The Argument between the Prophets and the Disbelievers
Allah says:
قَالَتْ رُسُلُهُمْ
...
Their Messengers said:
Allah narrates to us the arguments that ensued between the disbelievers and their Messengers. When their nations doubted the Message of worshipping Allah alone without partners, the Messengers said,
...
أَفِي اللّهِ شَكٌّ
...
(What!) Can there be a doubt about Allah...
about His Lordship and having the exclusive right to be worshipped alone, being the only Creator of all creatures!
...
فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ
...
the Creator of the heavens and the earth!
Verily, none besides Allah is worthy of worship, alone without partners with Him. Most nations were, and still are, affirming the existence of the Creator, but they call upon intermediaries besides Him whom they think will benefit them or bring them closer to Allah.
Their Messengers said to them,
...
يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ
...
He calls you that He may forgive you of your sins, (in the Hereafter),
...
وَيُوَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَـمًّى
...
and give you respite for a term appointed,
in this worldly life.
Allah said in other Ayat,
وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُوْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ
Seek the forgiveness of your Lord, and turn to Him in repentance, that He may grant you good enjoyment, for a term appointed, and bestow His abounding grace to every owner of grace. (10:3)
However, their nations went on arguing against their Prophethood, after they had to submit to the first evidence (that Allah Alone created everything).
Disbelievers reject Prophethood because the Messengers were Humans!
Their nations said,
...
قَالُواْ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
...
They said: "You are no more than human beings like us!
so why should we follow you just because you say so, even though we did not witness a miracle by your hands,
...
تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ابَأوُنَا
...
You wish to turn us away from what our fathers used to worship.
...
فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
Then bring us a clear authority.
i.e. a miracle of our choice.
کفار اور انبیاء میں مکالمات
رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے ۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے ۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے ۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے ۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے ۔ یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے ؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لئے رسول اللہ انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا ۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو ؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں ۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے ۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں ۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے ۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لئے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی ۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن انشاء اللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں ۔ متوکلین کے گروہ کے لئے اللہ کا توکل کافی وافی ہے ۔