Commentary The verses appearing above carry the remaining segment of the event, that is, when the brothers of Yusuf (علیہ السلام) returned home with food-grains from Egypt, they told their father about what had happened there, specially about the condition imposed by the ` Aziz of Misr that they would receive food grains in the future only if they would bring their younger brother with them. So they requested their father to let Benya¬min also accompany them in order that they may receive food grains in the future as well. Then, they would be there to protect this brother of theirs at its best with assurance that they would see to it that he faces no inconvenience during the trip. Their father asked them if they wanted him to trust them with Ben¬yamin as he had done before with their brother, Yusuf (علیہ السلام) . The drive of his remark makes it obvious that he did not trust their word. He had trusted them once, and suffered - for they had promised in the same words spoken earlier that they would guard him. This much was an answer to what they had said. But, he had the need of the family in sight, and because he was blessed with the quality of trust in the Divine dispension of matters, he talked about the reality as he knew it saying, in effect, that man has no control over his gain or loss unless Allah Ta ala Himself so wills. And when He wills it, it cannot be diverted or averted by anyone. Therefore, it is incorrect to place one&s trust in the created beings of Allah in this matter and equally inappropri¬ate is the dependence on their complaints to settle it.
خلاصہ تفسیر : غرض جب لوٹ کر اپنے باپ (یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے کہنے لگے اے ابا (ہماری بڑی خاطر ہوئی اور غلہ بھی ملا مگر بنیامین کا حصہ نہیں ملا بلکہ بدون بنیامین کے ساتھ لے جاتے ہوئے آئندہ بھی) ہمارے لئے (مطلقا) غلہ کی بندش کردی گئی سو (اس صورت میں ضروری ہے کہ) آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ (دوبارہ غلہ لانے سے جو امر مانع ہے وہ مرتفع ہوجاوے اور) ہم (پھر) غلہ لا سکیں اور (اگر ان کے بھیجنے سے آپ کو کوئی اندیشہ ہی مانع ہے تو اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ) ہم ان کی پوری حفاظت رکھیں گے یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بس (رہنے دو ) میں اس کے بارے میں بھی تمہارا ویسا ہی اعتبار کرتا ہوں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی (یوسف علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں (یعنی دل تو میرا گواہی دیتا نہیں مگر تم کہتے ہو کہ بدون اس کے گئے ہوئے آئندہ غلہ نہ ملے گا اور عادۃ زندگی کا مدار ہی پر ہے اور جان بچانا فرض ہے) سو (خیر اگر لے ہی جاؤ گے تو) اللہ (کے سپرد وہی) سب سے بڑھ کر نگہبان ہے (میری نگہبانی سے کیا ہوتا ہے) اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے (میری محبت اور شفقت سے کیا ہوتا ہے) اور (اس گفتگو کے بعد) جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو (اس میں) ان کی جمع پونجی (بھی) ملی کہ ان ہی کو واپس کردی گئی کہنے لگے کہ اے ابّا (لیجئے) اور ہم کو کیا چاہئے یہ ہماری جمع پونجی بھی تو ہم ہی کو لوٹا دی گئی (ایسا کریم بادشاہ ہے اور اس سے زیادہ کس عنایت کا انتظار کریں یہ عنایت بس ہے اس کا مقتضیٰ بھی یہی ہے کہ ایسے کریم بادشاہ کے پاس پھرجائیں گے اور وہ موقوف ہے بھائی کے ساتھ لیجانے پر اس لئے اجازت ہی دیدیجئے ان کو ساتھ لے جائیں گے) اور اپنے گھر والوں کے واسطے (اور) رسدلائیں گے اور اپنے بھائی کی خوب حفاظت رکھیں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ غلہ اور زیادہ لائیں گے (کیونکہ جس قدر اس وقت لائے ہیں) یہ تو تھوڑا سا غلہ ہے (جلد ہی ختم ہوجائے گا پھر اور ضرورت ہوگی اور اس کا ملنا موقوف ہے ان کے لیجانے پر) یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (خیر اس حالت میں بھیجنے سے انکار نہیں لیکن) اس وقت تک ہرگز اس کو تمہارے ہمراہ نہ بھیجوں گا جب تک کہ اللہ کی قسم کھالی) سو جب وہ قسم کھا کر اپنے باپ کو قول دے چکے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ جو بات چیت کر رہے ہیں یہ سب اللہ کے حوالے ہے (یعنی وہی ہمارے قول و اقرار کا گواہ ہے کہ سن رہا ہے اور وہی اس قول کو پورا کرسکتا ہے پس اس کہنے سے دو غرض ہوئیں اول ان کو اپنے قول کے خیال رکھنے کی ترغیب اور تنبیہ کہ اللہ کو حاضر وناضر سمجھنے سے یہ بات ہوتی ہے اور دوسرے اس تدبیر کا منتہیٰ تقدیر کو قرار دینا کہ توکل کا حاصل ہے اور اس کے بعد بنیامین کو ہمراہ جانے کی اجازت دے دیغرض دوبارہ مصر کے سفر کو مع بنیامین سب تیار ہوگئے) معارف و مسائل : آیات مذکورہ میں واقعہ کا بقیہ حصہ اس طرح مذکور ہے کہ جب برادران یوسف (علیہ السلام) مصر سے غلہ لے کر گھر واپس آئے تو مصر کے معاملہ کا تذکرہ والد ماجد سے کرتے ہوئے یہ بھی بتلایا کہ عزیز مصر نے آئندہ کے لئے ہمیں غلہ دینے کے لئے یہ شرط کردی ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لاؤ گے تو ملے گا ورنہ نہیں اس لئے آپ آئندہ بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہمیں آئندہ بھی غلہ مل سکے اور ہم اس بھائی کی تو پوری حفاظت کرنے والے ہیں ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی ، والد ماجد نے فرمایا کہ کیا ان کے بارے میں تم پر ایسا ہی اطمینان کروں جیسا اس سے پہلے ان کے بھائی یوسف کے بارے میں کیا تھا مطلب ظاہر ہے کہ اب تمہاری بات کا اعتبار کیا ہے ایک مرتبہ تم پر اطمینان کر کے مصبیت اٹھا چکا ہوں تم نے یہی الفاظ حفاظت کرنے کے اس وقت بھی بولے تھے، یہ تو ان کی بات کا جواب تھا مگر پھر خاندان کی ضرورت کے پیش نظر پیغمبرانہ توکل اور اس حقیقت کو اصل قرار دیا کہ کوئی نفع نقصان کسی بندہ کے ہاتھ میں نہیں جب تک اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت و ارادہ نہ ہو اور جب ان کا ارادہ ہوجائے تو پھر اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس لئے مخلوق پر بھروسہ بھی غلط ہے اور ان کی شکایات پر معاملہ کا مدار رکھنا بھی نامناسب ہے