Commentary The previous verses about the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) have told us about the time when, by the will of Allah, it was appropriate for him to disclose his secret to his brothers. This he did. His brothers sought his forgiveness. He, not only that he forgave them, did not even choose to ad¬monish them for what they had done to him in the past. In fact, he prayed to Allah Ta` la for them. Meeting his father was now his next con¬cern. Given the conditions, he found it better that his father comes to him with the family. But, having come to know that his father had lost his eyesight as a result of his separation from him, that became his first concern. So, he said to his brothers: اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا (Go with this shirt of mine and put it over the face of my father, and he will turn into a sighted man - 93). It is obvious that putting someone&s shirt on the face of a person cannot become the physical cause of an eyesight to return. In fact, this was a miracle of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) for he, by the will of Allah, knew that once his shirt was put over the face of his father, Allah Ta` ala will give him his eyesight back. Tafsir authorities, Dahhak and Mujahid have said that this was the inherent quality of that shirt because it was not like ordinary clothes. Instead, it was brought from Paradise for Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) at the time when he was thrown into the fire naked by Nimrud. Then, this ap¬parel of Paradise remained preserved with Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . After his death, it passed on to Sayyidna Ishaq (علیہ السلام) . After his death, it came to Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) In view of its status as a sacred legacy, he put it inside a tube, sealed it and made Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) wear it round his neck as a Ta` widh (spiritual charm) so that he remains safe against the evil eye. When the brothers of Yusuf (علیہ السلام) removed the shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) to deceive their father and he was thrown into the well without it, Sayyidna Jibra&il al-Amin came, and opening the tube hanging round his neck, took this shirt out from it, and made Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) wear it. Since that time, it remained preserved with him. When needed again, it was Jibra&il al-Amin again who advised Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) that this shirt was an apparel of Paradise. It had a unique proper¬ty. If put over the face of a blind person, he becomes sighted. He asked him to send it to his father and he would become a sighted man. The view of Hadrat Mujaddid Alf Thani (رح) is that the beauty, rather the very existence of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، was itself a thing of the Paradise. Therefore, every shirt that touched his body could have this property. (Mazhari) Said in the last sentence of verse 93 was: وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ that is, ` all of you, my brothers, bring your entire family to me.& Though, the real pur¬pose was to have his respected father come to him but, here he did not specifically mention his father, instead, talked about bringing the family - perhaps, because he considered that asking his father to be brought to him was contrary to etiquette. However, he was already certain that the sight of his father would return and there would remain no reason which could stop him from coming to him, rather, he would himself want to hon¬our him with his visit. According to a narration reported by Al-Qurtubi, Yahuda (Judah) from among the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) offered to carry this shirt personally - because, it was he who had carried young Yusuf’ s shirt smeared with fake blood and which brought many shocks for his father, and now, it should be him again who should carry the shirt in his own hands, so that amends could be made for past injustices.
خلاصہ تفسیر : اب تم (میرے باپ کو جا کر بشارت دو اور بشارت کے ساتھ) میرا یہ کرتہ (بھی) لیتے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو (اس سے) ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گے (اور یہاں تشریف لے آئیں گے) اور اپنے (باقی) گھر والوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ (کہ سب ملیں اور خوش ہوں کیونکہ حالت موجودہ میں میرا جانا مشکل ہے اس لئے گھر والے ہی چلے آئیں) اور جب (یوسف (علیہ السلام) سے بات چیت ہوچکی اور آپ کے فرمانے کے موافق کرتہ لے کر چلنے کی تیاری کی اور) قافلہ (شہر مصر سے) چلا (جس میں یہ لوگ بھی تھے) تو انکے باپ نے (پاس والوں سے) کہنا شروع کیا کہ اگر تم مجھ کو بڑھاپے میں بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو تو ایک بات کہوں کہ مجھ کو تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے (معجزہ اختیاری نہیں ہوتا اس لئے اس سے پہلے یہ ادراک نہ ہوا) وہ (پاس والے) کہنے لگے کہ بخدا آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیال میں مبتلا ہیں (کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ملیں گے اسی خیال کے غلبہ سے اب خوشبو کا وہم ہوگیا اور واقع میں نہ خوشبو ہے کہ کچھ اور ہے یعقوب (علیہ السلام) خاموش ہو رہے) پس جب (یوسف (علیہ السلام) کے صحیح سلامت ہونے کی) خوش خبری لانے والا (مع کرتہ کے یہاں) آپہنچا تو (آتے ہی) اس نے وہ کرتہ ان کے منہ پر لاکر ڈال دیا پس (آنکھوں کو لگنا تھا اور دماغ میں خوشبو پہنچنا کہ فوراً ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں (اور انہوں نے سارا ماجرا آپ سے بیان کیا) آپ نے (بیٹوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے (اور اس لئے میں نے تم کو یوسف (علیہ السلام) کے تجسس کے لئے بھیجا تھا دیکھو آخر اللہ تعالیٰ میری امید راست لایا ان کا یہ قول اس سے اوپر کے رکوع میں آچکا ہے اس وقت) سب بیٹوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ ہمارے لئے (خدا سے) ہمارے گناہوں کی دعاء مغفرت کیجئے (ہم نے جو کچھ آپ کو یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں تکلیف دی) ہم بیشک خطا وار تھے (مطلب یہ ہے کہ آپ بھی معاف کر دیجئے کیونکہ عادۃ کسی کے لئے استغفار وہی کرتا ہے جو خود بھی مواخذہ کرنا نہیں چاہتا) یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا عنقریب تمہارے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا بیشک وہ غفور رحیم ہے (اور اسی سے ان کا معاف کر دنیا بھی معلوم ہوگیا اور عنقریب کا مطلب یہ ہے کہ تہجد کا وقت آنے دو جو کہ قبولیت کی ساعت ہے کذا فی الدر المنثور مرفوعاً غرض سب مصر کو تیار ہو کر چل دیئے اور یوسف (علیہ السلام) خبر سن کر استقبال کے لئے مصر سے باہر تشریف لائے اور باہر ہی ملاقات کا سامان کیا گیا) پھر جب سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے (سب سے مل کر ملا کر) اپنے والدین کو اپنے پاس (تعظیماً ) جگہ دی اور (بات چیت سے فارغ ہو کر) کہا سب مصر میں چلیے (اور) انشاء اللہ تعالیٰ (وہاں) امن چین سے رہیے (مفارقت کا غم اور قحط کا الم سب کافور ہوگئے غرض سب مصر میں پہنچے) اور (وہاں پہنچ کر تعظیماً ) اپنے والدین کو تخت (شاہی) پر اونچا بٹھایا اور (اس وقت سب کے قلوب پر یوسف (علیہ السلام) کی ایسی عظمت غالب ہوئی کہ) سب کے سب ان کے سامنے سجدہ میں گر گئے اور (یہ حالت دیکھ کر) وہ کہنے لگے کہ اے ابا یہ ہے میرے خواب کی تعبیر جو پہلے زمانہ میں دیکھا تھا (کہ شمس و قمر اور گیارہ ستارے مجھ کو سجدہ کرتے ہیں) میرے رب نے مجھ پر اور انعامات بھی فرمائے چنانچہ) میرے ساتھ (ایک) اس وقت احسان فرمایا جس وقت مجھ کو قید سے نکالا (اور اس مرتبہ سلطنت تک پہنچایا) اور (دوسرا یہ انعام فرمایا کہ) بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان میں فساد ڈلوا دیا تھا (جس کا مقتضاء یہ تھا کہ عمر بھر میں مجتمع و متفق نہ ہوتے مگر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ وہ) تم سب کو (جن میں میرے بھائی بھی ہیں) باہر سے (یہاں) لے آیا (اور سب کو ملادیا) بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی تدبیر لطیف کردیتا ہے بلاشبہ وہ بڑا علم اور حکمت والا ہے (اپنے علم و حکمت سے سب امور کی تدبیر درست کردیتا) معارف و مسائل : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ سے متعلق سابقہ آیات میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ جب باذن خداوندی اس کا وقت آ گیا کہ یوسف (علیہ السلام) اپنا راز بھائیوں پر ظاہر کردیں تو انہوں نے حقیقت ظاہر کردی بھائیوں نے معافی مانگی انہوں نے نہ صرف یہ کہ معاف کردیا بلکہ گذشتہ واقعات پر کوئی ملامت کرنا بھی پسند نہ کیا ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی اور اب والد سے ملاقات کی فکر ہوئی حالات کے لحاظ سے مناسب یہ سمجھا کہ والد صاحب ہی مع خاندان کے یہاں تشریف لائیں مگر معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی بینائی اس مفارقت میں جاتی رہی اس لئے سب سے پہلے اس کی فکر ہوئی اور بھائیوں سے کہا، اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا یعنی تم میرا یہ کرتا لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی بینائی عود کر آئے گی یہ ظاہر ہے کہ کسی کے کرتے کا چہرہ پر ڈال دینا بینائی کے عود کرنے کا کوئی مادی سبب نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک معجزہ تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کہ ان کو باذن خداوندی معلوم ہوگیا کہ جب انکا کرتہ والد کے چہرے پر ڈالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی بینائی بحال فرمادیں گے، اور ضحاک اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہ اس کرتے کی خصوصیت تھی کیونکہ یہ عام کپڑوں کی طرح نہ تھا بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جنت سے اس وقت لایا گیا تھا جب ان کو برہنہ کر کے نمرود نے آگ میں ڈالا تھا پھر یہ جنت کا لباس ہمیشہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس محفوظ رہا اور ان کی وفات کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پاس رہا ان کی وفات کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ملا آپ نے اس کو ایک بڑی متبرک شے کی حیثیت سے ایک نلکی میں بند کر کے یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں بطور تعویذ کے ڈال دیا تھا تاکہ نظر بد سے محفوظ رہیں برادران یوسف نے جب ان کا کرتہ والد کو دھوکہ دینے کے لئے اتار لیا اور وہ برہنہ کر کے کنویں میں ڈال دیئے گئے تو جبرئیل امین تشریف لائے اور گلے میں پڑی ہوئی نلکی کھول کر اس سے یہ کرتہ برآمد کیا اور یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دیا اور یہ ان کے پاس برابر محفوظ چلا آیا اس وقت بھی جبرئیل امین ہی نے یوسف (علیہ السلام) کو یہ مشورہ دیا کہ یہ جنت کا لباس ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ نابینا کے چہرے پر ڈال دو تو وہ بینا ہوجاتا ہے اور فرمایا کہ اس کو اپنے والد کے پاس بھیج دیجئے تو وہ بینا ہوجائیں گے، حضرت مجدد الف ثانی (رح) کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال اور ان کا وجود خود جنت ہی کی ایک چیز تھی اس لئے ان کے جسم سے متصل ہونیوالے ہر کرتے میں یہ خاصیت ہو سکتی ہے (مظہری) وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ یعنی تم سب بھائی اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس مصر لے آؤ اصل مقصد تو والد محترم کو بلانے کا تھا مگر یہاں بالتصریح والد کے بجائے خاندان کو لانے کا ذکر کیا شاید اس لئے کہ والد کو یہاں لانے کے لئے کہنا ادب کے خلاف سمجھا اور یہ یقین تھا ہی کہ جب والد کی بینائی عود کر آئے گی اور یہاں آنے سے کوئی عذر مانع نہیں رہے گا تو وہ خود ہی ضرور تشریف لائیں گے قرطبی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ برادران یوسف میں سے یہودا نے کہا کہ یہ کرتہ میں لے جاؤں گا کیونکہ ان کے کرتے پر جھوٹاخون لگا کر بھی میں ہی لے گیا تھا جس سے والد کو صدمات پہنچے اب اس کی مکافات بھی میرے ہی ہاتھ سے ہونا چاہئے،