Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 102

سورة يوسف

ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ۚ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ وَ ہُمۡ یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾

That is from the news of the unseen which We reveal, [O Muhammad], to you. And you were not with them when they put together their plan while they conspired.

یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں ۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وہ فریب کرنے لگے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

This Story is a Revelation from Allah Allah says; ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ... That is of the news of the Ghayb (Unseen) which We reveal to you. Allah narrated to Muhammad, peace be upon him, the story of Yusuf and his brothers and how Allah raised him over them, giving him the better end, triumph, the sovereignty and wisdom (i.e., Prophethood), even though they tried to harm and kill him. Allah said, `This and similar stories are part of the unseen incidents of the past, O Muhammad, نُوحِيهِ إِلَيْكَ (which We reveal to you) and inform you of, O Muhammad, because it carries a lesson, for you to draw from and a reminder to those who defy you.' Allah said next, ... وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ ... `You were not (present) with them, you did not witness their conference nor saw them, ... إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَهُمْ ... when they arranged their plan together, to throw Yusuf into the well, ... وَهُمْ يَمْكُرُونَ and (while) they were plotting. against him. We taught you all this through Our Revelation which We sent down to you.' Allah said in other Ayat, وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ You were not with them, when they cast lots with their pens. and, وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِىِّ إِذْ قَضَيْنَأ إِلَى مُوسَى الاٌّمْرَ And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment... (28:44) until, وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا And you were not at the side of the Tur when We did call. (28:46) Allah also said, وَمَا كُنتَ ثَاوِياً فِى أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our verses to them. (28:45) Allah states that Muhammad is His Messenger and that He has taught him the news of what occurred in the past, which carry lessons for people to draw from, so that they acquire their safety in their religious affairs as well as their worldly affairs. Yet, most people did not and will not believe, so Allah said, وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُوْمِنِينَ

حضرت یوسف علیہ السلام کا تمام وکمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہو جائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا ۔ جب وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے ۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہو گئے تھے ۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے ۔ جیسے حضرت مریم علیہ السلام کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا ۔ الخ ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا ۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا ۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا ۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں ۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں ، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے ۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت ( وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦؁ ) 6- الانعام:116 ) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے ۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں ۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں ، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں ، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے ۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

102۔ 1 یعنی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ، جب کہ انھیں کنوئیں میں پھینک آئے یا مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں یعنی ان کو یہ کہہ کر کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور یہ اس کی قمیص ہے، جو خون میں لت پت ہے ان کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر بھی اس بات کی نفی فرمائی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب کا علم تھا لیکن یہ نفی مطلق علم کی نہیں ہے کیونکہ اللہ نے وحی کے ذریعے سے آپ کو آگاہ فرمایا دیا۔ یہ نفی مشاہد کی ہے کہ اس وقت آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ اسی طرح ایسے لوگوں سے بھی آپ کا رابطہ وتعلق نہیں رہا ہے جن سے آپ نے سنا ہو۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو وحی نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی مقامات پر اسی طرح غیب اور مشاہدے کی نفی فرمائی ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو، سورة آل عمران (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران :44) (وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا ۙ وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ 45؀ وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 46؀) 28 ۔ القصص :46-45) (مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ 69؀ اِنْ يُّوْحٰٓى اِلَيَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 70؀) 38 ۔ ص :70 ۔ 69) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] کفار مکہ کے سوال کا جواب دینا آپ کی نبوت کی دلیل ہے :۔ اگرچہ تورات اور دوسری اسرائیلی روایات میں کئی جگہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں انبیاء کو ایک پاکیزہ صورت انسان کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات انھیں کئی مقامات پر مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔ دوسرے قرآن میں قصہ کے بیان سے زیادہ مواعظ حسنہ اور تذکیربآیاٰت اللہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات اس سے خالی ہیں۔ تاہم قصہ کی اصولی باتیں بہت حد تک ملتی جلتی ہیں اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ آپ اس وقت موجود نہیں تھے اور یہ بھی کہ آپ نے نہ اسرائیلیات کو پڑھا ہے اور نہ علمائے یہود سے استفادہ کیا ہے۔ پھر آپ کا اس طرح یہ واقعہ بیان کردینا بجز وحی الٰہی کے ممکن نہیں۔ لہذا یہ آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ : یعنی غیب کی یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے سے بتائیں، ہماری وحی کے بغیر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پیغمبر ہیں، اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو ہزاروں برس پہلے کے یہ واقعات کیسے معلوم کرسکتے تھے اور تمہیں کیسے سنا سکتے تھے۔ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا ۔۔ : یعنی اگر ہم آپ کو نہ بتاتے تو آپ کو کچھ خبر نہ تھی، کیونکہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے۔ قرآن مجید نے ” وما کنت “ کے ساتھ یہ بات کئی جگہ دہرائی ہے اور اپنا احسان جتلایا ہے کہ آپ کو گزشتہ واقعات کا کچھ علم نہ تھا، نہ آپ وہاں موجود تھے جب یہ سب کچھ ہوا، یہ ہم ہی ہیں جنھوں نے وحی کے ذریعے سے آپ کو یہ واقعات بتائے۔ اس لیے اہل مکہ اور دوسرے کفار کو آپ کی نبوت میں ہرگز شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر بات کا پہلے ہی علم تھا، اگر ایسا ہی تھا تو وحی کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید کی ” وَمَا كُنْتَ “ والی تمام آیات آپ کے علم غیب کی نفی کرتی ہیں۔ ” وَمَا كُنْتَ “ کے مقامات کی سیر کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورة آل عمران (٤٤) ، ہود (٤٩) ، یوسف (١٠٢) ، قصص (٤٤، ٤٥، ٤٦، ٨٦) ، عنکبوت (٤٨) اور شوریٰ (٥٢) ۔ 3 اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں، کیونکہ اگر صحیح ہوتیں تو ان کی کوئی بات قرآن مجید کے خلاف نہ ہوتی جو ان کی کتابوں پر نگران اور ان کے صحیح مضامین کا محافظ ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (٤٨) اس لیے صحیح و غلط کے گڈ مڈ ہوجانے کی وجہ سے ان کی معلومات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary After a full description of the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، first to come in the verses cited above is an address to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ (That is a part of the reports of the unseen We reveal to you), and that ` you were not there with the brothers of Yusuf (علیہ السلام) when they had decided to throw Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) into the well and were making plans for it.& The purpose of choosing to say this is that the very act of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in describing this story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) correctly and in full details is a clear proof of his being a prophet and recipient of reve¬lation. The reason is that this story dates back to thousands of years before his time. Neither was he present there on the scene to have described it as an eye witness, nor was he ever taught by anyone to have consulted books of history, or heard it from a teacher and described it. Therefore, there is no way he could have known it in the manner he did except that it be Divine revelation itself. At this place, the Holy Qur&an has considered it sufficient to say that ` you were not there1. It has not deemed it necessary to mention that this information did not come to him through another person or book because the whole Arabia knew that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was an Ummiyy - that is, he did not learn to read and write from anyone. And also known to everyone was that he had lived his whole life in Makkah al-Mu` azzamah. He did make one of his trips to Syria with his uncle Abu Talib, a trip in which he came back home while still &enroute. The second trip he made was for business. He finished his work there and returned in a few days. In this trip too, there was no chance of his meeting some scholar or going to an educational institution. Therefore, at this place, it was not consi¬dered necessary to mention it. And at another occasion in the Holy Qur&an this too was further clarified by saying: مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٰذَا ، that is, ` you did not know them (events) before this (the revelation of the Qur&an), neither you nor your people -11:49|" Imam Al-Baghawi has said that the Jews and the Quraysh had joined hands to test the veracity of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . For this purpose, they had asked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to tell them everything about Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) as it had happened to him, if he was true in his claim of prophethood. When he told them what he had learnt through Divine revelation, they still remained sticking to their disbelief and denial. This shocked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thereupon, said in the next verse was: &And most of the people are not going to believe& - even though, the proofs of his being a prophet were clear, and even if he himself longed for it, or tried his best. The sense of the statement is: ` Your duty is to spread the call and seek the betterment of people. That you succeed in it is not in your control nor is this your responsibility nor should you grieve over it.& Rules and Guidance The Difference between the News of the Unseen and the Knowledge of the Unseen 1. The statement: ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ (That is a part of the reports of the unseen We reveal to you - 102) has appeared in the same words in verse 44 of Surah Al-` Imran in the context of the story of Sayyidah Mar-yam, that is: ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ (That is a part of the reports of the un¬seen We reveal to you - 3:44). Then, with a slight change, the same state-ment appears in verse 49 of Surah Hud where it is related to the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) : تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ (These are reports from the unseen [ events ] which We reveal to you - 11:49). From these verses we learn that Allah Ta` ala communicates to his prophets many a news of the unseen through Wahy (revelation). He has particularly blessed our Rasul |", known as the Head of all the messen¬gers, with a special portion of the news from the unseen, which is more than that which has been given to all past prophets. This is the reason why the Holy Prophet has informed the Muslim Ummah of many events due to happen right through the day of Qiyamah, either briefly, or in details. All Al-Hadith given in the Kitab al-Fitan of Hadith books are full of them. Since common people take the Knowledge of the Unseen (i1m al-Ghayb) only in the sense that a person somehow gets to become aware of the news of the unseen, and this quality is found at its best in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، therefore, they think that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was ` Alim al-Ghayb (knower of the Unseen). But, the Holy Qur’ an has declared in very clear words that: لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ (No one in the heavens, or on the Earth, knows the unseen except Allah - 27:65) which proves that no one, other than Allah Ta` ala, can be called the ` Alim al-Ghayb or the Knower of the Unseen. The ` Jim of al-Ghayb (the knowledge of the unseen) is the unique attribute of Allah Ta` ala. Taking an apostle, messenger, prophet or angel as a sharer in this attribute amounts to equating him with Allah, and is what the Christians do, who declare a Messenger to be the son of God, and a partner in Godhead. The verses of the Holy Qur’ an quoted here make the truth of the matter very clear. It stands settled that the ilm of al-Ghayb (the knowledge of the unseen) is an exclusive attribute of Allah Ta` ala and the only ` Alim al-Ghayb (the Knower of the Unseen) is Allah jalla thana&uh Himself. However, there are many news of the unseen which Allah Ta` ala does give to his messengers through the medium of Wahy (revelation). This, in the terminology of the Holy Qur&an, is not known as the ilm of al-Ghayb (the knowledge of the unseen). Since common people do not understand this fine difference, they tend to take the news of the unseen as the knowledge of the unseen. This is why when one adheres to the ter¬minology of the Qur’ an and asserts that no one, other than Allah, can claim to know what is unseen, they would prefer to differ, rather than ac¬cept truth as it is.

خلاصہ تفسیر : یہ قصہ (جو اوپر بیان کیا گیا آپ کے اعتبار سے) غیب کی خبروں میں سے ہے (کیونکہ آپ کے پاس کوئی ظاہری ذریعہ اس کے جاننے کا نہیں تھا صرف) ہم (ہی) وحی کے ذریعہ سے آپ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور (یہ ظاہر ہے کہ) آپ ان (برادران یوسف) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنا ارادہ (یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنے کا) پختہ کرلیا تھا اور وہ (اس کے متعلق) تدبیریں کر رہے تھے (کہ آپ سے یوں کہیں کہ ان کو یوں لے جائیں وغیر ذٰلک، اور اس طرح یہ امریقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا بھی نہیں پس یہ صاف دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی) اور (باوجود نبوت پر دلائل قائم ہونے کے) اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے گو آپ کا کیسا ہی جی چاہتاہو اور (ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا تو کوئی نقصان ہی نہیں کیونکہ) آپ ان سے (قرآن) پر کچھ معاوضہ تو چاہتے نہیں (جس میں یہ احتمال ہو کہ اگر یہ قرآن کو قبول نہ کریں گے تو آپ کا معاوضہ فوت ہوجائے گا) یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے لئے نصیحت ہے (جو نہ مانے گا اسی کا نقصان ہوگا) اور (جیسی یہ لوگ منکر نبوت ہیں اسی طرح باوجود دلائل کے منکر توحید بھی ہیں چنانچہ) بہت سی نشانیاں ہیں (کہ توحید پر دلالت کرنے والی) آسمانوں میں (جیسا کواکب وغیرہ) اور زمین میں (جیسے عناصر و عنصریات) جن پر ان کا گذر ہوتا رہتا ہے (یعنی ان کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں) اور وہ ان کی طرف (ذرا) توجہ نہیں کرتے (یعنی ان سے استدلال نہیں کرتے) اور اکثر لوگ جو خدا کو مانتے ہیں تو اس طرح کہ شرک بھی کرتے جاتے ہیں (پس بدون توحید خدا کا ماننا مثل نہ ماننے کے ہے پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کیساتھ بھی کفر کرتے ہیں اور نبوت کیساتھ بھی کفر کرتے ہیں) سو کیا (اللہ و رسول کے منکر ہو کر) پھر بھی اس بات سے مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان پر خدا کے عذاب کی کوئی ایسی آفت آ پڑے جو ان کو محیط ہوجائے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور ان کو (پہلے سے) خبر بھی نہ ہو (مطلب یہ ہے کہ مقتضاء کفر کا عقوبت ہے خواہ دنیا میں نازل ہوجائے یا قیامت کے دن واقع ہو رہے ان کو ڈرنا اور کفر کو چھوڑنا دینا چاہئے) آپ فرما دیجئے کہ میں خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں (توحید کی اور اپنے داعی من اللہ ہونے کی) دلیل پر قائم ہوں میں بھی اور میرے ساتھ والے بھی (یعنی میرے پاس بھی دلیل ہے توحید و رسالت کی اور میرے ساتھ والے بھی استدلال کے ساتھ مجھ پر ایمان لائے ہیں میں بےدلیل بات کی طرف کسی کو نہیں بلاتادلیل سنو اور سمجھو پس حاصل طریق یہ ہوا کہ خدا واحد ہے اور میں داعی ہوں) اور اللہ (شرک سے) پاک ہے اور میں (اس طریق کو قبول کرتا ہوں اور) مشرکین میں سے نہیں ہوں اور (یہ جو نبوت پر شبہ کرتے ہیں کہ نبی فرشتہ ہونا چاہئے محض مہمل بات ہے کیونکہ) ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستی والوں میں سے جتنے (رسول) بھیجے سب آدمی ہی تھے جن کے پاس ہم وحی بھیجتے تھے (کوئی بھی فرشتہ نہ تھا جنہوں نے ان کو نہ مانا اور ایسے ہی مہمل شبہات کرتے رہے ان کو سزائیں دی گئیں اسی طرح ان کو بھی سزا ہوگی خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں اور یہ لوگ جو بےفکر ہیں تو کیا یہ الگ ملک میں (کہیں) چلے پھرے نہیں کہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا کیسا (برا) انجام ہوا جو ان سے پہلے (کافر) ہو گذرے ہیں اور (یاد رکھو کہ جس دنیا کی محبت میں مدہوش ہو کر تم نے کفر کیا ہے یہ دنیا فانی اور ہیچ ہے) البتہ عالم آخرت ان لوگوں کے لئے نہایت بہیودگی کی چیز ہے (شرک وغیرہ سے) احتیاط رکھتے ہیں (اور توحید و اطاعت اختیار کرتے ہیں) تو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے (کہ فانی اور بےحقیقت چیز اچھی ہے یا باقی اور پائدار) معارف و مسائل : ان آیات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ پورا بیان فرمانے کے بعد پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے، ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ یعنی یہ قصہ غیب کی ان خبروں میں سے ہے جو ہم نے بذریعہ وحی آپ کو بتلایا ہے آپ برادران یوسف کے پاس نہ تھے، جبکہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنا طے کرچکے تھے اور اس کے لئے تدبیریں کررہے تھے، اس اظہار کا مقصد یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے اس قصہ کو پوری تفصیل کے ساتھ صحیح صحیح بیان کردینا آپ کی نبوت اور وحی کی واضح دلیل ہے کیونکہ یہ قصہ آپ کے زمانہ سے ہزاروں سال پہلے کا ہے نہ آپ موجود تھے کہ دیکھ کر بیان فرمادیاہو اور نہ آپ نے کہیں کسی سے تعلیم حاصل کی، کہ کتب تاریخ دیکھ کر یا کسی سے سن کر بیان فرمادیا ہو اس لئے بجز وحی الہی ہونے کے اور کوئی راستہ اس کے علم کا نہیں ، قرآن کریم نے اس جگہ صرف اتنی بات پر اکتفاء فرمایا ہے کہ آپ وہاں موجود نہ تھے کسی دوسرے شخص یا کتاب سے اس کا علم حاصل نہ ہونے کا ذکر اس لئے ضروری نہیں سمجھا کہ پورا عرب جانتا تھا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امی ہیں آپ نے کسی لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا اور یہ بھی سب کو معلوم تھا کہ آپ کی پوری عمر مکہ معظمہ میں گذری ہے ملک شام کا ایک سفر تو اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ کیا تھا جس میں راستے ہی سے واپس تشریف لے آئے دوسرا سفر تجارت کے لئے کیا چند ایام میں کام کرکے واپس تشریف لے آئے اس سفر میں بھی کسی عالم سے ملاقات یا کسی علمی ادارے سے تعلق کا کوئی شائبہ نہیں تھا اس لئے اس جگہ اس کے ذکر کرنے کی ضرورت نہ سمجھی گئی اور قرآن کریم میں دوسری جگہ اس کا بھی ذکر فرمادیا ہے مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا یعنی نزول قرآن سے پہلے ان واقعات کو نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، امام بغوی (رح) نے فرمایا کہ یہود اور قریش نے مل کر آزمائش کے لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا کہ اگر آپ اپنے دعوائے نبوت میں سچے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بتلائیے کہ کیا اور کس طرح ہوا جب آپ نے بوحی الہی یہ سب بتلادیا اور وہ پھر بھی اپنے کفر و انکار پر جمے رہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صدمہ پہونچا اس پر اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ آپ کی نبوت و رسالت کے دلائل واضح ہونے کے باوجودبہت سے لوگ ایمان لانے والے نہیں آپ کتنی ہی کوشش کریں مطلب یہ ہے کہ آپ کا کام تبلیغ اور اصلاح کی کوشش ہے اس کا کامیاب بنانا نہ آپ کے اختیار میں ہے نہ آپ کے ذمہ ہے نہ آپ کو اس کا کوئی رنج ہونا چاہئے اس کے بعد فرمایا، احکام و ہدایات : اخبار غیب اور علم غیب میں فرق : ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ یہ سب کچھ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ بتلاتے ہیں یہی مضمون تقریبا انہی الفاظ کے ساتھ سورة آل عمران آیت نمبر ٤٤ میں حضرت مریم کے قصہ میں آیا ہے ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ اور سورة ہود کی آیت نمبر ٤٩ میں نوح (علیہ السلام) کے واقعہ سے متعلق آیا ہے تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ان آیتوں سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو بہت سی غیب کی خبروں پر بذریعہ وحی مطلع کردیتے ہیں خصوصا ہمارے رسول سید الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان غیب کی خبروں کا خاص حصہ عطا فرمایا ہے جو تمام انبیاع سابقین سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو قیامت تک ہونے والے بہت سے واقعات کا تفصیل یا اجمال سے پتہ دیا ہے کتب حدیث میں کتاب الفتن کی تمام حدیثیں اس سے بھری ہوئی ہیں عوام الناس چونکہ علم غیب صرف اسی کو جانتے ہیں کہ کوئی شخص غیب کی خبروں سے کسی طرح واقف ہوجائے اور یہ وصف رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بدرجہ اتم موجود ہے اس لیے خیال لئے خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم الغیب تھے مگر قرآن کریم نے صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم الغیب سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نہیں ہوسکتا علم غیب اللہ جل شانہ کی صفت خاصہ ہے اس میں کسی رسول یافرشتہ کو شریک سمجھنا ان کو برابر بنانے کی مرادف اور عیسائیوں کا عمل ہے جو رسول کو خدا کا بیٹا اور خدائی کا شریک قرار دیتے ہیں قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں سے معاملہ کی پوری حقیقت واضح ہوگئی کہ علم غیب تو صرف اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے اور عالم الغیب صرف اللہ جل شانہ ہی ہیں البتہ غیب کی بہت سی خبریں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بذریعہ وحی بتلا دیتے ہیں یہ قرآن کریم کی اصطلاح میں علم غیب نہیں کہلاتا اور عوام چونکہ اس باریک فرق کو نہیں سمجھتے تو غیب کہہ دیتی ہیں اور جب قرآنی اصطلاح کے مطابق غیر اللہ سے علم غیب کی نفی کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے اختلاف کرنے لگتے ہیں جس کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ۔ اختلاف خلق ازنام اوفتاد چوں بمعنی رفت آرام اوفتاد

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ ١٠٢؁ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے :

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٢) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ بیان کیا گیا یہ آپ کے اعتبار سے غیب کی خبروں میں سے ہے اور بذریعہ جبریل امین آپ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ برادران یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں موجود نہ تھے، جب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ یوسف (علیہ السلام) کی ہلاکت کے بارے میں تدابیر کررہے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

65: جیسا کہ شروع سورت میں عرض کیا گیا تھا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں نازل فرمایا تھا جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ پوچھ رہے تھے کہ بنی اسرائیل کے مصر میں آباد ہونے کی کیا وجہ تھی، ان کو یقین تھا کہ آپ کے پاس بنی اسرائیل کی تاریخ کے اس حصے کا علم نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے آپ کو یہ معلومات حاصل ہوسکیں، اس لئے ان کا خیال یہ تھا کہ آپ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ پوری سورت اس واقعے کو بیان فرمانے کے لئے نازل فرمادی، اب آخر میں یہ نتیجہ نکالا جارہا ہے کہ اس واقعے کو معلوم کرنے کا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وحی کے سوا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس کا تقاضا یہ تھا کہ جو لوگ یہ سوال کررہے تھے، وہ یہ تفصیل سننے کے بعد آپ کی نبوت اور رسالت پر ایمان لے آئیں ؛ لیکن چونکہ ان میں سے اکثر لوگوں کا ان سوالات سے یہ مقصد نہیں تھا کہ حق واضح ہونے کے بعد اس کو قبول کرلیں ؛ بلکہ یہ سارے سوالات صرف ضد کی وجہ سے کئے جارہے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں واضح فرمادیا کہ ان کھلے کھلے دلائل کے باوجود ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12: 102) ذلککا اشارہ ان واقعات کی طرف ہے جو قصہ یوسف میں اوپر بیان ہوئے ہیں اور یہ خطاب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ انباء الغیب۔ مضاف مضاف الیہ۔ غیب کی خبریں۔ نوحیہ۔ نوحی۔ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اسے وحی کرتے ہیں۔ ہم بذریعہ وحی (آپ پر) نازل فرماتے ہیں۔ لدیہم۔ لدی۔ مضاف ھم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس۔ لدی بمعنی پاس۔ طرف۔ حقیقت میں یہ لدن (طرف) کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اجمعوا۔ وہ جمع ہوئے۔ وہ متفق ہوئے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ امرہم۔ اپنی تجویز ۔ اپنا ارادہ ۔ اپنی بات۔ (کہ حضرت یوسف کو کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں) وہم یمکرون۔ درآں حالیکہ وہ اس بابت اپنی چالیں چل رہے تھے۔ تدبیریں کر رہے تھے۔ اجمعوا۔ امرھم۔ یمکرون میں ضمیر جمع مذکر غائب برادران ِ یوسف کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ تو پھر یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر کیسے معلوم ہوسکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو یہ واقعات کیونکر معلوم کرسکتے تھے اور تمہیں کیسے سنا سکتے تھے۔ نیز اشارہ ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں ہیں۔ ابن کثیر روح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ امر یقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی آیت : ٧ میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں جو سوال کیا ہے اگر تم غور کرو تو اس میں تمہارے لیے سامان عبرت ہے۔ پورا قصہ بیان کرکے اس کو مشرکین مکہ پر منطبق کردیا ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا یہ ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ جو آپ کے لیے غیب تھا۔ یعنی آپ اس واقعہ کو نہیں جانتے تھے، نہ آپ اس وقت موجود تھے جب برادران یوسف (علیہ السلام) نے ایک جگہ جمع ہو کر یہ سازش کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں مکہ والوں نے آپ سے سوال کیا۔ جس کے جواب میں ہم نے تفصیلی سورت آپ پر نازل فرمائی۔ یاد رکھیں آپ جتنا بھی ان کے ایمان کی کوشش اور تمنا کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ یہ لوگ سوچتے نہیں کہ آپ ان کی ہدایت کے لیے نہایت دلسوزی کے ساتھ صبح وشام محنت کر رہے ہیں اس پر آپ نے ان سے کوئی اجروصول نہیں کرنا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انتہائی کوشش تھی کہ لوگ شرک و بدعت اور ہر قسم کی رسومات چھوڑ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اس کے لیے رات کو اٹھ کر دعائیں کرتے اور دن کے وقت انتھک کوشش فرماتے کہ کسی نہ کسی طریقہ سے لوگ ہدایت قبول کرلیں۔ لیکن آپ کے مخاطبین کی اکثریت کی حالت یہ تھی کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دلیل یا معجزہ طلب کرتے جب ان کی خواہش پر کوئی معجزہ یا دلیل نازل ہوتی تو وہ قریب آنے کی بجائے پہلے سے بھی سے دور ہوجاتے تھے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مختلف الفاظ اور انداز میں تسلی دی جاتی کہ آپ دلگیر ہونے کی بجائے اپنا کام کرتے جائیں۔ یہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لیے فرمایا گیا ہے کہ آپ جس قدر چاہیں خواہش اور کوشش فرمائیں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ یا در ہے کہ ایمان ایسی گرانمایہ نعمت ہے جو خواہش اور کوشش کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے لیے یہ بات بھی اطمینان بخش ہے کہ آپ ان سے کسی اجر کے طلب گار نہیں ہیں آپ کا اجر آپ کے رب کے پاس پوری طرح محفوظ ہے جو کسی طرح کم ہونے والا نہیں۔ اس کے ساتھ آپ کے مخالفین کو سمجھایا گیا ہے کہ ذرا سوچو اور غور کرو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بےلوث محنت کر رہے ہیں اس میں ان کا کیا مفاد ہے ؟ وہ تو اپنے دن رات تمہارے فائدے کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ جو کچھ وہ فرماتے اور آپ کو بتلاتے ہیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے جس پر تمہیں ہر صورت غور کرنا چاہیے۔ مکر کا معنی دھوکہ، فریب، حیلہ و تدبیر اور سازش کرنا ہے اگر مکر کے لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی تدبیر کرنا ہوتا ہے۔ مسائل ١۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ٢۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت موجودنہ تھے جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے مکر کیا تھا۔ ٣۔ لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لایا کرتی۔ ٤۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب نہیں جانتے تھے : ١۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں آپ اس وقت موجود نہ تھے۔ (یوسف : ١٢) ٢۔ میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : ٥٠ ) ٣۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنے لیے ساری بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : ١٨٨) ٤۔ اللہ تعالیٰ کے سوا آسمان و زمین کا غائب کوئی نہیں جانتا۔ ( النمل : ٦٥) ٥۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو غیب پر مطلع نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٧٩) ٦۔ اللہ کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اللہ کے علاوہ انھیں کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : ٥٩) ٧۔ کہہ دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس : ٢٠) ٨۔ اللہ ہی غیب کو جاننے والا ہے اور وہ کسی پر غیب ظاہر نہیں ہوتا۔ (الجن : ٢٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١١١ تشریح آیات ١٠٢۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ ١١١ یہاں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اصل قصہ ختم ہوجاتا ہے اور اب اس پر سبق آموز تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس سورة پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے ان اغراض ومقاصد کی طرف اشارہ کیا تھا جس کے لئے یہ قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا۔ یہاں اب عبرت کے لئے کئی باتوں کی طرف قارئین کو متوجہ کیا جاتا ہے اور ان کے احساسات کو جگایا جاتا ہے۔ اس کائنات کی وسعتوں اور نفس انسانی کی گہرائیوں میں فکر انسانی کو دوڑایا جاتا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے حالات ، موجودہ حالات اور پردۂغیب کے پیچھے مستور حقائق بتائے جاتے ہیں۔ چناچہ اس آخری تبصرے کے اندر بیان کردہ حقائق کو ہم اسی ترتیب سے لیتے ہیں کیونکہ یہ قرآنی ترتیب بھی حکمت پر مبنی ہے۔ ٭٭٭ یہ قصہ عربوں میں مشہور نہ تھا ، وہ عرب معاشرہ جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پرورش پائی ان واقعات سے بیخبر تھا۔ انہی لوگوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی۔ چونکہ اس قصے کے کرداروں کے حالات میں بہتر اسرار و رموز تھے ، اگرچہ وہ صدیوں پرانے کردار تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورة کے آغاز ہی میں اسے احسن القصص کہا ہے۔ نحن نقص ۔۔۔۔۔۔ لمن الغفلین (١٢ : ٣) “ ہم آپ کے سامنے احسن القصص بیان کرتے ہیں ، یوں کہ ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا اگرچہ اس سے قبل آپ غافلوں میں سے تھے ”۔ اور اب اس قصے کے اختتام پر تعقیب یوں آرہی ہے ، اور یوں اس کے اختتام میں بھی اس کے آغاز کی طرف اشارہ ہے۔ آیت نمبر ١٠٢ یہ قصہ جو گزشتہ صفحات میں بیان کیا گیا ، ان غیبی خبروں میں سے ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔ تم بھی نہ جانتے تھے اور ہم نے یہ تمہاری طرف وحی کیے اور یہ ایک زندہ معجزہ ہے ، اے پیغمبر جب وہ یہ سازش تیار کر رہے تھے تو آپ ان کے پاس موجود نہ تھے ، خصوصاً جب انہوں نے اپنا ایکشن پلان تیار کرلیا اور جس کی تفصیلات اس پورے قصے میں دی گئیں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی سازش کی ، اپنے باپ کے خلاف بھی سازش کی۔ پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو پکڑ لیا تو یہ لوگ علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے جو ان کی جانب سے ایک مکر یعنی تدبیر تھا۔ نیز اس میں عورتوں کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی مکاریاں تھیں۔ پھر اس میں عزیز مصر کی پارلیمنٹ کی مکاری بھی تھی کہ انہوں نے ناحق حضرت یو سف (علیہ السلام) کو جیل بھجوا دیا۔ یہ سب کچھ مکر تھا اور اے پیغمبر آپ کو ان میں سے کسی مکاری کا علم نہ تھا۔ نہ آپ اس وقت موجود تھے کہ آپ نے اس قدر وقت کے ساتھ قلمبند کردیا بلکہ یہ وحی ہے اور اس سے اس نئے نظریہ حیات اور نئے دین کے بنیادی عقائد کو ثابت کرنا مقصود ہے۔ اور اس قصے کے مختلف مشاہد اور مناظر ہیں۔ اس جدید نظریہ حیات کے مسائل اور افکار اس میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ ٭٭٭ یہ قصہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ کلام وحی الٰہی ہے ، اس کے اشارات ، تاثرات اور ہدایات دلوں کو متحرک کرتی ہیں ، اور ان سب کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ پھر اس کلام پر ایمان لائیں۔ خصوصاً جبکہ یہ لوگ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذاتی احوال سے بھی باخبر ہیں۔ وہ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ ان کے سامنے ایسی ایسی نصیحت آموز غیبی دلچسپ خبریں دیتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت مان کر نہیں دیتی۔ لوگوں کی اکثریت اس کائنات میں بکھری ہوئی آیات و معجزات کو رات دن دیکھتے ہیں لیکن انہیں ہوش نہیں آتا۔ یہ لوگ ان آیات و دلائل کے مفہوم کو نہیں سمجھتے ۔ مثلاً ایک اندھے کی طرح کہ وہ ایک جانب سے دوسری منہ موڑتا ہے اور اسے کچھ خبر نہیں لگتی۔ سوال یہ ہے کہ اس معجزانہ قصہ کے بعد اب یہ لوگ کس بات کا انتظار کرتے ہیں۔ کیا وہ اللہ کے ایسے عذاب کا انتطار کر رہے ہیں کہ جو ان کو اچانک پکڑ لے اور ان کو کوئی شعور نہ ہو ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

غیب کی خبریں بتانا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی دلیل ہے یہ تو ہر دوست اور ہر دشمن کو معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی سے نہیں پڑھا تھا اور نہ ایسے لوگوں کی صحبت اٹھائی تھی جو سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ آپ کو بتاتے اور سناتے ٗ تفصیل کے ساتھ یہ قصہ بتادینا یہ واضح طریقہ پر آپ کی نبوت کی دلیل ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو یہ قصہ بتایا اور آپ نے لوگوں کو سنایا یہودیوں نے جب یہ قصہ سنا جسے وہ اپنے آباؤ اجداد سے سنتے آئے تھے تو انہیں اسلام قبول کرلینا لازم تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اسلام قبول نہیں کیا ‘ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے کفار مکہ سے کہا کہ تم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کرو کہ وہ کیا سبب تھا جس کی وجہ سے بنی اسرائیل اپنے وطن کو چھوڑ کر مصر میں آکر آباد ہوئے قریش نے آپ سے سوال کیا تو سورة یوسف نازل ہوئی ‘ یہودی اپنے خیال میں بہت دور کی کوڑی اٹھا کر لائے تھے اور انہوں نے سمجھا تھا کہ آپ کی طرف سے اس کا جواب نہ مل سکے گا اور قریش مکہ بھی چاہتے تھے کہ آپ کو کسی طرح زچ کریں لیکن جب جواب مل گیا تو دونوں فریق وہیں رہے جہاں تھے یعنی اسلام قبول نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں ہم آپ کو وحی کے ذریعے بتاتے ہیں ‘ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں مل کر یہ طے کرلیا کہ ان کو کنویں میں ڈال دیں اور وہ طرح طرح کی تدبیریں سوچ رہے تھے اس وقت وہاں آپ موجود نہیں تھے ‘ یہ بات یہودیوں کو معلوم تھی اور قریش مکہ کو بھی سمجھا دی تھی پھر یہ بات آپ کو کس نے بتادی ‘ ظاہر ہے کہ وحی کے ذریعہ اس بات کا علم ہوا لہٰذا سوال کرنے والوں اور سوال کی تلقین کرنے والوں پر لازم ہوا کہ آپ کی تصدیق کریں اور آپ پر ایمان لائیں ‘ آپ کا دل چاہتا تھا کہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیں معجزات سامنے آتے رہتے تھے لیکن اسلام قبول نہیں کرتے تھے ‘ آپ کو امید تھی کہ یہ قصہ سن کر یہودی اور قریش مسلمان ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا حالانکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بتادیں تو اسلام قبول کرلیں گے (کماذ کرہ صاحب الروح عن بعضہم ص ٦٥ ج ١٣) آپ کو حرص تھی کہ لوگ اسلام قبول کرلیں اور خصوصاً قصہ یوسفی سنانے کے بعد تو اور زیادہ امید ہوگئی تھی جب وہ لوگ ایمان نہ لائے تو آپ کو رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے آپ کے رنج کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں اگرچہ آپ اس بات میں حرص کریں اس کے بعد فرمایا (وَمَا تَسْءَلُھُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ) آپ ان سے اس پر کسی معاوضے کا سوال نہیں کرتے (اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ) (یہ جہاں والوں کے لئے صرف نصیحت ہی ہے) ان کے ایمان نہ لانے میں آپ کا کوئی نقصان نہیں ان کا اپنا خسارہ ہے کہ نصیحت کو نہیں مانتے اور حق کی طرف نہیں آتے۔ فوائد و مسائل : سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا قصہ ختم ہوا قصہ بیان کرتے ہوئے تفسیر کے دوران ہم نے بہت سے فوائد اور ضروری امور لکھ دئیے ہیں لیکن بعض باتیں رہ گئی ہیں جنہیں مفسرین نے بیان کیا ہے ذیل میں وہ بھی لکھی جاتی ہیں جو کوئی بات مکرر آگئی ہے قند مکرر سمجھ کر لکھ دیا گیا ہے۔ (١) اچھا خواب اللہ کی نعمت ہے ‘ مومن کے لئے بشارت ہے اور خواب کی تعبیر جاننا بھی اللہ کی نعمت ہے۔ (٢) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ تجھے تکلیف دینے کی تدبیر کریں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اسے فلاں شخص نقصان پہنچائے گا تو جسے تکلیف پہنچانے کا احتمال ہو اسے یہ بات بتادینا کہ تم احتیاط سے رہو فلاں شخص کی طرف سے تمہیں تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے یہ غیبت حرام میں شامل نہیں۔ (٣) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی پیغمبر نہیں تھے ورنہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو بوڑھے باپ سے جدا کرنے کی تدبیر نہ کرتے ‘ باپ کو تکلیف پہنچانا اور باپ بھی وہ جو اللہ کا پیغمبر ہے اس کا صدور کسی پیغمبر سے نہیں ہوسکتا انہوں نے بہت بڑے فسق کا عمل کیا ‘ معلوم ہوا کہ صالحین کی اولاد سے بھی گناہ کبیرہ ہوسکتا ہے ‘ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اولاد کے گناہوں کی وجہ سے ماں باپ پر طعن وتشنیع کرنا یا انہیں گناہوں میں شامل سمجھنا صحیح نہیں جب کہ انہوں نے تعلیم اور تربیت میں کوتاہی نہ کی ہو جب انہوں نے نیکی کی راہ بتادی اور یہ بتادیا کہ یہ چیزیں گناہ کی ہیں تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوگئے۔ (٤) حضرت یوسف (علیہ السلام) بارہ بھائی تھے دس حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پہلی بیوی سے تھے اور دوان کی دوسری بیوی سے تھے ‘ یعنی یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین (یہ دونوں حقیقی بھائی تھے) ان بارہ بیٹوں سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی نسل چلی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا اس لئے ان کے تمام بیٹوں کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اس وقت جو آپ کی بیوی تھی اور بارہ بیٹے اپنی ازوج و اولاد کے ساتھ مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ کا مصر میں انتقال ہوگیا اور ان کی وصیت کے مطابق ان کو سابقہ وطن یعنی کنعان میں لا کر دفن کردیا گیا جیسا کہ کتب تفسیر میں مرقوم ہے ان کے بیٹے مصر ہی میں رہتے رہے ان کی نسلیں آگے بڑھیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان لوگوں کا اقتدار میں کچھ بھی حصہ نہ رہا اور وہاں سے واپس آکر اپنے وطن کنعان میں بھی آباد نہ ہوئے مصریوں نے انہیں بری طرح غلام بنا رکھا تھا سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ مصری ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور یہ ان کے سامنے اف بھی نہ کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو مصر سے لے کر نکلے جس کا واقعہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے تو اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلوں میں منقسم تھی یہی وہ بارہ قبیلے تھے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میدان تیہ میں پانی کے لئے پتھر میں لاٹھی مارتے تھے تو بارہ چشمے جاری ہوجاتے تھے تو ہر قبیلہ اپنے اپنے چشمے سے پانی پی لیتا تھا تاریخ و تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ لوگ چار سو سال (٤٠٠) کے بعد مصر سے نکلے تھے۔ (٥) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جو اپنے والد سے یوں کہا کہ یوسف کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے وہ کھائے گا اور کھیلے گا اس کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ کھیلنا ممنوع کام ہے میں اس کے لئے نہیں بھیجتا بلکہ یوں فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھاجائے ‘ حضرات علمائے کرام نے اس سے یہ مستنبط کیا ہے کہ سیرو تفریح اور کھیل کو دجو حدود شرعیہ کے اندر ہو جائز اور مباح ہے بچوں کو اس کا کھیلنا جائز ہے ‘ اور بالغین بھی آپس میں دوڑ لگا سکتے ہیں بلکہ خیر کی نیت سے ہو تو اس میں ثواب بھی ہے ‘ حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے ملک روم (یورپ کا علاقہ) فتح ہوگا اور اللہ ان کے شر کو تم سے دور رکھے گا تو تم میں سے کوئی ایک شخص اس سے عاجز نہ ہوجائے کہ اپنے تیروں سے کھیلا کرے (یعنی تیراندازی کی مشق ہمیشہ کرتے رہو) (رواہ مسلم) چونکہ تیروں کا پھینکنا جنگ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے (اور اب تو جدید آلات حرب کا پھینکنا جنگ کا معیار بن گیا ہے) اس لیے آپ نے تیر اندازی کی مشق کا حکم دیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑ دوڑ بھی کراتے تھے جس میں گھوڑوں کا مقابلہ ہوتا تھا (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٣٦) جو بھی کوئی کھیل ایسا ہو جس میں کشف عورت نہ ہو ‘ نماز سے غفلت نہ ہو ‘ جو انہ ہو اور اس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو ‘ ایسا کھیل کھیلنا جائز ہے۔ (٦) جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے قتل کا ارادہ کیا تو ان میں سے ایک بھائی نے جو سب سے بڑا تھا یوں کہا کہ اسے قتل نہ کرو بلکہ کسی کنویں میں ڈال دو تاکہ اسے آنے جانے والے قافلے اٹھالیں ‘ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب کوئی جماعت کسی شرکا ارادہ کر ہی لے تو جس سے ہو سکے انہیں منع کر دے اگر بالکل منع نہ کرسکے تو کم از کم ایسی بات کا مشورہ دے دے جو فساد اور قباحت اور شناعت کے اعتبار سے ہلکی ہو۔ (٧) جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں باخبر فرما دیا کہ ایسا وقت آئے گا جبکہ تم ان کا یہ عمل یاد دلاؤ گے اور اسے لفظ اوحینا سے تعبیر فرمایا ‘ عام طور سے لفظ وحی اللہ تعالیٰ کے انہی پیغامات کے لئے استعمال ہوتا تھا جو انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے پاس فرشتے کے ذریعے آتے تھے لیکن بعض دیگر مواقع کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے بارے میں فرمایا (وَاَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّ مُوْسیٰ اَنْ اَرْضِعِیْہِ ) اور شہد کی مکھی کے لئے (وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ ) فرمایا ہے ‘ چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کنویں میں ڈالے جانے کے وقت کمسن تھے اس لئے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ان کو تسلی دینا اور یہ ارشاد فرمانا کہ تم اس بات کو اپنے بھائیوں کو بتاؤ گے الہام کے طور پر تھا ‘ نبوت والی وحی سے اس وقت سر فراز نہیں ہوئے تھے ‘ روح المعانی میں اس قول کو حضرت مجاہد تابعی کی طرف منسوب کیا ہے ان کی اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ چند آیات کے بعد اللہ جل شانہ نے (وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا) فرمایا ہے حضرت ابن عباس (رض) نے حکم کو نبوت کے معنی میں لیا ہے۔ (٨) برادران یوسف جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ پر خون لگا کر لائے اور اپنے والد سے کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اپنی بات کی تصدیق کے لیے بطور سند خون آلود کرتہ پیش کیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اندازہ لگا لیا کہ یوسف کو بھیڑیا نے نہیں کھایا اور کرتہ کو صحیح سالم دیکھ کر انہوں نے سمجھ لیا کہ ان کا بیان غلط ہے ‘ بھیڑیا کھاتا تو کرتہ پھٹا ہوا ہوتا اور اپنی فہم و فراست پر انہیں اتنا اعتماد ہوا تو ان سے فرما دیا کہ (سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا) (بلکہ بات یہ ہے کہ تمہارے نفسوں نے ایک بات بنا لی ہے) اس سے معلوم ہوا کہ قاضی اور حاکم فریقین کے بیانات کے ساتھ حق اور ناحق کی چھان بین کے لیے اصول کے مطابق فیصلہ تو گواہوں اور قسم ہی کے ذریعہ کرے لیکن احوال اور قرائن میں غور کرنے سے حق اور حقیقت تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ (٩) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بہت بڑا صدمہ پہنچا کہ ان کا چہیتا بیٹا نظروں سے اوجھل ہوگیا انہوں نے بیٹوں کی غلط بیانی تو پکڑ لی لیکن آگے کچھ کر نہیں سکتے تھے صبر کے سوا چارہ بھی کیا تھا لہٰذا انہوں نے فرمایا فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ اور ساتھ ہی یوں بھی کہا (وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَ ) (کہ اللہ تعالیٰ ہی سے اس پر مدد مانگتا ہوں جو تم بیان کرتے ہو) اس سے معلوم ہوا کہ صبر جمیل بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف برابر توجہ بھی رہے ‘ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا رہے اور مشکل حل ہونے کے لیے دعا کرتا رہے صبر جمیل وہ ہے جس میں شکوہ شکایت نہ ہو۔ (١٠) قرآن مجید میں تصریح ہے کہ جس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا وہ عزیز تھا اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وزیر خزانہ تھا اور نام اس کا قطفیر تھا اور مصر کا بادشاہ دوسرا شخص تھا کیونکہ بادشاہ کا ذکر قرآن مجید میں عزیز مصر کے واقعہ کے بعد موجود ہے ‘ مفسرین لکھتے ہیں کہ بادشاہ کا نام ریان تھا جو قوم عمالقہ میں سے تھا یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے پہلے ہی بحالت اسلام انتقال کر گیا۔ (١١) عزیز مصر کی بیوی جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو برے کام کے لئے پھسلایا تھا اس کا نام عام طور سے زلیخا مشہور ہے اور یہ بھی مشہور ہے کہ بعد میں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس کا نکاح ہوا یہ باتیں اسرائیلیات سے لی گئی ہیں قرآن مجید میں یا احادیث شریف میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ (١٢) عزیز مصر کی بیوی نے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پھسلایا اور لبھایا تو اس نے دروازے بند کر دئیے اور ھَیْتَ لَکَ کہہ کر اپنا مقصد ظاہر کردیا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں ایسے کام سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ‘ اور یہ بھی کہا کہ تیرا شوہر میرا محسن ہے اس نے میری پرورش کی ہے۔ مجھے اچھی طرح رکھا ہے اب میں یہ خیانت کیسے کرسکتا ہوں کہ اس کی بیوی کے ساتھ ایسا کام کروں اگر میں ایسا کروں تو یہ ظلم اور ناشکری کی بات ہوگی ‘ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہوتے ‘ وقتی طور پر ان کے نفس کی کوئی خواہش پوری ہوجائے لیکن آئندہ زندگی میں وہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہوں گے۔ (١٣) یہ تو انہوں نے زبانی طور پر اس عورت کو سمجھایا اور اپنی طرف سے اسے ناامید کرنے کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی یہ ہوا کہ وہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے وہ عورت بھی پیچھے دوڑی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ دروازے بند ہیں اس کے باوجود بھی انہوں نے دوڑ لگا دی اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی گناہ کے موقع میں پھنس جائے تو اس سے بچنے کی ہر طرح کی تدبیر کرلے اور اپنے بس میں جو کچھ ہو گناہ سے بچنے کے لیے اسے استعمال کرے جب اپنی طاقت کے بقدر محنت اور کوشش کر گزرے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آجائے گی۔ (١٤) جیسے مختلف حیثیتوں کے اعتبار سے نیکی کا وزن بڑھ جاتا ہے اسی طرح گناہوں سے بچنے کی لائن میں بھی بعض حیثیتوں سے ثواب بڑھ جاتا ہے کسی شخص سے کوئی بد صورت گری ہوئی عورت بھنگن چمارن برے کام کے لئے کہے تو اس سے بچنا بھی بڑی ہمت کی بات ہے لیکن اگر کسی شخص سے کوئی دنیاوی اعتبار سے بڑے مرتبہ والی عورت اور وہ بھی جو حسین جمیل ہو بدکاری کی دعوت دے اس سے بچ جانا بہت بڑے درجہ کی بات ہے اور یہ تقویٰ پہلے شخص کے تقویٰ سے بہت زیادہ بلند ہے ‘ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے سات آدمیوں کا ذکر فرمایا جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں رکھے گا ‘ جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ان سات آدمیوں میں سے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرمایا ورجل دعتہ امراۃ ذات حسب و جمال فقال انی اخاف اللہ (اور ایک وہ شخص جسے مرتبہ اور حسن و جمال والی عورت نے برے کام کے لئے دعوت دی تو اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٦٨) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جس عورت نے برے کام کی دعوت دی تھی وہ وزیر کی بیوی تھی بظاہر وہ خوب صورت بھی ہوگی لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صاف انکار کردیا ‘ در حقیقت یہ بڑے دل گردہ کی بات ہے ایسے موقع پر گناہ سے بچ جانا بڑی ہمت اور قوی ایمان کی دلیل ہے اور سب سے بڑی چیز اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے کوئی نشانی ظاہر فرما دی جو گناہ سے مانع بن گئی اور نشانی کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْءَ وَالْفَحْشَآءَ ) (ہم نے اسی طرح ان کو علم دیا تاکہ ہم ان سے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو دور رکھیں۔ ) (١٥) حسن اخلاق اور حسن معاشرت بڑی عمدہ چیز ہے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں پہنچے تو وہاں جو دوسرے قیدی تھے (عموماً جرائم کی وجہ سے محبوس اور مسجون ہوتے ہیں) ان کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خوش خلقی کا ایسا عمدہ برتاؤ کیا کہ وہ لوگ آپ کے گرویدہ ہوگئے دو شخصوں نے خواب دیکھا اور اس کی تعبیر لینے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بےساختہ ان کے منہ سے یہ نکل گیا کہ (اِنَّا نَرٰکَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ) خاص کر مبلغ ‘ مصلح اور داعی کو تو اور زیادہ خوش اخلاق ہونا ضروری ہے اس کے بغیر اس کا کام آگے نہیں بڑھتا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق صدق و سچائی اور حسن معاشرت نے قیدیوں کے دلوں میں اس قدر گھر کرلیا تھا کہ بادشاہ کے خواب کی کوئی شخص تعبیر نہ دے سکا تو اس ایک شخص نے کہا جو جیل سے رہا ہوا تھا کہ میں تمہیں خواب کی تعبیر بتاؤں گا وہ جیل میں آیا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے (یُوْسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ ) کہہ کر خطاب کیا اور اپنی عقیدت کی وجہ سے لفظ الصدیق کے بغیر بات کرنا گوارہ نہ کیا۔ (١٦) جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے طرز عمل سے یہ واضح ہوا کہ جب کسی داعی مبلغ سے کسی کا کام پڑجائے تو اسے ارشاد واصلاح کا ذریعہ بنالے ‘ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) سے دو جوانوں نے خواب کی تعبیر پوچھی تو آپ نے تعبیر بعد میں بتائی اور موقع مناسب جان کر پہلے توحید کی دعوت دے دی اور اپنا تعارف بھی کرا دیا کہ میں کافروں کی ملت پر نہیں ہوں اور اپنے باپ دادا ابراہیم ‘ اسحاق اور یعقوب ( علیہ السلام) کے دین پر ہوں جو اللہ کے نبی تھے۔ (١٧) جیل سے جس شخص کی رہائی ہوئی اس سے یوسف (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کردینا اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت سے چھٹکارا کے لئے کوشش کرنا اور کسی کو واسطہ بنانا یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔ (١٨) کیسے بھی اسباب اختیار کر لئے جائیں ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں ہو ‘ جب اللہ کی مشیت ہو اور قضا و قدر کے اعتبار سے مقرر وقت آچکا ہو سبب بھی اسی وقت کام دیتا ہے اور دوا بھی اسی وقت فائدہ مند ہوتی ہے دوا بنانے والے طبیب سے بھی اسی وقت ملاقات ہوتی ہے بلکہ بعض مرتبہ دعا کی بھی توفیق اسی وقت ہوتی ہے جب کام ہونے کا وقت مقرر آپہنچا ہو قد جرب ذلک کثیرا دعا ‘ دوا اسباب اختیار کرتا رہے اللہ کے فضل کا امید وار رہے ‘ جب اللہ چاہے گا فائدہ پہنچ جائے گا ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل سے رہا ہونے والے شخص سے فرما دیا تھا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کردینا لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا ‘ لہٰذا چند سال جیل میں رہنا پڑا ‘ پھر جب قضاء وقدر کے موافق جیل سے نکلنے کا وقت آیا تو بادشاہ کا خواب اور جیل سے نجات پانے والے کو یاد آجانا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا ظاہری سبب بن گیا۔ (١٩) جیل سے رہا ہونے والا ساتھی برسوں کے بعد جب خواب کی تعبیر لینے کے لیے واپس لوٹا تو حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بڑے حلم اور بردباری سے کام لیا آپ نے اسے کچھ ملامت نہ کی اور یوں نہ فرمایا کہ تجھ سے اتنا کہا تھا کہ اپنے آقا سے میرا تذکرہ کردینا تو نے کچھ بھی نہ کیا۔ (٢٠) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بھی دی اور خیر خواہانہ مشورہ بھی دیا کہ سات سال تک جو غلہ پیدا ہوگا اس کو بالوں میں محفوظ رکھنا تاکہ غلہ میں کیڑا نہ لگ جائے یہ ایک تجربہ کی بات ہے کہ جب تک غلہ خوشہ کے اندر رہتا ہے اسے کیڑا نہیں لگتا اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی امور کے بارے میں مشورہ دینا اور اپنے تجربہ کے موافق انتظام کے طریقے سمجھانا یہ کوئی بزرگی اور نیکی کے خلاف نہیں ہے ‘ اگر معاشی حالات درست کرنے کے لیے تجربات کو کام میں لایا جائے (جو شریعت کے خلاف نہ ہوں) تو یہ بات قابل نکیر نہیں ہے۔ (٢١) عزیز مصر کے گھر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کئی سال رہے اس نے اور اس کی بیوی نے اکرام سے رکھا کھلایا پلایا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی احسان مندی کو سامنے رکھا اور جب بادشاہ کے سامنے اپنے معاملہ کی تحقیقات کا موقع آیا تو انہوں نے معاملہ کو ان عورتوں پر ڈال دیا جو عزیز مصر کی بیوی کی دعوت پر جمع ہوئی تھیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ‘ بات کو صاف کرنے کے لئے یوں فرمایا : (مَا بَال النِّسْوَۃِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ ) اور یوں نہیں فرمایا کہ عزیز کی بیوی سے دریافت کیا جائے ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی بیوی کا تو نام نہ لیا لیکن عزیز مصر کی بیوی خود بول اٹھی اور اپنے جرم کی اقراری ہوگئی اور اس نے بر ملا اقرار کیا۔ (اَلْءٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) کہ اب حق ظاہر ہوگیا میں نے اس سے اپنے مطلب نکالنے کا ارادہ کیا بلاشبہ وہ سچوں میں سے ہے۔ (٢٢) جب شاہی دربار میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت ظاہر ہوگئی تو انہوں نے یوں فرمایا (وَمَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لاََمَّارَۃٌ م بالسُّؤْءِ ) (کہ میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا بیشک نفس برائی کا حکم دینے والا ہے) اس میں یہ بات بتائی کہ جس موقع پر میں گناہ سے بچا ہوں یہ بچ جانا میرا ذاتی کوئی کمال نہ تھا نفس کا کام تو یہی ہے کہ گناہوں کا حکم دیا کرے اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ (ہاں اللہ تعالیٰ دستگیری فرما لے تو انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے) اس میں متقیوں پرہیزگاروں کو تنبیہ ہے کہ گناہوں سے بچنے کی جو توفیق ہوتی رہتی ہے اس پر نہ اترائیں اور نہ ناز کریں (اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (بلاشبہ میرا رب بڑی مغفرت والا اور بڑی رحمت والا ہے) ۔ (٢٣) قرآن حکیم میں نفس امارہ اور نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ تینوں کا ذکر آیا ہے حضرت حکیم الامت قدس سرہ بیان القرآن میں تحریر فرماتے ہیں کہ امارہ اگر توبہ کرلے تو اس کی مغفرت فرمائی جاتی ہے اور مرتبہ توبہ میں وہ لوامہ کہلاتا ہے اور جو مطمئنہ ہے وہ کمال اس کا لازم ذات نہیں بلکہ عنایت ورحمت کا اثر ہے ‘ پس امارہ کے لوامہ ہونے پر غفور کا ظہور ہوتا ہے اور مطمئنہ میں رحیم کا۔ (٢٤) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو اپنے بارے میں (اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ) فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ دینی ضرورت کے موقع پر اپنے کسی کمال یا فضیلت کا ذکر کردینا جائز ہے اور یہ اس تزکیہ نفس میں نہیں آتا جس کی ممانعت قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہے بشرطیکہ اس کا ذکر کرنا غرور وتکبر اور فخر کے لیے نہ ہو۔ (٢٥) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی پہلی بار جب مصر سے غلہ لے کر واپس ہونے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تمہارا جو ایک باپ شریک بھائی ہے اب کی مرتبہ اس کو بھی لے آنا اگر تم اسے ساتھ نہ لائے تو پھر تمہیں غلہ نہیں ملے گا ‘ جب ان لوگوں نے واپس ہو کر اپنے والد سے بیان کیا کہ عزیز مصر نے یہ بات کہی ہے کہ اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو غلہ نہیں ملے گا اور یہ بیان کر کے انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہمیں پھرجانا ہے لہٰذا چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ بھیج دیا جائے والد صاحب کو بھیجنے میں تردد تو ہوا لیکن انہوں نے فرمایا کہ جاؤ اللہ بہترین حافظ ہے بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر ہے اور حقیقی محافظ وہی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ حفاظت کی نسبت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کردی اور ان سے قسم بھی لی کہ اسے تم ضرور واپس اپنے ہمراہ لے کر آؤ گے جب انہیں قسم دی تو ساتھ ہی (اِلَّا اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ ) بھی فرما دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم واقعی اس کے لانے سے مجبور ہوجاؤ تو یہ دوسری بات ہے ‘ اس میں اس بات کو بیان فرمایا کہ تم کیسا ہی وعدہ کرلو کیسی ہی قسم کھالو ہوگا وہی جو اللہ کی قضاء و قدر میں ہوگا اگر تم کسی ایسی مصیبت میں گھر گئے کہ اسے ساتھ نہ لاسکے اور اللہ کی قضاء و قدر غالب آگئی تو یہ صورت قسم میں شامل نہیں اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص قسم کھائے یا قسم کھلائے تو ساتھ یہ بھی کہہ دے کہ اللہ کی طرف سے کوئی مجبوری اور معذوری پیش آگئی تو وہ مستثنیٰ ہے اگر کسی نے کسی سے وعدہ لیا اور اس نے پختہ وعدہ کرلیا اور اپنی طاقت کے بقدر اس نے پورا کرنے کی کوشش کی اور پھر بےبس اور مجبور ہونے کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرسکا تو اس کو سرزنش اور ملامت نہ کی جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

87:۔ یہ تیسرا دعویٰ ہے یعنی آپ سچے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آپ کو امور غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ بھی ایک امر غیبی تھا جس کی ہم نے آپ کو بذریعہ وحی اطلاع دی اور سارا قصہ تفصیل سے بیان کردیا حالانکہ جب برادران یوسف (علیہ السلام) اپنا پروگرام بنا رہے تھے اور جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے۔ ” اَلْمَعنیٰ ان ھذا النبا غیب لم یحصل لک الا من جہۃ الوحی لانک لم تحضر بنی یعقوب حین اتفقوا علی القاء اخیھم فی البئر “ (مدارک ج 2 ص 184) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

102 ۔ اپنے پیغمبر ! یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ سے بتاتے ہیں ورنہ آپ تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ فریب آمیز تدبیریں کر رہے تھے ۔ یعنی یہ قصہ بھی منجملہ اور واقعات کے غیب میں سے ہے اگر ہم وحی کے ذریعہ نہ بتاتے تو آپ کو معلوم ہی نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ جس وقت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے خلاف نقصان پہنچانے کا عزم کر رہے تھے اس وقت آپ تو وہاں تھے نہیں پھر توریت اور انجیل میں بھی یہ تفصیل یہ تھی پھر تمہارے علم کا ذریعہ بجز ہماری وحی کے اور کیا ہوسکتا تھا۔ اس قصہ کا اس تفصیل کے ساتھ صحیح بیان کردینا آپ کی رسالت کی صاف اور کھلی دلیل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ مذکور تورات میں اور پہلی کتابوں میں بھی نہیں ۔ 12