Surat Hood

Surah: 11

Verse: 95

سورة هود

کَاَنۡ لَّمۡ یَغۡنَوۡا فِیۡہَا ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡیَنَ کَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴿۹۵﴾٪  8

As if they had never prospered therein. Then, away with Madyan as Thamud was taken away.

گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے ، آگاہ رہو مدین کے لئے بھی ویسی ہی دوری ہو جیسی دوری ثمود کو ہوئی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَا ... As if they had never lived there! This means it was as if they had not lived in their homes before that. ... أَلاَ بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ So away with Madyan as just as Thamud went away! They (Thamud) were their neighbors and they did not live far from the homes of the people of Madyan. They were similar in their disbelief and their highway robbery. They were also both Arabs.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

95۔ 1 یعنی لعنت، پھٹکار، اللہ کی رحمت سے محرومی اور دوری۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْہَا۝ ٠ ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَـمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۝ ٩٥ ۧ غنی وغَنَى في مکان کذا : إذا طال مقامه فيه مستغنیا به عن غيره بغنی، قال : كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا[ الأعراف/ 92] ( غ ن ی ) الغنیٰ غنی فی مکان کذا ۔ کسی جگہ مدت دراز تک اقامت کرنا گویا وہ دوسری جگہوں سے بےنیاز ہے ۔ قرآن میں ہے : كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا[ الأعراف/ 92] گویا وہ ان میں کبھی آبادہی نہیں ہوئے تھے ۔ بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٥ ( كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ) اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔ اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:95) کان لم یغنوا فیہا۔ (ملاحظہ ہو 1:68) ۔ بعدا۔ دوری۔ ہلاکت (نیز ملاحظہ ہو 11:44) ۔ بعدث۔ وہ تباہ ہوئی۔ اس پر لعنت ہوئی وہ دور ہوئی (باب سمع) بعد مصدر۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ سورة اعراف اور عنکبوت میں ہے کہ انہیں ” رجفہ “ یعنی زلزلے نے آدبایا اس لئے اخلب یہ ہے کہ پہلے ” صبحۃ “ (چنگھاڑ) یا سخت چیخ بلند ہوئی ہوگی اور پھر زلزلہ آیا ہوگا۔ آج بی ” مدین “ کے علاقے میں سینکڑوں میل تک جو پہاڑ پائے جاتے ہیں ان پر زلزلے کے آثار ہیں تمام پہاڑ اس طرح سے پھٹے ہوئے ہیں جیسے کسی زبردست زلزلے نے انہیں کھیل کھیل کردیا ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

95 اور ایسے مرے جیسے وہ لوگ کبھی ان گھروں میں بسے اور رہے ہی نہ تھے خوب سن لو اور عبرت حاصل کرو مدین بھی رحمت سے اسی طرح دور کئے گئے جس طرح ثمود رحمت سے دور کئے گئے تھے۔