Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 38

سورة الرعد

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ ﴿۳۸﴾

And We have already sent messengers before you and assigned to them wives and descendants. And it was not for a messenger to come with a sign except by permission of Allah . For every term is a decree.

ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا کسی رسول سے نہیں ہو سکتا کہ کوئی نشانی بغیر اللہ کی اجازت کے لے آئے ہر مقررہ وعدے کی ایک لکھت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

All Prophets and Messengers were Humans Allah says, وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلً مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً ... And indeed We sent Messengers before you, and made for them wives and offspring. Allah says, `Just as We have sent you O Muhammad, a Prophet and a human, We sent the Messengers before you from among mankind, that eat food, walk in the markets, and We gave them wives and offspring.' Allah said to the most honorable and Final Messenger, قُلْ إِنَّمَأ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ Say: "I am only a man like you. It has been revealed to me." (18:110) It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah said, أَمَّا أَنَا فَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَقُومُ وَأَنَامُ وَاكُلُ اللَّحْمَ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي As for me, I fast and break the fast, stand in prayer at night and sleep, eat meat and marry women; so whoever turns away from my Sunnah is not of mine. No Prophet can bring a Miracle except by Allah's Leave Allah said, ... وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِأيَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ ... And it was not for a Messenger to bring a sign except by Allah's leave. meaning, no Prophet could have brought a miracle to his people except by Allah's permission and will, for this matter is only decided by Allah the Exalted and Most Honored, not the Prophets; surely Allah does what He wills and decides what He wills. ... لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ (For) every matter there is a decree (from Allah). for every term appointed, there is a record (or decree) that keeps it, and everything has a specific due measure with Allah, أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَأءِ وَالاٌّرْضِ إِنَّ ذلِكَ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth, Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah. (22:70) Meaning of Allah blotting out what He wills and confirming what He wills of the Book Allah said,

ہر کام کا وقت مقرر ہے ارشاد ہے کہ جیسے آپ باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں ۔ ایسے ہی آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے ، کھانا کھاتے تھے ، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی ، بچوں والے تھے ۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ آیت ( انما انا بشر مثلکم یوحی الی ) میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الہٰی کی جاتی ہے ۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں ۔ مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء کا دریقہ رہیں خوشبو لگانا ، نکاح کرنا ، مسواک کرنا اور مہندی ، پھر فرماتا ہے کہ معجزے ظاہر کرنا کسی نبی کے بس کی بات نہیں ۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے ، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے ۔ ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہو گئیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا ۔ سوائے شقاوت ، سعادت ، حیات و ممات کے ۔ کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا ۔ منصور کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الہٰی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے ۔ آپ نے فرمایا یہ تو اچھی دعا ہے سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ نے آیت ( انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ ) سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں ، تکلیفیں مقرر ہو جاتی ہیں ۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم موخر کرتا ہے ، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی ۔ حضرت شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹار دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے ۔ کعب رحمۃ اللہ علیہ نے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ کو بتا دیتا پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے ۔ چنانچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں ۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے ۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے ۔ اور حدیث میں ہے کہ دعا اور قضا دونوں کی مڈ بھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان ۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے ۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ۔ کلبی فرماتے ہیں روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی ؟ فرمایا ابو صالح نے ان سے حضرت جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا میں نے پیا میں آیا میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے فرماتے ہیں مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہو جاتی ہے اور جس کے لئے ثابت رہتی ہے ۔ یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے ، اس کے لئے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے ۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الہٰی میں مرتا ہے ۔ یہ ہے جس کے لئے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے ۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الہٰی میں مرتا ہے ۔ یہ ہے جس کے لئے ثابت رہتی ہے ۔ سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے ۔ ابن عباس کا قول ہے جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی ۔ بقول قتادہ یہ آیت مثل آیت ( ما ننسخ الخ ، کے ہے یعنی جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے ۔ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل بےبس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہو چکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لئے یہ آیت اتری کہ ہم جو چاہیں تجدید کر دیں ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی ۔ حسن بصری فرماتے ہیں جس کی اجل آ جائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کر لے ۔ ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں ۔ حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العلمین کے پاس ہی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کعب سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا ۔ پھر کہا کہ کتاب کی صورت میں ہو جائے ہو گیا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ام الکتاب سے مراد ذکر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 یعنی آپ سمیت جتنے بھی رسول اور نبی آئے، سب بشر ہی تھے، جن کا اپنا خاندان اور قبیلہ تھا اور بیوی بچے تھے وہ فرشتے تھے نہ انسانی شکل میں کوئی نوری مخلوق بلکہ جنس بشر ہی میں سے تھے کیونکہ اگر وہ فرشتے ہوتے تو انسانوں کے لیے ان سے مانوس ہونا اور ان کے قریب ہونا ناممکن تھا جس سے ان کو بھیجنے کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا اور اگر وہ فرشتے بشری جامے میں آتے تو دنیا میں نہ ان کا خاندان اور قبیلہ ہوتا اور نہ ان کے بیوی بچے ہوتے جس سے یہ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء بحثییت جنس کے بشر ہی تھے بشری شکل میں فرشتے یا کوئی نوری مخلوق نہیں تھے مزکورہ آیت میں ازواجا سے رہبانیت کی تردید اور ذریۃ سے خاندانی منصوبہ بندی کی تردید بھی ہوتی ہے کیونکہ ذریۃ جمع ہے کم از کم تین ہوں گے 38۔ 2 یعنی معجزات کا صدور، رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ جب ان سے مطالبہ کیا جائے تو وہ صادر کر کے دکھا دیں بلکہ یہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کہ معجزے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو کس طرح اور کب دکھایا جائے۔ 38۔ 3 یعنی اللہ نے جس چیز کا وعدہ کیا، اس کا ایک وقت مقرر ہے، اس وقت پر یہ واقع ہو کر رہے گا اس لئے اللہ کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا۔ ہر وہ امر، جسے اللہ نے لکھ رکھا ہے، اس کا ایک وقت مقرر ہے، یعنی معاملہ، کفار کے ارادے اور منشاء پر نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٠] نبیوں اور اللہ والوں کو بال بچوں کے دھندوں سے کیا تعلق :۔ اس جملہ میں بھی ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ جاہل عوام کا یہ خیال ہوتا ہے کہ نکاح کرنا اور بال بچوں والا ہونا تو دنیادار لوگوں کا کام ہے۔ بھلا نبیوں اور اللہ والوں کو دنیا کے ان دھندوں سے کیا تعلق ؟ انھیں دنیا کے طالب نہیں بلکہ دنیا کا تارک ہونا چاہیے جیسا کہ یہود و نصاریٰ میں رہبانیت کا رواج پڑگیا تھا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو رسول پہلے گزر چکے ہیں سب بال بچوں والے تھے اور ان کے سچا ہونے پر تم ایمان رکھتے ہو پھر تم کس کس کا انکار کرو گے۔ وہ بشر ہی تھے اور بشری تقاضوں کو پورا کرتے تھے اور چونکہ وہ بشر تھے۔ اس لیے ان میں سے کسی میں یہ طاقت نہ تھی کہ اپنی مرضی سے یا اپنی قدرت سے کوئی معجزہ دکھا سکتے الا یہ کہ اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھوں کسی معجزہ کا صدور ہوتا رہا اور اگر اب بھی اللہ چاہے اس نبی کے ہاتھوں معجزات دکھانے پر قادر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ ۔۔ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے کہ یہ عجیب پیغمبر ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح نکاح کرتے ہیں، ان کی اولاد بھی ہے، حالانکہ پیغمبر کو ان باتوں سے کیا واسطہ ؟ ! بلکہ انھیں اس پر بھی اعتراض تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : ٧) اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت عورتوں سے نکاح کے منافی نہیں، آپ سے پہلے جتنے بھی اللہ کے پیغمبر ہو گزرے ہیں وہ سب بشر ہی تھے اور ان میں اکثریت ان پیغمبروں کی ہے جو بیوی بچے رکھتے تھے۔ وہ سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (دیکھیے فرقان : ٢٠) تمہیں ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر فخر ہے تو کیا تم ان کی شادی کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہو ؟ ! اسی طرح بنی اسرائیل اور ان کے انبیاء کو دیکھ لو۔ سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں اور لونڈیوں کی تعداد کی طرف دھیان کرو ! غرض تمہارا یہ اعتراض سرے سے ہے ہی لغو۔ ہمارے زمانے میں بھی کئی لوگ انھی لوگوں کو اللہ والے، ولی اور بزرگ سمجھتے ہیں جو نہ شادی کریں، نہ کمائی، راہب بن کر دین کی دعوت اور جہاد کے بجائے گوشہ نشینی اور خود محنت کرکے کھانے کے بجائے دوسروں کی کمائی پر زندگی بسر کریں، حالانکہ اسلام میں یہ کام حرام ہیں۔ انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : (جَاءَ ثَلَاثَۃُ رَھْطٍ إِلٰی بُیُوْتِ أَزْوَاج النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أُخْبِرُوْا کَأَنَّھُمْ تَقَالُّوْھَا فَقَالُوْا وَأَیْنَ نَحْنُ مِنَ النِّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ أَحَدُھُمْ أَمَّا أَنَا فَأَنَا أُصَلِّي اللَّیْلَ أَبَدًا، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُوْمُ الدَّھْرَ وَلَا أُفْطِرُ ، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ إِلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا ؟ أَمَا وَاللّٰہِ ! إِنِّيْ لَأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَتْقَاکُمْ لَہُ ، لٰکِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ ، وَأُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ ) [ بخاری، النکاح، باب الترغیب في النکاح : ٥٠٦٣۔ مسلم : ١٤٠١ ] ” تین آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ جب انھیں بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا، کہنے لگے : ” ہماری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا نسبت ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ “ چناچہ ان میں سے ایک نے کہا : ” میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا۔ “ دوسرے نے کہا : ” میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا۔ “ تیسرے نے کہا : ” میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے (انھیں بلوایا) اور فرمایا : ” تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں، یاد رکھو ! اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ کی خشیت والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ کے تقویٰ والا ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو میرے طریقے سے بےرغبتی کرے گا وہ مجھ سے نہیں۔ “ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ : مخالفین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر یہ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) واقعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں تو ہماری طلب کے مطابق معجزے اور نشانیاں کیوں نہیں لاتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ پہلے پیغمبر جتنے معجزے لائے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکم سے لائے ہیں، اب اگر اللہ کا حکم ہوگا تو وہ اپنے اس پیغمبر سے بھی معجزے ظاہر کر دے گا، ورنہ پیغمبر میں از خود یہ ہمت کہاں ہے کہ اپنی مرضی سے جو معجزہ چاہے ظاہر کر دے۔ یہی حال اولیاء کی کرامتوں کا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کرامت دکھلانے پر قادر نہیں ہوتے۔ یہاں آیت سے مراد قرآن کی آیت بھی ہوسکتی ہے جس میں ان کی مرضی کے مطابق کوئی حکم نازل ہوجائے۔ (ابن کثیر) لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ : یعنی ہر وقت کے لیے ایک لکھا ہوا فیصلہ ہے جو اس وقت ہو کر رہے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The common thinking of disbelievers and polytheists about a prophet and messenger was that he should be from a species other than human, such as a creation like angels so that their supremacy over the general run of human beings becomes clearly pronounced. The Holy Qur’ an has refuted this false idea of theirs in many verses by saying that they had simply failed to realize the reality and wisdom behind the sending of prophets and messengers, therefore, they went about pursuing such id¬eas. The reason is that a messenger is sent by Allah Ta’ ala as a model in order that communities of human beings follow them and learn deeds and morals similar to theirs. And it is obvious that whoever is human can only follow a fellow human being. For him to follow someone who does not belong to his species is impossible. For example, take an angel. He has no hunger or thirst or desires, neither does he sleep or get tired. Now, if human beings were commanded to follow them as a model, they would have more trouble on their hands than they could handle in terms of their capability. The same objection of the polytheists showed up here, specially so, because of the marriages of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . An answer to this was given in initial sentences of the first verse (38) by asking them: How can you consider a person who marries once, or more than once, and has a family and children, as not being fit or being contrary to the station of prophethood or messenger ship? What proof do you have for such an assertion? In fact, it has always been the blessed practice of Allah Ta’ ala that He makes His prophets masters of a household. Proph¬ets who have passed earlier - and you too believe in the prophethood of some of them - had wives, and children. The idea that this way of life is something contrary to being a prophet or messenger of Allah, or against the norms of piety or sainthood, is plain ignorance. As it appears in the Sahih of Al-Bukhari and Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I too keep fast and I too break it (that is, it is not that I always keep fasting). And he said: I too sleep during nights and rise up too for prayers (that is, it is not that I do nothing but keep praying all night); and I eat meat too, and I marry too. Whoever finds this practice of mine objectionable, he is not a Muslim: وَمَا كَانَ لِرَ‌سُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ (And it is not for a messenger to bring a sign without the will of Allah - 38). Out of the hostile questions the disbelievers and polytheists have al-ways been asking the blessed prophets - and were asked of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) too by the polytheists of his time - two are fairly common. The first question envisaged that the injunctions revealed in the Book of Allah should be in accordance with their wishes. For instance, this request of theirs appears in Surah menus [ 10:15]: ائْتِ بِقُرْ‌آنٍ غَيْرِ‌ هَـٰذَا أَوْ بَدِّلْ that is, &bring to us a Qur’ an other than this (which does not prohibit the wor¬ship of our idols), or change it (that is, you yourself change the injunc¬tions brought by it, replacing &punishment& with &mercy& and &unlawful& with &lawful& ). Now take their second demand. Despite having seen open miracles of the blessed prophets, may peace be upon them, they still insisted that ever new miracles be shown to them. If you show us this or that miracle, then&, they would say, &we may consider becoming Muslims.& The word: آیَہ (ayah) used in this sentence of the Qur’ an (which lexically means &signs& ) could be taken in both the two senses it has - because, in the terminology of the Qur&an, the verses of the Qur&an are also called Ayat, and the same word means a miracle. Therefore, in their explanation of this &verse&, some commentators have, by taking this word in the sense of the verse of the Qur’ an, explained it by saying that no prophet has the au-thority or choice to introduce a verse on his own in his Book. And some others, by taking this word: آیَۃ &Ayah in the sense of a miracle, have held that it means that Allah has not given any messenger or prophet the au¬thority or choice to show a miracle, when he chooses or as he chooses it to be. It is said in Tafsir Ruh al-Ma’ ani that, based on the rule of ` umum al-majaz, both meanings could be taken, and both explanations could be correct. Given this analysis, the gist of the sense carried by the verse is that &demanding Our prophet to change the verses of the Qur&an is misplaced and wrong. We have not given such a right to any messenger.& Similar is the case with the demand that he shows to them a particular miracle as identified by them. This too is a proof of their being ignorant of the real¬ity of prophethood, because it is not within the control of a prophet or messenger that he could go ahead on his own and show a miracle as they demand according to their whim. In the last sentence of verse 38, it was said: لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ (For every time there is something prescribed). The word: أَجَلٍ (&ajal) is used in the sense of a time-frame for everything, and: كِتَابٌ (kitab) here carries the sense of a verbal noun, that is, written or prescribed. The statement means that the time and quantum of everything stands prescribed with Allah Ta&ala. He has prescribed in eternity that such and such person shall be born at such and such time, and shall live for so many days, what places he shall go to, what shall be his life work, and when and where he shall die. Similarly, it is also prescribed that during such and such time what revelations and injunctions will be sent to such and such prophet, because the very process of the coming of injunctions as appropriate to every time and every people is required by reason and justice. And also prescribed is that such and such miracle shall manifest itself at the hands of such and such prophet at such and such time. Therefore, asking the Holy Prophet to insert particular kinds of in-junctions into the Qur&an as proposed by them, or asking him to show a particular miracle on request is a hostile and wrongful demand, which is based on an absence of awareness of the reality of messenger ship and prophethood.

خلاصہ تفسیر : اور (اہل کتاب میں سے بعضوں کا جو نبوت پر یہ طعن ہے کہ ان کے پاس متعدد بیبیاں ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ) ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور بچے بھی دیئے (یہ کونسا امر منافی رسالت ہے ایسا ہی مضمون دوسری آیت میں ہے اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰي مَآ اٰتٰىھُمُ الخ) اور (چونکہ اختلاف شرائع کا شبہ دیگر شبہات سے زیادہ مشہور اور اوپر محض اجمال کے ساتھ مذکور تھا اس لئے اس کو آگے مکرر و مفصل ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی پر اختلاف شرائع کا شبہ کرتا ہے وہ در پردہ نبی کو مالک احکام سمجھتا ہے حالانکہ) کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ امر نہیں کہ ایک آیت (یعنی ایک حکم) بدون خدا کے حکم کے (اپنی طرف سے) لا سکے (بلکہ احکام کو مقرر ہونا اذن واختیار خداوندی پر موقوف ہے اور خدا تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے اعتبار سے یہ معمول مقرر ہے کہ) ہر زمانے کے مناسب خاص خاص احکام ہوتے ہیں (پھر دوسرے زمانے میں بعض امور میں دوسرے احکام آتے ہیں اور پہلے احکام موقوف ہوجاتے ہیں اور بعض بحالہ باقی رہتے ہیں پس) خدا تعالیٰ (ہی) جس حکم کو چاہیں موقوف کردیتے ہیں اور جس حکم کو چاہیں قائم رکھتے ہیں اور اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ) انہی کے پاس (رہتی) ہے (اور یہ سب احکام ناسخ و منسوخ و مستمر اس میں درج ہیں وہ سب کی جامع اور گویا میزان الکل ہے یعنی جہاں سے یہ احکام آتے ہیں وہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے پس احکام سابقہ کے موافق یا مغائر احکام لانے کی کسی کو گنجائش اور دسترس ہی نہیں ہو سکتی) اور (یہ لوگ جو اس بنا پر انکار نبوت کرتے ہیں کہ اگر آپ نبی ہیں تو انکار نبوت پر جس عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ عذاب کیوں نہیں نازل ہوتا اس کے متعلق سن لیجئے کہ) جس بات کا (یعنی عذاب کا) ہم ان سے (انکار نبوت پر) وعدہ کر رہے ہیں اس میں کا بعض واقعہ اگر ہم آپ کو دکھلا دیں (یعنی آپ کی حیات میں کوئی عذاب ان پر نازل ہوجاوے) خواہ (قبل نزول اس عذاب کے) ہم آپ کو وفات دیدیں (پھر بعد میں وہ عذاب واقع ہو خواہ دنیا میں یا آخرت میں دنوں حالتوں میں آپ فکر و اہتمام نہ کریں کیونکہ) بس آپ کے ذمہ تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور دارو گیر کرنا تو ہمارا کام ہے (آپ اس فکر میں کیوں پڑیں کہ اگر واقع ہوجائے تو بہتر ہے شاید ایمان لے آویں اور ان لوگوں پر بھی تعجب ہے کہ وقوع عذاب علی الکفر کا کیسے یک لخت انکار کر رہے ہیں) کیا (مقدمات عذاب میں سے) اس امر کو نہیں دیکھ رہے کہ ہم (فتح اسلام کے ذریعہ سے انکی) زمین کو ہر چہار طرف سے برابر کم کرتے چلے آتے ہیں (یعنی ان کی عملداری بسبب کثرت فتوحات اسلامیہ کے روز بروز گھٹتی جا رہی ہے سو یہ بھی تو ایک قسم کا عذاب ہے جو مقدمہ ہے اصلی عذاب کا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے (آیت) وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ ) اور اللہ (جو چاہتا ہے) حکم کرتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں (پس عذاب ادنیٰ خواہ عذاب اکبر جو بھی ہو اس کو کوئی ان کے شرکاء یا غیر شرکاء میں سے رد نہیں کرسکتا) اور (اگر ان کو چندے مہلت بھی ہوگئی تو کیا ہے) وہ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے (وقت کی دیر ہے پھر فورا ہی سزائے موعود شروع ہوجاوے گا) اور (یہ لوگ جو ایذاء رسول یا تنقیص اسلام میں طرح طرح کی تدبیریں کرتے ہیں تو ان سے کچھ نہیں ہوتا چنانچہ) ان سے پہلے جو (کافر) لوگ ہوچکے ہیں انہوں نے (بھی ان ہی اغراض کے لئے بڑی بڑی) تدبیریں کیں سو (کچھ بھی نہ ہوا کیونکہ) اصل تدبیر تو خدا ہی کی ہے (اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی سو اللہ نے ان کو وہ تدبیریں نہ چلنے دیں اور) اس کو سب خبر رہتی ہے جو شخص جو کچھ بھی کرتا ہے (پھر اس کو وقت پر سزا دیتا ہے) اور (اسی طرح) ان کفار (کے اعمال کی بھی سب اس کو خبر ہے سو ان) کو (بھی) ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم میں نیک انجامی کس کے حصہ میں ہے (آیا ان کے یا مسلمانوں کے یعنی عنقریب ان کو اپنی بدانجامی اور سزائے اعمال معلوم ہوجائے گی) اور یہ کافر لوگ (ان سزاؤں کو بھولے ہوئے) یوں کہہ رہے ہیں کہ (نعوذ باللہ) آپ پیغمبر نہیں آپ فرما دیجئے کہ (تمہارے انکار بےمعنی سے کیا ہوتا ہے) میرے اور تمہارے درمیان (میری نبوت پر) اللہ تعالیٰ اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے (جس میں میری نبوت کی تصدیق ہے) کافی گواہ ہیں (مراد اس سے علماء اہل کتاب جو منصف تھے اور نبوت کی پیشینگوئی دیکھ کر ایمان لے آئے تھے مطلب یہ ہوا کہ میری نبوت کی دو دلیلیں ہیں عقلی اور نقلی، عقلی تو یہ کہ حق تعالیٰ نے مجھ کو معجزات عطا فرمائے جو دلیل نبوت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے گواہ ہونے کے یہی معنی ہیں اور نقلی یہ ہے کہ کتب سماویہ سابقہ میں اس کی خبر موجود ہے اگر یقین نہ آئے تو منصف علماء سے پوچھ لو وہ ظاہر کردیں گے پس دلائل نقلیہ وعقلیہ کے ہوتے ہوئے نبوت کا انکار کرنا بجز شقاوت کے اور کیا ہے کسی عاقل کو اس سے شبہ نہ ہونا چاہئے) معارف و مسائل : کفار و مشرکین کا رسول و نبی کے متعلق ایک عام تخیل یہ تھا کہ وہ جنس بشر اور انسان کے علاوہ کوئی مخلوق مثل فرشتوں کے ہونی چاہئے جس کی وجہ سے عام انسانوں سے ان کی برتری واضح ہوجائے قرآن کریم نے ان کے اس خیال فاسد کا جواب متعدد آیات میں دیا ہے کہ تم نے نبوت و رسالت کی حقیقت اور حکمت کو ہی نہیں پہچانا اس لئے ایسے تخیلات کے درپے ہوئے کیونکہ رسول کو حق تعالیٰ ایک نمونہ بنا کر بھیجتے ہیں کہ امت کے سارے انسان ان کی پیروی کریں انہی جیسے اعمال و اخلاق سیکھیں اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی انسان اپنے ہم جنس انسان ہی کی پیروی کریں اور اتباع کرسکتا ہے جو اس کی جنس کا نہ ہو اس کی پیروی انسان سے ناممکن ہے مثلا فرشتہ کو نہ بھوک لگے نہ پیاس نہ نفسانی خواہشات سے اس کو کوئی واسطہ نہ اس کو نیند آوے نہ تھکان ہو اب اگر انسانوں کو ان کے اتباع اور پیروی کا حکم دیا جاتا تو ان کے لئے ان کی قدرت سے زائد تکلیف ہوجاتی اس جگہ بھی مشرکین کا یہی اعتراض پیش ہوا خصوصا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعدد ازدواج سے ان کا یہ شبہ اور بڑھا اس کا جواب پہلی آیت کے ابتدائی جملوں میں یہ دیا گیا کہ ایک یا ایک سے زیادہ نکاح کرنے اور بیوی بچوں والا ہونے کو تم نے کس دلیل سے نبوت و رسالت کے خلاف سمجھ لیا، اللہ تعالیٰ کی تو آفرینش سے یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے پیغمبروں کو صاحب اہل و عیال بناتے ہیں جتنے انبیاء (علیہم السلام) پہلے گذرے ہیں اور ان میں سے بعض کی نبوت کے تم بھی قائل ہو وہ سب متعدد بیویاں رکھتے تھے اور صاحب اولاد تھے اس کو نبوت و رسالت یا بزرگی اور ولایت کے خلاف سمجھنا نادانی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں (یعنی ایسا نہیں کہ ہمیشہ روزے ہی رکھا کروں) اور فرمایا کہ میں رات میں سوتا بھی ہوں اور نماز کے لئے کھڑا بھی ہوتا ہوں (یعنی ایسا نہیں کہ ساری رات عبادت ہی کروں) اور گوشت بھی کھاتا ہوں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جو شخص میری اس سنت کو قابل اعتراض سمجھے وہ مسلمان نہیں وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ یعنی کسی رسول کو اختیار نہیں کہ وہ ایک آیت بھی بغیر حکم خدا تعالیٰ کے خود لا سکے۔ کفار و مشرکین جو معاندانہ سوالات ہمیشہ انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے پیش کرتے آئے ہیں اور آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بھی اس زمانہ کے مشرکین نے پیش کئے ان میں دو سوال بہت عام ہیں ایک یہ کہ اللہ کی کتاب میں ہماری خواہش کے مطابق احکام نازل ہوا کریں جیسے سورة یونس میں ان کی یہ درخواست مذکور ہے کہ ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْه یعنی یا تو آپ اس موجودہ قرآن کے بجائے بالکل ہی کوئی دوسرا قرآن لائیے جس میں ہمارے بتوں کی عبادت کو منع نہ کیا گیا ہو یا پھر آپ خود ہی اس کے لائے ہوئے احکام کو بدل دیجئے عذاب کی جگہ رحمت اور حرام کی جگہ حلال کر دیجئے۔ دوسرا سوال : انبیاء (علیہم السلام) کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرنا کہ فلاں قسم کا معجزہ دکھلائیے تو ہم مسلمان ہوں قرآن کریم کے اس جملہ میں لفظ آیۃ سے دونوں چیزیں مراد ہو سکتی ہیں کیونکہ اصطلاح قرآن میں قرآنی آیات کو بھی آیت کہا جاتا ہے اور معجزہ کو بھی اسی لئے اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین میں سے بعض نے آیت قرآنی مراد لے کر یہ مطلب بیان کیا کہ کسی پیغمبر کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ اپنی طرف سے اپنی کتاب میں کوئی آیت بنا لے اور بعض نے اس آیت سے مراد معجزہ لے کر یہ معنی قرار دیئے کہ کسی رسول و نبی کو اللہ نے یہ اختیار نہیں دیا کہ جس وقت چاہے اور جس طرح کا چاہے معجزہ ظاہر کردے تفسیر روح المعانی میں فرمایا کہ عموم مجاز کے قاعدہ پر اس جگہ یہ دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں اور دونوں تفسیریں صحیح ہو سکتی ہیں اس لحاظ سے خلاصہ مضمون اس آیت کا یہ ہوا کہ ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآنی آیات کے بدلنے کا مطالبہ بےجا اور غلط ہے ہم نے ایسا اختیار کسی رسول کو نہیں دیا اسی طرح یہ مطالبہ کہ فلاں خاص قسم کا معجزہ دکھلائیے یہ بھی حقیقت نبوت سے ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ کسی نبی و رسول کے اختیار میں یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کی خواہش کے مطابق جو وہ چاہیں معجزہ ظاہر کردیں۔ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ اجل کے معنی مدت معینہ اور میعاد کے آتے ہیں اور کتاب اس جگہ بمعنی مصدر ہے یعنی تحریر معنی یہ ہیں کہ ہر چیز کی میعاد اور مقدار اللہ تعالیٰ کے پاس لکھی ہوئی ہے اس نے ازل میں لکھ دیا ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت پیدا ہوگا اور اتنے دن زندہ رہے گا کہاں کہاں جائے گا کیا کیا کام کرے گا کس وقت اور کہاں مرے گا۔ اسی طرح یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فلاں زمانے میں فلاں پیغمبر پر کیا وحی اور احکام نازل ہوں گے کیونکہ احکام کا ہر زمانے اور ہر قوم کے مناسب حال آتے رہنا ہی مقتضائے عقل و انصاف ہے اور یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فلاں پیغمبر سے فلاں وقت کس کس معجزہ کا ظہور ہوگا۔ اس لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مطالبہ کہ فلاں قسم کے احکام قرآن میں تاویل کرائیں یا یہ مطالبہ کہ فلاں خاص معجزہ دکھلائیں ایک معاندانہ اور غلط مطالبہ ہے جو رسالت و نبوت کی حقیقت سے بیخبر ہونے پر مبنی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ۭ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ 38؁ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ كتب قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، وقوله : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتابِ اللَّهِ [ التوبة/ 36] أي : في حكمه . ويعبّر عن الإيجاد بالکتابة، وعن الإزالة والإفناء بالمحو . قال : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] نبّه أنّ لكلّ وقت إيجادا، وهو يوجد ما تقتضي الحکمة إيجاده، ويزيل ما تقتضي الحکمة إزالته، ودلّ قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] علی نحو ما دلّ عليه قوله : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وقوله : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ اور نحو سے کسی چیز کا زائل اور فناکر نامراد ہوتا ہے چناچہ آیت : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] میں تنبیہ ہے کہ کائنات میں ہر لمحہ ایجاد ہوتی رہتی ہے اور ذات باری تعالیٰ مقتضائے حکمت کے مطابق اشیاء کو وجود میں لاتی اور فنا کرتی رہتی ہے ۔ لہذا اس آیت کا وہی مفہوم ہے ۔ جو کہ آیت كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے اور آیت : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] میں اور اس کے پاس اصل کتاب ہے کا ہے اور آیت : وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتاباً مُؤَجَّلًا[ آل عمران/ 145] اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے ( اس نے موت کا ) وقت مقرر کرکے لکھ رکھا ہے ۔ میں کتابا موجلا سے حکم الہی مراد ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨) اور جیسا کہ ہم نے آپ کو رسول بناکربھیجا اسی طرح اور بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں بھی دیں جیسا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور آپ کی اولاد سے زیادہ سے زیادہ اولاد بھی دی جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ آیت مبارکہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی ہوتے تو نبوت انکو شادیاں کرنے میں مشغول نہ کرتی (تو اس کا جواب دیا کہ شادی کرنا نبوت کے خلاف نہیں بلکہ عین موافق ہے، ترجم) کسی پیغمبر کے اختیار میں میں کہ ایک دلیل بھی خدا کے حکم کے بغیر لاسکے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ) آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب عام انسانوں کی طرح پیدا ہوئے (سوائے حضرت عیسیٰ کے) پھر انہوں نے نکاح بھی کیے اور ان کی اولادیں بھی ہوئیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

56. This is the answer to another objection. The disbelievers said that he could not be a Prophet of Allah because he has wives and children, for they argued that Prophets had nothing to do with carnal desires. 57. This is the answer to yet another objection: Had he been a true Prophet, he would have shown a sign like the shining hand and the miraculous staff of Prophet Moses or he would have restored sight to the blind or cured lepers like Prophet Jesus, or brought a sign like the she camel of Prophet Salih. (peace be upon them all). The answer is this: None of the former Messengers had any power to show any sign nor has this Prophet (peace be upon him). Allah showed a sign whenever and through whomsoever He considered it to be necessary and will show any sign whenever He will consider it necessary and that I have not claimed to possess any such power that such a demand might be made from me.

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :56 یہ ایک اور اعتراض کا جواب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا جاتا تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ یہ اچھا نبی ہے جو بیوی اور بچے رکھتا ہے ۔ بھلا پیغمبروں کو بھی خواہشات نفسانی سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے ۔ سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :57 یہ بھی ایک اعتراض کا جواب ہے ۔ مخالفین کہتے تھے کہ موسی علیہ السلام ید بیضا اور عصا لائے تھے ۔ مسیح اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے تھے ۔ صالح علیہ السلام نے اونٹنی کا نشان دکھایا تھا ۔ تم کیا نشانی لے کر آئے ہو؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ جس نبی نے جو چیز بھی دکھائی ہے اپنے اختیار اور اپنی طاقت سے نہیں دکھائی ہے ۔ اللہ نے جس وقت جس کے ذریعے سے جو کچھ ظاہر کرنا مناسب سمجھا وہ ظہور میں آیا ۔ اب اگر اللہ کی مصلحت ہوگی تو جو کچھ وہ چاہے گا دکھائے گا ۔ پیغمبر خود کسی خدائی اختیار کا مدعی نہیں ہے کہ تم اس سے نشانی دکھانے کا مطالبہ کرتے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: اس آیت میں ایک تو کفار کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ کی بیوی بچے کیوں ہیں؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ بیوی بچے ایک دو انبیاء کرام کو چھوڑ کر تقریباً سارے انبیاء کو بھی عطا فرمائے گئے ہیں ؛ کیونکہ نبوت کا ان سے کوئی تعارض نہیں ہے، بلکہ انبیاء کرام اپنے عمل سے واضح کرتے ہیں کہ ان کے حقوق کیسے ادا کئے جاتے ہیں اور ان کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے، دوسرے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ مختلف انبیاء کرام کی شریعتوں میں جزوی فرق ہوتا رہا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨۔ مشرکین مکہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بابت یہ کہا کرتے تھے کہ یہ کیسے رسول ہیں جن کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ہیں اور یہ بھی کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کی طرف سے رسول ہوتے تو جو معجزہ ہم ان سے طلب کرتے ہیں وہ فوراً کردکھاتے انہیں دونوں باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا کہ جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب کے سب بشر تھے کوئی فرشتہ نہ تھا انہیں کی طرح یہ رسول بھی بشر ہیں کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں چلتے پھرتے بھی ہیں بیویاں بچے بھی ان کے ہیں جیسے پہلے رسولوں کے تھے چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو کنیزیں تھیں اسی طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں پھر ان کے بھی اگر بیویاں اور بچے ہیں تو کیا نقصان ہے کچھ یہ رسالت کے خلاف نہیں ہے۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں سعد بن ہشام (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) کے پاس جا کر کہا کہ میرا ارادہ یہ ہے کہ میں نکاح نہ کروں فرمایا تو ایسا نہ کر کیا تو نے خدا کا یہ کلام نہیں سنا ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ (رض) نے یہی آیت پڑھی ١ ؎ معتبر سند سے دوسری حدیث ترمذی ابن ماجہ اور طبرانی وغیرہ نے سمرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مجرد رہنے سے ٢ ؎ منع فرمایا ہے اور اکثر حدیثوں میں نکاح کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور مجرد رہنے سے منع کیا گیا ہے مسند امام احمد اور ترمذی میں معتبر سند سے ابو ایوب (رض) سے ایک حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ نکاح سب پیغمبروں کی سنت ٣ ؎ ہے۔ صحیحین میں حضرت انس (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں سوتا بھی ہوں اور اٹھ کر نماز بھی پڑھتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ میری سنت کا پابند نہیں ٤ ؎ ہے۔ پھر اللہ جل شانہ نے مشرکین مکہ کی دوسری بات کا یہ جواب دیا کہ رسول کے بس کا یہ کام نہیں ہے کہ تمہاری ہر فرمائش کے مطابق معجزہ دکھاوے یہ تو خدا ہی کا کام ہے۔ جب وہ چاہتا ہے کوئی معجزہ ظاہر کرتا ہے جب نہیں چاہتا نہیں ظاہر کرتا رسول کچھ خود مختار نہیں ہیں کہ جو چاہیں کر گزریں جتنے رسول ہوئے ہیں سب خدا کے حکم کے تابع رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے جب جیسا مناسب سمجھا معجزہ ظاہرہ کرایا تمہارے ایمان لانے کو تو ایک شق القمر کا معجزہ بھی کافی تھا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی فرمانبرداری اور جنت میں جانے کے کام کریں گے اور کتنے آدمی نافرمانی اور دوزخ میں جانے کے کام کریں گے۔ اور اس کے موافق ہر ایک شخص کا جنت اور دوزخ میں ٹھکانا ٹھہر چکا ہے۔ ٥ ؎ اس حدیث کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جہاں ان نافرمان لوگوں کے اور نافرمانی کے کام لکھے گئے ہیں وہاں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ان نافرمان لوگوں کی معجزہ کی خواہش کچھ راہ راست پر آنے کی نیت سے نہ ہوگی بلکہ مسخرا پن کے طور پر ہوگی اس لئے معجزہ کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت پر منحصر کر رکھا ہے ایسے نافرمان لوگوں کی خواہش پر نہیں رکھا کیونکہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہر چکی ہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں کوئی معجزہ کچھ مفید نہ ہوگا۔ ١ ؎ تفسیر فتح البیان ص ٥٩٨ ج ٢۔ ٢ ؎ جامع ترمذی ص ١٢٨ ج ١ باب ماجاء فی النہی عن القبتل۔ ٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥١٩ ج ٢ والترغیب ص ٣٩ ج ٢۔ ٤ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥١٨ ج ٢۔ ٥ ؎ جلد ہذا ص ٢٣٥٠٢٣٢٠٢٠٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13: 38) یاتی بایۃ۔ لائے کوئی آیت۔ لائے کوئی نشانی ۔ پیش کرے کوئی معجزہ۔ اجل۔ مدرت مقررہ۔ وقت ِ مقررہ۔ کتب۔ ای حکم معین یکتب علی العباد حسبما تقتضیہ الحکمۃ ایک معین جو بہ تقاضائے حکمت بندوں کے لئے لکھا گیا ہو۔ لکل اجل کتب۔ تمام اوقات مقررہ پر جو کچھ ہونا ہے وہ پیشتر ہی تحریر شدہ ہے اور کوئی اس کو آگے پیچھے یا اس کے الٹ نہیں کرسکتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے کہ یہ عجیب پیغمبر ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح عورتوں سے نکاح کرتے ہیں حالانکہ پیغمبر کو ان باتوں سے کیا واسطہ بعض روایات میں ہے کہ یہود نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کثرت ازواج پر اعتراض کیا۔ ّ (لیس ھمہ الا النساء) ۔ اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت عورتوں سے نکاح کے منافی نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل اللہ کے جتنے پیغمبر ہو گزرے ہیں سب بشر ہی تھے اور ان میں اکثریت پیغمبروں کے ہے جو بیوی بچے رکھتے تھے لہٰذا اعتراض سرے سے لغو ہے۔ حدیث میں ہے ؟ نکاح کرنا بھی سنن انبیاء میں سے ہے۔ “ نیز فرمایا کہ جو میری اس سنت سے اعراض برتے لگا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (روح۔ ابن کثیر) ۔ 1 ۔ مخالفین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر یہ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) واقعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں توہ ہماری طلب کے مطابق معجزے اور نشانیاں کیوں نہیں لاتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ پہلے پیغمبر جتنے معجزے لائے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکم سے لائے ہیں۔ اب اگر اللہ کا حکم ہوگا تو وہ اپنے پیغمبر سے بھی معجزے کا صدور کر ادیگا ورنہ پیغمبر ہیں از خود یہ ہمت کہاں ہے کہ اپنی مرضی سے جو معجزہ چاہے ظاہر کردے۔ یہی حال اولیا کی کرامتوں کا ہے۔ کہ وہ اپنی مرضی سے کرامت دکھلانے پر قادر نہیں ہوتے۔ (وحیدی) یہاں آیت سے مراد قرآن کی آیت بھی ہوسکتی ہے جس میں ان کی مرضی کے مطابق کوئی حکم نازل ہوجائے۔ (ابن کثیر) ۔ 2 ۔ اسی طرح ہر زمانہ کے لئے معین احکام ہوتے ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ تقاضائے حکمت کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ اس میں ان کے نسخے اعتراض کا جواب ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٦) اسرارومعارف کفار کا یہ خیال بھی محض باطل ہے کہ نبی اور رسول تو اگر فرشتہ نہ ہو تو فرشتہ کی مانند اس کی کوئی بیوی یا اولاد نہ ہو گھر بار نہ ہو جیسے آجکل کے جہلا کے ولایت کے بارے میں ایسا ہی گمان ہے قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اس کا جواب ارشاد فرمایا جن میں ایک مقام یہ بھی ہے کہ نبی بھی عام انسان کی زندگی گذارتا ہے اور سرد وگرم زمانہ برداشت کرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے ، بیوی بچے گھر بار دوست ، دشمن ، سب معاملات اس کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ قابل اتباع ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی مسائل ہوتے ہیں جن کے باعث وہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہیں کر پاتے مگر نبی کی حیات مبارکہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ ان سب حالات کے ساتھ اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہی بہترین طرز حیات ہے اگر کفار کو آپ کے تعدد ازواج پر اعتراض ہے تو آپ سے پہلے جو نبی گذرے جن میں بعض کو یہ مانتے بھی ہیں وہ سب بھی تو صاحب اولاد بھی تھے اور انکی متعدد بیویاں بھی تھیں ، اور رسالت ونبوت کا کمال بھی یہی ہے کہ عام حالات زندگی سے گذرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت پورے خلوص سے کی جائے نہ یہ کہ جہاں کوئی بات مشکل لگے وہاں اپنی طرف سے دین گھڑ لیا جائے یا کسی عجیب بات کا ظہور ہوجائے یاد رکھو کوئی نبی نہ تو اپنی طرف سے کوئی ایک آیت بناتا ہے نہ کوئی معجزہ دکھاتا ہے بلکہ یہ سب اللہ جل جلالہ کے اپنے دست قدرت میں ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ بھی اچانک نہیں کرتا بلکہ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اس نے امور طے کردیئے ہیں اور ہر کام ہر بات اور اس کا موقع ومحل ، لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا ہے ۔ اگر کوئی حکم تبدیل ہوتا ہے یا آیت منسوخ ہوتی ہے اور نئی نازل ہوتی ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اللہ جل جلالہ کو اچانک علم ہوا اور تبدیلی کردی بلکہ وہ ازل سے جانتا ہے کہ کون سا حکم کب تک کے لیے ہے اور کون سی تبدیلی کب کس طرح کی جائے گی وہ جس بات کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے جس میں مخلوق کے سارے حالات جو گذرے چکے یا گذر رہے ہیں یا آنے والے ہیں درج ہیں اسی طرح کون کب کہاں پیدا ہوگا کون کب ہوگا عمر کیا ہوگی شکل کیا ہوگی کہاں فوت ہوگا یہ سب لوح محفوظ میں درج ہے اور اس میں جو تبدیلی ہوتی ہے کہ بعض نیکیاں عمر یا رزق بڑھا دیتی ہیں یا دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے تو یہ سب بھی اللہ جل جلالہ کے علم میں ہے اور بجائے خود یہ بھی ایک تقدیر ہے کہ پہلے سے لوح محفوظ میں موجود ہے کہ فلاں شخص کی دعا فلاں کے حق میں یہ اثر کرے گی اور یہ سب فیصلے اس کے اپنے دست قدرت میں ہیں لہذا ان سب باتوں کو سمجھنے کے لیے پہلے اس کی قدرت کاملہ پہ ایمان ضرور ہے ورنہ انسان مزید الجھتا چلا جاتا ہے ۔ آپ سے جو وعدہ کیا گیا ہے کہ اسلام کو غلبہ نصیب ہوگا اور مسلمان روئے زمین کی قیادت کریں گے آپ مطمئن رہئے یہ ضرور ہوگا آپ کے دار دنیا میں تشریف رکھتے ہوئے ہو یا آپ دنیا سے پردہ فرما جائیں ، آپ کو اٹھا لیا جائے تو یہ وعدہ پورا مگر ایسا ضرور ہوگا اور اس میں آپ کا کام صرف احکام الہی کو بندوں تک پہنچانا ہے اور بندوں سے حساب لینا یا ان کے اعمال پر دنیا کے حالات کو مرتب کرنا مومنین کو فتح اور کفار کو شکست دینا یہ ہمارا کام ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ کفار کی ریاستوں کا حدود اربعہ تنگ ہوتا جا رہا ہے اور مسلمان آئے دن ان کے علاقوں کو فتح کرتے جا رہے ہیں یہ اللہ ہی کی نصرت اور اسی کے وعدہ کے مطابق ہو رہا ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی بھی اس کے حکم کو روکنے کی جرات نہیں رکھتا اور وہ جب حساب لیتا ہے تو پھر کوئی دیر نہیں ہوتی ۔ (فتح وشکست) تو گویا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کی فتوحات کا اصل سبب اطاعت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھی جس پر اللہ جل جلالہ نے فتح کا وعدہ فرمایا تھا اور آج ہماری خرابی کی جڑ اتباع سنت سے محرومی ہے اگر آج بھی ہم بحیثیت قوم اسے اختیار کرلیں تو روئے زمین کی قیادت وسیادت مسلمان کے ہاتھ آجائے ۔ کفار اپنی سی تجویزیں کرتے ہیں اور ان سے پہلوں نے بھی بہت تدبیریں کیں ، مگر سب تدبیریں بھی تو اللہ جل جلالہ ہی کے دست قدرت میں ہیں اور کوئی سبب موثر بالذات تو ہے نہیں اسباب میں اثر پیدا کرنا تو اس کا اپنا کام ہے اور وہ ہر شخص کے کردار سے واقف ہے لہذا وہ جیسا کسی کا کردار ہے ویسے نتائج مرتب فرماتا ہے گویا ایک تدبیر سے ایک نیک انسان کامیاب ہو سکتا ہے تو دوسرا اگر بدکار ہے تو اسی تدبیر سے ناکام بھی ہو سکتا ہے کہ اسباب کا نتیجہ بھی انسانی کردار کے سائے میں ڈھلتا چلا جاتا ہے لہذا کفار کو بہت جلد پتہ چل جائے گا کہ انجام کار کامیابی کس کے لیے ہے اور آخرت کا بہترین گھر کس کا ٹھکانہ ہے ۔ اگر کافر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کریں تو فرما دیجئے کہ میری رسالت تمہارے اقرار کی محتاج نہیں جس ذات بےمثال نے مجھے رسالت سے سرفراز فرمایا ہے وہی میری رسالت کی صداقت پر گواہ بھی ہے یعنی عقلا بھی میری رسالت کی تصدیق اس کی جانب سے ہو رہی ہے اور اس کی قدرت کاملہ سے حالات میری ہی تصدیق کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ اہل انصاف علما بھی جو پہلی کتابوں کا علم رکھتے ہیں میری رسالت کی تصدیق کرکے مشرف باسلام ہوئے یہ گواہی نقلا بھی ہے کہ پہلی کتابوں میں بھی میری رسالت کی تصدیق موجود ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41 ارسلنا ہم نے بھیجا ازواج (زوج) بیویاں ۔ جوڑے ذریۃ اولادیں اجل مدت یمحوا وہ مٹاتا ہے یثبت وہ باقی رکھتا ہے ام الکتاب کتاب کی ماں۔ (لوح محفوظ) نرینک ہم تجھے دکھا دیں گے نعد ہم وعدہ کرتے ہیں نتوفین ہم وفات دیں گے البلغ پہنچا دینا علینا ہمارے اوپر۔ ہماری ذمہ داری ہے ناتی ہم لا رہے ہیں ننقص ہم کم کر رہے ہیں اطراف کنارے معقب پیچھے ڈالنے والا سریع الحساب جلد حساب لینے والا تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 اصل میں جو لوگ سچائی کا سامنا نہیں کرسکتے وہ یا تو سازشیں کرتے ہیں یا طرح طرح کے اعتراضات کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کفار مکہ کبھی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے اور کبھی یہ کہتے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کا انسان ہے۔ کھاتا بھی ہے پیتا بھی ہے، اس کے بیوی اور بچے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے اس اعتراض کا نہایت سادہ الفاظ میں جواب دیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کفار و مشرکین اور اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں وہ انسان ہی تھے ان کی اپنی انسانی ضروریات تھیں جن کو وہ پورا کرتے تھے ان کے بیوی بچے بھی تھے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ انسان کے ساتھ اس کی زندگی کے تقاضے بھی لگے ہوئے ہی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کے بنی اور رسول اپنی طرف سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے جب تک اللہ نہ چاہے۔ جب اس کا حکم آجاتا ہے تو معجزہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ اگرچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اللہ نے قرآن کریم جیسا معجزہ عطا فرمایا تھا لیکن احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ آپ سے لاتعداد معجزات صادر ہوئے ہیں جس کو ہزاروں لاکھوں صحابہ کرام نے دیکھا اور وہ اس کے گواہ ہیں قرآن کریم معجزات کا انکار نہیں کرتا بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے نبی اور رسول اس کی کتاب اور پیغام سنانے آتے ہیں معجزات دکھانے نہیں۔ لیکن اگر اللہ چاہے تو وہ ان ہی کے ہاتھوں پر معجزات دکھا سکتا ہے اور اس نے دکھائے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہر امت کے لئے اللہ نے کتاب عطا فرمائی ہے جو ان کی رہبری و رہنمائی کرتی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے لوگوں کی ہدایت کے لئے ان کے مزاج اور ضرورت کے تحت اپنا کلام نازل کیا ہے۔ جب وہ دور گذر گیا تو اللہ نے گزشتہ کتابوں کے بعض احکامات کو منسوخ کردیا مٹا دیا لیکن حضرت آدم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اصولی احکامات ایک ہی رہے ہیں جن کی اصل اور بنیاد لوح محفوظ میں درج ہے اور محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان منکرین کی باتوں کا خیال نہ کیجیے ان کے لئے تو اللہ نے فیصلہ کرلیا ہے جو آپ کی دنیاوی زندگی یا اس کے بعد ان پر ظاہر ہو کررہے گا۔ اس سے یہ لوگ بچ نہیں سکتے۔ کیا ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ اللہ ان کے پاؤں سے زمین کھینچ رہا ہے اور ہر ایک دن زمین ان کفار و مشرکین کے لئے تنگ اور چھوٹی ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ اللہ کے فیصلے کی ایک جھلک ہے جس کو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آئندہ بھی دیکھیں گے۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دین اسلام ترک دنیا کی تعلیم نہیں دیتا کہ نبی اور رسول ایسے ہوں کہ نہ وہ کھاتے ہوں نہ پیتے ہوں نہ زندگی کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوں بلکہ وہ بشریت کے اعلیٰ ترین مقام پر ہونے کے باوجود بیوی بچے رکھتے ہیں اور ان کے حقوق کو ادا کرتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ : ” میں روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، رات کو سوتا بھی ہوں اور نماز کے لئے کھڑا بھی ہوتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جو شخص میری اس سنت کو قابل اعتراض سمجھتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔ “ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے اختیار اور حکم سے انبیاء کرام کے ہاتھوں پر معجزات ظاہر کرتا ہے لیکن کوئی نبی اور رسول اپنی طرف سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ اللہ کا اپنا کلام ہے وہ انسانی تقاضوں کے مطابق نازل بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو کسی بھی حکم یا آیت کو منسوخ کردیتا ہے یا اس کو ذہنوں سے مٹا دیتا ہے اصل کتاب لوح محفوظ میں موجود ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ قرآن کریم میں بھی بہت سی وہ آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں نازل فرمائی ہیں اور بعد میں ان آیتوں کو رکھتے ہوئے ان کے احکام کو منسوخ کردیا ہے۔ جس کا کلام ہے اس کو اختیار ہے کہ وہ جس طرح اور جب چاہے اپنا کلام رکھے یا مٹا دے۔ چوتھی بات یہ فرمائی کہ یہ کفار زیادہ جرأت نہ دکھائیں ان کیلئے اللہ کا فیصلہ تیار ہے جو کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں یا آپ کے بعد بہرحال وہ اللہ کا فیصلہ ٹلنے والا نہیں ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اللہ کا پیغام پہنچا دیجیے۔ اس کا حساب لینا ہمارا کام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کفار کے لئے اللہ کا فیصلہ آیا۔ آپ کی زندگی میں بھی اور آپ کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی۔ صحابہ کرام کے ہاتھوں ان کا انجام یہ ہوا کہ زمین ان پر تنگ ہوگئی اور انہوں نے ساری دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا۔ کفار و مشرکین کو ہر جگہ منہ کی کھانی پڑی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثاروں کو ہر جگہ فتح و نصرت حاصل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعنی ایک حکم۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز اور کفار کے ایک اعتراض کا جواب۔ مکہ اور حجاز کے کافر جہالت اور عصبیت کی بناء پر رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ اعتراض بھی کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے ؟ جو ہماری طرح کھانے پینے کا محتاج اور بیوی بچوں والا ہے۔ اس اعتراض کا جواب سورة یونس کی ابتدا میں یوں جواب دیا گیا کہ لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ انہی میں سے ایک شخص پر ہم نے کتاب نازل کی ہے حالانکہ اس میں تعجب کی بات نہیں بلکہ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے خوشی اور آسانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص کو رسول بنایا تاکہ ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے آسانی اور خوشخبری ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری سنانے والا بناکر بھیجا گیا ہے۔ ( یونس : ٣) سورۃ آل عمران آیت : ١٦٤ میں ارشاد ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا ہے کہ انہی میں سے ایک شخصیت کو رسول بنایا ہے۔ سورۃ التوبۃ آیت : ١٢٨ میں فرمایا اے لوگو ! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے جسے تمہاری تکلیف بڑی گراں گزرتی ہے اور تمہارے ایمان لانے کے بارے میں وہ بڑی آرزو رکھتا ہے اور ایمان لانے والوں کے ساتھ نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔ قرآن مجید کا دوسرا جواب : (قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْأَرْضِ مَلَآءِکَۃٌ یَمْشُوْنَ مُطْمَءِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوْلًا) [ بنی اسرائیل : ٩٥] ” اگر زمین میں بسنے والے فرشتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے فرشتہ ہی نبی بنا کر بھیجتا۔ “ تیسرا جواب : (وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ إِلَّآإِنَّہُمْ لَیَأْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْأَسْوَاقِ ) [ الفرقان : ٢٠] ” اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کے سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلا پھرا کرتے تھے یعنی ایک چلتے پھرتے انسان ہی ہوا کرتے تھے۔ “ جہاں تک کفار کے دوسرے اعتراض کے جواب کا معاملہ ہے کہ آپ ان کے لیے کوئی معجزہ نازل کریں اس کا بھی قرآن مجید نے بارہا دفعہ تفصیلی جواب دیا ہے۔ یہاں صرف اتنا ارشاد فرمایا کیونکہ پیغمبر ایک انسان ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نبی کے بس کی بات نہیں کہ وہ جب چاہے اور جس طرح کا چاہے لوگوں کے سامنے معجزہ پیش کرسکے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کرنے والوں کو یہ خبر ہونی چاہیے کہ ہر دور کے لیے ایک کتاب ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے بر قرار رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ام الکتاب ہے۔ جو لوح محفوظ ہے۔ اس میں ہر چیز پوری تفصیل کے ساتھ اس کے پاس لکھی ہوئی ہے۔ کچھ باتوں کو مٹانے اور کچھ کو برقرار رکھنے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ١۔ کراماً کا تبین ہر انسان کے ہر قول وفعل کو لکھتے جارہے ہیں یہاں تک کہ کوئی انسان دل ہی دل میں کسی بات پر خوش ہوتا ہے تو اس کے چہرے پر عیاں ہونے والے خوشی کے اثرات کو بھی کراماً کا تبین ضبط تحریر میں لے آتے ہیں۔ گویا کہ انسان جو بھی اچھے برے، چھوٹے موٹے کام کرتا ہے کراما کا تبین اس کا مسلسل اندراج کر رہے ہوتے ہیں۔ جو جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ جس کے چاہتا ہے گناہ معاف کردیتا ہے اور کچھ گناہ ایسے ہیں جو بر قرارر کھے جاتے ہیں حتی کہ جن کا کرنے والا اپنے رب کے حضور توبہ کرلے۔ تاہم سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔ ٢۔ دوسرا مفہوم اہل علم نے یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا پورا پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے احکام یعنی اپنی طرف سے نازل کردہ کتاب سے جس حکم کو چاہے ختم کردے اور جسے چاہے باقی رہنے دے۔ پیغمبر کو اس میں کسی قسم کے ردّو بدل کا ذرہ برابر اختیار نہیں۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیں فہم القرآن جلد اول صفحہ : ١٨٣) (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ أَعْمَالَ بَنِیْٓ آدَمَ تُعْرَضُ کُلَّ خَمِیْسٍ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ فَلاَ یُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ ) [ رواہ أحمد وہوحدیث حسن ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا یقیناً انسان کے اعمال جمعرات کو یعنی جمعہ کی شام کو پیش کیے جاتے ہیں۔ پس رشتہ داری توڑنے والے کے اعمال قبول نہیں کیے جاتے۔ “ مسائل ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بھی رسول مبعوث کیے گئے۔ ٢۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) رشتے، ناطے رکھتے تھے۔ ٣۔ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی رسول معجزہ نہیں دکھا سکتا تھا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو چاہے مٹا دے اور جس کو چاہے برقرار رکھے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے پاس سب کچھ لکھا ہوا اور محفوظ ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس محفوظ کتاب ہے۔ (الرعد : ٣٩) ٢۔ اور ہم قیامت کے دن لکھا ہوا اعمالنامہ انسان کے سامنے کردیں گے اور ہر کوئی اسے کھلا ہوا دیکھ لے گا۔ (بنی اسرائیل : ١٣) ٣۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اللہ اس کو جانتا ہے۔ تمام چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔ (الحج : ٧٠) ٤۔ تمہیں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ لکھی ہوئی ہے۔ (الحدید : ٢٢) ٥۔ یہ ہمارا لکھا ہوا ہے جو ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے تم جو کچھ بھی کرتے تھے ہم لکھوائے جاتے تھے۔ (الجاثیۃ : ٢٩) ٦۔ وہ کہیں گے ہائے افسوس یہ اعمال نامہ کیسا ہے جس میں ہر چھوٹی بڑی بات موجود ہے۔ (الکہف : ٤٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو رسول بھیجے گئے وہ اصحاب ازواج و اولاد تھے ‘ کوئی رسول اس پر قادر نہیں کہ خود سے کوئی معجزہ ظاہر کر دے : روح المعانی (ص ١٦٨ ج ١٣) میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کیا کہ ان کی تو بہت سی بیویاں ہیں جو شخص نبی ہو ‘ اسے نبوت کے کاموں سے اتنی فرصت کہاں کہ بہت ساری بیویاں رکھے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ نے جواب میں ان سے تو خطاب نہیں فرمایا لیکن اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے رسول بھیجے ہیں اور ان کو ہم نے بہت سی بیویاں دی تھیں اور بیویاں ہی نہیں ان کے اولاد بھی تھی بیویوں کا زیادہ ہونا اور صاحب اولاد ہونا یہ چیز نہ نبوت کے خلاف ہے نہ کار ہائے نبوت سے معارض ہے ‘ یہودیوں کو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے بارے میں علم تھا کہ ان کی بہت سی بیویاں تھیں اور وہ ان کے بارے میں نبی ہونے کا بھی عقیدہ رکھتے تھے پھر بھی انہوں نے بطور عناد اعتراض کیا اور کثرت ازواج کو مرتبہ نبوت کے خلاف کہا اس سے انہیں مشرکین کو بھی دین اسلام سے روکنا مقصود تھا اور خود اپنے لئے کفر پر جمے رہنے کا بھی ایک بہانہ تلاش کرلیا ‘ قرآن مجید نے اس انداز سے ان کا جواب دے دیا کہ آئندہ جو بھی کوئی شخص ایسا جاہلانہ اعتراض کرے اپنے اعتراض کا مسکت جواب پالے ‘ بات یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ کا کام قول سے بھی تعلیم دینا تھا اور عمل سے بھی ‘ اس لیے تو انسانوں کی طرف انسانوں کو نبی بنا کر بھیجا گیا ‘ نکاح کرنا انسانوں کی ضرورت کی چیز ہے جب نکاح ہوگا تو اولاد بھی ہوگی بیویوں کے ساتھ کس طرح گزارہ کیا جائے اور اولاد کی کس طرح تربیت کی جائے یہ سب باتیں بھی تو قولاً اور فعلاً بتانے اور سمجھانے کی ہیں ‘ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اگر مجرد یعنی غیر شادی شدہ ہوتے تو ان کی امتیں ازواجی زندگی کے طریقے کس طرح سیکھتیں پھر سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو آخری رسول ہیں سارے انسانوں کے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں آپ کی تعلیمات انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہیں خانگی حالات جاننے کی امت مسلمہ کو ضرورت تھی ان احوال کو حضرات ازواج مطہرات (رض) نے بیان کیا ‘ کثیر تعداد میں ان کی روایات کتب حدیث میں موجود ہیں ‘ اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دلائل اور معجزات سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رسول ہونا معلوم ہوگیا تو اس پر اعتراض ختم ہے کیونکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہیں کرسکتے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی ہو۔ (وَ مَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ ) (اور کسی رسول کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ کوئی آیت لے آئے الا یہ کہ اللہ کا حکم ہو) اس میں لفظ ” آیت “ کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے معجزہ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ طرح طرح کے معجزات کی جو معاندین فرمائشیں کرتے ہیں ان معجزات کا لانا نبی کی قدرت اور دسترس میں نہیں ہے ہاں اللہ تعالیٰ کا اذن ہو تو معجزہ ظاہر ہوسکتا ہے معجزہ کی تخلیق اور اعجاز اسی کے قبضہ میں ہے۔ اگر کسی نبی سے لوگوں نے فرمائشی معجزہ طلب کیا اور وہ پیش نہ کرسکا تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ اللہ کا نبی نہیں ‘ جو دلائل پیش کئے جا چکے ہیں اور جو معجزات ظاہر ہوچکے ہیں ان کے ہوتے ہوئے فرمائشی معجزات طلب کرنا محض ضد اور عناد تھا اور اللہ کے نبی کی تصدیق نہ کرنا یہ کفر ہے ‘ کوئی نبی بےدلیل اور بےمعجزہ نہیں گزرا اور فرمائشی معجزہ ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ اس کے پابند نہیں ہیں۔ بعض حضرات نے لفظ ” آیۃ “ سے احکام مراد لیے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہ جو کہتے ہو کہ احکام میں نسخ کیوں ہوا پہلی امتوں کے جو احکام تھے وہ پورے کے پورے اس امت کے لیے کیوں باقی نہ رکھے گئے یا اس امت کے لیے جو احکام جاری کئے گئے تھے ان کو بعد میں منسوخ کیا گیا اور ان کی جگہ دوسرا حکم کیوں آیا یہ جاہلانہ اعتراض ہے ‘ اللہ کا کوئی نبی اپنے پاس سے کوئی حکم نہیں لاسکتا اپنی حکمت کے موافق اللہ تعالیٰ احکام جاری فرما دیتا ہے پھر منسوخ فرما دیتا ہے نبی کو کوئی اختیار نہیں کہ اپنے پاس سے بدل دے یا منسوخ کر دے ‘ مخالفین جو یہ چاہتے ہیں کہ نبی ہماری مرضی کے مطابق حکم لائے یہ سفاہت اور ضلالت ہے ‘ سورة یونس میں فرمایا (قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہٗ مِنْ تِلْقَآءِ نَفْسِیْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ) ۔ (لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ) (ہر زمانہ کے لئے لکھے ہوئے احکام ہیں) یعنی گزشتہ امتوں کو جو احکام دئیے گئے وہ بھی حکمت کے مطابق تھے اور ان کے احوال کے مناسب تھے اور اب جو اس امت کو احکام دئیے جا رہے ہیں وہ بھی حکمت کے مطابق ہیں اور ان کے حالات کے مناسب ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38 ۔ اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان ہم نے ان کو بیویاں بھی دی تھیں اور اولاد بھی اور کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا اور کسی رسول کے اختیار میں یہ بات نہ تھی کہ وہ حکم الٰہی کے بغیر کوئی آیت کوئی حکم یا کوئی نشان اور معجزہ پیش کرسکے ہر وقت کے مناسب ایک حکم لکھا ہوا ہے اور ہر ایک وعدہ لکھا ہوا ہے ۔ یعنی جب ہر نبی دنیوی زندگی کے لئے ایک نمونہ بنا کر بھیجا جاتا ہے پھر وہ بشر بھی ہوتا ہے تو اس کو بیوی کی اجازت بھی ہوتی ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اور کسی رسول کو اختیار نہیں ہوتا کہ وہ بغیر اذن الٰہی کے کوئی فرمائشی معجزہ دکھائے یا کوئی آیت اور حکم لے آئے یا کسی حکم کو منسوخ کر دے جس حکم کے لئے جو وقت مناسب ہے اسی وقت وہ حکم اور شریعت جا ری ہوتا ہے اور نشانی کا جو وقت لکھا ہے اسی وقت وہ نشانی ظاہر ہوتی ہے ۔