Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 22

سورة إبراهيم

وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَ وَعَدۡتُّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُکُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِیۡ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِیۡ وَ لُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِیَّ ؕ اِنِّیۡ کَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۲﴾

And Satan will say when the matter has been concluded, "Indeed, Allah had promised you the promise of truth. And I promised you, but I betrayed you. But I had no authority over you except that I invited you, and you responded to me. So do not blame me; but blame yourselves. I cannot be called to your aid, nor can you be called to my aid. Indeed, I deny your association of me [with Allah ] before. Indeed, for the wrongdoers is a painful punishment."

جب اور کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا شیطان توکہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے ان کے خلاف کیا میرا تو تم پر کوئی دباؤ تو تھا نہیں ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی ، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Shaytan disowns His Followers on the Day of Resurrection Allah tells: وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الاَمْرُ ... And Shaytan will say when the matter has been decided: Allah narrates to us what Iblis will say to his followers after Allah finishes with the judgement between His servants, sending the believers to the gardens of Paradise and the disbelievers to the lows (of the Fire). Iblis, may Allah curse him, will stand and address the latter, in order to add depression to their depression, sorrow to their sorrow and grief to their grief. He will declare, ... إِنَّ اللّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ ... `Verily, Allah promised you a promise of truth. by the words of His Messengers that if you follow them, you will gain safety and deliverance. Truly, Allah's promise was true and correct news, while I promised you then betrayed you.' ... وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ... And I too promised you, but I betrayed you. Allah said in another Ayah, يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمْ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُوراً He (Shaytan) makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaytan's promises are nothing but deceptions. (4:120) ... وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ ... I had no authority over you, Shaytan will say, `I had no proof for what I called you to, nor evidence for what I promised you, ... إِلاَّ أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ... except that I called you, and you responded to me. even though the Messengers establish the proof and unequivocal evidences against you and affirmed the truth of what they were sent to you with. But you disobeyed the Messengers and ended up earning this fate, ... فَلَ تَلُومُونِي ... So blame me not, (today), ... وَلُومُواْ أَنفُسَكُم ... but blame yourselves, because it is your fault for defying the proofs and following me in the falsehood that I called you to.' Shaytan will say next, ... مَّا أَنَاْ بِمُصْرِخِكُمْ ... I cannot help you, I cannot benefit, save, or deliver you from what you are suffering, ... وَمَا أَنتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ... nor can you help me. nor can you save me and deliver me from the torment and punishment I am suffering, ... إِنِّي كَفَرْتُ بِمَأ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ... I deny your former act of associating me (Shaytan) as a partner with Allah. or because you associated me with Allah before,' according to Qatadah. Ibn Jarir commented; "I deny being a partner with Allah, the Exalted and Most Honored." This opinion is the most plausible, for Allah said in other Ayat, وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَأيِهِمْ غَـفِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ And who is more astray than one who calls on others besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are (even) unaware of their calls to them! And when mankind are gathered, they will become their enemies and will deny their worshipping. (46:5-6) and, كَلَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدّاً Nay, but they (the so-called gods) will deny their worship of them, and become opponents to them. (19:82) Allah said next, ... إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ Verily, there is a painful torment for the wrongdoers." إِنَّ الظَّالِمِينَ (Verily, the wrongdoers), who deviate from truth and follow falsehood, will earn a painful torment. It appears that this part of the Ayah narrates the speech that Shaytan will deliver to the people of the Fire after they enter it, as we stated. Amir Ash-Sha`bi said, "On the Day of Resurrection, two speakers will address the people. Allah the Exalted will say to `Isa, son of Maryam, أَءَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ Did you say unto men: "Worship me and my mother as two gods besides Allah!" (5:116) until, قَالَ اللَّهُ هَـذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّـدِقِينَ صِدْقُهُمْ Allah will say: "This is a Day on which the truthful will profit from their truth." (5:119) Shaytan, may Allah curse him, will stand and address the people, ... وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ... I had no authority over you except that I called you, and you responded to me. Allah after mentioning the final destination of the miserable ones, who earned the disgrace and torment and having to listen to Shaytan address them, then He mentioned the final destination of the happy ones. Allah says:

طوطا چشم دشمن شیطان اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضا سے فارغ ہو گا ، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے ، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ اللہ کے وعدے سچے اور بر حق تھے ، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی ، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لئے سبز باغ دکھایا کرتا تھا ۔ میری باتیں بےدلیل تھیں میرا کلام بےحجت تھا ۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے ۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی بادلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کر دیں ۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی ۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا ، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں ۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں جیسے فرمان الہٰی ہے آیت ( ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ ) الخ ، اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے ؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کر سکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں ۔ اور آیت میں ہے آیت ( کلا سیکفرون بعبادتہم ) الخ ، یقینا وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے یہ ظالم لوگ ہیں اس لئے کہ حق سے منہ پھیر لیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لئے المناک عذاب ہیں ۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا ۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں ۔ لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہو گی ۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں ، اب ہماری سفارش کے لئے کون کھڑا ہو گا ؟ پس حضرت آدم حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے ۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے ۔ مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہو گی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہو جائے گا ۔ اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کر لے چلیں اور اس کے لئے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے ؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا ۔ چلو اسی سے عرض کریں ۔ آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پالیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا ۔ اس لئے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہو گا ۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بد بو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بد بو نہ پہنچی ہو ۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے ۔ محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب جہنمی اپنا صبر اور بےصبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہو جائیں گے ندا آئے گی کہ تمہاری اس وقت کی اس بےزاری سے بھی زیادہ بےزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے ۔ عامر شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے ۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا یہ آیتیں ( ھذا یوم ینفع الصادقین ) الخ تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا آیت ( وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ 22؁ ) 14- ابراھیم:22 ) برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ایمان دار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں ۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں ۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہو گا جیسے فرمان ہے آیت ( حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ 71؀ ) 39- الزمر:71 ) ، یعنی جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لئے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے ، الخ ۔ اور آیت میں ہے ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے اور آیت میں ہے کہ وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے ۔ اور آیت میں ہے آیت ( دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١0 ؀ۧ ) 10- یونس:10 ) ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہو گا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہوگا ۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہو گی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 یعنی اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے تو شیطان جہنمیوں سے کہے گا 22۔ 2 اللہ نے جو وعدے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے کئے تھے کہ نجات میرے پیغمبروں پر ایمان لانے میں ہے۔ وہ حق پر تھے ان کے مقابلے میں میرے وعدے تو سراسر دھوکا اور فریب تھے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا ' شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے لیکن شیطان کے یہ وعدے محض دھوکا ہیں ' (النساء۔ 20) 22۔ 3 دوسرا یہ کہ میری باتوں میں کوئی دلیل و حجت نہیں ہوتی تھی، نہ میرا کوئی دباؤ ہی تم پر تھا۔ 22۔ 4 ہاں میری دعوت اور پکار تھی، تم نے میری بےدلیل پکار کو مان لیا اور پیغمبروں کی دلیل و حجت سے بھرپور باتوں کو رد کردیا۔ 22۔ 5 اس لئے قصور سارا تمہارا اپنا ہی ہے تم نے عقل و شعور سے ذرا کام نہ لیا، دلائل واضحہ کو تم نے نظر انداز کردیا، اور مجرد دعوے کے پیچھے لگ رہے، جس کی پشت پر کوئی دلیل نہیں۔ 22۔ 6 یعنی نہ میں تمہیں عذاب سے نکلوا سکتا ہوں جس میں تم مبتلا ہو اور نہ تم اس قہر و غضب سے مجھے بچا سکتے ہو جو اللہ کی طرف سے مجھ پر ہے۔ 22۔ 7 مجھے اس بات سے بھی انکار ہے کہ میں اللہ کا شریک ہوں، اگر تم مجھے یا کسے اور کو اللہ کا شریک گردانتے رہے تو تمہاری اپنی غلطی اور نادانی تھی، جس اللہ نے ساری کائنات بنائی تھی اور اس کی تدبیر بھی وہی کرتا رہا، بھلا اس کا کوئی شریک کیونکر ہوسکتا تھا۔ 22۔ 8 بعض کہتے ہیں کہ یہ جملہ بھی شیطان ہی کا ہے اور یہ اس کے مذکورہ خطبے کا تتمہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان کا کلام مِنْ قَبْلُ پر ختم ہوگیا، یہ اللہ کا کلام ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] یعنی جب لوگوں کے اعمال کا حساب لینے کے بعد اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔ [ ٢٦] شیطان کا دوزخیوں سے خطاب :۔ شیطان چونکہ خود بھی دوزخ میں جائے گا تو اہل دوزخ کو جو اسے ملامت کر رہے ہوں گے، مخاطب کرکے کہے گا۔ دیکھو ! ایک وعدہ تو تم سے اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ کیا تھا جو یہ تھا کہ قیامت کا دن یقیناً آنے والا ہے اس دن ہر شخص کی اللہ کے حضور پیشی ہوگی۔ ہر ایک سے اس کے اعمال دنیا سے متعلق باز پرس ہوگی پھر اعمال کے مطابق ہر ایک کو جزا یا سزا دی جائے گی۔ یہ وعدہ بالکل سچا تھا جسے تم نے خود مشاہدہ کرلیا ہے۔ اور ایک وعدہ میں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ تم سے کیا تھا۔ جو یہ تھا کہ روز آخرت کا تصور محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ مرنے کے بعد انسان مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ ہزاروں سال بعد وہ کیونکر دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے۔ لہذا جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے۔ لہذا یہاں خواہ مخواہ کی اپنے آپ پابندیاں لگا کر اپنے آپ کو جکڑ بند کیے رکھنا کون سی دانشمندی ہے ؟ اس دنیا میں جتنی زندگی ہے عیش و آرام سے گزارنی چاہیے یا یہ وعدہ کیا تھا کہ فلاں پیر اور فلاں بزرگ کا دامن پکڑ لو، اس کی بیعت کرلو اور اس کے حضور نذر و نیاز پیش کردیا کرو۔ اگر آخرت کا دن ہوا بھی تو وہ بزرگ تمہیں سفارش کرکے اللہ سے بچالیں گے۔ شیطان کا اعتراف کہ میرا وعدہ جھوٹا تھا :۔ میں آج اقرار کرتا ہوں کہ میرا وعدہ جھوٹا تھا۔ مگر ایک بات ضرور ہے وہ یہ کہ میں نے صرف ان باتوں کی تم میں تحریک پیدا کی تھی۔ تمہیں اس طرف متوجہ ضرور کیا تھا جسے تم نے تسلیم کرلیا لیکن میرے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل تھی کہ تمہیں اس کا قائل کرسکتا اور نہ میرا تم پر کچھ زور چلتا تھا کہ میں تمہیں مجبور کرکے اپنی باتوں پر لگا سکتا۔ لہذا اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی عقلوں کا ماتم کرو۔ آج میں بھی ویسے ہی بےبس ہوں جیسے تم ہو۔ نہ میں تمہاری کچھ حمایت یا مدد کرسکتا ہوں نہ تم میری مدد کرسکتے ہو کیونکہ دونوں ہی یکساں مجرم ہیں۔ [ ٢٧] یعنی تم نے اللہ کے احکام کے علی الرغم میری باتوں پر لگ کر اس کی نافرمانیاں کیں اور میری اطاعت کرکے مجھے یا میرے ایجنٹوں کو جو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں اور برملا اقرار کرتا ہوں کہ اللہ ہی وحدہ لاشریک ہے اور وہی بندگی اور پرستش کے قابل ہے اور تم نے جو میری انگیخت پر کئی قسم کے معبود، حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے یہ سب جھوٹ ہی جھوٹ تھا اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب میں تمہارے شریک بنانے سے پہلے ہی کافر بن چکا تھا تو پھر تم نے مجھے شریک بنایا ہی کیوں تھا ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بِمُصْرِخِكُمْ : ” صُرَاخٌ“ کا معنی چیخنا چلانا ہے جو مصیبت سے بچانے کے لیے بطور فریاد ہوتا ہے۔ ” اَصْرَخَ یُصْرِخُ “ باب افعال میں ہمزہ ازالۂ ماخذ کے لیے ہے، یعنی اس مصیبت کو جو چیخنے کا باعث ہے دور کرنا، جیسے ” شَکَانِیْ فَأَشْکَیْتُہُ “ کہ اس نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کردی۔ اسی لیے عام طور پر ” صُرَاخٌ“ کا معنی فریاد اور ” اِصْرَاخٌ“ کا معنی فریاد رسی کرلیا جاتا ہے۔ ” بِمُصْرِخِيَّ “ اصل میں ” بِمُصْرِخِیْنَ “ جمع مذکر سالم تھا، یاء متکلم کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گرگیا اور یاء کے یاء میں ادغام کے ساتھ ” بِمُصْرِخِیّ “ ہوگیا۔ وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ ۔۔ : فیصلے کے بعد جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جہنمی جہنم میں اور ہر طرف سے شیطان پر ملامت کی بوچھاڑ ہوگی تو شیطان اس کے جواب میں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ حق تھا، کیونکہ وہ ان تمام چیزوں کا مالک تھا جن کا وعدہ کیا تھا، مثلاً مرنے کے بعد زندہ کرنا، جنت، جہنم اور دعا کی قبولیت وغیرہ، اس لیے اس نے وہ وعدہ پورا کیا اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا وہ جھوٹا تھا کہ اس طرح کرو گے تو یہ ہوجائے گا، داتا کو پکارو گے تو یہ ہوگا، دستگیر کو پکارو گے تو یہ ہوگا، کیونکہ ان میں سے کوئی کسی چیز کا مالک ہی نہ تھا اور جو آرزوئیں میں نے تمہارے دل میں ا بھاری تھیں کہ فلاں کی نیاز دینے سے معشوق قدموں میں آ گرتا ہے، فلاں کے نام کا بکرا دینے سے دشمن کا ستیاناس ہوجاتا ہے، ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا : (يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) [ النساء : ١٢٠ ] ” وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔ “ اس لیے اللہ تعالیٰ کی ہمیں تعلیم یہ ہے کہ تم جب بھی وعدہ کرو تو اس چیز کا کرو جو تم کرسکتے ہو، پھر بھی ساتھ ان شاء اللہ ضرور کہو، کیونکہ تمہارا اختیار اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، فرمایا : (وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا 23؀ۙاِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ) [ الکہف : ٢٣، ٢٤ ] ” اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں کل یہ کام ضرور کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ “ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ۔۔ : ” سُلْطَۃٌ“ اور ” سُلْطٰنٍ “ کا مطلب زبردستی کسی پر غلبہ حاصل کرلینا، مسلط ہوجانا ہے۔ یہ تسلط دو طرح کا ہوتا ہے، ایک حکومت کے ذریعے سے ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ شیطان کی ان پر کوئی حکومت نہ تھی کہ وہ ان پر کوئی فوج چڑھا لایا تھا اور ایک سلطان اور غلبہ صحیح دلیل کا ہوتا ہے، کیونکہ وہ دلیل دل پر قابو پا لیتی ہے اور آدمی اس کے مطابق عمل پر مجبور ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان کے پاس ڈنڈا بھی نہ تھا اور کوئی معقول دلیل بھی نہ تھی، چناچہ وہ کہے گا میں نے تو بس اتنا کیا تھا کہ تمہیں کچھ کاموں کی دعوت دی، وہ تمہاری کمزوریوں، مثلاً حرص، شہوت، غصے، بزدلی وغیرہ کے عین مطابق تھی اور اس میں تمہاری خواہشات کو ابھارا گیا تھا، تم نے فوراً اسے قبول کرلیا ( أَجَبْتُمْ اور اِسْتَجَبْتُمْ کے فرق کو ملحوظ رکھیں) اس لیے مجھے ملامت مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو، کیونکہ اپنی مرضی سے گناہ تم نے کیا، میں نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ اب نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو نہ میں تمھاری۔ سورة نحل کی آیت (١٠٠) میں شیطان کے سلطان کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا تھا میں اس کا انکار کرتا ہوں، کیونکہ عبادت تو صرف اللہ کا حق تھا، اسی طرح حکم ماننا تم پر صرف اللہ کا حق تھا اور وہ بھی اس کی عبادت میں شامل تھا، تم نے اس کے بجائے میرا حکم مانا، میری عبادت کی، مجھے اس کا شریک بنایا، اب میں اس سے صاف لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ تم نے میری نہیں بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کی اور تم اللہ کے بجائے مجھے نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان کے بنائے ہوئے دستگیروں اور داتاؤں کو پکارتے رہے ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ ) [ النجم : ٢٣ ] ” یہ لوگ (مشرکین) صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔ “ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: یہ بطور اعتراف شیطان کی بات کا آخری حصہ بھی ہوسکتا ہے جس سے پہلے وہ چھ باتیں کہہ کر ان سے بری ہوچکا ہے : 1 میرا وعدہ جھوٹا تھا۔ 2 میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا۔ 3 تم نے دلیل سے خالی دعوت قبول کی۔ 4 مجھے ملامت کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔ 5 میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ 6 تم نے مجھے جو شریک بنایا میں اسے نہیں مانتا۔ 7 یہ آخری بات ہے کہ ظالموں (مشرکوں) کے لیے عذاب الیم ہے۔ (خلاصہ از شوکانی) اور یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہوسکتا ہے جو اظہار حقیقت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ۭ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۭ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ۭ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 22؁ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ خُلف ( عهد شكني) والخُلْفُ : المخالفة في الوعد . يقال : وعدني فأخلفني، أي : خالف في المیعاد بما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] ( خ ل ف ) خُلف الخلف کے معنی وعدہ شکنی کے میں محاورہ ہے : اس نے مجھ سے وعدہ کیا مگر اسے پورا نہ کیا ۔ قرآن میں ہے ۔ بِما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا ۔ استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] ، وقال تعالی: وَإِذا سَأَلَكَ عِبادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي[ البقرة/ 186] ، الَّذِينَ اسْتَجابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما أَصابَهُمُ الْقَرْحُ [ آل عمران/ 172] . ( ج و ب ) الجوب الاستحابتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔ قرآن میں ہے : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو ۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری ( دعا ) قبول کرونگا ۔ فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] تو ان کے پرور گار نے ان کی دعا قبول کرلی ۔ وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی ( دعا) قبول فرماتا وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں وَإِذا سَأَلَكَ عِبادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] اور اے پیغمبر جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو ( کہہ دو کہ ) میں تو ( تمہارے پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں ۔ الَّذِينَ اسْتَجابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما أَصابَهُمُ الْقَرْحُ [ آل عمران/ 172] جنهوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول کے حکم کو قبول کیا ۔ لوم اللَّوْمُ : عذل الإنسان بنسبته إلى ما فيه لوم . يقال : لُمْتُهُ فهو مَلُومٌ. قال تعالی: فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ [إبراهيم/ 22] ، فَذلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ [يوسف/ 32] ، وَلا يَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ [ المائدة/ 54] ، فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ [ المؤمنون/ 6] ، فإنه ذکر اللّوم تنبيها علی أنه إذا لم يُلَامُوا لم يفعل بهم ما فوق اللّوم . ( ل و م ) لمتہ ( ن ) لوما کے معنی کسی کو برے فعل کے ارتکاب پر برا بھلا کہنے اور ملامت کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ [إبراهيم/ 22] تو آج مجھے ملامت نہ کرو ا پنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ فَذلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ [يوسف/ 32] یہ وہی ہے جس گے بارے میں تم ۔ مجھے طعنے دیتی تھیں ۔ وَلا يَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ [ المائدة/ 54] اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔ اور ملوم ( ملامت کیا ہوا ) صفت مفعولی ۔ ہے اور آیت کریمہ : فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ [ المؤمنون/ 6] ان سے مباشرت کرنے میں انہیں ملامت نہیں ہے ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ جب ان پر ملامت ہی نہیں ہے ۔ تو اس سے زیادہ سرزنش کے وہ بالاولےٰ مستحق نہیں ہیں ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢) جب اہل جنت، جنت میں اور دوزخی، دوزخ میں داخل کردیے جائیں گے تو شیطان دوزخ میں دوزخیوں سے کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی تم سے جنت دوزخ بعث بعد الموت حساب، کتاب پل صراط میزان اعمال کے سچے وعدے کیے تھے اور میں نے بھی تم سے وعدے کیے تھے کہ جنت دوزخ حساب، کتاب، بعث بعد الموت، پل صراط، میزان اعمال کچھ نہیں ہوگا اور میرے ان جھوٹے وعدوں پر دلائل قطعیہ قائم تھے اور میری تم پر کوئی حجت اور قدرت کا زور تو چلتا نہیں تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں اپنی طرف بلایا بلکہ زیادہ ملامت اپنے آپ کو کرو کیوں کہ تم نے میری بات پر عمل کیا، نہ میں تمہارا مددگار ہوں اور نہ تمہیں دوزخ سے بچانے والا ہوں اور نہ تم میرے مددگار ہو اور نہ مجھ کو دوزخ سے بچانے والے ہو، میں تو خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس سے پہلے مجھے اللہ کا شریک قرار دیتے تھے اور اس دن سے قبل دنیا میں جو تم نے دین اختیار کیا تھا اور میری بات مانی تھی، میں ان سب باتوں سے اور تم سے بھی بیزار ہوں، یقیناً کافروں کو ایسا دردناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت پوری طرح ان کے دلوں تک اتر جائے گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢ (وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ ) جب تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا تو شیطان کہے گا : (وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ) میں تم پر کسی قسم کا جبر نہیں کرسکتا تھا اور تمہیں زبردستی برائی کی طرف نہیں لاسکتا تھا۔ یہ اختیار مجھے اللہ نے دیا ہی نہیں تھا۔ (اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ) میں نے تم لوگوں کو ورغلایا معصیت کی دعوت دی اللہ کی نافرمانیوں اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دی اور تم لوگوں نے میرا کہا مان لیا۔ (فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سارے احکام تمہارے سامنے تھے اس کے راستے کے تمام نشانات تم پر واضح تھے۔ ان سے روگردانی کر کے تم لوگوں نے اپنی مرضی سے میرے راستے کو اختیار کیا۔ میں تمہیں زبردستی کھینچ کر اس طرف نہیں لے کر آیا۔ چناچہ آج مجھے کو سنے کے بجائے اپنے آپ کو لعن طعن کرو۔ (اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ) تم نے دنیا میں جو کچھ بھی کیا تھا انتہائی غلط کیا تھا۔ تم لوگوں کو اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے تھا اور اس کے وعدے پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ تم لوگ نہ صرف اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال کر میرا کہنا مانتے رہے بلکہ مجھے اس کے برابر کا درجہ بھی دیتے رہے۔ آج میں تمہارے ان سب اعتقادات سے اعلان براءت کرتا ہوں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30. When the criminals will charge Satan with leading them astray, he will plead guilty, as if to say: You yourselves see now that all the promises and warnings made by Allah have come out true and all the promises which I made have proved to be false. I also confess that it was all deception that I gave you false assurances of prosperity, beguiled you by greed and enticed you in the snare of great expectations. I assured you that in the first instance there will be no life in the Hereafter, and that, if there be any, you will be freed by the intercession of such and such a saint. The only thing you have to do is to make offerings before him: then you may do whatever you please, for he will deliver you from all the consequences. I repeat that I said all these things and asked my agents to say the same. 31. That is, you cannot say and prove that it was I who forced you to follow the wrong way, whereas you wanted to follow the right way. You will yourselves admit that it is not so. I did no more than this that I invited you to falsehood in opposition to the invitation to the truth and tempted you to vice instead of virtue. But I had no power to force you to the wrong way, if you desired to follow the right way, when you had the power and the option to follow either of the ways. Now I am ready to bear the burden of the wicked invitation I extended to you, but you are not justified in any way to throw on me the burden of accepting my invitation for you did it on your own responsibility. You should, therefore, yourselves bear all its consequences. 32. This is a clear proof of shirk in practice, as apart from shirk in creed. As Satan will charge his followers with making him a partner with God, it is obvious that as far as creed is concerned there is no one who makes Satan a partner with God in His Godhead or His worship: nay, every one curses him for his evil ways. Nevertheless, people obey and submit to him and follow him blindly, as if he were their god and that is what has been termed shirk. Let us now consider this thesis from the opposite point of view. Someone might say that this does not hold good, for this is based on a mere saying of Satan which has been cited here. First, this objection is not sound because Allah Himself would have refuted it, had it been baseless. Secondly, this is not the only instance of shirk in practice in the Quran. Here are a few more instances of this. (a) It charges the Jews and Christians with shirk because they set up their priests and monks as their Lords besides Allah. (Surah At-Tauba, Ayat 31). (b) Those who follow the superstitious customs have been called mushriks. (Surah Al-Anaam, Ayats 136-139). (c) Those who follow their lusts have been charged with making their selves as their god. (Al-Furqan, Ayat 43). (d) Those who are disobedient to Allah have been accused of worshiping Satan. (Suranh Saba, Ayat 60). (e) Those who follow man made laws without Allah’s sanction have been reproved for setting up the makers of the laws without Allah’s sanction as partners with God. (Surah Ham-Sajdah, Ayat 21). All the above instances are clear proofs of the fact that shirk is not confined to this creed alone that one might set up a partner with Allah in His Godhead as an article of faith. But it is also shirk that one should follow and surrender to someone other than Allah without any divine sanction or in spite of a divine prohibition. Such a one shall be guilty of shirk even though the follower might be at the same time cursing him whom he follows and obeys. The only difference between the two kinds of shirk may be the extent of the crime and not its nature.

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :30 یعنی تمہارے تمام گلے شکوے اس حد تک تو بالکل صحیح ہیں کہ اللہ سچا تھا اور میں جھوٹا تھا ۔ اس واقعے سے مجھے ہرگز انکار نہیں ہے ۔ اللہ کے وعدے اور اس کی وعیدیں ، تم دیکھ ہی رہے ہو کہ ان میں سے ہر بات جوں کی توں سچی نکلی ۔ اور میں خود مانتا ہوں کہ جو بھروسے میں نے تمہیں دلائے ، جن فائدوں کے لالچ تمہیں دیے ، جن خوشنما توقعات کے جال میں تم کو پھانسا اور سب سے بڑھ کر یہ یقین جو تمہیں دلایا کہ اول تو آخرت واخرت کچھ بھی نہیں ہے ، سب محض ڈھکوسلا ہے ، اور اگر ہوئی بھی تو فلاں حضرت کے تصدق سے تم صاف بچ نکلو گے ، بس ان کی خدمت میں نذر و نیاز کی رشوت پیش کرتے رہو اور پھر جو چاہو کرتے پھرو ، نجات کا ذمہ ان کا ، یہ ساری باتیں جو میں تم سے کہتا رہا اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے کہلواتا رہا ، یہ سب محض دھوکا تھا ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :31 یعنی اگر آپ حضرات ایسا کوئی ثبوت رکھتے ہو کہ آپ خود راہ راست پر چلنا چاہتے تھے اور میں نے زبردستی آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو غلط راستے پر کھینچ لیا ، تو ضرور اسے پیش فرمائیے ، جو چور کی سزا سو میری ۔ لیکن آپ خود مانیں گے کہ واقعہ یہ نہیں ہے ۔ میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ دعوت حق کے مقابلے میں اپنی دعوت باطل آپ کے سامنے پیش کی ، سچائی کے مقابلہ میں جھوٹ کی طرف آپ کو بلایا ، نیکی کے مقابلہ میں بدی کی طرف آپ کو پکارا ۔ ماننے اور نہ ماننے کے جملہ اختیارات آپ ہی حضرات کو حاصل تھے ۔ میرے پاس آپ کو مجبور کرنے کی کوئی طاقت نہ تھی ۔ اب اپنی اس دعوت کا ذمہ دار تو بلا شبہہ تو میں خود ہوں اور اس کی سزا بھی پا رہا ہوں ۔ مگر آپ نے جو اس پر لبیک کہا اس کی ذمہ داری آپ مجھ پر کہاں ڈالنے چلے ہیں ۔ اپنے غلط انتخاب اور اپنے اختیار کے غلط استعمال کی ذمہ داری تو آپ کو خود ہی اٹھانی چاہیے ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :32 ”یہاں پھر شرک اعتقادی کے مقابلہ میں شرک کی ایک مستقل نوع یعنی شرک عملی کے وجود کا ایک ثبوت ملتا ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ شیطان کو اعتقادی حیثیت سے تو کوئی بھی نہ خدائی میں شریک ٹھیراتا ہے اور نہ اس کی پرستش کرتا ہے ۔ سب اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں ۔ البتہ اس کی اطاعت اور غلامی اور اس کے طریقے کی اندھی یا آنکھوں دیکھے پیروی ضرور کی جا رہی ہے ، اور اسی کو یہاں شرک کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ممکن ہے کوئی صاحب جواب میں فرمائیں کہ یہ تو شیطان کا قول ہے جسے اللہ تعالی نے نقل فرمایا ہے ۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ اول تو اس کے قول کی اللہ تعالی خود تردید فرما دیتا اگر وہ غلط ہوتا ۔ دوسرے شرک عملی کا صرف یہی ایک ثبوت قرآن میں نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد ثبوت پچھلی سورتوں میں گزر چکے ہیں اور آگے آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہودیوں اور عیسائیوں کو یہ الزام کہ وہ اپنے احبار اور رہبان کو ارباب من دون اللہ بنائے ہوئے ہیں ( التوبہ ۔ آیت ۱۳۷ ) ۔ خواہشات نفس کی بندگی کرنے والوں کے متعلق یہ فرمانا کہ انہوں نے اپنی خواہش نفس کو خدا بنا لیا ہے ( الفرقان ۔ آیت نمبر ٤۳ ) ۔ نافرمان بندوں کے متعلق یہ ارشاد کہ وہ شیطان کی عبادت کرتے رہے ہیں ( یٰسین ۔ آیت ٦۰ ) ۔ انسانی ساخت کے قوانین پر چلنے والوں کو ان الفاظ میں ملامت کہ اذن خداوندی کے بغیر جن لوگوں نے تمہارے لیے شریعت بنائی ہے وہ تمہارے ”شریک“ ہیں ( الشوریٰ ۔ آیت نمبر ۲۱ ) ۔ یہ سب کیا اسی شرک عملی کی نظیریں نہیں ہیں جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے؟ ان نظیروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی صرف یہی ایک صورت نہیں ہے کہ کوئی شخص عقیدۃ کسی غیر اللہ کو خدائی میں شریک ٹھیرائے ۔ اس کی ایک دوسری صورت یہ بھی ہے کہ وہ خدائی سند کے بغیر ، یا احکام خداوندی کے علی الرغم ، اس کی پیروی اور اطاعت کرتا چلا جائے ۔ ایسا پیرو اور مطیع اگر اپنے پیشوا اور مطاع پر لعنت بھیجتے ہوئے بھی عملا یہ روش اختیار کر رہا ہو تو قرآن کی رو سے وہ اس کو خدائی میں شریک بنائے ہوئے ہے ، چاہے شرعا اس کا حکم بالکل وہی نہ ہو جو اعتقادی مشرکین کا ہے ۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام ، حاشیہ نمبر ۸۷ و ۱۰۷ ۔ الکہف حاشیہ ۵۰ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شیطان کو شریک ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ایسی ہی اطاعت کی جائے جیسی اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے۔ شیطان اس وقت کہے گا کہ اب میں تمہارے اس طریق کار کے صحیح ہونے کا انکار کرتا ہوں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٢۔ اوپر چھوٹے بہکانے والوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں سب سے بڑے بہکانے والے کا ذکر فرمایا اس آیت میں شیطان کی جن باتوں کا ذکر ہے یہ اس وقت کی شیطان کی باتیں ہیں جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے۔ چناچہ خود اللہ تعالیٰ نے آیت میں صراحت فرما دی ہے کہ جب فیصلہ ہوچکے گا اس وقت شیطان یہ باتیں کرے گا۔ تفسیر شعبی میں جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے طور پر کھڑے ہو کر شیطان یہ باتیں کرے گا۔ تفسیر شعبی میں جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے طور پر کھڑے ہو کر شیطان یہ باتیں کرے گا چناچہ شعبی کی روایت کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دو خطیب لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خطبہ پڑھ کر نصاریٰ کی ان باتوں کو جھٹلا دیں گے جو نصاریٰ نے ان کی اور حضرت مریم کی طرف شرک کے طور پر لگائی ہیں دوسرا خطبہ شیطان پڑھے گا جس خطبہ میں ان باتوں کا ذکر ہوگا جن باتوں کا اس آیت میں ذکر ١ ؎ ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس خطبے سے پہلے میدان حشر میں بھی شیطان ایک خطبہ پڑھے گا اس خطبہ میں یہی باتیں ہوں گی جن باتوں کا اس آیت میں ذکر ہے یہ خطبہ اس وقت وہ پڑھے گا جب اس کے فرمانبردار لوگ اس سے کہویں گے کہ اچھے لوگوں کی جس طرح انبیاء نے شفاعت کی ہے تو ہماری شفاعت کر کیوں کہ دنیا میں اچھے لوگ جیسا انبیاء (علیہ السلام) کا کہنا مانتے تھے اسی طرح ہم تیرا کہنا مانتے تھے۔ اس وقت شیطان صاف الگ ہوجاوے گا اور کہوے گا کہ انبیاء نے تو اللہ کا سچا وعدہ پہنچایا تھا میں نے تو تم کو دم دیا تھا تم انبیاء کی مضبوط باتیں چھوڑ کر میرے دم میں کیوں آگئے اس کا وبال تم پر ہے مجھ پر کیا الزام ہے ٢ ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ نیک کاموں کی رغبت دلانے کے لئے اللہ کا ایک فرشتہ اور برے کاموں کی رغبت دلانے کے لئے ایک شیطان ہر آدمی کے ساتھ رہتا ٣ ؎ ہے۔ معتبر سند سے ابو سعید خدری (رض) کی حدیث بھی مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے گزر چکی ہے کہ آسمان پر سے نکالے جانے کے وقت شیطان نے اللہ تعالیٰ کے روبرو جب بنی آدم کے بہکانے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ تیرے بہکانے سے جو کوئی گناہ کرے گا اور پھر خالص دل سے توبہ استغفار کرے گا تو میں بھی اس کے گناہ کے معاف کردینے میں کبھی دریغ نہ کروں گا ٤ ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ تفسیر قرار پائی کہ ایک فرشتہ تعینات کرکے گناہ سے بچنے کا اور گناہ ہوجانے کے بعد توبہ استغفار سے گناہ کے معاف کردینے کا جب اللہ تعالیٰ نے پورا انتظام کردیا ہے تو پھر جو شخص اس انتظام کی پابندی نہ کرے گا اس کا الزام اس کے ذمہ ہے اسی واسطے قیامت کے دن گنہگار لوگوں سے شیطان صاف کہہ دے گا کہ تم لوگ مجھ کو کیا الزام دیتے ہو اپنے آپ کو الزام دو کہ تم نے اللہ کے انتظام کی پابندی نہیں کی یہ ایک جگہ گزر چکا ہے کہ عامر بن شراحیل شعبی ثقہ تابعیوں میں ہیں۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٩ ھ ج ٢۔ ٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ٢٩ ھ ج ٢۔ ٣ ؎ صحیح مسلم ص ٣٧٦ ج ٢ باب فخریش الشیطان الخ۔ ٤ ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص ٣٦٥ و جلدو دوم ص ٣٣٧

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:22) لما قضی الامر۔ جب معاملہ طے ہوچکے گا۔ یعنی جب (سب کی قسمت کا فیصلہ ہوچکے گا) ۔ فاخلفتکم۔ ماضی واحد متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم سے وعدہ خلافی کی اخلاف (افعال) مصدر۔ لا تلومونی۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ اصل میں تلوموننی تھا۔ نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ تم مجھے ملامت نہ کرو۔ تم مجھے الزام مت دو ۔ لوم سے باب نصر۔ لوموا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم ملامت کرو۔ مصرخکم۔ اسم فاعل مضاف۔ کم ۔ ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ ۔ صرخ یصرخ باب نصر۔ چیخنا۔ فریاد کرنا۔ (فعل لازم) ۔ صرخ القوم۔ (فعل متعدی) بمعنی فریاد رسی کرنا۔ مدد کرنا۔ مصرخ فریاد رسی کرنے والا۔ مددگار ۔ ما انا بمصرخکم۔ میں تمہارا فریاد رس نہیں ہوسکتا۔ یعنی میں تمہاری فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ میں تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ کفرت۔ میں انکار کرتا ہوں۔ اشرکتمون۔ تم نے مجھے شریک بنایا۔ اس میں نون وقایہ ہے ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے۔ اشرکتم۔ تم نے شریک بنایا۔ تم نے شرک کیا۔ من قبل۔ ای فی الدنیا۔ اس سے قبل یعنی دنیا میں۔ الیم۔ دردناک۔ دکھ دینے والا۔ فعیل بمعنی فاعل۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، دوزخی پہلے رونے پیٹنے کی صلاح کریں گے چناچہ وہ پانچ سو برس تک خوب روئیں پیٹیں گے لیکن جب دیکھیں گے کہ کوئی فائدہ نہیں ہوا تو صبر کرنے کی صلاح کریں گے چناچہ پانچ سو برس تک صبر کئے رہیں گے۔ پھر جب دیکھیں گے کہ اس سے بھئی کوئی فائدہ نہیں ہوا تو کہیں گے۔ سواء علینا اجر عنا اور صبرنا مالنا من محیص۔ (قرطبی) ۔ 6 ۔ ان لوگوں کو جو اسے الزام دیں گے کہ تو ہی نے ہمیں آف میں پھنسایا۔ حسن (رح) سے مروی ہے کہ ابلیس قیامت کے دن جہنم میں آگے کے منبر پر کھڑا ہو کر یہ اعلان کرے گا اور تمام مخلوقات سن رہی ہوگی۔ (قرطبی) ۔ 7 ۔ یعنی دوزخی دوزخ میں اور جتنی جنت میں جا چکے ہوں گے۔ (دیکھئے سورة مریم آیت 92) ۔ 8 ۔ کہ آخرت آئے گی اور اس میں حساب کتاب ہوگا اور پھر نیک لوگوں کو نیک اور برے لوگوں کو برا بدلے ملے گا۔ (قرطبی) ۔ 9 ۔ کہ آخرت و اُخرت کوئی چیز نہیں ہے اور نہ کوئی حساب و جزا ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے، چند روز زندہ رہ کر فنا ہوجانا ہے اس لئے جتنا عیش کرنا ہے یہیں جی بھر کے کرلو۔ (وحیدی) ۔ 10 ۔ یعنی وہ تو محض فریب کاری تھی جس کے پورا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک روایت میں ہے کہ ابلیس (رض) بلند آواز سے یہ پکارے گا اور اس کی مجلس عفونت سے لبریز ہوگی (قرطبی) ۔ 11 ۔ کہ میں نے تمہیں زبردستی کفر وشرک کے راستے پر لگا دیا ہو۔ 12 ۔ کہ بلا دلیل ہی میرے پیچھے چلتے رہے۔ ایسے لوگوں کو بھی غور کرنا چاہیے جن کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت کی دلیل ہوتے ہوئے اس کے خلاف دوسری شخصیتوں کے اقوال و آراء کی پیروی کرتے ہیں کیا وہ بھی تو اس باطل کی پیروی نہیں کر رہے ہیں جس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے۔ اللھم غفرا۔ (شوکانی) ۔ 13 ۔ اب نہ میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں اور نہ تم میرے کسی کام آسکتے ہو۔ (شوکانی) ۔ 14 ۔ ظاہر ہے کہ شیطان کو اللہ کا شریک بنانا یہ نہیں ہے کہ اسے سجدہ کیا جائے اور معبود سمجھا جائے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اسی کے طور طریق اختیار کئے جائیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٤) اسرارومعارف اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن لو کہ میں نے جھوٹ بولا تھا ، اللہ جل جلالہ نے تمہیں اپنی عبادت کی دعوت اور اس پر اپنی رضا مندی کا وعدہ اخروی اجر کا اور جنت کا وعدہ فرمایا تھا میں نے تمہیں اس سے روکا جھوٹ بول کر دنیاوی لذتوں میں الجھانے کا بہانہ کرکے اور آخرت کا انکار سکھا کر اور میں نے سب جھوٹ کہا اور یہ بھی حق ہے کہ میں تم پر کوئی اختیار نہ رکھتا تھا سوائے اس کے کہ اپنی بات تم تک پہنچاتا رہوں تم نے میرے جھوٹ کو مانا اور اللہ جل جلالہ کے سچے وعدے اور انبیاء کی کھری تعلیم کو ٹھکرا دیا بتاؤ ملامت کا مستحق کون ہے ، انصاف سے کہو کہ تمہیں ملامت کے حقدار ہو لہذا مجھے بھلا برا کہنے کی بجائے اپنے آپ کو کو سو ، اس لیے میں تمہارے کیس کام نہیں آسکتا ، بلکہ خود گرفتار بلا ہوں نہ تم میرے کام آسکتے ہو اور جو تم مجھے اللہ جل جلالہ کا شریک سمجھتے رہے یا میری پوجا کرتے رہے تو میں ایسی خرافات کو بھی نہیں مانتا بھلا تمہارجے پاس کیا دلیل تھی کہ مجھے اللہ جل جلالہ کا شریک قرار دیتے رہے اب اپنا کیا بھگتو میں بھی بھگت رہا ہوں اور یاد رکھو ظالموں کے لیے انجام کار درد ناک عذاب کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ اور انعامات ودرجات کے مستحق تو ایمان لانے والے اور ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال صالح یعنی اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں ہیں کہ ہر وہ کام جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں کیا جائے گا عمل صالح ہوگا ، ان لوگوں کو جنت میں میں داخل کیا جائے گا ایسے باغات جو ہمیشہ شاداب رہنے والے ہیں اور جن میں نہریں جاری ہیں نہ ان باغات کی شادابی کبھی ختم ہوگی اور نہ انہیں کبھی وہاں سے نکالا جائے گا کہ ان کے پروردگار کی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ ایمان اور عمل صالح پر ایسا ہی انعام بخشا جائے بلکہ انہیں وہاں ہر طرف سے ہمیشہ سلامتی سے رہنے کی دعائیں نصیب ہو رہی ہوں گی ، ذرا شان ربوبیت کو اس خوبصورت مثال سے سمجھیں کہ ایمان اس خوبصورت درخت کی مانند ہے جو دل کی گہرائی میں جڑ پکڑتا ہے جیسے کوئی اچھا درخت عین باغ کے درمیان اگا ہو جس کی جڑ گہری اور جو بلندی میں آسمانوں سے بات کرتا دکھائی دے اور جو اپنے رب کے کرم سے ہر آن پھل سے لدا رہتا ہو اسی طرح ایمان کی اساس گہری اور اس پر اعمال کا پودا اگتا ہے جو بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر اس پر اللہ کی عطا سے رضائے باری کا پھل لگتا ہے ، اللہ کریم انسانوں کو بات سمجھانے کے لیے ایسی روشن مثالیں ارشاد فرماتا ہے ۔ کافرانہ عقائد خبیث کلمات ہیں جن کی بنیاد عقلی ادہام پر ہے جیسے کسی ناکارہ زمین کے اوپر ہی اوپر کوئی بیکار سا پودا پھوٹ پڑے اور اگر کوئی پکڑے تو اکھڑ کر ہاتھ میں آجائے کہ اس میں کوئی مضبوطی نہیں ہوتی تو پھل کیا دے گا اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکتا ، اسی طرح اللہ جل جلالہ ایمان والوں کو تو کلمہ طیبہ کی برکت سے ثبات عطا فرماتا ہے کہ دار دنیا ہو موت ہو برزخ کے سوال و جواب ہوں یا میدان حشر کلمہ طیبہ کی برکت یہ ہے کہ مومن ثابت قدم رہتا ہے اور جو لوگ ظلم کی راہ اپناتے ہیں یعنی کلمہ طیبہ کو قبول نہیں کرتے انہیں گمراہی نصیب ہوتی ہے یہ فطری نتائج ہیں جو رب جلیل نے متذکرہ اعمال پر مقرر فرما دیئے ہیں کہ وہ قادر بھی ہے اور کوئی اس کی بارگاہ میں دم مارنے کی جرات بھی نہیں رکھتا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 23 قضی فیصلہ کردیا گیا۔ الامر کام ، حکم وعد اس نے وعدہ کیا۔ اخلفت میں نے وعدہ خلافی کی۔ سلطن دلیل ، قوت، زور۔ دعوت میں نے بلایا، میں نے دعوت دی۔ استجبتم تم نے جواب دیا۔ تم نے قبول کیا۔ لاتلومونی تم مجھے لعنت ملامت نہ کرو۔ مصرخی میرا مددگار، میری فریاد کو پہنچنے والا اشرکتمونی تم نے مجھے شریک کیا۔ مجھے شریک ٹھہرایا۔ ادخل۔ داخل کیا گیا ۔ داخل کئے جائیں گے اذن اجازت ، توفیق۔ تحیۃ دعا۔ سلام سلام، سلامتی۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 23 جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل کر کے اپنی بارگاہ سے نکال دیا تھا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن تک اس بات کے لئے مہلت مانگ لی تھی کہ وہ ثابت کر دکھائے گا کہ انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک کی مہلت عطا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو لوگ سچائی اور تقویٰ کی زندگی والے ہوں گے ان پر شیطان کا داؤ نہ چل سکے گا۔ اب اس دنیا میں شیطان کا کام ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو صراط مستقیم سے بھٹکانے اور ڈگمگانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے جو لوگ اس کے بہکائے میں آ کر پتھر کے بتوں اور اپنے جیسے انسانوں کو معبود بنا کر ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں جب وہ سب کے سب اللہ کے پاس میدان حشر میں جمع ہوں گے تب ان کفار و مشرکین کے لئے بڑا حسرت بھرا دن ہوگا۔ ایک حسرت تو یہ ہوگی کہ شیطان یہ کہہ کر الگ ہوجائے گا کہ اگر میں اس بات کا مجرم ہوں کہ میں نے تمہیں بہکایا تو مجھ پر یہ الزام نہ رکھو تم سب سے بڑے جرم ہو کیونکہ میں نے تمہارے دل میں جو بات ڈالی تھی تم نے اس کو کیوں تسلیم کیا میں نے کونسا تمہارا ہاتھ پکڑ کر اس راستے پر لگایا تھا مجھے لعنت ملامت کرنے سے پہلے خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ دوسری طرف جن بتوں کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا تھا وہ ان کا کیا ساتھ دیں گے وہ تو خود جہنم کا ایندھن ہوں گے ایک حسرت تو ان کو یہ ہوگی کہ ان کے تصوراتی معبود ایک ایک کرکے اس کڑے وقت میں ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ دوسری حسرت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نیک اور پرہیزگار مومنوں کے متعلق فرمائیں گے کہ اے فرشتو ! ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو اللہ کے حکم سے ایسی جنتوں میں داخل کر دو جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں گی۔ کفار اس موقع پر ایک دوسرے کو لعنت کر رہے ہوں گے اور اہل جنت ایک دوسرے کو سلام کر کے سلامتی بھیجتے ہوں گے۔ اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ ایک جماعت کے چہروں پر حسرت و افسوس کے اثٓار ہوں گے اور دسوری جماعت یعنی اہل ایمان و عمل صالح رکھنے والوں کے چہرے خوشی اور مسرت سے چمک اور دمک رہے ہوں گے۔ ایک طرف کفار کے سامنے ہمیشہ کی جہنم کے انگارے دھک رہے ہوں گے۔ دوسری طرف اہل ایمان اس تصور سے خوش اور مگن ہوں گے کہ ان کو ایسی جنتیں عطا کی گئی ہیں جو ان کے پاس ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل ایمان کے گروہ میں شامل فرمائے اور کفار و مشرکین کے جیسے برے انجام سے محفوظ فرمائے۔ آمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ کیونکہ اصلی علت عذاب کی تمہارا ہی فعل ہے اور میرا فعل تو محض سبب ہے جو بعید اور غیر مستلزم ہے۔ 3۔ پس اس سے معبودین غیر اللہ کا بھروسہ بھی قطع ہوا کیونکہ جو ان معبودین کی عبادت کا اصل بانی و محرک ہے جب اس نے صاف جواب دیا تو اور ون سے کیا امید ہوسکتی ہے پس نجات کفار کے سب طریقے مسدود ہوگئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جمع ہو کر شیطان کے پاس جانا۔ قرآن مجید کے سیاق وسباق سے معلوم ہو رہا ہے کہ چھوٹے بڑے جہنمی آپس میں بحث و تکرار اور جھگڑنے کے بعد شیطان اکبر کے پاس جائیں گے۔ اس کے سامنے آہ وزاریاں کرتے ہوئے فریادیں کریں گے کہ ہم سب تیری وجہ سے گمراہ ہوئے اور جہنم میں پہنچے۔ تو دنیا میں ہمیں بڑی امیدیں دلایا کرتا اور ہمارے دلوں میں جھوٹی تسلیاں پیدا کرتا تھا، اب بتا کہ ہمارے لیے جہنم سے نکلنے کا کوئی راستہ ہوسکتا ہے اس حال میں تو ہماری کیا مدد کرسکتا ہے ؟ شیطان اکبر سب سے زیادہ اذیتوں اور عذاب میں مبتلا ہوگا۔ وہ ان سے بھی زیادہ درماندگی اور ذلت و رسوائی کے لہجے میں جواب دے گا کہ میں اپنے اور تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اللہ احکم الحاکمین نے حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ صادر کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے لیے جنت اور جہنمیوں کے لیے جہنم کا جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور اسے سچ کر دکھایا۔ جہاں تک میرے وعدے اور امیدیں دلانے کا تعلق ہے وہ امیدیں فریب تھیں اور میرے وعدے سب جھوٹے تھے۔ یہ سنتے ہی جہنمی اس پر پھٹکار کریں گے جب جہنمی اس پر لعنتیں بھیجیں گے تو وہ یہ کہتے ہوئے ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا کہ میں نے تمہارا ہاتھ کھینچ کر یا کسی جبر کے ذریعے اپنے پیچھے نہیں لگایا تھا۔ میں تمہارے دل میں برے خیالات، جھوٹی امیدیں اور تسلیاں پیدا کرتا تھا۔ تم نے یقین کیا اور ان کے پیچھے لگے لہٰذا آج مجھے ملامت کرنے کی بجائے اپنے آپ کو لعن طعن اور ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں اور نہ تم میرے کام آسکتے ہو۔ دنیا میں میرے وسوسہ ڈالنے کی وجہ سے جو تم مجھے اللہ کا شریک بناتے اور میری پیروی کرتے رہے اس کا میں آج کھلم کھلا انکار کرتا ہوں۔ اس گفتگو کے دوران ملائیکہ ان پر لعنتیں برسائیں گے۔ اعلان ہوگا کہ ظالموں کے لیے اذیت ناک عذاب ہے۔ جہنم میں شیطان اکبر اپنی براءت کا اظہار کرتے ہوئے جہنمیوں کے شرک کو اپنی طرف منسوب کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کفر و شرک کرنے والے بظاہر جس کسی کے سامنے جھکیں یا سجدہ کریں اللہ تعالیٰ کے سوا جسے بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں ان کا ایسا کرنا شیطان کے حکم اور وسوسہ کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے سوابظاہر کسی کی بھی عبادت کی جائے درحقیقت وہ شیطان کی عبادت ہوتی ہے۔ اس لیے قیامت کے دن ایک موقع ایسا بھی آئے گا جب اللہ تعالیٰ مجرموں کو الگ کر کے خطاب فرمائیں گے کہ اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ صرف میری عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے مگر شیطان نے تم میں بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ تم نے کچھ بھی عقل سے کام نہ لیا۔ لہٰذا یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ اپنے کفر کی وجہ سے اس میں داخل ہوجاؤ۔ ( یٰس : ٥٩ تا ٦٤) مسائل ١۔ قیامت کے دن شیطان اللہ تعالیٰ کے وعدے کو سچا قرار دے گا۔ ٢۔ شیطان کے وعدے جھوٹے ہیں۔ ٣۔ قیامت کے دن شیطان شرک اور اپنی شرارتوں سے صاف انکار کرے گا۔ ٤۔ ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن فیصلے ہوچکنے کے بعد شیطان کا اپنے ماننے والوں سے بیزار ہونا اور انہیں بیوقوف بنانا یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں اہل دوزخ کی ایک بہت بڑی بےوقوفی کا تذکرہ فرمایا ہے شیطان مردود لوگوں کی بےوقوفی ظاہر کرے گا اور اپنی صفائی پیش کرے گا دنیا میں تو اس نے اپنے ماننے والوں کو خوب بہکایا اور راہ حق سے ہٹا کر کفر و شرک کی دلدل میں پھنسایا لیکن قیامت کے دن اپنے ماننے والوں ہی کو الزام دے گا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھروسہ نہ کیا اس کے وعدے سچے تھے اور میرے وعدوں پر کان دھرا اور ان کو مانا حالانکہ میرے سارے وعدے جھوٹے تھے اب دیکھو مجھے کچھ الزام نہ دو میرا تم پر کوئی زور تو چلتا نہ تھا میں نے اتنا ہی کیا کہ تمہیں کفر و شرک کی دعوت دی تم نے میری بات مان لی اب مجھے ملامت مت کرو۔ اپنی جانوں کو ملامت کرو تم خود مجرم ہو، پیغمبروں کی دعوت کو چھوڑ کر جو معجزہ اور حجت و دلیل پیش کرتے تھے تم نے میری باتوں پر کیوں کان دھرا میں نے کوئی زبردستی ہاتھ پکڑ کے تو تم سے کفر و شرک کے کام نہیں کرائے، ہم آپس میں یہاں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے اب تو عذاب چکھنا ہی ہے دنیا میں جو تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا ہے میں اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے اسی دنیا میں بتادیا کہ شیطان ایسی باتیں کرے گا ہر عقلمند کو فکر کرنا چاہیے کہ میں کس راہ پر ہوں اگر کفر و شرک میں مبتلا ہے تو غور کرے کہ مجھے اس راہ پر کس نے لگایا ظاہر ہے کہ شیطان نے لگایا ہے اور چودھریوں اور سرداروں اور لیڈروں نے لگایا ہے دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے نہ سردار کام آئیں گے نہ شیطان کام آئے گا سب ایک دوسرے سے بیزار ہوجائیں گے لہٰذا ہر شخص حق کا اتباع کرے جو اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے بھیجا ہے اور اپنی کتاب قرآن مجید میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ کفار و مشرکین جب جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے تو سب ابلیس پر لعن طعن کرنے لگیں گے۔ اس وقت ابلیس سب کو جواب دے گا۔ دیکھوں اللہ تعالیٰ نے تم سب سے ایک سچا وعدہ فرمایا تھا کہ اگر تم میرے پیغمبروں کی پیروی کروگے اور میری توحید کو مانو گے تو میں تمہیں آخرت میں لازوال نعمتوں سے سرفراز کروں گا اور ایک جھوٹا سا وعدہ میں نے بھی تم سے کیا تھا کہ زندگی بس یہی ہے اس کے بعد کوئی زندگی اور حساب کتاب نہیں اور اگر ہوا بھی تو یہ تمہارے معبودانِ باطلہ سفارش کر کے تمہیں چھڑا لیں گے (روح) مگر تم نے اللہ کے سچے وعدے پر اعتماد نہ کیا اور میری جھوٹ بات مان لی حالانکہ میں نے تم پر کوئی جبر و تشدد بھی نہیں کیا تھا اور اپنی جھوٹی بات پر میرے پاس کوئی دلیل وحجت بھی نہ تھی بس ایک زبانی بات تھی جسے تم نے جھٹ سے مان لیا اس لیے اب مجھے لعن طعن نہ کرو اور نہ مجھ پر الزام دھرو بلکہ اپنی جانوں کو مجرم ٹھہراؤ اور اپنے کو ملامت کرو کہ تم نے سوچے سمجھے بغیر میری باتوں کو کیوں مان لیا۔ آج نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم ہی مجھے اللہ کے عذاب سے بچا سکتے ہو۔ ” اِنِّ کَفَرْتُ الخ “ طرف ” اَشْرَکْتُمُوْنِ “ کے متعلق ہے (روح و مدارک) یعنی دنیا میں جو تم مجھے اعمال و افعال میں اللہ کا شریک بناتے رہے ہو اور میرے اغواء واضلال سے شرک کرتے رہے ہو آج مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں میں اس سے بری ہوں ” و معنی کفرہ باشراکھم تبرؤوہ منہ واستنکارہ لہ “ (مدارک ج 2 ص 200) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

22 ۔ اور جب سب باتوں کا فیصلہ ہوچکے گا اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو چکیں گے تو شیطان کو دیکھ کر سب گناہ گار اس پر ملامت کریں گے کہ تیری وجہ سے ہم کو یہ عذاب بھگتنا پڑا اس وقت شیطان ملامت کرنے والوں کو جواب دے گا بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جتنے وعدے کئے تھے وہ سچے وعدے کئے تھے اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے تو میں نے تم سے جھوٹ بولا اور میں نے وہ وعدے تم سے خلاف کئے تھے اور میرا تم پر کوئی زور اور غلبہ تو تھا نہیں مگر صرف اتنی بات تھی کہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میری بات مان لی سو تم مجھے کسی طرح کی ملازمت نہ کرو بلکہ اپنے اوپر خود ملامت کرو نہ میں تمہاری کوئی فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میرے فریاد رس ہوسکتے ہو نہ میں تمہارا مددگار ہوسکتا ہوں نہ تم میرے مدد گار ہوسکتے ہو۔ تم نے جو اس سے پہلے دنیا میں مسجد کو خدا کی فرمانبرداری میں اس کا شریک ٹھہرایا تھا میں تمہارے اس فعل سے بیزاری اور انکار کرتا ہوں اس میں شک نہیں کہ ظالموں کے لئے درد نا ک عذاب ہے۔ یعنی جب قیامت کے دن سب امور کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل دوزخ دوزخ میں اور صحاب جنت جنت میں چلے جائیں گے تو اہل جہنم شیطان کو وہاں دیکھ کر برا بھلا کہیں گے کہ کم بخت تو نے ہم کو گمراہ کیا اور تیری وجہ سے ہم مبتلا ہوئے اب اس جہنم سے نکالنے کی کوئی ترکیب کر۔ وہ جواب دے گا میں ملامت کا مستحق نہیں ہوں بلکہ تم خود اپنے کو ملامت کرو کیونکہ اگر تم ذرا غور و فکر کرتے تو تم کو معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت تم سے کئے تھے وہ سب سچے وعدے تھے کیونکہ دلائل وبراہین اور عقل سلیم اور فطرت سلیمہ ان کی صداقت پر گواہ تھے اور جو وعدے میں تم سے کرتا رہا وہ جھوٹے وعدے تھے ان دلائل کی روشنی میں جو پیغمبر پیش کرتے تھے میری باتیں اور میرے وعدے ادنیٰ تامل سے باطل قرار دیئے جاسکتے تھے اور میرا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں کہ میں تم کو گناہ پر مجبور کرسکتا ہوں تم کو شرک و کفر کی طرف اور معاصی کی طرف بلاتا ضرور تھا لیکن تم اپنے اختیار سے میری بات مان لیتے تھے ۔ لہٰذا تم خود ان افعال کے ذمہ دار ہو جو تم نے اپنے اختیار سے کئے ہیں اب مدد کا کوئی سوال نہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری میں مجھ کو شریک قرار دے لینا اور میرے کہنے سے خد ا کے ساتھ شریک کرنا اور انبیاء کی تکذیب کا ارتکاب کرنا میں تو خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں پھر تم کو مجھ سے مدد مانگنے کا کیا حق ہے میرے تمہارے درمیان کوئی علاقہ نہیں ۔ بس اب ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے سو اس کو بھگتو۔ اوپر کی آیت میں باہم چھوٹے بڑوں کی گفتگو تھی جو مایوس کن تھی ۔ اس آیت میں سب سے بڑے لعین کی تقریر سنائی جس کا ایک ایک لفظ مایوسی اور بیزاری سے لبریز ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شیطان کا زور نہیں انسان پر مگر وہ مشورت دیتا ہے میری بات مان لینی اپنا ہی گناہ ہے۔ 12