Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 10

سورة إبراهيم

قَالَتۡ رُسُلُہُمۡ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَدۡعُوۡکُمۡ لِیَغۡفِرَ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرَکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ؕ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۰﴾

Their messengers said, "Can there be doubt about Allah , Creator of the heavens and earth? He invites you that He may forgive you of your sins, and He delays your death for a specified term." They said, "You are not but men like us who wish to avert us from what our fathers were worshipping. So bring us a clear authority."

ان کے رسولوں نے انہیں کہا کہ کیا حق تعالٰی کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے وہ تو تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت عطا فرمائے ، انہوں نے کہا کہ تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان خداؤں کی عبادت سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں اچھا تو ہمارے سامنے کوئی کھلی دلیل پیش کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Argument between the Prophets and the Disbelievers Allah says: قَالَتْ رُسُلُهُمْ ... Their Messengers said: Allah narrates to us the arguments that ensued between the disbelievers and their Messengers. When their nations doubted the Message of worshipping Allah alone without partners, the Messengers said, ... أَفِي اللّهِ شَكٌّ ... (What!) Can there be a doubt about Allah... about His Lordship and having the exclusive right to be worshipped alone, being the only Creator of all creatures! ... فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ ... the Creator of the heavens and the earth! Verily, none besides Allah is worthy of worship, alone without partners with Him. Most nations were, and still are, affirming the existence of the Creator, but they call upon intermediaries besides Him whom they think will benefit them or bring them closer to Allah. Their Messengers said to them, ... يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ ... He calls you that He may forgive you of your sins, (in the Hereafter), ... وَيُوَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَـمًّى ... and give you respite for a term appointed, in this worldly life. Allah said in other Ayat, وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُوْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ Seek the forgiveness of your Lord, and turn to Him in repentance, that He may grant you good enjoyment, for a term appointed, and bestow His abounding grace to every owner of grace. (10:3) However, their nations went on arguing against their Prophethood, after they had to submit to the first evidence (that Allah Alone created everything). Disbelievers reject Prophethood because the Messengers were Humans! Their nations said, ... قَالُواْ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا ... They said: "You are no more than human beings like us! so why should we follow you just because you say so, even though we did not witness a miracle by your hands, ... تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ابَأوُنَا ... You wish to turn us away from what our fathers used to worship. ... فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ Then bring us a clear authority. i.e. a miracle of our choice.

کفار اور انبیاء میں مکالمات رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے ۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے ۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے ۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے ۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے ۔ یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے ؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لئے رسول اللہ انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا ۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو ؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں ۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے ۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں ۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے ۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لئے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی ۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن انشاء اللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں ۔ متوکلین کے گروہ کے لئے اللہ کا توکل کافی وافی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 یعنی تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔ علاوہ ازیں وہ ایمان و توحید کی دعوت بھی صرف اس لئے دے رہا ہے کہ تمہیں گناہوں سے پاک کر دے۔ اس کے باوجود تم اس خالق ارض و سماء کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور اس کی دعوت سے تمہیں انکار ہے ؟ 10۔ 2 یہ وہی اشکال ہے جو کافروں کو پیش آتا رہا کہ انسان ہو کر کس طرح کوئی وحی الٰہی اور نبوت و رسالت کا مستحق ہوسکتا ہے ؟ 10۔ 3 یہ دوسری رکاوٹ ہے کہ ہم ان معبودوں کی عبادت کس طرح چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کرتے رہے ہیں ؟ جب کہ تمہارا مقصد ہمیں ان کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت پر لگانا ہے۔ 10۔ 4 دلائل و معجزات تو ہر نبی کے ساتھ ہوتے تھے، اس سے مراد ایسی دلیل یا معجزہ ہے جس سے دیکھنے کے وہ آرزومند ہوتے تھے جیسے مشرکین مکہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مختلف قسم کے معجزات طلب کئے تھے، جس کا تذکرہ بنی اسرائیل میں آئے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] اللہ کے بارے میں شک :۔ مشرکین مکہ کے ہوں یا پہلی قوموں کے یا موجودہ دور کے سب کے سب اس بات کے قائل ضرور ہوتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین یعنی اس ساری کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اسی بات کو بنیاد قرار دے کر انبیاء مشرکوں سے یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ جب تمام اشیاء کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اختیار و تصرف بھی اللہ ہی کے پاس ہے پھر تمہارے ان معبودوں کے پاس تصرف و اختیار کہاں سے آگئے ؟ لہذا تم ان معبودوں کو چھوڑ کر توحید کی طرف آؤ اور اگر تم نے یہ راہ اختیار کرلی تو اللہ تمہارے سب گناہ معاف فرما دے گا اور اگر تم اس کی دعوت پر ایمان نہ لاؤ گے تو کچھ مدت تو تمہیں مہلت دے گا تاکہ تم اپنی حالت پر اچھی طرح غور و فکر کرکے اپنی اصلاح کرلو۔ اور اگر پھر بھی نہ سنبھلے تو تمہیں تباہ کردے گا۔ [ ١٥] پیغمبروں کو مشرکوں کے جواب :۔ انبیاء کی دعوت پر مشرکوں کے جواب بھی ایک ہی جیسے رہے مثلاً ایک یہ کہ تم بھی ہماری طرح کے ایک انسان ہی ہو۔ ہماری طرح کھاتے ہو، پیتے ہو، سوتے ہو، بیوی بچے رکھتے ہو، چلتے پھرتے ہو، بھوک، پیاس، دکھ، بیماری، گرمی، سردی، تمہیں بھی لگتی ہے اور ہر بشری کمزوری تم میں بھی ہماری طرح موجود ہے پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ تمہارے پاس فرشتے آتے ہیں اور ہمکلام ہوتے ہیں اور تم اللہ کے پیغمبر ہو۔ پھر چونکہ ایسے مشرکوں کا غور و فکر دنیاوی مفادات سے آگے نہیں بڑھتا۔ لہذا ان کا دوسرا جواب یہ رہا ہے کہ تم ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے ہٹا کر ایک نیا دین پیش کرکے اپنی چودھراہٹ قائم کرنا چاہتے ہو۔ سو ہم اپنے باپ دادا کا دین چھوڑنے کو تیار نہیں، نہ ہی ان معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں جنہیں ہمارے آباؤ اجداد پوجتے رہے اور تیسرا جواب یہ رہا ہے کہ ہم تمہاری بات اس وقت تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں جب تک تم کوئی حسی معجزہ نہ دکھا دو یا کوئی ایسی کھلی دلیل پیش کرو جس سے ہمیں تمہارے نبوت کے دعویٰ کی صداقت کا یقین حاصل ہوجائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَتْ رُسُلُهُمْ ۭ ۔۔ : رسولوں نے یہاں کوئی منطقی و فلسفی بحث نہیں چھیڑی، بلکہ ان کی فطرت کو جھنجوڑا کہ ہر شخص سمجھتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز حتیٰ کہ سوئی یا کوئی کھلونا بھی بنانے والے کے بغیر نہیں بنتا۔ رازی نے اس کی ایک مثال دی کہ دو بچوں میں سے ایک بچہ دوسرے کو پیچھے سے سر پر ایک چپت لگا کر چھپ جائے تو وہ کبھی یہ نہیں مانے گا کہ یہ چپت خود بخود لگ گئی ہے، بلکہ اسے یقین ہوگا کہ یہ کسی نے ماری ہے۔ تو کسی بھی کام کے خودبخود ہوجانے کو تو ایک بچے کی فطرت بھی تسلیم نہیں کرتی، تو عاقل و بالغ ہو کر تمہیں اس اللہ کے متعلق شک ہے جس نے اتنے عظیم آسمان و زمین بنائے، جن کے مقابلے میں تمہارا بنانا کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ اللہ ہے بھی یا نہیں ؟ اور ایک ہے یا کئی ہیں ؟ ” شَکٌّ“ کی تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی کیا اللہ کے بارے میں کوئی بھی شک ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے، یعنی اس کے متعلق کسی قسم کے شک کی تو گنجائش ہی نہیں۔ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ :” مِنْ “ تبعیض کے لیے ہے، یعنی تاکہ تمہارے بعض یا کچھ گناہ بخش دے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ اسلام لانے سے معاف ہوجائیں گے، آئندہ کے گناہ تمہارے عمل اور توبہ کے مطابق دیکھے جائیں گے۔ کفار کے گناہوں کی معافی کا ذکر ہر جگہ ” مِّنْ “ (بعض) کے ساتھ آیا ہے، جیسا کہ یہاں اور سورة نوح اور احقاف میں ہے، البتہ اہل ایمان کی مغفرت کا ذکر ” مِنْ “ کے بغیر ہے، جیسا کہ سورة صف میں جہاد کا اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُم) [ الصف : ١٢ ] ” وہ تمہیں تمہارے گناہ بخش دے گا۔ “ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى : یعنی دنیا میں موت کے وقت تک تمہیں عذاب سے محفوظ رکھے۔ (قرطبی) قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا : یعنی تم ظاہری شکل و صورت میں، کھانے پینے میں اور دوسری انسانی ضروریات کے اعتبار سے ہمارے جیسے بشر ہو، ہم اپنے آپ پر تمہاری برتری کیسے تسلیم کرلیں۔ مقصد تمہارا ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے معبودوں کی عبادت سے روکنا ہے۔ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ یہی کفار جو دین اور آخرت کے معاملے میں اپنے آباء کی تقلید کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے توحید سے انکار پر اصرار کر رہے ہیں، اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ دنیا کے کاموں میں بھی وہ آباء کی تقلید کرتے تو دنیا کے ہر دور میں انھوں نے جو ترقی کی، حتیٰ کہ اب ایٹم بم تک پہنچ گئے، یہ ترقی کبھی نہ ہوسکتی، مگر ان کی ڈھٹائی دیکھو کہ انبیاء کے واضح معجزات دیکھ کر اور ” اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “ جیسی لاجواب دلیلیں سن کر بھی، جنھوں نے انھیں اندر سے ہلا دیا اور وہ اپنے بےچین رکھنے والے شک کا خود اقرار کر رہے ہیں، تقلید پر اڑے ہوئے ہیں اور مزید واضح دلیل کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر دنیوی معاملات میں وہ آباء کی تقلید پر اکتفا کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۭ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ 10؀ فطر أصل الفَطْرِ : الشّقُّ طولا، وفِطْرَةُ اللہ : هي ما رکز فيه من قوّته علی معرفة الإيمان، وهو المشار إليه بقوله : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [ الزخرف/ 87] ، وقال : الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1] ( ف ط ر ) الفطر ( ن ض ) اس کے اصل معنی کسی چیز کو ( پہلی مرتبہ ) طول میں پھاڑنے کے ہیں ۔ اسی سے فطرت ہے جس کے معنی تخلیق کے ہیں اور فطر اللہ الخلق کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق اسطرح کی ہے کہ اس میں کچھ کرنے کی استعداد موجود ہے پس آیت کریمہ ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ۔ الَّذِي فَطَرَهُنَّ [ الأنبیاء/ 56] جس نے ان کو پیدا کیا أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔ مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے اور ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠) ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں شک وشبہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے وہی تمہیں توبہ کی طرف بلاتا ہے تاکہ توبہ اور توحید کے ذریعے تمہارے زمانہ کفر کے گناہ معاف کر دے اور تمہاری عمر کی معین مدت تک تمہیں بغیر عذاب کی زندگی دے، وہ بولے تم پیغمبر نہیں بلکہ ہمارے جیسے ایک عام آدمی ہو، تم تو یہ چاہتے ہو کہ ہمارے آباء اجداد جن بتوں کی عبادت کرتے تھے ہمیں ان سے روک دو تو کوئی کتاب اور صاف معجزہ دکھاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ (قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یہ searching question کا سا انداز ہے جس میں بات وہاں سے شروع کی جا رہی ہے جہاں تک خود فریق ثانی کو بھی اتفاق ہے۔ مذکورہ تمام اقوام کے کفار و مشرکین میں ایک عقیدہ ہمیشہ مشترک رہا ہے کہ وہ تمام لوگ نہ صرف اللہ کو مانتے تھے بلکہ اسے زمین و آسمان کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ چناچہ جس قوم کے لوگوں نے بھی اپنے رسول کی دعوت کو شکوک و شبہات کی بنا پر رد کرنا چاہا ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا گیا۔ یعنی سب سے پہلے اللہ کی ذات کا معاملہ ہمارے تمہارے درمیان واضح ہونا چاہیے کہ تمہیں اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے یا اس کے خالق ارض و سماوات ہونے میں ؟ (تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ ) سب قوموں کے لوگوں کا یہ جواب بھی ایک جیسا تھا سب نے رسولوں کے انسان ہونے پر اعتراض کیا اور سب نے حسی معجزہ طلب کیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17. The Messengers posed this question to those who rejected the message in order to bring home to them the absurdity of their stand with regard to God. For though, the mushriks of every age believed in the existence of God and acknowledged that He was the Creator of the heavens and the earth, they did not accept the message, its logical result, that He alone was entitled to their worship. That is why the Messengers asked them: Do you have any doubt about the existence of Allah? 18. In the case of individuals, the appointed term may be either the time of one’s death or the doomsday. As regards the appointed term for the rise and fall of communities, it is determined by their collective behavior. For instance, if a capable community degenerates before the expiry of its term, the assigned period is shortened and it is deposed. On the other hand, if a degenerate community changes its ways for the better, its term is extended, so much so that it may extend even to the doomsday. This same thing is implied in (Ayat 11 of Surah Ar-Raad): The fact is that Allah does not change a people’s lot unless they themselves change their own characteristics. 19. The disbelievers meant to imply: You are a human being like us in every respect: you eat, drink and sleep like us and have wife and children like us. You feel hungry and thirsty, and suffer from heat and cold, disease and calamities like us. In short, you have every human limitation like us, and we see nothing unusual and extraordinary in you to induct us to accept you as a Prophet and believe that God communicates with you and sends His angels to you.

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :17 رسولوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ ہر زمانے کے مشرکین خدا کی ہستی کو مانتے تھے اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق وہی ہے ۔ اسی بنیاد پر رسولوں نے فرمایا کہ آخر تمہیں شک کس چیز پر ہے ؟ ہم جس چیز کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہیں وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ اللہ فاطر السمٰوات والارض تمہاری بندگی کا حقیقی مستحق ہے ۔ پھر کیا اللہ کے بارے میں تم کو شک ہے؟ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :18 مدت مقرر سے مراد افراد کی موت کا وقت بھی ہو سکتا ہے اور قیامت بھی ۔ جہاں تک قوموں کا تعلق ہے ان کے اٹھنے اور گرنے کے لیے اللہ کے ہاں مدت کا تعین ان کے اوصاف کی شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے ۔ ایک اچھی قوم اگر اپنے اندر بگاڑ پیدا کر لے تو اس کی مہلت عمل گھٹا دی جاتی ہے اور اسے تباہ کر دیا جاتا ہے ۔ اور ایک بگڑی ہوئی قوم اگر اپنے برے اوصاف کو اچھے اوصاف سے بدل لے تو اس کی مہلت عمل بڑھا دی جاتی ہے ، حتی کہ وہ قیامت تک بھی دراز ہو سکتی ہے ۔ اسی مضمون کی طرف سورہ رعد کی آیت نمبر ۱۱ اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالی کسی قوم کے حال کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے اوصاف کو نہ بدل دے ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :19 ان کا مطلب یہ تھا کہ تم ہر حیثیت سے بالکل ہم جیسے انسان ہی نظر آتے ہو ۔ کھاتے ہو ، پیتے ہو ، سوتے ہو ، بیوی بچے رکھتے ہو ، بھوک ، پیاس ، بیماری ، دکھ ، سردی ، گرمی ، ہر چیز کے احساس میں اور ہر بشری کمزوری میں ہمارے مشابہ ہو ۔ تمہارے اندر کوئی غیر معمولی پن ہمی نظر نہیں آتا جس کی بنا پر ہم یہ مان لیں کہ تم کوئی پہنچے ہوئے لوگ ہو اور خدا تم سے ہم کلام ہوتا ہے اور فرشتے تمہارے پاس آتے ہیں ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :20 یعنی کوئی ایسی سند جسے ہم آنکھوں سے دیکھیں اور ہاتھوں سے چھوئیں اور جس سے ہم کو یقین آجائے کہ واقعی خدا نے تم کو بھیجا ہے اور یہ پیغام جو تم لائے ہو خدا ہی کا پیغام ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: مطلب یہ ہے کہ عذاب الٰہی سے تمہیں نجات مل جائے اور گناہوں کی معافی کے بعد تمہیں تمہاری عمر پوری ہونے تک زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے۔ 8: اللہ تعالیٰ نے تقریبا ہر نبی کو کوئی نہ کوئی معجزہ عطا فرمایا تھا لیکن ان کافروں کا کہنا تھا کہ جس جس معجزے کی ہم فرمائش کرتے جائیں۔ وہ دکھاتے جاؤ۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠۔ جب کفار نے رسولوں کو جھٹلا دیا اور یہ کہا کہ ہم کو تو شک ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو یا نہیں اس پر رسولوں نے یہ جواب دیا کہ تم خدا کی ذات میں کس بات کا شک کرتے ہو کیا اس کے موجود ہونے میں شک ہے یا اس کے ایک ہونے میں شک ہے بہر حال تمہارا شک محض غلط ہے کیا آنکھوں سے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ایسے وقت میں کہ کوئی مثال اس کی نہ تھی بغیر نمونہ اور بےدیکھے بھالے کسی شئی کا پیدا کرنا کیا اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ خدا موجود ہے اور ایسا ہے کہ مثل نہیں رکھتا اپنا نظیر آپ ہی ہے۔ کسی کو اس کی ذات یا صفات میں شراکت نہیں ہے۔ اور پھر تم لوگوں پر یہ اور احسان اس کا ہے کہ رسولوں کو بھیج کر تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آؤ میری طرف اور جو لوگ اس کے رسول کو سچا جان کر حق بات کی پیروی کرنے لگتے ہیں اور سچے دل سے خدائے وحدہ لا شریک پر ایمان لے آتے ہیں ان کے گزشتہ گناہوں سے در گزر کر کے مغفرت کا خلعت دیتا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان پر بھی یہ مہربانی کرتا ہے کہ جلد عذاب بھیج کر ان کو ہلاک نہیں کرتا وقت مقرر تک ان کی زندگی قائم رکھتا ہے۔ ان باتوں کو سن کر اور لا جواب ہو کر کفار نے دوسرا اعتراض پیش کیا کہ اے رسول تم تو ہماری طرح انسان ہو کھاتے پیتے ہو چلتے پھرتے ہو تمہیں ہم پر فضیلت ہی کیا ہے جو ناحق ہم کو ایک نئے دین و آئین پر لانا چاہتے ہو تمہارا اصل منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہم کو ہمارے باپ دادا کے پرانے معبودوں کی عبادت سے روک دو بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر تمہارا دین اختیار کرلیں اور تمہارے ان معجزوں کی جو تم دکھلاتے ہو سند نہیں ہم تو جب جانیں کہ ہماری فرمائش کے مطابق کوئی معجزہ اچھا ساکر دکھاؤ۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ کے قابل اور جس حالت کے قابل جو کوئی پیدا ہوا ہے اس کو ویسے ہی کام آسان اور اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اس حدیث اور آیت کو ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ یہ لوگ علم الٰہی کے موافق دوزخی قرار پا چکے تھے اس لئے ان کی سمجھ میں اتنی موٹی بات نہیں آئی کہ جب آسمان و زمین انسان اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے ان کے بتوں میں سے کوئی اس میں اس کا شریک نہیں ہے تو پھر عبادت کے قابل بھی وہی ایک ذات وحدہ لا شریک ہے اس موٹی بات کے سمجھانے کے بعد بھی جوان لوگوں نے اللہ کے رسولوں سے { فاتونا بسلطان مبین } کا سوال کیا تو اس کا سبب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان کی قسمت میں دوزخ جانا لکھا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:10) افی اللہ شک۔ ایء انتم فی شک مریب من اللہ تعالی۔ تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارہ میں شک کرتے ہو۔ (منکرین نے کہا تھا کہ ( انا کفرنا بما ارسلتم بہ وانا لفی شک مما تدعوننا الیہ مریب۔ جو حکم تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس سے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اس کی صداقت کے متعلق ہم سخت تذبذب وشک میں ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے نبیوں نے کہا کہ :۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارہ میں شک کرتے ہو ! کیونکہ یہ پیغام ہمارا نہیں اس ذات تعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس میں شک کرنا اس ذات کے متعلق شک کرنے کے مترادف ہے۔ یہ پیغام برحق ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تمہیں بلارہا ہے کہ اس کے مطابق تم عمل کرو تو وہ تمہارے گناہ بخش دے۔ فاطر السموت والارض۔ فاطر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ فطر مصدر (باب نصر وضرب) عدم کو پھاڑ کر وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ یا تو بدل ہے اللہ کا ۔ یا اس کی صفت ہے۔ یعنی وہ اللہ جو فاطر السموت والارض ہے۔ یؤخرکم۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ تاخیر (تفعیل) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو مہلت دے۔ ان انتم میں ان نافیہ ہے۔ استثناء سے قبل جو ان اور ما آئے وہ نافیہ ہوتا ہے۔ سلطان مبین۔ موصوف صفت۔ روشن دلیل۔ بین ثبوت۔ واضح برہان۔ معجزہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ کہ وہ موجود بھی ہے یا نہیں اور اگر موجود ہے تو آیا تنہا ہے یا کئی ایک ہیں ؟ یا کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی شک و شبہ ہے۔ بہر صورت یہاں استفہام انکار ہی ہے۔ (قرطبی) ۔ 5 ۔ یعنی دنیا میں موت کے وقت تک تمہیں عذاب سے محفوط رکھے۔ (قرطبی) ۔ 6 ۔ یعنی ظاہری ہیت و صورت کھانے پینے اور دیگر لوازمات بشریہ کے اعتبار سے تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے پاس اس کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ (وحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 فاطر پیدا کرنے والا۔ لیغفر تاکہ وہ مغفرت کر دے ذنوب واحد (ذنب) گناہ یوخر وہ تاخیر کرتا ہے۔ مہلت دیتا ہے اجل مسمی مقرر مدت بشر انسان مثلنا ہم جیسے قاتونا پس تم لاؤ ہمارے پاس سلطان دلیل۔ معجزہ یمن وہ احسان کرتا ہے نتوکل ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ ھدانا اس نے ہمیں راستہ دکھایا سبل واحد (سبیل) راستے نصبرن ہم ضرور صبر کریں گے اذیتمونا تم نے ہمیں تکلیفیں پہنچائیں ۔ تشریح :- آیت نمبر 10 تا 12 اس سے پہلی آیات میں قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کی زندگی جو کہ ہر عقل اور سمجھ رکھنے والے انسان کے لئے غور و فکر اور سوچنے کا مقام رکھتی ہے جنہوں نے ہزاروں ترقیات کے باوجود ایک بنیادی چیز کو بھلا دیا تھا اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے جس نے کائنات کے ذرے ذرے کو پیدا فرمایا ہے۔ اب ان آیات میں فرمایا جا رہا ہے کہ رسولوں نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی ہے کہ اے لوگو ! تم اس ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو جو اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے جس نے انسان کو پیدا کر کے اس کے لئے اس کائنات کو بکھیر دیا ہے جس سے تم دن رات فائدہ حاصل کرتے ہو۔ انبیاء کرام نے یہی سوال کیا کہ کیا تم ایسے خلاق ومالک کے متعلق بھی شک و شبہ کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا ایسا خیر خواہ ہے جو تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور تمہیں ایک مقرر مدت تک مہلت اور ڈھیل دے رہا ہے۔ اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس لئے وہ یہ کہنے لگتے کہ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو تھوڑی دیر کے لئے ہم اسے مان لیتے ہیں مگر تمہاری اس بات کا ہم کیسے اعتبار کرلیں کہ تم اللہ کے نبی ہو جب کہ تم تو مہارے ہی جیسے انسان ہو۔ جیسا کہ آپ نے اس سے پہلے بھی کئی مقامات پر کفار کا یہی ایک سوال ملاحظہ کیا ہے کہ وہ یہی کہتے تھے کہ ایک وہ شخص جو ہماری ہی طرح انسان ہے۔ کھاتا ہے پیتا ہے۔ شادی بیاہ کرتا اور اولاد رکھتا ہے۔ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے وہ نبی کیسے ہو سکتا ہے ؟ ان کے اس احمقانہ سوال کے جواب میں کبھی کسی نبی یا رسول نے یہ نہیں کہا کہ ہم بشر نہیں ہیں بلکہ ان کے جواب میں یہی فرمایا ہے کہ بیشک ہم تم ہی جیسے بشر ہیں اور بشریت کے تمام تقاضے بھی رکھتے ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس عظیم منصب اور مقام کے لئے چن لیا ہے اور ہماری طرف وحی کی گئی ہے۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف اشارہ الٰہی کے تحت کہتے ہیں۔ اگر کسی کام کے لئے اللہ کا حکم نہیں ہوتا تو اس میں تو ہم اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرسکتے مثلاً اگر ہم کوئی معجزہ دکھانا چاہیں تو وہ اللہ کے حکم سے تو ہو سکتا ہے مگر ہمارے اختیار سے ممکن نہیں ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ہر کام میں حض اللہ ہی پر بھروسہ کریں کیونکہ وہی ایک ذات ہے جس پر ہر صاحب ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے۔ وہی ہمارا رہبر ہے جو ہمیں راستے دکھاتا ہے۔ اگر تم اس سچائی کو قبول نہیں کرتے ہو اور ہمیں اذیتیں پہنچاتے ہو تو ہم ان پر صبر کرتے ہوئے اللہ کی ذات پر بھروسہ کریں گے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ یہ سوال کوئی نیا سوال نہیں ہے کہ انبیاء کرام بشر ہیں یا نور ہیں کفر کا مزاج یہ ہے کہ تمام انبیاء کی بشریت کا انکار کر کے ان کو بشریت سے ماورا مخلوق ثابت کردیں۔ حالانکہ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ انسان سے بڑھ کر بھی کیا کوئی مخلوق ہے جس کو بشریت سے اعلیٰ و افضل ثابت کیا جاسکے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر مخلوق کو بشریت کے قدموں کی طرف جھکایا ہے اور بشریت ہی کو کائنات کی عظمت قرار دیا ہے۔ بیشک اللہ کے نبی اور رسول بشر ہوتے ہیں جن پر انسانیت اور بشریت ناز کرتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی اس کا ان چیزوں کا پیدا کرنا خود دلیل اس کی ہستی اور وحدانیت کی ہے پھر اس دلیل کے ہوتے ہوئے شک کرنا بڑے تعجب کی بات ہے۔ 6۔ مطلب یہ کہ توحید علاوہ اس کے کہ فی نفسہ حق ہے تمہارے لیے دونوں جہان میں نافع بھی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے بار، بار سمجھانے کے باوجود لوگوں کا بلا دلیل اور بلا جواز توحید و رسالت کے بارے میں شک کرنا اور اس کا جواب۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا طریقہ، توحید کا عقیدہ اور اس کے دلائل اتنے ٹھوس، واضح اور شفاف تھے اور ہیں کہ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ انہیں سمجھنا چاہے تو اسے کوئی دقّت پیش نہیں آتی۔ اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کے شواہد اس قدر کھلے اور عام ہیں کہ ایک ان پڑھ سے ان پڑھ انسان بھی اس کا ادر اک کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) ایک مرتبہ نہیں، زندگی بھر اللہ کی توحید کے دلائل دیتے رہے۔ مگر نہ ماننے والے یہ کہہ کر انکار کرتے تھے کہ ہمارے شک و شبہات ابھی تک دور نہیں ہوئے۔ جس پر انبیاء کرام (علیہ السلام) انہیں فرمایا کرتے کہ شک و شبہات کا بہانہ کرنے والو ! کیا تم اللہ کی ذات کے بارے میں شک کرتے ہو ؟ جس نے بغیر کسی پہلے سے موجود نقشے اور میٹریل کے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا وہ تمہیں سمجھاتا اور بلاتا ہے کہ میرے بندو ! میری طرف آجاؤ۔ میں تمہارے گناہوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہوں اور میں ہی تمہیں ایک معین مدت تک مہلت دیئے رکھتا ہوں۔ انسان جتنا بھی اللہ سے دور اور اس کا سرکش ہوجائے اللہ تعالیٰ پھر بھی اسے مدت مدید تک مہلت دیے رکھتا ہے تاکہ میرا بندہ میری رحمت کا حقدار ہوجائے۔ لیکن لوگوں نے توحید خالص کا عقیدہ قبول کرنے کی بجائے انبیاء ( علیہ السلام) کو یہ بھی جواب دیا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔ اس دعوت کے پیچھے تمہارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں اور معبودوں کے عقیدہ اور طریقہ سے روک دیا جائے۔ ہم تمہاری دعوت اور باتوں پر مطمئن نہیں۔ اس لیے ہمارے سامنے کوئی بھاری معجزہ پیش کرو۔ کچھ اہل علم نے شک سے مراد فکری تذبذب لیا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ لوگ انبیاء ( علیہ السلام) کی عظیم اور پر خلوص جدو جہد کے باوجود عقیدہ توحید کو نہ سمجھ سکے مگر شرک کے بارے میں ضرور شک کا شکار ہوگئے۔ صد احترام کے باوجود اس توجیہہ کے ساتھ اتفاق کرنے کو دل نہیں مانتا۔ کیونکہ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کی ذات کے منکر تھے۔ جس طرح آج مادہ پرست سائنسدان اور عام لوگ انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے مشرک صرف ایک اللہ کو حاجت روا، مشکل کشا ماننے کی بجائے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تنہا ہماری مشکلات حل نہیں کرسکتا اور نہ ہی برائے راست ہماری فریادیں سنتا ہے۔ یہی وہ شک اور مشرکانہ عقیدہ ہے۔ جس میں ہلاک ہونے والی اقوام مبتلا تھیں۔ مسائل ١۔ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک میں مبتلا تھے۔ ٢۔ زمین و آسمان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ ٤۔ کفار انبیاء (علیہ السلام) سے بار بارمعجزات طلب کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کا انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ رویہ : ١۔ کفار کہتے تھے کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (ابراہیم : ١٠) ٢۔ کفار نے انبیاء سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : ١٣) ٣۔ حضرت نوح کو قوم کا جواب جب ان کے پاس رسول معجزات لے کر آئے تو انہوں نے انکار کیا۔ (المومن : ٢٢) ٤۔ حضرت نوح کو قوم کے سرداروں نے کہا تو تو ہمارے جیسا ہی ایک آدمی ہے اور تیری پیروی کرنے والے بھی ادنیٰ لوگ ہیں۔ (ھود : ٢٧) ٥۔ قوم عاد نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور رسولوں کی نافرمانی کی۔ (ھود : ٥٩) ٦۔ حضرت موسیٰ کو فرعون نے کہا کیا تم اپنے جادو سے ہمیں ہماری زمین سے نکالنا چاہتے ہو۔ (طٰہٰ : ٥٧ ) ٧۔ کافروں کے پاس جب حق آیا تو انہوں نے اسے واضح طور پر جادو قرار دیا۔ (سبا : ٤٣) ٨۔ کفار نے نبی اکرم کو جادو گر قرار دیا۔ (الفرقان : ٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ یہ پیغمبروں کا جواب ہے اور استفہام انکاری ہے، ” فِیْ اللہِ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق ہے اس کی توحید میں تو شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں کیونکہ مسئلہ توحید اس قدر واضح ہے کہ کائنات کا ذر ذرہ اس پر شاہد ہے ” استفہام معناہ الانکار ای لاشک فی اللہ ای فی توحیدہ قالہ قتادۃ “ (قرطبی ج 9 ص 346) ۔ 12:۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی شان رحمت دیکھو کہ وہ ہمارے ذریعے تم کو سچے دین کی دعوت دیتا ہے تاکہ تم اسے قبول کرلو اور تمہارے گناہ معاف ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ ” ثم انہ بعد ان اشیر الی ادلیل الدال علی تحقق ما ھم فی شک منہ نبہ علی عظم کرمہ ورحمتہ تعالیٰ فقیل یدعوکم الخ “ (روح ج 13 ص 195) ۔ 13:۔ مشرکین نے محض عناد و مکابرہ کے طور پر انبیاء (علیہم السلام) کو یہ طعن دیا کہ تم تو ہم جیسے بشر ہو تم میں کونسی فضیلت تھی کہ تمہیں نبوت مل گئی تم نے یہ ہمیں اپنے باپ دادا کے معبودوں کی عبادت سے روکنے کا محض ایک بہانہ تراش لیا ہے کہ اللہ نے تم کو نبوت دی ہے۔ اور اگر واقعی تم اللہ کے پیغمبر ہو اور واقعی اللہ نے تمہیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنے کے لیے بھیجا ہے تو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے ہم جو بھی معجزہ طلب کریں ہمیں دکھا دو ۔ مشرکین کا یہ مطالبہ سراسر عناد اور ضد کی وجہ سے تھا کیونکہ جو بھی پیغمبر اللہ نے بھیجا ہے اس کو زمانہ حال کے مطابق معزے بھی دئیے ہیں مگر منکرین ان معجزوں کو دیکھ کر ایمان نہ لائے اور مزید معجزے لانے کا محض عنادًا مطالبہ کردیا ” و ھٰذَ الطلب کان بعد اتیانھم (علیہم السلام) لھم من الایات الظاھرۃ والبینات الباھرۃ ما تخر لہ الجبال الصم، اقدمھم علیہ العناد و المکابرۃ “ (روح ج 13 ص 198) ۔” عَمَّا “ میں ما موصولہ سے معبودانِ باطلہ مراد ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

10 ۔ ان کے پیغمبروں نے اس انکار اور گستاخی کے جواب میں کہا کیا تم لوگوں کو اس اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو اس لئے دعوت دیتا ہے تا کہ تمہارے گزشتہ گناہ معاف کر دے اور ایک مقررہ وقت تک تم کو اطمینان اور خیر خوبی سے زندگی بسر کرنے کا موقعہ دے قوم کے لوگ کہنے لگے تم کو خدا کافر ستادہ کس طرح سمجھ لیا جائے تم کچھ نہیں مگر ہم جیسے ایک بشر اور آدمی ہو تم یہ چاہتے ہو اور تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دو جن کو ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے چونکہ تم نبوت کے مدعی ہو۔ لہٰذا ان دلائل وبراہین کو چھوڑ کر جو تم لائے ہو تو کوئی صاف وصریح معجزہ پیش کرو۔ یعنی جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے یہی بات اس کی وحدانیت اور توحید کے لئے کافی ہے اس کے بارے میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہم اس کی طرف سے داعی ہیں وہ تم کو دعو ت دیتا ہے کہ اس پر ایمان لے آئو تا کہ تمہارے گزشتہ گناہ معاف کردے اور ایمان لانے سے یہ فائدہ ہوگا کہ تم کو اطمینان ہوگا اور تمہاری زندگی خیر خوبی سے گزرے گی اور تم پر دنیا میں آخرت میں اس کے انعام اور رحمت کے دروازے کھل جائیں گے اس کے جواب میں جو کچھ قوم کے لوگوں نے کہا وہ یہ کہ تم بشر ہو اور بشریت نبوت کے منافی ہے تم ہمارے بڑوں کے طریقے سے روکنا چاہتے ہو اب تم اس قسم کے دلائل کو چھوڑ کر کوئی معجزہ نہ لائو۔