Surat Hood

Surah: 11

Verse: 99

سورة هود

وَ اُتۡبِعُوۡا فِیۡ ہٰذِہٖ لَعۡنَۃً وَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴿۹۹﴾

And they were followed in this [world] with a curse and on the Day of Resurrection. And wretched is the gift which is given.

ان پر تو اس دنیا میں بھی لعنت چپکا دی گئی اور قیامت کے دن بھی برا انعام ہے جو دیا گیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأُتْبِعُواْ فِي هَـذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ... They were pursued by a curse in this (deceiving life of this world) and (so they will be pursued by a curse) on the Day of Resurrection. meaning, `We have made them to be followed by something more than the punishment of the Fire and that is their being cursed in this life.' ... وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ and on the Day of Resurrection, evil is the gift granted. Mujahid said, "Another curse will be added to them on the Day of Resurrection, so these are two curses." Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas said, بِيْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ (evil indeed is the gift granted). "The curse of this life and the Hereafter." Ad-Dahhak and Qatadah both said the same thing. This is similar to Allah's statement, وَجَعَلْنَـهُمْ أَيِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيـمَةِ لاَ يُنصَرُونَ وَأَتْبَعْنَـهُم فِى هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ القِيَـمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ And We made them leaders inviting to the Fire: and on the Day of Resurrection, they will not be helped. And We made a curse to follow them in this world, and on the Day of Resurrection, they will be among the despised. (28:41-42) Allah also says, النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ The Fire, they are exposed to it, morning and afternoon. And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir`awn's people to enter the severest torment!" (40:46)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

99۔ 1 لَعْنَۃ سے پھٹکار اور رحمت الٰہی سے دوری و محرومی ہے، گویا دنیا میں بھی وہ رحمت الٰہی سے محروم اور آخرت میں میں بھی اس سے محروم ہی رہیں گے، اگر ایمان نہ لائے۔ 99۔ 2 رِفْدً انعام اور عطیے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں لعنت کو رفد کہا گیا ہے۔ اسی لئے اسے برا انعام قرار دیا گیا مَرْفُوْد وہ انعام جو کسی کو دیا جائے۔ یہ الرفد کی تاکید ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً ۔۔ : یعنی آگ کے علاوہ انھیں یہ سزا بھی دی گئی کہ رہتی دنیا تک لوگ ان پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے اور قیامت کے دن ان پر جو پھٹکار پڑے گی اس کا حال تو معلوم ہی ہے۔ ان آیات میں فرعون کو صریح دوزخی بتایا گیا ہے، مگر بعض لوگوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے تصوف کے پردے میں وحدت الوجود کا عقیدہ ایجاد کیا اور کہا کہ ہر چیز ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہے، سو فرعون ” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى“ کہنے میں غلط نہ تھا۔ ان لوگوں کے نزدیک حسین بن منصور حلاج، جسے عام طور پر منصور کہتے ہیں، کامل ولی تھا، کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں خدا ہوں۔ وہ اصل حقیقت کو پا گیا تھا اور صاف کہتا تھا کہ ” أَنَا الْحَقُّ “ مگر اس وقت اسلام کے محافظ خلیفۂ وقت نے اس کفریہ عقیدے کے ثابت ہونے پر اسے سولی پر چڑھا دیا۔ ان وجودی ملحدوں کے کہنے کے مطابق وہ سولی پر چڑھ گیا، مگر حق کہنے سے باز نہ آیا۔ ایسے کفر یہ الفاظ اور عقیدے پر اللہ کی پھٹکار جس کے نتیجے میں خالق و مخلوق کا فرق ختم، جنت و دوزخ کا فرق ختم اور شریعت کا ہر حکم ہی ختم ہوجاتا ہے۔ جب کہا جائے کہ فرعون اپنی سرکشی کی پاداش میں سمندر میں غرق کردیا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ فرعون دراصل بحر توحید میں غرق تھا۔ غرض اس طرح کی صریح کفر کی باتیں جو صاف قرآن کے خلاف ہیں، کہتے ہیں، مگر مسلمانوں میں شامل رہنے اور انھیں گمراہ کرنے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں، حالانکہ یہ عقیدہ اس اسلام کے صریح مخالف ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آیا اور قرآن و حدیث کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس عقیدے کی رو سے نیکی و بدی، شرک و توحید، نکاح و زنا، غرض ہر اطاعت اور نافرمانی کا فرق ہی مٹ جاتا ہے اور انبیاء و رسل اور کتب الٰہیہ سب بےکار ٹھہرتے ہیں۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْعَقِیْدَۃِ الْمَلْعُوْنَۃِ ] قرآن مجید میں صراحت ہے کہ آل فرعون کو مرتے ہی آگ نے گھیر لیا اور قیامت کو وہ سخت ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ دیکھیے سورة مومن (٤٥، ٤٦) ۔ ” الرِّفْدُ “ کا معنی عطیہ،” الْمَرْفُوْدُ “ جو انھیں دیا گیا، یعنی دنیا اور آخرت میں لعنت کا عطیہ۔ لعنت کو عطیہ اور انعام بطور مذاق فرمایا ہے، جیسے فرمایا : ( فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) [ آل عمران : ٢١]” سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاُتْبِعُوْا فِيْ ہٰذِہٖ لَعْنَۃً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ۭ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ۝ ٩٩ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ رفد الرِّفْدُ : المعونة والعطيّة، والرَّفْدُ مصدر، والْمِرْفَدُ : ما يجعل فيه الرِّفْدُ من الطعام، ولهذا فسّر بالقدح، وقد رَفَدْتُهُ : أنلته بالرّفد، قال تعالی: بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ [هود/ 99] ( ر ف د ) الرفد ( ن ) اس کے معنی عطا اور مدد کے ہیں اور رفد مصدر ( ض ) ہے جس کے معنی مدد دینے اور عطا کرنے کے ہیں اور مرفد اس چیز کو کہتے ہیں ۔ جس میں عطیہ ڈال کردیا جائے عام طور پیالوں میں خیرات ڈال کردی جاتی ہے اس لئے معنی عطیہ دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ : بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ [هود/ 99] بہت ہی براعطیہ ہے جو انہیں دیا جائے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٩) اور اس دنیا میں بھی یہ غرق کے ذریعے ہلاک کیے گئے اور قیامت کے دن بھی۔ دوسری لعنت دوزخ کی ان پر مسلط رہے گی اور یہ غرق اور دوزخ بہت ہی برا بدلہ ہے جو ان کو دیا گیا یا یہ کہ یہ بہت بری معیت ہے اور یہ بہت ہی بری معیت کی جگہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:99) اتبعوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب اتباع (افعال) مصدر۔ ان کے پیچھے لگا دیا گیا۔ ان کا پیچھا کیا جاتا رہے گا۔ (ماضی بمعنی مضارع) لعنۃ۔ لعنت اور پھٹکار کے ساتھ ۔ یعنی ان پر لعنت بھیجی جاتی رہے گی۔ فی ھذہ۔ ای فی الدنیا۔ الرفد (باب نصر) کے معنی عطا اور مدد کے ہیں۔ رفد یرفد (باب ضرب) مدد دینا۔ عطا کرنا۔ مرفد اس چیز کو کہتے ہیں جس میں عطیہ ڈال کردیا جائے اسی بناء پر مرفد بمعنی پیالہ بھی آتا ہے۔ الرفد۔ عطیہ۔ انعام۔ بخشش۔ مدد۔ ارفاد۔ رفود۔ جمع۔ الموفود۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ عطا کی گئی ۔ انعام میں دی گئی۔ بئس الرفد المرفود۔ بہت ہی برا عطیہ ہے جو انہیں دیا جائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ یعنی آگے کے عذاب کے علاوہ ہم نے انہیں یہ سزا بھی دی کہ رہتی دنیا تک لوگ ان پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے اور قیامت کے دن ان پر جو پھٹکار پڑے گی اس کا حال تو معلوم ہی ہے۔ ان آیات میں فرعون کے دوزخی ہونے پر تنصیص کی ہے۔ شیخ اکبر (رح) کی بعض عبارتوں سے فرعون کو مومن ہونا مفہوم ہوتا ہے کہ مگر یہ عبارتیں مدسوس ہیں۔ ” فتوحات “ کے صحیح نسخے ان عبارتوں سے خالی ہیں بلکہ فتوحات کے باب 26 میں شیخ اکبر (رح) نے فرعون کے دوزخی ہونے کی تصریح کی ہے۔ (کذافی الروح وقد مرفی سورة یونس) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک تو توہین آمیر تبصرہ ہے۔ یوں کہ آگ کو تحفے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ محنت کا صلہ۔ یہ تھا تحفہ جو فرعون نے ان کو دیا۔ وہاں اس نے جادوگروں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو عظیم صلہ اور جزاء دے گا۔ یہ ہے اس کی دی ہوئی جزا اور انعام۔ یہ ہے اس کا عظیم انعام کیا ہی برا ہے وہ گھاٹ جس پر اس نے اپنی قوم کو اتارا اور کیا ہی برا ہے وہ صلہ جو اس نے اپنی قوم کو اس کی جانب سے اتباع پر دیا۔ یہاں قرآن کریم کا اسلوب بیان ایسا ہے کہ انسان عش عش کرنے لگتا ہے اور یہ ہے دراصل اعجاز اس کتاب عزیز جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو قرآنی اسلوب کا ذوق رکھتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

99 اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی اور قیامت کے دن بھی وہ بہت ہی برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یعنی لعنت ایسے پیچھے لگی کہ نہ دنیا میں ساتھ چھوڑا نہ آخرت میں یہاں بھی رحمت خداوندی سے محروم اور وہاں بھی محروم۔