Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 64

سورة يوسف

قَالَ ہَلۡ اٰمَنُکُمۡ عَلَیۡہِ اِلَّا کَمَاۤ اَمِنۡتُکُمۡ عَلٰۤی اَخِیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ فَاللّٰہُ خَیۡرٌ حٰفِظًا ۪ وَّ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۶۴﴾

He said, "Should I entrust you with him except [under coercion] as I entrusted you with his brother before? But Allah is the best guardian, and He is the most merciful of the merciful."

۔ ( یعقوب علیہ السلام نے ) کہا مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے ، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا بس اللہ ہی بہترین حافظ ہے اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ هَلْ امَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلاَّ كَمَا أَمِنتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِن قَبْلُ ... He said: "Can I entrust him to you except as I entrusted his brother (Yusuf) to you aforetime! He asked them, `Will you do to him except what you did to his brother Yusuf before, when you took him away from me and separated me from him.' ... فَاللّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy. Yaqub said, `Allah has the most mercy with me among all those who show mercy, He is compassionate with me for my old age, feebleness and eagerness for my son. I invoke Allah to return him to me, and to allow him and I to be together; for surely, He is the Most Merciful of those who show mercy.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

64۔ 1 یعنی تم نے یوسف (علیہ السلام) کو بھی ساتھ لے جاتے وقت اسی طرح حفاظت کا وعدہ کیا تھا لیکن جو کچھ ہوا وہ سامنے ہے، اب میں تمہارا کس طرح اعتبار کروں۔ 64۔ 2 تاہم چونکہ غلے کی شدید ضرورت تھی۔ اس لئے اندیشے کے باوجود بنیامین کو ساتھ بھیجنے سے انکار مناسب نہیں سمجھا اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦١] بیٹوں کا بن یامین کو لے جانے پر اصرار اور باپ کا انکار :۔ جب برادران یوسف واپس اپنے گھر یعنی کنعان پہنچے تو جاتے ہی اپنے والد محترم کو اس گفتگو سے مطلع کیا جو ان کے اور شاہ مصر کے درمیان ہوئی تھی اور بڑی وضاحت سے یہ بھی بتلا دیا کہ اگر آپ بن یمین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو پھر ہمیں کبھی غلہ نہ مل سکے گا اور غلہ کی فراہمی اس دور کی سب سے اہم اور شدید ضرورت ہے۔ لہذا آپ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اور جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔ سیدنا یعقوب نے انھیں جواب دیا کہ بالکل ایسی ہی بات تم نے اس وقت بھی کہی تھی۔ جب تم یوسف کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ماجرا گزرا تم نے بھلا کونسی صحیح بات مجھے بتلائی تھی اور میری تو اس وقت سے اس کے حق میں یہی دعا رہی ہے کہ اللہ اسے زندہ سلامت قائم و دائم اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ جہاں کہیں بھی وہ ہو، میں تو ہمیشہ اللہ سے اس کے رحم کا طالب رہا ہوں اور اب تم میرے اس چھوٹے بیٹے کو بھی مجھ سے جدا کرنا چاہتے ہو، یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ ۔۔ : فرمایا، تم جب یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے تھے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ ” وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ “ پھر تم نے اس کی اچھی حفاظت کی کہ آج تک اس بےچارے کی کوئی خیر خبر نہیں، تو کیا اس کے متعلق بھی تمہاری حفاظت کا ایسا ہی اعتماد کروں، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے متعلق تم پر اعتبار کیا تھا۔ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا۔۔ : یعنی میں اسے بحالت مجبوری غلہ کی ضرورت کے پیش نظر تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں، سو میں اسے تمہاری حفاظت میں نہیں بلکہ اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں، وہ ارحم الراحمین ہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں کے ساتھ بھیجتے وقت صرف یہ کہا تھا : (وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ ) [ یوسف : ١٣ ] (اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے کوئی بھیڑیا کھاجائے) اب جو اس کے بھائی کو ” فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا ۠ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ “ کہتے ہوئے اللہ کی حفاظت میں دیا تو نہ صرف یوسف کا بھائی بلکہ یوسف (علیہ السلام) بھی مل گئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Therefore, he said: فَاللَّـهُ خَيْرٌ‌ حَافِظًا (Well, Allah is the best guardian - 64), that is, he had already seen the outcome of their guardianship earlier, now he was placing his trust in Allah Ta` ala alone as his guardian. Then, he added: وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ (and He is the most merciful of all the mer¬ciful - 64), that is, only from Him, he could hope that He would look at his old age and the sorrows he was surrounded with and would not let more shocks shake him. In short, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) did not rely on apparent conditions and on the pledges given by his sons, but did agree to send his youngest son with his brothers solely because he had now placed his trust in Allah Ta` ala.

اس لئے فرمایا فاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا یعنی تمہاری حفاظت کا نتیجہ تو پہلے دیکھ چکا ہوں اب تو میں اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت پر بھروسہ کرتا ہوں وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ اور وہ سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہے اسی سے امید ہے کہ وہ میری ضعیفی اور موجودہ غم واندوہ پر نظر فرما کر مجھ پر دوہرے صدمے نہ ڈالے گا خلاصہ یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے ظاہری حالات اور اپنی اولاد کے عہد و پیمان پر بھروسہ نہ کیا مگر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر چھوٹے بیٹے کو بھی ساتھ بھیجنے کے لئے تیار ہو گئے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ ہَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْہِ اِلَّا كَـمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْہِ مِنْ قَبْلُ۝ ٠ ۭ فَاللہُ خَيْرٌ حٰفِظًا۝ ٠ ۠ وَّہُوَاَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۝ ٦٤ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤) یہ سن کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا میں بنیامین کے بارے میں بھی تم پر ویسا ہی اعتبار کروں جیسا کہ اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں جو تم سے میں نے عہد لیا تھا، اب اس سے زیادہ اور کیا عہد لے سکتا ہوں بس تمہاری نگہبانی سے کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے اور وہی بنیامین پر اس کے والدین اور بھائیوں سے زیادہ مہربان ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٤۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جب دوسری دفعہ کنعان سے مصر غلہ خریدنے کو آتے وقت حضرت یعقوب سے بنیامین کو ساتھ لانے کا اصرار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ دل جمعی رکھو ہم اس کی راستہ میں اچھی طرح نگہبانی کریں گے اس کا یہ جواب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دیا جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کی نگہبانی کا بھی اقرار کیا تھا لیکن خیر بڑا نگہبان تو سب کا اللہ ہے۔ یہ کہہ کر بنیامین کو ان کے ساتھ کردیا۔ بعضے مفسرین نے یہاں مصر کے قحط کے ذکر میں یہ جو لکھا ہے کہ آخر درجہ تمام مصر کے لوگوں نے غلہ کے عوض میں اپنے آپ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غلام بنا لیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پھر ان سب کو آزاد کردیا۔ اس پر حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت بنی اسرائیل کی ہے یہ اعتراض اس سبب سے ہے کہ محمد بن اسحاق صاحب مغازی جنہوں نے اس روایت کو بیان کیا ہے اہل کتاب سے روایت لینے میں بدنام ہیں لیکن اس روایت کو محمد بن زید بن مہاجر سے محمد بن اسحاق نے روایت کیا ہے یہ محمد بن زید ثقہ ہیں اور اہل کتاب سے روایت لینے میں بدنام بھی نہیں ہیں پھر ظاہراً کوئی وجہ ایسی نہیں ہے کہ محمد بن اسحاق کی اس روایت پر حافظ عماد الدین ابن کثیر نے جو اعتراض کیا ہے اس کو تسلیم کیا جاوے۔ ابوہریرہ (رض) کی حدیث اوپر کی آیت کی تفسیر میں جو گزر چکی ہے وہ حدیث اس آیت کی بھی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل گزر چکا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اس حفاظت کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر سونپ دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین دونوں کو اللہ تعالیٰ نے جلدی یعقوب (علیہ السلام) سے ملادیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:64) امنکم علیہ۔ امن۔ مضارع واحد متکلم امن یامن (سمع) امن و امان وامنۃ سے۔ امن علی کسی چیز کو کسی کی حفاظت میں دینا۔ امنکم علیہ میں اس کو تمہاری حفاظت میں دیدوں ۔ اس کو تمہارے سپرد کردوں۔ کما امنتکم علی اخیہ من قبل۔ جیسا کہ میں نے تمہیں محافظ بنایا تھا اس کے بھائی پر اس سے پہلے (کیونکہ اس وقت بھی ان بھائیوں نے یہی کہا تھا کہ وانا لہ لحافظون۔ (آیت 12) فاللہ خیر حافظا۔ حافظا۔ منصوب بوجہ تمیز ہے یا بوجہ حال کے ۔ جملہ میں ف محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے (تم کیا حفاظت کرو گے بہترین محافظ تو اللہ ہی ہے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ تم جب یوسف ( علیہ السلام) کو لے گئے تھے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ ہم اس کی حفاظت کریں گے پھر تم نے اس کی اچھی حفاظت کی کہ آج تک اس بےچارے کی کوئی خیر خبر نہیں۔ ایسی ہی حفاظت اب تم اس بھائی کی کرنی چاہتے ہو۔ (ابن کثیر) ۔ 4 ۔ یعنی میں اسے بحالت مجبوری غلہ کی ضرورت کے پیش نظر تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ سو میں اسے تمہاری حفاظت میں نہیں بلکہ اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں۔ وہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ (ابن کثیر) ۔ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو بھائیوں کے ساتھ بھیجتے وقت صرف یہ کہا تھا۔ انی خاف ان یاکلہ (مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں بھیڑیا اسے نہ کھاجائے) اس لئے آزمائش میں ڈال دئیے گئے۔ اب جو بنیامین کو فاللہ خیر حافظا وھو ارحم الرحمین۔ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں دیا تو نہ صرف بنیامین بلکہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) بھی مل گئے۔ (ازوحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال ھل ۔۔۔۔۔۔ من قبل (١٢ : ٦٤) “ باپ نے جواب دیا “ کیا میں اس کے معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ کرچکا ہوں ؟ ” چھوڑو ، یہ جھوٹے وعدے اور اپنے پاس رکھو اپنی حفاظت ، میں اللہ کی حفاظت اور اللہ کی رحمت کا طالب ہوں۔ صرف وہی حفاظت کرنے والا ہے۔ فاللہ خیر حفظا وھو ارحم الرحمن (١٢ : ٦٤) “ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ”۔ جانوروں کو سنبھالنے اور سفر سے سستانے کے بعد جب انہوں نے اپنے سامانوں کو کھولا تا کہ لائے ہوئے غلے کو ٹھکانے لگائیں ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا وہ پورا سامان انہیں واپس کردیا گیا ہے جو وہ غلہ خریدنے کے لئے لے گئے تھے اور ان کے غلے کے ساتھ خود ان کا اپنا سامان دے دیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں گندم دینے کے ساتھ خود ان کا سامان بھی ان کے باروں میں رکھ دیا ، تو جب سامان کھولا تو انہوں نے اپنا سامان پایا۔ اس لئے انہوں نے کہا اے باپ ہم سے گندم روک لی گئی اور یہ اس لیے کیا گیا تا کہ وہ مجبور ہوجائیں اور بھائی کو لے کر جائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جو سبق دینا چاہتے تھے یہ اس کا ایک حصہ تھے۔ انہوں نے اپنے سامان کی واپسی کو اس بات کے لئے بطور دلیل پیش کیا کہ وہ بھائی کو ساتھ لے جانے کے مطالبے میں زیادتی نہیں کر رہے اور نہ ظلم کر رہے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

64 ۔ باپ نے ان لڑکوں کو جواب دیا میں بن یامین کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرسکتا مگر ہاں ویسا ہی جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تمہارے اعتبار کرچکا ہوں ۔ پس اللہ تعالیٰ سب سے بہتر نگہبان ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یعنی میرا دل توٹھکتا نہیں یہی تم نے اب سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کو لے جاتے وقت الفاظ کہے تھے لیکن تم کہتے ہو کہ غلہ ہی نہیں ملے گا تو خیر اگر اس کا لے جانا ضروری ہے تو لے جائو میں خدا کے سپرد کرتا ہوں وہ سب سے بہتر محافظ اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔