Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 63

سورة يوسف

فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡہِمۡ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡکَیۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَکۡتَلۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۶۳﴾

So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians."

جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ ہم سے تو غلہ کا ناپ روک لیا گیا اب آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے کہ ہم پیمانہ بھر کر لائیں ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yusuf's Brothers ask Yaqub's Permission to send Their Brother Binyamin with Them to Egypt Allah tells: فَلَمَّا رَجِعُوا إِلَى أَبِيهِمْ ... So, when they returned to their father, ... قَالُواْ يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ ... they said: "O our father! No more measure of grain shall we get..." after this time, unless you send our brother Binyamin with us. ... فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ ... So send our brother with us, and we shall get our measure Some scholars read this Ayah in a way that means, `and he shall get his ration.' They said, ... وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ and truly, we will guard him. `do not fear for his safety, for he will be returned back to you.' This is what they said to Ya`qub about their brother Yusuf, أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ "Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and verily, we will take care of him." (12:12) This is why Prophet Yaqub said to them,

بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کر دیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ کر چکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنا دی ۔ حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا ۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا ۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم وکرم کو نہیں روکتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

63۔ 1 مطلب یہ ہے کہ آئندہ کے لئے غلہ بنیامین کے بھیجنے کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر یہ ساتھ نہیں جائے گا تو غلہ نہیں ملے گا۔ اس لئے اسے ضرور ساتھ بھجیں تاکہ ہم دوبارہ بھی اسی طرح غلہ مل سکے، جس طرح اس دفعہ ملا ہے، اور اس طرح کا اندیشہ نہ کریں جو یوسف (علیہ السلام) کو بھیجتے ہوئے کیا تھا، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ ۔۔ : قحط میں سب سے پہلی فکر جان بچانے کی تھی اور نظر آ رہا تھا کہ یہ غلہ کتنی دیر چلے گا، اس لیے واپس جاتے ہی ابھی سامان نہیں کھولا اور سب سے پہلے یہ بات کی کہ ابا جان آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے، اس کے بعد سارا قصہ سنایا اور بتایا اب غلہ ملنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تو ہمیں غلہ مل جائے گا۔ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ : اس میں بھی تین تاکیدیں ہیں، یعنی یوسف کی طرح اس کے بارے میں فکر نہ کیجیے، ہمیں پورا احساس ہے، اس لیے ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The verses appearing above carry the remaining segment of the event, that is, when the brothers of Yusuf (علیہ السلام) returned home with food-grains from Egypt, they told their father about what had happened there, specially about the condition imposed by the ` Aziz of Misr that they would receive food grains in the future only if they would bring their younger brother with them. So they requested their father to let Benya¬min also accompany them in order that they may receive food grains in the future as well. Then, they would be there to protect this brother of theirs at its best with assurance that they would see to it that he faces no inconvenience during the trip. Their father asked them if they wanted him to trust them with Ben¬yamin as he had done before with their brother, Yusuf (علیہ السلام) . The drive of his remark makes it obvious that he did not trust their word. He had trusted them once, and suffered - for they had promised in the same words spoken earlier that they would guard him. This much was an answer to what they had said. But, he had the need of the family in sight, and because he was blessed with the quality of trust in the Divine dispension of matters, he talked about the reality as he knew it saying, in effect, that man has no control over his gain or loss unless Allah Ta ala Himself so wills. And when He wills it, it cannot be diverted or averted by anyone. Therefore, it is incorrect to place one&s trust in the created beings of Allah in this matter and equally inappropri¬ate is the dependence on their complaints to settle it.

خلاصہ تفسیر : غرض جب لوٹ کر اپنے باپ (یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے کہنے لگے اے ابا (ہماری بڑی خاطر ہوئی اور غلہ بھی ملا مگر بنیامین کا حصہ نہیں ملا بلکہ بدون بنیامین کے ساتھ لے جاتے ہوئے آئندہ بھی) ہمارے لئے (مطلقا) غلہ کی بندش کردی گئی سو (اس صورت میں ضروری ہے کہ) آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ (دوبارہ غلہ لانے سے جو امر مانع ہے وہ مرتفع ہوجاوے اور) ہم (پھر) غلہ لا سکیں اور (اگر ان کے بھیجنے سے آپ کو کوئی اندیشہ ہی مانع ہے تو اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ) ہم ان کی پوری حفاظت رکھیں گے یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بس (رہنے دو ) میں اس کے بارے میں بھی تمہارا ویسا ہی اعتبار کرتا ہوں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی (یوسف علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں (یعنی دل تو میرا گواہی دیتا نہیں مگر تم کہتے ہو کہ بدون اس کے گئے ہوئے آئندہ غلہ نہ ملے گا اور عادۃ زندگی کا مدار ہی پر ہے اور جان بچانا فرض ہے) سو (خیر اگر لے ہی جاؤ گے تو) اللہ (کے سپرد وہی) سب سے بڑھ کر نگہبان ہے (میری نگہبانی سے کیا ہوتا ہے) اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے (میری محبت اور شفقت سے کیا ہوتا ہے) اور (اس گفتگو کے بعد) جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو (اس میں) ان کی جمع پونجی (بھی) ملی کہ ان ہی کو واپس کردی گئی کہنے لگے کہ اے ابّا (لیجئے) اور ہم کو کیا چاہئے یہ ہماری جمع پونجی بھی تو ہم ہی کو لوٹا دی گئی (ایسا کریم بادشاہ ہے اور اس سے زیادہ کس عنایت کا انتظار کریں یہ عنایت بس ہے اس کا مقتضیٰ بھی یہی ہے کہ ایسے کریم بادشاہ کے پاس پھرجائیں گے اور وہ موقوف ہے بھائی کے ساتھ لیجانے پر اس لئے اجازت ہی دیدیجئے ان کو ساتھ لے جائیں گے) اور اپنے گھر والوں کے واسطے (اور) رسدلائیں گے اور اپنے بھائی کی خوب حفاظت رکھیں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ غلہ اور زیادہ لائیں گے (کیونکہ جس قدر اس وقت لائے ہیں) یہ تو تھوڑا سا غلہ ہے (جلد ہی ختم ہوجائے گا پھر اور ضرورت ہوگی اور اس کا ملنا موقوف ہے ان کے لیجانے پر) یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (خیر اس حالت میں بھیجنے سے انکار نہیں لیکن) اس وقت تک ہرگز اس کو تمہارے ہمراہ نہ بھیجوں گا جب تک کہ اللہ کی قسم کھالی) سو جب وہ قسم کھا کر اپنے باپ کو قول دے چکے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ جو بات چیت کر رہے ہیں یہ سب اللہ کے حوالے ہے (یعنی وہی ہمارے قول و اقرار کا گواہ ہے کہ سن رہا ہے اور وہی اس قول کو پورا کرسکتا ہے پس اس کہنے سے دو غرض ہوئیں اول ان کو اپنے قول کے خیال رکھنے کی ترغیب اور تنبیہ کہ اللہ کو حاضر وناضر سمجھنے سے یہ بات ہوتی ہے اور دوسرے اس تدبیر کا منتہیٰ تقدیر کو قرار دینا کہ توکل کا حاصل ہے اور اس کے بعد بنیامین کو ہمراہ جانے کی اجازت دے دیغرض دوبارہ مصر کے سفر کو مع بنیامین سب تیار ہوگئے) معارف و مسائل : آیات مذکورہ میں واقعہ کا بقیہ حصہ اس طرح مذکور ہے کہ جب برادران یوسف (علیہ السلام) مصر سے غلہ لے کر گھر واپس آئے تو مصر کے معاملہ کا تذکرہ والد ماجد سے کرتے ہوئے یہ بھی بتلایا کہ عزیز مصر نے آئندہ کے لئے ہمیں غلہ دینے کے لئے یہ شرط کردی ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لاؤ گے تو ملے گا ورنہ نہیں اس لئے آپ آئندہ بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہمیں آئندہ بھی غلہ مل سکے اور ہم اس بھائی کی تو پوری حفاظت کرنے والے ہیں ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی ، والد ماجد نے فرمایا کہ کیا ان کے بارے میں تم پر ایسا ہی اطمینان کروں جیسا اس سے پہلے ان کے بھائی یوسف کے بارے میں کیا تھا مطلب ظاہر ہے کہ اب تمہاری بات کا اعتبار کیا ہے ایک مرتبہ تم پر اطمینان کر کے مصبیت اٹھا چکا ہوں تم نے یہی الفاظ حفاظت کرنے کے اس وقت بھی بولے تھے، یہ تو ان کی بات کا جواب تھا مگر پھر خاندان کی ضرورت کے پیش نظر پیغمبرانہ توکل اور اس حقیقت کو اصل قرار دیا کہ کوئی نفع نقصان کسی بندہ کے ہاتھ میں نہیں جب تک اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت و ارادہ نہ ہو اور جب ان کا ارادہ ہوجائے تو پھر اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس لئے مخلوق پر بھروسہ بھی غلط ہے اور ان کی شکایات پر معاملہ کا مدار رکھنا بھی نامناسب ہے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْہِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۝ ٦٣ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے منع المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ تعالی: وَيَمْنَعُونَ الْماعُونَ [ الماعون/ 7] ، وقال : مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق/ 25] ، ويقال في الحماية، ومنه : مكان منیع، وقد منع وفلان ذو مَنَعَة . أي : عزیز ممتنع علی من يرومه . قال تعالی: أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] ، وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ [ البقرة/ 114] ، ما مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ [ الأعراف/ 12] أي : ما حملک ؟ وقیل : ما الذي صدّك وحملک علی ترک ذلک ؟ يقال : امرأة منیعة كناية عن العفیفة . وقیل : مَنَاعِ. أي : امنع، کقولهم : نَزَالِ. أي : انْزِلْ. ( م ن ع ) المنع ۔ یہ عطا کی ضد ہے ۔ رجل مانع امناع بخیل آدمی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيَمْنَعُونَالْماعُونَ [ الماعون/ 7] اور برتنے کی چیزیں عاریۃ نہیں دیتے ۔ مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق / 25] جو مال میں بخل کر نیوالا ہے اور منع کے معنی حمایت اور حفاظت کے بھی آتے ہیں اسی سے مکان منیع کا محاورہ ہے جس کے معیم محفوظ مکان کے ہیں اور منع کے معنی حفاظت کرنے کے فلان ومنعۃ وہ بلند مر تبہ اور محفوظ ہے کہ اس تک دشمنوں کی رسائی ناممکن ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانون کے ہاتھ سے بچایا نہیں ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ [ البقرة/ 114] اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا کی سجدوں سے منع کرے ۔ اور آیت : ۔ ما مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ [ الأعراف/ 12] میں مانععک کے معنی ہیں کہ کسی چیز نے تمہیں اکسایا اور بعض نے اس کا معنی مالذی سدک وحملک علٰی ترک سجود پر اکسایا او مراۃ منیعۃ عفیفہ عورت ۔ اور منا ع اسم بمعنی امنع ( امر ) جیسے نزل بمعنی انزل ۔ كيل الْكَيْلُ : كيل الطعام . يقال : كِلْتُ له الطعام :إذا تولّيت ذلک له، وكِلْتُهُ الطّعام : إذا أعطیته كَيْلًا، واكْتَلْتُ عليه : أخذت منه كيلا . قال اللہ تعالی: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذا کالُوهُمْ [ المطففین/ 1- 3] ( ک ی ل ) الکیل ( ض ) کے معنی غلہ نا پنے کے ہیں ) اور کلت لہ الطعا م ( صلہ لام ) کے منعی ہیں ۔ میں نے اس کے لئے غلہ ناپنے کی ذمہ داری سنھالی اور کلت الطعام ( بدوں لام ) کے منعی ہیں میں نے اسے غلہ ناپ کردیا اور اکتلت علیہ کے منعی ہیں ۔ میں نے اس سے ناپ کرلیا قرآن میں ہے : ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذا کالُوهُمْ [ المطففین/ 1- 3] ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لئے خرابی ہے ۔ جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں اور جب ان کو ناپ یا تول کردیں تو کم دیں ۔ حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( ح ف ظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں نے فلاں بات یاد کرلی ۔ پھر ہر قسم کی جستجو نگہداشت اور نگرانی پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٣) چناچہ کہ جب یہ بھائی کنعان آئے تو کہنے لگے اگر اب آئندہ آپ بنیامین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو اناج ہمیں نہیں ملے گا لہذا ہمارے ساتھ بنیامین کو روانہ کیجیے تاکہ وہ بھی اپنے لیے ایک اونٹ کے برابر اناج لاسکے اور اگر یہ لفظ نون کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا تاکہ کہ پھر ہم اناج لاسکیں، اور ہم بنیامین کی حفاظت کے پورے ضامن ہیں کہ صحیح سلامت پھر آپ کے پاس ان کو لے آئیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٣ (فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ ) یعنی انہوں نے آئندہ کے لیے ہمارے چھوٹے بھائی کے حصے کا غلہ روک دیا ہے اور وہ تبھی ملے گا جب ہم اس کو وہاں لے کر جائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

41: یعنی اگر ہم بنیامین کو ساتھ لے کر نہ گئے تو ہم میں سے کسی کو غلہ نہیں مل سکے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٣: جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی غلہ لے کر اپنے گھر واپس آئے تو سامان کھولنے سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق کا ذکر کیا کہ عزیز مصر ایک لائق شخص اور شریف النفس ہے ہمیں اچھی طرح اتارا اور ہماری خوب مہمانی کی اور ہمیں بھرپور تول کر غلہ دیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اس مرتبہ جانا تو انہیں میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ہمارا باپ تمہارے حق میں دعا کرتا ہے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرتبہ اگر ہم جائیں تو وہ ہمیں غلہ نہ دیں گے۔ بنیامین اگر ساتھ جائے گا تو البتہ غلہ ملے گا کیوں کہ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ اگر اپنے بھائی کو ساتھ نہ لاؤ گے تو ہم غلہ نہ دیں گے اس واسطے جب تک بنیامین نہ جائے ہمارا جانا بےسود ہے علاوہ اس کے بنیامین کے جانے میں ایک اور فائدہ بھی ہے کہ اس مرتبہ ہم دس اونٹ بار کرا کر لائے ہیں اور اب گیارہ لائیں گے کیوں کہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ کے لائق غلہ دیتا ہے اور آپ بنیامین کی طرف سے کچھ تردد نہ کریں ہم اسے کچھ تکلیف نہ ہونے دیں گے اور ہر طرح سے اس کی حفاظت کریں گے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے { لا حول ولا قوۃ الا باللہ } کہا تو اللہ تعالیٰ اس کے سب کام آسان کر دے ١ ؎ گا۔ ({ لا حول ولاقوۃ الا باللہ } کا مطلب یہ ہے کہ برائی سے بچنے کا نہ مجھ کو کوئی حیلہ آتا ہے نہ نیک کام کرنے کی مجھ میں پوری قوت ہے اس لئے میں نے اپنے سب کام اللہ تعالیٰ کو سونپ دئیے حاصل مطلب حدیث کا یہ ہوا کہ جو شخص اپنے سب کاموں میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سب کام آسان کر دے گا۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں جو دخل ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے { وانا لہ لحفظون } کہہ کر بنیامین کی حفاظت اپنے ذمہ لی اور اللہ تعالیٰ سے اس میں کچھ مدد نہیں چاہی اس لئے یہ مشکل پیش آئی کہ بیس دن کے لئے بنیامین کی جدائی ظہور میں آئی جس کا ذکر آگے آتا ہے اور آگے کی آیت میں یعقوب (علیہ السلام) نے اس حفاظت کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر سونپ دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ملا دیا۔ ١ ؎ مستدرک حاکم ص ٥٤٢ ج ١ من قال لاحول ولا قوۃ الا باللہ الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ کیونکہ جب ان کے پاس غلہ خریدنے کے لئے پونچی ہوگی تو آنے کی راہ میں رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ (کذافی الروح) ۔2 ۔ یونی یوسف کی طرح اس کے بارے میں فکر نہ کیجئے۔ ہمیں پورا احساس ہے اس لئے ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف (علیہ السلام) واپس اپنے گھر آکر اپنے والد سے حسب وعدہ اور ضرورت اپنے بھائی بنیامین کو آئندہ سفر میں ساتھ لے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔ برادران یوسف (علیہ السلام) گھر آکر اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مصر کے بادشاہ کی مہمان نوازی، حسن سلوک اور اس کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ابا جی ہمیں آئندہ غلہ دینے سے اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں گے ہمیں غلہ نہیں مل سکتا۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے بھائی بنیا میں کو ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں ہم اس کی ضرور بضرور حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے معاملے میں ان کے وعدے اور باتوں سے واقف تھے۔ انھوں نے صرف یہی کہنا مناسب سمجھا کہ کیا تم پر میں اسی طرح اعتبار کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں اعتبار کیا تھا ؟ اس کے ساتھ ہی فرمایا اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ اس گفتگو کے بعد جب برادران یوسف نے اپنا سامان کھولا تو یہ دیکھ کر ان کے تعجب اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ غلہ کے ساتھ ان کی ادا کی ہوئی رقم بھی واپس کردی گئی ہے۔ کہنے لگے ! اباجان ! اب تو ضرور آپ بنیامین کو ساتھ لے جانے میں اجازت مرحمت فرمائیں۔ آدمی کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہیے : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا کَرَبَہُٓ أَمْرٌ قَالَ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ ) [ رواہ الترمذی : باب یا حیی یا قیوم ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی معاملے میں پریشانی ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے اے زندہ اور قائم رہنے والے اللہ ! میں تیری رحمت کے صدقے تیری مدد طلب کرتا ہوں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر حفاظت فرمانے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی سب کی حفاظت کرنے والا ہے۔ ١۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : ٥٧) ٢۔ اللہ ہی سب کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : ٨٢) ٣۔ ہر ایک کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر ہیں۔ (الرعد : ١١) ٤۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اللہ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (الانعام : ٦١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں رہ جاتے ہیں اور کنعان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور برادران یوسف (علیہ السلام) منظر پر ہیں۔ ان کی واپسی کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ آیت نمبر ٦٣ تا ٦٦ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیدھے باپ کے سلام کو حاضر ہوئے۔ سامان کھولنے سے بھی پہلے انہوں نے باپ کو یہ بتانا ضروری خیال کیا کہ ہمارے بارے میں تو فیصلہ کردیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے چھوٹے بھائی کو عزیر مصر کے سامنے پیش نہ کریں گے ہمیں مزید کوئی غلہ نہ دیا جائے گا۔ چناچہ پہنچتے ہی انہوں نے باپ سے مطالبہ شروع کردیا کہ چھوٹے بھائی کو ساتھ بھیجیں تا کہ ایک اونٹ بار غلہ بھی مل جائے اور وہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔ فلما رجعوا الی ۔۔۔۔۔۔ لحفظون (١٢ : ٦٣) “ جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا “ اباجان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تا کہ ہم غلہ لے کر آئیں ۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں ”۔ اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خفیہ خدشات سامنے آجاتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی انہوں نے ایسا ہی پختہ عہد کیا تھا۔ چناچہ آپ اپنے درد کا اظہار کردیتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

55:۔ جب وہ واپس والد گرامی کی خدمت میں پہنچے تو عرض کیا کہ بنیامین کا حصہ تو ہم سے روک لیا گیا ہے جب تک وہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گا اس وقت تک ہمیں اس کے حصے کا غلہ نہیں ملے گا۔ اس لیے آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔ ” قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ الخ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جس طرح میں نے یوسف کے بارے میں تم پر اعتماد کیا تھا اسی طرح بنیامین کے بارے میں تم پر اعتماد کروں یعنی تم ایک بار میرے اعتماد کو مجروح کرچکے ہو لیکن اچھا خدا حافظ ہے اور وہ مہربان ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر جدائی کی دو مصیبتیں مسلط نہیں فرمائے گا۔ فارجوا ان ینعم علی بحفظہ ولا یجمع علی مصیبتین (مدارک ج 2 ص 176) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

63 ۔ الغرض جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے تو سفر کے تمام واقعات سنا کر کہنے لگے اے ہمارے باپ آئندہ کے لئے ہم پر غلہ روک دیا گیا لہٰذا آپ ہمارے ہمراہ ہمارے بھائی بن یامین کو بھی بھیجے تا کہ ہم پر غلہ کی بھرتی لے آئیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم بن یامین کی پوری حفاظت کریں گے۔ یعنی غلہ کی بھرتی ہم کو نہیں ملے گی اگر بن یامین ہمارے ساتھ نہ گیا ، عزیز مصر کی خاطر تواضع اور مہمان نوازی کا بھی ذکر کیا اور چونکہ باپ کو ان پر اعتماد نہ تھا اس لئے انہوں نے وانا لہ لحفظون بھی کہا ۔