Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 41

سورة يوسف

یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُ کُمَا فَیَسۡقِیۡ رَبَّہٗ خَمۡرًا ۚ وَ اَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصۡلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ قُضِیَ الۡاَمۡرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسۡتَفۡتِیٰنِ ﴿ؕ۴۱﴾

O two companions of prison, as for one of you, he will give drink to his master of wine; but as for the other, he will be crucified, and the birds will eat from his head. The matter has been decreed about which you both inquire."

اے میرے قید خانے کے رفیقو! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کھائیں گے تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Interpretation of the Dreams When Yusuf finished calling them, he started interpreting their dreams for them, Yusuf said, يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا ... O two companions of the prison! As for one of you, he will pour out wine for his master to drink; to the man who saw in a dream that he was pressing wine. He did not direct this speech at him, however, so that to lessen the grief of the other person. This is why he made his statement indirect, ... وَأَمَّا الاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ ... and as for the other, he will be crucified and birds will eat from his head. which is the interpretation of the other man's dream in which he saw himself carrying bread above his head. Yusuf told them that the decision about their matter has already been taken and it shall come to pass. This is because the dream is tied to a bird's leg, as long as it is not truthfully interpreted. If it is interpreted, then it becomes a reality. Ath-Thawri said that Imarah bin Al-Qa`qa` narrated that Ibrahim said that Abdullah bin Mas`ud said, "When they said what they said to him, and he explained their dreams to them, they replied, `We did not see anything at all.' This is when he said, ... قُضِيَ الاَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ Thus is the case judged concerning which you both did inquire." The understanding in this is that he who claims that he saw a dream and was given its interpretation, then he will be tied to its interpretation, and Allah has the best knowledge. There is an honorable Hadith that Imam Ahmad collected from Mu`awiyah bin Haydah that the Prophet said, الرُّوْيَا عَلَى رِجْلِ طَايِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَت The dream is tied to a bird's leg, as long as it is not interpreted. If it is interpreted, it becomes a reality.

خواب اور اس کی تعبیر اب اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ان کے خواب کی تعبیر بتلا رہے ہیں لیکن یہ نہیں فرماتے کہ تیری خواب کی یہ تعبیر ہے اور تیرے خواب کی یہ تعبیر ہے تاکہ ایک رنجیدہ نہ ہو جائے اور موت سے پہلے اس پر موت کا بوجھ نہ پڑ جائے ۔ بلکہ مبہم کر کے فرماتے ہیں تم دو میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کا ساقی بن جائے گا یہ دراصل یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے جس نے شیرہ انگور تیار کرتے اپنے تئیں دیکھا تھا ۔ اور دوسرے جس نے اپنے سر پر روٹیاں دیکھی تھیں ۔ اس کے خواب کی تعبیر یہ دی کہ اسے سولی دی جائے گی اور پرندے اس کا مغز کھائیں گے ۔ پھر ساتھ ہی فرمایا کہ یہ اب ہو کر ہی رہے گا ۔ اس لیے کہ جب تک خواب کی تعبیر بیان نہ کی جائے وہ معلق رہتا ہے اور جب تعبیر ہو چکی وہ ظاہر ہو جاتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ تعبیر سننے کے بعد ان دونوں نے کہا کہ ہم نے تو دراصل کوئی خواب دیکھا ہی نہیں ۔ آپ نے فرمایا اب تو تمہارے سوال کے مطابق ظاہر ہو کر ہی رہے گا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص خواہ مخواہ کا خواب گھڑ لے اور پھر اس کی تعبیر بھی دی دے دی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خواب گویا پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک اس کی تعبیر نہ دے دی جائے جب تعبیر دے دی گئی پھر وہ واقع ہو جاتا ہے مسند ابو یعلی میں مرفوعا مروی ہے کہ خواب کی تعبیر سب سے پہلے جس نے دی اس کے لیے ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 توحید کا وعظ کرنے کے بعد اب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے بیان کردہ خوابوں کی تعبیر بیان فرما رہے ہیں۔ 41۔ 2 یہ وہی شخص ہے جس نے خواب میں اپنے آپ کو انگور کا شیرہ کرتے ہوئے دیکھا تھا تاہم آپ نے دونوں میں سے کسی ایک کی تعبین نہیں کی تاکہ مرنے والا پہلے ہی غم و حزن میں مبتلا نہ ہوجائے۔ 41۔ 3 یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے سر پر خواب میں روٹیاں اٹھائے دیکھا تھا۔ 41۔ 4 یعنی تقدیر الٰہی میں پہلے سے یہ بات ثبت ہے اور جو تعبیر میں نے بتلائی ہے۔ لا محالہ واقع ہو کر رہے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ ' خواب، جب تک اس کی تعبیر نہ کی جائے، پرندے کے پاؤں پر ہے۔ جب اس کی تعبیر کردی جائے تو واقع ہوجاتا ہے ' (مسند احم بحوالہ ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] خوابوں کی تعبیر :۔ اس طرح موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیدنا یوسف نے ان دونوں سوال کرنے والوں کو دل نشین پیرایہ میں اصول دین سمجھا دیئے پھر ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی اور ساقی سے کہا کہ تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم اپنی سابقہ ملازمت پر بحال کردیئے جاؤ گے اور نانبائی سے کہا کہ تمہیں سولی پر چڑھا دیا جائے گا اور تمہاری موت کے بعد پرندے نوچ نوچ کر تمہارا گوشت کھائیں گے۔ یعنی ساقی پر الزام غلط ثابت ہوا اور نانبائی حقیقتاً مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ تعبیر سن کر نانبائی کہنے لگا کہ مجھے ایسی خواب نہیں آئی تھی میں تو ویسے ہی اس طرح کے خواب کی تعبیر پوچھنا چاہتا تھا سیدنا یوسف نے فرمایا : تمہیں خواب آئی تھی یا نہیں۔ بہرحال تقدیر میں یہ فیصلہ ہوچکا اور اب یہ واقعہ ہو کے رہے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ۔۔ : تعبیر بیان کرتے وقت یوسف (علیہ السلام) کے حسن ادا کو ملاحظہ فرمائیں، ایک تو دونوں میں سے ایک کو متعین کرکے نہیں فرمایا کہ تیرے خواب کا یہ نتیجہ ہے اور تیرے خواب کا یہ، حالانکہ جواب سے ظاہر تھا کہ ساقی نے عہدے پر بحال ہونا ہے اور دوسرے نے سولی چڑھنا ہے، بلکہ فرمایا تم میں سے ایک کی تعبیر یہ ہے اور ایک کی یہ۔ پھر اس بات کو بھی سامنے رکھیے کہ پہلے وہ تعبیر بتائی جو خوش خبری والی تھی، دوسری بعد میں بتائی۔ مقصد یہ تھا کہ دل شکنی میں جتنی بھی دیر ہو سکے کی جائے اور خوشی کی خبر جتنی جلد ہو سکے پہنچائی جائے۔ قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ : یعنی یہ فیصلہ ہوچکا جو اب ٹل نہیں سکتا ہے۔ یہاں لفظ ” قُضِيَ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلی آیت میں جو لفظ ” ظَنَّ “ آ رہا ہے وہ یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ خواب کی تعبیر اجتہادی ظن تھا، لہٰذا یہ ظن اصلی معنی میں ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) موضح میں ہے : ” ظَنَّ “ فرمایا، معلوم ہوا کہ تعبیر خواب یقین نہیں اٹکل ہے، مگر پیغمبر اٹکل کرے تو بیشک ہے، یعنی اٹکل نہیں ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After having made his call to truth, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) turned to the dreams mentioned by two of his prison mates declaring that one of the two of them will get his release, return to his job and keep serving wine to his master. As for the other, the crime against him will stand proved and he will be crucified and birds will eat from his head. An Example of Prophetic Compassion Ibn Kathir has said: Though the dreams of both these prisoners were separate, and fixed was the interpretation of each, and also fixed was the fate that the royal cup-bearer will be acquitted and return to his job and the cook will be crucified. But, because of his prophetic compassion and clemency, he did not specifically mention as to who among the two will be hanged so that the person concerned may be spared from becom¬ing obsessed by the very thought of it right from that time. Instead of that, he made a general statement saying that one of them will be re-leased and the other will be crucified. At the end, he told them that the interpretation of their dreams given by him was not arrived at by conjecture. It was Divine decree which cannot be averted. Commentators who have called the dreams de-scribed by these people as false and made-up, they have also said: When Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) interpreted their dreams, they came up with the re-mark that they had just not seen any dream. They had simply made it up. Thereupon, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) said: قُضِيَ الْأَمْرُ‌ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ (Destined is the matter you are asking about). In other words, it would mean: Whether you saw this dream, or did not, now the event will come to be as described - the purpose of which is that this is the punishment of the sin, of making up a false dream, committed by you, a punishment which has been identified in the interpretation of the dream.

یوسف (علیہ السلام) اپنی تبلیغ و دعوت کے بعد ان لوگوں کے خوابوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے ایک تو رہا ہوجائے گا اور پھر اپنی ملازمت پر بھی برقرار رہ کر بادشاہ کو شراب پلائے گا اور دوسرے پر جرم ثابت ہو کر اس کو سولی دی جائے گی اور جانور اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے پیغمبرانہ شفقت کی عجیب مثال : ابن کثیر (رح) نے فرمایا کہ اگرچہ ان دونوں کے خواب الگ الگ تھے اور ہر ایک کی تعبیر متعین تھی اور یہ بھی متعین تھا کہ شاہی ساقی بری ہو کر اپنی ملازمت پر پھر فائز ہوگا اور باورچی کو سولی دی جائے گی مگر پیغمبرانہ شفقت و شرافت کی وجہ سے متعین کر کے نہیں بتلایا کہ تم میں سے فلاں کو سولی دی جائے گی تاکہ وہ ابھی سے غم میں نہ گھلے بلکہ اجمالی طور پر یوں فرمایا کہ تم میں سے ایک رہا ہوجائے گا اور دوسرے کو سولی دی جائے گی آخر میں فرمایا کہ میں نے تمہارے خوابوں کی تعبیر جو دی ہے محض اٹکل اور تخمینہ سے نہیں بلکہ یہ خدائی فیصلہ ہے جو ٹل نہیں سکتا جن حضرات مفسرین نے ان لوگوں کے خوابوں کو غلط اور بناوٹی کہا ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے خوابوں کی تعبیر بتلائی تو یہ دونوں بول اٹھے کہ ہم نے تو کوئی خواب دیکھا نہیں محض بات بنائی تھی اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ چاہے تم نے یہ خواب دیکھا یا نہیں دیکھا اب واقعہ یوں ہی ہوگا جو بیان کیا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ جھوٹاخواب بنانے کے گناہ کا جو ارتکاب تم نے کیا تھا اب اس کی سزا یہی ہے جو تعبیر خواب میں بیان ہوئی

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّہٗ خَمْرًا۝ ٠ۚ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَّاْسِہٖ۝ ٠ۭ قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْہِ تَسْتَفْتِيٰنِ۝ ٤١ۭ سقی السَّقْيُ والسُّقْيَا : أن يعطيه ما يشرب، والْإِسْقَاءُ : أن يجعل له ذلک حتی يتناوله كيف شاء، فالإسقاء أبلغ من السّقي، لأن الإسقاء هو أن تجعل له ما يسقی منه ويشرب، تقول : أَسْقَيْتُهُ نهرا، قال تعالی: وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال : وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ( س ق ی ) السقی والسقیا کے معنی پینے کی چیز دینے کے ہیں اور اسقاء کے معنی پینے کی چیز پیش کردینے کے ہیں تاکہ حسب منشا لے کر پی لے لہذا اسقاء ینسبت سقی کے زیادہ طبغ ہے کیونکہ اسقاء میں مایسقی منھ کے پیش کردینے کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ پینے والا جس قد ر چاہے اس سے نوش فرمانے مثلا اسقیتہ نھرا کے معنی یہ ہوں ۔ گے کر میں نے اسے پانی کی نہر پر لے جاکر کھڑا کردیا چناچہ قرآن میں سقی کے متعلق فرمایا : ۔ وسقاھم وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا ۔ وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائیگا ۔ خمر أصل الخمر : ستر الشیء، ويقال لما يستر به : خِمَار، لکن الخمار صار في التعارف اسما لما تغطّي به المرأة رأسها، وجمعه خُمُر، قال تعالی: وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ [ النور/ 31] والخَمْر سمّيت لکونها خامرة لمقرّ العقل، وهو عند بعض الناس اسم لكلّ مسكر . وعند بعضهم اسم للمتخذ من العنب والتمر، لما روي عنه صلّى اللہ عليه وسلم : «الخمر من هاتین الشّجرتین : النّخلة والعنبة» ( خ م ر ) الخمر ( ن ) اصل میں خمر کے معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں اسی طرح خمار اصل میں ہر اس چیز کو کہاجاتا ہے جس سے کوئی چیز چھپائی جائے مگر عرف میں خمار کا لفظ صرف عورت کی اوڑھنی پر بولا جاتا ہے جس کے ساتھ وہ اپنے سر کو چھپاتی ہے ۔ اس کی جمع خمر آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ [ النور/ 31] اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں ۔ کہاجاتا ہے ۔ الخمر ۔ شراب ۔ نشہ ۔ کیونکہ وہ عقل کو ڈہانپ لیتی ہے بعض لوگوں کے نزدیک ہر نشہ آور چیز پر خمر کا لفظ بولا جاتا ہے اور بعض کے نزدیک صرف اسی چیز کو خمر کہا جاتا ہے ۔ جو انگور یا کھجور سے بنائی گئ ہو ۔ کیونکہ ایک روایت میں ہے (122) الخمر من ھاتین الشجرتین التخلۃ و العنبۃ ( کہ خمر ( شراب حرام صرف وہی ہے جو ان دو درختوں یعنی انگور یا کھجور سے بنائی گئی ہو ۔ صلب والصَّلَبُ والاصْطِلَابُ : استخراج الودک من العظم، والصَّلْبُ الذي هو تعلیق الإنسان للقتل، قيل : هو شدّ صُلْبِهِ علی خشب، وقیل : إنما هو من صَلْبِ الوَدَكِ. قال تعالی: وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ [ النساء/ 157] ، وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ [ الشعراء/ 49] والصَّلِيبُ : أصله الخشب الذي يُصْلَبُ عليه، والصَّلِيبُ : الذي يتقرّب به النّصاری، هو لکونه علی هيئة الخشب الّذي زعموا أنه صُلِبَ عليه عيسى عليه السلام، ( ص ل ب ) الصلب الصلب والاصطلاب کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنا کے ہیں اور صلب جس کے معنی قتل کرنے کے لئے لٹکا دینا کے ہیں ۔ بقول بعض اسے صلب اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اس شخص کی پیٹھ لکڑی کے ساتھ باندھ دی جاتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ صلب الودک سے ہے جس کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنا گے ہیں قرآن میں ہے : وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسٰی کو قتل نہیں کیا اور نہ سول پر چڑ ھایا ۔ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ [ الشعراء/ 49] اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوادوں گا ۔ ۔ الصلیب اصل میں سوئی کی لکڑی کو کہتے ہیں نیز صلیب اس لکڑی کو بھی کہتے ہیں جو عیسائی بطور عبادت کے گلے میں اس خیال پر باندھ لیتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس پر سولی لٹکایا گیا تھا ۔ اور جس کپڑے پر صلیب کے نشانات بنے ہوئے ہوں اسے مصلب کہاجاتا ہے ۔ صالب سخت بخار جو پیٹھ کو چور کردے یا پسینہ کے ذریعہ انسان کی چربی نکال لائے ۔ استفتا الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال : اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي بکذا . قال : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127] ، فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] ، استفتا اور کسی مشکل مسلہ کے جواب کو فتیا وفتوی کہا جاتا ہے ۔ استفتاہ کے معنی فتوی طلب کرنے اور افتاہ ( افعال ) کے معنی فتی دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127]( اے پیغمبر ) لوگ تم سے ( یتیم ) عورتوں کے بارے میں فتوی طلب کرتے ہیں کہدو کہ خدا تم کو ان کے ( ساتھ نکاح کرنے کے ) معاملے میں فتوی اجازت دیتا ہے فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] تو ان سے پوچھو۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١) اب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان غلاموں کو خواب کی تعبیر بتاتے ہیں کہ تم میں سے ساقی تو جرم سے بری ہو کر اپنی اصلی جگہ اور اصلی کام پر چلا جائے گا اور اپنے آقا کو پہلے کی طرح شراب پلایا کرے گا اور نانبائی جیل سے نکال کر سولی پر لٹکایا جائے گا، نانبائی کے بارے میں یہ خواب کی تعبیر سن کر دونوں غلام گھبرائے اور کہنے لگے ہمیں تو ایسی چیز نظر نہیں آئی، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا جس کے بارے تم پوچھتے ہو اور جو کچھ تم نے بیان کیا اور جو میں نے اس کا جواب دیا ہے وہ اسی طرح ہو کر رہے گا خواہ تمہیں یہ حقیقت نظرآئی ہو یا نہ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا) یہاں پر رب کا لفظ بادشاہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہ اس شخص کے خواب کی تعبیر ہے جس نے خود کو شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ شخص پہلے بھی بادشاہ کا ساقی تھا مگر اس پر کوئی الزام لگا اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔ حضرت یوسف نے خبر دے دی کہ اس کے خواب کے مطابق وہ اس الزام سے بری ہو کر اپنے پرانے عہدے پر بحال ہوجائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

34. This discourse, which is the soul of this story, and is one of the best on the doctrine of Tauhid in the Quran itself, finds no place at all in the Bible and the Talmud. This is because they regard him merely as a wise and pious man and not as a Prophet. That is why Rev. Rodwell has, in regard to this passage, accused Muhammad (peace be upon him) of putting his own doctrine and conviction into the mouth of Joseph (peace be upon him). But the Quran not only puts forward and presents these two aspects of his life in a much better and clearer way but also presents him as a Prophet, who had started propagating the message even in the prison. As this discourse suggests several very important things, it will be worthwhile to consider these one by one: (1) This is the first occasion on which Prophet Joseph appears to have begun the preaching of the true faith. For before this, the Quran reveals him in the different stages of his life as a man of high morality but does not say anything to show that he conveyed the message also. From this it is clear that those stages were of a preparatory nature and the mission of Prophethood was entrusted to him at the stage of his imprisonment and this was his first discourse as a Prophet. (2) Moreover, this was the first occasion when he revealed his identity to others. Before this, we find him bearing patiently everything that happened to him without revealing anything about his relationships with Prophet Abraham and others. He kept silent when the caravan made him a slave and carried him to Egypt, when Al-Aziz bought him and when he was sent to prison. As Prophet Abraham, Isaac and Jacob (peace be upon them all) were quite well known, he might have used their names to his advantage. The members of the caravan, both the Ishmaelites and the Midianites, were closely related to his family, and the Egyptians were, at least, familiar with the name of Prophet Abraham. Nay, the way in which Prophet Joseph mentioned their names in this discourse, shows that the fame of his father, grandfather and great grandfather had reached Egypt. But in spite of this, Prophet Joseph did not use their names on any of the critical occasions to save himself from the plight in which he was placed. This shows that probably he himself knew that these things were inevitable for his training for the mission for which Allah had chosen him. Now it was absolutely necessary for him, for the sake of his mission, to reveal this fact in order to show that he was not presenting any new faith but the same faith that was preached by Prophets Abraham, Isaac and Jacob (peace be upon them all). This was necessary because the message demanded that it should not be presented with the claim that it was a new and novel thing but that it was the same universal and eternal truth that has always been presented by its bearers. (3) This teaches us that one can, like Prophet Joseph, carve out a way for the propagation of the message, if one has the intention and the required wisdom. The two men pay their homage to him and request him to interpret their dreams. In answer to this he says: I will tell their interpretations but let me first inform you about the source of my knowledge that enables me to understand dreams. Thus he takes advantage of their request and preaches his own faith to them. We learn from this that if a person is imbued with the true and strong desire for propagating the truth, he can very gracefully turn the direction of the conversation towards the message he desires to convey. On the contrary, if a person has no strong desire for the propagation of the message, he never finds any opportunity for it, even though hundred and one such opportunities might have come his way which could have been utilized for this purpose. But one must be on his guard to discriminate between the right use of an opportunity by a wise man from the crude propagation of a foolish and uncultured person, who tries to thrust the message into the ears of unwilling hearers and succeeds only in creating aversion for it in their minds because of his crude way of presentation. (4) This also teaches the right procedure that should be followed in presenting the message. Prophet Joseph does not present, at the very start, the details of the creed and regulations of the faith but the most fundamental thing that distinguishes a believer from a non-believer, that is, the distinction between Tauhid and shirk. Then he presents it in such a rational manner as cannot fail to convince any man of common sense. And his argument must have impressed deeply on the minds of the two slaves. Which is better, various gods or One Omnipotent Allah? They knew it from their personal experience that it was much better to serve one master than a number of them. Therefore it was far better to serve the Lord of the universe than His servants. Moreover, he does not invite them directly to accept his faith and discard their own faith, but he very wisely draws their attention to this fact; This is Allah’s bounty upon us and upon all mankind that He has not made us the servants of any other than Himself, yet most of the people are not grateful to Him. Instead of serving Him alone, they invent gods for themselves and worship them. Then it is also noteworthy that his criterion of the faith of his addressees is based on wisdom and has no tinge of bitterness in it. He says: The gods whom you call, the god of wealth or the god of health or the god of prosperity or the god of rain etc. are mere names you have given them without any reality behind them. The real Owner of everything is the Supreme Allah Whom you also acknowledge as the Creator and the Lord of the whole universe. He has sent no authority and given no sanction to anyone for Godhead and worship, but has reserved all the powers, all the rights and all the authorities for Himself, and commanded, “Serve and worship none but Me.” (5) It may also be inferred from this discourse that Prophet Joseph must have made full use of this opportunity of a decade for the propagation of the message. Some people think that that was the only time when he extended the invitation to the message. This is wrong for two reasons. First, it is absurd to imagine that a Prophet could have been neglectful of his mission for a long period. Second, it cannot be imagined that the person who availed himself of the opportunity when two men approached him for the interpretation of their dreams, could ever have passed a decade of imprisonment without propagating the message entrusted to him by his Lord.

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :34 یہ تقریر جو اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں بھی توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے ، بائیبل اور تلمود میں کہیں اس کی طرف ادنی اشارہ تک نہیں ہے ۔ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو محض ایک دانشمند اور پرہیزگار آدمی کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں ۔ مگر قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بھی بائیبل اور تلمود کی بہ نسبت بہت زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہے ، بلکہ اس کے علاوہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنا ایک پیغمبرانہ مشن رکھتے تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ کا کام انہوں نے قید خانہ ہی میں شروع کر دی تھی ۔ یہ تقریر ایسی نہیں ہے کہ اس پر سے یونہی سرسری طور پر گزر جائے ۔ اس کے متعدد پہلو ایسے ہیں جن پر توجہ اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے: ( ١ ) یہ پہلا موقع ہے جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام ہم کو دین حق کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس سے پہلے ان کی داستان حیات کے جوابات قرآن نے پیش کیے ہیں ان میں صرف اخلاق فاضلہ کی مختلف خصوصیات مختلف مرحلوں پر ابھرتی رہی ہیں مگر تبلیغ کا کوئی نشان وہاں نہیں پایا جاتا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے مراحل محض تیاری اور تربیت کے تھے ۔ نبوت کا کام عملا اس قید خانے کے مرحلے میں ان کے سپرد کیا گیا ہے اور نبی کی حیثیت سے یہ ان کی پہلی تقریر دعوت ہے ۔ ( ۲ ) یہ بھی پہلا موقع ہے کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے اپنی اصلیت ظاہر کی ۔ اس سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت صبر و شکر کے ساتھ ہر اس حالت کو قبول کرتے رہے جو ان کو پیش آئی ۔ جب قافلے والوں نے ان کو پکڑ کر غلام بنایا ، جب وہ مصر گئے ، جب انہیں عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کیا گیا ، جب انہیں جیل بھیجا گیا ، ان میں سے کسی موقع پر بھی انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ میں ابراہیم و اسحاق علیہما السلام کا پوتا ہوں اور یعقوب علیہما السلام کا بیٹا ہوں ۔ ان کے باپ دادا کوئی غیر معروف لوگ نہ تھے ۔ قافلے والے خواہ اہل مدین ہوں یا اسماعیلی ، دونوں ان کے خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے ہی تھے ۔ اہل مصر بھی کم از کم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے تو ناواقف نہ تھے ۔ ( بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام جس انداز سے ان کا اور حضرت یعقوب اور اسحاق علیہما السلام کا ذکر کر رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تینوں بزرگوں کی شہرت مصر میں پہنچی ہوئی تھی ۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے کبھی باپ دادا کا نام لے کر اپنے آپ کو ان حالات سے نکالنے کی کوشش نہ کی کہ جن میں وہ پچھلے چار پانچ سال کے دوران میں مبتلا ہوتے رہے ۔ غالبا وہ خود بھی اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ اللہ تعالی جو کچھ انہیں بنانا چاہتا ہے اس کے لیے ان کا ان حالات سے گزرنا ہی ضروری ہے ۔ مگر اب انہوں نے محض اپنی دعوت و تبلیغ کی خاطر اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ میں کوئی نیا اور نرالا دین پیش نہیں کر رہا ہوں بلکہ میرا تعلق دعوت توحید کی اس عالمگیر تحریک سے ہے جس کے آئمہ ابراہیم و اسحاق و یعقوب علیہم السلام ہیں ۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری تھا کہ داعی حق کبھی اس دعوے کے ساتھ نہیں اٹھا کرتا کہ وہ ایک نئی بات پیش کر رہا ہے جو اس سے پہلے کسی کو نہ سوجھی تھی ، بلکہ پہلے قدم ہی پر یہ بات کھول دیتا ہے کہ میں اس ازلی و ابدی حقیقت کی طرف بلا رہا ہوں جو ہمیشہ سے تمام اہل حق پیش کرتے رہے ہیں ۔ ( ۳ ) پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے جس طرح اپنی تبلیغ کے لیے موقع نکالا اس میں ہم کو حکمت تبلیغ کا ایک اہم سبق ملتا ہے ۔ دو آدمی اپنا خواب بیان کرتے ہیں اور اپنی عقیدت مندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تعبیر پوچھتے ہیں ۔ جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ تعبیر تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا مگر پہلے یہ سن لو کہ اس علم کا ماخذ کیا ہے جس کی بنا پر میں تمہیں تعبیر دیتا ہوں ۔ اس طرح ان کی بات میں سے اپنی بات کہنے کا موقع نکال کر آپ ان کے سامنے اپنا دین پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ فی الواقع کسی شخص کے دل میں اگر تبلیغ حق کی دھن سمائی ہوئی ہو اور وہ حکمت بھی رکھتا ہو تو کیسی خوبصورتی کے ساتھ وہ گفتگو کا رخ اپنی دعوت کی طرف پھیر سکتا ہے ۔ جسے دعوت کی دھن لگی ہوئی نہیں ہوتی اس کے سامنے تو مواقع پر مواقع آتے ہیں اور وہ کبھی محسوس نہیں کرتا کہ یہ موقع ہے اپنی بات کہنے کا ۔ مگر وہ جسے دھن لگی ہوئی ہوتی ہے وہ موقع کی تاک میں لگا رہتا ہے اور اسے پاتے ہی اپنا کام شروع کر دیتا ہے ۔ البتہ بہت فرق ہے حکیم کی موقع شناسی میں اور اس نادان مبلغ کی بھونڈی تبلیغ میں جو موقع و محل کا لحاظ کیے بغیر لوگوں کے کانوں میں زبردستی اپنی دعوت ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر لیچڑپن اور جھگڑالو پن سے انہیں الٹا متنفر کر کے چھوڑتا ہے ۔ ( ٤ ) اس سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کے سامنے دعوت دین پیش کرنے کا صحیح ڈھنگ کیا ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام چھوٹتے ہی دین کے تفصیلی اصول اور ضوابط پیش کرنے شروع نہیں کر دیتے بلکہ ان کے سامنے دین کے اس نقطہ آغاز کو پیش کرتے ہیں جہاں سے اہل حق کا راستہ اہل باطل کے راستوں سے جدا ہوتا ہے ، یعنی توحید اور شرک کا فرق ۔ پھر اس فرق کو وہ ایسے معقول طریقے سے واضح کرتے ہیں کہ عقل عام رکھنے والا کوئی شخص اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ خصوصیت کے ساتھ جو لوگ اس وقت ان کے مخاطب تھے ان کے دل و دماغ میں تو تیر کی طرح یہ بات اتر گئی ہوگی ، کیونکہ وہ نوکر پیشہ غلام تھے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات کو خوب محسوس کر سکتے تھے کہ ایک آقا کا غلام ہونا بہتر ہے یا بہت سے آقاؤں کا ، اور سارے جہان کے آقا کی بندگی بہتر ہے یا بندوں کی بندگی ۔ پھر وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ اپنا دین چھوڑو اور میرے دین میں آجاؤ ، بلکہ ایک عجیب انداز میں ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو ، اللہ کا یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنے سوا ہم کو کسی کا بندہ نہیں بنایا مگر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور خواہ مخواہ خود گھڑ گھڑ کر اپنے رب بناتے اور ان کی بندگی کرتے ہیں ۔ پھر وہ اپنے مخاطبوں کے دین پر تنقید بھی کرتے ہیں ، مگر نہایت معقولیت کے ساتھ اور دل آزاری کے ہر شائبے کے بغیر ۔ بس اتنا کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ معبود جن میں سے کسی کو تم ان داتا ، کسی کو خداوند نعمت ، کسی کو مالک زمین اور کسی کو رب دولت یا مختار صحت و مرض وغیرہ کہتے ہو ، یہ سب خالی خولی نام ہی ہیں ، ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقی ان داتائی و خداوندی اور مالکیت و ربوبیت موجود نہیں ہے ۔ اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے جسے تم بھی کائنات کا خالق و رب تسلیم کرتے ہو ، اور اس نے ان میں سے کسی کے لیے بھی خداوندی اور معبودیت کی کوئی سند نہیں اتاری ہے ۔ اس نے تو فرمانروائی کے سارے حقوق اور اختیارات اپنے ہی لیے مخصوص رکھے ہیں اور اس کا حکم ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ۔ ( ۵ ) اس سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے قید خانے کی زندگی کے یہ آٹھ دس سال کس طرح گزارے ہوں گے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں چونکہ ان کے ایک ہی وعظ کا ذکر ہے اس لیے انہوں نے صرف ایک ہی دفعہ دعوت دین کے لیے زبان کھولی تھی ۔ مگر اول تو ایک پیغمبر کے متعلق یہ گمان کرنا ہی سخت بدگمانی ہے کہ وہ اپنے اصل کام سے غافل ہوگا ۔ پھر جس شخص کی تبلیغی دھن کا یہ حال تھا کہ دو آدمی تعبیر خواب پوچھتے ہیں اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دین کی تبلیغ شروع کر دیتا ہے اس کے متعلق یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ اس نے قید خانے کے یہ چند سال خاموش ہی گزار دیے ہوں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤١۔ ساقی اور نان بائی اور بادشاہ مصر ان تین کافر شخصوں کے خواب اور تعبیر کا ذکر ان آیتوں اور آگے کی آیتوں میں آچکا ہے اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ کافر مشرک یا فاسق فاجر شخصوں کے سب خواب جھوٹے ہوتے ہیں۔ اسی واسطے صحیح مذہب علمائے اہل سنت کا یہی قرار پایا ہے کہ اہل اسلام نیک لوگوں کا خواب اکثر صحیح ہوتا ہے اور کافر مشرک فاسق فاجر لوگوں کا خواب بھی کبھی کبھی صحیح ہوتا ہے اور صحاح کی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) اور مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عائشہ (رض) کی حدیثیں جو ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض وفات کے وقت خاص اہل اسلام کو خوشخبری دی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد نبوت اور وحی تو ختم ہوگئی لیکن اہل اسلام کا خواب غیب کی خبر معلوم ہونے کا ایک ذریعہ ہے جو میرے بعد بھی باقی رہے گا۔ ١ ؎ ان حدیثوں اور ان آیتوں کو ملا کر علماء نے یہی مطلب نکالا ہے کہ اہل اسلام نیک لوگوں کے خواب اکثر سچے ہوں گے اور کافر مشرک فاسق فاجر لوگوں کے خواب کبھی کبھی سچے ہوں گے کیوں کہ سوا انبیاء کے اور سب کے خوابوں میں شیطان کے بہکاوے اور غلطی کے ڈالنے کا دخل اگرچہ موجود ہے مگر کافر مشرک فاسق فاجر لوگ شیطان کی مرضی کے موافق کام کرتے رہتے ہیں اس لئے ان کے ہر کام اور ان کی ہر بات میں شیطان کا دخل بہ نسبت اہل اسلام کے زیادہ ہے اور ذکر الٰہی کے سبب سے نیک اہل اسلام پر شیطان کا غلبہ کم ہے بعضے لوگوں نے فقط خواب کے ذکر کی ان حدیثوں سے الہام کا انکار جو کیا ہے اس کا جواب حافظ ابن حجر اور علماء نے یہ دیا ہے کہ خواب تو عام اہل اسلام دیکھ سکتے ہیں اور الہام خاص خاص اللہ کے بندوں کو ہوتا ہے اس واسطے عام اہل اسلام کے ذکر کے وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فقط خواب کا تذکرہ فرمایا ہے اور الہام کا ذکر خاص طور پر جدا فرمایا ہے۔ ٢ ؎ چناچہ صحیحین کی حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں فرمایا ہے کہ پہلی امتوں میں صاحب الہام لوگ گزرے ہیں اگر اس امت میں بھی صاحب الہام لوگ ہوئے تو حضرت عمر (رض) کو فرمایا کہ یہ ضرور صاحب الہام ٣ ؎ ہیں۔ غرض خواب کی حدیث جدا ہے اور الہام کی حدیث جدا ہے ایک حدیث کے مطلب سے دوسری صحیح حدیث کا انکار ایک بڑی غلطی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریر میں عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ یوسف (علیہ السلام) جب نان بائی کے سولی پر چڑھائے جانے کی تعبیر بیان کی تو ساقی اور نان بائی دونوں اپنے خوابوں کے منکر ٤ ؎ ہوگئے۔ اسی کا جواب یوسف (علیہ السلام) نے یہ دیا { قضی الامر الذی فیہ تستفتیان } جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خواب تم دونوں نے بیان کر کے ان کی تعبیر پوچھی تھی اب جب ان کی تعبیر بیان کی جا چکی تو اس کے موافق ظہور ضرور ہوگا۔ اب خواب کے انکار کرنے سے وہ تعبیر ٹل نہیں سکتی۔ جھوٹا خواب بنانا بڑے وبال کی بات ہے چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) اور ابوہریرہ (رض) سے اور ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت علی (رض) سے موقوف اور مرفوع روایتیں ہیں۔ جن میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ ٤ ؎ ١ ؎ دیکھئے ٤٧، ٤٨ ہذا۔ ٢ ؎ تفسیر فتح البیان ص ٥٢٠ ج ٢۔ ٣ ؎ فتح البیان ص ٥٢٠ ج ٢۔ ٤ ؎ ایضاً ص ٥١٩ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:41) یسقی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ پلائیگا۔ سقی مصدر (باب ضرب) ۔ ربہ۔ اپنے مالک کو۔ یصلب۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب صلب مصدر (ضرب) وہ سولی دیا جائے گا۔ قضی الامر۔ بات فیصلہ ہوچکی ہے۔ یہ مار (اسی طرح) مقدر ہوچکا ہے۔ تستفتین۔ تم دونوں پوچھتے ہو۔ تم دونوں فتویٰ طلب کرتے ہو۔ استفتاء (استفعال) سے مضارع تثنیہ مذکر حاضر۔ فتی مادہ۔ قرآن مجید میں آیا ہے یستفتونک فی النساء (4:127) اور رہ تم سے یتیم عورتوں کے بارے میں فتوی مانگتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یعنی یہ قضائے الٰہی ہے جو ٹل نہیں سکتی۔ یہاں پر لفظ ” قضی “ سے معلوم ہوتا ہے کہ ظن بمعنی یقین ہے بعض نے لکھا ہے۔ خواب کی تعبیر اجتہادی تھی لہٰذا ظن اپنے اصلی معنی میں ہے۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔ موضح میں ہے ” ظن “ فرمایا : معلوم ہوا کہ تعبیر خواب یقین نہیں اتکل ہے مگر پیغمبر اٹکل کرے تو ” بیشک “ ہے۔ (موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 42 (یسفی پلائے گا، سیراب کرے گا) (یصلب پھانسی دیا جائے گا) (تاکل الطیر پرندے کھائیں گے) ( قضی فیصلہ کردیا گیا) ( تستفتین تم دونوں پوچھتے ہو) (ظن گمان کیا) (ناج نجات پانے والا) (بضع سنین چند سال) تشریح : آیت نمبر 41 تا 42 گزشتہ آیات میں اس بات کو وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قید کے دوران مزید دوق یدیوں کو لایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک تو بادشاہ کا ساقی تھا جو اس کو شراب پلایا کرتا تھا۔ دوسرا باورچی تھا دونوں پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے باہمی سازش سے کھانے میں زہر ملا کر بادشاہ کو مارنے کی سازش کی ہے ان دونوں کے خلاف تحقیقات جاری تھیں اور ان دونوں کو کوئی فیصلہ ہونے تک قید کردیا گیا تھا۔ ان دونوں نے خواب دیکھے تھے۔ ایک نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کے لئے انگور نچوڑ رہا ہے، دوسرے نے خواب میں دیکھا کہ اس کے سر پر روٹیوں سے بھرا ہوا دستر خوان ہے جس سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے اللہ کی وحدانیت اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کرنے کی تفصیل ارشاد فرما کر پھر دونوں کے خوابوں کی تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا۔ اے میرے قید کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا یعنی نوکری پر بحال ہوجائے گا، جب کہ دوسرے کو پھانسی دیدی جائے گی اورپ رندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ کچھ عرصہ کے بعد بالکل وہی تعبیر سامنے آئی ان میں سے ایک رہا کردیا گیا اور باورچی پر زہر دینے کا الزام ثابت ہوگیا اور اس کو پھانسی دیدی گئی جس کے جسم کو پرندوں نے نوچ نوچ کر کھایا۔ جب حضرت یوسف نے تعبیر بتا دی تب آپ نے اس شخص سے جس کے متعلق یہ گمان تھا کہ اس کو رہائی مل جائے گی فرمایا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کر کے اس کو یاد دلا دینا (کہ ایک بےگناہ قید میں پڑا ہے) جب ساقی کو رہائی مل گئی اور اپنی اسی نوکری پر بحال ہوگیا تو اسے یاد بھی نہ رہا اور شیطان نے اس کو اس طرح غافل کردیا کہ اس نے بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر ہی نہیں کیا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت یوسف کو چند سال اور قید میں رہنا پڑا۔ اس موقع پر مفسرین نے اس بات پر کافی بحث کی ہے کہ حضرت یوسف نے (ایک تدبیر کے طور پر) اس ساقی سے فرمایا تھا کہ بادشاہ سے میرا بھی ذکر کردینا۔ یہ کہہ دینا مناسب تھا یا نہیں ؟ بعض مفسرین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حدیث کو بنیاد بنایا ہے جس میں آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر حضرت یوسف نے یہ بات نہی کہی ہوتی جو انہوں نے کہی ہے، تو قید میں مزید کئی سال تک نہ رہتے۔ بعض مفسرین نے اس پہلو کو لیا ہے کہ یہ مذکورہ حدیث ضعیف ہے اور حضرت یوسف نے اگر تدبیر کے طور پر ایسا کہہ دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اپنے حق میں کوئی بھی تدبیر کرنا ایک جائز فعل ہے۔ چند سال اور قید میں رہنا اس بنا پر تھا کہ اس ساقی کو شیطان نے بھلا دیا تھا۔ مفسرین نے اپنی جو بھی رائے دی ہے وہ سب قابل احترام ہے۔ لیکن اگر ہم اس کو عام نقطہ نظر سے دیکھیں تو انشاء اللہ کوئی الجھن نہیں ہوگی۔ آپ نے دیکھا ہوگا۔ کبھی کبھی کوئی شخص اپنی اس ذرا سی بات پر جو اللہ کو پسند نہیں ہے پکڑ لیا جاتا ہے او اس کو اس کی سزا بھی مل جاتی ہے یہ تو اللہ کے ایک عام بندے کی بات ہے لیکن انبیاء کرام اللہ کے صرف بندے ہی نہیں بلکہ اس کے نمائندے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف سے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے اعلیٰ ترین مقام پر مقرر ہوتے ہیں۔ وہ خطا اور غلطیوں سے معصوم ہوتے ہیں لیکن اگر ان سے ذرا سی بھی ایسی بات ہوجائے جو اللہ کو پسند نہیں ہے تو فوراً اللہ کی طرف سے ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ کیونکہ ان کی زندگی ہر شخص کے لئے ایک مثال، ماڈل اور نمونہ ہوتی ہے اس لئے ان کی ذرا سی بات پر فوراً گرفت ہوجاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کپڑا جتنا صاف شفاف ہوتا ہے اس پر ہلکا سا گردو غبار بھی بہت نمایاں ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار مکہ نے اصحاب کہف ، ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوال کیا آپ نے ان کے سوالات سنے اور یہ سوچ کر کہ کل جبرائیل وحی لے کر آئیں گے ان سے پوچھ کر بتادوں گا فرمایا کہ میں اس کا جواب کل دیدوں گا۔ لیکن اس کے بعد پندرہ دن تک وحی کا سلسلہ بند ہوگیا جس سے آپ کو بھی پریشانی ہوئی اور دشمنوں کو مذاق اڑانے کا موقع مل گیا۔ سورة کہف نازل کی گئی جس میں کفار مکہ کے تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں اسی سورة میں یہ بھی فرمایا گیا ” ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غدا الا ان یشاء اللہ “ (سورۃ کہف آیت نمبر 23) ترجمہ :-” آپ کسی کام کے متعلق یہ نہ کہا کیجیے کہ میں اس کو کل کروں گا جب تک انشاء اللہ نہ کہہ دیں۔ “ اگر غور کیا جائے تو آپ کا یہ ارشاد فرمانا کہ میں کل بتادوں گا ایسی کوئی بات نہ تھی کیوں کہ وحی کا سلسلہ جاری تھا، آپ نے سوچا تھا کہ جب جبرائیل آئیں گے تو میں ان سے پوچھ لوں گا اور کفار مکہ کو بتا دوں گا۔ لیکن اللہ نے پندرہ دن تک وحی کے سلسلہ کو بند فرما دیا اور یہ اصولی بات ارشاد فرمائی کہ جب تک انشاء اللہ نہ کہہ لیا جائے اس وقت تک مستقبل کی کوئی بات نہ کہی جائے۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سردار ان مکہ کو دعوت دے کر بلایا اور اس دوران آپ نے سرداران مکہ کے سامنے اسلام کی حقانیت پر تقریر فرمائی۔ اسی دوران ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم تشریف لائے اور یہ دیکھے بغیر کہ رنگ محفل کیا ہے انہوں نے حسب معمول حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دین سے متعلق سوالات کرنا شروع کردیئے۔ آپ نے نرمی سے فرمایا کہ عبداللہ میں مت ہیں ابھی بتاتا ہوں۔ اس کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر تقریر شروع کردی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دلی خواہش تھی کہ اگر مکہ کے سرداروں نے اسلام قبول کرلیا تو سارا عرب مسلمان ہوجائے گا۔ آپ کا جذبہ تبلیغ بلندیوں پر تھا کہ حضرت عبداللہ جو دیکھ نہیں سکتے تھے انہوں نے پھر سوال کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناگوار گذرا اور آپ کی پیشانی پر کچھل بل پڑگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذرا سی سختی سے فرمایا عبداللہ ذرا ٹھر جاؤ میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر سرداران مکہ سے خطاب شروع فرما دیا۔ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم یہ سمجھے کہ شاید میرے آقا مجھ سے ناراض ہیں وہ آہستگی سے اٹھے اور پانے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطاب مکمل ہوگیا تو سردار ان مکہ اٹھ کر چل یگئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات سے بہت خوش تھے کہ آج میں نے اللہ کا دین عرب کے سرداروں تک پہنچا دیا۔ اس وقت جبرائیل امین ” سورة عبس “ لے کر نازل ہوئے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیشانی پر بل ڈال لئے اس لئے کہ ایک نابینا آگیا تھا آپ کو معلوم تھا کہ اگر آپ اس کی رہنمائی فرما دیتے تو وہ اس سے اپنے دل کو مانجھ لیتا۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیزی سے اٹھے اور چادر گھسیٹتے ہوئے اس نابینا صحابی کے گھر پہنچ گئے۔ جیسے ہی انہوں نے آپ کی آواز سنی تڑپ کر باہر نکلے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عبداللہ آؤ میرے ساتھ آؤ۔ آپ ان کو لے کر گھر تشریف لائے اپنی چادر مبارک بچھا دی اور اس پر نابینا صحابی کو بٹھا کر فرمایا کہ اے عبداللہ اب تم سوال کرو میں تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا۔ اس کے بعد جب بھی یہ صحابی آت یتو آپ بڑی محبت سے اپنی چادر مبارک پر بٹھاتے اور سب سے پہلے ان کے سوالات کے جوابات دیتے ۔ اس واقعہ میں بظاہر ایسی کوئی بات نہ تھی مگر قابل غور ایک بات تھی کہ کہیں کوئی ہمارے پیارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ نہ کہہ دے کہ سرداروں او امیروں کے مقابلے میں ایک غریب کو اہمیت نہیں دی گئی۔ یہ ہے وہ رہنمائی جو اللہ کی طرف سے انبیاء کرام کو دی جاتی ہے اس طرح حضرت یوسف نے بظاہر ایک تدبیر فرمائی اور رہا ہونے والے شخص سے فرمایا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کردینا۔ یہ بات اللہ کو پسند نہیں آئی کیونکہ انبیاء کرم تو صرف اللہ سے فرمایا کیا کرتے ہیں وہ تو غیر اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے اس لئے اللہ نے ایسا انتظام فرمایا کہ وہ ساقی حضرت یوسف کا ذکر کرنا ہی بھول گیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت یوسف کو تنبیہ فرما دیا اور اس طرح اشارہ کردیا کہ ہر شخص کو شیطان وسوسوں سے بچنا چاہئے کیوں کہ شیطان اس راستے سے زبردست حملہ کرتا ہے، اس سے وہی لوگ بچتے ہیں جو خوش نصیب ہوتے ہیں اور ہر حال میں اللہ سے ہی مانگتے ہیں ورنہ شیطان تو انسان کو دنیا کے معاملات میں اس طرح دھنسا دیتا ہے کہ وہ نیکی کے کاموں سے بیخبر اور غافل ہو کر رہ جاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ چناچہ بعد تنقیح مقدمہ ایک بری ثابت ہوا دوسرا مجرم دونوں جیل خانہ سے بلائے گئے ایک رہائی کے لیے دوسرا سزا کے لیے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے قید کے ساتھیوں کو عقیدۂ توحید سمجھانے اور شرک کی نفی کرنے کے بعد ان کے خواب کی تعبیر بتلاتے ہیں۔ اب پھر دلربا لہجے میں فرمایا کہ اے میرے قید کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو جیل سے رہا ہو کر اپنی ڈیوٹی پر بحال ہوگا اور اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا۔ اور دوسرا تختۂ دار پر لٹکایا جائے گا۔ اس کا سر پرندے نوچیں گے۔ جن خوابوں کی تعبیر تم پوچھ رہے ہو ان کی حقیقت یہ ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ پیغمبر ظاہری حسن و جمال اور صالح کردار ہونے کے ساتھ انتہائی ذہین اور سمجھ دار ہوا کرتا ہے۔ چناچہ غور فرمائیں کہ تعبیر بتلاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کس قدر دانائی اور ہوشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالانکہ معلوم تھا کہ اس قیدی نے خواب میں اپنے آپ کو شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرے نے اپنے سر پر اٹھائی ہوئی روٹیاں پرندوں کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے پھانسی لگنے والے شخص کو براہ راست یہ نہیں فرمایا کہ تم پھانسی لگ جاؤ گے۔ حالانکہ وہ دو میں سے ایک تھا۔ اس کے باوجود ایسا انداز اختیار فرمایا۔ جس سے اسے کم سے کم صدمہ پہنچے۔ اپنی بتلائی ہوئی تعبیر پر اس قدر یقین ہے کہ فرمایا جو میں نے بتلایا ہے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ تعبیر پر اس لیے یقین تھا کیونکہ انہیں پہلے بتلا چکے تھے کہ میرے رب نے مجھے خوابوں کی تعبیر اور اپنی طرف سے علم عنایت فرمایا ہے۔ اسی وجہ سے قیدیوں نے کسی قسم کی بحث نہیں کی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب یوسف (علیہ السلام) نے رہائی پانے والے قیدی کو شراب پلانے سے منع کیوں نہ کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسے منع کرنے کا فائدہ تو تبھی ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اللہ کی توحید کا اقرار اور آخرت پر ایمان لانے کا اظہار کرتا۔ اس کا ثبوت تاریخ کے کسی حوالے سے موجود نہیں ہے کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کلمہ پڑھ لیا ہو۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مشروب کے لیے بھی شراب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی ہر پینے والی چیز شراب ہوتی ہے۔ جس سے منع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شراب پینے والے کی سزا : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌوَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ وَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الدُّنْیَا فَمَاتَ وَ ھَوَ یُدْمِنُھَا لَمْ یَتُبْ لَمْ یَشْرَ بْھَا فِی الْاٰخِرَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب بیان ان کل مسکر خمر ] ” حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جو شخص دنیا میں شراب پیتا ہوا فوت ہوا، اس نے توبہ نہ کی آخرت میں اسے جنت کی شراب نہیں ملے گی۔ “ (عَنِ السَّاءِبِ بْنِ یَزِیْدَ (رض) (رض) قَالَ کُنَّا نُؤْتٰی بالشَّارِبِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَإِمْرَۃِ أَبِيْ بَکْرٍوَصَدْرًا مِنْ خِلَافَۃِ عُمَرَفَنَقُوْمُ إِلَیْہِ بِأَیْدِیْنَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِیَتِنَا حَتّٰی کَانَ آخِرُإِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِیْنَ حَتّٰی إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال ] ” حضرت سائب بن یزید (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اور ابوبکر و عمر (رض) کے ابتدائی دور میں شرابی پکڑادیا جاتا۔ ہم اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں کے ساتھ مارتے اور جب عمر (رض) کی خلافت کا آخری دور آیا تو انہوں نے چالیس کوڑے مارے۔ جب لوگ شراب نوشی میں بڑھ گئے تو پھر عمر (رض) نے اسی کوڑے مارے۔ “ (عَنِ ابْنَ عُمَرَ (رض) یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَعَنَ اللَّہُ الْخَمْرَ وَشَارِبَہَا وَسَاقِیَہَا وَبَاءِعَہَا وَمُبْتَاعَہَا وَعَاصِرَہَا وَمُعْتَصِرَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُولَۃَ إِلَیْہِ )[ رواہ ابو داؤد : باب العنب یعصر للخمر ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب پر اس کے پینے اور پلانے والے، بیچنے اور خریدنے والے، بنانے اور بنوانے والے اور اس کو اٹھانے اور اٹھوانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ “ مسائل ١۔ دین کی تبلیغ حکمت کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ٢۔ دین کی بنیاد عقیدہ توحید ہے۔ دین مضبوط دلائل پر مبنی ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت یوسف نے اچھے انجام پانے والے اور برے انجام تک پہنچنے والے کا یہاں تعین نہیں فرمایا کیونکہ انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ برا انجام پانے والے کو ذاتی طور پر مخاطب کریں البتہ انہوں نے تاکید سے کہہ دیا کہ انجام یہی ہوگا۔ یہ امر فیصلہ شدہ ہے جس طرح فیصلہ ویسا ہی ہونے والا ہے۔ حضرت یوسف ایک ناکردہ گناہ قیدی تھے ۔ بادشاہ نے ان کی قید کا حکم بغیر سوچ اور تحقیق کے صادر فرما دیا تھا۔ شاید اس کے حاشیہ نشینوں نے عزیز مصری کی بیوی کے واقعہ کو اس طرح اس کے سامنے پیش کیا کہ اس میں حضرت یوسف کو گناہ گار کر کے پیش کیا ہوک ، جس طرح با اثر طبقات عموماً ایسا کرلیتے ہیں۔ چناچہ حضرت یوسف نے اس موقعہ پر یہ مناسب سمجھا کہ وہ بادشاہ تک یہ بات پہنچا دیں کہ وہ ان کے معاملے میں تحقیق کرے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر دینا توحید کی دعوت دے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں جوانوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی فرمایا کہ دیکھو تم میں سے ایک شخص اپنے آقا کو شراب پلائے گا (یہ وہی شخص تھا جو بادشاہ کا ساقی تھا جو پہلے بھی بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا) اور اس کے علاوہ جو دوسرا آدمی ہے اس کو سولی دی جائے گی۔ یعنی سولی پر لٹکا کر قتل کیا جائے گا اور سولی اتارے جانے سے پہلے (جو وہ لٹکا رہے گا) اس کے سر میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے۔ تم نے جو خواب دریافت کیا ان کی یہ تعبیر ہے اور جو میں نے تعبیر دی اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں کی تعبیر دیدی تو وہ کہنے لگے کہ نہیں نہیں ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا۔ ہم تو یوں ہی دل لگی کے طور پر سوال لے کر آئے تھے اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (قُضَِی الْاَمْرُ الَّذِْی فِیْہِ تَسْتَفْتِیَانِ ) جس کے بارے میں تم سوال کر رہے تھے اب تو وہی فیصلہ ہوگا جو تعبیر کے ذریعہ بتایا جا چکا ہے۔ (روح المعانی ص ٢٤٢ ج ١٢) اس بنا پر بعض علماء نے کہا ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بنا کر کسی تعبیر کے جاننے والے سے تعبیر لے گا تو تعبیر کے مطابق واقع ہوجائے گا اور جھوٹ بنانے کی اسے سزا مل جائے گی۔ (ابن کثیر ص ٤٨٩ ج ٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ دونوں قیدیوں کو دعوت اسلام دینے اور ان پر مسئلہ توحید واضح کرنے کے بعد ان کے خوابوں کی تعبیر بیان فرمائی کہ ان میں سے ایک یعنی ساقی دوبارہ دربار شاہی میں اپنی ملازمت پر بحال ہوجائے گا اور اپنے آقا کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا کیونکہ اس کا جرم ثابت نہیں ہوسکے گا۔ لیکن دوسرا یعنی شاہ کا باورچی مجرم ثابت ہوگا اس لیے اسے سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے اس کا بھیجا نوچ کھائیں گے۔ ” قُضِیَ الْاَمْرُ الخ “ تمہارے خوابوں کی جو تعبیر میں نے بیان کی ہے وہ لا محالہ ہو کر رہے گی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مذکورہ تعبیر وحی سے بیان کی تھی یا علم تعبیر کی بنا پر۔ آپ چونکہ نبی تھے اس لیے آپ کی تعبیر اٹل تھی۔ انھما لما سالاہ عن ذلک المنام صدقا فیہ او کذبا فان اللہ تعالیٰ اوحی الیہ ان عاقبۃ کل واحد منھما تکون علی الجوہ المخصوص فلما نزل الوحی بذلک الغیب عند ذلک السؤال وقع فی الظن انہ ذکرہ علی سبیل التعبیر (کبیر ج 18 ص 143) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

41 اے قید خانہ کے رفیقو ! تم دونوں میں سے ایک تو بدستور اپنے آقا اور اپنے بادشاہ کو شراب پلایا کرے گا اور دوسرا تم میں کا سولی دیا جائے گا اور اس کے سر کو پرندے نوچ نوچ کر کھائیں گے جو بات تم دریافت کرتے تھے اس کا فیصلہ کیا جا چکا ۔ یعنی تم دونوں میں سے شرابی بری ہوجائے گا اور نانبائی کو سولی ہوگی چناچہ مقدمہ میں ایک بری ہوا دوسرے کو سولی ہوئی۔