Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 33

سورة الرعد

اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّئُوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾

Then is He who is a maintainer of every soul, [knowing] what it has earned, [like any other]? But to Allah they have attributed partners. Say, "Name them. Or do you inform Him of that which He knows not upon the earth or of what is apparent of speech?" Rather, their [own] plan has been made attractive to those who disbelieve, and they have been averted from the way. And whomever Allah leaves astray - there will be for him no guide.

آیا وہ اللہ جو نگہبانی کرنے والا ہے ہر شخص کی اس کے کئے ہوئے اعمال پر ان لوگوں نے اللہ کے شریک ٹھرائے ہیں کہہ دیجئے ذرا ان کے نام تو لو ، کیا تم اللہ کو وہ باتیں بتاتے ہو جو وہ زمین میں جانتا ہی نہیں یا صرف اوپری اوپری باتیں بتا رہے ہو بات اصل یہ ہے کہ کفر کرنے والوں کے لئے ان کے مکر سجا دیئے گئے ہیں اور وہ صیح راہ سے روک دے گئے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

There is no Similarity between Allah and False Deities in any Respect Allah said, أَفَمَنْ هُوَ قَأيِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ... Is then He (Allah) Who takes charge of every person and knows all that he has earned, Allah is the guard and watcher over every living soul and knows what everyone does, whether good or evil, and nothing ever escapes His perfect observation. Allah said in other Ayat, وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but we are witness thereof, when you are doing it. (10:61) and Allah said, وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا Not a leaf falls, but He knows it. (6:59) وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposits. All is in a Clear Book. (11:6) سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day. (13:10) يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى He knows the secret and that which is yet more hidden. (20:7) and, وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ And He is with you wherever you may be. And Allah is the All-Seer of what you do. (57:4) Is He Who is like this similar to the idols, that the polytheists worship, which can neither hear nor see nor do they have a mind nor able to bring good to themselves or to their worshippers nor prevent harm from themselves or their worshippers The answer to the question in the Ayah was omitted, because it is implied, for Allah said next, ... وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء ... Yet, they ascribe partners to Allah. which they worshipped besides Him, such as idols, rivals and false deities, ... قُلْ سَمُّوهُمْ ... Say: "Name them!" make them known to us and uncover them so that they are known, for surely, they do not exist at all! So Allah said, ... أَمْ تُنَبِّيُونَهُ بِمَا لاَ يَعْلَمُ فِي الاَرْضِ ... Is it that you will inform Him of something He knows not in the earth! for had that thing existed in or on the earth, Allah would have known about it because nothing ever escapes His knowledge, ... أَم بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ... or is it (just) a show of words, or doubts expressed in words, according to Mujahid, while Ad-Dahhak and Qatadah said, false words. Allah says, you (polytheists) worshipped the idols because you thought that they had power to bring benefit or harm, and this is why you called them gods, إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَأءٌ سَمَّيْتُمُوهَأ أَنتُمْ وَءَابَأوُكُم مَّأ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ وَلَقَدْ جَأءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى They are but names which you have named - you and your fathers - for which Allah has sent down no authority. They follow but a guess and that which they themselves desire, whereas there has surely come to them the guidance from their Lord! (53:23) Allah said next, ... بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ مَكْرُهُمْ ... Nay! To those who disbelieved, their plotting is made fair seeming, (or their words, according to Mujahid). This Ayah refers to the misguidance of the polytheists and their propagation night and day. Allah said in another Ayah, وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَأءَ فَزَيَّنُواْ لَهُم And We have assigned for them (devils) intimate companions, who have made fair-seeming to them. (41:25) Allah said next, ... وَصُدُّواْ عَنِ السَّبِيلِ ... and they have been hindered from the right path; Some read with Fatha over the Sad (i.e. wa Saddu), which would mean, `and they hindered from the right path, feeling fond of the misguidance they are in, thinking that it is correct, they called to it and thus hindered the people from following the path of the Messengers.' Others read it with Damma over the Sad (i.e. wa Suddu), which would mean, `and they have been hindered from the right path,' explained it this way: because they thought that their way looked fair or correct, they were hindered by it from the right path, so Allah said, ... وَمَن يُضْلِلِ اللّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ and whom Allah sends astray, for him there is no guide. Allah said in similar instances, وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْياً And whomsoever Allah wants to suffer a trial, you can do nothing for him against Allah. (5:41) and, إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ If you covet for their guidance, then verily, Allah guides not those whom He makes to go astray. And they will have no helpers. (16:37)

عالم خیر و شر اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کا محافظ ہے ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے ، ہر نفس پر نگہبان ہے ، ہر عامل کے خیر و شر کے علم سے باخبر ہے ۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ، کوئی کام اس کی بےخبری میں نہیں ہوتا ۔ ہر حالت کا اسے علم ہے ہر عمل پر وہ موجود ہے ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمے ہے ہر ایک کے ٹھکانے کا اسے علم ہے ہر بات اس کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے ظاہر وباطن ہر بات کو وہ جانتا ہے تم جہاں ہو وہاں اللہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے ان صفتوں والا اللہ کیا تمہارے ان جھوٹے معبودوں جیسا ہے ؟ جو نہ سنیں ، نہ دیکھیں ، نہ اپنے لئے کسی چیز کے مالک ، نہ کسی اور کے نفع نقصان کا انہیں اختیار ۔ اس جواب کو حذف کر دیا کیونکہ دلالت کلام موجود ہے ۔ اور وہ فرمان الہٰی آیت ( وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭسُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَ ) 6 ۔ الانعام:100 ) ہے انہوں نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھیرایا اور ان کی عبادت کرنے لگے تم ذرا ان کے نام تو بتاؤ ان کے حالات تو بیان کرو تاکہ دنیا جان لے کہ وہ محض بےحقیقت ہیں کیا تم زمین کی جن چیزوں کی خبر اللہ کو دے رہے ہو جنہیں وہ نہیں جانتا یعنی جن کا وجود ہی نہیں ۔ اس لئے کہ اگر وجود ہوتا تو علم الہٰی سے باہر نہ ہوتا کیونکہ اس پر کوئی مخفی سے مخفی چیز بھی حقیقتا مخفی نہیں یا صرف اٹکل پچو باتیں بنا رہے ہو ؟ فضول گپ مار رہے ہو تم نے آپ ان کے نام گھڑ لئے ، تم نے ہی انہیں نفع نقصان کا مالک قرار دیا اور تم نے ہی ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی ۔ یہی تمہارے بڑے کرتے رہے ۔ نہ تو تمہارے ہاتھ میں کوئی ربانی دلیل ہے نہ اور کوئی ٹھوس دلیل یہ تو صرف وہم پرستی اور خواہش پروری ہے ۔ عدایت اللہ کی طرف سے نازل ہو چکی ہے ۔ کفار کا مکر انہیں بھلے رنگ میں دکھائی دے رہا ہے وہ اپنے کفر پر اور اپنے شرک پر ہی ناز کر رہے ہیں دن رات اسی میں مشغول ہیں اور اسی کی طرف اوروں کو بلا رہے ہیں جیسے فرمایا آیت ( وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاۗءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ ) 41 ۔ فصلت:25 ) ، ان کے شیطانوں نے ان کی بےڈھنگیاں ان کے سامنے دلکش بنا دی ہیں یہ راہ اللہ سے طریقہ ہدی سے روک دیئے گئے ہیں ایک قرأت اس کی صدوا بھی ہے یعنی انہوں نے اسے اچھا جان کر پھر اوروں کو اس میں پھانسنا شروع کر دیا اور راہ رسول سے لوگوں کو روکنے لگے رب کے گمراہ کئے ہوئے لوگوں کو کون راہ دکھا سکے ؟ جیسے فرمایا آیت ( ومن یرد اللہ فتنۃ فلن تملک لہ من اللہ شیئا ) جسے اللہ فتنے میں ڈالنا چاہے تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کچھ بھی تو اختیار نہیں ۔ اور آیت میں ہے گو تو ان کی ہدایت کا لالچی ہو لیکن اللہ ان گمراہوں کو راہ دکھانا نہیں چاہتا پھر کون ہے جو ان کی مدد کرے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 یہاں اس کا جواب محذوف ہے یعنی کیا رب العزت اور وہ معبودان باطل برابر ہوسکتے ہیں جن کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کو نفع پہنچانے پر، نہ دیکھتے ہیں اور نہ عقل وشعور سے بہرہ ور ہیں۔ 33۔ 2 یعنی ہمیں بھی تو بتاؤ تاکہ انھیں پہچان سکیں اس لئے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ اس لئے آگے فرمایا، کیا تم اللہ کو وہ باتیں بتاتے ہو جو وہ زمین میں جانتا ہی نہیں، یعنی ان کا وجود ہی نہیں۔ اس لئے کہ اگر زمین میں ان کا وجود ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ضرور ہوتا، اس پر تو کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ 33۔ 3 یہاں ظاہر ظن کے معنی میں ہے یعنی یا یہ صرف ان کی ظنی باتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم ان بتوں کی عبادت اس گمان پر کرتے ہو کہ یہ نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں اور تم ان کے نام بھی معبود رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ، یہ تمہارے اور تمہارے باپوں کے رکھے ہوئے نام ہیں، جن کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔ یہ صرف گمان اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں (النجم۔ 23) 33۔ 4 مکر سے مراد، ان کے وہ غلط عقائد و اعمال ہیں جن میں شیطان نے ان کو پھنسا رکھا ہے، شیطان نے گمراہیوں پر بھی حسین غلاف چڑھا رکھے ہیں۔ 33۔ 5 جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، (وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا) 5 ۔ المائدہ :41) ۔ جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے تو اللہ اس کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا، اور فرمایا۔ (اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ) 16 ۔ النحل :37) ۔ اگر تم ان کی ہدایت کی خواہش رکھتے ہو تو (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کرتا ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] معبودان باطلہ کے صفاتی نام & کوئی دلیل یا تجربہ ؟ :۔ یہاں نام سے مراد ان شریکوں کے صفاتی نام ہیں۔ جیسے فرمایا : ( اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۝) 20 ۔ طه :8) اس آیت میں بھی اسم سے مراد صفاتی نام ہیں یعنی ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے یہ شریک کیا کیا کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں ؟ اور اس کی دلیل کیا ہے ؟ کیا کسی الہامی کتاب میں کہیں یہ لکھا ہے کہ اللہ نے فلاں فلاں اختیارات فلاں دیوتا یا بزرگ کو سونپ دیئے ہیں۔ یا تم اللہ کو ایسی چیز کی اطلاع دینا چاہتے ہو جس کا وجود ساری زمین میں کہیں پایا ہی نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف زمین کا نام اس لیے لیا کہ مشرکوں نے معبود اسی زمین پر ہی اپنے لیے بنا رکھے تھے۔ مثلاً کسی شریک کے متعلق انہوں نے مشہور کر رکھا کہ وہ گنج بخش ہے تو کیا وہ دکھا سکتے ہیں کہ وہ معبود واقعی لوگوں کو خزانے بخشتا رہتا ہے۔ کیا زمین میں ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی اللہ کو خبر تک نہ ہوسکی ؟ یا جو کچھ ان کے جی میں آئے بک دیتے ہیں اور ایسی باتیں ان شریکوں سے منسوب کردیتے ہیں۔ [٤٥] جھوٹے معبود اور کافروں کا مکر :۔ بات یوں نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کچھ مکار قسم کے انسانوں نے عوام پر اپنی خدائی کا سکہ جمانے کے لیے اور ان کی کمایوں میں اپنا حصہ بٹانے کے لیے کچھ بناؤٹی شریک گھڑے، ان سے متعلق کچھ حکایات تصنیف کیں اور لوگوں کو ان کے تصرفات سے ڈرایا دھمکایا، پھر لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو ان کا مجاور یا خلیفہ یا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا الو سیدھا کرنا شروع کردیا اور یہی مشرکانہ عقائد نسلاً بعد نسل جاہل عوام میں رواج پاگئے اور تسلیم کرلیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا مکر کرنے والوں اور اس مکر کو قبول کرنے والوں، سب کو کافر قرار دیا اور یہی لوگ دراصل اللہ کی سیدھی راہ (توحید) سے روک دیئے گئے ہیں اور لوگوں کے لیے بھی رکاوٹ بن گئے ہیں اور ایسے لوگوں کو جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اللہ کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ : یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے ثبوت اور شرک کے رد کا بیان فرمایا ہے۔ ” قَاۗىِٕمٌ“ سے مراد یہاں نگران اور محافظ ہے۔ ” اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ “ مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور وہ ہے ” کَمَنْ لَیْسَ کَذٰلِکَ “ اور یہ حذف شدہ خبر کلام کے پہلے اور پچھلے حصے سے خود بخود سمجھ میں آرہی ہے۔ یعنی کیا وہ معبود برحق جو ہر جان کا ہر لمحہ اور ہر حالت کا نگران اور محافظ ہے اور اس کے ہر عمل سے، نیک ہو یا بد، پوری طرح واقف ہے، وہ تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو سرے سے اس وصف سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس وصف کے لیے دیکھیے سورة انعام (٥٩) ، ہود (٦) اور آیت الکرسی وغیرہ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ : اس سے پہلے جملے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ضمیر ” ھُوَ “ کے ساتھ تھا، یہاں ضمیر کے بجائے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ان کے شرک کی قباحت ظاہر کی کہ کتنے ظالم ہیں کہ انھوں نے ” اللہ “ کے شریک بنا لیے، جس کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا۔ فرمایا ان شریک بنانے والوں سے کہو ذرا ان شریکوں کے نام تو بتاؤ، انھیں سامنے تو لاؤ۔ اگر تم بالفرض نام لے بھی دو ، تو ایسی ہستیوں کا نام لو گے جو محض خیالی ہیں، حقیقت میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں، وہ خود اپنے وجود اور بقا میں دوسروں کی محتاج ہیں، نہ اپنے نفع نقصان کا اختیار رکھتی ہیں نہ کسی دوسرے کا، ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتیں۔ پھر ان کا نام اللہ کے شریک کے طور پر لینا کس قدر نادانی اور جہالت کی بات ہے۔ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ : یا تم اسے اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا، حالانکہ اسے زمین کے چپے چپے کی خبر ہے، تو اگر ان شرکاء کا کہیں وجود ہوتا تو وہ انھیں ضرور جانتا۔ اس تفسیر کی رو سے ” لَا يَعْلَمُ “ میں ” ھُوَ “ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” لَا يَعْلَمُ “ میں ضمیر ” مَا “ کے لیے ہو اور مطلب یہ ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ کو ان بےجان بتوں کے معبود ہونے کی خبر دیتے ہو جن کو ذرا بھی علم نہیں ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں، اس سے مقصود تو زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا ہے، لہٰذا ” فِي الْاَرْضِ “ کی قید محض اس لیے لگائی ہے کہ کفار یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کے یہ شریک زمین میں ہیں۔ (روح، ابن کثیر) اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ : یا ظاہری بات ہے، جو تم صرف منہ سے کہہ رہے ہو، دل سے تمہیں بھی یقین نہیں کہ کوئی اللہ کا شریک ہے، کیونکہ اگر غور وفکر کرو تو انسانی فطرت بھی اللہ کا کوئی شریک ہونا تسلیم نہیں کرتی۔ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ : مکر سے مراد کفر اور اس کے لیے باطل دلیلیں گھڑنا اور لوگوں کو دھوکا دے کر مشرک بنانا ہے۔ ” خوش نما بنادیا گیا “ خوش نما بنانے والی کئی چیزیں ہیں، اس لیے فعل مجہول استعمال کیا گیا، مثلاً : 1 ان کے اعمالِ بد کی نحوست 2 نفسانی خواہشات 3 شیطان 4 ان کے فسق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر لگنے والی مہر، غرض بہت سی چیزیں ان کے کفر کو خوش نما بنانے کا باعث بنیں۔ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ ۔۔ : ” مِنْ هَادٍ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ہدایت نہیں لکھی۔ اب ایسے لوگ سیدھی راہ پر کیسے آسکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the verse: أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ (Is then He, who is watchful over everyone ... 33), the ignorance and irrationality of the disbelievers has been exposed by saying that these people are certainly short on sense when they equate inert idols with His pure Being, a Being that watches everyone and is the ultimate reckoner of everyone&s deeds. Then, it was said that the real reason behind their unreasonable attitude is that shaitan has made their very ignorance look good in their sight and, therefore, this they take to be &achievement& and &success.&

(آیت) اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍ ۔ۢ اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور بےعقلی کو اس طرح واضح فرمایا ہے کہ یہ کیسے بیوقوف ہیں کہ بےجان وبے شعور بتوں کو اس ذات پاک کے برابر ٹھراتے ہیں جو ہر نفس پر نگراں اور اس کے اعمال و افعال کا محاسبہ کرنے والی ہے پھر فرمایا کہ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ شیطان نے ان کی اس جہالت ہی کو ان کی نظر میں مزین کر رکھا ہے وہ اسی کو بڑا کمال اور کامیابی سمجھتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ۚ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ۭ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ ۭوَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 33؁ قائِمٌ وفي قوله : أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] . وبناء قَيُّومٍ : ( ق و م ) قيام أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] تو کیا جو خدا ہر نفس کے اعمال کا نگہبان ہے ۔ یہاں بھی قائم بمعنی حافظ ہے ۔ كسب الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کے تک ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے ظاهر وظَهَرَ الشّيءُ أصله : أن يحصل شيء علی ظَهْرِ الأرضِ فلا يخفی، وبَطَنَ إذا حصل في بطنان الأرض فيخفی، ثمّ صار مستعملا في كلّ بارز مبصر بالبصر والبصیرة . قال تعالی: أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] ، ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ، إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] ، يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] ، أي : يعلمون الأمور الدّنيويّة دون الأخرويّة، ( ظ ھ ر ) الظھر ظھر الشئی کسی چیز کا زمین کے اوپر اس طرح ظاہر ہونا کہ نمایاں طور پر نظر آئے اس کے بالمقابل بطن کے معنی ہیں کسی چیز کا زمین کے اندر غائب ہوجانا پھر ہر وہ چیز اس طرح پر نمایاں ہو کہ آنکھ یابصیرت سے اس کا ادراک ہوسکتا ہو اسے ظاھر کہہ دیا جاتا ہے ۔ قرآں میں ہے أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] یا ملک میں فساد ( نہ ) پیدا کردے ۔ ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] مگر سرسری سی گفتگو ۔ اور آیت کریمہ : يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] یہ دنیا کی ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ صرف دنیو امور سے واقفیت رکھتے ہیں اخروی امور سے بلکل بےبہر ہ ہیں زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے ۔ صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً [ النساء/ 61] وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے اور ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣) تو کیا پھر بھی اللہ تعالیٰ جو کہ ہر ایک نفس کی نگرانی اور حفاظت کرتا ہے اور ہر ایک کی نیکی بدی روزی اور تنگی تمام امور سے واقف ہے اور ان لوگوں کے معبود جن کی یہ اللہ کے علاوہ پوجا کرتے ہیں برابر ہوسکتے ہیں جو ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرمائیے کہ اگر یہ شرکاء بالفرض اللہ کے ساتھ شریک ہیں تو ان کے نفع پہنچانے اور ان کی کارگزاریاں تو گناؤ، کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو کہ دنیا بھر میں اس کے وجود کی خبر اللہ تعالیٰ کو نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی ہے جو نفع ونقصان کا مالک ہے یا محض ظاہری باطل اور جھوٹی باتوں پر ان کی پوجا کرتے ہو، بلکہ ان کافروں کو اپنے اقوال وافعال مرغوب معلوم ہوتے ہیں اور یہ لوگ دین حق سے محروم رہ گئے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنے دین سے بےراہ کردے تو پھر اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ (اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ) اللہ تعالیٰ ہر آن ہر شخص کے ساتھ موجود ہے اور اس کی ایک ایک حرکت اور اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھتا ہے۔ کیا ایسی قدرت کسی اور کو حاصل ہے ؟ (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ) انہوں نے ایسی بصیر ‘ خبیر اور عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہستی کے مقابلے میں کچھ معبود گھڑ لیے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔ (قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ ) یعنی اللہ جو اس قدر علیم اور بصیر ہستی ہے کہ اپنے ہر بندے کے ہر خیال اور ہر فعل سے واقف ہے تو تم لوگوں نے جو بھی معبود بنائے ہیں کیا ان کے پاس اللہ سے زیادہ علم ہے ؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جس سے وہ ناواقف ہے ؟ (اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ) یعنی یونہی جو منہ میں آتا ہے تم لوگ کہہ ڈالتے ہو اور ان شریکوں کے بارے میں تمہارے اپنے دعوے کھوکھلے ہیں۔ تمہارے ان دعو وں کی بنیادوں میں یقین کی پختگی نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تمہاری ساری باتیں سطحی نوعیت کی ہیں عقلی اور منطقی طور پر تم خود بھی ان کے قائل نہیں ہو۔ (وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ) اب گویا ان کے دل الٹ دیے گئے ہیں ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے ان کی گمراہی کے بارے میں آخری فیصلہ دے دیا ہے۔ اب ان کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50. That is, they are so audacious that they set up partners with Allah Whose knowledge is All-Comprehensive and Who is aware of even the minutest details of the good and bad actions of each individual. 51. These are the audacious things they do. They ascribe partners and equals to Him. They believe that some of His creatures are a part and parcel of His Being, and have attributes and rights like Him. They presume that they shall not be called to account for whatever they do, even though they live in His kingdom. 52. That is, you give empty names to the partners you ascribe to Him for you have no real knowledge about them. For you could get this knowledge only in one of the three following ways. First, you might have received some authentic information that Allah had made such and such people as His partners in His attributes, powers and rights. If it is so, let us also know their names and the source of your information. Second, the possibility that Allah might have remained ignorant that some beings have become His partners. Therefore you are going to inform Him about this. If it is so, say it clearly in so many words so that it may be decided whether there are some foolish people who can believe in such a nonsensical claim. Third, obviously the above two suppositions are absurd. Therefore the only alternative is that, you are ascribing partners to Him without any rhyme or reason, and you, without any knowledge, make one the relative of God, another the hearer of supplications, and still another the helper and fulfiller of certain needs and the ruler of a certain region etc. 53. Shirk has been called fraud because none of the angels, spirits, saints, heavenly bodies, to whom they ascribe divine attributes and powers or render divine rights, ever claimed to possess these attributes or powers. Neither did they ever demand these rights from the people nor told the people that they would fulfill their desires and wants if they would perform some rituals of worship before them. As a matter of fact, some clever people invented these gods in order to practice willful deception and dishonesty so that they might wield powerful influence over the common people and exploit them and deprive them of a part of their hard earned possessions. Accordingly, they made the common people credulous followers of the gods of their inventions and set themselves up as their representatives to get money, etc. from them by this fraud. The second reason why shirk has been called fraud is that a worldly man pretends to believe in it not because he wants to believe in it but in order to free himself from all moral restraints to enable him to lead an irresponsible life of greed and lust. The third reason is given below in( E. N. 54).

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :50 یعنی جو ایک ایک شخص کے حال سے فردا فردا واقف ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی نیک آدمی کی نیکی چھپی ہوئی ہے نہ کسی بد کی بدی ۔ سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :51 جسارتیں یہ کہ اس کے ہمسر اور مد مقابل تجویز کیے جا رہے ہیں ، اس کی ذات اور صفات اور حقوق میں اس کی مخلوق کو شریک کیا جا رہا ہے ، اور اس کی خدائی میں رہ کر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو کچھ چاہیں کریں ہم سے کوئی باز پرس کر نے والا نہیں ۔ سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :52 یعنی اس کے شریک جو تم نے تجویز کر رکھے ہیں ان کے معاملے میں تین ہی صورتیں ممکن ہیں: ایک یہ کہ تمہارے پاس کوئی مستند اطلاع آئی ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنی صفات ، یا اختیارات ، یا حقوق میں شریک قرار دیا ہے ۔ اگر یہ صورت ہے تو ذرا براہ کرم ہمیں بھی بتاؤ کہ وہ کون کون اصحاب ہیں اور ان کے شریک خدا مقرر کیے جانے کی اطلاع آپ حضرات کو کس ذریعہ سے پہنچی ہے ۔ دوسری ممکن صورت یہ ہے کہ اللہ کو خود خبر نہیں ہے کہ زمین میں کچھ حضرات اس کے شریک بن گئے ہیں اور اب آپ اس کو یہ اطلاع دینے چلے ہیں ۔ اگر یہ بات ہے تو صفائی کے ساتھ اپنی اس پوزیشن کا اقرار کرو ۔ پھر ہم بھی دیکھ لیں گے کہ دنیا میں کتنے ایسے احمق نکلتے ہیں جو تمہارے اس سراسر لغو مسلک کی پیروی پر قائم رہتے ہیں ۔ لیکن اگر یہ دونوں باتیں نہیں ہیں تو پھر تیسری ہی صورت باقی رہ جاتی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ تم بغیر کسی سند اور بغیر کسی دلیل کے یونہی جس کو چاہتے ہو خدا کا رشتہ دار ٹھیرا لیتے ہو ، جس کو چاہتے ہو داتا اور فریاد رس کہہ دیتے ہو ، اور جس کے متعلق چاہتے ہو دعوی کر دیتے ہو کہ فلاں علاقے کے سلطان فلاں صاحب ہیں اور فلاں کام حضرت کی تائید و امداد سے بر آتے ہیں ۔ سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :53 س شرک کو مکاری کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ دراصل جن اجرام فلکی یا فرشتوں یا ارواح یا بزرگ انسانوں کو خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دیا گیا ہے ، اور جن کو خدا کے مخصوص حقوق میں شریک بنا لیا گیا ہے ، ان میں سے کسی نے بھی کبھی نہ ان صفات و اختیارات کا دعوی کیا ، نہ ان حقوق کا مطالبہ کیا ، اور نہ لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ تم ہمارےآگے پرستش کے مراسم ادا کرو ہم تمہارے کام بنایا کریں گے ۔ یہ تو چالاک انسانوں کا کام ہے کہ انہوں نے عوام پر اپنی خدائی کا سکہ جمانے کے لیے اور ان کی کمائیوں میں حصہ بٹانے کے لیے کچھ بناوٹی خدا تصنیف کیے ، لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو کسی نہ کسی طور پر ان کا نمائندہ ٹھیرا کر اپنا الو سیدھا کرنا شروع کر دیا ۔ دوسری وجہ شریک کو مکر سے تعبیر کرنے کی یہ ہے کہ دراصل یہ ایک فریب نفس ہے اور ایک چور دروازہ ہے جس کے ذریعے سے انسان دنیا پرستی کے لیے ، اخلاقی بندشوں سے بچنے کے لیے اور غیر ذمہ دارانہ زندگی بسر کرنے کے لیے راہ فرار نکالتا ہے ۔ تیسری وجہ جس کی بنا پر مشرکین کے طرز عمل کو مکر سے تعبیر کیا گیا ہے آگے آتی ہے ۔ سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :54 یہ انسانی فطرت ہے کہ جب انسان ایک چیز کے مقابلے میں دوسری چیز کو اختیار کرتا ہے تو اپنے نفس کو مطمئن کرنے کے لیے اور لوگوں کو اپنی راست روی کا یقین دلانے کے لیے اپنی اختیار کردہ چیز کو ہر طریقے سے استدلال کر کے صحیح ثابت کر نے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی رد کردہ چیز کے خلاف ہر طرح کی باتیں چھانٹنی شروع کر دیتا ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ جب انہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کر دیا تو قانون فطرت کے مطابق ان کے لیے ان کی گمراہی ، اور اس گمراہی پر قائم رہنے کے لیے ان کی مکاری خوشنما بنا دی گئی اور اسی فطری قانون کے مطابق راہ راست پر آنے سے روک دیے گئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

30: یہ ترجمہ اُس تفسیر پر مبنی ہے جو اِمام رازیؒ اور علامہ آلوسیؒ نے ’’حلّ العقد‘‘ کے مصنّف کے حوالے سے بیان کی ہے۔ اس تفسیر کے مطابق ’’مَنْ ھُوَ قَائِمْ‘‘ کی خبر موجود ہے، جو محذوف ہے اور ’’وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ‘‘ جملہ حالیہ ہے۔ بندے کو یہ ترکیب دوسرے احتمالات کے مقابلے میں بہتر معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم۔ 31: نام تو انہوں نے بہت سے بتوں اور دیوتاوں کے رکھ رکھے تھے، اﷲ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ اگر ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقت ہے تو اﷲ تعالیٰ سے زیادہ اُسے کون جان سکتا ہے؟ اﷲ تعالیٰ کے علم میں تو ایسا کوئی بھی وجود ہے نہیں، اب اگر تم اس کو حقیقی وجود قرار دوگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ اﷲ تعالیٰ سے زیادہ علم رکھنے کے مدعی ہوگے، بلکہ تمہارا یہ کہنا لازم آئے گا کہ جس کا اﷲ تعالیٰ کو بھی علم نہیں ہے تم،(معاذاللہ) اﷲ تعالیٰ کو اس کا پتہ بتارہے ہو، اس سے بڑی جہالت اور کیا ہوسکتی ہے؟ اور اگر ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے تو یہ سب باتیں ہی باتیں ہیں۔ بہر حال! دونوں صورتوں میں یہی ثابت ہوتا ہے کہ تمہارا شرک کا عقیدہ بے بنیاد ہے۔ 32: یعنی جب کوئی شخص اِس ضد پر اڑ جائے کہ جو کچھ میں کررہا ہوں، وہی اچھا کام ہے، اور اس کے مقابلے میں بڑی سے بڑی دلیل کو بھی سننے ماننے کو تیار نہ ہو تو اﷲ تعالیٰ اُس کو گمراہی میں پڑا رہنے دیتے ہیں، اور پھر اُسے کوئی راہِ راست پر لانے والا میسّر نہیں آسکتا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٣۔ اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکوں کو جتلایا کہ اللہ پاک ہر شخص اور ہر چیز کا نگہبان اور مالک ہے اور ہر شخص کے کام کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے اور مشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اس صفت کے نہیں اس لئے فرمایا کہ انہوں نے جو خدا کے سوا اوروں کی عبادت اختیار کی ہے اور ان کو اپنا شفیع سمجھ رکھا ہے تو ان کے نام بتلائیں کہ وہ کون ہیں اور کیا صفت رکھتے ہیں پتھر ہیں مٹی ہیں آخر کیا ہیں کیوں کہ یہ سب چیزیں اور کل مخلوق خدا کے قبضے میں ہیں اور اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اور اگر فی الحقیقت ان کے معبود کوئی شئی نہیں ہیں فقط ان کے خیال ہی خیال ہیں تو یہ ایسی بات ہے کہ جس چیز کا زمین و آسمان میں کہیں پتہ نہیں پھر فرمایا کہ ان کافروں نے اپنے مکر اور کفر کی زینت کر رکھی ہے یا ان کو شیطان نے گمراہ بنا رکھا ہے یہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں کسی طرح ہدایت نہیں پاسکتے کیونکہ خدا جس کو گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی راہ نما نہیں ہوسکتا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث گزر چکی ہے ١ ؎ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھایا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جانے کے قابل۔ مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید خدری (رض) کی یہ معتبر حدیث بھی گزر چکی ہے ٢ ؎ کہ جب شیطان آسمان سے نکالا جانے لگا تو اس نے بنی آدم کے ہر طرح سے بہکانے کی قسم اللہ تعالیٰ کے روبرو کھائی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی یہ روایت بھی گزر چکی ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کو بہت تھا شیطان نے موقع پا کر اپنی قسم کے موافق ان لوگوں کو یوں بہکایا کہ ان مرے ہوئے آدمیوں کی مورتیں بنالی جاویں تاکہ ان مورتوں کے دیکھنے سے ان مرے ہوئے آدمیوں کی صورتیں تمہاری آنکھوں کے سامنے رہیں۔ شیطان کے بہکانے سے ان لوگوں نے وہ مورتیں بنائیں اور رفتہ رفتہ ان مورتوں کی پوجا ہو کر دنیا میں بت پرستی پھیل گئی۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت اگرچہ مشرکین مکہ کو یہ خوب معلوم ہوگیا کہ ان کے بت بالکل بےاختیار ہیں لیکن شیطان کے بہکاوے سے ہر طرح کے برے کام ان لوگوں کو اچھے نظر آتے ہیں اس لئے یہ لوگ بت پرستی پر اڑے ہوئے ہیں اور علم الٰہی میں یہ لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں اس واسطے مجبور کر کے ان کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کیونکہ دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے مجبوری کی صورت میں وہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی۔ ١ ؎ تفسیر ہذا جلد اول ٣٦٨ و جلد دوم ص ١٤١۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٧٣٢ ج ٢ تفسیر سورت نوح۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ کیا وہ تمہارے جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ؟ اتنی عبارت محذوف ہے۔ 2 ۔ حالانکہ سے زمین کے چپے چپے کی خبریہ۔ تو اگر ان شرکاء کا کہیں وجود ہوتا تو وہ انہیں ضرورجانتا۔ اس تفسیر کی رو سے یعلم میں ھو کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوگی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” لایعلم “ میں ضمیر ” ما “ کے لئے ہو اور مطلب یہ ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ کو ان بےجان بتوں کے معبود ہونے کی خبر دیتے ہو جن کو ذرہ بھر بھی علم نہیں ہے۔ صاحب روح للمعانی لکھتے ہیں ” اس سے مقصود تو زمین و آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا ہے لہٰذا ” فی الارض “ کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ کفار اپنے بتوں کے ” اللھم الارض “ کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ کفار اپنے بتوں کے ” الھۃ الارض “ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ (ازروح۔ ابن کثیر) ۔ 3 ۔ جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ مراد ہے ان کا اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا۔ 4 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ہدایت نہیں لکھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ البتہ وہ اسی کو گمراہ رکھتا ہے جو باوجود وضوح حق کے عناد کرتا رہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اے رسول ! کیا آپ کو مذاق کرنے والے بھول گئے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ ان پر نگران نہیں ہے ؟ اے رسول ! انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق کرنے والے مجرموں کو اس ذات حق نے پکڑا جوہر نفس پر نگران اور اسے پکڑنے پر پوری طرح قادر ہے۔ وہ ہر نفس کے کردار اور افکار پر نگران ہے۔ رقیب کے معنی نگران کے ہیں۔ اس کے لفظی معنی کھڑے ہونے کے بھی ہیں جو ہر زبان میں محاورہ ہے کہ فلاں شخص فلاں کے سر پر کھڑا ہے۔ پہلے لوگوں کے گناہوں کا بنیادی سبب شرک تھا اور ان لوگوں نے بھی اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم حاجت روا سمجھے ہو یہ تو محض تمہارے رکھے ہوئے نام ہیں۔ ان کے پیچھے نہ کوئی وجود ہے اور نہ ہی ان کی کوئی حقیقت جب تم پر اللہ کی گرفت ہوگی تو کوئی تمہارے کام نہ آسکے گا۔ مشرکوں کے رکھے ہوئے ناموں کی حقیقت پر غور کریں تو معلوم ہوگا۔ یہ ایک دھوکہ اور افسانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مثال کے طور پر پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کو لیجیے۔ لوگ انھیں دستگیر کہتے ہیں کہ وہ ڈوبتے بیٹرے بچا لیتے ہیں۔ 2005 ء کی بات ہے پوری دنیا کے اخبارات اٹھا کر دیکھیں اور اس وقت ٹیوی بلیٹن نکلوا کر دیکھیں اور سنیں کہ امریکہ کی عراق پر بمباری سے پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کے مزار کو کس قدر شدید نقصان پہنچا۔ اسی طرح نجف میں حضرت علی (رض) کے مزار کا ایک حصہ تباہ ہوا۔ پیر صاحب اور حضرت علی (رض) اپنے مزارات کو نہ چا سکے۔ گویا کہ علی مشکل کشا اور پیر دستگیر محض مشرکوں کے رکھے ہوئے نام ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دراصل کفار کے لیے ان کے مکر و فریب خوبصورت بنا دیے گئے ہیں۔ (النحل : ٦٣) اور وہ راہ حق سے روک دیے گئے ہیں۔ یہاں مشرکوں کو کافر اور ان کے شرک کو مکر و فریب قرار دیا گیا ہے مکر کا مفہوم ہے کسی کے خلاف سازش کرنا یا حقیقت کے خلاف کوئی چیز پیش کرنا۔ 1 قولی اور فعلی طور شرک کا پر چار کرنے والے لوگ توحید کے عقیدہ کے خلاف سازش کرتے ہیں۔ 2 شرک کرنے والے ہمیشہ جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کے ذریعے لوگوں کا عقیدہ خراب کرتے ہیں جسے قرآن مجید نے مکرو فریب قرار دیتا ہے۔ 3 شرک جھوٹ، فریب اور مکرو ریا کا دوسرا نام ہے۔ 4 شرک کا پر چار کرنے والے من گھڑت بزرگوں کی کرامات کے حوالے سے جھوٹے قصے بیان کر کے لوگوں کو دھوکہ دے کر عقیدہ توحید سے روکتے ہیں۔ 5 مشرک ایک سازش اور گھناؤنے منصوبے کے تحت جھوٹی کرامات بیان کر کے لوگوں کا مال ہڑپ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہوگا۔ انہیں بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ کسی فرد اور قوم کی گمراہی کی اس وقت کوئی حد نہیں رہتی جب اس کے گناہ اس کے لیے فیشن اور فخر کا ذریعہ بن جائیں۔ ایسے فرد یا قوم کو پھر کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ پہلی قوموں کے عذاب کے واقعات قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ اہل مکہ پر اس طرح کا عذاب نازل نہ ہوا۔ لیکن تباہی اور ذلت کے حوالے سے انہیں پہلی اقوام کے مقابلہ میں بہت بڑی سزا سے دوچار ہونا پڑا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کفار کو ان کا مکر و فریب خوشنما کر کے دکھاتا ہے۔ ٢۔ جسے اللہ گمراہ رکھنا چاہے اسے کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ ٣۔ کفار کو دنیا اور آخرت میں عذاب ہوگا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کفار کوئی نہیں بچاسکتا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣٣ تا ٣٥ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (١٣ : ٣٣) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب کر رہا ہے ۔ کون ؟ اللہ۔ اب کون ہے جو مارے خوف کے کانپ نہیں اٹھتا جبکہ یہ تصور ہو بھی حقیقت نفس الامری۔ قرآن انسان قوائے مدرکہ کے سامنے اس معنوی مفہوم کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کرتا ہے ، کیونکہ انسان مجرد مفہومات کے مقابلے میں محسوس مناظر سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب صورت حالات یہ ہو تو پھر بھی یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ان لوگوں کی یہ حرکت اس منظر کی روشنی میں نہایت ہی مکروہ اور گھناؤنی نظر آتی ہے۔ اس منظر کو دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کے رویے پر تعجب کرنے لگتا ہے۔ وجعلوا للہ شرکاء (١٣ : ٣٣) ” لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا رکھے ہیں “۔ حالانکہ اللہ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر شخص کی کمائی اس کی نظروں میں ہے ، کوئی چیز اللہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔ قل سموھم (١٣ : ٣٣) ” کہو ، ذرا نام لو ان کے “۔ کیونکہ ان شریکوں کے جو نام بولے جاتے ہیں وہ نکرے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض بتوں اور شریکوں کے نام بھی ہوں لیکن انداز بیان محض تحکم اور حقارت کے انداز میں ان کو مجہول شخصیات تصور کر کے پوچھتا ہے کہ ذرا ان کے اصل نام تو لو۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض (١٣ : ٣٣) ” کیا تم اللہ کو ایک نئی خبر دیتے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے یعنی تم انسان ہو کر بھی ایک ایسی خبر رکھتے ہو جس کا علم اللہ کو اپنی مملکت میں نہیں۔ عجیب سوچ ہے یہ تمہاری۔ تم تو جانتے ہو کہ اللہ کے سوا اور الٰہ بھی ہیں اور اللہ کو اس کا پتہ نہیں ؟ جبکہ اس قسم کے دعویٰ کرنے کی جسارت یہ کفار بھی نہ کرتے تھے لیکن لسان الحال سے ان کا دعویٰ یہی تھا کہ اللہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں فلاں بھی الٰہ ہیں۔ ام بظاھر من القوم (١٣ : ٣٣) ” یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے ، کہہ ڈالتے ہو “۔ تم لوگ دوسرے الہوں کے وجود کے قول محض سطحی بات کے طور پر کردیتے ہو اور اس بات کا کوئی مفہوم اور معنی نہیں ہوتا جبکہ مسئلہ الوہیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فیصلہ محض سطحی باتوں سے ہوجائے اگر گپ شپ میں الوہیت اور توحید و شرک کے مسائل حل ہوجائیں۔ یہاں تک تو مذاقیہ جواب تھا۔ اب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر بات کی جاتی ہے۔ بل زین للذین۔۔۔۔۔ من ھاد (١٣ : ٣٣) ” حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لئے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے “۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا۔ اپنے آپ سے دلائل ایمان کو چھپایا ، اپنے دل و دماغ کو دلائل ایمان و ہدایت سے مستور رکھا۔ اس لیے ان پر سنت الٰہیہ کا اطلاق برحق ہوگیا۔ ان کے نفوس نے ان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ حق پر ہیں۔ اور یہ باور کرایا کہ ان کی مکاریاں اور حق کے خلاف ان کی تدابیر بہت اچھی اور کامیاب ہیں۔ اس طرح ان کے اس طرز عمل نے انہیں راہ حق سے روک دیا۔ جس شخص کو اللہ کے سنن ہدایت و ضلالت کے تحت گمراہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لئے پھر کوئی بھی ہادی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب کوئی فرد یا قوم سنن الٰہیہ کے اسباب فراہم کر دے تو پھر اللہ کی سنت اٹل ہوجاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (١٣ : ٣٤) ” ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے “۔ اگر ان کو کوئی مصیبت آلے یا ان کے گھروں کے قریب ہی کوئی مصیبت نازل ہوجائے تو بھی ان کے لئے عذاب ہے کہ یہ لوگ ہر وقت اس خوف اور قلق میں رہیں گے کہ ابھی یہی مصیبت ہم پر ٹوٹنے والی ہے۔ نیز اگر کسی کا دل ایمان کے لئے خشک ہوجائے اور پتھر بن جائے تو یہ کیا تھوڑا عذاب ہے جبکہ ایسے بےایمان دل ہر وقت حیرت ، پریشانی اور بےچینی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کو حادثات پیش آتے رہتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر یہ عذاب کیوں آگیا۔ ولعذاب الاخرۃ اشق (١٣ : ٣٤) ” اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے “۔ یہاں آخرت کے عذاب کی سختیوں کی تفصیلات نہیں دی جاتیں تا کہ انسان خود اس کے بارے میں سوچ لے۔ وما لھم من اللہ من واق (١٣ : ٣٤) ” کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ اللہ کی پکڑ سے چھڑا سکے اور اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ان پر جو عذاب بھی آئے گا وہ اسے جھیلتے رہیں گے۔ دوسری جانب اہل تقویٰ اور اہل ایمان ہیں۔ یہ کفار تو ایسے ہوں گے کہ اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ متقین وہ ہوں گے جنہوں نے ایمان ، صلاح کے ہتھیار سے اپنے نفوس کو بچایا۔ یہ لوگ عذاب سے مامون اور محفوظ ہوں گے ۔ بلکہ امن و سلامتی کے علاوہ ان کو رہائش کے لئے باغات ملیں گے۔ مثل الجنۃ۔۔۔۔۔ وظلھا (١٣ : ٣٥) ” خدا ترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال “۔ یہ ہے سازو سامان ان کے لئے اور یہ ہے ان کی تفریح اور خوشی۔ یہ منظر کہ گھنی چھاؤں ہے اور باغات ہیں اور ان میں دائمی پھل ہیں ایک نہایت ہی فرحت بخش منظر ہے جبکہ دوسری جانب جہنم کی مشقتیں ہیں۔ یہ عذاب اور یہ حیثیتیں ان لوگوں اور ان لوگوں کا قدرتی انجام ہیں۔ تلک عقبی الذین اتقوا وعقبی الکفرین النار (١٣ : ٣٥) ” یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَمْ تُنَبِّءُوْنَہٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرِْضِ ) (کیا تم اللہ کو وہ بات بتا رہے ہو جس کو وہ زمین میں نہیں جانتا) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق کا علم ہے تم زمین میں ہو اور اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی زمین میں ہیں اللہ کے علم میں تو اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اب جب تم شرک کر رہے ہو اور غیر اللہ کو معبود بنا رہے ہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کو یہ بتا رہے ہو کہ آپ کے لیے شریک بھی ہیں ‘ آپ کو ان کا پتہ نہیں ہم آپ کو بتا رہے ہیں (العیاذ باللہ) اس میں مشرکین کی جہالت اور ضلالت کو واضح فرمایا ہے۔ (اَمْ بِظَاھِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ) یعنی تم جن لوگوں کو اللہ کا شریک قرار دے رہے ہو ‘ اس بارے میں تمہارے پاس کوئی حقیقت ہے یا یوں ہی محض ظاہری الفاظ میں ان کو شریک ٹھہراتے ہو ؟ غیر اللہ کے معبود ہونے کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں ہے۔ صرف باتیں ہی باتیں اور دعوے ہی دعوے ہیں اور یہ سب کچھ زبانی ہے ‘ معبود بنانے کے لیے تو بہت بڑی تحقیق کی ضرورت ہے یوں ہی زبانی باتوں سے کسی کا معبود ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ (بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مَکْرُھُمْ وَصَدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ ) (بلکہ کافروں کے لیے ان کا مکر مزین کردیا گیا اور راہ حق سے روک دئیے گئے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ مکر سے ان کا شرک اور گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جانا اور باطل چیزوں کو اچھا سمجھنا مراد ہے ‘ ان کا یہ مکر انہیں راہ حق سے روکنے کا ذریعہ بن گیا۔ (وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ ) (اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں) (لَھُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) دنیا والی زندگی میں ان کے لیے عذاب ہے (وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ) (اور البتہ آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے) (وَمَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ ) اس میں کافروں کو تنبیہ ہے کہ دنیا میں تمہارے لیے طرح طرح کے عذاب ہیں اور صرف دنیا ہی میں عذاب نہیں بلکہ تمہارے لئے آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے اور اللہ تعالیٰ جسے عذاب میں مبتلا فرمانے کا ارادہ فرمائے دنیاوی عذاب ہو یا اخروی عذاب اس سے کوئی بچانے والا نہیں۔ اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا (مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ) جس جنت کا اہل تقویٰ سے وعدہ کیا گیا (جو کفر و شرک اور معاصی سے بچتے ہیں) اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اُکُلُھَا دَآءِمٌ وَّظِلُّھَا) (اس کے پھل ہمیشہ رہیں گے اور اس کا سایہ بھی) یعنی جنت میں جو پھل ملیں گے برابر ملتے رہیں گے پھل بھی ہمیشہ رہیں گے اور سایہ بھی ہمیشہ رہے گا وہاں چونکہ سورج کا طلوع غروب نہیں اس لیے یہ سایہ جو ہوگا ہمیشہ ہی رہے گا ‘ سورة نساء میں فرمایا (وَنُدْخِلُھُمْ ظِلَّا ظَلِیْلًا) اور سورة واقعہ میں فرمایا (وَفَاکِھَۃٍ کثِیْرَۃٍ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ ) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلیہ ہے۔ یعنی آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے بھی استہزاء و تمسخر کیا گیا ہے میں اپنی حکمت بالغہ کے تحت کافروں کو مہلت دیتا ہوں اور پھر اچانک ان کو پکڑ لیتا ہوں، آپ بےفکر رہیں آپ کے دشمنوں کا انجام نہایت دردناک ہوگا۔ 36:۔ یہ آٹھویں عقلی دلیل ہے جو دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ آخر میں کمن لیس کذلک خبر محذوف ہے اور استفہام انکار کیلئے ہے (مدارک) یعنی اللہ تعالیٰ جو ہر ایک کے تمام اعمال سے باخبر ہے اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے جیسا کہ فرمایا ” اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ شَھِیْدٌ“ (حم سجد رکوع 6) وہ ان معبودان باطلہ کی مانند نہیں ہوسکتا جو نہ عالم الغیب ہیں نہ حاضر ناظر۔ ” وَجَعَلُوْا لِلّہِ شُرَکَاءَ “ زجر ہے مگر اس کے باوجود مشرکین صفاتِ کارسازی سے عاری اور عاجز مخلوق کو خدا کے شریک بناتے ہیں۔ ” قُلْ سَمُّوْھُمْ “ یعنی ان خود ساختہ معبودوں کے وہ کمالات تو بیان کرو جن کی وجہ سے تم انہیں الوہیت کا درجہ دیتے ہو۔ ” قل اذکروا صفاتھم وانظرو ھل فیھا ما یستحقون بہ العبادۃ ویستاھلون الشرکۃ “ (روح ج 13 ص 161) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

33 ۔ بھلا وہ جو ہر متنفس کی کمائی اور اس کے کئے پر نگراں اور با خبر ہے اور ہر شخص کے سر پر کھڑا ہے وہ ان شرکاء کے برابر ہوسکتا ہے جن کو اپنی بھی خبر نہیں اور ان دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کے لئے شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں آپ ان سے فرمایئے تم ان شرکاء کے نام تولو اور ان کے اوصاف تو بیان کرو کیا تم اللہ تعالیٰ کو وہ بات بتانی چاہتے ہو اور ان چیزوں کی خبر دینا چاہتے ہو جن کو وہ نہیں جانتا اور کہیں روئے زمین پر ان کو نہیں پاتا اور ان کے وجود کی خبر نہیں رکھتا یا محض ظاہری لفظ کے اعتبار سے ان کو شریک کہتے ہو اور یہ باتیں اوپر ہی اوپر کہتے ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کا مکرو فریب اور ان کے غلط استدلات ان کی نظر میں خوشنما کردیئے گئے ہیں اور وہ صحیح راہ سے روک دیئے گئے ہیں اور یہ لوگ راہ حق سے محروم کردیئے گئے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ گم گشتہ راہ رکھے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ ان کو چھوڑ دے گا بن سزا دیئے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال سے با خبر اور مطلع ہے وہ ان بیخبر معبود ان باطلہ کا شریک کیسے ہوسکتا ہے یہ لوگ باوجود اللہ تعالیٰ کے عالم کل اور واقف کل ہونیکے پھر بھی اسکے ساتھ بیخبر اور جاہلوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ان معبود ان باطلہ کا نام تو لو تا کہ میں دیکھوں وہ کون ہیں کیسے ہیں کیا تم حقیقتاً ان کو شریک سمجھتے ہو یا ویسے ہی ظاہری بات کہتے ہو اور محفظ لفظ کے اعتبار سے اوپر ہی اوپر انکو شریک کہتے ہو اگر حقیقتہً کہتے ہو تب تو اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کو خبر دیتے ہو اور ایسی بات بتانا چاہتے ہو جسکی کہیں روئے زمین پر اس کے وجود کی خبر نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اسی کی موجود جانتا ہے جو واقع میں موجود ہو اور اگر محض ظاہر کے اعتبار سے کہتے ہو اور اس کے مصداق کو تم بھی معدوم سمجھتے ہو تو تم خود ہی بطلان شرک کو اپنی تقریر سے تسلیم کرتے ہو پھر مجھ سے کیوں خواہ مخواہ جھگڑتے ہو خدا کی توحید کا اعلان کیوں نہیں کرتے اور اس کے وحدہٗ لا شریک ہونے پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔