Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 52

سورة يوسف

ذٰلِکَ لِیَعۡلَمَ اَنِّیۡ لَمۡ اَخُنۡہُ بِالۡغَیۡبِ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۲﴾

That is so al-'Azeez will know that I did not betray him in [his] absence and that Allah does not guide the plan of betrayers.

۔ ( یوسف علیہ السلام نے کہا ) یہ اس واسطے کہ ( عزیز ) جان لے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی اور یہ بھی کہ الله دغابازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ ... in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence. She said, `I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,' ... وَأَنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي كَيْدَ الْخَايِنِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

52۔ 1 جب جیل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ساری تفصیل بتلائی گئی تو اسے سن کر یوسف (علیہ السلام) نے کہا اور بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ کے پاس جا کر انہوں نے یہ کہا اور بعض مفسرین کے نزدیک زلیخا کا قول ہے اور مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں بھی اس غلط طور پر خیانت کا ارتکاب نہیں کرتی بلکہ امانت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اپنے خاوند کی خیانت نہیں کی اور کسی بڑے گناہ میں واقعہ نہیں ہوئی۔ امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ 52۔ 2 کہ وہ اپنے مکر و فریب میں ہمیشہ کامیاب ہی رہیں، بلکہ ان کا اثر محدود اور عارضی ہوتا ہے۔ بالآخر جیت حق اور اہل حق ہی کی ہوتی ہے، گو عارضی طور پر اہل حق کو آزمائشوں سے گزرنا پڑے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] سیدنا یوسف کا صبر وتحمل :۔ جرم کا سب سے بہتر اور اول درجہ کا ثبوت مجرم کا اپنا اعتراف ہوتا ہے اس اعتراف کے بعد جب حق نتھر کر سامنے آگیا تو اس وقت سیدنا یوسف نے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں نے یہ مطالبہ کیا ہی اس لیے تھا کہ میری پوزیشن عام لوگوں کی نظروں میں بالکل واضح ہوجائے اور اس لیے بھی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ دغابازوں اور خائن قسم کے لوگوں کا فریب چلنے نہیں دیتا۔ اس مقام پر خائن سے مراد وہ ہاتھ کاٹنے والی عورتیں ہیں۔ جنہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یوسف بالکل پاکیزہ سیرت انسان ہے اور اصل مجرم زلیخا ہے۔ سیدنا یوسف پر ہی یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ اسے زلیخا کی بات مان لینا چاہیے۔ سیدنا یوسف نے مقدمہ کی تحقیق تک اپنی قید سے رہائی کے معاملہ کو جس پیغمبرانہ صبرو تحمل سے تاخیر میں ڈالا اس کی داد رسول اللہ نے ان الفاظ میں دی ہے۔ ( لَوْلَبِثْتُ فِیْ السِّجْنِ کَمَا لَبِثَ یُوْسُفُ لاَ جَبْتُ الدَّاعِیَ ) (بخاری، کتاب التفسیر، باب لقد کان فی یوسف۔۔ ) (یعنی اگر میں اتنی مدت قید میں رہتا جتنی مدت یوسف رہے تھے تو میں فوراً ۔۔ بلانے والے کے ساتھ ہولیتا) اس جملہ میں ایک تو آپ نے سیدنا یوسف کے صبر و تحمل کی تعریف فرمائی اور دوسرے نہایت لطیف پیرایہ میں اپنی عبودیت کاملہ اور انکساری کا اظہار فرمایا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ ۔۔ : عزیز مصر کی بیوی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں یہ اعتراف اس لیے کر رہی ہوں کہ اس کو (میرے خاوند کو) معلوم ہوجائے کہ اس کی عدم موجودگی میں میں نے فی الواقع اس کی خیانت نہیں کی اور نہ بڑی برائی واقع ہوئی ہے، ہاں، میں نے اس جو ان کو پھسلایا تھا، مگر اس نے سختی سے انکار کردیا۔ اس لیے میں اعتراف کر رہی ہوں، تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ میں نے بڑی خیانت کا ارتکاب نہیں کیا اور اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔ ہاں، میں اپنے آپ کو بالکل بری بھی نہیں کہتی، کیونکہ نفس برائی کی خواہش کرتا اور اس پر ابھارتا ہے، سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم کرے اور اسے بچا لے، بیشک میرا رب غفور و رحیم ہے۔ جس پر میرا رب رحم کرے، مراد یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ حافظ ابن کثیر (رض) نے فرمایا : ” یہی قول زیادہ مشہور اور قصے کے سیاق اور کلام کے معنی و مفہوم کے زیادہ لائق اور مناسب ہے۔ “ ماوردی نے اپنی تفسیر میں یہی بیان کیا ہے اور علامہ ابن تیمیہ (رض) نے اسی کی تائید کی ہے اور اس پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ قول عزیز کی بیوی ہی کا ہے مگر ” لِيَعْلَمَ “ سے مراد یہ ہے کہ یوسف کو معلوم ہوجائے، جب کہ وہ قید خانے میں ہے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی، نہ اسے کسی طرح مجرم بنایا ہے، بلکہ اپنی کوتاہی کا ہی اعتراف کیا ہے۔ یہ معنی ایک لحاظ سے زیادہ قریب ہے کہ عزیز کا اس سارے سلسلۂ کلام میں ذکر ہی نہیں۔ البتہ قریب ترین شخص جس کا ذکر اس نے کیا وہ یوسف (علیہ السلام) ہیں : (اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ ) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ کلام (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ ) یوسف (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صرف یہی قول بیان کیا ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جب ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ہر برائی سے پاک ہونے کی شہادت دی اور عزیز کی بیوی نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اس معاملے کی تحقیق تک قید خانے سے اس لیے نہیں نکلا تاکہ عزیز مصر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی، ساتھ ہی تواضع کے طور پر فرمایا کہ میں اپنے آپ کو بالکل گناہ سے پاک نہیں کہتا، کیونکہ نفس تو یقیناً برائی پر ابھارتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ ابن کثیر (رض) فرماتے ہیں : ” پہلا قول (یعنی ” الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ “ سے ” غَفُوْرْ رَّحِیْم “ تک یہ سارا کلام عزیز کی بیوی کا ہے) ہی زیادہ قوی اور ظاہر ہے، کیونکہ (ان خواتین اور) عزیز کی بیوی کی ساری گفتگو بادشاہ کی مجلس میں ہوئی ہے اور اس وقت یوسف (علیہ السلام) وہاں موجود نہیں تھے، بلکہ بادشاہ نے اس کے بعد انھیں بلوایا ہے۔ “ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے اعتراف کیا تو ایک شخص نے قید خانے میں جا کر یوسف (علیہ السلام) کو یہ بات بتائی تو انھوں نے فرمایا : (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ ۔۔ ) مگر یہ بات ہمارے پاس نہ قرآن مجید میں ہے، نہ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اور اگر ان دونوں کے علاوہ اس خبر کا کوئی اور ذریعہ ہے تو اس کے سچ جھوٹ معلوم ہونے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ رہی یہ بات کہ عزیز کی بیوی رب تعالیٰ اور اس کی صفات غفور و رحیم ہونے کا ذکر کیسے کرسکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کا بادشاہ مصر کے فرعونوں سے پہلے کا ہے اور ساری سورت میں بادشاہ یا اس کے وزراء میں سے کسی کے کفر کی تصریح کہیں نہیں، ہاں عوام میں شرک موجود تھا، جیسا کہ جیل کے خواب دیکھنے والے تھے۔ عزیز مصر نے بھی اپنی بیوی کو گناہ سے استغفار کرنے کی تلقین کی تھی اور ایک مشرک جبار بادشاہ یوسف (علیہ السلام) جیسے شخص کا کبھی اتنا اکرام و اعزاز نہیں کرسکتا، جس کا کھلم کھلا کہنا ہو کہ میں نے اس قوم کی ملت کو ترک کر رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتی۔ ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) میں حسن ظاہر کے استثنا کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) کے کمالات سے کچھ زیادہ ہی کمالات ہوں گے، مگر اسی مصر کے ایک بادشاہ (فرعون) نے انھیں اور ان کی قوم کو مسلسل عذاب میں رکھا، حتیٰ کہ فرعون کو سمندر میں غرق کردیا گیا۔ [ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَّمُ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second (52) of the two verses cited above, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has himself pointed out to two considerations implied in the way he acted and in the option of delaying his release. The first consideration was: ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ. It means: I delayed my release so that the ` Aziz of Misr comes to know for sure that I did not betray him in any way during his absence. He was so concerned about making the ` Aziz of Misr become assured of his innocence because he thought it would be terrible if the ` Aziz of Misr continues to harbour doubts in his heart against him and suffer more from them when unable to say much after the royal honour has been conferred on him. If so, he would be displeased with the honour given to him and far more painful would be the silence he would have to maintain. Since, he had been his master when he lived with him, his pain was too much to bear for Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، intrinsically gentle as he was. Then, it was equally obvious that once the ` Aziz of Misr came to believe in his innocence, people will stop talking by themselves. The second consideration he mentions is: وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ , that is, he asked for investigations to be made in order that people may know that Allah does not lead the guile of betrayers to success. This statement could be taken to mean that an investigation would expose the betrayal of the betrayers and people would stand warned that betrayers are finally disgraced leaving a lesson for others to stay away from doing things like that in the future. Also possible here is another meaning, that is, had Sayyidna ~suf~ received the royal honours in the same climate of doubt, it may have occured to all watchers that it was not impossible to betray and be honoured at the same time. This would have distorted their faith in fidelity and would have driven away the distaste for betrayal from their hearts. However, it was because of these two considerations that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) did not favour his leaving the prison immediately after having received the message of his release. In fact, there was a touch of royal elegance in his manner when he demanded that his case be investigated first.

اول یہ کہ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ یعنی یہ تاخیر میں نے اس لئے کی کہ عزیز مصر کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے حق میں کوئی خیانت نہیں کی ، عزیز مصر کی یقین دہانی کی زیادہ فکر اس لئے ہوئی کہ یہ بہت بری صورت ہوگی کہ عزیز مصر کے دل میں میری طرف سے شبہات رہیں اور پھر شاہی اعزاز کی وجہ سے وہ کچھ نہ کہہ سکیں، تو ان کو میرا اعزاز بھی سخت ناگوار ہوگا اور اس پر سکوت ان کے لئے اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا وہ چونکہ ایک زمانہ تک آقا کی حیثیت میں رہ چکا تھا اس لئے یوسف (علیہ السلام) کی شرافت نفس نے اس کی اذیت کو گوارا نہ کیا اور یہ بھی ظاہر تھا کہ جب عزیز مصر کو براءت کا یقین ہوجائے گا تو دوسرے لوگوں کی زبانیں خودبند ہوجائیں گی ، دوسری حکمت یہ ارشاد فرمائی وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ یعنی یہ تحقیقات اس لئے کرائی کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے قریب کو چلنے نہیں دیتا اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ تحقیقات کے ذریعہ خیانت کرنے والوں کی خیانت ظاہر ہو کہ سب لوگ متنبہ ہوجائیں کہ خیانت کرنے والوں کا انجام آخر کار رسوائی ہوتا ہے تاکہ آئندہ سب لوگ ایسے کاموں سے بچنے کا اہتمام کریں دوسرے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر اسی اشتباہ کی حالت میں یوسف (علیہ السلام) کو شاہی اعزاز مل جاتا تو دیکھنے والوں کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ایسی خیانت کرنے والوں کو بڑے بڑے رتبے مل سکتے ہیں اس سے ان کے اعتقاد میں فرق آتا اور خیانت کی برائی دلوں سے نکل جاتی بہرحال مذکورہ بالاحکمتوں کے پیش نظر یوسف (علیہ السلام) نے رہائی کا پیغام پاتے ہی فورا نکل جانا پسند نہیں کیا بلکہ شاہی انداز سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللہَ لَا يَہْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۝ ٥٢ خون الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة : الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، ( خ و ن ) الخیانۃ خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی خفیہ طور پر عہد شکنی کرکے حق کی مخالفت کے آتے ہیں اس کا ضد امانت ہے ۔ اور محاورہ میں دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو ۔ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ كيد الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] ( ک ی د ) الکید ( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر بھی کبھی اچھے معنوں میں فرمایا : ۔ كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب ( یوسف نے کہا) اس سے میری غرض یہ تھی کہ ( عزیز مصر) یہ جان لے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی ۔ حسن ، مجاہد ، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول تھا۔ آپ نے یہ فرمایا کہ ” میں نے قاصد کو بادشاہ کے پاس اس لیے بھیج دیا اور اس سے عورتوں کے معاملہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کہا کہ بادشاہ یعنی عزیز مصر کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی ہے “ اگر سلسلہ کلام کی ابتداء عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کے متعلق حکایت سے کی جائے تو اس صورت میں کلام کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قول کی حکایت کی طرف لوٹا جائے گا اس لیے کہ اس مفہوم پر کلام کی دلالت واضح ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے وکذلک یفعلون اور یہ ایسا ہی کرتے ہیں جبکہ اس فقرے سے پہلے عورت یعنی ملکہ سبا کے قول کی حکایت ہے یعنی وجعلوا عزۃ اھلھا اذلۃ اور یہ لوگ بیرونی حملہ آور بادشاہ ملک میں بسنے وال عزت دار اور اونچے مرتبے والوں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ قول باری بھی ہے فما ذا تامرون پھر تمہارا کیا مشورہ ہے ؟ حالانکہ اس فقرے سے پہلے فرعون کے دباریوں اور سرداروں کے قول کی حکایت ہے یعنی یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال باہر کردینا چاہتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٢) چناچہ ان تصدیقات کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے یہ اہتمام اس لیے کیا ہے تاکہ عزیز کو قطعی طور پر معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے ساتھ خیانت کی اور اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢ (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ ) یہ فقرہ سیاق عبارت میں کس کی زبان سے ادا ہوا ہے اس کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ اس لیے کہ اس فقرے کے موقع محل اور الفاظ میں متعدد امکانات کی گنجائش ہے۔ ان اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ یہ فقرہ عزیز کی بیوی کی زبان ہی سے ادا ہوا ہے کہ میں نے ساری بات اس لیے سچ سچ بیان کردی ہے تاکہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس سے کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی خیانت نہیں کی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46. Prophet Joseph might have said these words in the prison when he came to know the result of the inquiry. But some commentators, including great scholars like Ibn Taimiyyah and Ibn Kathir, regard this sentence to be a continuation of the preceding speech of the wife of Al-Aziz. They argue that this sentence has been placed contiguous to her preceding speech without any dividing word between them to indicate that her speech had ended at “indeed, he is surely of the truthful”, and that the succeeding words were spoken by Prophet Joseph. They construe that if two speeches made by two different persons are placed in contiguity, they must be separated by means of some definite word, or there must be some definite clue to it. As neither of these two things exists in this case, it may rightly be construed that the words contained in (Ayat 52) are the continuation of her preceding speech in (Ayat 51). I, however, am surprised how a great scholar of Ibn Taimiyyah’s insight has missed this point that the characteristic of a speech is in itself a clear and selfsufficient clue. Her confession in (Ayat 51) fits in with her low character, but obviously the succeeding dignified and grand speech in (Ayat 52) is too high for her. That fits in only with the noble character of Prophet Joseph. It is obvious that this must have been uttered by one, who was righteous, generous, humble and God fearing. It is by itself a clear evidence that it could not have come out of the mouth of the one, who said: Come here, and what punishment does the one deserve, who shows evil intentions towards your wife? And if he will not yield to my bidding, he shall be cast into prison. On the other hand, such a pure speech fitted in with the one who said: May Allah protect me. My Lord has shown so much kindness towards me. Should I, then, misbehave like this? And my Lord, I prefer imprisonment to that to which they invite me. If Thou dost not ward off their cunning devices from me, I might be caught in their snares. Therefore one cannot ascribe such a pure speech to the wife of Al-Aziz unless there is a clear clue showing that by that time she had repented and believed and mended her ways, but there is no such clue. Thus it is clear that this speech must have been made by Prophet Joseph (peace be upon him).

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :46 یہ بات غالبا یوسف علیہ السلام نے اس وقت کہی ہوگی جب قید خانہ میں آپ کو تحقیقات کے نتیجے کی خبر دی گئی ہوگی ۔ بعض مفسرین ، جن میں ابن تیمیہ اور ابن کثیر جیسے فضلا بھی شامل ہیں ، اس فقرے کو حضرت یوسف کا نہیں بلکہ عزیز کی بیوی کے قول کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ فقرہ امرأة العزیز کے قول سے متصل آیا ہے اور بیچ میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ ” اِنَّہ لَمِنَ الصَّادِقِینَ“ پر امرأة العزیز کی بات ختم ہوگئی اور بعد کا کلام حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے ادا ہوا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دو آدمیوں کے قول ایک دوسرے سے متصل واقع ہوں اور اس امر کی صراحت نہ ہو کہ یہ قول فلاں کا ہے اور یہ فلاں کا ، تو اس صورت میں لازما کوئی قرینہ ایسا ہونا چاہیے جس سے دونوں کے کلام میں فرق کیا جا سکے ، اور یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ۔ اس لیے یہی ماننا پڑے گا کہ الئن حصحص الحق سے لے کر ان ربی غفور رحیم تک پورا کلام امرأة العزیز کا ہی ہے ۔ لیکن مجھے تعجب ہے کہ ابن تیمیہ جیسے دقیقہ رس آدمی تک کی نگاہ سے یہ بات کیسے چوک گئی کہ شان کلام بجائے خود ایک بہت بڑا قرینہ ہے جس کے ہوتے کسی اور قرینہ کی ضرورت نہیں رہتی ۔ پہلا فقرہ تو بلا شبہہ امرأة العزیز کے منہ پر پھبتا ہے ، مگر کیا دوسرا فقرہ بھی اس کی حیثیت کے مطابق نطر آتا ہے؟ یہاں تو شان کلام صاف کہہ رہی ہے کہ اس کے قائل حضرت یوسف علیہ السلام ہیں نہ کہ عزیز مصر کی بیوی ۔ اس کلام میں جو نیک نفسی ، جو عالی ظرفی ، جو فروتنی اور جو خدا ترسی بول رہی ہے وہ خود گواہ ہے کہ یہ فقرہ اس زبان سے نکلا ہوا نہیں ہوسکتا جس سے ھَیتَ لَکَ نکلا تھا ۔ جس سے مَا جَزَآءُ مَن اَرَادَ بِاَھلِکَ سُوا نکلا تھا ، اور جس سے بھری محفل کے سامنے یہ تک نکل سکتا تھا کہ لَئِن لَّم یَفعَل مَآ اٰمُرُہُ لَیُسجَنَنَّ ۔ ایسا پاکیزہ فقرہ تو وہی زبان بول سکتی تھی جو اس سے پہلے مَعَا ذَاللہِ اِنَّہُ رَبِّیٓ اَحسَنَ مَثوَایَ ط کہہ چکی تھی ، جو رَبِّ السِّجنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَد عُو نَنِی اِلَیہِ کہہ چکی تھی ، جو اِلَّا تَصرِف عَنِّی کَیدَ ھُنَّ اَصبُ اِلَیھِنَّ کہہ چکی تھی ۔ ایسے پاکیزہ کلام کو یوسف صدیق کے بجائے امرأ العزیز کا کلام ماننا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کوئی قرینہ اس امر پر دلالت نہ کرے کہ اس مرحلے پر پہنچ کر اسے توبہ اور ایمان اور اصلاح نفس کی توفیق نصیب ہوگئی تھی ، اور افسوس ہے کہ ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٢۔ بعضے مفسروں نے اس مقولہ کو زلیخا کا مقولہ قرار ١ ؎ دیا ہے اور مطلب اس کا یہ بتلایا ہے کہ بادشاہ کے روبرو جب زلیخا نے حضرت یوسف کے بےگناہ ہونے کا اور اپنے تقصیر وار ہونے کا اقرار کرلیا تو اس وقت عورتوں سے زلیخا نے یہ بات کہی کہ یہ اقرار میں نے اس واسطے کرلیا کہ میرا خاوند جان جاوے کہ میں نے زیادہ کوئی بد فعلی نہیں کی ہاں نفس کی شامت سے بدفعلی چاہتی تھی مگر حضرت یوسف کے انکار کے سبب سے اس کا موقع نہیں آیا اور جن مفسروں نے اس مقولہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقولہ ٹھہرایا ہے ان پر زلیخا کا مقولہ ٹھہرانے والے نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اول تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ان باتوں کے وقت بادشاہ کے پاس موجود نہیں تھے بلکہ اس وقت تک قید میں تھے دوسرے قرآن شریف میں اوپر سے عورتوں کی باتوں کا ذکر آرہا ہے۔ بلا تعلق یہ مقولہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہاں کیوں کر آسکتا ہے لیکن اس مقولہ کو زلیخا کا مقولہ ٹھہرانا تکلف سے خالی نہیں کیوں کہ زلیخا اس وقت تک مسلمان نہ تھیں پھر بغیر اسلام کے بت پرستوں کے منہ اور خصوصاً بت پرست عورتوں کے منہ سے ایسی باتوں کا نکلنا عادت کے خلاف ہے کہ نفس امارہ برا ہے اللہ جس پر رحم کرے وہی نفس امارہ کی بدی سے بچ سکتا ہے۔ اور میرا اللہ غفور الرحیم ہے بلکہ ان کلموں سے تو خود نبوت کی بو آتی ہے رہی یہ بات کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس وقت بادشاہ کے پاس کہاں تھے جو انہوں نے بادشاہ سے یہ بات کہی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کون کہتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات بادشاہ سے کہی بلکہ جب وہ ساقی جو قید سے چھوٹا تھا دوسری دفعہ بادشاہ کے پاس سے قید خانہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ بادشاہ نے عورتوں سے دریافت و تحقیقات کرلی اور تمہاری براءت عورتوں اور خود زلیخا کے بیان سے ثابت ہوچکی اب بادشاہ نے تم کو پھر بلایا ہے اس وقت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ بات کہی کہ میں نے تجھ کو دوبارہ بادشاہ کے پاس بھیج کر یہ تحقیقات اس واسطے کرائی کہ میری برأت ثابت ہوجائے اور مفت کا الزام جو مجھ پر لگا تھا وہ جاتا رہے اب نبوت کی شان نے جوش کیا اور خیال آیا کہ اپنی پارسائی کو میں نے اتنی شہرت کیوں دی اس پر آگے فرمایا کہ میں اپنی جان کو پارسا نہیں گنتا غرض اس صورت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس مقولہ کا آپ کے پہلے اس کلام سے کہ ساقی تو پھر دوبارہ بادشاہ کے پاس جا اور عورتوں سے میرا حال دریافت اور تحقیقات کرنے کو بادشاہ سے کہہ دے پورا تعلق موجود ہے اور شان کلام سے یہ بات بھی اچھی طرح نکلتی ہے کہ یہ کلام ایک بت پرست عورت کا نہیں ہے بلکہ ایک نبی وقت کا کلام ہے اور کوئی اعتراض بھی باقی نہیں رہتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان وجوہات کے سبب سے امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) ان کے شاگرد مجاہد قتادہ اور اکثر سلف بھی کہتے ہیں کہ یہ قول یوسف (علیہ السلام) کا ہے زلیخا کا نہیں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کسی نے شرم و حیا کر کے اپنے آپ کو گناہ سے بچایا اس کا انجام ہر طرح بخیر ہے۔ ٢ ؎ یوسف (علیہ السلام) کے حال کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے شرما کر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو برے کام سے جو روکا تو علاوہ عقبیٰ کے اجر کے دنیا میں بھی ہر طرح سے ان کا انجام بخیر ہوا عزیز مصر کے مرجانے کے بعد زلیخا سے ان کا نکاح ہوگیا بادشاہ مصر کی نظر میں ان کی توقیر سما گئی تمام مصر پر وہ حکومت کرنے لگے۔ ١ ؎ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رض) اور حافظ ابن کثیر (رض) نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ در حقیقت اس آیت کو مقولہ یوسف (علیہ السلام) بنانا نرا تکلف ہے (ع، ر) (تفسیر ابن کثیر ص ٤٨١ ج ٢ و فتاوے ابن تیمیہ ص ٢٨٥ ج ٢۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٩٠٣ ج ٢ باب الحیاء والترغیب ص ١٤٧ ج ٢ کتاب الادب وغیرہ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:52) ذلک (یہاں سے حضرت یوسف کا کلام شروع ہوتا ہے) میں نے اس لئے اس الزام کی تحقیق کرانا چاہی تھی۔ تاکہ عزیز مصر کو اطیمنان ہوجائے کہ میں احسان فراموش نہیں ہوں۔ لم اخنہ۔ لم اخن۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ واحد متکلم ہ ضمیر واحد مذکر غائب عزیز مصر کے لئے ہے۔ میں نے اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ بالغیب۔ اس کی غیر حاضری میں۔ اس کی پیٹھ پیچھے۔ لا یھدی۔ کامیاب نہیں کرتا۔ چال کو سیدھی راہ پر (کامیابی کی راہ پر) نہیں چلنے دیتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ دغاباز۔ خیانۃ سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا رہا ہو کر بادشاہ کے ساتھ ملاقات کرنا۔ اس کے سامنے تاخیر سے آنے کی وضاحت فرمانا۔ جب قرائن اور ٹھوس شواہد کے ساتھ حقیقت ہر اعتبار سے واضح ہوچکی تو بادشاہ وقت نے ایک دفعہ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل سے رہا ہونے اور اپنے ساتھ ملاقات کا پیغام بھیجا۔ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انھوں نے پہلی دفعہ جیل سے نہ نکلنے کی نہایت وقار کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے انکار کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کی نہ احسان فراموشی کی اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی تھی۔ کیونکہ میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ خائن لوگوں کی کبھی رہنمائی نہیں کرتا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرمایا کرتے تھے : (عَنْ اأمّ مَعْبَدٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ طَہِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِیْ مَنَ الرِّیَاءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ خَاءِنَۃُ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصَّدُوْرِ ) [ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر ] ” حضرت ام معبد (رض) بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میرے دل کو نفاق، میرے عمل کو ریا سے اور میری زبان کو جھوٹ اور میری آنکھوں کو خیانت سے محفوظ فرما۔ یقیناً تو خیانت کرنے والی آنکھ اور جو کچھ دلوں میں پوشیدہ ہے اس کو جانتا ہے۔ “ مسائل ١۔ آدمی کو حتی المقدور اپنا دامن پاک رکھنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ خائن کو ہدایت نہیں دیتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ خائن کو پسند نہیں کرتا

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس اعتراف کو سیاق کلام میں اس طرح قلم بند کیا گیا ہے کہ اس کے پس منظر میں جذبات کا ایک طوفان نظر آتا ہے ، جس طرح اس سے قبل اس نے واضح اعتراف کیا اور نہایت ہی خوبصورت انداز میں۔ انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین " وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے "۔ یہ حضرت یوسف کی پاکدامنی اور مکمل جرات کی واضح شہادت تھی۔ یہ شہادت اس نے بڑی جرات سے دی اور اس کی کوئی پروا نہیں کی کہ اس کی ذات پر اس کے کیا اثرت پڑتے ہیں۔ کیا یہ عورت بادشاہ اور اس کے درباریوں کے ساتھ صرف سچائی کی خاطر شہادت دی ؟ ہاں ایک دوسرا مقصد اور خواہش بھی اس کے دل میں ضرور ہے۔ وہ یہ کہ یہ مومن شخص جسے اس نے جسمانی مقاصد کے لیے پھسلانے کی سعی کی تھی ، اب اس شہادت اور اقرار پر اس کا احترام کرے۔ کیونکہ جب وہ جیل میں غائب تھا تو اس کے بعد وہ ایمان لے آئی ہے۔ یہ ہے مفہوم۔ ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب " یہ کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی " اس کے بعد اس عورت کی طرف سے حالات کو درست کرنے کی مزید کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کہتی ہے۔ و ان اللہ لایھدی کید الخائنین " اللہ خیانت کرنے والوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں کرتا " یعنی یہ اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے جسے حضرت یوسف پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک قدم اور آگے بڑھتی ہے : وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: میں کچھ اپنے نفس کی برات نہیں کرتی ، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو ، بیشک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔ یہ عورت محبت کرنے والی تھی۔ یہ اس ذات کے ساتھ جاہلیت میں بھی جاہلیت میں بھی جاہلانہ محبت کرتی تھی اور اب اسلام میں بھی اس کے ساتھ محبت کرتی ہے۔ چناچہ اس کی سر توڑ کوشش ہے کہ وہ کسی طرح حضرت یوسف سے کوئی کلمہ خیر یا توجہ ، یا خوشی حاصل کرلے۔ یہ اس قصے میں انسانی جذبات کا عنصر ہے۔ یہ محض فنکاری کی وجہ سے یہاں نہیں لایا گیا۔ محض عبرت اور نصیحت کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ اس لیے تاکہ اس کے ذریعے نظریات و عقائد کو پھیلایا جائے اور دعوت اسلامی کو وسعت دی جائے۔ اس قصے میں جہاں جہاں انسانی جذبات ، میلانات اور انسانی تخیل و وجدان کو لایا گیا وہ نہایت ہی نرم اور محبت بھرے اور خوبصورت انداز میں لایا گیا ہے۔ ایسے انداز میں کہ تمام موثرات ، تمام واقعات ، تمام کرداروں اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو ، اور جس ماحول کی طرف اشارہ ہو وہ قدرتی نظر آئے۔ یہاں آ کر حضرت یوسف کے زمانہ اسیری کی مشکلات ختم ہوجاتی ہیں۔ اب حضرت یوسف کو عزت و اقتدار دے کر آزمایا جائے گا۔ انسان کے لیے ہر حال آزمائش۔ یہاں یہ پاراہ اختتام کو پہنچتا ہے اور مزید واقعات اگلے پارے میں دیکھیں۔ بٹ گرام 2 نومبر 1992 ء

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

46:۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ امرۃ العزیز کا قول ہے یا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا۔ حضرت قتادہ، حسن اور حضرت ابن عباس کے نزدیک یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی۔ لِیَعْلَمَ کا فاعل بادشاہ ہے نہ کہ عزیز مصر کیونکہ وہ اس وقت مرچکا تھا۔ قال ابن عباس فارسل الملک الی النسوۃ والی امراۃ العزیز وکان قد مات العزیز (قرطبی ج 9 ص 207) لیعلم الملک انی لم اخنہ بالغیب (کبیر ج 18 ص 154) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

52 ۔ غرض بادشاہ کی اس تمام کا رسوائی کی اطلاع یوسف (علیہ السلام) کو دی گئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اس تحقیقات اور مقدمہ پر نظر ثانی سے میر غرض یہ تھی کہ عزیر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیر کی پیٹھ پیچھے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے ناموس میں کوئی خیانت نہیں کی اور یہ بھی اپنے معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کی چال اور دائوں کو چلنے نہیں دیتا ۔ عزیر مصر کو یقین تو پہلے ہی تھا اس صفائی سے اور پختہ یقین ہوا ہوگا ۔