Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 93

سورة يوسف

اِذۡہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقُوۡہُ عَلٰی وَجۡہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَ اۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۹۳﴾٪  4

Take this, my shirt, and cast it over the face of my father; he will become seeing. And bring me your family, all together."

میرا یہ کرتا تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منہ پر ڈال دو کہ وہ دیکھنے لگیں اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لے آؤ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yaqub finds the Scent of Yusuf in his Shirt! Allah tells about what Yusuf said to his brothers: اذْهَبُواْ بِقَمِيصِي هَـذَا ... "Go with this shirt of mine, Yusuf said, `Take this shirt of mine, ... فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا ... and cast it over the face of my father, his vision will return,' because Yaqub had lost his sight from excessive crying, ... وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ and bring to me all your family. all the children of Yaqub.

چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہو گئے تھے ، اس لئے حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہو جائے گی ۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا ، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آ رہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے ۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی ۔ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا ۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو ۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

93۔ 1 قمیص کے چہرے پر پڑنے سے آنکھوں کی بینائی کا بحال ہونا، ایک اعجاز اور کرامت کے طور پر تھا۔ 93۔ 2 یہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے پورے خاندان کو مصر آنے کی دعوت دی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٠] بھائیوں کے ہاتھ قمیص بھیجنا اور سارے خاندان کو مصر لانے کی تاکید کرنا :۔ برادران یوسف کی سیدنا یوسف سے اس طرح حیرت انگیز ملاقات کے نتیجہ میں دو مسئلے از خود حل ہوگئے۔ ایک وہ مہم جس پر باپ نے ان بیٹوں کو بھیجا تھا۔ یعنی وہ جاکر یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کریں اور دوسرے غلہ کی فراہمی کا مسئلہ جس کے لیے برادران یوسف تھوڑا عرصہ پہلے شاہ مصر کے سامنے نہایت عاجزی سے التجا کر رہے تھے۔ اب وہ بس سیدنا یوسف کے حکم کے منتظر تھے چناچہ سیدنا یوسف نے کہا کہ تم اب واپس جاؤ اور اپنے پورے خاندان کو میرے ہاں لے آؤ اور یہ میری قمیص لے جاؤ اسے میرے والد کے چہرے پر پھراؤ گے تو انشاء اللہ ان کی بینائی بحال ہوجائے گی۔ بینائی کی واپسی کی وجہ کچھ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جس کے فراق میں آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی۔ اسی کے وصال سے وہ مصیبت دور بھی ہوجاتی اور اس طرح بینائی واپس آنا ممکن ہوتا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شدید مرض میں مبتلا مریض کے پاس جب کوئی ایسا قریبی رشتہ دار آجاتا ہے جس سے اسے دلی لگاؤ ہو تو مریض خود بخود ہی تندرست ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ ایسا بھی کسی سخت صدمہ یا غیر معمولی خوشی کے اثر سے بعض نابینا دفعتًا بینا بن گئے۔ تاہم اگر اس بات کو سیدنا یوسف کے معجزہ پر محمول کیا جائے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ ۔۔ : بھائیوں کو معاف کردینے کے بعد گھر کے حالات کا تذکرہ ہوا، والد کے نابینا ہونے کی خبر پر ان کے علاج کے لیے اپنی قمیص بھیجی اور اپنے سارے گھر والوں کو اپنے پاس مصر میں لانے کا حکم دیا۔ یہ قمیص بھی عجیب تھی، کبھی یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیے کے کھا جانے کے ثبوت پر پیش کی گئی اور والد کو نابینا کرگئی اور کبھی یوسف (علیہ السلام) پر ارادۂ زنا کی تہمت لگی تو یہ ان کی صفائی بن گئی، اب اللہ کا حکم ہوا تو یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی واپس ملنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ سب میرے مالک کی قدرت و مشیت ہے : (فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) [ یسٓ : ٨٣ ] ” سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ “ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے، ایک شخص کے فراق میں یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھیں ضائع ہوگئیں، اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہوگئیں، یہ یوسف (علیہ السلام) کی کرامت تھی۔ “ (موضح) اور خوشی کی شدت سے بینائی میں قوت پیدا ہوجانا طبی طور پر ثابت ہے۔ (رازی) مگر طبی طور پر اس کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں کہ خوشی سے نابینا بینا ہوجائے، اس لیے اسے معجزہ ہی کہا جائے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The previous verses about the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) have told us about the time when, by the will of Allah, it was appropriate for him to disclose his secret to his brothers. This he did. His brothers sought his forgiveness. He, not only that he forgave them, did not even choose to ad¬monish them for what they had done to him in the past. In fact, he prayed to Allah Ta` la for them. Meeting his father was now his next con¬cern. Given the conditions, he found it better that his father comes to him with the family. But, having come to know that his father had lost his eyesight as a result of his separation from him, that became his first concern. So, he said to his brothers: اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرً‌ا (Go with this shirt of mine and put it over the face of my father, and he will turn into a sighted man - 93). It is obvious that putting someone&s shirt on the face of a person cannot become the physical cause of an eyesight to return. In fact, this was a miracle of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) for he, by the will of Allah, knew that once his shirt was put over the face of his father, Allah Ta` ala will give him his eyesight back. Tafsir authorities, Dahhak and Mujahid have said that this was the inherent quality of that shirt because it was not like ordinary clothes. Instead, it was brought from Paradise for Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) at the time when he was thrown into the fire naked by Nimrud. Then, this ap¬parel of Paradise remained preserved with Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . After his death, it passed on to Sayyidna Ishaq (علیہ السلام) . After his death, it came to Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) In view of its status as a sacred legacy, he put it inside a tube, sealed it and made Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) wear it round his neck as a Ta` widh (spiritual charm) so that he remains safe against the evil eye. When the brothers of Yusuf (علیہ السلام) removed the shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) to deceive their father and he was thrown into the well without it, Sayyidna Jibra&il al-Amin came, and opening the tube hanging round his neck, took this shirt out from it, and made Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) wear it. Since that time, it remained preserved with him. When needed again, it was Jibra&il al-Amin again who advised Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) that this shirt was an apparel of Paradise. It had a unique proper¬ty. If put over the face of a blind person, he becomes sighted. He asked him to send it to his father and he would become a sighted man. The view of Hadrat Mujaddid Alf Thani (رح) is that the beauty, rather the very existence of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، was itself a thing of the Paradise. Therefore, every shirt that touched his body could have this property. (Mazhari) Said in the last sentence of verse 93 was: وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ that is, ` all of you, my brothers, bring your entire family to me.& Though, the real pur¬pose was to have his respected father come to him but, here he did not specifically mention his father, instead, talked about bringing the family - perhaps, because he considered that asking his father to be brought to him was contrary to etiquette. However, he was already certain that the sight of his father would return and there would remain no reason which could stop him from coming to him, rather, he would himself want to hon¬our him with his visit. According to a narration reported by Al-Qurtubi, Yahuda (Judah) from among the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) offered to carry this shirt personally - because, it was he who had carried young Yusuf’ s shirt smeared with fake blood and which brought many shocks for his father, and now, it should be him again who should carry the shirt in his own hands, so that amends could be made for past injustices.

خلاصہ تفسیر : اب تم (میرے باپ کو جا کر بشارت دو اور بشارت کے ساتھ) میرا یہ کرتہ (بھی) لیتے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو (اس سے) ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گے (اور یہاں تشریف لے آئیں گے) اور اپنے (باقی) گھر والوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ (کہ سب ملیں اور خوش ہوں کیونکہ حالت موجودہ میں میرا جانا مشکل ہے اس لئے گھر والے ہی چلے آئیں) اور جب (یوسف (علیہ السلام) سے بات چیت ہوچکی اور آپ کے فرمانے کے موافق کرتہ لے کر چلنے کی تیاری کی اور) قافلہ (شہر مصر سے) چلا (جس میں یہ لوگ بھی تھے) تو انکے باپ نے (پاس والوں سے) کہنا شروع کیا کہ اگر تم مجھ کو بڑھاپے میں بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو تو ایک بات کہوں کہ مجھ کو تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے (معجزہ اختیاری نہیں ہوتا اس لئے اس سے پہلے یہ ادراک نہ ہوا) وہ (پاس والے) کہنے لگے کہ بخدا آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیال میں مبتلا ہیں (کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ملیں گے اسی خیال کے غلبہ سے اب خوشبو کا وہم ہوگیا اور واقع میں نہ خوشبو ہے کہ کچھ اور ہے یعقوب (علیہ السلام) خاموش ہو رہے) پس جب (یوسف (علیہ السلام) کے صحیح سلامت ہونے کی) خوش خبری لانے والا (مع کرتہ کے یہاں) آپہنچا تو (آتے ہی) اس نے وہ کرتہ ان کے منہ پر لاکر ڈال دیا پس (آنکھوں کو لگنا تھا اور دماغ میں خوشبو پہنچنا کہ فوراً ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں (اور انہوں نے سارا ماجرا آپ سے بیان کیا) آپ نے (بیٹوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے (اور اس لئے میں نے تم کو یوسف (علیہ السلام) کے تجسس کے لئے بھیجا تھا دیکھو آخر اللہ تعالیٰ میری امید راست لایا ان کا یہ قول اس سے اوپر کے رکوع میں آچکا ہے اس وقت) سب بیٹوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ ہمارے لئے (خدا سے) ہمارے گناہوں کی دعاء مغفرت کیجئے (ہم نے جو کچھ آپ کو یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں تکلیف دی) ہم بیشک خطا وار تھے (مطلب یہ ہے کہ آپ بھی معاف کر دیجئے کیونکہ عادۃ کسی کے لئے استغفار وہی کرتا ہے جو خود بھی مواخذہ کرنا نہیں چاہتا) یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا عنقریب تمہارے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا بیشک وہ غفور رحیم ہے (اور اسی سے ان کا معاف کر دنیا بھی معلوم ہوگیا اور عنقریب کا مطلب یہ ہے کہ تہجد کا وقت آنے دو جو کہ قبولیت کی ساعت ہے کذا فی الدر المنثور مرفوعاً غرض سب مصر کو تیار ہو کر چل دیئے اور یوسف (علیہ السلام) خبر سن کر استقبال کے لئے مصر سے باہر تشریف لائے اور باہر ہی ملاقات کا سامان کیا گیا) پھر جب سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے (سب سے مل کر ملا کر) اپنے والدین کو اپنے پاس (تعظیماً ) جگہ دی اور (بات چیت سے فارغ ہو کر) کہا سب مصر میں چلیے (اور) انشاء اللہ تعالیٰ (وہاں) امن چین سے رہیے (مفارقت کا غم اور قحط کا الم سب کافور ہوگئے غرض سب مصر میں پہنچے) اور (وہاں پہنچ کر تعظیماً ) اپنے والدین کو تخت (شاہی) پر اونچا بٹھایا اور (اس وقت سب کے قلوب پر یوسف (علیہ السلام) کی ایسی عظمت غالب ہوئی کہ) سب کے سب ان کے سامنے سجدہ میں گر گئے اور (یہ حالت دیکھ کر) وہ کہنے لگے کہ اے ابا یہ ہے میرے خواب کی تعبیر جو پہلے زمانہ میں دیکھا تھا (کہ شمس و قمر اور گیارہ ستارے مجھ کو سجدہ کرتے ہیں) میرے رب نے مجھ پر اور انعامات بھی فرمائے چنانچہ) میرے ساتھ (ایک) اس وقت احسان فرمایا جس وقت مجھ کو قید سے نکالا (اور اس مرتبہ سلطنت تک پہنچایا) اور (دوسرا یہ انعام فرمایا کہ) بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان میں فساد ڈلوا دیا تھا (جس کا مقتضاء یہ تھا کہ عمر بھر میں مجتمع و متفق نہ ہوتے مگر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ وہ) تم سب کو (جن میں میرے بھائی بھی ہیں) باہر سے (یہاں) لے آیا (اور سب کو ملادیا) بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی تدبیر لطیف کردیتا ہے بلاشبہ وہ بڑا علم اور حکمت والا ہے (اپنے علم و حکمت سے سب امور کی تدبیر درست کردیتا) معارف و مسائل : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ سے متعلق سابقہ آیات میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ جب باذن خداوندی اس کا وقت آ گیا کہ یوسف (علیہ السلام) اپنا راز بھائیوں پر ظاہر کردیں تو انہوں نے حقیقت ظاہر کردی بھائیوں نے معافی مانگی انہوں نے نہ صرف یہ کہ معاف کردیا بلکہ گذشتہ واقعات پر کوئی ملامت کرنا بھی پسند نہ کیا ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی اور اب والد سے ملاقات کی فکر ہوئی حالات کے لحاظ سے مناسب یہ سمجھا کہ والد صاحب ہی مع خاندان کے یہاں تشریف لائیں مگر معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی بینائی اس مفارقت میں جاتی رہی اس لئے سب سے پہلے اس کی فکر ہوئی اور بھائیوں سے کہا، اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا یعنی تم میرا یہ کرتا لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی بینائی عود کر آئے گی یہ ظاہر ہے کہ کسی کے کرتے کا چہرہ پر ڈال دینا بینائی کے عود کرنے کا کوئی مادی سبب نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک معجزہ تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کہ ان کو باذن خداوندی معلوم ہوگیا کہ جب انکا کرتہ والد کے چہرے پر ڈالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی بینائی بحال فرمادیں گے، اور ضحاک اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہ اس کرتے کی خصوصیت تھی کیونکہ یہ عام کپڑوں کی طرح نہ تھا بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جنت سے اس وقت لایا گیا تھا جب ان کو برہنہ کر کے نمرود نے آگ میں ڈالا تھا پھر یہ جنت کا لباس ہمیشہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس محفوظ رہا اور ان کی وفات کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پاس رہا ان کی وفات کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ملا آپ نے اس کو ایک بڑی متبرک شے کی حیثیت سے ایک نلکی میں بند کر کے یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں بطور تعویذ کے ڈال دیا تھا تاکہ نظر بد سے محفوظ رہیں برادران یوسف نے جب ان کا کرتہ والد کو دھوکہ دینے کے لئے اتار لیا اور وہ برہنہ کر کے کنویں میں ڈال دیئے گئے تو جبرئیل امین تشریف لائے اور گلے میں پڑی ہوئی نلکی کھول کر اس سے یہ کرتہ برآمد کیا اور یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دیا اور یہ ان کے پاس برابر محفوظ چلا آیا اس وقت بھی جبرئیل امین ہی نے یوسف (علیہ السلام) کو یہ مشورہ دیا کہ یہ جنت کا لباس ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ نابینا کے چہرے پر ڈال دو تو وہ بینا ہوجاتا ہے اور فرمایا کہ اس کو اپنے والد کے پاس بھیج دیجئے تو وہ بینا ہوجائیں گے، حضرت مجدد الف ثانی (رح) کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال اور ان کا وجود خود جنت ہی کی ایک چیز تھی اس لئے ان کے جسم سے متصل ہونیوالے ہر کرتے میں یہ خاصیت ہو سکتی ہے (مظہری) وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ یعنی تم سب بھائی اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس مصر لے آؤ اصل مقصد تو والد محترم کو بلانے کا تھا مگر یہاں بالتصریح والد کے بجائے خاندان کو لانے کا ذکر کیا شاید اس لئے کہ والد کو یہاں لانے کے لئے کہنا ادب کے خلاف سمجھا اور یہ یقین تھا ہی کہ جب والد کی بینائی عود کر آئے گی اور یہاں آنے سے کوئی عذر مانع نہیں رہے گا تو وہ خود ہی ضرور تشریف لائیں گے قرطبی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ برادران یوسف میں سے یہودا نے کہا کہ یہ کرتہ میں لے جاؤں گا کیونکہ ان کے کرتے پر جھوٹاخون لگا کر بھی میں ہی لے گیا تھا جس سے والد کو صدمات پہنچے اب اس کی مکافات بھی میرے ہی ہاتھ سے ہونا چاہئے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا ۚ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ 93؀ۧ قمیص الْقَمِيصُ معروف، وجمعه قُمُصٌ وأَقْمِصَةٌ وقُمْصَانٌ. قال تعالی: إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] ، وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] وتَقَمَّصَهُ : لبسه، وقَمَصَ البعیر يَقْمُصُ ويَقْمِصُ : إذا نزا، والقُمْاصُ : داء يأخذه فلا يستقرّ به موضعه ومنه ( القَامِصَةُ ) في الحدیث . ( ق م ص ) القمیص قمیص ۔ کرتہ ۔ جمع قمص واقمصتہ وقمصان قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہو ۔ وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو ۔ تقمصتہ قمیص پہنا ۔ قمص ( ن ۔ ض ) البعیر اونٹ کا جست کرنا ۔ القماص اونٹ کا ایک مرض جو اسے چین سے کھڑا ہونے نہیں دیتا اور اسی سے لفظ قامصتہ ہے جس کو ذکر حدیث میں آیا ہے ( 85 ) لقی والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٣) اب تم جاکر میرے باپ کو بشارت دو اور میری یہ قمیص بھی لیے جاؤ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ قمیص جنت سے آیا ہوا لباس تھا اور ان کو ان کے چہرہ پر ڈال دو اس سے انکی آنکھیں روشن ہوجائیں گی اور باقی اپنے سب گھر والوں کو بھی جو تقریبا ستر اشخاص تھے میرے پاس لے آؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

57: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام یقینا جانتے ہوں گے کہ ان کی جدائی سے ان کے والد بزرگوار پر کیا گذر رہی ہوگی۔ اس کے باوجود اتنے لمبے عرصے تک انہوں نے کسی بھی ذریعے سے اپنی خیریت کی کوئی خبر اپنے والد کو بھیجنے کی کوشش نہیں کی۔ اوّل تو عزیز کے گھر میں رہنے کے دوران خبر بھیجنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہئے تھا، پھر قید سے آزادی کے بعد تو ان کو ملک پر مکمل اِقتدار بھی حاصل ہوچکا تھا، وہ شروع ہی میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور اپنے سارے گھر والوں کو مصر بلانے کا انتظام کرسکتے تھے، اور جو بات اِنہوں نے اپنے بھائیوں سے اب کہی، وہ ان کی پہلی آمد کے موقع پر بھی فرما سکتے تھے، اور اس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے رنج و غم کا زمانہ مختصر ہوسکتا تھا، لیکن اِنہوں نے ایسا کوئی اِقدام نہیں کیا۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان سارے واقعات میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بڑی حکمتیں پوشیدہ تھیں، اور اﷲ تعالیٰ کو اپنے محبوب بندے اور رسول حضرت یعقوب علیہ السلام کے صبر و ضبط کا امتحان لینا تھا، اس لئے اُس پورے عرصے میں حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اپنے والد سے رابطہ کریں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٣۔ بعضی تفسیروں میں یہ جو حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے حوالے سے روایت لکھی ہے کہ یہ کرتہ جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بھیجا تھا جس کے اثر سے چھ برس کی گئی ہوئی آنکھیں منہ پر ڈالتے ہی اچھی ہوگئیں یہ وہ کرتہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالے جانے کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جنت سے لائے تھے یہ کرتہ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو دیا اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کرتے کا ایک تعویذ بنا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں ڈال دیا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو اس کرتہ کے تعویذ کی خبر نہ تھی ورنہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کنوئیں میں ڈالنے کے وقت ضرور وہ تعویذ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے چیھن لیتے اس کرتے میں جنت کی خوشبو تھی وہی خوشبو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ناک میں دور سے آئی۔ کسی معتبر محدث یا مفسر نے اس روایت کی سند کی صحت نہیں بیان کی ہے اس واسطے یہ روایت بھروسے کے قابل نہیں ہے شاید اسی سبب سے شاہ صاحب نے اپنے اردو فائدہ میں اس کرتے کی کچھ تاثیر بیان نہیں کی بلکہ اس کرتے کے ڈالنے سے آنکھیں جو اچھی ہوگئیں اس کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کرامت بتلایا ہے لیکن جب کہ قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قید میں جانے سے پہلے نبی ہوچکے تھے تو اس کرامت کو معجزہ کہنا قرآن شریف کے مضمون کے زیادہ مطابق معلوم ہوتا ہے اکثر مفسرین نے پہلے نبی ہوچکے تھے تو اس کرامت کو معجزہ کہنا قرآن شریف کے مضمون کے زیادہ مطابق معلوم ہوتا ہے اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ جس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حیلہ کے طور پہ بیان کیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا لے گیا اس وقت بناوٹی خون کے دھبوں کا کرتہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یہودا نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دکھایا تھا اسی خیالے اب یہ خوشخبری کا کرتہ بھی مصر سے یہی یہودا لے گئے تاکہ اس پہلے کے کرتے سے باپ کو جو رنج ہوا تھا اس خوشخبری کے کرتے کے لے جانے میں اس کا کچھ معاوضہ ہوجاوے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں ہر ایک کام لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق وقت مقررہ پر ہوتا ہے چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھوں کے اچھے ہوجانے کا اور انہیں یوسف (علیہ السلام) کے مصر میں ہونے کی خبر کے معلوم ہوجانے کا جب وقت مقرر آن پہنچا تو ان باتوں کا سامان خود بخود غیب سے پیدا ہوگیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے۔ ایک شکص کے فریق میں یعقوب ( علیہ السلام) کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔ اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہوگئیں۔ یہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی کرامت تھی۔ (موضح) اور شدت فرح سے بینائی میں قوت پیدا ہوجانا طبی طرو پر بھی ثابت ہے۔ (رازی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یہ اس لیے فرمایا کہ ان کو خلل بصارت کا علم ہوگیا ہوگا اور یعقوب (علیہ السلام) کا اس کرتے کے ڈالنے بینا ہوجانا بطور معجزہ کے تھا اور قمیص علی الاصح کوئی خاص نہ تھا یہی معمولی لباس تھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائیوں کو الوداع کہتے ہوئے اپنی قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کرنے کا حکم۔ نہ معلوم حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کتنے دنوں تک اپنے بھائیوں کو اپنے ہاں عزت و تکریم کے ساتھ ٹھہرایا۔ برادران جب اپنے وطن واپس جانے لگے تو انہیں الوداع کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی قمیص دیتے ہوئے فرمایا کہ اسے والد گرامی کے چہرہ اقدس پر رکھنا۔ جس سے ان کی بنائی لوٹ آئے گی۔ کیونکہ بنیامین انہیں گھریلو حالات اور والد محترم کی صحت کے بارے میں بتلا چکا تھا کہ آپ کے غم میں والد گرامی کی بینائی جاتی رہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو رخصت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ تم سب کے سب میرے ہاں آکر قیام کرو۔ ادھر قافلہ مصر سے روانہ ہوا، ادھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے گھر والوں سے فرمانے لگے اگر تم مجھے طعن نہ دو تو میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ ان کے گھر والے پھر کہنے لگے کہ آپ تو مدت سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ جب خوشخبری لانے والے نے آکر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرۂ اقدس پر یوسف (علیہ السلام) کی قمیص رکھی تو یکد م ان کی بینائی پلٹ آئی انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوتا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) گھر والوں کو فرماتے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب یوسف کے ساتھ میری ضرور ملاقات ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ جب بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینک کر قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پیش کی تھی تو اس وقت انہوں نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ یوسف زندہ ہے اور مجھے اس کی خوشبو آرہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں حکمران بن چکے ہیں یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے دو مرتبہ یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات بھی کرچکے مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو کچھ معلوم نہیں ہوا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے چاہا اس وقت قمیص لانے والا ابھی مصر سے چلا ہے تو فرما رہے ہیں کہ مجھے اپنے پیارے بیٹے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ یہ عقیدہ کا معاملہ ہے جس پر ہر مسلمان کا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نہ بتلائے تو نبی کو غیب کے معاملات کی خبر نہیں ہوتی۔ مسائل ١۔ انبیاء (علیہ السلام) کے معجزات برحق ہیں۔ ٢۔ آدمی کو اپنے عزیز و اقارب کا خیال رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی غیب جانتا ہے : ١۔ زمین و آسمان کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ (النحل : ٧٧) ٢۔ کہہ دیجئے ہر قسم کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ (یونس : ٢٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ غائب اور ظاہر کو جانتا ہے۔ (السجدۃ : ٦) ٤۔ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں ہی آسمان و زمین کے غائب کو جانتا ہوں۔ (البقرۃ : ٣٣) ٥۔ اے نبی ! فرما دیں اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سی بھلائی جمع کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ (الاعراف : ١٨٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٩٣ سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ ان کی قمیض کی بو سے ان کے والد کی گئی ہوئی بینائی لوٹ آئے گی ؟ یہ ہے وہ علم جو انہیں اللہ نے دیا تھا۔ اور اچانک خوشی اور اچانک غم میں بعض اوقات ایسے معجزات صادر ہوجاتے ہیں جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، نبی ، رسول ہیں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی نبی اور رسول ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ بھیجنا اور والد کے چہرہ پر ڈالنے سے بینائی واپس آجانا اور بیٹوں کا اقرار کرنا کہ ہم خطا وار ہیں اور استغفار کرنے کی درخواست کرنا جب بھائیوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مذکورہ بالا گفتگو ہوچکی تو واپسی کا موقع آگیا ( اور مقصد بھی حل ہوگیا کیونکہ اپنے والد کے حکم سے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو تلاش کرنے کے لیے سفر کرکے آئے تھے دونوں بھائی مل گئے) جب چلنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لو یہ میرا کرتہ لے جاؤ میرے غم میں روتے روتے والد کی آنکھیں چلی گئیں اب تم میرا یہ کرتہ ان کے چہرہ پر ڈال دینا انشاء اللہ تعالیٰ ان کی بینائی واپس آجائے گی اور وہاں پہنچ کر اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے کر آجاؤ۔ یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے قافلہ روانہ ہوگیا ابھی سر زمین مصر ہی میں تھے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ جو ان کے پاس موجود تھے میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں بات تو میں نے کہہ دی لیکن تم لوگوں سے ڈر ہے کہ میری بات کو سچی نہیں مانو گے اگر تم مجھے بیوقوف نہ بناؤ اور یوں نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں تو تم میری میری تصدیق کرسکتے ہو (ای لو لا تفنیدکم ایای لصدقتمونی ‘ کذا فی الروح) ان کے پاس رشتہ دار وغیرہ جو وہاں پر موجود تھے کہنے لگے کہ آپ تو اپنی اسی پرانی خام خیالی میں پڑے ہوئے ہیں یوسف کی محبت نے آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا اب یوسف کی ملاقات کی کہاں امید ہے اور کہاں یوسف کا کرتہ ہے جس کی خوشبو آپ کو محسوس ہوگئی ہے یہ بہکی بہکی باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں ہیں ‘ جب قافلہ وطن واپس پہنچ گیا اور کنعان میں داخل ہوگیا تو بھائیوں میں سے جس نے وہ کرتہ لے کر اپنے والد کو بشارت دینے کا کام اپنے ذمہ لیا تھا وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ اقدس پر ڈال دیا چہرہ پر کرتہ کا پڑنا تھا کہ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی واپس فرما دی اس پر انہوں نے حاضرین سے کہا (جن میں وہ بیٹے بھی تھے جو مصر سے واپس آگئے تھے) کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ‘ جب بیٹوں نے کہا تھا کہ آپ تو یوسف کی یاد میں گھل ہی جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ بات فرمائی تھی ‘ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا کہ جاؤ یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ۔ برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جو یوں کہا تھا کہ ہم واقعی خطا کار تھے اپنے والد کے سامنے بھی انہوں نے اپنی یہ بات دہرادی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا کہ تمہارے لئے استغفار کروں گا اللہ غفور ہے رحیم ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اسی وقت دعا کیوں نہیں کردی اس کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ رات کے آخری وقت میں دعا قبول ہوتی ہے اس لئے سَاَسْتَغْفِرُ فرمایا اور دعاء کو مؤخر کیا۔ امام ترمذی نے دعا حفظ قرآن کی جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ تم شب جمعہ کے آخری تہائی حصہ میں چار رکعت نماز پڑھنا اور پھر یہ دعا کرنا (آگے حدیث میں نماز کی تلقین اور دعا کے الفاظ مذکور ہیں) کیونکہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے اور میرے بھائی یعقوب نے اپنے بیٹوں سے جو فرمایا تھا کہ عنقریب تمہارے لئے استغفار کروں گا اس سے یہی شب جمعہ آنے کا انتظار مقصود تھا۔ (در منثور ص ٣٦ ج ٤) صاحب روح المعانی نے حضرت شعبی سے یہ بات نقل کی ہے کہ تاخیر استغفار کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ان کے بیٹوں نے اپنے بھائی یوسف کے ساتھ زیادتی کی تھی اور چونکہ حقوق العباد توبہ استغفار سے معاف نہیں ہوتے اس لئے انہوں نے چاہا کہ یوسف سے بھی دریافت کرلیں کہ انہوں نے معاف کردیا ہے یا نہیں ‘ ان کے معاف کرنے کا علم ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے معاف کروانے کے لئے دعا کی جائے۔ فائدہ : حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے معجزات اور اولیاء اللہ کی کرامات دیگر تمام امور کی طرح ان کا تعلق بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو اور اس کی حکمت کا تقاضا ہو تو انبیاء کرام (علیہ السلام) سے معجزات ظاہر ہوجاتے تھے اور ان کے بعد ان کے متبعین سے کرامات ظاہر ہوتی رہی ہیں اس میں ان حضرات کے ارادہ کو کوئی دخل نہیں مشرکین مکہ طرح طرح کے معجزات کی فرمائش کرتے تھے اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش بھی ہوتی تھی کہ ان کی طلب کے مطابق معجزہ ظاہر ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ کی جب حکمت اور مشیت ہوتی تھی تو اس وقت معجزہ کا ظہور ہوتا تھا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اپنے چہیتے لخت جگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے احوال پر مطلع نہ ہونا (کہ وہ وہیں اپنے علاقہ کے کنویں میں ڈالے گئے ہیں) اور مصر سے جب ان کا کرتہ لے کر قافلہ چلا کنعان سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو سونگھ لینا (جبکہ قافلہ کنعان سے بہت زیادہ دور تھا) اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے ‘ شیخ سعدی (رض) نے ایک اچھے انداز میں اس کا یوں تذکرہ فرمایا ہے جو لطیف بھی ہے اور پر لطف بھی۔ فرماتے ہیں : یکے پرسد زان گم کردہ فرزند کہ اے روشن گہر پیر خرد مند از مصرش بوئے پیراہن شنیدی چر ادر چاہ کنعانش نہ دیدی بگفت احوال ما برق جہان است دمے پیدا دیگر دم نہان است گہے بر طارم اعلیٰ نشینم گہے بر پشت پائے خود نہ بینم

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی قمیص اتار کر بھائیوں کو دی اور فرمایا یہ لے جاؤ اور محترم ابا جان کے چہرے پر ڈالو اس سے ان کی بینائی میں جو نقص واقع ہوگیا ہے ٹھیک ہوجائے گا اور تمام اہل و عیال کو لے کر میرے پاس آجاؤ قمیص میں شفاء کا ہونا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وحی سے معلوم ہوا تھا جیسا کہ محققین نے فرمایا ہے قال المحققون ان علم یوسف بان القاء ذلک القمیص علی وجہ یعقوب یوجب رد البصر کان بوحی اللہ الیہ ذلک (خازن ج 3 ص 314) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

93 ۔ بس اب تم میرے باپ کے لئے یہ میرا کرتہ لے جائو اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو وہ بینا ہوجائیگا اور دیکھتا ہوا چلا آئے گا اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آئو ۔ یعنی ایسی حالت میں کہ باپ کی آنکھوں کی بینائی کمزورہو گئی ہے یا بالکل روشنی جاتی رہی ہے ۔ یہاں آنے میں دشواری ہوگی اس لئے تم ان کو جا کر بشارت دو اور یہ کرتہ ان کے منہ پر ڈال دو تو بینائی ٹھیک ہوجائے گی پھر سب کو میرے پاس لے آئو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر مرض کی اللہ کے یہاں دوا ہے آنکھیں گئی تھیں ایک شخص کے فراق میں اسی کے بدن کی چیز ملنے سے چنگی ہوگئیں یہ کرامت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ۔ 12