Surat Yousuf
Surah: 12
Verse: 1
سورة يوسف
الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾
Alif, Lam, Ra. These are the verses of the clear Book.
الر ، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں ۔
الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾
Alif, Lam, Ra. These are the verses of the clear Book.
الر ، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں ۔
Qualities of the Qur'an Allah says: الر ... Alif-Lam-Ra. In the beginning of Surah Al-Baqarah we talked about the separate letters, Allah said, ... تِلْكَ ايَاتُ الْكِتَابِ ... These are the verses of the Book. in reference to the Clear Qur'an that is plain and apparent, and explains, clarifies and makes known the unclear matters. ... الْمُبِينِ that is clear. Allah said next, إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْانًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورۃ بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے ۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں ۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے ۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کر دینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے ، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں ، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں ، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے ؟ اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی واقعہ بھی بیان ہو جاتا تو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ ( اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23 ) 39- الزمر:23 ) اتری ۔ اور بات بیان ہوئی ۔ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ ، اس پر یہ آیتیں اتریں ، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر ( آیت اللہ نزل الخ ، ) اتری ۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی ۔ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے ۔ اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کر دینے والا ہے ۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کر دیں جس میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ سخت غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اسکی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں ۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو ۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو ۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بنو قریضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں ۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ؟ آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن ثابت نے کہا کہ اے عمر کیا تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے؟ اب حضرت عمر کی نگاہ پڑی تو آپ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہو نے پر ، اسلام کے دین ہو نے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو نے پر دل سے رضامند ہیں ۔ اب آپ کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر تم میں خود حضرت موسی ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہو جاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں ۔ ابو یعلی میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا ۔ اس نے کہا امیر المومنین میرا کیا قصور ہے؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جا ۔ میں بتاتا ہوں پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی ( آیتیں لمن الغافلین ) تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا ۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیرالمومنین میرا قصور کیا ہے آپ نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے ۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں ۔ میں کرنے کو تیار ہوں ، آپ نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے ۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا ۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے ۔ پھر فرمایا بیٹھ جا ، ایک بات سنتا جا ۔ میں نے جاکر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لئے ہوئے حضور علیہ السلام کے پاس آیا ۔ آپ نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں ۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہو گئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے ۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا ہے اور منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے ۔ اب آپ نے فرمایا لوگو میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں ۔ خبردار تم بہک نہ جانا ۔ گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں ۔ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے میں تو یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رب ہو نے پر ، اسلام کے دین ہو نے پر آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو نے پر دل سے راضی ہوں ۔ اب جو صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اس کے ایک روای عبدالرحمن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں ۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے ۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابو بکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں ۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے ۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ ۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خیبر گیا ۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں ۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں ۔ میں نے واپس آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا یہ کام پسند آگیا ۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا ۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو سخت ناراض ہیں ۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رواں رواں کھڑا ہوگیا ۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا ۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں ۔ چنانچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا ۔ یہ سنا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہو جائے ۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے ۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کر دیں ۔ مراسیل ابی داؤد میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے واللہ اعلم ۔
الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ :” الۗرٰ “ کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ” الْمُبِيْنِ “ ” أَبَانَ یُبِیْنُ “ باب افعال سے اسم فاعل ہے، لازم بھی آتا ہے، جیسے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ) [ البقرۃ : ١٦٨ ] ” بیشک وہ تمہارا کھلا (واضح) دشمن ہے۔ “ متعدی بھی، یعنی بیان کرنے والا، واضح کرنے والا۔ ” الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ “ یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے، یا جس کا اللہ کا کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔
Commentary With the exception of four verses, Surah Yusuf is wholly a Makki Surah. In this Surah, the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has been described with continuity and order. Then, the story of Sayyidna Yusuf appears in this Surah alone. It has not been repeated anywhere else in the whole Quran as such (with the exception of Surah Al-An’ am - 6:84 - and Surah Al-Mu&min or Ghafir - 40:34 - where only the name of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has been mentioned as a Messenger of Allah, in ap¬propriate context). This is particular with the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) otherwise the stories and events concerning all blessed prophets have been introduced in the entire Qur&an with great wisdom, part by part, and repeatedly too. The truth of the matter is that world history and past experiences teach human beings what to do with their lives in the future. These have a natural effect of their own which acts better on minds and hearts as compared to the pull of formal education. This effect is deeper and fairly effortless. Therefore, in the Holy Qur&an, which has been sent for all peo-ples of the world as their last testament, a marked portion of the entire history of the peoples of the world - a portion that serves as the master prescription for the betterment of the present and ultimate human condi¬tion - has been taken up electively and pragmatically. Furthermore, even this portion of world history has been introduced by the Holy Qur’ an, with its unique and inimitable style, in a manner that its read¬er simply does not get the impression that he or she was reading some book of history. In fact, whatever part of a certain story serves the need of driving home a lesson or tendering a good counsel on any given occa¬sion, it is just that part which finds mention in that setting. And should there be the need to allude to that particular part once again on some other occasion, it was repeated. Therefore, consideration was not given to sequential order in the narration of events in the story. At some places the earlier part of the story comes later, and the later part finds mention earlier. This special style of the Qur’ an carries a standing rule of guidance that reading or remembering world history and its past events is not an end by itself. Instead of that, the purpose of every human being should be to draw some lesson from every story and to cull and deduce some good advice from every information. It is well-known that the human speech is classified into two forms: Descriptive (khabar) and imperative (insha& ). According to the knowledgeable scholars, it is the later form (i.e. imperative) that is the essential ob¬jective. Description in itself is not an end. A wise man ought to learn an imperative from every description, and make use of it for correcting and reforming himself. That the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has been narrated in a se¬quence could be because historiography is a discipline. It has particular rules of guidance for its practitioners. For instance, the narration should not be so brief as to make its understanding impossible, nor should it be so long as would make reading and remembering it difficult - which be-comes clear from the Qur’ anic treatment of this story. According to some narrations, another reason for this could lie in what the Jews had said to the Holy Prophet|". To test him, they had asked him: If you are a true prophet, tell us why did the family of Ya` qub move from Syria to Egypt and what had actually happened to Yusuf (علیہ السلام) ? It was in answer to that that this whole story was revealed. It was a miracle of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and certainly a great proof of his pro¬phethood - for he was simply an Ummiyy, one who was not taught by anyone, who had never read a book and who had lived in Makkah practi¬cally his whole life, yet, he narrated all events mentioned in the Torah correctly. In fact, he told them of what was not mentioned in the Torah. There are many injunctions and instructions which emerge from these narrations which will appear later in this commentary. In the first of the set of verses cited above, the words: الٓرٰ ` Alif Lam Ra& are isolated letters (al-Huruf al-Muqatta at) of the Holy Qur&an. About these, it is the universal verdict of the majority of Sahabah and Tabi` in that they are a secret between Allah Ta’ ala, the speaker, and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the addressee - which a third person cannot understand, nor is it appropriate for one to exert and insist on finding it out. After that it was said: تِلکَ آیٰتُ الکِتٰبِ المُبِین (These are the verses of the en-lightening Book). That is, these are verses of the Book which delineate the delimitations and restrictions of what is lawful and unlawful, includ¬ing those of other things in all departments of human life, and thus gives people a simple, straight and moderate system of living, as promised in the Torah, and as already known to the Jews.
خلاصہ تفسیر : الرٰ اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک واضح کتاب کی (جس کے الفاظ اور معانی اولیہ بہت صاف ہیں) ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم (اہل زبان ہونے کی وجہ سے دوسروں سے پہلے) سمجھو (پھر تمہارے واسطے سے دوسرے لوگ سمجھیں) ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پہلے آپ (اس قصہ سے) بالکل بیخبر تھے (کیونکہ نہ آپ نے کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی معلم سے کچھ سیکھا تھا اور قصہ کی شہرت بھی ایسی نہیں تھی کہ عوام جانتے ہوں آغاز قصہ) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد (یعقوب علیہ السلام) سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں ان کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ بیٹا اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا (کیونکہ وہ خاندان نبوت میں سے ہونے کی وجہ سے اس خواب کی تعبیر جانتے ہیں کہ گیارہ ستارے گیارہ بھائی اور سورج والد اور چاند ماں ہے اور سجدہ کرنے سے مراد ان سب کا تمہارے لئے مطیع و فرمانبردار ہونا ہے) تو وہ تمہارے (ایذاء رسانی کے) لئے کوئی خاص تدبیر کریں گے (یعنی بھائیوں میں سے اکثر کیونکہ دس بھائی علاتی تھے ان سے خطرہ تھا صرف ایک بھائی حقیقی بنیامین تھے جن سے کسی خلاف کا تو اندیشہ نہ تھا مگر یہ احتمال تھا کہ انکے منہ سے بات نکل جائے) بلاشبہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (اس لئے بھائیوں کے دل میں وسوسے ڈالے گا) اور (جس طرح اللہ تعالیٰ تم کو یہ عزت دے گا کہ سب تمہارے تابع ومطیع ہوں گے) اس طرح تمہارا رب تم کو (دوسری عزت نبوت کیلئے بھی) منتخب کرے گا اور تم کو خوابوں کی تعبیر دے گا اور (دوسری نعمتیں دے کر بھی) تم پر اور اولاد یعقوب پر اپنا انعام کامل کرے گا جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے دادا ابراہیم واسحاق (علیہما السلام) پر اپنا انعام کامل کرچکا ہے واقعی تمہارا رب بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے معارف و مسائل : سورة یوسف چار آیتوں کے سوا پوری مکی سورة ہے اس سورة میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ تسلسل اور ترتیب کے ساتھ بیان ہوا ہے اور یہ قصہ صرف اسی سورة میں آیا ہے پورے قرآن میں دوبارہ اس کا کہیں ذکر نہیں یہ خصوصیت صرف قصہ یوسف (علیہ السلام) ہی کی ہی ورنہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصص و واقعات پورے قرآن میں خاص حکمت کے تحت اجزاء اجزاء کر کے لائے گئے ہیں اور بار بار لائے گئے، حقیقت یہ ہے کہ تاریخ عالم اور ماضی کے تجربات میں انسان کی آئندہ زندگی کے لئے بڑے سبق ہوتے ہیں جن کی قدرتی تاثیر کا رنگ انسان کے قلب و دماغ پر عام تعلیمات سے بہت زیادہ گہرا اور بےمحنت ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم جو تمام اقوام عالم کے لئے آخری ہدایت نامہ کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے اس میں پوری اقوام عالم کی تاریخ کا وہ منتخب حصہ لے لیا گیا ہے جو انسان کے حال اور مال کی اصلاح کے لئے نسخہ کیمیا ہے مگر قرآن کریم نے تاریخ عالم کے اس حصہ کو بھی اپنے مخصوص وبے مثال انداز میں اس طرح لیا ہے کہ اس کا پڑھنے والا یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ کہ کوئی تاریخ کی کتاب ہے بلکہ ہر مقام پر جس قصہ کا کوئی ٹکڑا عبرت وموعظت کیلئے ضروری سمجھا گیا صرف اتنا ہی حصہ وہاں بیان کیا گیا اور پھر کسی دوسرے موقع پر اس حصہ کی ضرورت سمجھی گئی تو پھر اس کا اعادہ کردیا گیا اسی لئے ان قصوں کے بیان میں واقعاتی ترتیب کی رعایت نہیں کی گئی بعض جگہ قصہ کا ابتدائی حصہ بعد میں اور آخری حصہ پہلے ذکر کردیا گیا ہے اس خاص اسلوب قرآنی میں یہ مستقل ہدایت ہے کہ دنیا کی تاریخ اور اس کے گذشتہ واقعات کا پڑھنا یادرکھنا خود کوئی مقصد نہیں بلکہ انسان کا مقصد ہر قصہ وخبر سے کوئی عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہونا چاہئے، اسی لئے بعض اہل تحقیق نے فرمایا کہ انسان کے کلام کی جو دو قسمیں خبر اور انشاء مشہور ہیں ان دونوں قسموں میں سے مقصود اصلی انشاء ہی ہے خبر بحیثیت خبر کبھی مقصود نہیں ہوتی بلکہ دانشمند انسان کا مقصد ہر خبر اور واقعہ کو سننے اور دیکھنے سے صرف اپنے حال اور عمل کی اصلاح ہونی چاہئے، حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ کو ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تاریخ نگاری بھی ایک مستقل فن ہے اس میں اس فن والوں کے لئے خاص ہدایات ہیں کہ بیان میں نہ اتنا اختصار ہونا چاہئے جس سے بات ہی پوری نہ سمجھی جاسکے اور نہ اتنا طول ہونا چاہئے کہ اس کا پڑھنا اور یاد رکھنا مشکل ہوجائے جیسا کہ اس قصہ کے قرآنی بیان سے واضح ہوتا ہے، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ یہود نے آزمائش کیلئے آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہمیں بتلائیے کہ آل یعقوب ملک شام سے مصر کیوں منتقل ہوئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ کیا تھا ؟ ان کے جواب میں بذریعہ وحی یہ پورا قصہ نازل کیا گیا جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ اور آپ کی نبوت کا بڑا شاہد تھا کہ آپ امی محض تھے اور عمر بھر مکہ میں مقیم رہے کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کوئی کتاب پڑھی پھر وہ تمام واقعات جو تورات میں مذکور تھے صحیح صحیح بتلا دیئے بلکہ بعض وہ چیزیں بھی بتلا دیں جن کا ذکر تورات میں نہ تھا اور اس کے ضمن میں بہت سے احکام و ہدایات ہیں جو آگے بیان ہوں گی سب سے پہلی آیت میں حروف الٰر ٰمقطعات قرآنیہ میں سے ہیں جن کے متعلق جمہور سلف صحابہ وتابعین کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ متکلم اور مخاطب یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان ایک راز ہے جس کو کوئی تیسرا آدمی نہیں سمجھ سکتا اور نہ اس کے لئے مناسب ہے کہ اس کی تحقیق کے درپے ہو۔ (آیت) تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ یعنی یہ ہیں آیتیں اس کتاب کی جو احکام حلال و حرام اور ہر کام کی حدود وقیود بتلا کر انسان کو ہر شعبہ زندگی میں ایک معتدل سیدھا نظام حیات بخشی ہیں جن کے نازل کرنے کا وعدہ تورات میں پایا جاتا ہے اور یہود اس سے واقف ہیں
الۗرٰ ٠ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ١ ۣ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو
(١) الر۔ میں اللہ ہوں جو کچھ تم کہہ رہے ہو اور کر رہے ہو میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ تمہارے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں وہ میرا کلام ہے یا یہ کہ قسم ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے کھائی ہے۔
(الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ) یہ اس کتاب روشن کی آیات ہیں جو اپنا مدعا واضح طور پر بیان کرتی ہے اور کوئی ابہام باقی نہیں رہنے دیتی۔
(12:1) الرا۔ الف لام را۔ حرف مقطعات ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2:1) تلک۔ اسم اشارہ بعید ہے واحد مؤنث۔ اصل میں اسم اشارہتی ہے لام اس پر زیادہ کیا گیا ہے اور ک حرف خطاب ہے۔ جس کے حسب احوال مخاطب تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیہ میں گردان ہوتی رہتی ہے۔ یہاں مراد وہ آیات ہیں جو اس سورة میں ہیں۔ الکتب المبین۔ موصوف صفت۔ واضح کتاب۔
ف 2 ۔ کھلی کتاب یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے یا جس کا خدائی کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔ (روح) ۔
آیات ١ تا ٦ اسرار و معارف الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔ یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔ زبانوں میں تقدس مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے اپنی زبان دانی پہ بڑاناز تھا دعوت فکردی ہے کہ یہی آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان تھی اور علماء تفسیر وحدیث کے مطابق یہی زبان اللہ نے اپنے ارشادات کے لئے چن لی اسی زبان میں حساب وکتاب بھی ہوگا اور یہی اہل جنت کی زبان بھی ہے مگر اس کے علاوہ کسی زبان میں نہ تو کوئی تقدس ہے اور نہ کراہت کہ زبان محض اظہار تمنا کا ذریعہ ہے اور جتنی کثرت سے زبانیں سیکھی جائیں ، اتنی زیادہ دینی تبلیغ بھی ہوسکتی ہے کہ نماز اذان اور خطبات تو عربی زبان میں ضروری ہیں لیکن تفسیر حدیث اور فقہ کو ہر زبان میں پھیلا نا اور ہر جگہ پہنچانا ضروری ہے ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن صرف عربی متن ہی کو کہا جائے گا جو منزل من اللہ ہے ۔ اس کی شرح وتفسیرعربی میں بھی ہو تو تفسیر وشرح ہی کہلائے گی اور ترجمہ کسی بھی زبان میں ہو وہ ترجمہ ہوگا اسے پڑھنے سے آدمی مفہوم تو سمجھ سکتا ہے تلاوت کا اجر نہیں پاسکتا جیسے بعض لوگ صرف انگریزی یا اردو تراجم پڑھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ قرآن کی تلاوت لی یہ درست نہ ہوگا۔ واقعات عالم کا حسن فرمایا ، ہم آپ کو ایک خوبصورت قصہ سناتے ہیں اور قرآن کریم یعنی اپنے ذاتی کلام میں بیان فرماتے ہیں کہ ہمیشہ یہ قصہ پڑھاپڑھا یا اور دہرایاجاتا رہے تلاوت و تفسیر میں بھی نماز و عبادت میں بھی اور وعظ وتقریر میں بھی ۔ عجیب بات ہے کہ اللہ کے دومحبوب پیغمبر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) مدتوں پریشان رہے ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے روروکربنیائی کھودی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کنویں میں پھینکے گئے سربازار نیلام ہو کر غلام کہلائے اور پہنتان لگا کرمدت تک قیدخانے میں ڈال دیئے گئے گھر سے دور محبت کرنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل اور بھائی جو انسان کا فخر اور طاقت ہوتے ہیں ان کے لئے دکھ اور ایذا کا سبب بن گئے مگر اللہ فرماتا ہے آپ کو ایک خوبصورت قصہ سناتا ہوں اور قرآن میں سناتا ہوں کہ ہمیشہ شب وروز اس کی گونج مساجد سے لے کر گھروں تک اور عبادت سے لے کر تلاوت تک آتی ہی رہے ۔ تو بھلا اس میں کیا حسن ہے ؟ اس میں اللہ کے بندوں کا اللہ سے تعلق کیا ہوتا ہے ؟ اور کس درجہ کا ہوتا ہے اس کا اظہار ہے اور فرشتوں کو جو فرمایا تھا کہ انسان کس غضب کا طالب بنے گا یہ صرف میں جانتا ہوں اس کی تکمیل ہے کہ آؤدیکھو ! کتنے دکھی ہیں اور کس قدرمصائب میں گھر گئے ہیں مگر جو گھر میں تڑپتا ہے وہ بھی اپنی فریاد صرف مجھ سے کرتا ہے اور جو کنویں کی تاریکی میں گرتا ہے وہ بھی صرف میرانام لیتا ہے نہ صرف راحت بلکہ آنے والا ہر دکھ اللہ ان کے عشق کی تاریکی میں گرتا ہے وہ بھی صرف میرانام لیتا ہے نہ صرف راحت بلکہ آنے والا ہر دکھ اللہ سے ان کے عشق کی آگ کو ہوا دیتا ہے اور مزید بھڑکاتا ہے جیسے حضرت ہاجرہ (رض) کے قصہ میں گزرچکا کہ وہ بتیابیاں اللہ کو اس قدربھائیں کہ ہر حاجی پر صفاومروہ کی سعی واجب کردی تو ہر واقعہ کا حسن اس کا وہ نتیجہ ہے جو اللہ قریب کردے ۔ آپ بظاہر تو ان واقعات سے اصلا بیخبر تھے نہ کوئی کتاب پڑھی نہ کسی قصہ گو سے سنانہ کہیں ایسی مجالس میں بیٹھے لہٰذا اس بات کو اتنی وضاحت سے بیان کرنا بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کے نزول کی تصدیق ہے ۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد بزرگوار سے خوب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے گیا رہ ستارے اور چاند سورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ خواب کیا ہوتے ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ ایک وسیع علم ہے اور خواب کی تعبیر کا علم بھی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر من جانب اللہ نازل فرمایا گیا جس کے متعدد پہلے ہیں ۔ خواب کی حقیقت اور اس کی اقسام خواب کی حقیقت علما کے نزدیک اتنی ہے کہ نیند کی حالت میں جب نفس انسانی ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی قوت خیالیہ اپنی اصل یعنی عالم امر کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس کے باعث کچھ صورتیں اسے نظرآجاتی ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے اس کی صورت مثالی عالم امثال میں موجود ہوتی ہے ۔ پھر اس کی تین قسمیں ہیں اول یہ کہ اس ک قوت خیال انہی صورتوں میں الجھ جائے جو دن بھر دیکھتا یاسوچتارہا ہے یعنی اپنا ہی نفس اسے کچھ دکھا نے لگے ۔ دوم یہ کہ شیطن کچھ صورتیں متشکل کرکے اسے پیش کردے۔ یہ دونوں صورتوں میں باطل ہوتی ہیں اور تیسری صورت یہ کہ اس کی قوت خیال واقعی کسی حقیقی صورت حال کو دیکھ لے۔ یہ حق ہوتی ہے بشرطیکہ پہلی دوصورتوں کا اثر اس میں نہ پایاجائے ورنہ وہ اسے بھی گڑمڈ کردیتا ہے۔ اگر یہ تیسری صورت درست بھی ہو تو بعض اوقات ایسی امثال نظر آتی ہیں جن کی تعبیر کا باقاعدہ علم ہے جو انبیاء پر نازل فرمایا گیا مگر اس کا مدار طبائع انسانی پر ہوتا ہے کہ جو کچھ من جانب اللہ خواب میں دکھایا جاتا ہے اس میں کمزورطبائع کے خیالات فاسدہ شامل ہو کر اکثراوقات تعبیر بھی مشکل بنادیتے ہیں لیکن انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام چونکہ مزاج بہت مضبوط اور قوی رکھتے ہیں اور خطا سے پاک ہوتے ہیں لہٰذا ان کا خواب بھی وحی کا درجہ رکھتا ہے اہمیشہ سچا ہوتا ہے مگر تعبیر کی ضرورت رکھتا ہے جیسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب دیکھا کہ خدام کے ہمراہ عمرہ ادا فرما رہے ہیں مگر جب تشریف لے گئے تو حدیبیہ سے لوٹنا پڑا حالانکہ اللہ نے تصدیق فرمائی کہ آپ کا خواب سچا ہے مگر ابھی وقت نہیں آیا چناچہ دوسرے سال عمرہ ادا فرمایا اور پھر مکہ فتح ہی ہوگیا ۔ اور بعض اوقات اللہ کفار کو بھی سچے خواب دکھادیتے ہیں یافاسق وفاجر بھی دیکھ سکتا ہے بہرحال کسی کا خواب بجزنبی کے حجت نہیں اور اگر براخواب آئے تو لاحول پڑھ کر اسے جھٹک دے اگر اچھا ہو تو اللہ کا شکرکرے مگر عمل ظاہری حالات کے مطابق کرے یہ صحیح صورت ہے۔ چنانچہ جب یوسف (علیہ السلام) نے خواب بیان فرمایا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تعبیر یہ دی کہ اللہ کریم تم پر بہت بڑا احسان فرمائے گا اور اپنی نعمت تمام کرے گا کہ دینی اعتبار سے نبوت آخری منزل ہے اور دنیا کے اعتبار سے سلطنت تو اللہ کریم کو نبوت بھی دے گا جیسا کہ آپ کے آباواجداد کو عطافرمائی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو۔ اور سورج چاند ستاروں کے جھکنے سے مراد دنیا کی ریاست و غلبہ اور حکومت وسلطنت بھی ہے یہ بھی آپ کو نصیب ہو کر آل یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے لئے سرمایہ افتخاربنے گی اور اللہ آپ کو علم تعبیر بھی عطافرمائے گا۔ یہ آپ نے غالبا اس لئے اندازہ فرمالیا کہ یہ علم حضرت ابراہیم حضرت اسحاق (علیہما السلام) اور خود آپ کے پاس بھی تھا تو جیسے شرف نبوت ان کی نسل میں نصیب ہورہا ہے وہ اس کا حامل ضرور ہوگا کہ تیرا پروردگار ہر شے کا علم رکھنے والا اور دانا تر ہے۔ نعمت کا اظہار ہر کسی سے نہ کیا جائے لیکن ایک بات یادرکھنا اور وہ یہ کہ اس کا تذکرہ اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ انھیں ابلیس بہکا کر حسد میں مبتلا کردے اور وہ تمہیں نقصان پہنچائیں ۔ یہاں دو باتیں ثابت ہیں کہ اول تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی نہ تھے ۔ جیسا کہ بعض کا خیال کہ نبی معصوم ہوتے ہیں اور ایسی باتیں ان سے سرزد نہیں ہوتیں اور دوسرے یہ کہ نعمت کا اظہار ہر کسی سے نہ کیا جائے۔ یہی نصیحت سالکین کے لئے مشعل راہ ہے کہ جو منازل نصیب ہوں ان کا تذکرہ ہر کسی سے نہ کریں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائیوں میں ایک سگا تھا اور باقی سب کی والدہ الگ تھی تو یہ بھی حسد کا ایک سبب بب جاتا ہے لہٰذا یعقوب (علیہ السلام) نے منع فرمادیا کہ اس میں آپ کی عظمت وشان کا اظہار ہے کہیں ایسانہ ہو کہ انھیں شیطان بہکائے اور وہ آپ کو نقصان پہنچانے پہ تل جائیں کہ بہرحال یہ تو انسانیت کا دشمن ہے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ دشمنی کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ تو یہ بھی ظاہر ہوا کہ کسی کے شر سے بچانے کے لئے اگر دوسرے کو اس کی عادت سے آگاہ کیا جائے تو یہ غیبت نہ ہوگی بلکہ جائز ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 تلک (یہ۔ (اسم اشارہ) ۔ مبین (واضح۔ روشن) قران (بہت پڑھا جانے والا ) لعل (شاید۔ توقع) نقص (ہم بیان کرتے ہیں) احسن القصص (قصوں میں بہترین) اوحینا (ہم نے وحی بھیجی) ان کنت (اگرچہ تو تھا) الغفلین (غافل) ۔ بیخبر تشریح :- آیت نمبر 1 تا 3 سورة یوسف بارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اس میں عبرت و نصیحت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کے لاتعداد پہلوؤں کے ساتھ ان کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف ، ان کے والدین اور رشتہ دار فلسطین سے مصر کیسے پہنچے اہل عرب اس سے ناواقف تھے۔ خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کبھی اس واقعہ کو بیان نہیں فرمایا۔ کفار مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ کسی موقع پر کفار مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آزمانے کے لئے پوچھا کہ آخر وہ کونسی مجبوری تھی جس کی بنا پر حضرت یعقوب اور حضرت یوسف فلسطین سے مصر آئے تھے اور وہیں آباد ہوگئے تھے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ والے تو اس واقعہ سے ناواقف تھے یہودیوں نے ان کو یہ بات سکھائی کہ ان سے یوسف کا واقعہ پوچھئے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پورے واقعہ پر مطلع فرمایا۔ حضرت یوسف کا پورا واقعہ بائبل میں موجود ہے لیکن اگر قرآن کریم اور بائبل کا مطالعہ کیا جائے تو یہ فرق بالکل واضح ہو کر سامنے آجائے گا کہ بائبل میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وہ حسن و عشق کی ایک داستان لگتی ہے جب کہ قرآن کریم نے واقعاتی انداز سے ہٹ کر عبرت و نصیحت کے ان لاتعداد پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جن سے اخلاق انسانی کی اصلاح اور حضرت یوسف کی پاک دامنی اجاگر ہو کر سامنے آتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی اور حضرت یوسف کی زندگی سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ : (1) جس طرح حضرت یوسف کے بھائیوں نے حسد اور بغض کی بنا پر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں اور ان کو والد کی نظروں سے دور کرنے کے لئے ایک اندھے کنوئیں میں ڈال کر وہ مطمئن ہوگئے تھے کہ اب ان کے والد کی پوری توجہ ان کی طرف رہے گی اور چند ٹکوں کے عوض انہوں نے اپنے بھائی کو فروخت کردیا تھا مگر حضرت یوسف نے نہایت صبر و استقلال اور عزم و ہمت سے مشکل حالات میں صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ اسی طرح کفار مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حسد کی آگ میں جل کر ایسی ایسی تکلیفیں پہنچائیں کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ نہایت صبر و تحمل سے ناخوشگوار اور اذیت ناک حالات کو برداشت کیا اور آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ (2) جب حضرت یوسف ہزاروں تکلیفیں برداشت کرنے کے بعد تیس سال کی عمر میں مصر کے بادشاہ بنا دیئے گئے اور ہر طرح کی دنیاوی طاقت و قوت آپ کے ہاتھ میں آگئی تب آپ نے پیغمبرانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہئے اپنے سوتیلے بھائیوں سے کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیا بلکہ انہوں نے یہ کہہ کر سب کو معاف کردیا ” لاتثریب علیکم الیوم “ کہ تم سے آج کسی بات کا بدلہ نہیں لیا جائے گا اور حضرت یوسف نے ان کے ظلم و ستم کو نظر انداز کر کے عفو و کرم کا معاملہ فرمایا۔ اسی طرح فتح مکہ کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے جزیرۃ العرب کے بلاشرکت غیرے حاکم اعلیٰ ہوچکے تھے اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں سے خون اور ظلم و ستم کا بدلہ لینے کے بجائے رحم و کرم اور عام معافی کا اعلان فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے حاسد بھائیوں کو ان کے ظلم و ستم کا بدلہ لینے کے بجائے رحم و کرم اور عام معافی کا اعلان فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے حاسد بھائیوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کردیا تھا میں بھی یہی کہتا ہوں کہ ” اذھبوا وانتم الطلقاء لاتثریب علیکم الیوم “ کہ جاؤ تم سب میری طرف سے آزاد ہو کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ 3) جس طرح حضرت یوسف کی طرف سے عام معافی کے بعد ان کو اس خواب کی تعبیر مل گئی کہ چاند سورج اور گیارہ ستارے ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کفار مکہ کے لئے عام معافی مل جانے کے بعد دشمنان اسلام کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں پر گرنا پڑا۔ غرضیکہ حضرت یوسف اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں بڑی مناسبت و مشابہت ہے جس کو قرآن کریم نے ایک اچھوتے اور نرالے انداز سے پیش فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف کی آیات نازل فرما کر کفار مکہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھا دی ہے کہ جس طرح برادران یوسف نے بغض و حسد کر کے اپنے بھائی کو رسوا کرنا چاہا لیکن اللہ نے اسی شر میں سے خیر کو پیدا فرما کر ان کو عزت و عظمت کی سربلندیوں تک پہنچا دیا تھا اسی طرح وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر سے مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہو کر تمام عزت و عظمت کی بلندیوں پر پہنچیں گے اور کفار مکہ ذلیل اور رسوا ہو کر آپ کے قدموں کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔ تاریخ کے صفحات اور قرآن کریم کی آیات گواہ ہیں کہ اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہزاروں پریشانیوں اور مشکلات کے باوجود دنیاوی اعتبار سے بھی اعلیٰ ترین مقام عطا فرمایا ہے۔ زیر مطالعہ سورة یوسف کی تینوں آیات میں کچھ الفاظ کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے تاکہ وہ الفاظ جن سے سورت شروع کی جا رہی ہے واضح ہوجائیں۔ حروف مقطعات :- اس سورت کو ” الم “ سے شروع کیا گیا ہے جیسے کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ان جیسے حروف کو مقطعات کہتے ہیں۔ معنی سے کٹے ہوئے یا علیحدہ علیحدہ پڑھے جانے والے حروف۔ ان کے کیا معنی ہیں ان کے متعلق مفسرین یہی ایک بات لکھتے ہیں کہ ” اللہ اعلم بمرادہ بذالک “ اللہ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے ؟ ممکن ہے ان حروف کے معنی ہوں جن کا علم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہو لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ تو ان کے معانی بیان فرمائے ہیں اور نہ صحابہ کرام نے آپ سے پوچھا۔ ہمیں صحابہ کرام کی طرح اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ ان حروف کی مراد سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی بہتر طور پر واقف ہیں۔ کتاب مبین :- قرآن کریم کی بہت سی صفات بیان فرمائی گئی ہیں اور اس کو متعدد جگہ ” کتاب مبین، آیات مبین “ فرمایا گیا ہے مراد یہ ہے کہ یہ قرآن کریم اپنے معانی میں اس قدر واضح اور کھلا ہوا ہے جس میں کوئی فلسفیانہ یا منطقی انداز نہیں ہے۔ کھلی کتاب زندگی ہے جو چاہے اس کو پڑھ کر اپنی ہدایت کا سامان کرسکتا ہے۔ نہ اس کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہے اور نہ عمل کرنے میں اگر۔ پوری طرح دھیان دیا جائے اور توجہ کی جائے تو اس کو سمجھنا اور اس پر بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات کے مطابق عمل کرنا نہایت آسان ہے۔ قرآن عربیا :- اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو عربی جیسی عظیم الشان زبان میں نازل کیا ہے جو اللہ کے کلام کے لئے نہایت موزوں اور اعلیٰ ترین زبان ہے۔ دوسرے یہ کہ اس قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب اہل عرب ہیں۔ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے جو تمہاری اپنی زبان ہے۔ جس کے کسی لفظ کے سمجھنے میں اہل عرب کے لئے کوئی دشواری نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ قرآن کریم صرف اہل عرب کے لئے ہے دوسروں کے لئے نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے قرآن کریم وہ کتاب ہے جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔ جس کو عربی جیسی عظیم اور محترم زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ اب یہ پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پاک کو ساری دنیا تک پہنچائیں اور اس کی عربیت کا خیال رکھیں۔ اسی بنا پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں عطا کی جائیں گی۔ ہر حرف پر دس نیکیاں ” عربیت “ میں پوشیدہ ہیں اس کے ترجمے میں نہیں۔ اگر اس کا ترجمہ کسی بھی زبان میں کیا جائے گا تو بیشک اس ترجمہ کا پورا پورا ثواب عطا کیا جائے گا لیکن ترجمے کے حروف پر دس نیکیوں کا وعدہ نہیں فرمایا گیا۔ اسی علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کریم کا صرف ترجمہ شائع کیا جائے اور اس کے ساتھ قرآن کریم کے عربی الفاظ و آیات نہ ہوں تو محض کسی زبان میں صرف ترجمہ پڑھنا اور ایسے ترجمے والے قرآن کو رکھنا حرام ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ الفاظ قرآن لکھے ہوں پھر ان کا ترجمہ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آج کل بعض لوگ جو اپنے خیال میں بہت عقل مند اور ترقی پسند بنتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ الفاظ قرآن کے بغیر ترجمہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن میں ان لوگوں سے یہی عرض کروں گا کہ اگر یہ طریقہ اختیار کرلیا گیا تو اس سے اللہ نہ کرے قرآن کریم کا بھی وہی حشر نہ ہو جو بائبل کا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کا محض ترجمہ شائع کیا اور آج اصل کتاب ہی دنیا سے ناپید ہوچکی ہے نہیں معلوم کہ جس کتاب کو بائبل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ وہی اصل بائبل ہے یا لوگوں نے اپنے طور پر کچھ ترجمہ گھڑ کر اس کو اللہ کی کتاب کے طور پر پیش کردیا ہے۔ یہاں تک سنا ہے کہ ہر پادری کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کتاب میں وقت کے تقاضوں کے تحت تبدیلیاں کرسکتا ہے۔ بہرحال قرآن کریم کے ساتھ اس طرح کے انداز کا اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ احسن القصص :- واقعات میں واقعہ یوسف کو سب سے خوبصورت اور حسین واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیت ہے کہ قرآن کریم میں کسی واقعہ کو اس طرح بیان نہیں فرمایا گیا۔ بارہ رکوعوں پر مشتمل ایک مکمل سورت میں سوائے حضرت یوسف کے واقعہ کے اور کسی کا واقعہ بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن اس پوری سورت میں اس کو ایک واقعاتی ترتیب یا قصے کہانی کے طور پیش نہیں کیا گیا بلکہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں عبرت و نصیحت کے ہر پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف کی عین جوانی اور شباب کا دور ہے۔ ہر طرف سے بیگمات مصر ان کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہیں لیکن اللہ نے ان کو کس طرح پاک دامن رکھا یہ واقعہ ساری دنیا کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ وحی کے ذریعہ :- اس واقعہ کا مکہ والوں کو پہلے سے علم نہیں تھا مگر اللہ نے وحی کے ذریعے اس واقعہ کو بیان کر کے اس کے ہر پہلو کو وضاحت سے پیش فرمایا ہے۔
فہم القرآن اآرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان کا حقیقی معنیٰ اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ عرب دانشوروں کا طریقہ تھا کہ شاعر اور ادیب اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے ” طرح مصرعہ کے طور پر “ چند الفاظ کہتے جس کا مفہوم بیان کرنا ضروری خیال نہیں کرتے تھے۔ اسی روایت کے پیش نظر صحابہ (رض) نے اس کا معنیٰ جاننے اور اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حروف مقطعات کا مفہوم بتلانے کی ضرورت محسوس فرمائی۔ کیونکہ اس کا دین کی تفہیم اور عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ ورنہ آپ اس کا مفہوم ضرور بیان فرماتے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ یعنی ایسی کتاب جس نے حق و باطل کے درمیان حدِّ فاصل قائم کردی ہے۔ اس کے احکام اور ارشادات بالکل غیر مبہم ہیں۔ اسے رب ذوالجلال نے واضح اور عربی زبان میں نازل فرمایا ہے تاکہ تم عقل و فکر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کتاب اہل عرب کے لیے ہی نازل کی گئی ہے۔ بلکہ اس فقرے کا اصل مدعا یہ ہے کہ ” اے اہل عرب، تمہیں یہ باتیں کسی یونانی یا ایرانی زبان میں تو نہیں سنائی جا رہی ہیں، یہ تمہاری اپنی زبان میں ہیں، لہٰذا تم یہ عذر نہیں پیش کرسکتے کہ اس کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں، اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اس کتاب میں اعجاز کے جو پہلو ہیں جو کلام الٰہی ہونے کی شہادت دیتے ہیں، وہ تمہاری نگاہوں سے پوشیدہ رہ جائیں۔ “ بعض لوگ قرآن مجید میں اس طرح کے فقرے دیکھ کر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کتاب تو اہل عرب کے لیے ہے، غیر اہل عرب کے لیے نازل ہی نہیں کی گئی ہے، پھر اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت کیسے کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ محض ایک سرسری سا اعتراض ہے جو حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیے بغیر جڑ دیا جاتا ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے جو چیز بھی پیش کی جائے گی وہ بہر حال انسانی زبانوں میں سے کسی ایک زبان ہی میں پیش کی جائے گی۔ اس کے پیش کرنے والے کی کوشش ہوگی کہ پہلے اس قوم کو متاثر کرے جس کی زبان میں کتاب نازل کی گئی ہے اس کے بعد پھر وہ قوم دوسری قوموں تک اس تعلیم کے پہنچانے کا وسیلہ بنے۔ یہی ایک فطری طریقہ ہے کسی دعوت و تحریک کے بین الاقوامی پیمانے پر پھیلنے کا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ کو قرآن کی زبان میں بہترین واقعہ سناتے ہیں جسے آپ پہلے سے نہیں جانتے۔ واقعہ کی اہمیت اور اس کے محکم اور سچا ہونے کے لیے چھ الفاظ استعمال فرمائے تاکہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اس کی حقیقت تک پہنچ سکے۔ ١۔ ” تِلْکَ “ عربی زبان میں دور کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس زمانے میں اہل علم کا یہ طریقہ تھا کہ جب کسی عظیم چیز یا واقعہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا بالخصوص جو چیز یا واقعہ سامع کے احاطۂ شعور میں ہوتا۔ اس کی یاد دہانی کے لیے دور کا اشارہ استعمال کرتے تاکہ سننے والا اس کی اہمیت کا فی الفور احساس کرے۔ لہٰذا اس احساس کو اجاگر کرنے کے لیے ارشاد ہوتا ہے۔ کہ یہ وہی کتاب ہے۔ جس کا تذکرہ تورات، انجیل اور زبور میں پڑھتے ہو۔ ٢۔ یہ واقعہ قرآن مجید کے الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے۔ جس کی آیات بالکل واضح اور اس کا مفہوم غیر مبہم ہے۔ ٣۔ اسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ کسی سے سنا ہے اور نہ پڑھا ہے بلکہ اسے رب ذوالجلال نے آپ پر نازل فرمایا ہے۔ کلام میں رعب پیدا کرنے اور اسے سچ ثابت کرنے کے لیے ایک ہی آیت میں دو مرتبہ ’ ہم ‘ کی ضمیر استعمال فرمائی ہے۔ ٤۔ قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا۔ جو قواعد و ضوابط، فصاحت و بلاغت اور اثر انگیزی کے اعتبار سے دنیا کی تمام زبانوں سے جامع اور موثر زبان ہے۔ نزول قرآن کے وقت دنیا میں سب سے زیادہ یہی زبان بولی اور لکھی جاتی تھی۔ لسانیات کے حوالے سے اب بھی عربی زبان پوری دنیا میں اپنی نظیر آپ ہے۔ ٥۔ قرآن مجید میں مختلف اقوام اور بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موقعہ محل کے مطابق بیان ہوئے ہیں۔ لیکن جس ترتیب کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ شروع سے آخر تک بیان ہوا ہے یہ ترتیب کسی اور واقعہ میں نہیں پائی جاتی۔ اس لیے اس کے آغاز میں فرمایا ہے کہ ہم اس واقعہ کو بہترین انداز میں بیان کررہے ہیں۔ یہاں بھی جمع متکلم کی ضمیر دوبارہ استعمال فرمائی ہے۔ تاکہ سننے والے کو کامل یقین ہوجائے کہ اسے بیان کرنے والا کوئی عربی یا عجمی شخص نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ ٦۔ واقعہ کی سچائی اور اس کی اسنادی قوت میں مزید اضافہ کرنے کے لیے آخر میں پھر فرمایا کہ ہم ہی واقعہ کو بیان کرنے اور اس قرآن کو نازل کرنے والے ہیں۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس کے ذکر سے پہلے بالکل اس سے ناآشنا تھے۔ مسائل ١۔ قرآن مجید ایک واضح کتاب ہے۔ ٢۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا۔ ٣۔ کلام اللہ کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ ٤۔ قرآن مجید میں بہترین واقعات موجود ہیں۔ ٥۔ قرآن کریم کے نزول سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان واقعات سے بیخبر تھے۔ ٦۔ وحی الٰہی سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بیخبر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف : ١۔ قرآن مجید کی آیات واضح ہیں۔ (یوسف : ١) ٢۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں۔ (ھود : ١) ٣۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : ١٧٤) ٤۔ قرآن کریم لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٥۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : ١٣٨) ٦۔ قرآن مجیدلاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : ٢) ٧۔ قرآن مجیددلوں کے لیے شفا ہے۔ (یونس : ٥٧) ٨۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٢) ٩۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : ٩) ١٠۔ جن و انس مل کر اس قرآن جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : ٨٨) ١١۔ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ (البقرۃ : ١٨٥) ١٢۔ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ (القدر : ١)
سورة پر ایک نظر کا بقیہ حصہ : فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (٦٣) قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلا كَمَا أَمِنْتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِنْ قَبْلُ فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (٦٤) وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ (٦٥) قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلا أَنْ يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ (٦٦) جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا اباجان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ۔ لہذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ کے کر آئیں ۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں “ باپ نے جواب دیا ” کیا میں اس معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں کرچکا ہوں ؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے “۔ پھر جیسا انہوں نے اپنا سامان کھولا تو ایکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے ۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے ، ” اباجان اور ہمیں کیا چاہئے دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں دے دیا گیا ہے ، بس اب ہم جائیں گے اواپنے اہل و عیال کے لئے رسد لے آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لائیں گے ۔ اتنے غلے کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا “۔ ان کے باپ نے کہا ” میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام سے مجھے کوئی بیان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرورلے کر آؤگے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لئے جاؤ “ﷲجب انہوں نے اس کو اپنے پیمان دے دئیے تو اس نے کہا ” دیکھو ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے “ پھر اس نے کہا ” میرے بچو ، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا ۔ مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچاسکتا ، حکم اس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہے اسی پر کرے “۔ اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں یعقوب کے دل میں جو ایک کھٹک تھی ، اسے دور کرنے کے لئے اس نے اپنی سی کوشش کی ، بےچک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب عالم تھا ، مگر اکثر لوگ معاملے کی حقیقت کو جانتے نہیں “۔ اس کے بعد اس قصے میں ان کا کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ دوسرے صدمے سے دوچار ہوتے ہیں ۔ یہ خدا رسیدہ نبی ہیں اور بےپناہ محبت کرنے والے ہیں۔ یہ اس وقت جب اللہ نے ایک خاص تدبیر کے ذریعے یوسف کے بھائی کو مصر میں رکوا دیا۔ حضرت یعقوب کے بیٹوں میں ایک صاحب جو معتدل شخصیت کے مالک تھے وہ بھی مصر ہی میں رک جاتے ہیں ، ان کی شخصیت کا یہ اعتدال اس پورے قصے میں نمایاں رہا ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ میں کن آنکھوں سے باپ کا سامنا کروں یا تو وہ اجازت دیں یا پھر اللہ کوئی اور صورت نکال دے۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الأرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (٨٠) ارْجِعُوا إِلَى أَبِيكُمْ فَقُولُوا يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ (٨١) وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا وَإِنَّا لَصَادِقُونَ (٨٢) قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (٨٣) وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ (٨٤) قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ (٨٥) قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ (٨٦) يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لا يَيْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (٨٧) جب وہ یوسف سے مایوس ہوگئے تو ایک گوشے میں جاکر مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا ” تم جانتے نہیں کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں جو زیادنی تم کرچکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے ۔ اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے حق میں فیصلہ فرمادے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم جاکر اپنے والد سے کہو کہ ” اباجان ، آپ کے صاحبزادے نے تو چوری کی ہے ، ہم نے اس سے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہے بس وہی ہم بیان کررہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے۔ آپ اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم تھے۔ اس قافلے سے دریافت کرلیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں “۔۔۔۔ باپ نے یہ داستان سن کر کہا ” دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک اور بڑی بات کو سہل بنادیا ، اچھا اس پر بھی صبر کروں گا۔ اور بخوبی کروں گا ۔ کیا بعید کہ اللہ ان سب کو مجھ سے ملادے ، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں “۔ پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھر کر بیٹھ گیا اور کہتے لگا ” ہائے یوسف “ وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جارہا تھا۔ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں۔ بیٹوں نے کہا ” خدا را آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جارہے ہیں ۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ اسکے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جا ہلاکت میں ڈالیں گے “۔ اس نے کہا ” میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا ، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔ میرے بچو ، جاکر یوسف اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں “۔ یہ ضعیف بوڑھا ، اس قصے کے آخری منظر میں بھی نہایت ہی واقفیت پسند ہے ۔ اس طویل غم نے اسے توڑپھوڑدیا ہے ۔ اب وہ دور سے یوسف کی قمیص کو سونگھ لیتا ہے ، وہ اپنے بیٹوں کی ملامت کا بھی مقابلہ کرتا ہے لیکن اسے جو امید ہے وہ شک نہیں کرتا کہ وہ پوری نہ ہوگی ۔ اسے اپنے رب پر پوراپورا بھروسہ ہے۔ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ (٩٤) قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ (٩٥) فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ (٩٦) قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ (٩٧) قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (٩٨) ” جب قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا ” میں یوسف کی خوشبو محسوس کررہا ہوں ، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں “۔ گھر کے لوگ بولے ” خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں “۔۔۔ پھر جب خوشخبری لانے والا آیا تو اس نے یوسف کی قمیص یعقوب کے منہ پر ڈال دی اور یکایک اس کی بینائی عود کر آئی ۔ تب اس نے کہا ” میں تم سے کہتا نہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے “۔ سب بول اٹھے ” اباجان آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا کریں واقعی ہم خطاکار تھے “۔ اس نے کہا ، ” میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا ، وہ بڑا معاف کرنے والا اور حیم ہے “۔ یہ ہے وہ شخصیت جس کے خدوخال یکساں ہیں ، جس کا شعور حقیقت پسندانہ ہے ، وہ ہر حالت اور ہر صورت میں ربانی شعور رکھتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی طمع کاری نہیں ہے ، ان کی سیرت میں کوئی جھول نہیں ہے اور ان کے معیار اخلاق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ (٢٩) یوسف (علیہ السلام) اس معاملے سے درگزر کر ۔ اور اے عورت ، تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطاکار تھی “۔ نیز عورتوں کی چہ میگوئیاں کہ عزیز مصر کی بیوی کیا کررہی ہے اور اس کی جو ابی تدبیر اور دعوت کا انتظام اور ان کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا حاضر ہونا اور سب کا حیران را جانا اور اس کا یہ تبصرہ : قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ وَلَئِنْ لَمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِنَ الصَّاغِرِينَ (٣٢) بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا ، اگر یہ میرا کہا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا “۔ یہ سوسائٹی جس میں اس قسم کی باتیں آزادانہ ہوتی ہوں ، یہ اونچے طبقے کی سوسائٹی ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) اس میں بطور غلام پھنسے ہوئے تھے اور اسی میں پل رہے تھے۔ اور عمر کا زمانہ ایسا تھا جسے فتنے اور آزمائش کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ یہ تھا یوسف (علیہ السلام) کا ایک طویل اور کٹھن امتحان اور اس میں وہ ثابت قدم رہے ۔ وہ اس سے سرخرو ہوکر نکلے ، اور اس سوسائٹی اور اس عمر کی فتنوں کے مقابلے میں کامیاب رہے ، ان کی عمر اور عورت کی عمر کو مدنظر رکھ کر سو چا جائے کہ اس عورت کے ساتھ وہ ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں ، ان سب امور سے یہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف نے کس قدر طویل عرصے تک حالات کا مقابلہ کیا۔ اگر یہ واقعہ صرف یہی ایک ہوتا تو وہ بسہولت اس کا مقابلہ کرلیتے اور ان کے لئے مشکل پیش نہ آتی خصوصاً جبکہ مرد مطلوب ہو ، خود طالب نہ ہو ، خصوصاً جبکہ عورت کی خواہش ہو تو مرد اس سے انکار نہیں کرسکتا اور اس واقعہ میں عورت خواہشمند تھی۔ اس تمہید کے بعد اب تشریح آیات ۔ وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (٢٣) جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازہ بند کرکے بولی ” آجاؤ “۔ اس بار یہ عورت کھلے بندوں حضرت (علیہ السلام) کو ورغلانے کی کوشش کرتی ہے اور اس میں وہ واضح طور پر آخری مرحلے کے لئے دعوت دیتی ہے ۔ دروازے بند کرنا آخری مرحلے پر ہوا کرتا ہے اور یہ عورت اب اس انتہا تک پہنچ چکی ہے ، جسمانی خواہش کا یہ آخری مرحلہ ہے ۔ وقالت ھیت لک : اور یہ آخری ، واضح اور علانیہ دعو کسی عورت کی طرف سے پہلی مرتبہ نہیں ہوتی ۔ یہ بڑی تمہیدات کے بعد ہوتی ہے ۔ اگر عورت جسمانی خواہش کے اعتبار سے مجبور نہ ہوجائے تو ایسی دعوت وہ ہرگز نہیں دیتی ۔ نوجوان چونکہ ان کے گھر میں رہا تھا ، اس کی جسمانی قوت آہستہ آہستہ مکمل ہوئی تھی اور عورت کی خواہسشات (ھیت لک) کہنے سے قبل کئی مراحل سے گزری ہوگی اور اس آخری مرحلے سے پہلے اس کی کئی اداؤں کا مقابلہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کیا ہوگا۔ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ یوسف ” نے کہا “ خدا کی پناہ میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں ! ) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے “۔ معاذاللہ ، میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔ میں یہ کیسے کر سکتا ہوں۔ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ ” میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی ہے “۔ اس نے مجھے کنویں سے نجات دے کر باعزت جگہ دی اور ایسے اونچے گھرانے میں رکھا۔ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (٢٣) ” اے ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔ جو حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہیں اور تم جس بات کی دعوت دے رہی ہو یہ تو سراسر حدود اللہ سے تجاوز ہے۔ یہاں قرآن اس بات کی تصریح کرتا ہے اور قطعیت کے ساتھ تصریح کرتا ہے کہ عورت کے اس ورغلانے کے عمل اور دروازے بند کرکے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علانیہ دعوت گناہ دینے کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بغیر تامل کے رد کردیا۔ انہوں نے حدودا للہ کو یاد کیا ، اللہ کے انعامات کو یاد کیا جبکہ قرآن نے اس کی دعوت گناہ کو بھی غلیظ الفاظ کے نجائے مہذب الفاظ میں بیان کی یعنی وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ ” وہ اسکی طرف بڑھی اور یوسف (علیہ السلام) بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا “۔ یہ آخری مرحلہ تھا اور تمام مفسرین نے اس ہر طویل کلام کیا ہے ۔ قدیم مفسرین میں سے بعض لوگوں نے اسرائیلیات کا تباع کیا ہے اور اس بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات میں یہ ذکر ہوا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھی ایک عام نوجوان کی طرح اس آخری فعل کے ارتکاب پر مائل تھے ، آگے بڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو برہان پر برہان کھارہا تھا مگر وہ رک نہ رہے تھے ۔ اس تنہاخانے میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تصویر ظاہرہوئی اور انہوں نے اپنی انگلی دانتون میں دبا رکھی تھی۔ اور ان کے سامنے ایک ایسی تختی اچانک آگئی جس کے اوپر آیات قرآنی مکتوب تھیں ۔ قرآنی آیات ! جن میں یہ لکھا تھا کہ ایسے کام سے باز آجاؤ، لیکن ، پھر بھی نہ رکے تو اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور کہا کہ پہنچو میرا بندہ کرنے لگا ہے ۔ وہ آئے اور انہوں نے حضرت یوسف کو سینے میں ایک ضرب لگائی ۔ یہ اور ایسی دوسری روایات جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ یہ جعلی اور بناونی ہیں۔ رہے جمہور مفسر ین ، تو انہوں نے یہ کہا ہے کہ عورت نے تو ارادہ گناہ کرلیا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اس کے بارے میں سوچ لیا ہوتا ، اگر اس پر اللہ کا برہان روشن نہ ہوگیا ہوتا اور پھر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کرلیا۔ سید رشید رضا نے اپنی تفسیر المنار میں جمہور علماء کی اس تفسیر پر رد فرمایا ہے ۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ یہ جابر مالک تھی اور اس نے اسے دعوت گناہ دی اور اسے مارا بیٹا کیونکہ اس نے انکار کرکے اس کی توہین کی تھی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسکی زیادتی کا جواب دیا ۔ اور اس کے بعد انہوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور اس طرح اس نے اسے پکڑ کر قمیص پھاڑ دی ۔ (ھم) کا مفہوم مارنا اور مارنے کا جواب دینا ایک ایسی تفسیر ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ یہ ایک کوشش سے پاک صاف ثابت کیا ہے ۔ لیکن یہ تفسیر تکلف سے خالی نہیں ہے ۔ اور نہ عربی الفاظ اس کے متحمل ہیں۔ ان نصوص پر غور کرنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس پختہ کار عورت کے ساتھ ایک مکان میں رہ رہے تھے اور ایک طویل عرصے تک رہ رہے تھے۔ علم و حکمت عطا ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی موجود تھے۔ اس آیت سے میں جو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں آْخری مرحلے کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس عورت نے ایک طویل عرصہ ان کو ورغلانے کی سعی کی اور آپ نے انکار کیا ، اس عرصے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ان مشکل حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور قرآن اس آیت میں آخری مراحل کا ذکر کردیا کہ انہوں نے پاکیز گی اختیار کی اور اللہ کے برہان کو دیکھ لیا ۔ اس کشاکش کو یہاں قرآن مجید نے نہایت ہی مختصر اً بیان کیا ہے اور اسے مختصر جگہ دی ہے ۔ اس کے لئے مناسب اور ضروری الفاظ استعمال کیے ۔ کشاکش کے آغاز اور انجام کو ان الفاظ میں قلم بند کردیا کہ آغاز میں انہوں نے انکار کیا اور انتہا میں انہوں نے براہین الٰہیہ کو دیکھا لیکن ابتدائی اور آخری مرحلے کے درمیان ممکن ہے کہ کمزوری کے لمحات بھی آئے ہوں اور اس طرح حقیقت پسندانہ سچائی اور پاک فضادونوں مکمل ہوں ۔ ان حالات ونصوص کا مطالعہ کرتے وقت میرے ذہن میں میں یہ بات آئی ہے ۔ یہ بات انسانی مزاج اور طیعت کے بھی قریب ہے اور منصب نبوت کے بھی ہم آہنگ ہے ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بہر حال انسان تھے اور ایک برگزیدہ انسان تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نفسیاتی میلان ہی رہا ۔ اور جب ان کے اپنے قلب اور ضمیر میں اللہ کا برہان ظاہر ہوا تو ان کا یہ نفسیاتی میلان بھی ختم ہوگیا اور وہ حالت اعتصام اور مکمل انکار کی طرف لوٹ آئے ۔ علامہ زمخشری کشاف میں کہتے ہیں ” سوال یہ ہے کہ ایک نبی کس طرح برائی کا ” ھم “ کرسکتا ہے اور کس طرح وہ ارادہ کرسکتا ہے کہ وہ یہ کام کرے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ ایک نفسیاتی میلان تھا ، جوانی کی خواہشات کا دباؤہر انسان پر ہوتا ہے ۔ یہاں اسے ھم اور قصد سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسے حالات میں انسان پر سخت دباؤ ہوتا ہے اور عزم اور مدافعت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے ، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کے براہین کے ملاحظے کے بعد اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ اگر یہ میلان ہی نہ ہوتا اور جسمانی دہاؤنہ ہوتا ، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کام سے رک کر قابل ستائش کس طرح ہوگئے ۔ کیونکہ صبر ، برادشت اور ابتلاپر اجرتب ہی ہے کہ انسان کے اندر قوت اور میلان موجود ہو “۔ y كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ (٢٤) ایسا ہوا ، تاکہ ہم اس سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیں ، درحقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا “۔ اس قصے کرداروں میں جو حقیقت پسندی ، صداقت ، پاکیزگی ، صفائی ہے وہ صرف اس قصے کے کرداروں تک ہی محدود نہیں ہے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ یہاں اشخاص کی ایک بڑی تعداد کا ذکر اس قصے میں لایا گیا ہے ، بلکہ اس قصے کے واقعات ، ان کا طرز ادا ، اس کے زمان و مکان اور ظروف و احوال بھی بالکل نیچرل ہیں ، اور حسن و خوبی سے بھی مالا مال ہیں ، جس معاشرے اور سوسائٹی میں یہ واقعات ہو رہے ہیں ، وہ بھی نہایت ہی قدرتی اور بےساختہ ہے۔ اس قصے کی ہر حرکت ہر لفظ اور ہر سوچ اپنے قدرتی وقت اور انداز پر آتی ہے اور ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جس کی انسان توقع کرتا ہے اور اس وقت آتی ہے جب اس کے لیے اسٹیج تیار ہوتا ہے۔ ہر حرکت ، ہر بات اور ہر شخصیت ضرورت کے مطابق نمایاں کی گئی ہے۔ اور ضرورت کے مطابق اسے پس منظر میں رکھا گیا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کرداروں کے سلسلے میں تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ اس قصے میں جنسی لمحات بھی آتے ہیں لیکن وہ اس رنگ میں ہیں جس قدر پاکیزہ رنگ میں انسان کے ساتھ مناسب ہیں اور قدرتی ہیں۔ کسی قدرتی اور طبیعی انداز میں نہ کمی کی گئی ہے اور نہ ہی اس میں بےجا مبالغہ ہے۔ ہر بات ، ہر حرکت اور ہر ایکٹ نہایت ہی متناسب قدرتی اور مکمل ہے۔ لیکن جنس کو اس قصے پر حاوی نہیں کیا گیا کہ گویا انسانی اقدار میں ایک جنس اور سیکس ہی اور ہے اور تمام باتوں ، تمام مظاہر اور تمام افعال کو صرف اس محور کے گرد گھماتا ہے جیسا کہ آج کی جاہلیت جدیدہ نے قصص کو انداز میں پیش کیا ہے اور وہ اس کی داعی ہے اور اسے واقعیت کہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جاہلیت انسان کو بحیثیت انسان مسخ کردیتی ہے ، اسے حیوان بنا دیتی ہے اور یہ کام وہ فنی سچائی اور واقعیت اور حقیقت کے عنوان سے کرتی ہے۔ جاہلیت جب جنسی لمحات کا اظہار کرتی ہے ، وہ ان لمحات کو اس قدر طول دیتی چلی جاتی ہے کہ زمان و مکان اور حرکت میں اسے جنسی لمحات و حرکات ہی نظر آتے ہیں۔ چناچہ انسانی زندگی کو وہ ایک گندا تالاب بنا دیتی ہے جس کی سطح کو وہ خوب مزین کرتی ہے۔ سطح پر پھول تیر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن سطح سے نیچے گندا گٹر ہی ہوتا ہے۔ جاہلیت کی فی الواقعہ اس کام کو واقعیت سمجھ کر کرتی ہے ؟ کیا وہ فی الواقعہ ایک حقیقی تصویر کھینچنا چاہتا ہے ؟ نہیں ، ہر گز نہیں ، نہیں یہ صیہونیوں کے پروٹوکولز کے مطابق سب کچھ ہورہا ہے۔ بین الاقوامی صیہونیت کی اسکیم یہ ہے کہ تمام انسانوں کو ننگا کرکے ، انسانی اقدار سے محروم کرکے دنیا کو دنیا کو یہ بتایا جائے کہ اعلی اقدار کے حامل صرف یہودی ہیں اور وہی سپر انسان ہیں۔ اس اسکیم کے مطابق یہودیت یہ چاہتی ہے کہ تمام انسانوں کو جنس کے اس گندے تالاب میں گرا دے۔ انسانوں کی تمام بلند اقدار جنس کے اندر محدود ہوجائیں ، ان کی پوری قوت جنسی لذتیت کی نذر ہو ، کیونکہ انسانوں کو تباہ کرنے کا یہ تیر بہدف نسخہ ہے تاکہ تمام انسان عظیم صیہونی مملکت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔ انسانی اخلاق کو تو ان لوگوں نے اسی طرح تباہ کیا اور انسانی افکار و عقائد کو انہوں نے سیکولر ازم اور مادیت کے اندر محدود کردیا۔ یہاں تک کہ انسان کو سائنس طریقے سے باور کرایا کہ وہ در اصل حیوان ہے۔ اس کے نتیجے میں اسے ڈارونزم ، فرائڈ از ، مارکسزم ، سوشلزم اور دوسرے لادینی نظریات دئیے جو سب کے سب بوگس تھے اور ان کو ایک اسکیم کے تحت ایجاد کیا گیا اور رائج کیا گیا تاکہ انان محض حیوان بن جائے اور اسے چارے اور سیکس کے سوا کسی اور قدر کی کوئی پروا نہ ہو۔ ۔۔ شخصیات اور واقعات کے بعد اس قصے میں کچھ تاریخی اشارات بھی ہیں کہ یہ کس دور کا واقعہ ہے اور اس قصے میں جن کثیر التعداد کرداروں کو پیش کیا گیا ہے اور ان کی جن خصوصیات کو اس میں قلم بند کیا گیا ہے اور جو عمومی خدوخال بیان کیے گئے ان کا تعلق کس دور سے ہے۔ چناچہ اس قصے کے بعض لمحات قابل غور ہیں اور بعض ایکشن اور اقوال اس طرف راہنمائی کرتے ہیں اور ان سے واضح طور پر اس زمانے کا تعین ہوجاتا ہے۔ ٭ جس دور کے ساتھ اس قصے کا تعلق ہے اس دور میں مصر پر خاندان فراعنہ کی حکمرانی نہ تھی۔ یہ " گڈریوں " کے خاندان کا دور تھا ، جس میں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب مصر کے پڑوس کنعان میں تھے۔ اس دور میں مصر کے باشندوں میں دین اسلام کے بارے میں قدرے معلومات تھیں۔ اس لیے کہ اس دور کے بادشاہوں کے لیے قرآن نے ملک کا لفظ استعمال کیا ہے اور بعد کے ادوار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں بادشاہ کے لیے فرعون کا لقب استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کس دور میں گزرے تھے۔ یہ گڈریوں " کا دور تھا اور یہ لوگ تیرہویں اور سترہویں خاندان حکمرانان مصر کے درمیان زمانے میں گزرے ہیں۔ مصری اس خاندان کو ہی کو (Heksus ) کہتے ہیں ، اور یہ لقب ان کو اس لیے دیا گیا ہے کہ مصری اس خاندان سے بہت نفرت کرتے تھے۔ ہیکن کا مفہوم قدیم مصری زبان میں خنزیر ہے یا خنزیر کے چرانے والے کے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ خاندان ڈیڑھ سو سال تک مصر پر حکمران رہا ہے۔ ٭اسی دور میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نبوت کا زمانہ رہا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دین اسلام کے بنیادی نظریہ یعنی عقیدہ توحید کی طرف دعوت زمانہ قید خانہ ہی سے شروع کردی تھی ، قیدیوں کے سامنے تقریر میں انہوں نے فرمایا کہ یہ میرے آباء و اجداد کا دین ہے۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق ، اور حضرت یعقوب کا۔ جس طرح قرآن کریم نے آپ کی جیل کی تقریر نقل فرمائی ہے اس میں انہوں نے عقیدہ توحید کو بڑے واضح انداز میں پیش کیا ہے۔ قَالَ لا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا ذَلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (٣٧) وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَا أَنْ نُشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ (٣٨) يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (٣٩) مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ أَمَرَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ (٤٠):" واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ، اپنے بزرگوں ابراہی ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرائی درحقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر ، مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اے زندان کے ساتھیو بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں " اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کی یہ ایک جامع تصویر ہے ، اور تمام رسولوں نے اسلام کی یہی تصویر پیش کی ہے۔ اس میں ایک طرف بنیادی عقائد ہیں ، یعنی اللہ پر ایمان ، آخر پر ایمان ، اور اللہ وحدہ کو لاشریک الہ سمجھنا اور اللہ کی مغفرت اس کی تمام صفات کے ذریعے حاصل کرنا کہ وہ واحد اور قہار ہے۔ اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی نہ حاکم اور نہ مقتدر اعلی ہے۔ اس لیے اس عقیدے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے ماننے والا تمام ان ارباب کی نفی کرے جو اللہ کے سوا عوام الناس کو خود اپنا غلام بناتے ہیں اور صرف حکومت الہیہ کا اعلان کردیا جائے کیونکہ اللہ نے حکم ہی یہ دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت اور غلامی نہ کی جائے اور بادشاہت ، حکمرانی اور ربوبیت صرف اللہ کی ہوگی ، حضرت یوسف کے ہاں عبادت کا مفہوم ہی یہ ہے کہ حکومت اور اقتار اعلی اور بندگی اور اطاعت اور قانون اسی کا ہو۔ ان الحکم الا للہ " فرماں روائی صرف اللہ کی ہے " امر الا تعبدوا الا ایاہ " اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو " ذالک الدین القیم " یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے " تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسلام کا نہایت ہی جامع اور مانع تعارف کرایا اور خصوصا اس کے نظریاتی اور سیاسی پہلو کو اجاگر کیا۔ اس نظریہ کا لازمی نتیجہ ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ میں پورے مصر کا اقتدار آگیا تو انہوں نے دعوت اسلامی کو اسی طرح جامع شکل میں پھیلایا ہوگا اور یہ بھی واضح ہے کہ ان کے ذریعے مصر میں مکمل اسلامی نظام پھیل کر نافذ ہوگیا ہوگا۔ نہ صرف یہ کہ وہ مصر کے حکمران بن گئے تھے۔ بلکہ مصر کے تمام خزانے ان کے ہاتھوں میں دے دئیے گئے تھے اور انہوں نے خشک سالی کے لیے جو ذخائر جمع کر رکھے تھے اور بعد میں وہ وہ خود انہیں تقسیم کر رہے تھے ، ان کے پاس دور دور سے لوگ غلہ خیردنے آتے تھے تو ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہوگا اور اس طرح حقیقی دین اسلام دور دور تک پھیل چکا ہوگا۔ جس طرح خود ان کے بھائی کنعان جیسے دور دراز علاقوں سے غلے کے لیے آگئے تھے۔ اس قصے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی کس قدر وسیع تھی۔ نیز اس قصے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کنعان سے دینی نظریات گڈریوں کے دور میں مصر تک پہنچ چکے تھے اور ان کے مشرکانہ نظریات میں کافی اصلاح ہوچکی تھی۔ اس قصے میں مصر کی اعلی طبقات کی خواتین کے اجتماعی کے موقع پر جب انہوں نے حضرت یوسف کو دیکھا تو بےساختہ کہا فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلا مَلَكٌ كَرِيمٌ (٣١): " جب انہوں نے اسے دیکھا تو حیران رہ گئیں اور کہا ، ماشاء اللہ یہ بشر نہیں یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے۔ اور پھر عزیز مصر اپنی بوعی سے کہتا ہے : " يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ (٢٩): " یوسف اس سے صرف نظر کرو ، اور تو (بیوی سے) اپنے گناہ سے استغفار کر ، بیشک تو ہی غلط کاروں سے تھی " نیز اس پر امراۃ العزیز کا یہ کلام بھی دلالت کرتا ہے کہ وہ بھی حضرت یوسف کے عقائد کو تسلیم کر کے مومن ہوگئی تھی اور اس کی اصلاح ہوگئی تھی۔ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (٥١) ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ (٥٢) وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ (٥٣): " عزیز کی بیوی بول اٹھی ، اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اسے پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے۔ اس سے میری غرض یہ تھی کہ وہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا۔ میں کچھ اپنے نفس کی براءت نہیں کر رہا۔ نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے ، الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت جو بیشک میرا رب غفور و رحیم ہے " جب یہ معلوم ہوگیا کہ عقیدہ توحید حضرت یوسف کے برسر اقتدار آنے سے قبل ہی مصر میں پھیل گیا تھا تو ظاہر ہے کہ حضرت یوسف کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو نہایت ہی وسیع پیمانے پر یہ عقیدہ پھیل گیا ہوگا اور خاندان گڈریاں کے بعد جب اٹھارویں خاندان کی شکل میں فراعنہ مصر نے دوبارہ حکومت مصر پر قبضہ کرلیا تو اس دور میں تو بنی اسرائیل یہاں پھیل گئے تھے اور دوسرے یہ کہ عقیدہ توحید کو بیہ عروج نصیب تھا پھر فراعنہ نے دوبارہ یہاں بت پرست کو رائج کیا۔ یہاں ایک بات سمجھ آتی ہے اور وہ بھی بہت معقول کہ اقتدار پر قبضے کے بعد فراعنہ نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم شروع کردیا یہاں تک کہ ان کی نسل کشی پر اتر آئے۔ اس کی سیاسی اور ثقافتی وجوہات یہ تھیں۔ ایک یہ کہ وہ باہر سے آئے اور مصر میں اقتدار پر قابض ہوگئے اور دوسرے یہ کہ انہوں نے مصر میں ثقافتی انقلاب بھی برپا کردیا اور تمام لوگ عقیدہ توحید قبول کرکے اسلام میں داخل ہوگئے ، جب مصریوں نے گڈریوں کو شکست دی تو ساتھ ساتھ ان کے حامیوں بنی اسرائیل کو بھی خوب دبا کے رکھا۔ اگرچہ ثقافتی اور نظریاتی اختلاف اس کا اصلی اور حقیقی سبب تھا۔ وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کا اصلی اثر یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی فرعون نہ ہو اور اقتدار اعلی صرف اللہ کا ہو۔ چناچہ عقیدہ توحید کے ماننے والے تمام فرعونوں اور تمام طاغوتوں کے دشمن ہوتے ہیں۔ جس نکتے کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔ سورت غافر میں " رجل مومن " کی تقریر بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ تقریر اس شخص نے فرعون موسیٰ کے دربار میں کی تھی اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دفاع میں تھی۔ اس وقت فرعون کے دربار میں اس کے تمام حواری موجود تھے اور وہ یہ فصلہ کر رہے تھے کہ حضرت موسیٰ کو قتل کردیں اور وہ قتل محض اس لیے کر رہے تھے کہ حضرت موسیٰ عقیدہ توحید کی تبلیغ کر رہے تھے جس کے نتیجے میں فرعون کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا : وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (٢٨) يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الأرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلا مَا أَرَى وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلا سَبِيلَ الرَّشَادِ (٢٩) وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ يَوْمِ الأحْزَابِ (٣٠) مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعِبَادِ (٣١) وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (٣٢) يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (٣٣) وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ (٣٤) الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ الَّذِينَ آمَنُوا كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ (٣٥): " ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا چھوڑو مجھے میں اس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا ، یا ملک میں فساد برپا کرے گا " موسیٰ نے کہا : میں نے تو ہر اس متکبر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے۔ اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن شخص ، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا ، بول اٹھا کیا تم ایک شخص کو اس بنا پر قتل کردوگے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور آ ہی جائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو۔ اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا ، فرعون نے کہا میں تو تم کو وہی رائے دے رہا ہوں ، جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے۔ اور جو شخص ایمان لایا تھا اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اے قوم مجھے ڈر ہے کہ تم پر فریاد و فغاں کا دن نہ آجائے۔ جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے مگر تم اس کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پرے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب اس کے بعد اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر اور جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔ غرض اصل جھگڑا تھا عقیدہ توحید (بایں معنی کہ اللہ واحد ہے ، وہی رب اور حاکم ہے ، اس کی بندگی فرض ہے) اور فرعونیت کے درمیان جو بنت پرستی پر مبنی تھی اور جس میں انسان ، انسان پر حکمران تھا (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
2:۔ یہاں سے ” لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ “ تک تمہید ہے۔ ” اَلْکِتَاب “ سے قرا ان مراد ہے یا یہ سورت جیسا کہ ارشاد ہے ” صُحُفًا مُّکَرَّمَۃً فِیھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃً “ (البینہ) ۔ یہاں ” کُتُبٌ“ صحفیوں کے حصوں کو فرمایا۔ ” اَلْمُبِیْن “: یہ اشارہ ہے کہ اس سورت میں دلیل نقلی ذکر کی جائے گی۔ ” قُرْاٰنًا “: حال مؤطئہ ہے ” عَرَبِیًّا “ کے لیے یہ حال ہے اور ” عَرَبِیًّا “ اس کی صفت ہے (مظہری) ۔