Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 35

سورة إبراهيم

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا الۡبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجۡنُبۡنِیۡ وَ بَنِیَّ اَنۡ نَّعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَ ﴿ؕ۳۵﴾

And [mention, O Muhammad], when Abraham said, "My Lord, make this city [Makkah] secure and keep me and my sons away from worshipping idols.

۔ ( ا براہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو ) جب انہوں نے کہا اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ibrahim's Supplication to Allah when He brought Isma`il to Makkah Allah tells: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ ... And (remember) when Ibrahim said: Allah mentions here, while bringing forth more evidences against Arab polytheists, that the Sacred House in Makkah was established on the worship of Allah alone, without partners. He also states that Ibrahim, who established the city, has disowned those who worship others besides Allah, and that he begged Allah to make Makkah peaceful and secure, ... رَبِّ اجْعَلْ هَـذَا الْبَلَدَ امِنًا ... O my Lord! Make this city (Makkah) of peace and security, and Allah accepted his supplication. Allah said in other Ayat, أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً ءامِناً Have they not seen that We have made (Makkah) a secure sanctuary. (29:67) and, إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لِّلْعَـلَمِينَ فِيهِ ءَايَـتٌ بَيِّـنَـتٌ مَّقَامُ إِبْرَهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ ءَامِناً Verily, the first House (of worship) appointed for mankind was that at Bakkah (Makkah), full of blessing, and a guidance for Al-'Alamin. In it are manifest signs, the Maqam of Ibrahim; whosoever enters it, he attains security. (3:96) Allah said here that Ibrahim supplicated, رَبِّ اجْعَلْ هَـذَا الْبَلَدَ امِنًا (O my Lord! Make this city (Makkah) a of peace and security), saying, "this city," after he established it, and this is why he said afterwards, الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ All praise is due to Allah, Who has given me in old age Ismail and Ishaq. (14:39) It is well-known that Ismail was thirteen years older than Ishaq. When Ibrahim took Ismail and his mother to Makkah, while Ismail was still young enough to nurse, he supplicated to Allah, رَبِّ اجْعَلْ هَـذَا بَلَدًا امِنًا O my Lord! Make this city (Makkah) a place of peace and security. (2:126) as we in explained in Surah Al-Baqarah. Ibrahim then said, ... وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الاَصْنَامَ and keep me and my sons away from worshipping idols. It is proper for whoever supplicates to Allah to also ask for the benefit of his parents and offspring, as well as himself. Ibrahim then said; رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

حرمت وعظمت کا مالک شہر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا ۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ علیہ السلام اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے ۔ انہی نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی ۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ۔ سب سے پہلا با برکت اور باہدایت اللہ کا گھر مکے شریف کا ہی ہے ، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے ۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا ، امن و امان میں آ گیا ۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا ۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے ۔ حضرت اسماعیل کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے آیت ( رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35؀ۭ ) 14- ابراھیم:35 ) پس اس دعا میں بلد پر لام نہیں ہے ، اس لئے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا ۔ بلد کو معرف بلام لائے ۔ سورہ بقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں ۔ پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا ۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے ۔ پھر آپ نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بےزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے ، چاہے سزا دے ۔ جیسے روح اللہ علیہ السلام بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کر تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے ۔ یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے ۔ حضور علیہ السلام نے حضرت خلیل اللہ کا یہ قول اور حضرت روح اللہ کا قول آیت ( اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ١١٨؁ ) 5- المآئدہ:118 ) ، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو ؟ آپ نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ آپ کو ہم آپ کی امت کے بارے میں خوش کر دیں گے ناراض نہ کریں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 ' اس شہر ' سے مراد مکہ ہے۔ دیگر دعاؤں سے قبل یہ دعا کی کہ اسے امن والا بنا دے، اس لئے کہ امن ہوگا تو لوگ دوسری نعمتوں سے بھی صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں گے، ورنہ امن و سکون کے بغیر تمام آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود، خوف اور دہشت کے سائے انسان کو مضطرب اور پریشان رکھتے ہیں۔ جیسے آجکل کے عام معاشروں کا حال ہے۔ سوائے سعودی عرب کے۔ وہاں اس دعا کی برکت سے اور اسلامی حدود کے نفاذ سے آج بھی ایک مثالی امن قائم ہے۔ صانھا اللہ عن الشرور والفتن۔ یہاں انعامات الہیہ کے ضمن میں اسے بیان فرما کر اشارہ کردیا کہ قریش جہاں اللہ کے دیگر انعامات سے غافل ہیں اس خصوصی انعام سے بھی غافل ہیں کہ اس نے انھیں مکہ جیسے امن والے شہر کا باشندہ بنایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] مکہ کو پر امن شہر بنانے کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا :۔ چند آیات پہلے مشرک رؤسائے قریش کا ذکر ہوا کہ کس طرح وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گڑھے تک لے گئے تھے۔ یہ قریش چونکہ اپنے آپ کو سنت ابراہیم کا پیروکار سمجھتے اور کہلواتے تھے لہذا سیدنا ابراہیم کا ذکر بیان کرکے انھیں بتایا جارہا ہے کہ وہ شرک سے کس قدر بیزار تھے۔ نیز یہ کہ تم ان کی اتباع کا دعویٰ کیسے کرتے ہو۔ انہوں نے تو اس شہر مکہ کو پرامن بنانے کے لیے دعا ہی یہ کی تھی کہ && اے میرے پروردگار مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی شرک کی نجاستوں اور بتوں کی پوجا پاٹ سے محفوظ رکھنا۔ کیونکہ اکثر لوگ انہی بتوں کی پوجا پاٹ کی وجہ سے گمراہ ہوئے ہیں۔ میرا متبع تو صرف وہ ہے جس نے میرے طریقہ توحید کو تسلیم کیا اور جو بتوں کا پرستار ہے اس سے میرا کوئی تعلق نہیں اور جس نے میری نافرمانی کی اور توحید کا راستہ چھوڑ کر بتوں کی نجاست میں پھنس گیا وہ سزا کا مستحق تو ضرور ہے مگر اے پروردگار ! تو غفور رحیم ہے چاہے تو انھیں بھی معاف کر دے۔ مشرکوں کے حق میں آپ کی ایسی دعا محض آپ کے نرم دل اور رحم دل ہونے کی وجہ سے تھی مگر جب آپ کو واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ مشرک کی بخشش نہیں ہوسکتی تو آپ نے اپنے باپ کے حق میں بھی دعا مانگنا چھوڑ دی تھی۔ کہنے کو تو قریش مکہ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کہتے تھے اور ان کے دین کے متبع ہونے کا دعویٰ بھی کرتے تھے مگر ان میں کئی بنیادی قباحتیں آگئیں تھیں مثلاً : ١۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ یا اللہ اس شہر مکہ کو پرامن بنا دے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول بھی ہوگئی اور قریش مکہ اس کے پرامن شہر ہونے کی وجہ سے کئی طرح کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی فائدے بھی اٹھا رہے تھے مگر ان کا اپنا یہ حال تھا کہ اسی پر امن شہر میں اللہ کے رسول اور مسلمانوں پر ظلم و ستم میں حد کردی تھی اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ حتیٰ کہ رسول اللہ اور مسلمان مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ ٢۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری دعا یہ تھی کہ یا اللہ مجھے اور میرے بیٹوں (یعنی اولاد) کو بتوں کی پرستش سے محفوظ رکھنا۔ لیکن قریش مکہ کی بت پرستی کی انتہا یہ تھی کہ خاص بیت اللہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے جن میں سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل کی تصاویر بھی تھیں اور ان کے ہاتھ میں فال کے تیر بھی پکڑائے گئے تھے۔ ٣۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بےآب وگیاہ میدان میں اپنی بیوی اور بچوں کو اس لیے لابسایا تھا کہ وہ خود اور آپ کی اولاد بیت اللہ شریف کو آباد رکھیں اور اس میں اللہ کی عبادت، طواف اور حج وعمرہ وغیرہ کیا کریں لیکن قریش نے مسلمانوں پر محض مشرک نہ ہونے کی بنا پر یہ پابندی لگا دی تھی کہ وہ نہ کعبہ میں نماز ادا کرسکتے اور نہ طواف کرسکتے ہیں اور نہ حج وعمرہ بجا لاسکتے ہیں۔ ٤۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ اے ہمارے پروردگار ! مجھے، میرے والدین اور سب ایمان لانے والوں کو قیامت کے دن معاف کردینا۔ لیکن قریش مکہ قیامت کے دن پر اعتقاد ہی نہیں رکھتے تھے۔ ٥۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح طور پر فرما دیا تھا کہ جو میری تابعداری کرے گا وہ تو یقیناً میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور قریش مکہ نے مندرجہ بالا سب امور میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مخالفت تھی۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کا متبع کہتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ ۔۔ : عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا ان کے جد اعلیٰ اسماعیل (علیہ السلام) کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) نے کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اس شہر کے پرامن بنانے کی اور اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی، مگر آج تم ان احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو اپنا دین قرار دے دیا۔ اٰمِنًا : یہ ” ذَا اَمْنٍ “ (امن والا) کے معنی میں ہے، جیسے ” لَابِنٌ“ (دودھ والا) اور ” تَامِرٌ“ (کھجور والا) ہے۔ سورة بقرہ (١٢٦) میں ” هٰذَا بَلَداً اٰمِنًا “ اور یہاں ” هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا “ میں فرق یہ ہے کہ سورة بقرہ میں ” ھٰذَا “ پہلا مفعول اور ” بَلَداً “ دوسرا مفعول ہے، جب کہ یہاں ” ہَذا البلد “ پہلا مفعول اور ” اٰمناً “ دوسرا مفعول ہے۔ دونوں جگہ ترجمے کا فرق ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورة بقرہ (١٢٦) میں موجود پہلی دعا ” رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَداً اٰمِنًا “ اس وقت کی ہے جب شہر نہیں بنا تھا، تو دعا کی کہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا دے اور دوسری دعا اس وقت کی جب شہر بن چکا تھا، اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوچکے تھے کہ پروردگار ! اس شہر کو امن والا بنا دے۔ امن ایک بہت بڑی نعمت ہے اور خوف بہت بڑی آزمائش ہے۔ رازی فرماتے ہیں، ایک عالم سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو بیماری اور خوف میں سے ایک کے انتخاب پر مجبور کیا جائے تو آپ کیا اختیار کریں گے ؟ انھوں نے فرمایا، میں بیماری کو اختیار کروں گا کہ اس میں آدمی کھا پی اور سو تو سکتا ہے، خوف میں اس سے بھی محروم ہوجاتا ہے، آپ ایک بکری کا تصور کریں جس کی ٹانگ ٹوٹ جائے، وہ کھاتی پیتی رہے گی، سو بھی جائے گی، مگر ایک تندرست بکری جس کے سامنے بھیڑیا ہو، وہ نہ کھا سکے گی، نہ پی سکے گی اور نہ آرام کرسکے گی، حتیٰ کہ نوبت موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورة قریش میں بھوک سے کھلانے اور خوف سے امن دینے کی نعمت کا ذکر فرما کر قریش کو خاص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ : ” جَنَبَ یَجْنُبُ “ یہ ” نصر “ سے اور افعال اور تفعیل سے ایک ہی معنی میں آتا ہے۔ ” صنم “ اس پتھر یا لکڑی یا کسی دھات کے بنائے ہوئے بت، تصویر یا مجسمے کو کہتے ہیں جو کسی انسان یا فرشتے یا دیوتا کی حقیقی یا خیالی صورت پر پوجا کے لیے بنایا گیا ہو، جب کہ ” وثن “ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے مختص ہو، خواہ قبر ہو یا درخت یا دریا یا بت یا کوئی جانور یا انسان وغیرہ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم اور اپنے والد کی صنم پرستی اور اس پر اصرار اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس لیے وہ اپنے یا اپنی اولاد کے اس میں مبتلا ہونے سے سخت خوف زدہ تھے، سو انھوں نے یہ دعا کی۔ ” بَنِیَّ “ میں ساری اولاد شامل ہے، جیسے بنی آدم یا بنی اسرائیل۔ بیٹوں کی حد تک تو دعا قبول ہوئی، مگر ساری اولاد کے حق میں بعینہٖ قبول نہیں ہوئی، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ) [ الصافات : ١١٣ ] ” اور ان دونوں (ابراہیم اور اسحاق) کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔ “ یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کا مالک ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق دعا کرنے والے کی دعا کا جتنا حصہ چاہتا ہے اس کی خواہش کے مطابق پورا کردیتا ہے اور جو حصہ چاہتا ہے کسی اور صورت میں عطا کردیتا ہے۔ دعا کسی صورت بھی ضائع نہیں جاتی، البتہ مرضی اسی کی چلتی ہے، کسی دوسرے حتیٰ کہ انبیاء کی بھی نہیں۔ ہمیں بھی ہر وقت اس بات کی فکر رہنی چاہیے کہ ہم یا ہماری اولاد کسی طرح شرک میں مبتلا نہ ہوجائیں، ہمیں اپنی اولاد کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے اور اسے توحید کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Stated in the previous verses was the rational strength and cardinal position of Tauhid, the belief in the Oneness of Allah. And also men¬tioned there in contrast was the gross ignorance of Shirk, the ascribing of partners in the pristine divinity of Allah, and a condemnation thereof. Among the group of prophets (علیہم السلام) the most successful Jihad waged to establish pure monotheism was that of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . Therefore, the religion preached by him is known particularly as the upright religion. In view of this, reference has been made to the story of Sayyidna Ibrahim علیہ السلام in the cited verses. However, there is another reason too. In a previous verse (28): الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرً‌ا (those who changed the favour of Allah with disbelief), condemned were people from among the disbe¬lievers of Makkah who had changed faith for disbelief and Tauhid (One¬ness of Allah) for Shirk (ascribing of partners to Allah) because that was what their forefathers have been doing. They have been told in these verses about the belief and behaviour of their patriarch, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) so that these people so eager to follow the lead of their ancestors would just look at this model and would, hopefully, abstain from their disbelief. (Al-Bahr Al-Muhit) And as it is already clear to us that by describing the stories and con¬ditions of blessed prophets, the Qur’ an never aims to narrate their history only. Instead of that, in them there are guiding principles for every de¬partment of human life. It is to make them become available continuously that these events about prophets are repeated in the Qur&an time and again. At this place, there are in the first verse (35) two prayers made by Sayyidna Ibrahim (1) رَ‌بِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا &My Lord, make this city (of Makkah) peaceful.& This prayer appears in Sarah Al-Baqarah (2:126) as well. But, there the word: بَلَد (balad : city) appears as: بَلَداً (baladan) without the definite article Alif Lam which means an indefinite city. The rea¬son is that this prayer belonged to a time when the city of Makkah was not inhabited. Therefore, the words of the prayer made were general when he said: &My Lord, make this a city of peace.& In the prayer which he made when Makkah was already a populated city, he made a definite reference to the city of Makkah saying: &My Lord, make this city peaceful.& (2) The second prayer made by him was: &and keep me and my chil¬dren away from worshiping idols.& Though, prophets on whom be peace are protected by Allah, so Shirk, idol-worship, or a sin cannot issue forth from them. But, in this prayer, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) has included himself as well. The reason for this is either that prophets too live under a constant fear of being in danger, or that his main purpose was to pray for the safety of his children against the danger of disbelief and idol-worship. It was to impress his children with the gravity of the matter that he included himself too with-in the prayer. Allah jalla thana&uh granted the prayer of His &friend.& His children remained protected from Shirk and idol-worship. This brings up a question. The people of Makkah are generally from among the progeny of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . Idol-worship was very much present with them. Tafsir Al-Bahr Al-Muhit answers it on the authority of Sufyan ibn ` Uyaiynah that no one from among the progeny of Sayyidna Ismail (علیہ السلام) did really take to idol-worship. In fact, when people of the tribe of Jurhum took over Makkah and expelled the children of Sayyidna Ismail (علیہ السلام) from the حَرَم Haram, they carried away with them some stones from there out of love and respect for the sacred place. These they used to keep as a momento of the sacred House of Allah before them when they worshipped or went round them making Tawaf. Initially, in doing so, they had no desire to turn back from Allah. They thought that the way making prayers turning towards Baytullah or making Tawaf round it was nothing but devoting to the worship of Allah, so when they turn to that stone from there and make their Tawaf round it, that would not be counter to the worship of Allah. After a passage of time, this very meth¬od became the cause of idol-worship.

خلاصہ تفسیر : اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے (حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو بحکم الہی میدان مکہ میں لا کر رکھنے کے وقت دعاء کے طور پر) کہا کہ اے میرے رب اس شہر (مکہ) کو امن والا بنا دیجئے (کہ اس کے رہنے والے مستحق امن رہیں یعنی حرم کر دیجئے) اور مجھ کو اور میرے خاص فرزندوں کو بتوں کی عبادت سے (جو کہ اس وقت جہلاء میں شائع ہے) بچائے رکھئے (جیسا اب تک بچائے رکھا) اے میرے پروردگار (میں بتوں کی عبادت سے بچنے کی دعاء اس لئے کرتا ہوں کہ) ان بتوں نے بہتیرے آدمیوں کو گمراہ کردیا، (یعنی ان کی گمراہی کا سبب ہوگئے اس لئے ڈر کر آپ کی پناہ چاہتا ہوں اور میں جس طرح اولاد کے بچنے کی دعاء کرتا ہوں اسی طرح ان کو بھی کہتا سنتا رہوں گا) پھر (میرے کہنے سننے کے بعد) جو شخص میری راہ پر چلے گا وہ تو میرا ہے (اور اس کے لئے وعدہ مغفرت ہے ہی) اور جو شخص (اس باب میں) میرا کہنا نہ مانے (سو اس کو آپ ہدایت فرمائیے کیونکہ) آپ تو کثیر المغفرت (اور) کثیر الرحمۃ ہیں (ان کی مغفرت اور رحمت کا سامان بھی کرسکتے ہیں کہ ان کو ہدایت دیں مقصود اس دعاء سے شفاعت مؤمنین کے لئے اور طلب ہدایت غیر مؤمنین کے لئے ہے) اے ہمارے رب میں اپنی اولاد کو (یعنی اسماعیل (علیہ السلام) کو اور ان کے واسطے سے ان کی نسل کو) آپ کے معظم گھر (یعنی خانہ کعبہ) کے قریب (جو کہ پہلے سے یہاں بنا ہوا تھا اور ہمیشہ سے لوگ اس کا ادب کرتے آئے تھے) ایک (چھوٹے سے) میدان میں جو (بوجہ سنگستان ہونے کے) زراعت کے قابل (بھی) نہیں آباد کرتا ہوں اے ہمارے رب (بیت الحرام کے پاس اس لئے آباد کرتا ہوں) تاکہ وہ لوگ نماز کا (خاص) اہتمام رکھیں (اور چونکہ یہ اس وقت چھوٹا سا میدان ہے) تو آپ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کر دیجئے (کہ یہاں آ کر رہیں سہیں تاکہ آبادی پر رونق ہوجاوے) اور (چونکہ یہاں زراعت وغیرہ نہیں ہے اس لئے) ان کو (محض اپنی قدرت سے) پھل کھانے کو دیجئے تاکہ یہ لوگ (ان نعمتوں کا) شکر کریں اے ہمارے رب (یہ دعائیں محض اپنی بندگی اور حاجت مندی کے اظہار کے لئے ہیں آپ کو اپنی حاجت کی اطلاع کے لئے نہیں کیونکہ) آپ کو تو سب کچھ معلوم ہے جو ہم اپنے دل میں رکھیں اور جو ظاہر کردیں اور (ہمارے ظاہر و باطن پر کیا حصر ہے) اللہ تعالیٰ سے (تو) کوئی چیز بھی مخفی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (کچھ دعائیں آگے آئیں گی اور بیچ میں بعض نعم سابقہ پر حمد وشکر کیا تاکہ شکر کی برکت سے یہ دعائیں اقرب الی القبول ہوجائیں چناچہ فرمایا) تمام حمد (ثناء) خدا کے لئے (سزاوار) ہے جس نے مجھ کو بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (دو بیٹے) عطا فرمائے حقیقت میں میرا رب دعاء کا بڑا سننے والا (یعنی قبول کرنے والا) ہے (کہ عطائے اولاد کے متعلق میری یہ دعاء رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ قبول کرلی، پھر اس نعمت کا شکر ادا کر کے آگے بقیہ دعائیں پیش کرتے ہیں کہ) اے میرے رب (جو میری نیت ہے اپنی اولاد کو بیت محرم کے پاس بسانے سے کہ وہ نمازوں کا اہتمام رکھیں اس کو پورا کر دیجئے اور جیسا ان کے لئے اہتمام نماز میرا مطلوب ہے اسی طرح اپنے لئے بھی مطلوب ہے اس لئے اپنے اور ان کے دونوں کے لئے دعاء کرتا ہوں اور چونکہ مجھ کو وحی سے معلوم ہوگیا ہے کہ ان میں بعض غیر مومن بھی ہوں گے اس لئے دعاء سب کے لئے نہیں کرسکتا ہوں پس ان مضامین پر نظر کر کے یہ دعاء کرتا ہوں کہ) مجھ کو بھی نماز کا (خاص) اہتمام کرنے والا رکھئے اور میری اولاد میں بھی بعضوں کو (نماز کا اہتمام رکھنے والا کیجئے) اے ہمارے رب اور میری (یہ) دعاء قبول کیجئے (اور) اے ہمارے رب میری مغفرت کر دیجئے اور میرے ماں باپ کی بھی اور کل مؤمنین کی بھی حساب قائم ہونے کے دن (یعنی قیامت کے روز سب مذکورین کی مغفرت کردیجئے) معارف و مسائل : پچھلی آیات میں عقیدہ توحید کی معقولیت اور اہمیت کا اور شرک کی جہالت اور مذمت کا بیان تھا توحید کے معاملہ میں زمرہ انبیاء (علیہم السلام) میں سب سے زیادہ کامیاب جہاد حضرت خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) کا جہاد تھا اسی لئے دین ابراہیمی کو خاص طور پر دین حنیف کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر آیات مذکور میں کیا گیا ہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلی ایک ( آیت) الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا میں قریش مکہ کے ان لوگوں کی مذمت بیان کی گئی تھی جنہوں نے تقلید آبائی کی بناء پر ایمان کو کفر سے اور توحید کو شرک سے بدل ڈالا تھا ان آیات میں ان کو بتلایا گیا کہ تمہارے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور عمل کیا تھا تاکہ تقلید آبائی کے خوگر اسی پر نظر کر کے اپنے کفر سے باز آجائیں (بحر محیط) اور یہ ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے قصص اور حالات کے بیان سے قرآن کریم کا مقصد صرف ان کی تاریخ بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان میں انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق ہدایتی اصول ہوتے ہیں انہی کو جاری رکھنے کے لئے یہ واقعات قرآن میں بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ اس جگہ پہلی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دو دعائیں مذکور ہیں اول رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا یعنی اے میرے پروردگار اس شہر (مکہ) کو جائے امن بنا دیجئے، سورة بقرہ میں بھی یہی دعاء مذکور ہے مگر اس میں لفظ بلد بغیر لام کے بلدا فرمایا ہے جس کے معنی غیر معین شہر کے ہیں وجہ یہ ہے کہ وہ دعا اس وقت کی تھی جبکہ شہر مکہ کی بستی آباد نہ تھی اس لئے عام الفاظ میں یہ دعاء کی کہ اس جگہ کو ایک شہر مامون بنا دیجئے۔ اور دوسری دعاء اس وقت کی ہے جبکہ مکہ کی بستی بس چکی تھی تو شہر مکہ کو متعین کر کے دعا فرمائی کہ اس کو جائے امن بنا دیجئے دوسری دعاء یہ فرمائی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیے۔ انبیاء (علیہم السلام) اگرچہ معصوم ہوتے ہیں ان سے شرک وبت پرستی بلکہ کوئی گناہ سرزد نہیں ہوسکتا مگر یہاں حضرت خلیل (علیہ السلام) نے اس دعاء میں اپنے آپ کو بھی شامل فرمایا ہے اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ طبعی خوف کے اثر سے انبیاء (علیہم السلام) بھی ہر وقت اپنے کو خطرہ میں محسوس کرتے رہتے ہیں یا یہ کہ اصل مقصود اپنی اولاد کو شرک وبت پرستی سے بچانے کی دعاء کرنا تھا اولاد کو اس کی اہمیت سمجھانے کے لئے اپنے کو بھی شامل دعاء فرما لیا۔ اللہ جل شانہ نے اپنے خلیل کی دعاء قبول فرمائی ان کی اولاد شرک وبت پرستی سے محفوظ رہی اس پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ اہل مکہ تو عموما اولاد ابراہیم (علیہ السلام) ہیں ان میں تو بت پرستی موجود تھی بحر محیط میں اس کا جواب بحوالہ سفیان بن عیینہ یہ دیا ہے کہ اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں کسی نے درحقیقت بت پرستی نہیں کہ بلکہ جس وقت مکہ پر قوم جرہم کے لوگوں نے قبضہ کر کے اولاد اسماعیل (علیہ السلام) کو حرم سے نکال دیا تو یہ لوگ حرم سے انتہائی محبت و عظمت کی بناء پر یہاں کے کچھ پتھر اپنے ساتھ اٹھا لے گئے تھے ان کو حرم محترم اور بیت اللہ کی یادگار کے طور پر سامنے رکھ کر عبادت اور اس کے گرد طواف کیا کرتے تھے جس میں کسی غیر اللہ کی طرف کوئی رخ نہ تھا بلکہ جس طرح بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا یا بیت اللہ کے گرد طواف کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت ہے اسی طرح وہ اس پتھر کی طرف رخ اور اس کے گرد طواف کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے منافی نہ سمجھتے تھے اس کے بعد یہی طریقہ کار بت پرستی کا سبب بن گیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35؀ۭ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا بخشنے والا پروردگار ،۔ أمن أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) امن ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ } ( سورة الأَنْفال 27) یعنی وہ چیزیں جن پر تم امین مقرر کئے گئے ہو ان میں خیانت نہ کرو ۔ جنب أصل الجَنْب : الجارحة، وجمعه : جُنُوب، قال اللہ عزّ وجل : فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] ، وقال تعالی: تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ، وقال عزّ وجلّ : قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] . ثم يستعار من الناحية التي تليها کعادتهم في استعارة سائر الجوارح لذلک، نحو : الیمین والشمال، ( ج ن ب ) الجنب اصل میں اس کے معنی پہلو کے ہیں اس کی جمع جنوب ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے ۔ فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] پھر اس سے ان ( بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو داغے جائیں گے ۔ تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ان کے پہلو بچھو نوں سے الگ رہنے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ پہلو کی سمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسا کہ یمین ، شمال اور دیگر اعضا میں عرب لوگ استعارات سے کام لیتے ہیں ۔ صنم الصَّنَمُ : جُثَّةٌ متّخذة من فضّة، أو نحاس، أو خشب، کانوا يعبدونها متقرّبين به إلى اللہ تعالی، وجمعه : أَصْنَامٌ. قال اللہ تعالی: أَتَتَّخِذُ أَصْناماً آلِهَةً [ الأنعام/ 74] ، لَأَكِيدَنَّ أَصْنامَكُمْ [ الأنبیاء/ 57] ، قال بعض الحکماء : كلّ ما عبد من دون الله، بل کلّ ما يشغل عن اللہ تعالیٰ يقال له : صَنَمٌ ، وعلی هذا الوجه قال إبراهيم صلوات اللہ عليه : اجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنامَ [إبراهيم/ 35] ، فمعلوم أنّ إبراهيم مع تحقّقه بمعرفة اللہ تعالی، واطّلاعه علی حکمته لم يكن ممّن يخاف أن يعود إلى عبادة تلک الجثث التي کانوا يعبدونها، فكأنّه قال : اجنبني عن الاشتغال بما يصرفني عنك . ( ص ن م ) الصنم کے معنی بت کے ہیں جو کہ چاندی پیتل یا لکڑی وغیرہ کا بنا ہوا ہو ۔ عرب لوگ ان چیزوں کے مجم سے بناکر ( ان کی پوچا کرتے اور انہیں تقرب الہیٰ کا ذریعہ سمجھتے تھے صنم کی جمع اصنام آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : أَتَتَّخِذُ أَصْناماً آلِهَةً [ الأنعام/ 74] کہ تم بتوں کو کیوں معبود بناتے ہو۔ لَأَكِيدَنَّ أَصْنامَكُمْ [ الأنبیاء/ 57] میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلو نگا ۔ بعض حکماء نے کہا ہے کہ ہر وہ چیز جسے خدا کے سوا پوجا جائے بلکہ ہر وہ چیز جو انسان کو خدا تعالیٰ سے بیگانہ بنادے اور اس کی توجہ کو کسی دوسری جانب منعطف کردے صنم کہلاتی ہے چناچہ ابراہیم اعلیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ : اجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنامَ [إبراهيم/ 35] بازرکھنا کہ ہم اصنام کی پرستش اختیار کریں ۔ تو اس سے بھی واپسی چیزوں کی پرستش مراد ہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معرفت الہی کے تحقق اور اسکی حکمت پر مطلع ہونے کے بعد یہ اندیشہ نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ اور ان کی اولاد بت پرستی شروع کردے گی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر کے بعد دعا فرمائی کہ میرے پروردگار مکہ کو امن والا بنا دیجیے کہ کوئی اس پر حملہ آور نہ ہو اور اس طور پر کہ خوف زدہ اس میں آکر پناہ حاصل کرسکے اور مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بتوں اور آگ کی پوجا سے بچائے رکھیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ) یہ مضمون سورة البقرۃ کے پندرھویں رکوع کے مضمون سے ملتا جلتا ہے۔ حضرت ابراہیم سے ما قبل زمانہ کی جو تاریخ ہمیں معلوم ہوئی ہے اس کے مطابق اس دور کی سب سے بڑی گمراہی بت پرستی تھی۔ آپ سے پہلے کی تمام اقوام اسی گمراہی میں مبتلا تھیں۔ آپ کی اپنی قوم کا اس سلسلے میں یہ حال تھا کہ انہوں نے ایک بہت بڑے بت خانے میں بہت سے بت سجا رکھے تھے۔ انہی بتوں کا سورة الانبیاء میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے ان کو توڑا تھا۔ اس کے علاوہ آپ کی قوم ستاروں کی پوجا بھی کرتی تھی جبکہ نمرود نے انہیں سیاسی شرک میں بھی مبتلا کر رکھا تھا۔ وہ اختیار مطلق کا دعویدار تھا اور جس چیز کو وہ چاہتا جائز قرار دیتا اور جس کو چاہتا ممنوع۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46. In the preceding (verses 32-35), an appeal was made to the Quraish to be grateful to that Allah Who has bestowed so many bounties on mankind in general. But in this passage the same appeal is being made on the plea that Allah had bestowed His special bounties on the Quraish in particular. They have been asked to remember that Prophet Abraham (peace be upon him) had settled forefathers of the Quraish near the Kabah and made their city, Makkah, a city of peace and Allah showered His blessings on the Quraish in answer to the prayer of Prophet Abraham (peace be upon him). They have been admonished to remember those bounties and mend their ways. 47. Makkah.

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :46 عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب ان خاص احسانات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالی نے قریش پر کیے تھے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام نے یہاں لا کر کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں بسایا تھا ، اس کی دعاؤں کے جواب میں کیسے کیسے احسانات ہم نے تم پر کیے ، اور اب تم اپنے باپ کی تمناؤں اور اپنے رب کے احسانات کا جواب کن گمراہیوں اور بداعمالیوں سے دے رہے ہو ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :47 یعنی مکہ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

24: اس سے مراد مکہ مکرمہ کا شہر ہے جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ ہاجرہ (رض) اور اپنے صاحب زادے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چھوڑا تھا، اس وقت یہاں کوئی آبادی نہیں تھی نہ بظاہر زندہ رہنے کا کوئی سامان، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں پہلے زمزم کا کنواں جاری فرمایا، جسے دیکھ کر قبیلہ جرہم کے لوگ یہاں آکر حضرت ہاجرہ (رض) کی اجازت سے آباد ہوئے اور پھر رفتہ رفتہ یہ ایک شہر بن گیا۔ 25: مکہ مکرمہ کے مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا بڑا مانتے تھے اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ ان کی یہ دعا نقل فرما کر انہیں متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ تو بت پرستی سے اتنے بیزار تھے کہ انہوں نے اپنی اولاد کو اس سے محفوظ رہنے کی دعا مانگی تھی پھر تم لوگوں نے کہاں سے بت پرستی شروع کردی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٥۔ ٣٦۔ یہ دعا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جو انہوں نے حرم شریف کے امن اور اپنی اولاد کے لئے بتوں کی پرستش سے بچنے کو کی تھی اللہ پاک نے بطور حجت کے اس کو ذکر کیا کہ جب مکہ معظمہ کا شہر بسایا گیا اور خانہ کعبہ بنا اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے جن کے سبب سے یہ شہر آباد ہوا یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ تو شہر کو امن میں اور ویران ہونے سے محفوظ رکھیو سورت بقرہ میں بھی یہ دعا گزر چکی ١ ؎ ہے۔ مگر اس میں اور اس دعا میں یہ فرق ہے کہ وہاں کی دعا کعبہ کے تیار ہونے سے پہلے کی تھی۔ اس لئے وہاں یہ دعا کی تھی کہ اس کو آباد کرنا اور امن میں رکھنا اور یہاں تیاری کے بعد کی دعا ہے یہاں صرف امن مقصود ہے اکثر مفسر کہتے ہیں کہ یہ دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قبول ہوئی حرم کے اندر کسی کا خون نہیں ہوتا شکار تک نہیں کیا جاتا اور نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے پرندے بھی حرم کے اندر آکر بےخوف ہوجاتے ہیں کعبہ کی امن کی دعا کے ساتھ ہی اس بات کی بھی دعا کی تھی کہ اے خدا میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچانا ان بتوں کی وجہ سے بہترے آدمی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور جو میری پیروی کرے گا وہ تو میرے گروہ میں ہے اور جو میرے طریقہ پر نہیں ہے اس کا تو مختار ہے تو غفور الرحیم ہے تو جیسا مناسب سمجھے اس کے حق میں ویسا کر چاہے بخش دے چاہے نہ بخش۔ جس زمانہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کو مکہ کے میدان میں چھوڑا تھا اس وقت اس میدان کے گردونواح میں بت پرستی کا بڑا زور تھا اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ اندیشہ ہوا کہ اولاد اسمعیل میں کہیں بت پرستی کی آفت نہ پھیل جاوے اس اندیشہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی۔ اگرچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم تھا کہ انبیاء شرک سے معصوم ہیں لیکن بت پرستی سے نفرت اور بیزاری کے جوش میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو بھی اس دعا میں شریک کرلیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کے اثر سے اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد چند پشتوں تک بت پرستی کی آفت سے محفوظ رہی پھر آخر ابراہیم (علیہ السلام) کے مٹ جانے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کے اثر کا ظہور ہوا جو انہوں نے اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کے لئے کی تھی جس کا ذکر سورت بقر میں گزر چکا۔ اس دعا کا اثر ایسا پائدار ہوا کہ مکہ تو مکہ جزیرۃ العرب سے بت پرستی ایسی مٹ گئی کہ اب قیامت تک وہاں اس کے دوبارہ آنے کا خوف باقی نہ رہا۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر بن عبد اللہ (رض) کی روایت سورت بقرہ میں گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جزیرہ عرب کی بت پرستی سے شیطان اب ناامید ہوگیا معتبر سند سے مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے ایک اور روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد شیطان نے اپنے شیاطینوں کو جمع کیا اور ان سے رو رو کر یہ کہا کہ بت پرستی سے تو اب نا امیدی ہوگئی اس لئے امت محمدیہ کو اور ہر طرح بہکانے کی کوشش کی ٣ ؎ جاوے۔ ١ ؎ تفسیر ہذا جلد اول ١٢٠۔ ٢ ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص ١٢٠ ٣ ؎ تیقح الرواۃ ص ٢١ ج ١ باب فی الوسوستہ

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:35) ھذا البلد۔ البلد الحرام۔ مکہ معظمہ۔ امنا۔ امن والا۔ پر امن۔ امن سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ امن یامن (باب سمع) سے۔ اجنبنی۔ تو مجھ کو دور رکھ۔ تو مجھ کو بچا۔ جنب سے باب نصر جس کے معنی دور رکھنے اور بچانے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ بنی۔ میرے بیٹوں کو۔ اصل میں بنینی تھا۔ نون جمع ی متکلم کی طرف اضافت سے گرگیا۔ اور جمع کی ی اور متکلم کی ی مدغم ہوئیں۔ ان بمعنی کہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ عام احساناتن کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کا ان کے جدِ اعلیٰ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کن تمنائوں کے ساتھ تمہیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اپنے اور بیٹوں کے لئے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی۔ مگر آج تم ان تمام احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو پہنا دین قرار دے لیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٦) اسرارومعارف جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔ (دعا کا طریقہ) حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس ویرانے کی نہ صرف آبادی کی دعا کی بلکہ انداز یہ تھا کہ جیسے یہ شہر بس گیا ہو یہ آپ کی نگاہ نبوت دیکھ رہی تھی کہ اس عفیفہ اور ننھے اسمعیل کا قیام یقینا ایک بہت بڑے شہر کی بنیاد ہے تو دعا کی کہ اے پروردگار اس شہر کو شہر امن بنا دے کہ انسانی ضروریات میں سب سے مقدم امن ہے ، اسی کے حصول کی خاطر حکومت تشکیل پاتی ہے اور اسی کے لیے مجرم کو سزا دی جاتی ہے یا قصاص اور بدلہ دلوایا جاتا ہے کہ امن قائم رہے ، یہی صورت حال اطمینان سے زندگی بسر کرنے کے لیے بھی ضروری ہے اور اتنی ہی اس کی ضرورت میں سب سے مقدم امن ہے اسی کے حصول کی خاطر حکومت تشکیل پاتی ہے اور اسی کے لیے مجرم کو سزا دی جاتی ہے یا قصاص اور بدلہ دلوایا جاتا ہے کہ امن قائم رہے ، یہی صورت حال اطمینان سے زندگی بسر کرنے کے لیے بھی ضروری ہے اور اتنی ہی اس کی ضرورت دین کے قیام کے لیے ہے کہ جہاں سے امن اٹھ جائے وہاں دین کا قیام بھی ممکن نہیں رہتا ، لہذا کسی شہر یا ملک یا قوم یا معاشرے کی دینی اور دنیوی خوشحالی کا ضامن امن ہے جب تک امن قائم نہ ہو کوئی بھی اصلاحی اور فلاحی کام ہونا ممکن نہیں رہتا لہذا ایک شے طلب فرمائی اور وہ امن تھا دوسری شے سے بچنے کی دعا کی وہ بھی بہت جامع کہ مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچا اور محفوظ رکھ یہ دعا فرما کر ہر طرح کی گمراہی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی سے اور اس کی بنیادی سبب سے بچنے کی استدعا فرمائی ، ظاہر ہے کہ نبی تو معصوم ہوتا ہے لہذا آپ کو اپنے سے تو بتوں کی پوجا کا ڈر نہ تھا ، مگر دعا کا یہ قاعدہ بھی ارشاد فرما دیا کہ نیک لوگوں کو دعا میں شامل کرلینا اس کی قبولیت کا باعث ہوتا ہے اللہ کریم کی عظمت سے یہ بعید ہے کہ آدھی بات مان لیں اور باقی رد کردیں ، دوسری حکمت اس میں یہ بھی ہے کہ اہل اللہ کے نزدیک ہر وہ شے بت ہے جو اللہ جل جلالہ کی اطاعت سے روک دے جیسا کہ مولانا رومی (رح) کا ارشاد ہے ” ہر خیال شہوتے در رہ بتے ست “ کہ ہر ہو شہوانی خیال جو اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکے بت ہے تو آپ نے ہر طرح کے بتوں کا اہتمام کرنے کا ذمہ دار بھی ہے ارشاد ہوا کہ بتوں سے بچنے کی استدعا اس لیے کر رہا ہوں کہ بیشتر انسانوں کو انہوں نے گمراہ کردیا آپ نے اپنی قوم کا حال بھی دیکھ رکھا تھا تو بت پرستی کے باعث گمراہی کا شکار ہوئی تھی نیز شرک اور غیر اللہ سے امید باندھنا ہی بخشش سے محرومی کا سبب بھی ہیں ورنہ بھول چوک یا چھوٹی موٹی خطا کا صدور تو انسان سے ہوجانا عجیب بات نہیں کہ انسان کبھی بھی فرشتہ نہیں ہوتا اور اگر اس کا رشتہ اپنے مالک سے قائم رہے تو غلطی پر نادم بھی ہوتا ہے اور اس کی اصلاح کے لیے کوشش بھی کرتا ہے ، لہذا آپ نے دو مختصر جملوں میں دنیا وآخرت کی ہر نعمت نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی اولاد تک کے لیے اور شہر مکہ کے لیے طلب فرما لی مگر اس سب کے باوجود چونکہ انسان راستہ اختیار کرنے میں اپنی پسند کا مالک ہے ، لہذا یہ امکان تو اپنی جگہ پر تھا کہ کچھ لوگ میرا راستہ چھوڑ بھی دیں گے تو عرض کیا کہ جو لوگ تو میری پیروی کریں گے بارالہ وہ تو میرے ہی ہوئے مگر وہ بھی جو میری پیروی چھوڑ دیں تیرے بندے تو ہیں اور تو بخشنے والا بھی ہے اور مہربان بھی ، اگرچہ کافر کے لیے بخشش کی دعا کرنے کی اجازت نہیں مگر پیغمبرانہ شفقت کا کمال دیکھئے کہ اگرچہ بخشش کی دعا نہ کی مگر یہ ضرور عرض کردیا کہ اللہ تیری رحمت بھی تو ناپیدا کنار ہے لہذا طریق نبوت انسانیت سے شفقت اور ہمدردی ہے ۔ (دعا کو بار بار پیش کرنا چاہیے) آپ نے پھر سے وہی دعا دہرائی اور اسی حکیمانہ انداز میں پیش فرمائی کہ دعا کا سب سے پہلا قدم اطاعت الہی ہے یہ وطیرہ درست نہیں کہ آجکل کی طرح آدمی عملا تو نافرمانی کر رہا ہو اور دعائیں بڑے لمبی لمبی کرے بلکہ مقدم یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرے جیسا کہ آپ نے زوجہ محترمہ اور بچے کو اس لق ودق صحرا میں چھوڑا اور واپس چل دیئے ، حدیث شریف کے مطابق جب وہ نظروں سے اوجھل ہوئے تو دعا کی کہ اے ہمارے رب اے ہماری سب ضروریات کے جاننے اور پورا کرنے والے میں نے تیرے ارشاد کی تعمیل میں اپنی اولاد کو ایک ویرانے میں چھوڑ دیا ہے ، تیرے حرمت و عظمت والے گھر کے پاس کہ بیت اللہ تو پہلے سے تھا حضرت آدم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا تھا ، مدتوں اس کا طواف ہوتا رہا ، طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیادیں باقی رہیں اور جن قوموں میں پر عذاب آتا تھا ان کے بیشتر نبی بھی یہاں پہنچتے اور اس ٹیکری کا طواف کرتے رہے جن میں بیت اللہ کی بنیادیں تھیں ، اکثر کا وصال یہاں ہوا اور مرور زمانہ سے زمین میں دفن ہوگئے ، حضرت شیخنا المکرم (رح) فرمایا کرتے تھے کہ مطاف کے نیچے کم وبیش ننانوے انبیاء کشفا نظر آتے ہیں جو اسی طرح دفن ہوئے ، بہرحال اسی ٹیکری کے پاس آپ نے چھوڑا تھا ، لہذا عرض گذار ہوئے کہ میں اپنی اولاد کو تیرے گھر کے پاس تیری عبادت کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں لہذا تو اس ویرانے کو یوں آباد فرما کر اپنے بندوں میں سے کچھ کے قلوب اس کی طرف پھیر دے کہ یہ جگہ ہمیشہ آباد رہے اور ان کو پھلوں سے رزق دے کہ وہ تیرا شکر کریں ، اب دیکھئے دعا اور اس کے انداز میں کس قدر حکمتیں ہیں اول تو اللہ کے حکم کی تعمیل فرمائی اور تب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے پھر اللہ جل جلالہ سے تعلق اور بتوں سے اجتناب طلب فرمایا اللہ جل جلالہ کی عبادت پر قائم رہنے کی دعا کی تو ان کی دنیا کو نہ بھولے آبادی کے لیے سب انسانوں کے آنے کی دعا نہ کی ورنہ تو اچھا برا ، مومن کافر سب لوگ وہاں ٹوٹ پڑتے ، فرمایا من الناس یعنی کچھ لوگوں کے قلوب پھیر دے کہ کچھ سے مراد ہے اللہ جل جلالہ جن کو چاہے گا یقینا نہ چاہے جانے والوں کی نسبت بہتر ہوں گے تو یوں یہاں اچھے لوگ جمع ہوں گے پھر کوئی انہیں زبردستی نہ لائے گا بلکہ ان کے قلوب پھیر دیئے جائیں گے تو ان کا یہاں آنا اس شہر اور بیت اللہ سے محبت کا ہوگا جس میں فساد کا اندیشہ نہ ہوگا اور ان کے لیے رزق کی دعا کی تو پھل مانگے چشمہ یا زراعت نہ مانگی ورنہ تو اللہ قادر تھا ان پہاڑوں کو سر سبز کردیتا وہاں کھیتی باڑی ذرائع پیدا کردیتا مگر آپ نے تیار پھل مانگے کہ اب تک دنیا کا ہر پھل ہر موسم میں دستیاب ہے اور پھل ایسی جنس ہے کہ جس جگہ پر پھل تک دستیاب ہوں اور باہر سے آتے ہوں وہاں ضرورت زندگی کی دوسری چیزوں کی فراوانی ہوتی ہے اور ظاہر ہے جہاں اللہ جل جلالہ نعمتیں اس طرح آسانی سے اور فراوانی سے نصیب ہوں وہاں شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے تو شاید وہ شکر ادا کرسکیں ۔ سوائے ہمارے پروردگار تو خود بہتر جانتا ہے نہ صرف ان امور کو جو ہم عرض کرتے ہیں بلکہ ان کیفیات سے بھی خوب واقف ہے جو ہمارے دلوں پر وارد ہوتی ہیں وہ فطری غم واندوہ جو ایک ننھے منے لخت جگر اور وفا شعار صابر وشاکر اہلیہ کو اس لق ودق صحرا اور سنگلاخ پہاڑوں میں چھوڑنے اور ان کی جدائی سے جو دل پہ طاری ہے وہ تیرے علم میں ہے اور جو کلمات عرض کر رہا ہوں یا حضرت ہاجرہ (رض) نے عرض کیا کہ ” پھر وہ ہمیں ضائع نہ کرے گا “ ۔ تو سب سے واقف ہے یہ عرض معروض تو تجھ سے شرف ہمکلامی کا باعث ہے ورنہ ہمیں کیا چاہئے اور ہم کس حال میں ہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے نہ صرف ہماری ذوات و کیفیات کو بلکہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ سب تیرے علم میں ہے اور میں تو تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے بڑھاپے میں اور ایسی عمر میں جب اولاد کی بظاہر کوئی امید نہ تھی ، مجھے اسمعیل اور اسحاق جیسے فرزندوں سے نوازا بیشک میرا پروردگار دعائیں قبول فرماتا ہے یعنی آداب دعا میں سے ہے کہ اللہ جل جلالہ کی حمد بیان کی جائے پھر اپنی ضرورت عرض کی جائے اور پھر اس کے احسانات کا تذکرہ کیا جائے کہ پہلے سے حاصل شدہ نعمت کا تذکرہ کرنا شکر ادا کرنا ہوتا ہے جو قبولیت دعا کا باعث ہے ۔ اور پھر انجام کی طرف متوجہ ہوگئے گویا صرف دنیا ہی کے لیے دعا نہ کی جائے بلکہ ہر دعا میں اخروی فلاح اور نجات ضرور مانگنا چاہیے اور اس کا مدار چونکہ دنیا کی زندگی میں اطاعت پر ہے ، لہذا عرض کیا کہ اے مالک مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی اپنی عبادت پہ کار بند رہنے کی توفیق عطا فرما کہ یہ کام بھی تیری عطا کردہ توفیق ہی سے ممکن ہے اور اس دعا کو ضرور شرف قبولیت عطا کر نیز مجھے بخش دے میرے والدین کو اور ہر اس فرد کو جیسے ایمان نصیب ہوا محشر کی گھڑی میں اپنی بخشش سے ڈھانپ لے ، یہاں نجات طلب فرمائی تو ساتھ ایمان کی شرط بڑھا دی کہ جن لوگوں کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو ان کے لیے نجات طلب کرنا جائز نہ تھا ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41 اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم ہوگا۔ ۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 41 تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جب انسان عمل اور کردار سے محروم ہو کر کاہلی اور سستی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ عمل کرنے کے بجائے اپنے بزرگوں اور ان کے کارناموں پر صرف فخر کرتا ہے لیکن جب بھی عمل کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس نشے میں ڈبو لیتا ہے کہ میں تو بڑوں کی اولاد ہوں میں نے اگر کوئی حسن عمل نہیں کیا تو کیا ہوا ہم تو فلاں بڑوں کی اولاد ہیں وہ ہمیں ہر طرح کی مصیبتوں اور عذاب سے بچا لیں گے۔ ٹھیک یہی حال اس وقت مکہ والوں کا تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرب کے کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی۔ ان کو اس بات پر بڑا ناز تھا کہ ہم حضرت ابراہیم اور پیغمبروں کی اولاد ہیں ہمیں جو شرف و عزت اور احترام حاصل ہے وہی سب کچھ ہے۔ اب اگر ہم بت پرستی کرتے ہیں، غلط رسموں کو رواج دیتے ہیں لڑکیوں کو صرف اسی خوف سے زندہ دفن کردیتے ہیں کہ کل وہ جوان ہونگی اور گھر میں داماد آئے گا۔ فرمایا کہ آج تمہیں حضرت ابراہیم کی اولاد ہونے پر فخر اور غرور ہے لیکن تم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ ابراہیم نے جب طوفان نوح میں ڈھے جانے والے بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر فرمائی تھی اس وقت انہوں نے کیا دعا کی تھی ؟ فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کی تھی الٰہی اس شہر (مکہ مکرمہ) کو امان و عافیت کی جگہ بنا دیجیے ہمیں اور ہماری اولاد کو بتوں کی عبادت و بندگی سے دور رکھئے گا اور اس عذاب سے بچا لیجیے گا۔ الہی انہوں نے ہزاروں کو گمراہ اور بےدین کردیا ہے۔ ان میں سے جس نے بھی میری اطاعت کرتے ہوئے میرا کہا مانا وہ میرا ہے، اے اللہ ان پر رحم فرمائیے گا لیکن جو میرے طریقے پر نہیں ہے اور میری اتباع و پیروی نہیں کرتا ہے تو ان کے معاملے کو آپ بہتر سمجھتے ہیں آپ بہت مغفرت کرنے والے مہربان ہیں۔ الٰہی میں نے اپنی اولاد کو آپ کے محترم گھر کے پاس ایک ایسی وادی کے پاس جہاں زراعت بھی نہیں ہوتی آباد کردیا ہے تاکہ وہ نمازوں کے نظام کو قائم کریں آپ کی عبادت و بندگی کریں اے اللہ لوگوں کے دلوں کو اس گھر کی طرف مائل اور متوجہ فرما دیجیے اور یہاں کے رہنے والوں کو ہر طرح کے ثمرات عطا فرما دیجیے تاکہ وہ آپ کا تیرا شکر ادا کرسکیں۔ حضرت ابراہیم نے یہ بھی عرض کیا کہ الٰہی زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اور اس کی کیفیت آپ سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں ہے آپ جانتے ہیں جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں۔ الٰہی ہم پر اپنا رحم و کرم نازل فرما دیجیے ارشاد ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم کو جو بھی نعمت عطا فرمائی اس پر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور عرض الٰہی آپ نے بڑھاپے میں ہماری دعاؤں کو سن کر حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق جیسی اولاد عطا فرمائی۔ بیشک تمام دعاؤں کے سننے والے آپ ہی ہیں۔ الٰہی مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے۔ ہماری دعاؤں کو قبول فرما لے اور اگر ہمارے کسی عمل میں کوئی کوتاہی یا کمی ہوجائے تو الٰہی اس کو قیامت کے دن اپنی رحمت سے معاف کردیجیے گا۔ مکہ والوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم جیسے عظیم مرتبے والے نبی جن کو ابو الانبیاء بھی کہا جاتا ہے ان کا بھروسہ صرف اللہ پر تھا اسی سے وہ مانگتے تھے وہی ان کو سب کچھ دیتا تھا لیکن ان کے نام اور اولاد ہونے پر ناز کرنے والے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ سے مانگنے کے بجائے بتوں سے اپنی مرادوں کو مانگتے ہیں ان کو اس کا بھی پاس نہیں کہ ان کی نسبت کتنی اونچی ہے۔ لیکن یہ نسبت محض فخر کرنے سے نہیں بلکہ عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو بحکم الٰہی میدان مکہ میں لاکررکھنے کے وقت۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی توحید کا انکار کرنے والا شخص ظالم اور ناقدری کرنے والا ہوتا ہے قریش مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تصور کرتے تھے۔ انہیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ بتلاکریہ احساس دلایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے قدر دان اور صرف اسی کے تابع فرمان تھے۔ اے دنیا جہان کے انسانو بالخصوص مکہ میں بسنے والے لوگو ! جس عالی مرتبت شخصیت کے ساتھ تم ناطہ جوڑتے اور اس کے بسائے ہوئے شہر میں رہتے ہو اس کا عقیدہ یہ تھا کہ جب اس نے اپنی زوجہ مکرمہ اور اکلوتے لخت جگر کو مکہ میں ٹھہرا کر اس شہر کی بنیاد رکھی تھی تو اس نے اپنے رب کے حضور سب سے پہلے یہ التجا کی تھی ” میرے رب میں اپنی اولاد کو تیرے حکم پر، تیرے محترم گھر کے قریب چھوڑے جا رہا ہوں۔ میری پہلی فریاد یہ ہے کہ الٰہی ! اس شہر اور گھر کو امن و سکون کا گہوارا بنانا مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا، میرے رب ! بتوں کی وجہ سے بیشمار لوگ گمراہ ہوئے ہیں۔ جو میری اتباع کرے یقیناً وہ میرا ساتھی ہے اور جس نے میری نافرمانی کی الٰہی ! تو معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے تین باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی دعا اور اس کا دنیوی فائدہ : آدمی جہاں رہ رہا ہو اس مقام اور شہر میں امن نہ ہو تو انسان کوئی کام بھی دلجمعی کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ بلکہ ایک وقت آتا ہے کہ انسان اس علاقہ کو چھوڑ نے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ فرد، قوم اور ملک کی ترقی کے لیے یہ بنیادی بات ہے کہ علاقہ میں امن وامان ہو، جسے تمدن کی زبان میں یوں کہا جاتا ہے کہ چادر اور چار دیواری کا تحفظ معاشرہ اور ملک کی ترقی کے لیے خشت اول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مستجاب کرتے ہوئے رہتی دنیا تک اس شہر اور بیت اللہ کو امن کا گھر اور شہر قرار دیا ہے۔ مکہ کی آباد کاری کی ابتدا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو چھوڑ کر چلے گئے تو کچھ عرصہ بعد یمن سے ایک قبیلہ آیا جسے تاریخ میں جرہم ثانی کہا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ سے اجازت لے کر مکہ میں ٹھہر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ پہلے مکہ کے گرد و پیش کی وادیوں میں سکونت پذیر تھا۔ صحیح بخاری میں اتنی صراحت موجود ہے کہ رہائش کی غرض سے یہ لوگ مکہ میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی آمد کے بعد اور ان کے جوان ہونے سے پہلے وارد ہوئے تھے۔ لیکن اس وادی سے ان کا گزر اس سے پہلے بھی ہوا کرتا تھا۔ ( صحیح بخاری : کتاب الانبیاء) دوسری دعا : اے میرے پالنہار ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔ یاد رہے کہ دنیا میں شرک کی ابتدا مٹی اور پتھروں کے مجسموں سے ہی ہوئی تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے پہلے انبیاء (علیہ السلام) اور فوت شدگان بزرگوں کے مجسمے اس لیے بنائے تھے تاکہ بزرگوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کی ارواح کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے اس کے حضور دعا اور عبادت کی جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طبعًا اور شرعًا شرک اور ان کے ذرائع سے شدید نفرت تھی۔ اس بنا پر انہوں نے اپنے شہر کے سب سے بڑے بت خانہ کو پاش پاش کیا تھا۔ اس لیے دعا کرتے ہیں اے میرے پالنہار ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔ اپنے بارے میں بتوں کی عبادت سے بچنے کی دعا انہوں نے نفرت کا اظہار کرنے اور آئندہ نسلوں کو پیغام دینے کے لیے کی تھی تاکہ لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ معلوم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف اپنے ساتھ شرک سے نفرت ہے بلکہ قیامت کے دن ان لوگوں کو بھی جہنم میں جھونکا جائے گا جنہوں نے کسی نہ کسی طریقہ سے شرک کی راہ ہموار کی تھی۔ یہاں تک کہ جن پتھروں کے مجسمے بنائے گئے یا برکت کے طور انہیں استعمال کیا گیا۔ جس طرح کچھ لوگ برکت کے طور پر بعض پتھروں کو انگوٹھی کے نگینہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان پتھروں کو بھی جہنم میں تپایا جائے گا۔ ( الانبیاء : ٩٨) (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ حَرَّمَ اللّٰہُ مَکَّۃَ ، فَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِیْ وَلاَ لاأَحَدٍ بَعْدِیْ ، أُحِلَّتْ لِیْ سَاعَۃً مِّنْ نَہَارٍ ، لاَ یُخْتَلٰی خَلاَہَا، وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمُعَرِّفٍ )[ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الإِذْخِرِ وَالْحَشِیشِ فِی الْقَبْر ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو محترم قرار دیا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے جائز ہے۔ میرے لیے دن کی ایک گھڑی میں جائز قرار دیا ہے، نہ اس کی گھاس کو کاٹا جائے اور نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کا شکار کیا جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے مگر اعلان کرنے کی غرض سے۔ “ مکہ معظمہ کا مقام : یہ وادئ قدس ‘ جلالت و عظمت ‘ رفعت و بلندی اور علومرتبت کے لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ یہ دنیا و جہان کی تمام بستیوں، قصبوں اور شہروں میں نرالی حیثیت کی حامل ہے یہ ایسی نگری ہے جس میں داخل ہونے والے کو قرار اور سکون میسر ہوتا ہے، اس کی ہواؤں اور فضاؤں میں خالق کائنات نے طمانیت قلب کا وہ سامان پیدا فرمایا ہے جو دنیا میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اس کا یوں تذکرہ کیا گیا ہے : (وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْن وَطُوْرِسِیْنِیْنَ وَھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ) [ التین : ١۔ ٣] ” قسم ہے انجیر، زیتون، طور سینا اور اس پُر امن شہر (مکہ) کی “ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ معظمہ کے لیے دعا مانگی الٰہی ! اسے امن والا شہر بنادے۔ ٢۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی الٰہی ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔ ٣۔ بتوں کی وجہ سے بہت سارے لوگ گمراہ ہوئے۔ ٤۔ نبی کا امتی نبی کی فرمانبرداری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن مکہ معظمہ اور بیت اللہ کا مرتبہ اور مقام : ١۔ دنیا میں پہلا گھر بیت اللہ تعمیر ہوا۔ (آل عمران : ٩٦) ٢۔ قسم ہے اس شہر کی۔ (البلد : ١) ٣۔ اے میرے رب اس گھر کو امن والا بنا۔ (ابراہیم : ٣٥) ٤۔ قسم ہے اس امن والے شہر کی۔ (والتین : ٣) ٥۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ اس شہر کو امن والا بنا۔ (البقرۃ : ١٢٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣٥ تا ٤١ اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔ رب اجعل ھذا البلد امنا (١٤ : ٣٥) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔ واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( ١٤ : ٣٥) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔ رب انھن اضللن کثیرا من الناس (١٤ : ٣٦) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔ فمن تبعنی فانہ منی (١٤ : ٣٦) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔ ومن عصانی فانک غفور رحیم (١٤ : ٣٦) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔ اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔ ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (١٤ : ٣٧) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟ ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (١٤ : ٣٧) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔ فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (١٤ : ٣٧) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔ وارزقھم من الثمرات (١٤ : ٣٧) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔ لعلھم یشکرون ( ١٤ : ٣٧) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔ اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (١٤ : ٣٧) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔ الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (١٤ : ٣٩) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔ اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔ رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( ١٤ : ٤٠) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔ ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (١٤ : ٤١) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔ یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔ سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔ الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (١٤ : ٢٨) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں : قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( ١٤ : ٣٠) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔ من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (١٤ : ٣١) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی اولاد کو بیت اللہ کے نزدیک ٹھہرانا اور ان کے لیے دعا کرنا کہ شرک سے بچیں اور نماز قائم کریں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے ان کے علاقہ کے لوگ جو بابل کے قریب تھا بت پرست تھے، خود ان کا باپ بھی بتوں کی پوجا کرتا تھا آپ نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور اس بارے میں بہت تکلیفیں اٹھائیں یہاں تک کہ انہیں آگ تک میں ڈالا گیا پھر اپنے علاقہ سے ہجرت کرکے فلسطین میں تشریف لے آئے ہجرت میں ان کی بیوی بھی ساتھ تھیں۔ یہ چچا کی لڑکی تھیں، جن کا نام سارہ تھا۔ پھر سفر ہجرت میں ایک بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوایا بدنیتی سے ہاتھ ڈالا تو اس کے ہاتھ پاؤں اکڑ گئے پھر ان کو چھوڑ دیا پھر ان کی خدمت کے لیے ایک عورت پیش کردی جن کا نام ہاجرہ تھا حضرت سارہ سے اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت ہاجرہ سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جاؤ اسماعیل اور اس کی والدہ کو سرزمین عرب مکہ معظمہ میں چھوڑ آؤ وہ اپنی بیوی کو لے کر مکہ معظمہ تشریف لے آئے اور کعبہ شریف کے قریب چھوڑ دیا اور یہ دعا کی کہ اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دیجیے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے محفوظ رکھیے ان بتوں کے ذریعہ بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے ہیں میں ان لوگوں سے بیزار ہوں، جو شخص میری اتباع کرے توحید کی راہ چلے وہ میرا ہے اور جو شخص میری نافرمانی کرے وہ میرا نہیں ہے، آپ اسے ہدایت دیکر مغفرت کے راستے پر ڈال سکتے ہیں اور اس پر رحم فرما سکتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ میں آپ کے معظم گھر (کعبہ شریف) کے قریب اس وادی (میدان) میں اپنی بعض اولاد کو چھوڑ رہا ہوں یہ میدان کھیتی والا نہیں ہے حکم کی تعمیل میں یہاں قیام کرا رہا ہوں آپ میری اس ذریت کو اور اس کی نسل کو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی توفیق دیجیے میں انہیں یہاں اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ نماز قائم کریں (نماز ایمان کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن ہے اس لیے دعا میں اس کا خصوصی ذکر فرما دیا اس میں دیگر اعمال صالحہ کی بھی دعا آگئی) میری نسل کے یہ لوگ خود بھی دین پر چلنے والے بنیں اور دوسروں کے لیے بھی مقتدا بن جائیں لوگوں کے دل ان کی طرف پھیر دیجیے تاکہ ان سے ایمان اور اعمال صالحہ سیکھ سکیں، یہ تو ان کی دینی زندگی کے لیے دعا کی اور ان کی دنیاوی زندگی اور غذا کے لیے یوں دعا کی کہ اے میرے رب انہیں پھل عطا فرمانا تاکہ یہ شکر گزار ہوں، گو یہ جگہ ایسی ہے جہاں چٹیل میدان ہے اور ہر طرف سنسان ہے لیکن آپ اپنی قدرت کاملہ سے ان کو پھل نصیب فرمائیں، اللہ جل شانہٗ نے ان کی دعائیں قبول فرمائیں، ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جنہیں مکہ معظمہ میں چھوڑ گئے تھے اور ان کی نسل کو ایمان سے اور اعمال صالحہ سے مالا مال فرمایا اور انہیں مقتدا ہونے کی شان بھی عطا فرمائی ان کی طرف لوگ کھنچ کھنچ کر آنے لگے نیز انہیں رزق بھی خوب عطا فرمایا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ایسی قبول فرمائی کہ دنیا بھر سے مکہ معظمہ میں پھل آتے اور وہاں کے مقامی حضرات اور حجاج اور زائرین سب ہی کھاتے ہیں اور ان سے منتفع اور متمتع ہوتے ہیں۔ سورة قصص میں فرمایا (اَوَ لَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس رزق کے طور پر ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے) مکہ معظمہ کے قریب ہی شہر طائف آباد ہے اور وہ سرسبز و شاداب علاقہ ہے ہمیشہ وہاں سے طرح طرح کے پھل مکہ معظمہ پہنچتے رہے ہیں اور دنیا کے تمام اطراف و اکناف سے مکہ معظمہ میں طرح طرح کے پھل آ رہے ہیں شاید دنیا کا کوئی پھل ایسا نہ بچا ہو جو مکہ معظمہ نہ پہنچا ہو بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ثمرات کے عموم میں درختوں کے پھلوں کے علاوہ مشینوں کی پیداوار اور دستکاریوں سے حاصل ہونے والا سامان بھی داخل ہے مکہ کی سرزمین میں نہ کاشت ہے نہ شجرکاری ہے اور نہ صنعتکاری لیکن پھر بھی اس میں دنیا بھر کے ثمرات اور طرح طرح کی مصنوعات ملتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی اور بچہ کو مکہ معظمہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر واپس فلسطین تشریف لے گئے اور ان کے گزارے کے لیے ایک تھیلے میں کچھ کھجوریں اور مشکیزے میں پانی رکھ دیا جب واپس ہونے لگے تو ان کی اہلیہ پیچھے ہولیں اور کہنے لگیں کہ ہمیں یہاں چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں یہاں نہ آرام ہے نہ آدم زاد نہ اور کوئی چیز ہے، انہوں نے کئی بار یہ سوال کیا لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خاموش رہے آخر میں اس مومنہ خاتون نے کہا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں اس پر وہ کہنے لگیں کہ پھر تو اللہ ہمیں ضائع نہ فرمائے گا، جب مشکیزہ کا پانی ختم ہوگیا تو وہ پانی کی تلاش میں نکلیں سات مرتبہ صفا مروہ پر آنا جانا کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بچہ کے قریب فرشتے کے ایڑی مارنے سے چشمہ جاری فرما دیا، دونوں ماں بیٹے وہیں رہتے رہے پھر قبیلہ بنی جرھم بھی وہاں آکر آباد ہوگیا یہ قبیلہ (فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ ) کی مقبولیت کا اولین مصداق تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کبھی کبھی اپنی بیوی اور بچہ کی خبر لینے کے لیے تشریف لایا کرتے تھے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوگئے تو بنی جرھم میں ان کی شادی بھی ہوگئی اللہ تعالیٰ کے حکم سے دونوں باپ بیٹوں نے مل کر کعبہ شریف تعمیر کیا جسے پہلے فرشتوں نے پھر آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں جو طوفان آیا تھا اس کی وجہ سے دیواریں مسمار ہوگئی تھیں اور عمارت کا ظاہری پتہ بھی نہ رہا تھا جس جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ تعمیر کیا چونکہ اس جگہ کے قریب اپنی بیوی اور بچہ کو چھوڑا تھا اس لیے دعا میں یوں عرض کیا (اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیوی اور بچے سے رخصت ہو کر آگے بڑھے تو قبلہ رخ ہو کر ایسی جگہ کھڑے ہوئے جہاں سے کعبہ شریف کی اٹھی ہوئی جگہ نظر آتی تھی جو ٹیلہ کی شکل میں تھی اور بیوی بچہ نظر سے اوجھل تھے، اس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ دعا کی جو آیت شریفہ میں مذکور ہے۔ یہ تو معلوم تھا کہ یہاں اللہ کا گھر ہے لیکن خصوصی طور پر متعین کرکے جگہ معلوم نہیں تھی، جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کعبہ شریف بنانے لگے تو انہیں متعین طور پر کعبہ شریف کی جگہ بتادی گئی جسے سورة حج کی آیت کریمہ (وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) میں بیان فرمایا۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا حضرت ابراہیم علی نبینا ( علیہ السلام) کی نسل میں اہل ایمان رہے اور مکہ معظمہ میں بستے رہے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے پھر اہل مکہ مشرک ہوگئے بتوں کی پوجا کرنے لگے اور کعبہ شریف تک میں بت رکھ دئیے۔ حضرت خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توحید کی دعوت دی اور توحید کو پھیلانے اور شرک کو مٹانے کے لیے بڑی بڑی محنتیں کیں اور قربانیاں دیں جس کی وجہ سے اہل مکہ پھر توحید پر آگئے اور دنیا بھر کے قلوب ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور کعبہ شریف بتوں سے پاک و صاف ہوگیا۔ فصلی اللّٰہ تعالیٰ علی ابراھیم واسمٰعیل و محمد ن النبی العربی المکی المدنی صلوٰۃ دائمۃ علی ممر الدھور والاعصار

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34:۔ ” وَ اِذْ قَالَ “ تا ” یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ “ دوسری نقلی دلیل تفصیلی از حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اللہ تعالیٰ سے دعاء کی تھی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو شرک سے محفوط رکھ۔ ” ھٰذَا الْبَلَدَ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے اور ” اٰمِنًا “ نسبت کے لیے ہے ای ذا امن۔ یعنی شہر مکہ کو پر امن بنا اور اس کے باشندوں کو مال و جان میں سلامتی اور امن عطا فرما ” وَ جْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ “ مجھے اور میری اولاد کو شرک سے محفوط رکھ یعنی جس طرح ہم پہلے سے توحید اور ملت اسلام پر ہیں اسی طرح ہم کو اس پر قائم اور ثابت قدم رکھ ای ثبتنا علی ما نحن علیہ من التوحید و ملۃ الاسلام والبعد عن عبادۃ الاصنام فالانبیاء معصومون عن الکفر و عبادۃ غیر اللہ تعالیٰ (روح ج 13 ص 234) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 ۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب اس شہرم کہ کو امن والا اور امن کی جگہ بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے دور رکھیو کہ ہم مورتیوں کو پوجیں اور اصنام پرستی میں مبتلا ہوں ۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ بت پرستی سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے اور اپنی مخصوص اولاد کے حق میں دعا فرمائی یا تمام اولاد کے لئے دعا کی ہو لیکن بعض کے حق میں قبول نہ ہوئی ہو ۔ شہر کو امن والا بنادے یعنی حرم بنادے کہ اس کے رہنے والے مستحق امن رہیں ۔