Surat Hood

Surah: 11

Verse: 61

سورة هود

وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ ہُوَ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اسۡتَعۡمَرَکُمۡ فِیۡہَا فَاسۡتَغۡفِرُوۡہُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ قَرِیۡبٌ مُّجِیۡبٌ ﴿۶۱﴾

And to Thamud [We sent] their brother Salih. He said, "O my people, worship Allah ; you have no deity other than Him. He has produced you from the earth and settled you in it, so ask forgiveness of Him and then repent to Him. Indeed, my Lord is near and responsive."

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ، اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Salih and the People of Thamud Allah, the Exalted, says, وَ ... And, This is an introduction to that which is implied, "Verily, We sent." ... إِلَى ثَمُودَ ... to Thamud, They were a group of people who were living in cities carved from the rocks, between Tabuk and Al-Madinah (in Arabia). They lived after the people of `Ad, so Allah sent to them, ... أَخَاهُمْ صَالِحًا ... their brother Salih. ... قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ ... He said: "O my people! Worship Allah: you have no other god but Him. ... هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الاَرْضِ ... He brought you forth from the earth, This means: `He began your creation from it (the earth). From it He created your father, Adam.' ... وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا ... and settled you therein, This means: `He made you prosperous in the earth. You are settled in it and you treasure it.' ... فَاسْتَغْفِرُوهُ ... then ask forgiveness, `This is in reference to your previous sins.' ... ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ ... and turn to Him in repentance. `This is in reference to the future.' ... إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ Certainly, my Lord is Near (to all by His knowledge), Responsive. This is similar to Allah's statement, وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ And when My servants ask you concerning Me, then (answer them), I am indeed Near (to them by My knowledge). I respond to the invocations of the supplicant when he calls on Me. (2:186)

صالح علیہ السلام اور ان کی قوم میں مکالمات حضرت صالح علیہ السلام ثمودیوں کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے ۔ قوم کو آپ نے اللہ کی عبادت کرنے کی اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے باز آنے کی نصحیت کی ۔ بتلایا کہ انسان کی ابتدائی پیدائش اللہ تعالیٰ نے مٹی سے شروع کی ہے ۔ تم سب کے باپ باوا آدم علیہ السلام اسی مٹی سے پیدا ہوئے تھے ۔ اسی نے اپنے فضل سے تمہیں زمین پر بسایا ہے کہ تم اس میں گزران کر رہے ہو ۔ تمہیں اللہ سے استغفار کرنا چاہیے ۔ اس کی طرف جھکے رہنا چاہیے ۔ وہ بہت ہی قریب ہے اور قبول فرمانے و الا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

61۔ 1 وَ اِلَیٰ ثَمُوْدَ عطف ہے ما قبل پر۔ یعنی وَ اَرْسَلنَا اِلَیٰ ثُمُوْدَ ہم نے ثمود کی طرف بھیجا۔ یہ قوم تبوک اور مدینہ کے درمیان مدائن (حجر) میں رہائش پذیر تھی اور یہ قوم عاد کے بعد ہوئی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کو یہاں بھی ثمود کا بھائی کہا۔ جس سے مراد انہی کے خاندان اور قبیلے کا ایک فرد ہے۔ 61۔ 2 حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، جس طرح کہ انبیاء کا طریق رہا ہے۔ 61۔ 3 یعنی ابتدا میں تمہیں زمین سے پیدا کیا اس طرح کہ تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی اور تمام انسان صلب آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہوئے یوں گویا تمام انسانوں کی پیدائش زمین سے ہوئی۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ کھاتے ہو، سب زمین ہی سے پیدا ہوتا ہے اور اسی خوراک سے وہ نطفہ بنتا ہے۔ جو رحم مادر میں جا کر وجود انسانی کا باعث ہوتا ہے۔ 61۔ 4 یعنی تمہارے اندر زمین کو بسانے اور آباد کرنے کی استعداد اور صلاحیت پیدا کی، جس سے تم رہائش کے لئے مکان تعمیر کرتے، خوراک کے لئے کاشت کاری کرتے اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لئے صنعت و حرفت سے کام لیتے ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] یعنی پہلے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری تمام تر ضروریات زندگی اسی زمین سے وابستہ کردیں اور اسی پر تمہاری آباد کاری کا بندوبست کیا۔ [٧١] یعنی یہ سب کام تو اللہ نے کیے ہیں بتاؤ کہ تمہارے معبودوں نے ان میں سے کون سا کام کیا ہے ؟ جو تم ان کی پرستش کرتے ہو اگر تم اللہ کے خالق و رازق ہونے کو تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہیں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی کی اطاعت کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کے لیے اسی سے معافی مانگو کیونکہ تم یہ مشرکانہ افعال کرتے رہے ہو۔ [٧٢] اللہ گناہ گاروں کی بھی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے :۔ دنیا دار اور جاہ طلب مذہب کے ٹھیکیداروں نے عام لوگوں کے ذہن میں یہ عقیدہ راسخ کردیا ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ تک درخواست گزارنے کے لیے بادشاہ کے مقرب لوگوں کی ضرورت پیش آتی ہے انہی کے ذریعہ اپنی معروضات کو بادشاہ تک پیش کیا جاتا ہے اور بادشاہ نے جو کچھ جواب دینا ہو وہ بھی انھیں لوگوں کے ذریعہ مل سکتا ہے۔ سب سے بڑے بادشاہ اللہ تعالیٰ کی بھی یہی صورت ہے۔ لہذا اللہ کے حضور اپنی معروضات پیش کرنے کے لیے اللہ کے مقربین کا وسیلہ تلاش کرنا ضروری ہے اور ان مقربین سے مراد ان کی اپنی ذات یا معبودان باطل یا فوت شدہ بزرگ وغیرہ ہوتے ہیں جن کے یہ مجاور وغیرہ ہوتے ہیں یہ شیطانی عقیدہ اس قدر گمراہ کن ہے کہ شرک کی بیشمار اقسام اسی ایک عقیدہ سے پیدا ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس عقیدہ کی دو لفظوں میں تردید فرما دی۔ یعنی ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے قریب ہے وہ ہر ایک کی بات سن سکتا ہے اور سنتا ہے دوسرے یہ کہ وہ گنہگاروں کی دعائیں بھی ایسے ہی قبول کرتا ہے جیسے مقربین کی۔ بشرطیکہ دعا کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ واضح رہے کہ کسی نیک آدمی سے اپنے حق میں اللہ سے دعا کرانا اس ضمن میں نہیں آتا اور یہ شرعاً ثابت ہے بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کی بات نہ سنتا ہے اور نہ اسے قبول کرتا ہے پھر جن لوگوں کو وسیلہ بنایا جاتا ہے ان کے لیے نذر و نیاز اور ان کی تعظیم ایسے ہی کی جاتی ہے جیسے اللہ کے لیے سزاوار ہے۔ مندرجہ بالا مفہوم کے لحاظ سے اس جملہ میں قریب اور مجیب دونوں اللہ تعالیٰ کی الگ الگ صفات ہیں لیکن بعض لوگوں نے قریب کو بھی مجیب ہی کی صفت قرار دیا ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا : && بلاشبہ میرا پروردگار جلد ہی (دعائیں) قبول کرنے والا ہے &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا : قوم ثمود مقام حجر (حاء کے کسرہ کے ساتھ) میں رہتے تھے۔ یہ جگہ حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک پھیلی ہوئی ہے۔ آج کل یہ علاقہ مدینہ اور تبوک کے درمیان ہے، جہاں ابھی تک ان لوگوں کے پہاڑوں کے اندر تراش کر بنائے ہوئے مکانات، جن میں وہ رہتے تھے، موجود ہیں اور یہ علاقہ مدائن صالح کہلاتا ہے۔ صالح (علیہ السلام) کا قبیلہ عرب قبیلہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک (شام) کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وادی) حجر میں تھے تو فرمایا : ( لاَ تَدْخُلُوْا عَلٰی ھٰؤُلاَءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِیْنَ أَصْحَابِ الْحِجْرِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ ، فَإِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ فَلاَ تَدْخُلُوْا عَلَیْہِمْ أَنْ یُّصِیْبَکُمْ مَا أَصَابَھُمْ ) ” ان عذاب دیے ہوئے لوگوں یعنی اصحاب حجر پر مت داخل ہو، مگر ایسی حالت میں کہ تم رونے والے ہو، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو ان پر داخل نہ ہونا، کہیں تمہیں بھی اس جیسا عذاب نہ آپہنچے جو ان کو پہنچا تھا۔ “ [ مسند أحمد : ٢؍٥٨، ح : ٥٢٢٤، و صححہ شعیب الأرنؤوط و الألبانی ] قوم ثمود کا قصہ سورة اعراف، شعراء، نحل اور قمر وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔ ” اَخَاهُمْ صٰلِحًا “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی قبیلے کے فرد تھے، اس لیے ان کے خیر خواہ، ان کے مزاجوں کو سمجھنے والے اور ان میں مدت تک رہنے والے تھے۔ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ ۔۔ : ان کی دعوت بھی وہی دعوت توحید تھی جو تمام انبیاء کی دعوت تھی۔ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۔۔ : ” اِنْشَاءٌ“ کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ ” ِاسْتَعْمَرَكُمْ “ ” عَمَرَ یَعْمُرُ “ کسی جگہ کو آباد کرنا، سورة روم میں فرمایا : (وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا ) [ الروم : ٩ ] ” اور انھوں نے اسے آباد کیا اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا۔ “ ” أَعْمَرَ یُعْمِرُ “ باب افعال کسی شخص کو کسی جگہ میں آباد کرنا۔ ” اِسْتَعْمَرَ “ میں حروف زائد ہیں، یعنی کسی کو کسی جگہ میں خوب آباد کرنا۔ صالح (علیہ السلام) ان الفاظ کے ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور صرف اسی کے معبود برحق ہونے کی دلیل دے رہے ہیں کہ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، زمین کو بھی اسی نے بنایا، تمہاری ضرورت کی ہر چیز زمین سے اسی نے پیدا کی، اپنی زمین پر اس نے تمہیں خوب آباد کیا، پہاڑوں کو تراشنے کی صلاحیت اور عقل عطا فرمائی، نہایت ترقی یافتہ زراعت اور اس کے اسباب، زرخیز زمین اور چشمے عطا فرمائے۔ دیکھیے سورة شعراء (١٤١ تا ١٥٠) اب تک اس کی جو ناشکری اور اس کے ساتھ شرک کرچکے ہو اس کی معافی مانگ کر اس پر ایمان لے آؤ اور آئندہ کے لیے اس کے ساتھ کفر و شرک سے توبہ کرو۔ ساتھ ہی ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہونے کی امید دلانے کے لیے رب تعالیٰ کی دو صفات بیان کیں کہ وہ ” قریب “ بھی ہے اور ” مجیب “ بھی۔ کوئی اسے پکارے تو اسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ آہستہ پکارے یا بلند آواز سے، اکیلا پکارے یا مجلس میں، میرا رب قریب بھی ہے اور قبول کرنے والا بھی۔ جب اس کے سوا یہ اوصاف کسی میں بھی نہیں تو کسی اور کی عبادت کیوں ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا۝ ٠ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝ ٠ۭ ہُوَاَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيْہَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْہِ۝ ٠ۭ اِنَّ رَبِّيْ قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌ۝ ٦١ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے صَالِحٌ عليه السلام وصَالِحٌ: اسم للنّبيّ عليه السلام . قال تعالی: يا صالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينا مَرْجُوًّا [هود/ 62] . عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] الٰہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] ، وقال : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] ، وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] ، ويُنْشِئُ النَّشْأَةَالْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] فهذه كلُّها في الإيجاد المختصِّ بالله، وقوله تعالی: أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] فَلِتشبيه إيجادِ النَّارِ المستخرَجة بإيجادِ الإنسانِ ، وقوله : أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] أي : يُرَبَّى تربيةً کتربيةِ النِّسَاء، وقرئ : يَنْشَأ» أي : يَتَرَبَّى. ( ن ش ء) النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن میں ہے : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے ۔ نشافلان کے معنی کے بچہ کے جوان ہونے کے ہیں ۔ اور نوجوان کو ناشی کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] کچھ نہیں کہ رات کا اٹھنا دنفس بہیمی کی سخت پامال کرتا ہے ۔ میں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں ۔ اسی سے نشاء السحاب کا محاورہ ہے جس کے معنی فضا میں بادل کے رونما ہونے اور آہستہ آہستہ بڑھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے َ : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے ۔ الانشاء ۔ ( افعال ) اس کے معنی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں ۔ عموما یہ لفظ زندہ چیز ۔۔ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] وہ خدا ہی جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ اور تمہاری کان اور آنکھیں اور دل بنائے ۔ نیز فرمایا : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] وہ تم کو خوب جانتا ہے جسب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی ۔ وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں ۔ ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا ويُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا ۔ ان تمام آیات میں انسشاء بمعنی ایجاد استعمال ہوا ہے جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] بھلا دیکھو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ۔ میں آگ کا درخت اگانے پر بطور تشبیہ انشاء کا لفظ بولا گیا ہے اور آیت کریمہ ) أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] کیا وہ جوز یور میں پرورش پائے ۔ میں ینشا کے معنی تربیت پانے کے ہیں نفی عورت جو زبور میں تربیت ۔ ایک قرآت میں ينشاء ہے یعنی پھلے پھولے ۔ عمر العِمَارَةُ : نقیض الخراب : يقال : عَمَرَ أرضَهُ : يَعْمُرُهَا عِمَارَةً. قال تعالی: وَعِمارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ التوبة/ 19] . يقال : عَمَّرْتُهُ فَعَمَرَ فهو مَعْمُورٌ. قال : وَعَمَرُوها أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوها [ الروم/ 9] ، وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ [ الطور/ 4] ، وأَعْمَرْتُهُ الأرضَ واسْتَعْمَرْتُهُ : إذا فوّضت إليه العِمَارَةُ ، قال : وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيها[هود/ 61] . ( ع م ر ) العمارۃ یہ خراب کی ضد ہے عمر ارضہ یعمرھا عمارۃ اس نے اپنی زمین آباد کی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَعِمارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ التوبة/ 19] اور مسجد محترم ( یعنی خانہ کعبہ ) کو آباد کرنا ۔ کہا جاتا ہے ۔ عمرتہ میں نے اسے آباد کیا ۔ معمر چناچہ وہ آباد ہوگئی اور آباد کی ہوئی جگہ کو معمور کہا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَعَمَرُوها أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوها [ الروم/ 9] اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو انہوں نے کیا ۔ وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ [ الطور/ 4] اور آباد کئے ہوئے گھر کی ۔ اعمر تہ الارض واستعمرتہ میں نے اسے آباد کرنے کے لئے زمین دی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيها[هود/ 61] اور اس نے آباد کیا ۔ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ [ التوبة/ 28] ، وقوله : فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ [ الذاریات/ 27] . وفي الزّمان نحو : اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] ، وقوله : وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ ما تُوعَدُونَ [ الأنبیاء/ 109] . وفي النّسبة نحو : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] ، وقال : الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ، وقال : وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] ، وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] ، وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] ، يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] . وفي الحظوة : لَا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ [ النساء/ 172] ، وقال في عيسى: وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ آل عمران/ 45] ، عَيْناً يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ [ المطففین/ 28] ، فَأَمَّا إِنْ كانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الواقعة/ 88] ، قالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الأعراف/ 114] ، وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا[ مریم/ 52] . ويقال للحظوة : القُرْبَةُ ، کقوله : قُرُباتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَواتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّها قُرْبَةٌ لَهُمْ [ التوبة/ 99] ، تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنا زُلْفى[ سبأ/ 37] . وفي الرّعاية نحو : إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ [ الأعراف/ 56] ، وقوله : فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ [ البقرة/ 186] وفي القدرة نحو : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] . قوله وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ [ الواقعة/ 85] ، يحتمل أن يكون من حيث القدرة ( ق ر ب ) القرب القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ فرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے ۔ لا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا ۔ وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] اور زنا کے پا س بھی نہ جانا ۔ فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں ۔ اور آیت کریمہ ولا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ان سے مقاربت نہ کرو ۔ میں جماع سے کنایہ ہے ۔ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ [ الذاریات/ 27] اور ( کھانے کے لئے ) ان کے آگے رکھ دیا ۔ اور قرب زمانی کے متعلق فرمایا : اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] لوگوں کا حساب ( اعمال کا وقت نزدیک پہنچا ۔ وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ ما تُوعَدُونَ [ الأنبیاء/ 109] اور مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ عنقریب آنے والی ہے یا اس کا وقت دور ہے ۔ اور قرب نسبی کے متعلق فرمایا : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] اور جب میراث کی تقسیم کے وقت ( غیر وارث ) رشتے دار آجائیں ۔ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ماں باپ اور رشتے دار ۔ وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] گوہ وہ تمہاری رشتے دار ہو ۔ وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] اور اہل قرابت کا ۔ وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] اور رشتے در ہمسایوں يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] یتیم رشتے دار کو ۔۔۔ اور قرب بمعنی کے اعتبار سے کسی کے قریب ہونا کے متعلق فرمایا : لَا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ [ النساء/ 172] اور نہ مقرب فرشتے ( عار ) رکھتے ہیں ۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ آل عمران/ 45]( اور جو ) دنیا اور آخرت میں آبرو اور ( خدا کے ) خاصوں میں سے ہوگا ۔ عَيْناً يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ [ المطففین/ 28] وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے ( خدا کے ) مقرب پئیں گے ۔ فَأَمَّا إِنْ كانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الواقعة/ 88] پھر اگر وہ خدا کے مقربوں میں سے ہے : قالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الأعراف/ 114]( فرعون نے ) کہا ہاں ( ضرور ) اور اس کے علاوہ تم مقربوں میں داخل کرلئے جاؤ گے ۔ وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا[ مریم/ 52] اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا ۔ اور القربۃ کے معنی قرب حاصل کرنے کا ( ذریعہ ) کے بھی آتے ہیں جیسے فرمایا : قُرُباتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَواتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّها قُرْبَةٌ لَهُمْ [ التوبة/ 99] اس کو خدا کی قربت کا ذریعہ ۔ أَلا إِنَّها قُرْبَةٌ لَهُمْ [ التوبة/ 99] دیکھو وہ بےشبہ ان کے لئے ( موجب ) قربت ہے۔ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنا زُلْفى[ سبأ/ 37] کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ۔ اور رعایت ونگہبانی کے متعلق فرمایا : إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ [ الأعراف/ 56] کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے ۔ فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ [ البقرة/ 186] میں تو تمہارے پاس ہوں ۔ جب کوئی پکارنے والا پکارتا ہے تو میں اسکی دعا قبول کرتا ہوں ۔ اور قرب بمعنی قدرہ فرمایا : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

انسان کو زمین پر آباد کیا قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے نیزمکانات کی تعمیر کے لیے تیا ر کرنا اور چیزوں کے ذریعے اسے آباد کرنا واجب ہے۔ مجاہد سے اس کے معنی کے متعلق مروی ہے کہ تمہیں بایں معنی آباد کردیا کہ زمین کو زندگی بھر کے لیے تمہارے واسطے مخصوص کردیا ۔ یہ وہی مفہوم ہے جو قائل کے اس قول میں ہے۔ اعمن تک داری ھذہ یعنی میں نے زندگی بھر کے لیے اپنا یہ گھر تمہاری ملکیت میں دے دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے من اعمر عمری فھی لہ ولورثتہ من بعد۔ جس شخص نے کسی کو کئی عطیہ اس کی زندگی بھر کے لیے دیا ہو تو یہ عطیہ اس کا ہوگا اور اس کے بعد اس کے ورثاء کو مل جائے گا ۔ عمری عطیہ کو کہتے ہیں تا ہم اس کے مفہوم میں زندگی بھر کے لیے مالک بنا دینے کا معنی بھی داخل ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمری اور رہبہ کو جائز قرار دیا لیکن زندگی بھر تک کے لیے مالک بنا دینے کی شرط کو باطل قرار دیا۔ دوسرے الفاظ میں اس کی ملکیت ہمیشہ کے لیے اسے حاصل ہوجاتی ہے۔ آپ نے یہ شرط اس لیے باطل قرار دی کہ لوگوں کا عقیدہ تھا کہ متعلقہ شخص کی موت کے بعد یہ عطیہ پھر ہبہ کرنے والے کی ملکیت میں لوٹ آتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦١) اور ہم نے قوم ثمود کی جانب ان کے نبی کو بھیجا، انہوں نے فرمایا اے قوم توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ، اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں جس پر ایمان لانے کے لیے تمہیں کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آدم (علیہ السلام) سے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور تمہیں زمین میں آباد کیا اور تمہارے لیے اس نے سکونت کی جگہ بنائی، اسی کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور توبہ اور اخلاص کے ساتھ اسی کے سامنے جھک جاؤ، بیشک میرا رب قبولیت کے قریب ہے اور موحد کی توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(آیت ٦١ (وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا) قوم عاد میں سے جو لوگ بچے تھے وہ اپنے علاقے سے آگے وسطی علاقے کی طرف جا کر ” حجر “ میں آباد ہوئے اور ان لوگوں کی نسل میں سے ثمود نام کی ایک بڑی قوم ابھری۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب اس قوم کے اندر بھی وہی خرابیاں پیدا ہوگئیں اور وہ لوگ بھی جب بت پرستی اور شرک کی لعنت میں مبتلا ہوگئے تو ان کی اصلاح کے لیے حضرت صالح کو مبعوث کیا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

66. For further information see Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf, nn. 57-62, pp. 45-8. 67. This substantiates the fact that there is no god other than the One True God; and that He should be the sole object of worship and service. Now, even those who associated others with God in His divinity acknowledged that it is Allah alone Who created them. Using this obvious premise, Prophet Salih (peace be on him) sought to persuade people to affirm that God alone should be worshipped. He emphasized that it is God alone Who had made them into human beings out of the lifeless materials from the earth, and had subsequently settled them on earth. In view of this, who else than God could claim godhead? Likewise, who else could claim that he ought to be served and worshipped? 68. The Thamud had been guilty of worshipping others besides God. They are now urged to seek God's forgiveness for this grave sin. 69. This verse is aimed at removing a major misconception which had been prevalent among the polytheists. This misconception is in fact one of the major reasons which prompted men to associate others with God in His divinity. One of man's most persistent faults is that he has conceived God to be similar to those worldly rulers who immerse themselves in a life of ease and luxury in their grand palaces. Such rulers are normally far removed from their subjects. To all intents and purposes they are well beyond the direct access of their subjects. The only way for their subjects to reach them is through the auspices of their favourite courtiers. And even if a subject succeeds in conveying his pleadings through a courtier, these rulers are often too arrogant to directly respond to such pleadings. This is one aspect of the function of a courtier - to communicate to a ruler the pleadings of his subjects, and also to communicate to the subjects the response of the ruler. Since God was often conceived in the image of such worldly rulers many people fell prey to the false belief that God is well above the reach of ordinary human beings. This belief spread further because many clever people found it quite profitable to propagate such a notion. No wonder many people felt God could only be approached through powerful intermediaries and intercessors. The only way that a person's prayer could reach God and be answered by Him was to approach Him through one of the holy men. It was, therefore, considered necessary to grease the palm of the religious functionaries who supposedly enjoyed the privilege of conveying a man's offerings and prayers to the One on high. This misconception gave birth to a pantheon of small and large deities and intercessors who are supposed to act as intermediaries between man and God. This misconception has given rise to institutionalized priesthood, according to which no ritual, whether relating to birth or death, can be performed without the active participation of the priests. Prophet Salih (peace be on him) strikes at the root of this ignorant system, and totally demolishes its intellectual infrastructure. This he does by emphasizing two facts: that God is extremely close to His creatures and that He answers their prayers. Thus he refutes many misconceptions about God: that He is far away, altogether withdrawn from human beings, and that He does not answer their prayers if they are to directly approach Him. God, no doubt, is transcendent, and yet He is extremely close to every person. Everyone will find Him just beside himself. Everyone can whisper to Him the innermost desires of his heart. Everyone can address his prayers to God both in public and in private, by verbally expressing those prayers or addressing them to Him without so much as uttering a single word. Moreover, God answers the prayers of all His creatures directly. The fact is that God's court with all its majesty is just around everyone's corner, so close to one's threshold, and always open to all. How silly it is, therefore, for people to search for those intercessors who they think will help them approach God, (See also Towards Understanding the Qur'an, vol. I, al-Baqarah 2, n. 188.)

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :66 سورہ اعراف رکوع ۱۰ کے حواشی پیش نظر رہیں ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :67 یہ دلیل ہے اس دعوے کی جو پہلے فقرے میں کیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی خدا اور کوئی حقیقی معبود نہیں ہے ۔ مشرکین خود بھی اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہی ہے ۔ اسی مسلمہ حقیقت پر بنائے استدلال قائم کر کے حضرت صالح علیہ السلام ان کو سمجھاتے ہیں کہ جب وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کے بے جان مادوں کی ترکیب سے تم کو یہ انسانی وجود بخشا ، اور وہ بھی اللہ ہی ہے جس نے زمین میں تم کو آباد کیا ، تو پھر اللہ کے سوا خدائی اور کس کی ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ تم اس کی بندگی و پرستش کرو ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :68 یعنی اب تک جو تم دوسروں کی بندگی و پرستش کرتے رہے ہو اس جرم کی اپنے رب سے معافی مانگو ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :69 یہ مشرکین کی ایک بہت بڑی غلط فہمی کا رد ہے جو بالعموم ان سب میں پائی جاتی ہے اور ان اہم اسباب میں سے ایک ہے جنہوں نے ہر زمانہ میں انسان کو شرک میں مبتلا کیا ہے ۔ یہ لوگ اللہ کو اپنے راجوں مہاراجوں اور بادشاہوں پر قیاس کرتے ہیں جو رعیت سے دور اپنے محلوں میں داد عیش دیا کرتے ہیں ، جن کے دربار تک عام رعایا میں سے کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی ، جن کے حضور میں کوئی درخواست پہنچانی ہو تو مقربین بارگاہ میں سے کسی کا دامن تھامنا پڑتا ہے اور پھر اگر خوش قسمتی سے کسی کی درخواست ان کے آستانہ بلند پر پہنچ بھی جاتی ہے تو ان کا پندار خدائی یہ گوارا نہیں کرتا کہ خود اس کو جواب دیں ، بلکہ جواب دینے کا کام مقربین ہی میں سے کسی کے سپرد کیا جاتا ہے ۔ اس غلط گمان کی وجہ سے یہ لوگ ایسا سمجھتے ہیں اور ہوشیار لوگوں نے ان کو ایسا سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ خداوند عالم کا آستانہ قدس عام انسانوں کی دست رس سے بہت ہی دور ہے ۔ اس کے دربار تک بھلا کسی عام کی پہنچ کیسے ہو سکتی ہے ۔ وہاں تک دعاؤں کا پہنچنا اور پھر ان کا جواب ملنا تو کسی طرح ممکن ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ پاک روحوں کا وسیلہ نہ ڈھونڈا جائے اور ان مذہبی منصب داروں کی خدمات نہ حاصل کی جائیں جو اوپر تک نذریں ، نیازیں اور عرضیاں پہنچانے کے ڈھب جانتے ہیں ۔ یہی وہ غلط فہمی ہے جس نے بندے اور خدا کے درمیان بہت سے چھوٹے بڑے معبودوں اور سفارشیوں کا جم غفیر کھڑا کر دیا ہے اور اس کے ساتھ مہنت گری ( Priesthood ) کا وہ نظام پیدا کیا ہے جس کے توسط کے بغیر جاہلی مذاہب کے پیرو پیدائش سے لے کر موت تک اپنی کوئی مذہبی رسم بھی انجام نہیں دے سکتے تھے ۔ حضرت صالح علیہ السلام جاہلیت کے اس پورے طلسم کو صرف دو لفظوں سے توڑ پھینکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ قریب ہے ۔ دوسرے یہ ہے کہ وہ مجیب ہے ۔ یعنی تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے کہ وہ تم سے دور ہے ، اور یہ بھی غلط ہے کہ تم براہ رست اس کو پکار کر اپنی دعاؤں کا جواب حاصل نہیں کر سکتے ۔ وہ اگرچہ بہت بالا و برتر ہے مگر اسکے باوجود وہ تم سے بہت قریب ہے ۔ تم میں سے ایک ایک شخص اپنے پاس ہی اس کو پا سکتا ہے ، اس سے سرگوشی کر سکتا ہے ، خلوت اور جلوت دونوں میں علانیہ بھی اور بصیغہ راز بھی اپنی عرضیاں خود اس کے حضور پیش کرسکتا ہے ۔ اور پھر وہ براہ راست اپنے ہر بندے کی دعاؤں کا جواب خود دیتا ہے ۔ پس جب سلطان کائنات کا دربار عام ہر وقت ہر شخص کے لیے کھلا ہے اور ہر شخص کے قریب ہی موجود ہے تو یہ تم کس حماقت میں پڑے ہو کہ اس کے لیے واسطے اور وسیلے ڈھونڈتے پھرتے ہو ۔ ( نیز ملاحظہ ہو سورہ بقرہ کا حاشیہ نمبر ۱۸۸ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

35: قومِ ثمود اور اس کے واقعے کا مختصر تعارف اور تذکرہ سورۂ اعراف (۷:۷۳) میں گذرچکا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦١۔ ملک شام اور مدینہ کے مابین میں حجر نام کا جو ایک شہر ہے وہاں قوم صالح کے یہ لوگ رہتے تھے حضرت ہود کے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے درمیان میں سو برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی عمر دو سو اسی برس کی ہوئی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کو عاد اولیٰ اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کو عاد ثانی کہتے ہیں تین سو سے ہزار برس تک کی عمر کے لوگ اس قوم میں گزرے ہیں سورة اعراف میں ان کی قوم کا قصہ گزرچکا ہے۔ صحیح بخاری مسند امام احمد اور مستدرک حاکم وغیرہ کی روایتیں اوپر گزرچکی ہیں کہ تبوک کے جاتے وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کا گزرجب اس ثمود کی اجڑی ہوئی بستی پر سے ہوا تو آپ نے صحابہ کو حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ چاہا اور پھر اس معجزہ کی اونٹنی کی قدر نہ کی۔ آخر ساری قوم ہلاک ہوگئی اور جس کنویں سے وہ اونٹنی پانی پیا کرتی تھی اس کنویں کے سوا اور کنویں کے پانی کے استعمال کو آپ نے منع کیا اور فرمایا کہ جب تک اس بستی سے گزر نہ ہوجاوے خدا سے ڈرنا اور رونا چاہئے خدا کا عذاب آتے ہوئے کچھ دیر نہیں لگتی۔ اونٹنی کے کنویں کے سوا اور کنویں کے پانی سے جس قدر صحابہ نے آٹا گوندھ لیا تھا وہ گوندھا ہوا آٹا آپ نے پھینکوا دیا۔ ابن ابی عاصم (رض) ایک صحابی نے پوچھا کہ حضرت میں اپنا یہ گوندھا ہوا آٹا اپنے اونٹ کو کھلا دوں تو آپ نے اجازت دی مگر کسی آدمی کو وہ آٹا استعمال نہیں کرنے دیا۔ ١ ؎ تاکہ ایسے اللہ کے غصہ کی جگہ صحابہ کا نڈر پنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند نہ معلوم ہو۔ { ھو انشاء کم من الارض } اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا ان ہی آدم کی اولاد میں تم ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ اللہ تعالیٰ کی ایک قدرت جتلائی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مٹی کے پتلے میں وہ تاثیر رکھی ہے کہ اس سے سلسلہ بہ سلسلہ سب بنی آدم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ایسے صاحب قدرت کی تعظیم کو چھوڑ کر تم پتھر کی مورتوں کو کیوں پوجتے ہو جس میں کسی طرح کی کوئی قدرت نہیں۔{ واستعمرکم فیھا } اس کا مطلب یہ ہے کہ جس زمین سے سلسلہ بہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اسی زمین میں پھر تم کو آباد کیا کہ اس میں مکان بناتے ہو باغ لگاتے ہو کھیتی کرتے ہو غرض یہ سب انتظام اسی لئے ہے کہ تم بت پرستی چھوڑ کر خالص دل سے اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت اور پچھلے شرک سے توبہ استغفار کرو اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ شرک سے بچنے والے بندوں کی ہر طرح کی خبر گیری سے کچھ دور نہیں ہے بلکہ ان کی ہر طرح کی التجا قبول کرنے کو موجود ہے سورت بقرہ کی آیت { واذا سألک عبادی عنی فانی قریب (٢: ١٨٦)} کو اور استغفار کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی حدیث جو اوپر گزری کہ استغفار سے رزق بڑھ جاتا ہے اور ہر طرح کی سختی آسان ہوجاتی ہے۔ اس حدیث کو اس آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خالص دل سے عبادت کرے گا اللہ اس سے قریب اور اس کی ہر طرح کی خواہش کا جواب دینے اور اس کی توبہ استغفار کے سبب سے اس کے رنج و غم اور تنگدستی کے رفع کرنے کو موجود ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٤٧٨ ج ١۔ باب قولہ تعالیٰ والے ثمود اخاہم صالخا الخ و تفسیر ابن کثیر ٢٢٧ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:61) والی ثمود اخاھم صلحا۔ آیت 11:50 کی طرح اس کا عطف بھی ارسلنا نوحا الیٰ قومہ (11:25) پر ہے۔ ای وارسلنا الی ثمود اخاھم صلحا۔ اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی (یعنی ان میں سے) صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انشاکم۔ انشا ینشی انشاء (افعال) اس نے پیدا کیا۔ ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پیدا کیا۔ استعمرکم۔ اس نے تم کو آباد کیا۔ استعمر یستعمر استعمار (استفعال) سے ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ العمارۃ۔ خراب کی ضد ہے۔ عمر ارضہ یعمرھا عمارۃ۔ اس نے اپنی زمین آباد کی۔ قرآن مجید میں ہے وعمارۃ المسجد الحرام (9:19) اور مسجد محرم (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا۔ اور والبیت المعمر (52:40) اور قسم ہے آبار کئے ہوئے گھر کی۔ العمر والعمر۔ اس مدت کو کہتے ہیں جس میں بدن زندگی کے ساتھ آباد رہتا ہے۔ مجیب۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر ۔ نکرہ۔ اجابۃ۔ مصدر (باب افعال) جوب مادہ۔ دعا قبول کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یعنی اب تک جو کفرو شرک کرتے رہے ہو اس کی اپنے رب سے معافی مانگو۔ 2 ۔ یعنی تمام معبودوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آئو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٦١ تا ٦٨ اسرار و معارف اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار کیا جائے یہ نہ ہو کہ اس کی نافرمانی کرکے اسباب یا ذوات یعنی اللہ کے سوا کسی ذات کو اختیار کیا جائے اگر ایسا ہواتو یہ غیر اللہ کی عبادت ہوگی ۔ اور تمام انبیاء نے یہی دعوت بھی دی اور یہی کام سب سے دشمنی کا سب بھی بن اور نہ صرف اللہ کو سب سے بڑا ماننا تو مشکل بات نہ تھی کہ ہر مذہب میں کسی نہ کسی طرح یہ تصور موجود ہے ۔ اپنی دعوت کی تائید میں انھوں نے فرمایا اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا یعنی تمہارے وجود اور تمہاری ذات میں جس قدرکمالات ہیں اسی کے عطاکردہ ہیں اور تم کو آباد بھی اسی نے کیا یعنی جس قدرنعمتیں اور احتیں حاصل ہیں یہ سب بھی اسی کی دین ہے اور تم اصل بات کو فراموش کرکے اللہ کے سوا دوسروں سے ان نعمتوں کے امیدوار بنے بیٹھے ہو۔ یہ بہت بڑاجرم ہے اس سے استغفار کرو اور آئندہ ایسانہ کرنے کا عہد کرو کہ میرا پروردگار ہر لحظہ ہر ایک کے قریب تر ہے اور وہ کسی کی فریاد رد نہیں فرماتا بشرطیکہ صحیح طریقے پرخلوص کے ساتھ اسی سے کی جائے۔ یہاں بات ان سے کرتے ہوئے فرمایا ، میرارب میرارب ! حالانکہ رب تو وہ سب کا ہے مگر ان لوگوں کو ابھی اس کی اپنا ئیت نصیب نہ تھی اور شیخ کا کمال یہی ہے کہ انسان پکار اٹھے میرارب۔ دل اور دماغ کافرق وہ کہنے لگے ، اے صالح ! تیرابچپن لڑکپن اور جوانی بےمثال تھے اور ہمیں آپ سے بیشمار تو قعات تھیں ۔ چونکہ انبیاء کی تربیت خاص انداز میں فرمائی جاتی ہے لہٰذاقوم میں بعثت سے قبل بھی ان کا ایک مقام ہوتا ہے اور اب آپ ہمیں ان بتوں کی پوجا سے روکتے ہیں ہیں جن کی پرستش تو ہمارے آباواجداد بھی کرتے تھے بھلا وہ سب غلط تھے ان میں کوئی اتنا سمجھدار نہ تھا جبکہ ان میں بڑے بڑے نامورلوگ تھے۔ اور کفار کو عموما اور آجکل کے دانشوروں کو خصوصا یہی بات دین سے دور رکھے ہوئے ہے حالانکہ اصل فرق دل اور دماغ کا ہے کہ دنیا بھر کے نامور لوگ ساری شہرت دماغی اور جسمانی امور میں حاصل کرسکتے ہیں مگر وہ علوم جن کا تعلق اللہ کی معرفت سے ہے دلوں پہ نازل ہوتے ہیں جن کو انبیاء حاصل کرکے ان لوگوں کو تقسیم فرماتے ہیں جو ان پہ ایمان لاکر اپنے دل کا تعلق ان سے جوڑتے ہیں لیکن اس بات کونہ پاسکے تو کہنے لگے ہمیں تو آپ پر آپ کی دعوت پر آپ کی دماغی صحت تک پر شک سا ہورہا ہے آپ کی یہ بات قبول کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ انھوں نے فرمایا کہ رواج کی بات نہ کرو کہ ایساکب سے آرہا ہے دلائل کی بات کرو اگر میرے پروردگار نے مجھے روشن اور مضبوط دلائل دیئے ہیں اور میراسینہ روشن کردیا ہے تو یہ بھی سوچو کہ جس اللہ نے پر اتنی بڑی رحمت کی ہے کہ میں تم سب کو بھی اس کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور تم سب پر اس کی رحمت کے خزانے لٹاناچاہتا ہوں تو بھلائیں اسکی نافرمانی کرسکتا ہوں کہ اس کی بات تم سے نہ ہوں ؟ ہرگز نہیں ! اور اگر خدا نخواستہ میں ایسا کروں تو پھر اس کی گرفت سے مجھے کوئی نہیں بچاسکتا لہٰذا تمہاری بات میں سوائے خسارے اور نقصان کے کچھ بھی تو نہیں ۔ تو وہ کہنے لگے کہ بھئی ! ایسے دلائل سے کام نہ چلے گا۔ آپ اگر اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے تو اسے کہیں ، اس پتھر سے اونٹنی پیدا ہوجوحاملہ ہو اور پھر بچہ جنے ۔ آپ نے فرمایا ، بیشک اللہ تو ہرچیز پہ قادر ہے لیکن اگر منہ مانگا معجزہ ظاہر ہو اور مانگنے والے پھر بھی نہ مانیں تو تباہ ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا سوچ لو۔ کہنے لگے ہم مانیں گے آپ جان بچانے کی تدبیریں نہ کریں اللہ سے کہیں ایسا کردے۔ بعض وجود باعث برکت ہوتے ہیں چنانچہ انھوں نے دعا فرمائی پتھر پھٹا اور مطلوبہ اوصاف کی اونٹنی اس میں سے نکل کر سامنے آگئی مگر قوم تو تھی بدکار چناچہ ماننے سے انکار کردیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کی خاص اونٹنی ہے اب اسے کوئی نقصان نہ پہنچانا کہ اس کا وجود بھی عذاب الٰہی کو روکنے کا سبب ہے اگر یہ نہ رہی تو تم پر عذاب آجائے گا اور تباہ ہوجاؤگے ۔ تو ثابت ہوا کہ اگر اللہ کی اونٹنی کا وجود عذاب الٰہی کو روکنے کا سبب ہے تو اللہ کے بندوں کے وجود یقینا اس سے بہت زیادہ برکات کے حامل ہوتے ہیں مگر انھوں نے نہ مانا اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اسے ہلاک کردیا چناچہ آپ نے انھیں اللہ کے حکم سے بتادیا کہ اب تمہارے پاس صرف تین روز مہلت ہے اس کے بعد تم تباہ ہوجاؤگے اور یہ ایسا وعدہ ہے جو ہرگز غلط ثابت نہ ہوگا۔ چنانچہ عذاب الٰہی آپہنچا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے اس سے بچا لئے گئے کہ انبیاء وصلحاء کی معیت ہی عذاب سے حفاظت کا ذریعہ بنائی گئی ہے ۔ چناچہ ساری قوم ذلیل ورسوا ہوکرتباہ ہورہی تھی ان پر اللہ کی رحمت برس رہی تھی کہ اللہ کریم قادر ہے ایک ہی فضاکو کافروں کے لئے عذاب کا اور اپنے بندوں کے لئے نویدرحمت کا سبب بنادیتا ہے ۔ یقینا وہ بہت بڑی طاقت والا اور بہت زبردست ہے۔ اور ظالموں کو تو ایک ہیبت ناک چیخ نے پکڑا کہ ان کے دل پھٹ گئے اور اگلے روز سب گھروں میں کفار اوندھے منہ پڑے تھے کوئی نہیں بچا تھا جو ان کی لاشیں ہی سیدھی کرتا ۔ ان کی آبادی یوں تباہ ہوئی جیسے کبھی آبادہی نہ تھی ۔ اے مخاطب ! خوب اچھی طرح سن لو کہ ثمود نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور کفر اختیار کیا تو ہمیشہ کے لئے برباد کردیئے گئے اور لعنت کا شکار ہوئے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63 انشا (اس نے اٹھایا، اس نے پیدا کیا) استعمر (اس نے آباد کیا) استغفروا (معافی مانگو، توبہ کرو) تو بوا (تم پلٹو، تم لوٹو) مجیب (جواب دینے والا، قبول کرنے والا) مرجو (مرکز امید، بہت سی وابستہ امیدیں ہیں) اتنھنا (کیا تو ہمیں روکتا ہے، منع کرتا ہے) اباونا (ہمارے باپ دادا) تدعونا (تو ہمیں بلاتا ہے) مریب (ریب) شک میں ڈالنے والا بینۃ (کھلی نشانی) اتنی (اس نے مجھے دیا) من ینصرنی (میری کون مدد کرے گا) ماتریدون (تم اضافہ نہیں کر رہے ہو) غیر تخسیر (سوائے نقصان کے) تشریح :- آیت نمبر 61 تا 63 اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور بلاوجہ کسی قوم کو یا اس کے افراد کو برباد بھی نہیں کرتا بلکہ انہوں نے جس طر رزندگی کو اپنے لئے پسند کر رکھا ہے اگر وہ غلط ہے تو اللہ ان کو سوچنے سمجھنے اور سنبھلنے کا پورا پورا موقع عطا کرتا ہے، ان کے احوال کی اصلاح کے لئے ان پاکیزہ نفوس (انبیاء کرام) کو بھیجتا ہے جو ان کو قوم قدم پر غلط روی کے برے نتائج سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور بالکل واضح طریقہ پر بتا دیتے ہیں کہ ان کی اصلاح اور سنبھلنے کے راستے کونسے ہیں۔ اگر وہ انبیاء کرام کی بات مان کر صراط مستقیم اختیار کرلیتے ہیں تو ان کو دین و دنیا کی تمام بھلائیوں کی سعادت نصیب ہوتی ہے ورنہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ دنیا کی دولت، قوت و طاقت اور ظاہری اسباب ان کے کسی کام نہیں آتے۔ گزشتہ آیات میں آپ نے قوم عاد کے اس برے انجام کو ملاحظہ کرلیا ہے جس میں ان کا مال دولت اور دنیاوی ترقی ان کے کسیک ام نہ آسکے۔ قوم عاد کی طرح عرب کی قدیم ترین قوموں میں سے قوم ثمود بھی تھی جو حجاز اور شام کے درمیان ” الحجر ‘ کے مقام پر آباد تھی۔ یہ قوم جسمانی اعتبار سے نہایت قوی اور مضبوط تھی ان کی لمبی لمبی عمریں عظیم الشان فن تعمیر اس قوم ثمود کا نمایاں وصف تھا۔ اس قوم نے پہاڑوں کو تراش کر ایسی عالی شان اور بلند وبالا عمارتیں بنائی تھیں جن کے آثار اور کھنڈرات آج تموجود ہیں۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تیس ہزار صحابہ کرام قوم ثمود کی بستیوں کے پاس سے گذرے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں قوم ثمود آباد تھی مگر اپنی بد اعمالیوں کے سبب وہ دنیا سے مٹا دی گئی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقام سے جلد از جلد گذرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ سیر و تفریح کی جگہ نہیں بلکہ عبرت و نصیحت کی جگہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو وہ کنواں جہاں سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور وہ درہ بھی دکھایا جہاں سے یہ اونٹنی معجزہ کے طور پر پیدا کی گئی تھی اور وہاں سے پانی کنوئیں تک آتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس جگہ صرف اس کنوئیں سے پانی پینا جہاں سے حضرت صالح کی اونٹنی نے پانی پیا تھا۔ اس کے علاوہ کسی کنوئیں سے پانی مت پینا۔ جب قوم ثمود مال و دولت کی کثرت، عیش و عشرت کی زندگی اور بلند وبالا عمارتوں سے پر ناز کرتے ہوئے پتھر کے بےجان بتوں کی عبادت و بندگی میں ڈوب گئی تب اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی اصلاح کے لئے حضرت صالح کو بھیجا تاکہ ان کو خواب غفلت سے بیدار کیا جاسکے۔ حضرت صالح نے بھی تمام انبیاء کرام کی طرح وہی بنیادی بات ارشاد فرمائی کہ اے میری قوم ! تم ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو کیونکہ وہی ایک اللہ ہے جس نے انسان کو زمین کے بےجان ذرات سے پیدا کیا۔ پھر اس کو وہ صلاحیتیں عطا فرمائیں جن سے کام لے کر وہ اس دنیا میں اپنے رہنے بسنے اور زندگی گذارنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ فرمایا کہ تم دنیا کے اسباب اور عیش و عشرت میں پھنس کر اپنے خلاق ومالک اللہ کو موت بھول جانا اور اسی کی طرف پلٹ کر آئو۔ وہ اللہ ایسا مہربان ہے کہ اپنے بندوں کی ہر فریاد سنتا ہے اور وہ ان سے بہت قریب ہے۔ سب کچھ سننے کے بعد کہنے لگے کہ اے صالح ہمیں تو آپ سے بہت کچھ امیدیں تھیں اب آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ ہمیں ان معبودوں کی عبادت و بندگی سے روکتے ہیں جن کی عبادت و بندگی ہمارے باپ داداے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ بات تو ہمارے سامنے ہیں لیکن آپ جس معبود کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں وہ ہے بھی یا نہیں ؟ ہمیں تو اس میں شک ہے حضرت صالح نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب یہ دیا کہ اے میری قوم ! مجھے یہ بتائو کہ جب اللہ نے مجھے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کھلی نشانیاں اور اس کی رحمتیں میرے سامنے ہیں۔ اگر میں ان سب کے باوجود اللہ کی نافرمانی کروں گا تو مجھے اللہ کے عذاب سے اور آخرت کے نقصان سے کون بچائے گا۔ یقینا تمہاری بات مان کر تو میں سوائے نقصان کے اور کچھ بھی حاصل نہ کرسکوں گا۔ حضرت صالح کے اس واقعہ کی مزید تفصیلات اس کے بعد کی آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم ھود کے بعد قوم ثمود کو دنیا کی فراوانی عطا کی گئی۔ مگر انہوں نے بھی قوم عاد کا رویہ اختیار کیا۔ قوم ثمود دنیا کی ترقی میں یدطولیٰ رکھتی تھی۔ یہ قوم اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے میں بڑے بڑے محلات بنا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ان کے بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز وہیں سے کیا جہاں سے حضرت نوح اور حضرت ھود ( علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عبادت کا جامع مفہوم یہ ہے کہ آدمی اپنے فکر و عمل کو پوری طرح اللہ کے حکم کے تابع کردے۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس اللہ کی عبادت کا حکم دیا جا رہا ہے، جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس میں آباد کیا۔ لیکن تم اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی غلامی کی بجائے بغاوت پر اتر آئے ہو۔ تمہیں سابقہ گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے آئندہ کے لیے سچی توبہ کرنی چاہیے۔ یقین کرو کہ میرا رب ہر انسان کے قریب ہے اور سچے دل سے توبہ کرنے والے کی جلدہی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنے خطاب میں ” ھو انشاکم فی الارض “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر انسان یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور اس مٹی سے انسان کی خوراک کا بندوست کیا اور زمینی وسائل کی بنیاد پر ہی انسان نشوونما پاتا ہے۔ بالآخر اسی زمین میں اس نے دفن ہونا ہے اور دوبارہ اسی سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس خطاب میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے قریب تر ہے اور اس کی عبادت اور توبہ و استغفار کو قبول کرتا ہے۔ قوم ثمود نے قوم نوح اور قوم ھود کی طرح اپنے بزرگوں کے مجسمے بنا رکھے تھے اور ان کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ نہ صرف اس طرح اللہ کی عبادت کرنے میں لذت آتی ہے بلکہ ان کی ارواح ہماری فریادیں سن کر اللہ کے حضور پہنچاتی ہیں۔ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ طریقہ کے ساتھ انہیں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ انسان سچے دل سے توبہ و استغفار کرتے ہوئے براہ راست ایک اللہ کی عبادت کرے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا أَیُّہَا النَّاسُ تُوْبُوْا إِلَی اللَّہِ فَإِنِّی أَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ إِلَیْہِ ماءَۃَ مَرَّۃٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، باب اسْتِحْبَاب الاِسْتِغْفَارِ وَالاِسْتِکْثَارِ مِنْہُ ] ” حضرت ابن عمر (رض) سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو۔ بلاشبہ میں ہر روز سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ “ مسائل ١۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ ٣۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے معبود ان باطل کی نفی کی۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب تر ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور اس سے بخشش طلب کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ بندے کے قریب تر ہے : ١۔ میرا پروردگار قریب ہے اور قبول کرنے والا ہے۔ (ھود : ٦١) ٢۔ جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بتادیں بیشک میں قریب ہوں۔ (البقرۃ : ١٨٦) ٣۔ ہم ان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ (ق : ١٦) ٤۔ ہم تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں۔ (الواقعۃ : ٨٥) ٥۔ آدمی جہاں کہیں ہو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (الحدید : ٤) ٦۔ آدمی تین ہوں تو چوتھا ان کے ساتھ اللہ ہوتا ہے۔ پانچ ہوں تو چھٹا اللہ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوں یا کم ” اللہ “ ہر وقت آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ (المجادلۃ : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لیکن ان لوگوں کے دل اس قدر مسخ ہوگئے تھے ، اس قدر بگڑ گئے تھے ، اور ان کی ماہیت اس قدر بدل گئی تھی کہ وہ اس کلام کے کمال و جمال کو سمجھنے سے عاجز تھے ، وہ اس کلام کی جلالت قدر اور بلند تصورات و نظریات کے ادراک سے قاصر تھے۔ یہ کلام کس قدر نرم اور تشفی بخش ہے ، کس قدر صاف اور روشن ہے ، لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ اس کو سن کر کس قدر نا موافق رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ، ذرا سنئے اور غور کیجئے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ) (اور تم یاد کرو جبکہ اللہ نے تمہیں قوم عاد کے بعد آباد کیا اور زمین میں تمہیں رہنے کو ٹھکانہ دیا تم نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے ہو ‘ سو تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت مچاؤ) حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو استغفار کرنے کے لیے یعنی ایمان لانے کے لیے فرمایا اور آئندہ باقی زندگی میں اللہ کی طرف رجوع کرنے اور توبہ کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ میرا رب قریب ہے جو دعا کرو گے سنے گا اور مجیب بھی ہے ‘ دعا کو قبول فرمائے گا اور انہیں بتادیا کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ‘ ان لوگوں نے ضد وعناد پر کمر باندھ لی اور حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ میاں تم تو بڑے سمجھدار ہو نہار تھے ہم تم کو اپنا سردار بناتے اور اپنے کاموں میں تمہیں آگے آگے رکھتے تم نے جو یہ باتیں نکالی ہیں کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور باپ دادے جن کی عبادت کرتے تھے انہیں یکسر چھوڑ بیٹھیں یہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ‘ تم ہمیں جس بات کی دعوت دے رہے ہو ہمیں تو اس کے صحیح ہونے میں شک بھی معمولی نہیں بڑا شک ہے جو بڑے تذبذب اور تردد میں ڈالنے والا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اس نافرمانی میں میرا مؤاخذہ فرما لیا تو اللہ کے سوا کون میری مدد کرے گا۔ تمہارا اتباع کرنے سے برابر میرا نقصان ہی ہوتا رہے گا۔ ان لوگوں نے بیہودہ اور بےتکی باتیں کیں اور یوں بھی کہا کہ اچھا اگر تم پیغمبروں میں سے ہو تو عذاب لا کر دکھا دو جس سے تم ہمیں ڈراتے رہتے ہو (کما فی سورة الاعراف) نیز انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پہاڑ سے اگر اونٹنی نکل آئے تو ہم مان لیں گے کہ تم اللہ کے رسول ہو۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے اونٹنی نکال دی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو نشانی کے طور پر ہے اس کو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے ‘ اور یہ بھی فرمایا کہ اس اونٹنی کے پانی پینے اور تمہارے مویشیوں کے پانی پینے کے لیے باری مقرر کی جاتی ہے۔ (وَنَبِّءْھُمْ اَنَّ الْمَاءَ قَسِمَۃٌ م بَیْنَھُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ) اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم اس اونٹنی کو برائی سے ہاتھ نہ لگانا یعنی اس کے در پے آزار نہ ہونا اور اسے قتل مت کرنا اگر تم نے ایسا کیا تو جلد ہی عذاب آجائے گا۔ ان لوگوں نے اول تو خود اپنے منہ سے فرمائشی معجزہ طلب کیا پھر معجزہ ظاہر ہوگیا تو ایمان نہ لائے بلکہ اوپر سے اس اونٹنی کے قتل کے مشورے کرنے لگے آپس میں مشورہ کر کے ایک آدمی کو تیار کیا کہ اس اونٹنی کو مار ڈالو ‘ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا (فَنَادَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ) حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ دیکھو تم تین دن اپنے گھروں میں رہ لو اس کے بعد عذاب آجائے گا یہ وعدہ جھوٹ نہیں ہے۔ تین دن گزرنے کے بعد عذاب آگیا اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھیوں کو جو اہل ایمان تھے اپنی رحمت سے نجات دے دی اور اس دن کی رسوائی سے بھی نجات دے دی کیونکہ جس قوم پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔ وہ ذلیل ورسوا بھی ہوتی ہے یہ اہل ایمان عذاب سے بھی محفوظ رہے اور ذلت سے بھی محفوظ رہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

57: یہ تیسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ سے پیغام توحید قوم کے سامنے پیش کیا۔ ھُوَ اَنشَاَ کُمْ مِّنَ الْاَرْضِ الخ اللہ ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور زمین میں تم کو آباد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے بنیادی انعامات کا ذکر کیا تاکہ قوم کے دلوں میں جذبہ تشکر و امتنان پیدا ہو اور وہ اللہ کی توحید کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

61 اور ہم نے قبیلہ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا معبود ہونے کے قابل ہے اس نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا ہے اور اس نے تم کو زمین میں آباد کیا لہٰذا تم اپنے گناہ اس سے بخشوائو اور جو شرک تم کر رہے ہو اس کی معافی طلب کرو اور آئندہ بھی ایمان لانے کے بعد عبادت اور نیک اعمال کے ساتھ اسی کی جانب متوجہ رہو بلاشبہ میرا پروردگار قریب اور نزدیک ہے اور توبہ کرنیوالے کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ یعنی شرک سے توبہ کرو اور عبادت کرتے رہو کہ یہی اس کی جانب متوجہ ہونا ہے زمین کی مٹی سے پیدا کیا یعنی مٹی اور خاک انسانی مادے میں جزو اعظم ہے پھر آباد بھی یہیں کیا یعنی وہی خالق اور وہی پروردگار ہے جو اس کی جانب متوجہ ہو تو وہ قریب ہے اور جو اس سے گناہ معاف کرائے تو وہ مجیب ہے۔