Surat Hood

Surah: 11

Verse: 71

سورة هود

وَ امۡرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتۡ فَبَشَّرۡنٰہَا بِاِسۡحٰقَ ۙ وَ مِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ یَعۡقُوۡبَ ﴿۷۱﴾

And his Wife was standing, and she smiled. Then We gave her good tidings of Isaac and after Isaac, Jacob.

اس کی بیوی جوکھڑی ہوئی تھی وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَامْرَأَتُهُ قَأيِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَقَ ... And his wife was standing (there), and she laughed. But We gave her glad tidings of Ishaq, Then, Sarah laughed in delight of the good news of their destruction. This is because they had caused much corruption and their disbelief was severe. For this reason, she was rewarded with the glad tidings of a son, even after her despair. Concerning Allah's statement, ... وَمِن وَرَاء إِسْحَقَ يَعْقُوبَ and after Ishaq, of Yaqub. This means that the son that she was going to have would have a son (her grandson) who would succeed him and beget many children. For verily, Yaqub was the son of Ishaq, just as Allah says in Surah Al-Baqarah, أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ ابَأيِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ إِلَـهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ Or were you witnesses when death approached Yaqub! When he said unto his sons, "What will you worship after me!" They said, "We shall worship your God, the God of your fathers, Ibrahim, Ismail, Ishaq, One God, and to him we submit." (2:133) From this point in this verse there is an evidence for those who say that Ismail was the son of Ibrahim who was to be sacrificed. It could not have been Ishaq, because the glad tidings were given that he would have a son born to him named Yaqub. So how could Ibrahim be commanded to sacrifice him when he was a small child and there had not been born to him a child yet, named Yaqub, who was promised! The promise of Allah is true and there is no breaking of Allah's promise. Therefore, it is not possible that Ibrahim was to sacrifice this child (Ishaq) with the condition being as it was. This makes it clear that Ismail was the son that was to be sacrificed and this is the best, most correct and clearest evidence of that. And all praise is due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71۔ 1 حضرت ابراہیم کی اہلیہ کیوں ہنسیں ؟ بعض کہتے ہیں کہ قوم لوط (علیہ السلام) کی فساد انگیزیوں سے وہ بھی آگاہ تھیں، ان کی ہلاکت کی خبر سے انہوں نے مسرت کی۔ بعض کہتے ہیں اس لئے ہنسی آئی کہ دیکھو آسمانوں سے ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ قوم غفلت کا شکار ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ تقدیم و تاخیر ہے۔ اور اس ہنسنے کا تعلق اس بشارت سے ہے جو فرشتوں نے بوڑھے جوڑے کو دی۔ واللہ اعلم۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٢] سیدہ سارہ کو خوشخبری دینا :۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ بھی پاس کھڑی یہ مکالمہ سن رہی تھیں جب یہ اندیشہ دور ہوا تو خوشی سے ان کی ہنسی نکل گئی پھر فرشتوں نے انھیں ایک بیٹے جس کا نام اسحاق ہوگا کی خوشخبری دی اور یہ بھی بتلایا کہ اسحاق کے بعد اس سے یعقوب بھی ویسا ہی اولوالعزم پیغمبر پیدا ہوگا اور یہ خوشخبری خصوصاً سیدہ سارہ کو اس لیے دی گئی کہ وہ بےاولاد تھیں جبکہ سیدنا ابراہیم صاحب اولاد تھے اور دوسری بیوی ہاجرہ کے بطن سے سیدنا اسماعیل پیدا ہوچکے تھے اس لیے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم کے مقابلہ میں سیدہ سارہ کے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات تھی۔ بعض مفسرین نے یہاں ضحکت کے معنی حاضت بھی کیا ہے یعنی && سیدہ سارہ کو حیض آگیا && امام راغب نے اس کی یہ وضاحت کردی ہے کہ یہ ضحکت کے معنی نہیں ہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ بچہ کے حمل قرار پانے کی علامت کے طور پر انھیں حیض آگیا ہو اور حیض آنے کے معنی یہ تھے کہ انھیں حمل قرار پاسکتا ہے اور اولاد ہوسکتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ : ان کی بیوی سارہ[ مہمانوں کی خدمت کے لیے پردے کے پیچھے ساتھ ہی کھڑی تھی اور خوف زدہ تھی۔ جب اس نے یہ بات سنی تو ہنس پڑی، یا تو اس لیے کہ ہم انھیں ڈاکو سمجھے تھے یہ تو فرشتے نکلے، یا اس خوشی میں کہ ہم تو خوف زدہ تھے کہ اس طرح فرشتوں کی آمد خطرے سے خالی نہیں ہوتی (دیکھیے حجر : ٨) مگر یہ تو ہم پر عذاب کے بجائے ہمارے عزیز پیغمبر لوط (علیہ السلام) کی نافرمان قوم پر عذاب کی خوش خبری لے کر آئے ہیں اور دشمن کی ہلاکت کی خبر سے یقیناً خوشی ہوتی ہے۔ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۔۔ : سارہ[ کے لیے ایک خوشی کی خبر وہ تھی جو اوپر گزری، جس پر وہ بےساختہ ہنس پڑیں۔ فرشتوں نے انھیں مزید دو خوش خبریاں دیں، ایک بیٹا عطا ہونے کی، پھر اس بیٹے سے پوتا یعقوب عطا ہونے کی اور ان کے ضمن میں یہ خوش خبری تھی کہ تم دونوں میاں بیوی ابھی اتنی عمر اور پاؤ گے کہ بیٹا ملے گا، وہ جوان ہوگا، پھر اس کی شادی ہوگی اور اسے یعقوب عطا ہوگا، گویا مسلسل چار خوش خبریاں۔ یہ چاروں خوش خبریاں فرشتوں نے دی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے یہ خوش خبریاں دیں، کیونکہ فرشتوں کا کام تو صرف پہنچانا تھا، اصل خوش خبری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی جو کسی صورت غلط نہیں ہوسکتی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَامْرَاَتُہٗ قَاۗىِٕمَۃٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰہَا بِـاِسْحٰقَ۝ ٠ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ۝ ٧١ قائِمٌ وفي قوله : أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] . وبناء قَيُّومٍ : ( ق و م ) قيام أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] تو کیا جو خدا ہر نفس کے اعمال کا نگہبان ہے ۔ یہاں بھی قائم بمعنی حافظ ہے ۔ ضحك الضَّحِكُ : انبساطُ الوجه وتكشّر الأسنان من سرور النّفس، ولظهور الأسنان عنده سمّيت مقدّمات الأسنان الضَّوَاحِكِ. قال تعالیٰ “ وَامْرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَتْ [هود/ 71] ، وضَحِكُهَا کان للتّعجّب بدلالة قوله : أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 73] ، ويدلّ علی ذلك أيضا قوله : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ إلى قوله : عَجِيبٌ [هود/ 72] ، وقول من قال : حاضت، فلیس ذلک تفسیرا لقوله : فَضَحِكَتْ كما تصوّره بعض المفسّرين «1» ، فقال : ضَحِكَتْ بمعنی حاضت، وإنّما ذکر ذلک تنصیصا لحالها، وأنّ اللہ تعالیٰ جعل ذلک أمارة لما بشّرت به، فحاضت في الوقت ليعلم أنّ حملها ليس بمنکر، إذ کانت المرأة ما دامت تحیض فإنها تحبل، ( ض ح ک ) الضحک ( س) کے معنی چہرہ کے انبساط اور خوشی سے دانتوں کا ظاہر ہوجانا کے ہیں اور ہنستے وقت چونکہ سامنے کے دانت ظاہر ہوجاتے ہیں اس لئے ان کو ضواحک کہاجاتا ہے اور بطور استعارہ ضحک بمعنی تمسخر بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ ضحکت منہ کے معنی ہیں میں نے اس کا مذاق اڑایا اور جس شخص کا لوگ مذاق اڑائیں اسے ضحکۃ اور جو دوسروں کا مذاق اڑائے اسے ضحکۃ ( بفتح الحاء ) کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَامْرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَتْ [هود/ 71] اور حضرت ابراہیم کی بیوی ( جوپ اس ) کھڑیتی ہنس پڑی ۔ میں ان کی بیوی ہنسنا تعجب کی بنا پر تھا جیسا کہ اس کے بعد کی آیت : أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 73] کیا خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو سے معلوم ہوتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ إلى قوله : عَجِيبٌ [هود/ 72] اسے ہے میرے بچو ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں ۔۔۔۔ بڑی عجیب بات ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ اور جن لوگوں نے یہاں ضحکت کے معنی حاضت کئے ہیں انہوں نے ضحکت کی تفسیر نہیں کی ہے ۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے سمجھا سے بلکہ اس سے حضرت ابراہیم کی بیوی کی حالت کا بیان کرنا مقصود ہے کہ جب ان کو خوشخبری دی گئی تو بطور علامت کے انہیں اسی وقت حیض آگیا ۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کا حاملہ ہونا بھی کچھ بعید نہیں ہے ۔ کیونکہ عورت کو جب تک حیض آتا ہے وہ حاملہ ہوسکتی ہے وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧١) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی حضرت سارہ اوٹ سے مہمانوں کی خدمت کے لیے کھڑی ہوئی تھیں، وہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں سے خوف زدہ ہو رہے ہیں، متعجب ہوئیں۔ پھر ہم نے انکو اسحاق فرزند اور یعقوب پوتے کی خوشخبری دی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧١ (وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ ) حضرت سارہ قریب ہی کہیں پردے کے پیچھے کھڑی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں تو آپ شاید حضرت ابراہیم کی حالت پر ہنس پڑیں کہ میرے شوہر فرشتوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔ (فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ ) یعنی فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی حضرت یعقوب یعنی پوتے کی بھی۔ اس وقت حضرت ہاجرہ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوچکی تھی۔ حضرت سارہ حضرت ابراہیم کی پہلی بیوی تھیں جبکہ حضرت ہاجرہ کو آپ کی خدمت میں بادشاہ مصر نے پیش کیا تھا۔ یہودیوں کے ہاں حضرت ہاجرہ کو کنیز سمجھا جاتا ہے ‘ حالانکہ آپ مصر کے شاہی خاندان کی خاتون تھیں۔ آپ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم ان دونوں (ماں اور بیٹے) کو اللہ کے حکم سے حجاز میں اس جگہ چھوڑ آئے جہاں بعد میں بیت اللہ تعمیر ہونا تھا۔ بہر حال حضرت سارہ کے ہاں اس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی۔ چناچہ فرشتوں نے آپ کو بیٹے کی اور پھر اس بیٹے کے بیٹے کی ولادت کی بشارت دی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

78. According to this verse, the whole of Abraham's family was worried about the visit of the angels in human form. From sheer anxiety Abraham's wife also came out. However, when she came to know that the coming of the angels did not forebode any evil, she was reassured and became joyful. 79. The angels gave the glad tidings of the birth of Isaac to Sarah rather than to Abraham. For Abraham (peace be on him) already had a son called Ishmael, born of his first wife Hagar. At that time Sarah was without any issue, and for this reason she felt sad. When the angels gave her the glad tidings they foretold her not only of the birth of Isaac, but also of her grandson, Jacob. It is needless to say, perhaps, that both of them - Isaac and Jacob - became Messengers of great standing.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :78 اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے انسانی شکل میں آنے کی خبر سنتے ہی سارا گھر پریشان ہو گیا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ بھی گھبرائی ہوئی باہر نکل آئی تھیں ۔ پھر جب انہوں نے یہ سن لیا کہ ان کے گھر پر یا ان کی بستی پر کوئی آفت آنے والی نہیں ہے تب کہیں ان کی جان میں جان آئی اور وہ خوش ہو گئیں ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :79 فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بجائے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو یہ خوشخبری اس لیے سنائی کہ اس سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ بھی گھبرائی ہوئی باہر نکل آئی تھیں ۔ پھر جب انہوں نے یہ سن لیا کہ ان کے گھر پر یا ان کی بستی پر کوئی آفت آنے والی نہیں ہے تب کہیں ان کی جان میں جان آئی اور وہ خوش ہوگئیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

41: ہنسنے کی وجہ بعض مفسرین نے تو یہ بیان کی ہے کہ جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ یہ فرشتے ہیں، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، تو خوشی کی وجہ سے وہ ہنس پڑیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری سن کر ہنسی تھیں۔ سورۃ حجر آیت 53 اور سورۃ ذاریات آیت 29،30 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری پہلے دے دی تھی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر بعد میں کیا تھا اس پر انہیں تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان کو ہنستا دیکھ کر فرشتوں نے دوبارہ خوشخبری دی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:71) فضحکت فبشرنھا باسحق۔ حضرت سارہ کے ہنسنے کی دو وجوہ تھیں۔ (1) جب آپ نے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم کی تشویش دور ہوگئی ہے اور آپ مطمئن ہوگئے ہیں تو خوشی سے ہنس پڑیں۔ (2) عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ گویا عبارت یوں ہے فبشرناھا باسحق ۔۔ یعقوب فضحکت۔ ہم نے جب اسے اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب (علیہما السلام) کی تو وہ فرط مسرت سے ہنس پڑیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ اس ڈر سے خوش ہو کر ہنس پڑیں۔ حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں بڑھائیں۔ (موضح) ۔ 5 ۔ خوش خبری حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی بجائے حضرت سارہ کو اس لئے دی گئی کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں تو ان کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ سے حضرت اسماعیل پیدا ہوچکتے تھے لیکن حضرت سارہ ابھی تک بےاولاد تھیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ملائکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ اس موقعہ پر کھڑی ملائکہ کی گفتگو سن رہی تھیں۔ کچھ مفسرین نے ان کے اس طرح کھڑے ہونے کے بارے میں قیل وقال کی ہے۔ حالانکہ قریب کھڑے ہونے کا یہ معنی نہیں لیا جاسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ جن کا اسم گرامی حضرت سارہ ہے کہ وہ بےپردہ اس مجلس میں آکھڑی ہو۔ کیا عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کے وقت باپردہ حاضر نہیں ہوسکتی ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا پکڑا رہی ہوں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کی خدمت سرانجام دے دیتے ہوں ؟ بہرکیف قریب کھڑی ہوئی حضرت سارہ کو ملائکہ نے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا اور پوتا عنایت فرمائے گا۔ بیٹے کا نام اسحاق اور پوتے کا نام یعقوب رکھا ہے۔ یہاں ملائکہ نے خوشخبری حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو براہ راست پیش کرنے کی بجائے ان کی زوجہ مکرمہ کو اس لیے دی کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں حضرت ھاجرہ سے حضرت اسماعیل موجود تھے۔ حضرت سارہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پہلی بیوی تھیں۔ جو ان کی چچا زاد تھیں اور یہ اسی (٨٠) سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود اولاد سے محروم تھیں۔ جس بناء پر انہیں براہ راست بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائی گئی۔ خوشخبری سنتے ہی بےساختہ ان کے منہ سے نکلا کہ آہ آہ یہ کیسے ہوگا ؟ جبکہ میں بانجھ اور میرے خاوند ابراہیم انتہائی بوڑھے ہوچکے ہیں۔ اس حالت میں یہ خوشخبری انوکھی معلوم ہوتی ہے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر (١٢٠) سال کے قریب تھی۔ حضرت سارہ کی حیرانگی اور تعجب دیکھ کر ملائکہ نے انہیں کہا کیا آپ اللہ کے حکم اور اس کی رحمت کے بارے میں تعجب کرتی ہیں۔ حالانکہ آپ کے گھرانے پر اللہ کی بےپناہ رحمتیں نازل ہو رہی ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے تعریف والا اور بڑا ہے۔ یہ بات فہم القرآن کی جلد اول اور جلد دوم میں بیان ہوچکی ہے کہ ہر آیت کے اختتامی الفاظ اس کے مرکزی مفہوم کے کسی نہ کسی انداز میں ترجمان ہوتے ہیں۔ ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کا ذکر فرما کر انہیں مزید تسلی دی کہ بیشک آپ کی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر زیادہ ہوچکی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے سامنے کوئی کام بھی مشکل اور بڑا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ حمد و ستائش کے لائق ہے لہٰذا تمہیں تعجب کرنے کی بجائے اس کی حمد اور شکر ادا کرنا چاہیے۔ b حمید کا معنی : قابل تعریف، قابل ستائش، مستحسن، پسندیدہ۔ b مجید کا معنی : جلیل القدر، نمایاں، شاندار، معروف، محمود، قابل تعریف، عالی شان۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان پر اللہ کی رحمت کی چند جھلکیاں : ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اللہ تعالیٰ نے آگ کو گلزار بنا دیا۔ ٢۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست قرار دیا۔ ٣۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ کو بڑے وقار اور سلامتی کے ساتھ کفار کی سرزمین سے نجات دی۔ ٤۔ راستہ میں جب حضرت سارہ پر ایک ظالم حکمران نے دست درازی کی کوشش کی تو ظالم کو زمین پر گرا دیا گیا۔ ٥۔ حضرت سارہ نہ صرف بحفاظت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس واپس آئی بلکہ انہیں حضرت ہاجرہ کی شکل میں کنیز بھی دی گئی۔ ٦۔ حضرت سارہ کو بیک وقت بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی گئی۔ ٧۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو رہتی دنیا تک سب کا امام بنایا گیا۔ ٨۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی یاد گاروں کو اللہ تعالیٰ نے شعائر اللہ قرار دیا۔ ٩۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے بیت اللہ کی زیارت لوگوں پر فرض قرار دی گئی۔ ١٠۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی کو ہمیشہ کے لیے ہر امت کے لیے سنت قرار دیا گیا۔ علیٰ ھذہٖ القیاس۔ ملائکہ سے تکرار کرنے کا ذکر کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے اس تکرار کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ کیونکہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور اسی کے حکم کی تعمیل کے لیے قوم لوط کی طرف جانے والے تھے۔ پھر تکرار کی بجائے جھگڑے کا لفظ استعمال فرمایا جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیار کی جھلک دکھائی دیتی۔ کیونکہ جھگڑے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کرنے کی بجائے ان کی تعریف فرمائی گئی۔ ١۔ حَلِیْمٌ (خوش، غم اور غصہ میں حوصلہ رکھنے والا، اللہ کے حضور آہ زاری کرنے والا) ٢۔ اَوَّاہٌ (انتہائی خیر خواہ اور دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانے والا) ٣۔ مُنِیْبٌ (غمی و خوشی اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جب اور جسے چاہتا ہے اولاد عطا فرماتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اہل پر رحمت و برکت نازل فرمائی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ تعریف کے لائق ہے۔ ٤۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم اور نرم دل تھے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ تعریف والا اور بزرگی والا ہے : ١۔ بیشک اللہ تعریف کے لائق اور بڑی شان والا ہے۔ (ھود : ٧٣) ٢۔ زمین و آسمان میں سبھی کچھ اللہ کا ہے اور اللہ ہر تعریف کے لائق ہے۔ (النساء : ١٣١) ٣۔ اللہ قرآن مجید نازل کرنے والا حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حم السجدۃ : ٤٢) ٤۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (الحشر : ١) ٥۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (الفاتحۃ : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں ہنس پڑی۔ اس لیے کہ اسے بھی معلوم تھا کہ حضرت لوط کس برائی اور غلاظت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اور وہ چونکہ بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور اس طرح وہ معمر ہوگئی تھی اس لیے اس کے لیے یہ خوشخبری ایک عجوبہ تھی اور یہ خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ان کو خوشخبری دی گئی کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوں گے۔ عورت اور پھر بانجھ باعورت کو اگر اس قسم کی خوشخبری ملے تو لازمی ہے کہ وہ غیر معمولی اور اچانک خوشی کا مظاہرہ کرے گی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64: فَضَحِکَت فَبَشَّرْنٰھَا فاء دونوں میں تعقیب ذکری کے لیے ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں تھا فَبَشَّرْنٰھَا فَضَحِکَتْ یعنی ہم نے اس کو بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ خوشی سے ہنس پڑی۔ ان ھذای علی اتقدیم والتاخیر والتقدیر وَامْرَاَتُہٗ قَائِمَۃً فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ فَضَحِکَتْ سرورا بسبب تلک البشارۃ فقدم الضحک و معناہ التاخیر (کبیر ج 8 ص 26) ۔ یہ واقعہ سورة ذاریات میں واقعی ترتیب سے مذکور ہے یہاں اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ذاریات میں سب سے پہلے فرشتوں کی آمد کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بیٹے کی خوشخبری کا پھر اس کے بعد زوجہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار تعجب کا ذکر ہے۔ قَالُوْا لَاتَخَفْ وَ بَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ علِیْمٍ ۔ فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْھَھَا الایۃ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کی آمد کا مقصد پوچھا تو انہوں نے کہا وہ قوم لوط پر عذاب لے کر آئے ہیں۔ قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَا الْمُرْسَلُوْنَ ۔ قَالُوْا اِنَّا اُرْسِلْنَا اِلیٰ قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ الایۃ (ذاریات رکوع 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

71 اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی جو وہیں کھڑی ہوئی تھی ان باتوں کو سن کر ہنسی تو ہم نے اس عورت کو اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کے ڈر کئے دور ہونے سے خوش ہوکر ہنس پڑی حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں سنائیں 12 خلاصہ ! یہ کہ بیٹے اور پوتے کی خوشی سنائی یہ بیوی حضرت سارہ (رض) تھیں ان کو اولاد کی بڑھاپے کے باعث امید بھی نہ رہی تھی۔