : ١٨ : ٢٤) کے بیان پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان روئے زمین میں آیا تھا، مگر بعض علماء کا کہنا ہے کہ طوفان اسی علاقے میں آیا تھا جہاں نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ گو قرآن و حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ طوفان کے زمانے میں دنیا میں دجلہ و فرات کی وادی کے علاوہ کسی اور جگہ آبادی ہی نہ ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

At the end of the fourth verse (44), it was said that the heaven and the earth obeyed the orders and the matter of the flood was all over. The Ark of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) came to rest on the Mount Judiyy and it was declared that the unjust people have been cast far ` away from the mercy of Allah& - (which is what curse is). Mount Judiyy still stands there by that name. Geographically, it is located on the border of Armenia near Ibn ` Umar Island north of Mou¬sil in ` Iraq, the real home of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . This is a mountain range, part of which is called Judiyy. Another part of it is known as Ararat. In the present Torah, the place where the Ark came to rest has been identified as Mount Ararat. As obvious, there is not much of a contradiction in these two reports. But, well-known old historical accounts also say that the ark of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) had come to rest on Mount Judiyy. These accounts also mention that pieces of this ark are still there at many places in ` Iraq. These are kept and used as a relic. According to Tafsir at-Tabari and al-Baghawi, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) had embarked the Ark on the tenth of the month of Rajab. For six months, this ark sailed on the waters of the flood. When it reached the spot where Baytullah was, it made seven circuits. Allah Ta` ala had raised His House higher from being submerged. Then, on the tenth of Muharram, the day of ` Ashura&, the flood subsided and the ark came to rest at the Mount of Judiyy. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) observed a thanks-giving fast on that day and asked everyone on the ark to do the same. Some reports say that even animals that had shared the ark fasted on that day. (Mazhari and Qurtubi) The importance of the day of ` Ashura&, that is, the tenth of Muhar¬ram, has been recognized in all religious codes of the blessed prophets. In early Islam - before the fasts of Ramadan became obligatory - fast¬ing on the day of ` Ashura& was fard. It is no more fard after the revela¬tion of the obligatory status of fasting in Ramadan, but it continues to be a practice of prophets, and a source of reward forever.

چوتھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ زمین و آسمان نے احکام کی تعمیل کی تو طوفان کا قصہ ختم ہوگیا، اور سفینہ نوح (علیہ السلام) جودی پہاڑ پر ٹھہر گیا، اور ظالموں کو ہمیشہ کے لئے |" رحمت سے دور |" کہہ دیا گیا۔ جودی پہاڑی آج بھی اس نام سے قائم ہے اس کا محل وقوع حضرت نوح (علیہ السلام) کے وطن اصلی عراق، موصل کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے قریب آرمینیہ کی سرحد پر ہے، یہ ایک کوہستانی سلسلہ ہے جس کے ایک حصہ کا نام جودی ہے، اسی کے ایک حصہ کو اراراط کہا جاتا ہے، موجودہ تورات میں کشتی ٹھہرنے کا مقام کوہ اراراط کو بتلایا ہے، ان دونوں روایتوں میں کوئی ایسا تضاد نہیں، مگر مشہور قدیم تاریخوں میں بھی یہی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ پر آکر ٹھہری تھی۔ قدیم تاریخوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ عراق کے بہت سے مقامات میں اس کشتی کے ٹکڑے اب تک موجود ہیں جن کو تبرک کے طور پر رکھا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ تفسیر طبری اور بغوی میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) دس (١٠) ماہ رجب کو کشتی میں سوار ہوئے تھے، چھ مہینہ تک یہ کشتی طوفان کے اوپر چلتی رہی، جب بیت اللہ شریف کے مقام پر پہنچی تو سات مرتبہ طواف کیا، اللہ تعالیٰ نے اپنے بیت کو بلند کرکے غرق سے بچا لیا تھا، پھر دس (١٠) محرم یوم عاشورا میں طوفان ختم ہو کر کشتی جبل جودی پر ٹھہری، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس روز شکرانہ کے طور پر روزہ رکھا اور کشتی میں جتنے آدمی ساتھ تھے سب کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، ( مظہری و قرطبی ) روز عاشورا یعنی محرم کی دسویں تاریخ کی اہمیت تمام شرائع انبیاء میں قدیم چلی آتی ہے ابتداء اسلام میں رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشوراء کا روزہ فرض تھا، رمضان کی فرضیت نازل ہونے کے بعد فرض نہیں، مگر سنت اور ثواب عظیم ہمیشہ کے لئے ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ وَيٰسَمَاۗءُ اَقْلِـعِيْ وَغِيْضَ الْمَاۗءُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ وَقِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ۝ ٤٤ بلع قال عزّ وجلّ : يا أَرْضُ ابْلَعِي ماءَكِ [هود/ 44] ، من قولهم : بَلَعْتُ الشیء وابْتَلَعْتُهُ ، ومنه : البَلُوعة . وسعد بُلَع نجم، وبَلَّعَ الشیب في رأسه : أول ما يظهر . ( ب ل ع ) بلعت رف الشی وابتلعتہ کے معنی کسی چیز کو نگل لینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : يا أَرْضُ ابْلَعِي ماءَكِ [هود/ 44] کہ اسے زمین اپنا پانی نگل جا ۔ اسی سے بلوعۃ ہے جس کے معنی بدر و اور گندی نالی یا چوبچہ کے ہیں ۔ سعد بلع ایک ستاری کا نام بلع الشیب فی راسہ سر میں بڑھا پہ کے آثار ظاہر ہونا ۔ قلع وَفِي التَّهْذِيبِ : القَلُوعُ القَوْسُ الَّتِي إِذا نُزِعَ فِيهَا انْقَلَبَتْ. قَالَ أَبو سَعِيدٍ : الأَغراض الَّتِي تُرْمى أَوّلُها غَرَضُ المُقالعةِ ، وَهُوَ الَّذِي يَقْرُب مِنَ الأَرض فَلَا يحتاجُ الرَّامي أَنْ يَمُدّ بِهِ الیدَ مَدًّا شَدِيدًا، ثُمَّ غَرَضُ الفُقْرةِ. والإِقْلاعُ عَنِ الأَمر : الكَفُّ عَنْهُ. يُقَالُ : أَقْلَعَ فُلَانٌ عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ أَي كفَّ عَنْهُ. وَفِي حَدِيثِ المَزادَتَيْن : لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَاأَي كَفَّ وتَرَكَ. وأَقْلَع الشیءُ : انْجَلَى، وأَقْلَعَ السحابُ كَذَلِكَ. وَفِي التَّنْزِيلِ : وَيا سَماءُ أَقْلِعِي؛ أَي أَمْسِكي عَنِ الْمَطَرِ ؛ وَقَالَ خَالِدُ بْنُ زُهَيْرٍ : فأَقْصِرْ ، وَلَمْ تأْخُذْكَ مِنِّي سَحابة، ... يُنَفِّرُ شاءَ المُقْلَعِينَ خَواتُها قِيلَ : عَنَى بالمُقْلَعِينَ الَّذِينَ لَمْ تُصِبْهُم السحابةُ ، كَذَلِكَ فَسَّرَهُ السُّكَّرِيُّ ، وأَقْلَعَتْ عَنْهُ الحُمَّى كَذَلِكَ ، والقَلَعُ حِينُ إِقْلاعِها . يُقَالُ : تَرَكْتُ فُلَانًا فِي قَلَعٍ وقَلْعٍ مِنْ حُمّاه، يُسَكَّنُ وَيُحَرَّكُ ، أَي فِي إِقْلاعٍ مِنْ حُمّاه . الأَصمعي : القَلَعُ الوقتُ الَّذِي تُقْلِعُ فِيهِ الحُمَّى، والقُلُوعُ اسْمٌ مِنَ القُلاع؛ وَمِنْهُ قَوْلُ الشَّاعِرِ : كأَنَّ نَطاةَ خَيْبَرَ زَوَّدَتْه ... بُكُورَ الوِرْدِ رَيِّثَةَ القُلُوعِ ( لسان العرب) غيض غَاضَ الشیء، وغَاضَهُ غيره «1» . نحو : نقص ونقصه غيره . قال تعالی: وَغِيضَ الْماءُ [هود/ 44] ، وَما تَغِيضُ الْأَرْحامُ [ الرعد/ 8] ، أي : تفسده الأرحام، فتجعله کالماء الذي تبتلعه الأرض، والغَيْضَةُ : المکان الذي يقف فيه الماء فيبتلعه، ولیلة غَائِضَةٌ أي : مظلمة . ( غ ی ض ) غاض ( ض ) الشئی غیضا وغاضہ غیرہ یہ نقص کی طرح لازم ومتعدی دونوں طرح آتا ہے ۔ لہذا اس کے معنی کسی چیز کو کم کرنے یا اس کے ازخود کم ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَغِيضَ الْماءُ [هود/ 44] تو پانی خشک ہوگیا ۔ وَما تَغِيضُ الْأَرْحامُ [ الرعد/ 8] استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے جود قال تعالی: وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِ [هود/ 44] ، قيل : هو اسم جبل بين الموصل والجزیرة، وهو في الأصل منسوب إلى الجود، والجود : بذل المقتنیات مالا کان أو علما، ويقال : رجل جَوَاد، وفرس جواد، يجود بمدّخر عدوه، والجمع : الجِيَاد، قال تعالی: بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31{ ( ج و د ) الجودی ۔ اس پہاڑی کا نام ہے جو موصل اور جزیرہ کے درمیان واقع ہے : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِ [هود/ 44] اور کشتی کوہ جودی پر جاٹہری ۔ یہ دراصل الجود کے معنی مقتنیات ( بیضائر ) کو صرف اور خرچ کرنے کے ہیں عام اس سے کہ وہ ذخیرہ علم ہو یا ذخیرہ مال کا ہو ۔ رجل جواد ۔ سخی آدمی فرس جواد ( تیز رفتار عمدہ گھوڑا ) جو دوڑنے میں اپنی پوری طاقت صرف کردے اس کی جمع الجباد آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31]( جب ان کے سامنے ) شام کو خاصے کے گھوڑے ( پیش کئے گئے ) بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) اور جب کفار سب غرق ہوچکے تو حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا سارا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی گھٹ گیا اور قوم کی ہلاکت سے فراغت ہوئی جس کی قسمت میں ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوگیا اور جسے پچنا تھا وہ بچ گیا اور کشتی کوہ جودی پر آٹھہری اور یہ موصل کے قریب نصیبین میں ایک پہاڑ ہے اور کہہ دیا گیا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم میں سے مشرکین رحمت خداوندی سے دور

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤ (وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ ) زمین کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ تو اپنے اس پانی کو اپنے اندر جذب کرلے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس عمل میں کتنا وقت لگا ہوگا۔ بہر حال حکم الٰہی کے مطابق پانی زمین میں جذب ہوگیا۔ (وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ ) کوہ ارارات میں ” جودی “ ایک چوٹی کا نام ہے۔ یہ دشوار گزار پہاڑی سلسلہ آذر بائیجان کے علاقے اور ترکی کی سرحد کے قریب ہے۔ کسی زمانے میں ایک ایسی خبر بھی مشہور ہوئی تھی کہ اس پہاڑی سلسلہ کی ایک چوٹی پر کسی جہاز کے پائیلٹ نے کوئی کشتی نما چیز دیکھی تھی۔ بہر حال قرآن کا فرمان ہے کہ ہم اس کشتی کو محفوظ رکھیں گے اور ایک زمانے میں یہ نشانی بن کر دنیا کے سامنے آئے گی (العنکبوت : ١٥) ۔ چناچہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی اب بھی کوہ جودی کی چوٹی پر موجود ہے اور ایک وقت آئے گا جب انسان اس تک رسائی حاصل کرلے گا۔ (وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) یعنی اس قوم کا نام و نشان مٹا کر ہمیشہ کے لیے اسے نسیاً منسیاً کردیا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46. Mount Judi is situated to the north-east of the Island of Ibn 'Umar in Kurdistan. According to the Bible, the Ark's resting place was Ararat, which is the name of a particular mountain as well as of a whole range of mountains in Armenia. Ararat, in the sense of a mountain range, extends from the Armenian plateau to southern Kurdistan. The mount called Judi is part of this range and is known even today by the same name. In ancient historical accounts, Mount Judi is mentioned as the place where the Ark rested. Around 250 B.C., a Babylonian priest, Berasus, wrote a history of his country based on Chaldean traditions. He mentions Judi as the resting-place of Noah's Ark. The history written by Abydenus, a disciple of Aristotle, also corroborates this. Abydenus further remarks that many people in Mesopotamia possessed pieces of the Ark which they used as a charm. They ground those pieces in water and gave the preparation to the sick so as to cure them of their ailments. In connection with this great incident one is also faced with the question of whether the Flood was universal or whether it was limited to the area inhabited by the people of Noah. This question remains unanswered to this day. Under the influence of Israelite traditions, it is believed that it was a universal Flood (Genesis 7: 18-24). The Qur'an, however, does not explicitly say so. There are several allusions in the Qur'an which indicate that subsequent generations of mankind are the descendants of those who were saved from the Flood. But that does not necessarily mean that the Flood covered the whole world. For, it is quite plausible that at that point in history the human population was confined only to the area which was overtaken by the Flood, and that those born after the Flood gradually dispersed to other parts of the world. This view is supported by two things. Firstly, ancient historical traditions, archaeological discoveries and geological data provide evidence that a great flood took place at some period in the distant past in the Tigris-Euphrates region. There is no such evidence for a universal flood. Secondly, traditions about a great flood have been popular among all communities of the world down the ages. Such traditions are found even in the folklore of such distant regions as Australia, America and New Guinea. One may thus conclude that at some time in the past the ancestors of all these communities lived together in some region which was overtaken by the Flood. Since presumably their descendants subsequently dispersed to, and settled down in. different parts of the world, they transmitted and preserved the traditions of this great Flood. (For details see Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf 7 n. 47, pp. 37-8.)

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :46 جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرہ ابن عمر کے شمالی مشرقی جانب واقع ہے ۔ بائیبل میں اس کشتی کے ٹھیرنے کی جگہ اراراط بتائی گئی ہے جو ارمینیا کے ایک پہاڑ کا نام بھی ہے اور ایک سلسلہ کوہستان کے نام بھی ۔ سلسلہ کوہستان کے معنی میں جس کو اراراط کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک چلتا ہے اور جبل الجودی اسی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے جو آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے ۔ قدیم تاریخوں میں کشتی کے ٹھیرنے کی یہی جگہ بتائی گئی ہے ۔ چنانچہ مسیح علیہ السلام سے ڈھائی سو برس پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بیراسس ( Berasus ) نے پرانی کلدانی روایات کی بنا پر اپنے ملک کی جو تاریخ لکھی ہے اس میں وہ کشتی نوح کے ٹھیرنے کا مقام جودی ہی بتاتا ہے ۔ ارسطو کا شاگرد ابیڈنیوس بھی اپنی تاریخ میں اس کی تصدیق کرتا ہے ۔ نیز وہ اپنے زمانہ کا حال بیان کرتا ہے کہ عراق میں بہت سے لوگوں کے پاس اس کشتی کے ٹکڑے محفوظ ہیں جنہیں وہ گھول گھول کر بیماروں کو پلاتے ہیں ۔ یہ طوفان جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے ، عالمگیر طوفان تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آباد تھی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا ۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا ( پدائش 7:18-24 ) مگر قرآن میں یہ بات کہیں نہیں کہی گئی ہے ۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں جو طوفان نوح سے بچالیے گئے تھے ، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو ، کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود رہی ہو جہاں طوفان آیا تھا ، اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں ۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے ایک یہ کہ دجلہ وفرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثوبت تاریخی روایات سے آثار قدیمہ سے اور طبقات الارض سے ملتا ہے ۔ لیکن روئے زمیں کے تمام خطوں میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے ۔ دوسرے یہ کہ روئے زمین کی اکثر وبیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں ، حتی کہ آسٹریلیا ، امریکہ اور نیوگنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آباؤ واجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا ۔ اور پھر جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ گئیں ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ اعراف حاشیہ نمبر47 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

24: یعنی قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کر دئیے گئے۔ 25: یہ اس پہاڑ کا نام ہے جو شمالی عراق میں واقع ہے، اور اس پہاڑ سلسلے کا ایک حصہ ہے جو کردستان سے آرمینیا تک پھیلا ہوا ہے۔ بائبل میں اس پہاڑ کا نام ارارات مذکور ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٤۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سب کفار ڈوب گئے بلکہ کوئی جاندار سوائے ان کشتی والوں کے نہ بچا تو اللہ نے آسمان کو یہ حکم دیا کہ اب پانی نہ برسا تھم جا اور زمین کو یہ حکم دیا کہ تو نے جتنا پانی اگلا ہے نگل جا خدا کا حکم پورا ہوچکا سب کفار ہلاک ہوگئے مینہ تھم گیا اور پانی سوکھ چلا تو کشتی اپنے سواریوں کو لئے ہوئے جودی پہاڑ پر آلگی اور فرمایا کہ ساری قوم ظالموں کی خدا کی رحمت سے دور ہوگئی جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ طوفان نوح (علیہ السلام) میں کوئی شخص ان کشتی والوں کے سوا زندہ نہ بچا ساری دنیا ہلاک ہوگئی بعض لوگوں کا گمان ہے کہ بعض بعض شہر طوفان سے بچ گئے تھے لیکن یہ غلط ہے کیوں کہ حضرت عائشہ (رض) کی حدیث میں جو ١ ؎ اوپر گزر چکا ہے کہ اگر اللہ پاک کسی پر رحم کھاتا تو اس وقت اسی بچے کی ماں پر رحم کھاتا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا ہلاک ہوئی علاوہ اس کے سارے اہل کتاب کیا یہود اور کیا نصاریٰ سب کا اتفاق اس بات پر ہے کہ نوح (علیہ السلام) آدم ثانی ہیں اور طوفان کے بعد جتنے بنی آدمی ہیں سب نوح کی اولاد ہیں۔ قرآن مجید کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ { وجعلنا ذریتہ ھم الباقین } جس کا مطلب یہ ہے کہ طوفان کے بعد اولاد نوح (علیہ السلام) ہی سے دنیا آباد ہوئی پھر یہ کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے کہ طوفان کی آفت سے کچھ ایسے شہر بچ گئے جن میں اولاد نوح (علیہ السلام) کے علاوہ اور لوگ آباد تھے جب نوح (علیہ السلام) کشتی سے اترے تو تھوڑے دنوں میں اور سب کشتی والوں کا انتقال ہوگیا۔ فقط نوح (علیہ السلام) کے تینوں بیٹے باقی رہے جن سے نوح (علیہ السلام) کی نسل بڑھی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کی ذریات کو دنیا میں ہم نے باقی رکھا جودی پہاڑ کے متعلق بھی مفسروں کا اختلاف ہے کوئی کہتا ہے کہ شہر موصل میں ایک پہاڑ ہے کوئی کہتا ہے ملک شام میں ہے کسی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اسی طور کا نام جودی بھی ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت ملی ہے۔ مجاہد کہتے ہیں یہ پہاڑ ایک جزیرہ میں ہے سارے پہاڑ طور کا نام جودی بھی ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت ملی ہے مجاہد کہتے ہیں یہ پہاڑ ایک جزیرہ میں ہے سارے پہاڑ ڈوب گئے تھے مگر جودی بہ سبب اپنی خاکساری کے ڈوبنے سے محفوظ رہا اس پر کشتی آکر ٹھہری قتادہ نے یہ بھی بیان کہا ہے کہ ایک مہینہ تک اس کے اوپر رہی پھر نیچے اتار دی گئی اور بہت دنوں تک بطور نشانی کے وہ کشتی باقی رہی۔ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں سے پہلے لوگوں نے دیکھی ہے تفسیر ضحاک میں اسی کو ترجیح دی ہے کہ جودی پہاڑ موصل کے پاس ہے سورت لقمان میں آوے گا کہ شرک سے بڑھ کر کوئی بےانصافی اور ظلم نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس لئے انسان پر فقط اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے پھر جب ان لوگوں کو پکڑتا ہے تو بالکل انہیں برباد کردیتا ہے۔ یہ حدیث { وقیل بعدا للقوم الظالمین } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وقت مقررہ آنے سے پہلے یہ لوگ عذاب کی جلدی کرتے رہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل رہی جب وقت مقررہ پر گرفت ہوگئی تو سوا ان لوگوں کے جو شرک کے ظلم سے بچے ہوئے تھے اور ساری قوم غارت ہوگئی بلکہ قوم نوح (علیہ السلام) کے علاوہ قوم عاد سے لے کر فرعون تک جو قومیں طرح طرح کے عذابوں سے غارت ہوئی ان سب کی حالت کی بھی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٩٧ بحوالہ مستدرک حاکم۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:44) ابلعی۔ بلع یبلع (فتح) امر واحد مؤنث حاضر۔ تو نگل جا۔ بلع سے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ اقلعی۔ تو تھم جا۔ تو رک جا۔ (بارش سے رک جا) اقلاع (افعال) سے ۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ غیض۔ غاض یغیض غیض (باب ضرب) سے ماضی مجہول واحد مذکر گا ئب پانی کو زمین میں جذب کردیا گیا۔ پانی خشک کردیا گیا۔ پانی اتر گیا۔ استوت۔ استوی یستوی استواء (افتعال) ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ (کشتی) ٹھہر گئی۔ جب یہ علیٰ کے ساتھ متعدی ہو تو اس کے معنی کسی چیز پر چڑھنے۔ قرار پکڑنے اور مستوی ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں استوی فلان علی عمالتہ فلاں نے اپنا عہدہ سنبھال لیا۔ قرآن میں ہے فاستوی علی سوقہ (49:29) اور پھر وہ اپنی نال پر سیدھی ہوگئی۔ یا آیت ہذا میں ۔ واستوت علی الجوری اور وہ جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔ بعدا۔ بعد دوری۔ ہلاکت۔ لعنت۔ البعد کے معنی دوری کے ہیں۔ یہ قرب کی ضد ہے۔ بعد (سمع) کے معنی مرنا کے ہیں۔ اور عموماً البعد ہلاک ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا کما بعدت ثمود (11:95) جیسے ثمود تباہ ہوگئے۔ چونکہ موت و ہلاکت اور لعنت میں بھی دوری ہوتی ہے اس لئے بعد اور بعد کے معنی اکثر ہلاکت اور تباہی اور لعنت کے آتے ہیں۔ بعد اللقوم الظالمین۔ ہلاکت اور بربادی ہو ظالموں کے لئے۔ قضی الامر۔ قصہ تمام ہوا۔ حکم کی تعمیل ہوچکی۔ کام پورا ہوگیا۔ یعنی جنہوں نے ہلاک ہونا تھا ہلاک ہوگئے اور جنہوں نے بچایا جانا تھا بچالئے گئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں جسے کردستان کہتے ہیں موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی کشتی ٹھہرنے کی جگہ ” ارات “ بتائی گئی ہے جو ارمینا کے اس پہاڑی سلسلے کا نام ہے جس سے دجلہ اور فرات نکلتے ہیں جو بھی اسی پہاڑی سلسلے کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ چند سال ہوئے مغربی سیاحو نے اس پہاڑ پر ایک بڑی کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے بھی دریافت کئے ہیں، اگرچہ ان کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ حضرت نوح کی کشتی کے ہی تختے ہیں یا کسی اور کشتی کے۔ واضح رہے کہ حضرت نوح کی قوم دجلہ اور فرات کی وادی ہی میں آباد تھی جو بعد میں عراق کے نام سے مشہور ہوئی۔ 8 ۔ یعنی سب ہلاک کردئیے۔ بائیبل (پیدائش :81 ۔ 42) کے بیان کی بنا پر عام خیال ہی ہے کہ یہ طوفان روئے زمین میں آیا تھا مگر بعض علما کا کہنا ہے کہ طوفان اسی علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ گو قرآن و حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ طوفان کے زمانے میں دنیا میں دجلہ و فرات کی وادی کے علاوہ کسی اور جگہ کوئی آبادی ہی نہ ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس سے معلوم ہوا کہ طوفان کا پانی پہاڑ سے اونچا تھا اور قصہ ختم ہونے میں سب باتیں آگئیں نوح (علیہ السلام) کی نجات کافروں کا غرق اور طوفان کافرو ہوجانا اور بعدا للقوم الظالمین شاید اس لیے فرمایا گیا کہ عبرت تازہ ہوجائے کہ کفر کا یہ وبال ہے تاکہ آئندہ آنے والے اس سے بچے رہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : طوفان کا تھمنا اور کشتی کا ٹھہرنا۔ مؤرخین اور مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سیلاب چالیس دن تک رہا۔ جس کی کیفیت یہ تھی کہ پانی سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی سے بھی بیس فٹ اونچا بہتا رہا۔ علاقہ میں کوئی چیز زندہ نہ بچی گویا کہ زمین کو اچھی طرح شرک و کفر کی غلاظت سے دھودیا گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے حکم صادر فرمایا کہ : اے زمین پانی کو پی جا اور آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جاؤ۔ اس طرح ظالم قوم کا صفایا ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی۔ جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرۂ ابن عمر کے شمال مشرقی جانب واقع ہے۔ بائبل میں اس کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ ارارا ط بتائی گئی ہے جو آرمینیا کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو ایک سلسلہ کوہستان کا نام بھی ہے۔ سلسلہ کوہستان کے معنی میں جس کو اراراط کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک چلتا ہے اور جبل الجودی اسی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے جو آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم تاریخوں میں کشتی کے ٹھہرنے کی یہی جگہ بتائی گئی ہے۔ چناچہ حضرت مسیح سے ڈھائی سو برس پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بریاسس (Berasus) نے پرانی کلدانی روایات کی بنا پر اپنے ملک کی تاریخ لکھی ہے اس میں وہ کشتی نوح کے ٹھہرنے کا مقام جودی ہی بتاتا ہے۔ ارسطو کا شاگرد ابیڈینوس (Abydenus) بھی اپنی تاریخ میں اس کی تصدیق کرتا ہے۔ نیز وہ اپنے زمانہ کا حال بیان کرتا ہے کہ عراق میں بہت سے لوگوں کے پاس اس کشتی کے ٹکڑے محفوظ ہیں جنہیں وہ گھول گھول کر بیماروں کو پلاتے ہیں۔ یہ طوفان، جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، عالمگیر طوفان تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا (پیدائش ٧: ١٨۔ ٢٤) مگر قرآن میں یہ بات نہیں کہی گئی۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں جو طوفان نوح سے بچا لیے گئے تھے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو، کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت تک بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود رہی ہو جہاں طوفان آیا تھا، اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ دجلہ و فرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے۔ دوسری یہ کہ روئے زمین کی اکثر و بیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں۔ حتی کہ آسٹریلیا، امریکہ اور نیو گنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آباء و اجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا اور پھر جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ پھیل گئیں۔ (تفہیم القرآن، ج : ٢) بُعداً کا لغوی معنی ہے ہلاک ہونا۔ مرجانا۔ دور ہونا۔ اصطلاحاً اللہ کی رحمت سے دور ہونا مسائل ١۔ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ ٢۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ ٣۔ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکار دیئے جاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ظالم دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمت سے دور ہوتے ہیں : ١۔ ظلم کرنے والے لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔ (ھود : ٤٤) ٢۔ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (القصص : ٥٠) ٣۔ ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (الشوریٰ : ٢١) ٤۔ بیشک اللہ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔ (الشوریٰ : ٤٠) ٥۔ ظالم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ یہی ان کا بدلہ ہے۔ (الحشر : ١٧) ٦۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔ (آل عمران : ١٤٠) ٧۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (المائدۃ : ٧٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب خطاب زمین و اسمان سے ہے۔ گویا وہ سمجھتے ہیں۔ دونوں تعمیل کرتے ہیں۔ زمین نے پانی کو چوسنا اور نگلنا شروع کردیا اور آسمان نے برسانا چھوڑ دیا۔ پانی زمین کے پیٹ میں چلا گیا اور سطح زمین معمول پر آگئی۔ اللہ نے جو کرنا تھا وہ انجام کو پہنچا اور یہ کشتی جودی پہاڑ پر آ کر رک گئی۔ " اور یہ کہہ دیا گیا کہ دوری ہو ظالموں کی قوم کے لیے " یہ ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن انجام کا اظہار کرتا ہے۔ جس کے اندر بہت بڑی گہرائی ہے اور یہ اسلوب اظہار " کہہ دیا گیا " کہنے والے کا نام نہ لیا گیا۔ مطلب یہ کہ اس باب کو اب بند کردیا گیا ہے اور بُعْدًا لِّلْقَوْمِ یعنی اب یہ نیست و نابود ہوگئے ، زندگی سے دور ہوگئے ، اللہ کی رحمت سے بہت دور جا پڑے اور اب وہ عوام کی یاد سے دور ہوگئے اور اقوام کی تاریخ سے ان کو حذف کردیا گیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

طوفان کا ختم ہونا اور کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا پانی کا طوفان آیا جو خوب زیادہ تھا ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر پانی پہنچ گیا اور اس کی موجیں بھی پہاڑوں کی طرح تھیں اتنے کثیر پانی سے کون بچ سکتا تھا۔ سوائے ان مؤمن مخلص بندوں کے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا یہ طوفان کتنے دن رہا اس کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کشتی ایک سو پچاس دن تک پانی پر رہی اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھ مہینے تیرتی رہی صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو طوفان ختم کرنا منظور ہوا تو زمین کو حکم دے دیا کہ اپنے پانی کو نگل لے اور آسمان کو حکم دیا کہ پانی برسانا بند کر دے لہٰذا پانی کم ہوگیا اور اہل کفر کی غرق آبی کا جو اللہ کی طرف سے حکم ہوا تھا اس کے مطابق وہ سب ہلاک ہوگئے کشتی چلتے چلتے جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔ اللہ پاک کی طرف سے ندا دیدی گئی کہ ظالموں کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے کشتی تو پہاڑ پر ٹھہر گئی لیکن اس سے اترنا کب ہوا ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک ماہ تک جودی پہاڑ پر رہے جب حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا کہ پانی ختم ہوگیا اور زمین اس لائق ہوگئی کہ اس پر قیام کیا جائے تو وہاں سے نیچے تشریف لے آئے اور پھر ان سے دنیا بسنی شروع ہوئی اور ان کے تینوں بیٹوں سے ( جو کشتی میں ساتھ تھے) آگے دنیا میں نسل چلی جن کے یہ نام مشہور ہیں۔ سام ‘ حام ‘ یافث۔ نوح ( علیہ السلام) کا ایک لڑکا جو کافر ہونے کی وجہ سے غرق ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض کیا کہ (اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ ) کہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے (وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ ) اور بیشک آپ کا وعدہ سچا ہے۔ (وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ ) اور آپ احکم الحاکمین ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کے اہل و عیال کو نجات دینے کا وعدہ فرما لیا تھا اس پر انہوں نے یہ دعا کی ‘ دعا میں ادب کو ملحوظ رکھا یوں نہیں کہا کہ میری لڑکے کو نجات دیجئے بلکہ یوں کہا میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے (جن کے نجات دینے کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے) یہاں مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو اہل ایمان کو نجات دینے کا وعدہ فرمایا تھا جن میں ان کے اہل و عیال بھی تھے پھر انہوں نے اپنے کافر بیٹے کو نجات کے وعدہ میں کیسے شامل سمجھا ؟ اس کے متعدد جواب لکھے گئے ہیں حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے لکھا ہے کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ گویہ لڑکا سردست ایمان والا اور مستحق نجات نہیں ہے۔ لیکن یا اللہ اگر آپ چاہیں تو اس کو مؤمن بنادیں تاکہ یہ بھی وعدہ نجات کا محل بن جائے خلاصہ معروض کا اس کے مومن ہونے کیلئے دعا کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے انہیں جواب دیا گیا کہ اے نوح (علیہ السلام) تمہارا بیٹا ہمارے علم ازلی میں تمہارے ان گھر والوں میں سے نہیں جو ایمان لا کر نجات پائیں گے۔ اس کے اعمال درست نہیں ہیں اور انہیں اعمال میں سے یہ ہے کہ اسے کفر پر اصرار ہے اس کا خاتمہ ایمان پر ہونے والا نہیں تو اس کے لئے نجات کی دعا کرنے کا بھی کوئی موقع نہیں۔ (فَلَا تَسْءَلْنِ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ) (سو اے نوح مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں) تم جو یہ سمجھ رہے ہو کہ اس کے ایمان لا کر نجات پانے کا احتمال ہے قضاء وقدر کے فیصلے کے مطابق یہ سمجھ لینا صحیح نہیں ہے۔ (اِنِّیْ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ) (بےشک میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے مت بنو) (قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْءَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ) ( نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں اس بات سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اس چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں ہے) (وَاِلَّا تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں تباہ کاروں میں سے ہوجاؤں گا) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بیٹھے کی نجات کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب اور عتاب غرق ہونے کے بعد تھا تو پھر یہ کہنا صحیح نہیں کہ انہوں نے اس کے ایمان لانے کیلئے دعا کی تھی تاکہ ایمان لانے والوں میں شمار ہو کر نجات پا جائے کیونکہ اس کا موقع رہا ہی نہ تھا اور اگر اس کے غرق ہونے سے پہلے یہ دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب مل گیا تھا کہ اسے کفر پر مرنا ہے تو بیٹے سے یہ کیوں فرمایا کہ ایمان لا کر ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا۔ احقر کے خیال میں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ دعا اور سوال و جواب بیٹے کے جواب (سَاوِیْ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَاءِ ) اور اس کے غرق ہونے کے درمیانی وقفہ میں تھا کیونکہ ابھی موج ہی حائل ہوئی تھی اس کے غرق ہونے کا پتہ نہ چلا تھا بعد میں وہ غرق ہوا اور (وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) جو فرمایا تھا اس کا یہ مطلب تھا کہ کسی کافر کے کفر پر رہتے ہوئے اس کی نجات کا سوال نہ کرنا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42: جب تمام مشرکین غرقاب ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اب وہ پانی باہر نکالنے کے بجائے اپنے اندر اسے جذب کرلے اور آسمان کو بارش برسانے سے رک جانے کا حکم دیدیا ادھر کشتی نوح (علیہ السلام) جودی پہاڑ کے دامن میں جا رکی۔ یہ پہاڑ موصول یا شام کے علاقے میں ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

44 جب سب لوگ غرق ہوچکے تب حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور جذب کرلے اور اے آسمان تھم جا اور پانی کم کردیا گیا اور گھٹ گیا اور جو کام ہونے والا تھا وہ پورا ہوچکا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہا گیا کہ کافر لوگ رحمت سے دور ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چالیس دن پانی آسمان سے برسا اور زمین سے ابلا پھر چھ مہینے کے بعد پہاڑوں کے سر کھلے کہ کشتی جودی پہاڑ سے وہ پہاڑ ملک شام میں ہے 12