Surat Hood

Surah: 11

Verse: 80

سورة هود

قَالَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ ﴿۸۰﴾

He said, "If only I had against you some power or could take refuge in a strong support."

لوط علیہ السلام نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Lut's Inability, His Desire for Strength and the Angels' Informing Him of the Reality Allah, the Exalted says that Lut was threatening them with his statement, قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ اوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ He said: "Would that I had strength to overpower you, or that I could betake myself to some powerful support." meaning, `I would surely have made an example of you and done (harm) to you from myself and my family.' In this regard, there is a Hadith which is reported from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah said, رَحْمَةُ اللهِ عَلَى لُوطٍ لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيد فَمَا بَعَثَ اللهُ بَعْدَهُ مِنْ نَبِيَ إِلاَّ فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِه May Allah's mercy be upon Lut, for verily, he betook himself to a powerful support --(meaning Allah, the Mighty and Sublime.) Allah did not send any Prophet after him, except amidst (an influential family) among his people. With this, the angels informed him that they were the messengers of Allah sent to them. They also told him that his people would not be able to reach him (with any harm).

لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے جب دیکھا کہ میری نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی تو انہیں دھمکایا کہ اگر مجھ میں قوت ، طاقت ہوتی یا میرا کنبہ ، قبیلہ زور دار ہوتا تو میں تمہیں تمہاری اس شرارت کا مزہ چکھا دیتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر کہ وہ زور آور قوم کی پناہ لینا چاہتے تھے ۔ مراد اس سے ذات اللہ تعالیٰ عزوجل ہے ۔ آپ کے بعد پھر جو پیغمبر بھیجا گیا وہ اپنے آبائی وطن میں ہی بھیجا گیا ۔ ان کی اس افسردگی ، کامل ملال اور سخت تنگ دلی کے وقت فرشتوں نے آپ کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہں یہ لوگ ہم تک یا آپ تک پہنچ ہی نہیں سکتے ۔ آپ رات کے آخری حصے میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائیے خود ان سب کے پیچھے رہیے ۔ اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیں قوم والوں کی آہ و بکا پر ان کے چیخنے چلانے پر تمہیں مڑ کر بھی نہ دیکھا چاہیے ۔ پھر اس اثبات سے حضرت لوط کی بیوی کا استثنا کر لیا کہ وہ اس حکم کی پابندی نہ کر سکے گی ۔ وہ عذاب کے وقت قوم کی ہائے وائے سن کر مڑ کر دیکھے گی ۔ اس لیے کہ رحمانی قضا میں اس کا بھی ان کے ساتھ ہلاک ہونا طے ہو چکا ہے ۔ ایک قرأت میں الا امرا تک ت کے پیش سے بھی ہے جن لوگوں کے نزدیک پیش اور زبر دونوں جائز ہیں ۔ ان کا بیان ہے کہ آپ کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہو نے پر قوم کا شور سن کر صبر نہ کر سکی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا اور زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم ۔ اسی وقت آسمان سے ایک پتھر اس پر بھی آیا اور وہ ڈھیر ہو گئی ۔ حضرت لوط کی مزید تشفی کے لیے فرشتوں نے اس خبیث قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ یہ صبح ہوتے ہی تباہ ہو جائے گی ۔ اور صبح اب بالکل قریب ہے ۔ یہ کور باطن آپ کا گھر گھیرے ہوئے تھے اور ہر طرف سے لپکتے ہوئے آپہنچے تھے ۔ حضرت لوط علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہوئے ان لوطیوں کو روک رہے تھے ، جب کسی طرح وہ نہ مانے اور جب لوط علیہ السلام آزردہ خاطر ہو کر تنگ آگئے اس وقت جبرائیل علیہ السلام گھر میں سے نکلے اور ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں ۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خود حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان لوگوں کے پاس آتے ، انہیں سمجھاتے کہ دیکھو اللہ کا عذاب نہ خریدو مگر انہوں نے خلیل الرحمن علیہ السلام کی بھی نہ مانی ۔ یہاں تک کہ عذاب کے آنے کا قدرتی وقت آ پہنچا ۔ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے ۔ آپ اس وقت اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ آج کی رات ہم آپ کے مہمان ہیں ۔ حضرت جبرائیل کو فرمان رب ہو چکا تھا کہ جب تک حضرت لوط علیہ السلام تین مرتبہ ان کی بدچلنی کی شہادت نہ دے لیں ۔ ان پر عذاب نہ کیا جائے ۔ آپ جب انہیں لے کر چلے تو چلنے کی خبر دی کہ یہاں کے لوگ بڑے بد ہیں یہ برائی ان میں گھسی ہوئی ہے ۔ کچھ دور اور جانے کے بعد دوبارہ کہا کہ کیا تمہیں اس بستی کے لوگوں کی برائی کی خبر نہیں؟ میرے علم میں تو روئے زمین پر ان سے زیادہ برے لوگ نہیں ، آہ میں تمہیں کہاں لے جاؤں؟ میری قوم تو تمام مخلوق سے بدتر ہے ۔ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرشتوں سے کہا دیکھو دو مرتبہ یہ کہہ چکے ۔ جب انہیں لے کر آپ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو رنج افسوس سے رو دئیے اور کہنے لگے میری قوم تمام مخلوق سے بدتر ہے ۔ تمہیں کیا معلوم نہیں کہ یہ کس بدی میں مبتلا ہیں؟ روئے زمین پر کوئی بستی اس بستی سے بری نہیں ۔ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پھر فرشتوں سے فرمایا دیکھو تین مرتبہ یہ اپنی قوم کی بدچلنی کی شہادت دے چکے ہیں ۔ یاد رکھنا اب عذاب ثابت ہو چکا ہے ۔ گھر میں گئے اور یہاں سے آپ کی بڑھیا بیوی اونچی جگہ پر چڑھ کر کپڑا ہلانے لگی جسے دیکھتے ہی بستی کے بدکار دوڑے پڑے ۔ پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں میں نے تو ان سے زیادہ خوب صورت اور ان سے زیادہ خوشبو والے لوگ کبھی دیکھے ہی نہیں ۔ اب کیا تھا یہ خوشی خوشی مٹھیاں بند کئے دوڑتے بھاگتے حضرت لوط کے گھر گئے ۔ چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا ۔ آپ نے انہیں قسمیں دیں ، پندو نصائح کئے ۔ فرمایا کہ عورتیں بہت ہیں ۔ لیکن وہ اپنی شرارت اور اپنے بد ارادے سے باز نہ آئے ۔ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ان کے عذاب کی اجازت چاہی اللہ کی جانب سے اجازت مل گئی ۔ آپ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے ۔ آپ کے دو پر ہیں ۔ جن پر موتیوں کا جڑاؤ ہے ۔ آپ کے دانت صاف چمکتے ہوئے ہیں ۔ آپ کی پیشانی اونچی اور بڑی ہے ۔ مرجان کی طرح کے دانت ہیں لو لو ہیں اور آپ کے پاؤں سبزی کی طرح ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام سے آپ نے فرما دیا کہ ہم تو تیرے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں ، یہ لوگ تجھ تک پہنچ نہیں سکتے ۔ آپ اس دروازے سے نکل جایئے ۔ یہ کہہ کر ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے وہ اندھے ہوگئے ۔ راستوں تک کو نہیں پہچان سکتے تھے ۔ حضرت لوط علیہ السلام اپنی اہل کے لے کر راتوں رات چل دیئے یہ اللہ کا حکم بھی تھا ۔ محمد بن کعب قتادہ سدی وغیر کا یہی بیان ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

80۔ 1 قوت سے اپنے دست بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور شدید (مضبوط اسرا) سے خاندان، قبیلہ یا اسی قسم کا کوئی مضبوط سہارا۔ یعنی نہایت بےبسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش ! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتی یا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کرلیتا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی یہ آرزو اللہ تعالیٰ پر توکل کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے۔ اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم و مطلب بھی یہی ہے۔ کہ پہلے تمام ظاہر اسباب و وسائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ پر توکل کیا جائے۔ یہ توکل کا نہایت غلط مفہوم ہے کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جاؤ اور کہو کہ ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا، ظاہر اسباب کے اعتبار سے بالکل بجا کہا۔ جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ کا پیغمبر جس طرح عالم الغیب نہیں ہوتا اسی طرح مختار کل بھی نہیں ہوتا، جیسا کہ آج کل لوگوں نے یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے اگر نبی دنیا میں اختیارات سے بہرہ ور ہوتے تو یقییناً حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی بےبسی کا اور اس آرزو کا اظہار نہ کرتے جو انہوں نے مذکورہ الفاظ میں کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٠] سیدنا لوط کی بےبسی :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) اس علاقہ سدوم میں غریب الدیار تھے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ پہلے عراق سے ہجرت کرکے فلسطین آئے پھر جب انھیں نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیم نے انھیں بغرض تبلیغ سدوم بھیج دیا۔ یہاں ان کا کوئی کنبہ قبیلہ بھی نہ تھا۔ بیوی بھی کافر تھی اور اسی قوم کی فرد تھی اور ان لواطت کرنے والے مشٹنڈوں سے ساز باز رکھتی تھی اور جب کوئی مہمان گھر پر آتا تو انھیں خفیہ طور پر یا اشاروں سے مطلع کردیا کرتی تھی ان فرشتوں کی آمد کی بھی اسی نے ان لوگوں کو اطلاع دی تھی۔ یہ تھا سیدنا لوط (علیہ السلام) کی بےبسی کا عالم کہ گھر میں بیوی بھی ان کی مخالف تھی۔ اسی بےبسی کے عالم میں ان مشٹنڈوں کے بارے میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے && کاش میں تمہارا مقابلہ کرسکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا && یعنی اگر میرا بھی یہاں مضبوط قبیلہ یا برادری ہوتی تو شاید میں ایسا بےبس اور مجبور نہ ہوتا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے سب بڑے جتھے اور قبیلے والے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً ۔۔ : لوط (علیہ السلام) اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں اہل سدوم کی اصلاح کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی قوت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا، یعنی میرا خاندان یہاں ہوتا تو میں تم سے نمٹ لیتا۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَأْوِيْ إِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قولہ عزو جل : ( و نبءھم عن ضیف إبراہیم ): ٣٣٧٢ ] ” اللہ تعالیٰ لوط پر رحم کرے، یقیناً وہ بہت مضبوط سہارے کی پناہ رکھتے تھے۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھتے تھے جو سب سے مضبوط ہے اور اس وقت ان کے پاس فرشتوں کی شکل میں بھی مضبوط سہارا موجود تھا، اگرچہ انھیں معلوم نہ تھا۔ حافظ ابن حزم (رض) نے ” اَلْفِصَلُ فِی الْمِلَلِ “ میں کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان میں لوط (علیہ السلام) کی شان میں کمی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ اسباب کا مہیا کرنا یا ان کی خواہش کرنا اللہ تعالیٰ پر توکل کے خلاف نہیں ہے۔ لوط (علیہ السلام) یقیناً اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا سمجھتے تھے مگر اس وقت وہ ساتھی مہیا ہونے کی صورت میں فوری طور پر اس خبیث قوم کا راستہ قوت بازو کے ساتھ روکنے کے خواہش مند تھے۔ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کئی لوگوں اور قبیلوں سے کہا کہ کون میری مدد کرتا اور مجھے جگہ دیتا ہے کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں۔ آخر کار انصار مدینہ نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور اپنی جان و مال اور اولاد کی طرح آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَار اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَار اللّٰهِ ) [ الصف : ١٤ ] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کے مددگار بن جاؤ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ “ اس لیے دنیاوی اسباب مہیا ہونے کی کوشش و خواہش جائز بلکہ مستحب ہے۔ ابوہریرہ (رض) ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( فَمَا بَعَثَ اللّٰہُ بَعْدَہُ مِنْ نَبِيٍّ اِلَّا فِيْ ثَرْوَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : ٤؍١٥٢، ح : ١٦١٧ ] ” پھر لوط (علیہ السلام) کے بعد اللہ نے جو نبی بھی بھیجا وہ اس کی قوم کے کثیر لوگوں میں سے بھیجا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Totally exasperated, what Sayyidna Lut (علیہ السلام) could say at that time was: لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُ‌كْنٍ شَدِيدٍ that is, ` only if I had enough strength in me to stand against this onslaught by my people, or that I had the backing of some strong group who would have helped me get rid of these oppressors.& Seeing this anxiety of Sayyidna Lut (علیہ السلام) the angels disclosed their identity and said, ` do not worry. Your group is very strong and very powerful. We are angels of Allah. They cannot touch us. We have come to execute the punishment for them.& It appears in a Hadith of the Sahih of al-Bukhari that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said about it, ` may Allah Ta` ala have mercy on Lut (علیہ السلام) . He was compelled to seek the protection of some strong group.& And the report in Tirmidhi carries another sentence with it, ` after Sayyidna Lut (علیہ السلام) ، Allah Ta’ ala sent no prophet whose clan or tribe was not his supporter.& (Qurtubi) This was true in the case of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The disbelieving Quraysh did everything they could against him, but his entire clan supported him - though, they did not agree with him religion-wise. This was the reason why Banu Hashim as a whole sided with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the boycott imposed by the Quraysh disbelievers whereby they had cut off essential supplies to him. During this episode, as reported from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) when the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) mobbed his home, he had closed the entrance door. The conversation with these wicked people was going on from behind it. The angels too were inside. The mob was threatening to jump the walls, barge in and break the door. Thereupon, came these words on the lips of Sayyidna Lut (علیہ السلام) . When the angels saw this anxiety of Sayyidna Lut (علیہ السلام) they disclosed their real identity and asked him to open the door. It was time that they took over and gave the miscreants a foretaste of the Divine punishment. When the door was opened, archangel Jibra&il (علیہ السلام) pointed his &Feather& towards their eyes. They turned blind and started running.

اس وقت ہر طرح سے عاجز ہو کر لوط (علیہ السلام) کی زبان پر یہ کلمہ آیا (آیت) لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ ، یعنی کاش مجھ میں اتنی قوت ہوتی کہ میں میں اس پوری قوم کا خود مقابلہ کرسکتا یا پھر کوئی جتھہ اور جماعت ہوتی جو مجھے ان ظالموں کے ہاتھ سے نجات دلاتی۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ اضطراب دیکھ کر بات کھول دی اور کہا کہ گھبرائیے نہیں آپ کی جماعت بڑی قوی اور مضبوط ہے، ہم اللہ کے فر شتے ہیں ان کے قابو میں آنے والے نہیں ان پر عذاب واقع کرنے کے لئے آئے ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوط پر رحم فرماویں وہ کسی مضبوط جماعت کی پناہ لینے پر مجبور ہوگئے، اور ترمذی میں اس کے ساتھ یہ جملہ بھی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کا کنبہ قبیلہ اس کا حمایتی نہ ہو ( قرطبی) خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کفار قریش نے ہزار طرح کی تدبیریں کیں لیکن آپ کے پورے خاندان نے آپ کی حمایت کی، اگرچہ مذہب میں وہ سب آپ کے موافق نہ تھے، اسی وجہ سے پورے بنی ہاشم اس مقاطعہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک رہے جس میں کفار قریش نے ان پر دانا پانی بند کردیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ اس واقعہ میں جب قوم لوط ان کے گھر پر چڑھ آئی تو لوط (علیہ السلام) نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا تھا اور یہ گفتگو اس شریر قوم سے پس پردہ ہو رہی تھی فرشتے بھی مکان کے اندر تھے ان لوگوں نے دیوار پھاند کر اندر گھسنے کا اور دروازہ توڑنے کا ارادہ کیا اس پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی زبان پر یہ کلمات آئے، جب فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ اضطراب دیکھا تو حقیقت کھول دی اور کہہ دیا کہ آپ دروازہ کھول دیں، اب ہم ان کو عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں، دروازہ کھولا تو جبرئیل امین نے اپنے پَر کا اشارہ ان کی آنکھوں کی طرف کیا جس سے سب اندھے ہوگئے اور بھاگنے لگے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ۝ ٨٠ قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسعماقل ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اس نے کہا کہ میں ( ابھی ) پہاڑ سے جا لگوں گا ۔ ركن رُكْنُ الشیء : جانبه الذي يسكن إليه، ويستعار للقوّة، قال تعالی: لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلى رُكْنٍ شَدِيدٍ [هود/ 80] ، ورَكنْتُ إلى فلان أَرْكَنُ بالفتح، والصحیح أن يقال : رَكَنَ يَرْكُنُ ، ورَكِنَ يَرْكَنُ «2» ، قال تعالی: وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا[هود/ 13] ، ( ر ک ن ) رکن ۔ کسی چیز کی وہ جانب جس کے سہارے پر وہ قائم ہوتی ہے استعارہ کے طور پر ذور اور قوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلى رُكْنٍ شَدِيدٍ [هود/ 80] اے کاش ( آج ) مجھ کو تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوئی یا میں کسبی زبر دست سہارے کا آسرا پکڑا جاتا ۔ اور رکنت الی ٰ فلان ارکن کے معنی کسی کیطرف مائل ہونے کے ہیں یہ فتح کاف کے ساتھ ہے مگر صحیح رکن یر کن ( ن) یا رکن یر کن ( س) ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا[هود/ 13] جن لوگوں نے ہماری نافرمانی کی انکی طرف نہ جھکنا ۔ شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٠) حضرت لوط (علیہ السلام) دل میں فرمانے لگے کیا اچھا ہوتا اگر بدن اور اولاد کی قوت کے ذریعہ میرا تم پر کچھ زور چلتا یا کسی بڑے خاندان کے ساتھ میرا تعلق ہوتا کہ وہاں میں پناہ لے کر تم سے اپنی حفاظت کرلیتا حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی زیادتی پر حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اور دیگر فرشتوں نے جب حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس قدر مضطراب دیکھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ (قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ ) اس ضمن میں نبی اکرم نے فرمایا : (یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ) (١) ” اللہ رحم فرمائے لوط ( علیہ السلام) پر وہ ایک مضبوط قلعہ میں ہی تو تھے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی اور حفاظت تو حضرت لوط کو حاصل تھی۔ لیکن اس وقت جو صورت حال بن گئی تھی اس میں بر بنائے طبع بشری پریشانی اور خوف کا طاری ہوجانا نبوت کی عصمت کے منافی نہیں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ بھی وقتی طور پر جادوگروں کے سانپوں سے ڈر گئے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

47: سدوم کی اس بستی میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے خاندان یا قبیلے کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ وہ تو عراق کے باشندے تھے۔ اور اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ سدوم کے لوگوں کو ان کی قوم بھی قرآن کریم نے اس معنی میں کہا ہے کہ وہ ان کی امت تھے جن کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی بے چارگی محسوس کی کہ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہوتا تو شاید میری کچھ مدد کرسکتا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے، اس موقع پر فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں، اس لیے آپ بالکل نہ گھبرائیں، یہ آپ کا یا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور ہمیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ صبح تک ان کا قلع قمع ہونے والا ہے۔ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر بستی سے راتوں رات نکل جائیں، تاکہ اس عذاب سے محفوظ رہیں۔ البتہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی اور اپنی قوم کی بد اعمالیوں میں ان کا ساتھ دیا کرتی تھی، اس لیے حکم ہوا کہ وہ آپ کے ساتھ نہیں جائے گی، بلکہ دوسرے کے ساتھ وہ بھی عذاب کا شکار ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٠۔ جب لوط کی قوم نہیں مانی اور مہمانوں کے لینے میں ضد کی تو لوط (علیہ السلام) نے کہا کاش مجھ میں ذاتی قوت ہوتی یا یہاں میرا کنبہ ہوتا یا اور کوئی دوست احباب حامی مددگار وقت پر ساتھ دینے والے ہوتے تو میں ان سے کہہ کر تمہیں یہاں سے دھکے دلواتا۔ اصل میں اس قوم میں لوط (علیہ السلام) کے کنبہ رشتہ کا کوئی نہ تھا۔ پہلے یہ عراق میں رہتے تھے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کر کے شام کی طرف آئے تو انہیں یہ حکم ہوا کہ تم سدوم گاؤں میں لوگوں کی ہدایت کو جاؤ۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت لوط کے بعد پھر جو نبی ہوا وہ اہل ثروت ہوا۔ مختصر طور پر یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔ { رکن شدید } کے معنے بعضے سلف نے یہی بیان کئے ہیں جو بیان کئے گئے اور بعضے سلف نے { رکن شدید } کے معنے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی طرف لوط (علیہ السلام) نے جب رجوع کیا تو فرشتوں نے یہ کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اس قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں یہ لوگ ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تم خاطر جمع رکھو۔ ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث جو اوپر گزری حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد جو نبی ہوا وہ کنبے قبیلہ والا ہوا اس حدیث سے رکن شدیدا کے کنبے قبیلہ کے معنی کی بڑی تائید ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:80) اوی۔ میں بیٹھوں گا۔ میں فروکش ہوجائوں گا۔ اوی سے باب ضرب اوی الی البیت۔ گھر میں اترا ۔ ٹھکانہ لیا۔ یا پناہ لی۔ قرآن میں ہے ساوی الی جبل (11:43) میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں۔ رکن۔ سہارا ۔ کسی چیز کی وہ جانب جس کے سہارے وہ قائم ہوتی ہے۔ استعارہ کے طور پر زور اور قوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ آیۃ ہذا : اے کاش ! مجھ کو تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوتی یا میں کسی زبردست سہارے کا آسرا پکڑ سکتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو اہل روم کی اصلاح پر مقرر فرمایا تھا۔ اس بنا پر انہوں نے دھمکی کے طور پر ان سے کہا کہ اگر میرا کوئی زبردست کنبہ یہاں ہوتا تو تم سے نبٹ لیتا۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی زبان سے یہ الفاظ پریشانی کی حالت میں بےساختہ نکل گئے ورنہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سہارا ہی کافی تھا۔ حدیث میں آیا ہے “۔ اللہ تعالیٰ لوط پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست آسرا یعنی اللہ کا سہارا رکھتے تھے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا وہ اپنی قوم میں ایک کنبہ رکھتا تھا۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جب حضرت لوط (علیہ السلام) یہ کلمات کہہ رہے تھے تو روئے سخن ان نوجوانوں کی طرف تھا۔ یعنی فرشتوں کی طرف جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں موجود تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی نظر میں یہ نوجوان اس قدر مضبوط نہ تھے کہ اپنا دفاع کرسکیں۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) یہ اشارہ دینا چاہتے تھے کہ اگر تم لوگ مضبوط ہوتے تو بھی ان ظالموں کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا یا یہ کہ اور کوئی ان کا حامی و مدد گار ہوتا تو وہ اس کی مدد اور معاونت طلب کرلیتے لیکن کوئی نہیں ہے۔ حضرت لوط جن مشکلات سے دو چار تھے اور جس پریشانی میں مبتلا تھے۔ اس میں ان کی نظروں سے وقتی طور پر یہ حقیقت اوجھل ہوگئی کہ وہ تو ایک مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ آیت پڑھی ، ایک حدیث میں فرمایا ، “ اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے وہ تو اس وقت بھی ایک مضبوط سارے کی پناہ میں تھے۔ ” غرض جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی پریشانی انتہاؤں کو چھونے لگی اور مصیبت کا دائرہ ان پر تنگ ہوگیا ، تو اس وقت اللہ کے رسولوں نے اپنا تعارف کرا دیا اور بتا دیا کہ وہ تو ایک نہایت ہی مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ خدائی قوت آپ کی پشت پر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

80 حضرت لوط نہایت پریشان ہوکر عاجزانہ انداز میں فرمانے لگے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلہ کی قوت ہوتی اور زور ہوتا یا میں کسی زور آور مددگار کی پناہ پکڑ لیتا یا کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا یعنی انتہائی اضطراب و پریشانی میں حضرت لوط کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ میرا کوئی کنبہ قبیلہ ہوتا تا کوئی طاقتور سہارا ہوتا اور ایسا کبھی کبھی گھبراہٹ میں ہوجایا کرتا ہے۔