Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 42

سورة الرعد

وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾

And those before them had plotted, but to Allah belongs the plan entirely. He knows what every soul earns, and the disbelievers will know for whom is the final home.

ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنی مکاری میں کمی نہ کی تھی ، لیکن تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں ، جو شخص جو کچھ کر رہا ہے اللہ کے علم میں ہے کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ ( اس ) جہان کی جزا کس کے لئے ہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelievers plot, but the Believers gain the Good End Allah says, وَقَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ... And verily, those before them did devise plots, against their Messengers, they wanted to expel them from their land, but Allah devised plots against the disbelievers and gave the good end to those who fear Him. Allah said in other Ayat, وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ And (remember) when the disbelievers plotted against you to imprison you, or to kill you, or to get you out; they were plotting and Allah too was plotting; and Allah is the Best of those who plot. (8:30) and, وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not. Then see how was the end of their plot! Verily, We destroyed them and their nation, all together. (27:50,51) ... فَلِلّهِ الْمَكْرُ جَمِيعًا ... but all planning is Allah's. Allah said next, ... يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ... He knows what every person earns, meaning, He alone knows all secrets and concealed thoughts and will reckon each person according to his work, ... وَسَيَعْلَمُ الْكُفَّارُ ... and the Kuffar (disbeliever) will know , ... لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ who gets the good end. who will earn the ultimate and final victory, they or the followers of the Messengers. Indeed, the followers of the Messengers will earn the good end in this life and the Hereafter, all thanks and praise is due to Allah.

کافروں کے شرمناک کارنامے اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساٹھ مکر کیا ، انہیں نکالنا چاہا ، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا ۔ انجام کار پرہیز گاروں کا ہی بھلا ہوا ۔ اس سے پہلے آپ کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہو چکی ہے کہ وہ آپ کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا ۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہو سکتی ہے ؟ ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بےخبر رہے ۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا ؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کر دیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کر دیا انکے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے کھنڈرات ابھی موجود ہیں ۔ ہر ایک کے ہر ایک عمل سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے پوشیدہ عمل دل کے خوف اس پر ظاہر ہیں ہر عامل کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا الکفار کی دوسری قرأت الکافر بھی ہے ۔ ان کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کا اچھا رہتا ہے ، ان کا یا مسلمانوں کا ؟ الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق والوں کو ہی غالب رکھا ہے انجام کے اعتبار سے یہی اچھے رہتے ہیں دنیا آخرت انہی کی سنورتی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 یعنی مشرکین مکہ سے قبل بھی لوگ رسولوں کے مقابلے میں مکر کرتے رہے ہیں، لیکن اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں ان کی کوئی تدبیر اور حیلہ کارگر نہیں ہوا، اسی طرح آئندہ بھی ان کا کوئی مکر اللہ کی مشیت کے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔ 42۔ 2 وہ اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا، نیک کو اس کی نیکی کی جزا دیتا ہے اور بد کو اس کی بد کی سزا دیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٤] یعنی آپ کی قوم سے پہلی قومیں بھی دین حق کی دعوت کو روکنے اور اس کے آگے بند باندھنے کی سرتوڑ کوششیں کرتی رہیں۔ مگر بالآخر وہی کچھ ہوا جو اللہ کو منظور تھا۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے ان کی تدبیریں کچھ بھی کام نہ آسکیں اور اب بھی یہی کچھ ہوگا۔ ان منکرین حق کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ انجام بخیر کس فریق کے حق میں ہوتا ہے، اور جو کچھ یہ لوگ اسلام کو ختم کرنے کے سلسلہ میں تدبیریں کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں اور ان کا توڑ وہ خوب جانتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ ۔۔ : یعنی ان سے پہلے کفار نے بھی اپنے رسولوں کو ستانے اور اسلام کو نیچا دکھانے کی بہت تدبیریں کیں، یہ کوئی نئی بات آپ ہی کو پیش نہیں آرہی، پھر کوئی تدبیر اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتی، کیونکہ اختیار ہر چیز کا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سو اگر ان کی کوئی تدبیر کامیاب ہوئی تو وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہی کا تقاضا تھا، لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں۔ ان کافروں کو بھی بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس دنیا کے گھر کا اچھا انجام کس کے حق میں ہوتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا ۭ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ 42؁ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے ۔ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢) اور ان کفار مکہ سے پہلے بھی اور لوگوں نے تدبیریں کیں جیسا کہ نمرود وغیرہ اور اس کے ساتھی تو کچھ بھی نہ ہوا کیوں کہ ان سب کی تدبیر کی سزا اللہ تعالیٰ کے پاس موجود ہے، نیک وبد جو نیکی اور برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی سب خبر رہتی ہے اور اسی طرح ان یہودیوں اور تمام کفار کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ نیک انجام یعنی جنت اور فتح بدر اور فتح مکہ کسی کے حصہ میں ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ (وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) اپنے اپنے دور میں منکرین حق نے انبیاء و رسل کی دعوت حق کو روکنے کے لیے سازشوں کے خوب جال پھیلائے تھے اور بڑی بڑی منصوبہ بندیاں کی تھیں۔ (فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی تدبیروں اور سازشوں کا مکمل طور پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی مشیت کے خلاف ان کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ (يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ ) دارِآخرت کی بھلائی اور اس کا آرام کس کے لیے ہے انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

61. That is, these people, who are now devising schemes to defeat the message of the truth, do not take a lesson from the sad end of the people who devised similar schemes before them to suppress the voice of the truth by falsehood, fraud and persecution.

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :61 یعنی آج یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ حق کی آواز کو دبانے کے لیے جھوٹ اور فریب اور ظلم کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں ۔ پچھلی تاریخ میں بارہا ایسی ہی چالوں سے دعوت حق کو شکست دینے کی کوششیں کی جا چکی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٢۔ مگر کہتے ہیں اس طرح سے انسان کو تکلیف پہنچانے کو جس سے وہ بالکل بیخبر ہو اللہ پاک نے اس آیت میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ جس طرح کفار مکہ تمہاری ایذا رسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اسی طرح ان سے پہلے بھی لوگ خدا کے رسولوں کو ایذا پہنچا چکے ہیں۔ جیسے نمرود نے ابراہیم (علیہ السلام) کو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دی مگر ان کے یہ مکر کچھ پیش نہیں چل سکتے کیونکہ جتنے مکر ہیں سب خدا کی مخلوق ہیں اور اسی کے ارادہ سے ظاہر ہوتے ہیں اسی لئے کسی مکر سے کوئی نفع اور ضرر بغیر حکم خدا کے نہیں ہوسکتا اور وہ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے کہ کون برائی کرتا ہے اور کون بھلائی کرتا ہے پھر جو جیسا کرے گا اس کو ویسا بدلہ ملے گا اور کفار یہ بات بھی عنقریب جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کو ملنا ہے مومنین کو یا ان کفار کو۔ معتبر سند سے مسند امام احمد طبرانی اور دلائل النبوۃ بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کر ڈالنے کا مشورہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مشورہ کا حال اپنے رسول کو جتلا دیا اس لئے آپ نے اپنی جگہ پر سونے کے لئے حضرت علی (رض) کا حکم دیا اور آپ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ساتھ لے کر پہلے غار ثور کو اور پھر مدینہ کو چلے ١ ؎ آئے ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے آگے اللہ کے رسول کے مخالفوں کا کوئی مکرو فریب چل نہیں سکتا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی حدیث گزر چکی ٢ ؎ ہے کہ بدر کی لڑائی میں جو مشرک مارے گئے تھے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پالیا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس حاصل یہ ہے کہ اب یہ مشرک لو عقبی کے عذاب کو جھٹلاتے ہیں مگر مرنے کے ساتھ ہی ان کو اپنا عقبی کا انجام معلوم ہوجاوے گا۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٣٠٣ ج ٢ تفسیر آیت واذا یمکریک الذین کفروالآیہ۔ ٢ ؎ جلد ہذا ٢٠٢۔ ٢٠٨۔ ٢٢٧۔ ٢٣٤۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13:42) مکر۔ ماضی واحد مذکر۔ اس نے تدبیر چلی۔ اس نے چال چلی۔ اس نے حیلہ سے کام لیا۔ المکر۔ حیلہ۔ تدبیر۔ چال۔ اچھے کام کے لئے ہو تو محمود۔ برے کام کے لئے ہو تو مذموم ۔ عقبی الدار۔ ملاحظہ ہو 13:22 ۔ نیک انجام۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ ان کو ستانے کی بہت تدبیریں کیں، یہ کوئی نئی بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو پیش نہیں آرہی ہے (روح) ۔ 8 ۔ دنیا میں، یا آخرت میں یا دونوں میں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 43 مکر تدبیر کی۔ چال چلے جمیع سب کا سب تکسب کماتا ہے لست تو نہیں ہے مرسل رسول۔ پیغمبر کفی کافی ہے شھید گواہی علم الکتاب کتاب کا علم۔ اہل کتاب تشریح : آیت نمبر 42 تا 43 اس سورت کو ان الفاظ پر مکمل فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ان کفار و مشرکین مکہ سے پہلے گذر چکے ہیں انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر دین اسلام اور اس کے رسولوں اور نبیوں کے خلاف ہر طرح کی چالیں چل کر دیکھ لیں لیکن جب بھی اللہ کا داؤ ان پر چل گیا وہ اپنے وجود اور اپنی ترقیات اور تہذیب کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ اللہ کو ہر انسان کی ہر کیفیت کا علم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور یہ کفار لاکھ انکار کریں گے مگر یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا کتنا بھیانک انجام ہے لیکن پھر بھی یہ اتنی بڑی جرأت کر رہے ہیں کہ جانتے بوجھتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صرف یہ کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی اور تمام ان لوگوں کی گواہی کافی ہے جن کے پاس کتاب کا علم موجود ہے۔ اصل میں اہل کتاب پوری نشانیوں سے اس بات کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں۔ ان کی کتابوں میں تمام نشانیاں اور علامتیں موجود تھیں لیکن ان کے دنیاوی مفادات ان کو اس سچائی اور حق کے کہنے سے روکتے تھے اور اس طرح انہوں نے وقتی مفادات کی وجہ سے ایک بہت بڑی سچائی کو لوگوں سے چھپا اپنی تھا ار وہ ان سازشوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدنام کرتے رہیں تاکہ ان کے مفادات کا نقصان نہ ہو۔ لیکن اللہ نے ان کی تدبیروں کو الٹ دیا اور وہ کفار بری طرح ناکام ہو کر رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق و صداقت پر چل کر دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن سے وابستگی دین اور آخرت میں رحمت بنا کر عطا فرمائے۔ آمین الحمد للہ سورة الرعد کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوگئی واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی سو اللہ نے ان کی وہ تدبیریں نہ چلنے دیں۔ 2۔ یعنی عنقریب ان کو اپنی بدانجامی اور سزائے اعمال معلوم ہوجائے گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اے پیغمبر ! ان لوگوں کا مخالفت کرنا کوئی انوکھی بات اور پہلا واقعہ نہیں۔ آپ سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے۔ مخالفین ان کے خلاف ہر قسم کا مکرو فریب اور ظلم و زیادتی کیا کرتے تھے۔ مکر کے معافی ہیں۔ ” فریب، دھوکہ، سازش اور تدبیر کرنا۔ “ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک اس کا معنی تدبیر کرنا ہوتا ہے۔ جب اس کی نسبت کفار، منافقین اور حق کے منکرین کی طرف ہو تو اس کا معنی مکرو فریب ہوجایا کرتا ہے۔ یہاں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے اور حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر ! گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے جتنے مخالف گزرے ہیں انہوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے خلاف مکرو فریب اور سازشیں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جس کے ثبوت حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین کے حوالے سے موجود ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر ان کے مکرو فریب پر غالب رہی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی تدبیر کامیاب کرنے میں غالب ہے۔ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مخالفوں اور ہر شخص کے کردار کو پوری طرح جانتا ہے۔ عنقریب حق کا انکار کرنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار اور آخرت کا گھر کس کے لیے بہتر ہے۔ ہزاروں دلائل اور درجنوں معجزات دیکھنے اور سننے کے باوجود کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ پورے اطمینان کے ساتھ انہیں فرمائیں کہ تمہارے انکار کا مجھ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تم میری رسالت کی گواہی نہیں دینا چاہتے تو تمہاری مرضی، لیکن یاد رکھو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور وہ شخص بھی میرے حق میں گواہ ہے جس کے پاس کسی بھی آسمانی کتاب کا علم ہے یعنی تو رات، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں میری رسالت کی جابجا شہادتیں پائی جاتی ہیں۔ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور ١٩٣١ ء کی چھپی ہوئی بائیبل میں یوحنا کی انجیل کے باب چودہ کی سولہویں آیت میں ہے۔ میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ “ لفظ مددگار پر حاشیہ ہے۔ اس پر اس کے معنی وکیل یا شفیع لکھے ہیں۔ تو اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو شفیع ہوا اور ابد تک رہے یعنی اس کا دین کبھی منسوخ نہ ہو بجزسید عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کون ہے ؟ پھر انتیسویں تیسویں آیت میں ہے اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہوجائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔ “ (سورۃ الصف : ٦ تدبر قرآن، از قلم : امین احسن اصلاحی) (وَإِذْ قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ إِسْرَاءِیلَ إِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَ ہُمْ بالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا ہٰذٰا سِحْرٌ مُبِیْنٌ)[ الصف : ٦] ” اور جب عیسیٰ نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تورات کی تصدیق کرنے والا اور ایک رسول کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا جب آپ ان کے پاس معجزات لے کر آگئے تو انھوں نے کہا یہ تو سراسر جاد و ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کی تدبیر کار گر نہیں ہوتی۔ ٢۔ ہر کسی کو اس کے اچھے اور بڑے انجام کا علم ہوجائے گا۔ ٣۔ تورایت، انجیل اور زبور کا علم رکھنے والا جانتا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول حق ہیں۔ ٤۔ کافر جان لیں گے کہ اچھا انجام کس کا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء (علیہ السلام) کے خلاف مجرموں کے مکرو فریب : ١۔ ان سے پہلے بھی مکر و فریب کرچکے ہیں حالانکہ اللہ کے مقابلہ میں کسی کی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ (الرعد : ٤٢) ٢۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے تدبیر کی اور انہیں اس تدبیرکا علم بھی نہ ہوسکا۔ (النمل : ٥٠) ٣۔ اللہ نے کفار کے لیے ان کے مکر کو مزین کردیا ہے۔ (الرعد : ٣٣) ٤۔ ان کے مکر کا انجام دیکھو ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النمل : ٥١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤٢ سورة کا خاتمہ اس بات کی نقل سے ہوتا ہے کہ کفار نے آپ کی رسالت کا صاف صاف انکار کردیا۔ اس سورة کا آغاز آپ کی رسالت کے مضمون سے ہوا تھا۔ یوں آغاز و انجام میں سورة کا مضمون اور محور بتا دیا گیا۔ اللہ یہاں خود شہادت دے رہے ہیں کہ اے پیغمبر ، آپ کی رسالت پر میں خود گواہ ہوں اور اللہ کی گواہی کے بعد کسی کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کتاب اور وحی و رسالت کے بارے میں وہی سب سے زیادہ علیم وخبیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (اور جو لوگ ان سے پہلے کافر تھے انہوں نے مکر کیا) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو بہت بہت ستایا لیکن آخر عذاب میں گرفتار ہوئے (فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا) (سب تدبیر اللہ ہی لیے ہے) اس کی تدبیر کے سامنے سب کی مکاریاں دھری رہ گئیں موجودہ کافروں کو بھی عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو جانتا ہے : (یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ ) (اللہ تعالیٰ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے) ان اعمال میں دشمنان دین کی مکاریاں بھی ہیں جن کی اللہ کی تدبیر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی تو دنیا میں بھی اپنے علم اور فیصلے کے مطابق انہیں سزا دے گا اور آخرت میں تو کافروں کے لیے عذاب ہی عذاب ہے (وَ سَیَعْلَمُ الْکُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ ) (اور عنقریب کافر جان لیں گے کہ اس دار کا اچھا انجام کس کے لیے ہے) یعنی جب آخرت میں کافر لوگ اہل ایمان کی کامیابی دیکھیں گے اور خود عذاب میں پڑیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ اچھا انجام کس کا ہوا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ امم سابقہ کے کافروں نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کئی مکر و فریب کیے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے مکر و فریب سے بچا لیا ” فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا “ ثم فسر ذلک بقولہ یَعْلَمُ مَاتَکْسِبُ ۔ (مدارک ج 2 ص 190) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42 ۔ اور ان سے پہلے جو کافر ہو گزرے ہیں وہ بھی اسلام کے اور پیغمبروں کے خلاف بڑی فریب آمیز تدبیریں کرچکے ہیں لیکن سب تدبیریں تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں اور اصل تدبیر تو اللہ ہی کی ہے ہر شخص جو کچھ کرتا ہے اور جو کماتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کئے کو اور اس کی کمائی کو جانتا ہے اور ان کافروں کو عنقریب معلوم ہوئے جاتا ہے کہ اس عالم میں کس کا انجام بخیر ہے یعنی پہلے کافروں کا بھی یہ دستور رہا ہے کہ حق کو مٹانے کے لئے ہر قسم کے فریب کرتے رہے اور ہر قسم کی چالیں چلتے رہے لیکن کیا ہوا سب خاسر و برباد ہوئے کیونکہ اصل تدبیر اور ہر چال کو توڑ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ ہر شخص کی کارروائی کو خوب جانتا ہے اور ان کافروں کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ پچھلا اور دار آخرت کس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور وہاں کس کا نیک انجام ہوتا ہے۔