Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 5

سورة إبراهيم

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ ۙ وَ ذَکِّرۡہُمۡ بِاَیّٰىمِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۵﴾

And We certainly sent Moses with Our signs, [saying], "Bring out your people from darknesses into the light and remind them of the days of Allah ." Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.

۔ ( یاد رکھو جب کہ ) ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ تو اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی میں نکال اور انہیں اللہ کے احسانات یاد دلا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہرایک صبر شکر کرنے والے کے لئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Story of Musa and His People Allah says; وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِأيَاتِنَا ... And indeed We sent Musa with Our Ayat (saying): Allah says here, `Just as We sent you (O, Muhammad) and sent down to you the Book, in order that you might guide and call all people out of darkness into the light, We also sent Musa to the Children of Israel with Our Ayat (signs, or miracles).' Mujahid said that this part of the Ayah refers to the nine miracles. ... أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ ... Bring out your people, he is being commanded; ... أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ... Bring out your people from darkness into light, call them to all that is good and righteous, in order that they might turn away from the darkness of ignorance and misguidance they indulged in, to the light of guidance and the enlightenment of faith, ... وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللّهِ ... and remind them of the annals (or days) of Allah, remind them (O Musa) of Allah's days, meaning, favors and bounties which He bestowed on them when He delivered them from the grip of Fir`awn and his injustice, tyranny and brutality. This is when Allah delivered them from their enemy, made a passage for them through the sea, shaded them with clouds, sent down manna and quails for them, and other favors and bounties. Mujahid, Qatadah and several others said this. Allah said next, ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لايَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ Truly, therein are Ayat for every patient, thankful (person). Allah says, `Our delivering of Our loyal supporters among the Children of Israel from the grasp of Fir`awn and saving them from the disgraceful torment, provides a lesson to draw from for those who are patient in the face of affliction, and thankful in times of prosperity. Qatadah said, "Excellent is the servant who if he is tested, he observes patience, and if he is granted prosperity, he is thankful for it." It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah said, إِنَّ أَمْرَ الْمُوْمِنِ كُلَّهُ عَجَبٌ لاَ يَقْضِي اللهُ لَهُ قَضَاءً إِلاَّ كَانَ خَيْرًا لَهُ إِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَه Verily, all of the matter of the believer is amazing, for every decision that Allah decrees for him is good for him. If an affliction strikes him, he is patient and this is good for him; if a bounty is give to him, he is thankful and this is good for him.

نو ( ٩ ) نشانیاں جیسے ہم نے تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور تجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے کہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے ۔ اسی طرح ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تھا بہت سی نشانیاں بھی دی تھیں جن کا بیان آیت ( وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا ١٠١؁ ) 17- الإسراء:101 ) میں ہے ۔ انہیں بھی یہی حکم تھا کہ لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں اور جہالت و ضلالت سے ہٹا کر علم و ہدایت کی طرف لے آ ۔ انہیں اللہ کے احسناتات یاد دلا ۔ کہ اللہ نے انہیں فرعون جیسے ظالم و جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا ان کے لئے دریا کو کھڑا کر دیا ان پر ابر کا سایہ کر دیا ان پر من و سلوی اتارا اور بھی بہت سی نعمتیں عطا فرمائیں ۔ مسند کی مرفوع حدیث میں ایام اللہ کی تفسیر اللہ کی نعمتوں سے مروی ہے ۔ لکن ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ میں یہ روایت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے موقوفا بھی آئی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے ۔ ہم نے اپنے بندوں بنی اسرائیل کے ساتھ جو احسان کئے فرعون سے نجات دلوانا ، اس کے ذلیل عذابوں سے چھڑوانا ، اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے عبرت ہے ۔ جو مصیبت میں صبر کرے اور راحت میں شکر کرے ۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کا تمام کام عجیب ہے اسے مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے وہی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے راحت و آرام ملے شکر کرتا ہے اس کا انجام بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی جس طرح اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو اپنی قوم کی طرف بھیجا اور کتاب نازل کی تاکہ آپ اپنی قوم کو کفر اور شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لائیں۔ اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات و دلائل دے کر ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ تاکہ وہ انھیں کفر کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی عطا کریں۔ آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کئے گئے تھے، یا وہ نو معجزات ہیں جن کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں کیا گیا ہے۔ 5۔ 2 اَ یَّام اللّٰہِ سے مراد اللہ کے وہ احسنات ہیں جو بنی اسرائیل پر کئے گئے جن کی تفصیل پہلے کئی مرتبہ گزر چکی ہے۔ یا ایام وقائع کے معنی میں ہے، یعنی وہ واقعات ان کو یاد دلا جن سے وہ گزر چکے ہیں جن میں ان پر اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات ہوئے۔ جن میں سے بعض کا تذکرہ یہاں بھی آرہا ہے۔ 5۔ 3 صبر اور شکر یہ دو بڑی خوبیاں ہیں اور ایمان کا مدار ان پر ہے، اس لئے یہاں صرف ان دو کا تذکرہ کیا گیا ہے دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبار، بہت صبر کرنے والا، شکور، بہت شکر کرنے والا اور صبر کو شکر پر مقدم کیا ہے اس لئے کہ شکر، صبر کا نتیجہ ہے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جس امر کا بھی فیصلہ کرے، وہ اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، اگر اسے تکلیف پہنچے اور وہ صبر کرے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے اور اگر اسے کوئی خوشی پہنچے، وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ' (صحیح مسلم)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] تذکیر بایام اللہ سے مراد ؟ ایام اللہ کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن اور اس سے ایسے دن مراد ہوتے ہیں جو تاریخ انسانی میں یادگار دن بن جاتے ہیں خواہ یہ خوشی کے ہوں یا مصیبت کے۔ بلکہ ایک ہی دن ایک فریق کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے اور دوسرے فریق کے لیے مصیبت کا۔ جیسے ١٠ محرم کو فرعون اور اس کے لشکری دریا میں غرق ہوئے۔ اب یہی دن بنی اسرائیل کے لیے تو انتہائی خوشی کا دن تھا کہ انھیں فرعونیوں کے مظالم سے نجات ملی اور وہ اسی خوشی میں ١٠ محرم کو ہر سال روزہ بھی رکھا کرتے تھے اور یہی دن فرعونیوں کے لیے مصیبت کا دن تھا یہی صورت ١٧ رمضان ٢ ھ کی ہے۔ مشرکین مکہ کو غزوہ بدر میں شکست فاش ہوئی۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے انتہائی خوشی کا دن تھا جبکہ قریش مکہ کے لیے یہ دن بڑی مصیبت کا دن تھا۔ اسی طرح پہلی مجرم قوموں پر جو عذاب الٰہی نازل ہوتا رہا تو انھیں ایام اللہ کہا جاتا ہے۔ اور تذکیر بایام اللہ سے مراد ایسے ہی یادگار دنوں سے عبرت حاصل کرنا ہے اور یہ قرآن کریم کا خاص موضوع ہے جسے بیشمار مقامات پر دہرایا گیا ہے۔ انبیاء اوراقوام سابقہ کے حالات اور قصص بیان کرنے سے قرآن کا اصل مقصد بایام اللہ ہی ہوتا ہے۔ [ ٧] صبر وشکر کی فضیلت :۔ صبر اور شکر دو ایسی صفات ہیں جو ایک مومن کی پوری زندگی کو محیط ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صابر اور شاکر الفاظ کے بجائے صبار اور شکور کے الفاظ استعمال فرمائے اور یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں یعنی ایک مومن کی زندگی یہ ہوتی ہے کہ جب اسے کوئی دکھ، تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے اور جب اس پر خوشحالی کے دن آتے ہیں یا کوئی خوشی یا بھلائی نصیب ہوتی ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے۔ اور زندگی بھر اس کا یہی معمول رہتا ہے اس کے مقابلے میں ایک دنیا دار یا ایک کافر کی زندگی اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے جب اسے کوئی دکھ پہنچے یا تنگدستی کے دن آئیں تو اللہ کے شکوے اور جزع و فزع کرنے لگتا ہے اور جب کوئی خوشی نصیب ہو یا خوشحالی کے دن آئیں تو ایسا احسان فراموش بن جاتا ہے کہ اللہ کو بھول ہی جاتا ہے۔ یعنی ایام اللہ سے عبرت صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو صبر اور شکر کی صفات سے متصف ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے شروع سورت میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نازل کردہ کتاب کا ذکر فرمایا اور اس کا مقصد بتایا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں۔ اب پہلے انبیاء کی اپنی اقوام کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانے کی کوششوں اور ان کی اقوام کے سلوک کا ذکر فرمایا۔ سب سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کا، پھر دوسری اقوام اور ان کے رسولوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ آیات کونیہ عطا فرمائیں، یعنی کائنات کے معمول کے خلاف معجزے، جن کے مقابلے سے دشمن عاجز تھا۔ جن میں سے چند کا تعلق فرعون اور اس کی قوم سے تھا، مثلاً عصائے موسیٰ ، ید بیضاء (طٰہٰ : ١٧ تا ٢٢) ، قحط سالی، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ (اعراف : ١٣٣) یہ سب معجزے نبوت کی دلیل کے طور پر دیے گئے، کیونکہ مخاطب فرعون بیحد ضدی، سرکش، خدائی کا دعوے دار اور نہایت بےرحم تھا۔ جب کہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت کی دلیل کے طور پر صرف ایک معجزہ ” قرآن “ عطا ہوا، باقی تمام معجزات برکت اور اہل ایمان کا ایمان بڑھانے کے لیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے کئی معجزوں کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا، مثلاً سمندر کا پھٹنا، فرعون سے نجات، بادلوں کا سایہ، من وسلویٰ کا اترنا، بارہ چشمے پھوٹنا، پہاڑ اکھیڑ کر عہد لیا جانا، گائے کا گوشت لگنے سے مردے کا زندہ ہونا وغیرہ اور کچھ وحی الٰہی کی آیات تھیں جنھیں ” تنزیلی آیات “ کہتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے پہلی وحی تورات سے بہت پہلے مدین سے واپسی پر اتری، پھر اسی طرح کسی کتابی صورت کے بغیر سالہا سال اترتی رہی۔ فرعون اسی وحی کے احکام کی نافرمانی کی وجہ سے غرق ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر بلا کر تورات عطا فرمائی۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) کو تو آیات کے علاوہ بھی بہت سی آیات عطا فرمائیں، کیونکہ دشمن نہایت سخت تھا اور اپنی قوم خوئے غلامی کی وجہ سے بیحد متلون مزاج، کافرانہ عقائد و رسوم سے متاثر اور بار بار مطالبے کرنے والی تھی۔ اوپر تقریباً سترہ آیات (نشانیوں) کا ذکر ہوا ہے، مقصد سب کا یہی تھا کہ وہ فرعون کو اور اپنی قوم کو کفر کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں۔ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ ۔۔ : ” أَیَّامٌ“ سے مراد وہ دن ہیں جن میں کوئی نادر واقعہ مصیبت یا نعمت کی صورت میں پیش آیا ہو، جیسے یوم بدر وغیرہ۔ ” أَیَّامٌ“ کی اللہ کی طرف اضافت سے ان کی اہمیت بیحد بڑھ گئی۔ اگلی آیت میں چند ” أَیَّامٌ“ کا ذکر ہے، مگر ان واقعات سے عبرت صرف انھی کو ہوتی ہے جو بہت صابر اور بہت شاکر ہوں، کیونکہ ہر نیکی کی بنیاد صبر ہے اور شکر بھی اسی کو نصیب ہوتا ہے جو صابر ہو، شکوہ شکایت اور بےصبری کرنے والوں کو شکر کی توفیق کہاں ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

*. Please see footnote on the first verse of this Surah. **. The &Days of Allah& here refers to the events of the past when Allah had graced some people with His favours and subjected some others to His punishment. ommentary The first verse cited above (5) mentions that Allah Ta’ ala sent Sayyid¬na Musa (علیہ السلام) with His آیَات &Ayat& (verses or signs) to bring his people out from the darkness of disbelief and disobedience into the light of faith and obedience. The word: آیَات (Ayat ) could mean the verses of the Torah for its very purpose was to spread the light of truth. آیَات &Ayat& is at times used in the sense of miracles. At this place, this meaning could also apply for Allah Ta’ ala had particularly blessed Sayyidna Musa (علیہ السلام) with nine miracles out of which the miracle of his staff turning into a snake and his hand becoming radiant have been mentioned at several places in the Qur’ an. If &Ayat& is taken in the sense of miracles, it would mean that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was sent with such open miracles that no sane human being, once he had seen them, could ever go on sticking to his earlier denial and disobedience. A Subtle Point It will be noted that the word used in this verse is: قَوم (qawm) while asking Sayyidna Musa (علیہ السلام) to bring his people from darkness into the light. But, when this very subject was taken up in the first verse of this particular Surah by addressing the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the word: قَوم (qawm) was not used there. Instead, used there was the word: اَلنَّاس ( (an-nas) لِتُخْرِ‌جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌: (that you may take the people [ that is, the human beings ] out of [ all sorts on darkness into the light). Implied here is the sense that the Divinely ordained mission of Sayyidna Musa (علیہ السلام) as a prophet was only for his people, the Bani Isra&il, and for others in Egypt while the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was destined for the human beings of the entire world. Then, it was said: وَذَكِّرْ‌هُم بِأَيَّامِ اللَّـهِ & ) (and remind them of the days of Allah). &The Days of Allah& The word: اَیِّام (ayyam) is the plural of yowm (day) which is well-known. The expression: (Ayyamullah) is used in two senses and both can be applied here. (1) Firstly, it could denote the particular days in which some war or revolution has occurred, for example, the bat¬tles of Badr, Uhud, Alihzab, Hunain and other events of this nature, or they may refer to major events when punishment overtook past commu¬nities which pulverized or destroyed nations and peoples known to be great and powerful. If so, the objective behind reminding these people of the &Days of Allah& would be to warn them against the evil end of their disbelief. (2) |"And remind them of &the Days of Allah&|" carries another meaning also, that is, the blessings and favours of Allah Ta` ala. In this case, re-minding them of these Days would be a form of constructive admonition which, when directed at someone basically good by reminding him of the favour done by his benefactor, would result in his being ashamed of his hostility and disobedience. The general pattern of the Qur’ anic method of reform is to tie a com¬mand given with relevant ways to act upon it which appear synchron¬ized with it. Here, in the first sentence, Sayyidna Musa has been com¬manded to either recite the verses of Allah or show miracles to his people and bring them out from the darkness of disbelief into the light of faith. How would this be done? The sentences that follow give the meth¬od: There are two ways of bringing the disobedient ones to the right path: (1) Putting the fear of punishment in their hearts; (2) to remind them of Divine blessings and favours and to persuade them to take to being obedient to Allah. The sentence: وَذَكِّرْ‌هُم بِأَيَّامِ اللَّـهِ (and remind them of the Days of Allah) could mean both. If so, the sense would be that he should tell them about the evil fate of those who disobeyed from among the past communities, how punishment came upon them and how they were either killed in the Jihad or were disgraced. May be, by being so re-minded, they take a lesson and save themselves from it. Similar to this there are so many usual blessings of Allah Ta` ala which keep coming to them day and night, and also the special ones which were turned to-wards them in the hour of their need, for example, the shade of clouds over their heads in the wilderness of Tih (the desert of Sinai), the coming of Mann and Salva as food, the gushing forth of streams from stones when they needed water. So, they could be reminded of these and many other blessings of this nature and invited to believe in the Oneness of Allah and follow the path of obedience to Allah Ta’ ala. Said in the last sentence of the first verse (5) was إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ‌ شَكُورٍ‌ (Surely, there are signs therein for every man of patience and gratitude). Here, &ayat& means signs and proofs. The word: (sabbar) is a form of exaggeration derived from: صَبر (sabr) which means very patient and much enduring, while the word: شَکُور (shakur) is a form of exaggera¬tion derived from: شُکر (shukr) which means very grateful. The sentence means that the Days of Allah - that is, past events whether related to the punishment of the deniers of truth, or to the blessings and favours of Allah Ta’ ala - are full of the signs and proofs of the perfect power and elo¬quent wisdom of Allah Ta’ ala, particularly for a person who is much ob¬serving of patience and gratitude. The sense is that these open signs and proofs, though they are for the guidance of every observer, but certainly unfortunate are the disbelievers who just do not care to ponder over them and, as a result, remain deprived of the benefit they would have derived from them. People who really benefit from these signs and proofs are those who have combined in their person the best of patience and gratitude. The reference here is to true believers - as it appears in a narration of Sayyidna Anas (رض) car¬ried by al-Baihaqi where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said: &Iman is composed of two parts, half of it is patience and the other half, gratitude.& (Mazhari) Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) said: Sabr is the half of &Iman. Based on a narration of Sayyidna Suhayb (رض) appearing in the Sahih of Muslim and the Musnad of Ahmad, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said: Every state of affairs for a true believer is nothing but good. This is a quality of life no one else has been blessed with. This is because a true believer, if he finds comfort, blessing, honour or recogni¬tion, shows his gratitude before Allah Ta’ ala for these which then be-comes a source of good for him both physically and spiritually (in the ma¬terial world, the blessings Divinely promised increase, and abide, while in the world to come, the Hereafter, one receives the greatest of rewards for his or her gratitude). And, if a true believer is hit by pain or hard-ship, he observes patience against it. Because of his patience, that hard-ship turns into ease and comfort for him. In the present world, this hap-pens when the observers of patience are blessed with the company of Allah Ta’ ala as said in the Holy Qur&an: إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِ‌ينَ (&Surely, Allah is with those who observe patience&- 8:46). And anyone who has Allah with him ultimately finds his hardship changed into comfort. As for the Here-after, we know that there the supreme reward for having observed pa¬tience is limitless with Allah Ta` ala, as said in the Holy Qur&an: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُ‌ونَ أَجْرَ‌هُم بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ (but then, paid in full to those who observe patience shall be their reward without reckoning - 39:10). To sum up, no state in which a true believer is can be called bad. It is good all along. A fall would make him rise again and when hit by hard-ships he would emerge stronger and more polished. So, &Iman is a priceless asset which transforms even shocks of hard-ship into drafts of comfort. Sayyidna Abu Al-Darda& (رض) said that he had heard the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: &Allah Ta` ala told Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) : I am going to create a community after you who are such that if they have what they desire and things turn out the way they want them to, then, they would be grateful, and if they have to face an unpleasant situation, against their wish and pleasure, then, they would accept it as a source of reward from Allah, and would observe patience. And this wisdom and forbearance demonstrated by them would not be the outcome of their own personal wisdom and forbearance, rather, We shall be bestowing upon them a certain part of Our Own Wisdom and Forbearance. (Mazhari) The substance of the reality of gratitude (shukr) is that one should not spend out the blessings given by Allah Ta’ ala in what is Haram, in things which are not permitted, and in being disobedient to Him. One should also show gratitude by saying so as well, and by modeling and channelizing one&s deeds in a manner that they would go on to become ac-cording to His good pleasure. And the substance of the reality of patience (sabr) is that we should not worry about what comes to be against our wishes, taste or tempera¬ment, and that we avoid being ungrateful in what we say or do; and that we keep hoping for the mercy of Allah Ta۔ ala in this mortal life too, and be certain of the great reward of patience due in the Hereafter as well. The second verse (6) carries details of what was said earlier, that is, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was commanded to remind his people, the Bani Isra` il, of the particular Divine blessing which changed their lives. Before the coming of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، they were living as slaves of the Pharaoh. Even as slaves, they were not treated humanely. Boys born among them were killed at birth. Only girls were left to survive and serve. After the appearance of Sayyidna Musa علیہ السلام ، such was his barakah that Allah Ta۔ ala had them delivered from the punishing clutches of the Pharaoh.

خلاصہ تفسیر : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر و معاصی کی) تاریکیوں سے (نکال کر ایمان و اطاعت کی) روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات (نعمت اور عذاب کے) یاد دلاؤ بلاشبہ ان معاملات میں عبرتیں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے (کیونکہ نعمت کو یاد کر کے شکر کرے گا اور نقمت یعنی عتاب کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا) اور اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب (ہمارے اس ارشاد بالا کے موافق) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو (یعنی لڑکیوں کو جو کہ بڑی کر عورتیں ہوجاتی تھیں) زندہ چھوڑ دیتے تھے (تاکہ ان سے کار و خدمت لیں سو یہ بھی مثل ذبح ہی کے ایک عقوبت تھی) اور اس (مصیبت اور نجات دونوں) میں تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑا امتحان ہے (یعنی مصیبت میں بلاء تھی اور نجات میں نعمت تھی اور بلاء اور نعمت دونوں بندے کے لئے امتحان ہیں پس اس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایام اللہ یعنی نعمت ونقمت دونوں کی تذکیر فرما دی) اور موسیٰ (علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ اے میری قوم) وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے (میرے ذریعہ سے) تم کو اطلاع فرما دی کہ اگر (میری نعمتوں کو سن کر) تم شکر کرو گے تو تم کو (خواہ دنیا میں بھی یا آخرت میں تو ضرور) زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم (ان نعمتوں کو سن کر) ناشکری کرو گے تو (یہ سمجھ رکھو کہ) میرا عذاب بڑا سخت ہے (ناشکری میں اس کا احتمال ہے) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (یہ بھی) فرمایا کہ اگر تم اور تمام دنیا بھر کے آدمی سب کے سب مل کر بھی ناشکری کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ وہ) بالکل بےاحتیاج (اور اپنی ذات میں) ستودہ صفات ہیں (استکمال بالغیر کا وہاں احتمال نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کا ضرر محتمل ہی نہیں اور تم اپنا ضرر سن چکے ہو اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ اس لئے شکر کرنا ناشکری مت کرنا) معارف و مسائل : پہلی آیت میں مذکور ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات دے کر بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو کفر و معصیت کی تاریکیوں سے ایمان وطاعت کی روشنی میں لے آئیں لفظ آیات سے آیات تورات بھی مراد ہو سکتی ہیں کہ ان کے نازل کرنے کا مقصد ہی حق کی روشنی پھیلانا تھا اور آیات کے دوسرے معنی معجزات خاص طور سے عطا فرمائے تھے جن میں عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہوجانا کئی جگہ قرآن میں مذکور ہے آیات کو معجزات کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے کھلے ہوئے معجزات دے کر بھیجا گیا جن کو دیکھنے کے بعد کوئی شریف سمجھدار انسان اپنے انکار اور نافرمانی پر قائم نہیں رہ سکتا ایک نکتہ : اس آیت میں لفظ قوم آیا ہے کہ اپنی قوم کو اندہیری سے روشنی میں لائیں لیکن یہی مضمون اسی سورة کی پہلی آیت میں جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے بیان کیا گیا گو وہاں قوم کے بجائے لفظ ناس استعمال کیا گیا (آیت) لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ اس میں اشارہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و بعثت صرف اپنی قوم بنی اسرائیل اور مصری اقوام کی طرف تھی اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تمام عالم کے انسانوں کے لئے ہے۔ پھر ارشاد فرمایا وَذَكِّرْهُمْ ، بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یعنی حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو ایام اللہ یاد دلاؤ۔ ایام اللہ : ایام یوم کی جمع ہے جس کی معنی دن کے مشہور ہیں لفظ ایام اللہ دو معنی کے لئے بولا جاتا ہے اور وہ دونوں یہاں مراد ہو سکتے ہیں اول وہ خاص ایام جن میں کوئی جنگ یا انقلاب آیا ہے جیسے غزوہ بدر و احد اور احزاب و حنین وغیرہ کے واقعات یا پچھلی امتوں پر عذاب نازل ہونے کے واقعات ہیں جن میں بڑی بڑی قومیں زیر وزبر یا نیست و نابود ہوگئیں اس صورت میں ایام اللہ یاد دلانے سے ان قوموں کو کفر کے انجام بد سے ڈرانا اور متنبہ کرنا مقصود ہوگا۔ دوسرے معنی ایام اللہ کے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات کے بھی آتے ہیں تو ان کو یاد دلانے کا مقصد یہ ہوگا کہ شریف انسان کو جب کسی محسن کا احسان یاد دلایا جائے تو وہ اس کی مخالفت اور نافرمانی سے شرما جاتا ہے قرآن مجید کا اسلوب اور طریق اصلاح عموما یہ کہ جب کوئی حکم دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی اس حکم پر عمل آسان کرنے کی تدبیریں بھی بتلائی جاتی ہیں یہاں پہلے جملہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی آیات سنا کر یا معجزات دکھا کر اپنی قوم کو کفر کی اندہیری سے نکالو اور ایمان کی روشنی میں لاؤ اس کی تدبیر اس جملہ میں یہ ارشاد فرمائی کہ نافرمانوں کو راہ راست پر لانے کی دو تدبیریں ہیں ایک سزا سے ڈرانا دوسرے نعمتوں اور احسانات کو یاد دلا کر اطاعت کی طرف بلانا جملہ من وسلوی میں یہ دونوں چیزیں مراد ہو سکتی ہیں کہ پچھلی امتوں کے نافرمانوں کا انجام بد ان پر آنے والے عذاب اور جہاد میں ان کا مقتول یا ذلیل و خوار ہونا ان کو یاد دلائیں تاکہ وہ عبرت حاصل کرکے اس سے بچ جائیں اسی طرح اس قوم پر جو اللہ تعالیٰ کی عام نعمتیں دن رات برستی ہیں اور جو مخصوص نعمتیں ہر موقع پر ان کے لئے مبذول ہوئی ہیں مثلا وادی تیہ میں ان کے سروں پر ابر کا سایہ، خوراک کے لئے من وسلوی کا نزول پانی کی ضرورت ہوئی تو پتھر سے چشموں کا بہہ نکلنا وغیرہ ان کو یاد دلا کر خدا تعالیٰ کی اطاعت اور توحید کی طرف بلایا جائے۔ (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ اس میں آیات سے مراد نشانیاں اور دلائل ہیں اور صبار صبر سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت صبر کرنے والا اور شکور شکر سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت شکر گذار، جملہ کے معنی یہ ہیں کہ ایام اللہ یعنی پچھلے واقعات خواہ وہ جو منکروں کی سزا اور عذاب سے متعلق ہوں یا اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات سے متعلق بہرحال ماضی کے واقعات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی بڑی نشانیاں اور دلائل موجود ہیں اس شخص کے لئے جو بہت صبر کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کھلی ہوئی نشانیاں اور دلائل اگرچہ ہر غور کرنے والے کی ہدایت کے لئے ہیں مگر بدنصیب کفار ان میں غور وفکر ہی نہیں کرتے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے فائدہ صرف وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو صبر و شکر کے جامع ہیں مراد اس سے مومن ہیں کیونکہ بیہقی نے بروایت انس نقل کیا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایمان کے دو حصے آدھا صبر اور آدھا شکر (مظہری) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ صبر نصف ایمان ہے اور صحیح مسلم اور مسند احمد میں بروایت حضرت صہیب مذکور ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مومن کا ہر حال خیر ہی خیر اور بھلا ہی بھلا ہے اور یہ بات سوائے مومن کے اور کسی کو نصیب نہیں کیونکہ مومن کو اگر کوئی راحت نعمت یا عزت ملتی ہے تو یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر گذار ہوتا ہے جو اس کے لئے دین و دنیا میں خیر اور بھلائی کا سامان ہوجاتا ہے (دنیا میں تو حسب وعدہ الہی نعمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور قائم رہتی ہے اور آخرت میں اس کے شکر کا اجر عظیم اس کو ملتا ہے) اور اگر مومن کو کوئی تکلیف یا مصیبت پیش آجائے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اس کے صبر کی وجہ سے وہ مصیبت بھی اس کے لئے نعمت و راحت کا سامان ہوجاتی ہے (دنیا میں اس طرح کہ صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت و راحت کا سامان ہوجاتی ہے (دنیا میں اس طرح کہ صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے قرآن کا ارشاد ہے ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ اور اللہ جس کے ساتھ ہو انجام کار اس کی مصیبت راحت سے تبدیل ہوجاتی ہے اور آخرت میں اس طرح کہ صبر کا اجر عظیم اللہ تعالیٰ کے نزدیک بےحساب ہے جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَاب خلاصہ یہ ہے کہ مومن کا کوئی حال برا نہیں ہوتا اچھا ہی اچھا ہے وہ گرنے میں بھی ابھرتا ہے اور بگڑنے میں بھی بنتا ہے۔ نہ شوخی چل سکی باد صبا کی بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی ایمان وہ دولت ہے جو مصیبت و تکلیف کو بھی راحت ونعمت میں تبدیل کردیتی ہے حضرت ابو الدردا (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میں آپ کے بعد ایک ایسی امت پیدا کرنے والا ہوں کہ اگر ان کی دلی مراد پوری ہو اور کام حسب منشاء ہوجائے تو وہ شکر ادا کریں گے اور اگر ان کی خواہش اور مرضی کے خلاف ناگوار اور ناپسندیدہ صورت حال پیش آئے تو وہ اس کو ذریعہ، ثواب سمجھ کر صبر کریں گے اور یہ دانشمندی اور بردباری ان کی اپنی ذاتی عقل وحلم کا نتیجہ نہیں بلکہ ہم ان کو اپنے علم و حلم کا ایک حصہ عطا فرما دیں گے (مظہری) شکر کی حقیقت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی نافرمانی اور حرام و ناجائز کاموں میں خرچ نہ کرے اور زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اپنے افعال و اعمال کو بھی اس کی مرضی کے مطابق بنائے۔ اور صبر کا خلاصہ یہ ہے کہ خلاف طبع امور پر پریشان نہ ہو اپنے قول و عمل میں ناشکری سے بچے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دنیا میں بھی امیدوار رہے اور آخرت میں صبر کے اجر عظیم کا یقین رکھے۔ دوسری آیت میں مضمون سابق کی مزید تفصیل ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی یہ خاص نعمت یاد دلائیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے فرعون نے ان کو ناجائز طور پر غلام بنایا ہوا تھا اور پھر ان غلاموں کے ساتھ بھی انسانیت کا سلوک نہ تھا ان کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جاتا تھا اور صرف لڑکیوں کو اپنی خدمت کے لئے پالا جاتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس فرعونی عذاب سے نجات دیدی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ۝ ظلم) تاریکی) الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ، أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] ( ظ ل م ) الظلمۃ ۔ کے معنی میں روشنی کا معدوم ہونا اس کی جمع ظلمات ہے ۔ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے ) جیسے دریائے عشق میں اندھیرے ۔ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ( غرض ) اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک چھایا ہوا ۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] بتاؤ برو بحری کی تاریکیوں میں تمہاری کون رہنمائی کرتا ہے ۔ وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] اور تاریکیاں اور روشنی بنائی ۔ اور کبھی ظلمۃ کا لفظ بول کر جہالت شرک اور فسق وفجور کے معنی مراد لئے جاتے ہیں جس طرح کہ نور کا لفظ ان کے اضداد یعنی علم وایمان اور عمل صالح پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے ۔ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجورح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نومعجزات یعنی یدبیضا، عصا، طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم، سنین، نقص من الثمرات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو کفر سے ایمان کی طرف بلائیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات یعنی اللہ کا عذاب اور اللہ کی رحمت یا دلائیں بیشک ان مذکورہ باتوں میں اطاعت پر قائم رہنے والے اور نعمت پر شکر کرنے والے کے لیے عبرتیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ ) یہ ” التّذکیر بایّام اللّٰہ “ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آچکا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب ” الفوز الکبیر “ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ” التذکیر بایام اللّٰہ “ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ نے دوسری اصطلاح ” التذکیر بآلاء اللّٰہ “ کی استعمال کی ہے ‘ یعنی اللہ کی نعمتوں اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے تذکیر اور یاد دہانی۔ (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ) صَبَّار اور شَکُور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبر اور شکر یہ دونوں صفات آپس میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary) نوعیت کی ہیں۔ چناچہ ایک بندۂ مؤمن کو ہر وقت ان میں سے کسی ایک حالت میں ضرور ہونا چاہیے اور اگر وہ ان میں سے ایک حالت سے نکلے تو دوسری حالت میں داخل ہوجائے۔ اگر اللہ نے اس کو نعمتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے تو وہ شکر کرنے والا ہو اور اگر کوئی مصیبت یا تنگی اسے پہنچی ہے تو صبر کرنے والا ہو ۔ حضرت صہیب بن سنان رومی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : (عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِاَحَدٍ الاَّ لِلْمُؤْمِنِ ‘ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ ) (١) ” مؤمن کا معاملہ تو بہت ہی خوب ہے ‘ اس کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے ‘ اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی آسائش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے ‘ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8. The Arabic word ayyam technically means memorable historical events. Therefore Ayyam-u-Allah (divine history) implies all those eventful chapters of human history which mention the rewards and punishments that were meted out to the great personalities and nations according to their deeds in the past ages. 9. Those historical events are signs in this sense that their proper and intelligent study provides proofs of the fact that there is only one God: and that the law of retribution is universal and is based absolutely on the differentiation between the knowledge and moral practice of the truth and falsehood: that this law also requires another world (the Hereafter) for its due fulfillment. Moreover, these events contain signs that serve as warnings against the evil consequences of building up systems of life on false creeds and theories, and help one to learn lessons from them. 10. Though these signs are always there, only those persons learn lessons from them who remain steadfast in trials and appreciate the blessings of Allah rightly and are grateful to Him. Obviously, frivolous and ungrateful persons cannot learn any lesson from these signs, even though they might grasp their significance.

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :8 ”ایّام“ کا لفظ عربی زبان میں اصطلاحا یادگار تاریخی واقعات کے لیے بولا جاتا ہے ۔ ”ایام اللہ“ سے مراد تاریخ انسانی کے وہ اہم ابواب ہیں جن میں اللہ تعالی نے گزشتہ زمانہ کی قوموں اور بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کے اعمال کے لحاظ سے جزا یا سزا دی ہے ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :9 یعنی ان تاریخی واقعات میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جن سے ایک آدمی توحید خداوندی کے برحق ہونے کا ثبوت بھی پا سکتا ہے اور اس حقیقت کی بھی بے شمار شہادتیں فراہم کر سکتا ہے کہ مکافات کا قانون ایک عالمگیر قانون ہے ، اور وہ سراسر حق اور باطل کے علمی و اخلاقی امتیاز پر قائم ہے ، اور اسکے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک دوسرا عالم ، یعنی عالم آخرت ناگزیر ہے ۔ نیز ان واقعات میں وہ نشانیاں بھی موجود ہیں جن سے ایک آدمی باطل عقائد و نظریات پر زندگی کی عمارت اٹھانے کے برے نتائج معلوم کر سکتا ہے اور ان سے عبرت حاصل کر سکتا ہے ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :10 یعنی یہ نشانیاں تو اپنی جگہ موجود ہیں مگر ان سے فائدہ اٹھانا صرف انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ کی آزمائشوں سے صبر اور پامردی کے ساتھ گزرنے والے ، اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کر کے ان کا صحیح شکریہ ادا کرنے والے ہوں ۔ چھچھورے اور کم ظرف اور احسان ناشناس لوگ اگر ان نشانیوں کا ادراک کر بھی لیں تو ان کی یہ اخلاقی کمزوریاں اُنہیں اس ادراک سے فائدہ اٹھانے نہیں دیتیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: اصل قرآنی لفظ ایام اللہ ہے جس کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن۔ لیکن محاورے میں اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے خاص خاص اور اہم واقعات دکھلائے ہیں۔ مثلاً نافرمان قوموں پر عذاب کا نازل ہونا۔ اور فرماں برداروں کو دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا ہونا۔ لہذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان خاص خاص واقعات کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو نصیحت کیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کریں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥۔ ٦۔ خاص کر حضرت موسیٰ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اور انبیاء کے مبہم ذکر کے بعد اس لئے فرمایا کہ قریش اس بات کو سمجھیں کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت مان لی اور نبی وقت کے کہنے کے موافق چلے تو انجام ان کا یہ ہوا کہ ایک مدت تک ان میں حکومت اور بادشاہت اور دین کی سرداری قائم رہی اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسمعیل میں ان نبی آخر الزمان کو بھیجا ہے اگر تم بھی نبی وقت کی اطاعت کرو گے تو تم کو بھی وہی حکومت اللہ دیوے گا اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے چناچہ جس طرح اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہی طہور میں آیا کہ قریش میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کو حکومت اور خلافت ملی اور ان کے خاندانوں میں ایک مدت دراز تک وہ حکومت قائم رہی خلفاء بنی امیہ اور عباسیہ کی تاریخی کتابیں جس نے دیکھی ہیں وہ جانتا ہے کہ کس قدر وسیع زمانہ اس حکومت کا دنیا میں گزرا ہے جب آخر کو جس اطاعت کے سبب سے اس حکومت کا پایہ بڑا تھا اس اطاعت کو ان لوگوں نے چھوڑ دیا تو وہ حکومت بھی جاتی رہی۔ ظلمات اور نور کی تفسیر میں مسند امام احمد، نسائی اور دارمی کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود (رض) کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے۔ وہی حدیث یہاں بھی آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس طرح اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہم نے تم کو قرآن اور معجزات دے کر لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا۔ مجاہد کے قول کے موافق ایام اللہ کی تفسیر اللہ تعالیٰ کا وہی احسان کا زمانہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے طرح طرح کے ظلم سے نجات دی۔ آگے کی آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی اس احسان کا ذکر فرمایا ہے جس سے مجاہد کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے نسائی اور زوائد مسند امام احمد میں ابی بن کعب (رض) کی ایک حدیث بھی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام اللہ کی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ بنی اسرائیل نے فرعون کے ظلم پر صبر کیا جس کے اجر میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن کو ڈبو کر ہلاک کردیا پھر اللہ کی اس نعمت کے شکریہ میں انہوں نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کی فرمانبرداری کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے دشمن کی ہلاکت سے بڑھ کر بنی اسرائیل پر یہ احسان کیا کہ ان کو بادشاہت اور نبوت کا مرتبہ عنایت فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے اس قصہ میں صبر اور شکر دونوں کا نتیجہ ہے اس واسطے کہ اس قصے میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے اس بات کی نشانیاں ہیں کہ صبر اور شکر رائیگاں نہیں جاتا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ اگر قریش قرآن کی نعمت کے شکر یہ میں قرآن کی نصیحت پر چلیں گے اور قرآن کے احکام کی تعمیل میں جو کچھ تکلیف ہے اس پر صبر کریں گے تو ان کام انجام بھی اچھا ہوگا بلاء کے معنے عذاب اور نعمت دونوں کے ہیں۔ اس قصے میں فرعون کے ظلم اللہ کی نعمت دونوں کا ذکر ہے۔ اس لئے بلاء کا لفظ فرمایا۔ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے بچانے میں اور اس کے بعد نبوت اور بادشاہت کا انہیں مل جانے میں اللہ کی مدد تھی اسی واسطے شاہ صاحب نے بلا کا مرادی ترجمہ مدد کے لفظ سے کیا ہے۔ مدد کرنے والی کی نام وری ہوتی ہے اس لئے ایام اللہ کے فائدہ میں سائے کا لفظ لکھا ہے جس کے معنے نام وری کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو جو فرعون قتل کراتا تھا اس کا سبب اور فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا قصہ سورت بقر میں گزر چکا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:5) ان اخرج میں ان اے کے معنی میں ہے اس لئے کہ ارسلنا میں قلنا کے معنی بھی شامل ہیں۔ لقد ارسلنا موسیٰ بایتنا وقلنا لہ اخرج ۔۔ ذکرہم۔ امر واحد مذکر حاضر ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو یاد دلا۔ تو ان کو سمجھا۔ تو ان کو نصیحت کر۔ ایام اللہ۔ اللہ کے دن۔ یعنی اللہ کی وہ نصیحتیں جو مختلف قوموں کو عطا ہوئیں مثلاً حکومت اقتدار وغیرہ۔ یا وہ مصیبتیں جو قوموں کو ان کے اعمال کی پاداش میں یا ان کی آزمائش کے لئے ان پر نازل ہوئیں۔ مثلاً وباء قحط۔ محکومی غلامی وغیرہ۔ جو اپنی اہمیت کی وجہ سے جزو تاریخ بن چکی ہیں۔ تاریخ کے اہم واقعات۔ ایّام کی اضافت اللہ کی جانب ان واقعات کی اہمیت پر دلالت کرنے کے لئے ہے۔ ذلک ۔ کا اشارہ ایام اللہ کی طرف ہے۔ صبار۔ بڑا صبر کرنے والا۔ صبر سے (فعال ) کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ شکور۔ بڑا شکر گذار۔ بڑا احسان ماننے والا۔ بڑا قدردان۔ شکر سے فعول کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور مبالغہ کے اوزان میں سے ہے۔ مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جب اس کا استعمال اللہ کے ساتھ آئے تو اس کے معنی قدردان کے آتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ وہ نو معجزات مراد ہیں جو موسیٰ ( علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے یعنی طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون ی عصا، یدِ بیضا، قحط اور پیداوار کی کمی یا ان سے آیات توراۃ مراد ہیں۔ دیکھئے اعراف آیت 331 ۔ (روح) ۔ 7 ۔ یا اللہ کی قدرت کے وہ واقعات جو تاریخ میں گزر چکے ہیں۔ ” ایام “ کا لفط عموماً انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن ترجمہ میں دئیے ہوئے معنی یہاں انسب ہیں۔ (روح) ۔ 8 ۔ یعنی اس تذکیر میں یا ان واقعات میں۔ (روح) ۔ 9 ۔ کیونکہ وہی ان نشانیوں سے صحیح طور پر عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ بےصبرے اور ناشکرے لوگ کسی نشانی سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ (قرطبی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6 اخرج نکال۔ ذکر یاد دلا۔ ایام اللہ اللہ کے دن (تاریخی واقعات) صبار بہت صبر کرنے والا۔ شکور بہت شکر کرنے والا۔ انجی اس نے نجات دی چھٹکارا دیا۔ ال فرعون قوم فرعون۔ یسومون وہ پہنچناتے ہیں۔ سوء العذاب بدترین تکلیفیں۔ یذبحون وہ ذبح کرتے ہیں۔ یستحیون وہ زندہ کھتے ہیں۔ نسآء (امراۃ) عورتیں۔ لڑکیاں۔ بلآء آزمائش تشریح : آیت نمبر 5 تا 6 سورة ابراہیم کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر سچائی کی روشنی میں لے آئیں۔ ان آیات میں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ نے اسی طرح حضرت موسیٰ کو بھی توریت جیسی کتاب دے کر حکم دیا تھا کہ وہ ہماری نشانیوں کے ذریعہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر سچائی کی روشنی کی طرف لے آئیں اور ان کو ” ایام اللہ “ یعنی وہ عظیم الشان واقعات یاد دلائیں کہ جب اللہ نے فرعون اور اس کے لشکریوں کے ظلم سے ان کو نجات عطا کی تھی اور فرعون کی سلطنت کا بنی اسرائیل کو مالک بنا دیا تھا۔ پھر انہیں اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے تھا مگر بعد میں وہ قوم اللہ کے احسانات کو بھول کر پھر روشنیوں سے اندھیروں کی طرف پلٹ گئی۔ بہرحال اللہ کا کلام اور اس کے نبیوں کا ہمیشہ سے ایک ہی طریقہ رہا ہے کہ وہ ان انسانوں کو جو اپنے حقیقی مالک اللہ کو بھول گئے ہیں اور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ان کو سچائی، صداقت اور ہدایت کی روشنی میں لے آئیں۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ روشنی اور صداقت کا زمانہ صرف وہی ہے جس میں انبیاء کرام تشریف لائے اور ان کی لائی ہوئی روشنی پھیلتی رہی۔ اس کے علاوہ سب اندھیرا ہی اندھیرا چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں اور نبیوں کے آخر میں خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کریم دے کر ایک ایسی روشنی عطا فرمائی ہے جو قیامت تک تمام انسانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ آپ نے چند برسوں میں جس طرح عرب کے اندھیرے دور فرما دیئے تھے اور صحابہ کرام کی ایک ایسی پاکیزہ و مقدس جماعت تیار فرما دی تھی جو ستاروں کی مانند زندگی کے اندھیروں کو روشن کرتی رہی۔ صحابہ کرام نے پوری دیانت و امانت کے ساتھ اس روشنی کی قندیلوں کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا اور ان یہ کے راستے پر چل کر امت کے علماء حق نے ہزاروں تکلیفوں، پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود اس شمع کو روشن رکھا کہ آج تک اس کی روشنی اور چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس روشنی کو اتنا روشن کردیا کہ جس سے اندھیروں میں بھٹکنے والے کانپ رہے ہیں اور اس روشنی کو بجھانے کے لئے اپنی تمام طاقتوں کو لگائے ہوئے ہیں اسی لئے کفار و مشرکین اکابرین ملت اور مسلمانوں پر ہر طرح کے ظلم و ستم کئے جا رہے ہیں جنہوں نے یہ طے کر رکھا ہے ہم مٹ جائیں تو مٹ جائیں لیکن نہ دین کو مٹنے دیں گے اور نہ اس روشنی کو مدہم ہونے دیں گے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خلفاء راشدین، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، بزرگان دین اور علماء کرام نے روشن فرمایا تھا۔ الحمد للہ دشمنان اسلام علماء کی استقامت اور ثابت قدمی سے بوکھلا اٹھے ہیں اور ان کے خلاف اپنے میڈیا کے ذریعے ایک طوفان بپا کر رکھا ہے لیکن انشاء اللہ یہ اندھیروں میں بھٹکنے والے بھٹکتے ہی رہیں گے اور یہ بوریہ نشین اور غریب علماء اللہ کے دین کی اس شمع کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے منزل کی طرف رواں دواں رہیں گے۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھا یا نہ جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ کیونکہ نعمت کو یاد کرکے شکر کے گا اور نقمت کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا اور یاد دلانے کا یہ ایک فائدہ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قومی زبان میں خطاب فرماتے اور ان کی دعوت کا مقصد لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشنی کی طرف بلانا تھا۔ پیغمبرانہ جدوجہد کے اعتبار سے اور قوم کے مزاج کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیاں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ ” اے اہل مکہ ! ہم نے تم پر حق کی شہادت قائم کرنے کے لیے تم ہی میں سے ایسا رسول بھیجا ہے جیسا ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔ فرعون نے اپنے رسول کی بات کا انکار کیا تب ہم نے اسے سختی کے ساتھ پکڑا۔ (المزمل : ١٥۔ ١٦) اس روحانی اور دعوتی تعلق اور مماثلت کی وجہ سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اور لوگوں کے مزاج کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دلائل دے کر ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں اور انہیں اللہ کے ایام یاد دلائیں۔ یقیناً اس میں اس کے لیے عبرت کے نشانات ہیں جو مشکلات پر صبر کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا ہے۔ قرآن مجید نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور ان پر نازل ہونے والی کتاب تورات کو بھی النور فرمایا ہے اور اس کے مقابلے میں لوگوں کے عقائد ونظریات کو ظلمات سے تشبیہ دی ہے۔ ہدایت ایک ہی ہے جو ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے اور گمراہی اندھیرا ہے۔ جس کی ہر زمانے میں مختلف شکلیں اور صورتیں ہوتی ہیں۔ ایام اللہ سے مراد قوموں کے عروج وزوال کے واقعات اور وہ عتاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجرموں پر نازل ہوئے تھے۔ جس کی مثالیں حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہ السلام) کے حوالے سے قرآن مجید اور تورات میں مذکور ہیں۔ ایام اللہ سے مراد وہ دن بھی ہوسکتے ہیں جن ایام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء (علیہ السلام) کو کامیابی نصیب ہوئی جیسا کہ محرم کی دس تاریخ کو فرعون اور اس کے لشکر وسپاہ کو غرق کیا گیا اور بنی اسرائیل کو سربلند کرتے ہوئے انھیں سرخروئی عطا کی گئی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدر، خندق، مکہ کے دن، حنین اور تبوک کے محاذ میں سرفراز کیا گیا۔ یہ واقعات اور ایام اس شخص کے لیے مشعل راہ اور عبرت کا نشان ہیں جو مشکلات پر صبر کرنے اور حق پر مستقل مزاجی کے ساتھ قائم رہنے والا ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو جب اللہ تعالیٰ کامیابی اور کسی نعمت سے سرفراز کرتا ہے تو وہ اترانے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کی بجائے اس کے حضور عجزو عاجزی کا اظہار کرتا ہے اور اس کا شکربجالاتا ہے۔ قرآن مجید نے ہدایت اور گمراہی کو صبر اور شکر کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ (عَنْ صُہَیْبٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّآءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّآءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہٗ کُلُّہٗ خَیْرٌ] ” حضرت صہیب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کا معاملہ عجب ہے بیشک اس کے تمام کاموں میں بہتری ہے۔ جو مومن کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ مومن کو خوش کردینے والی چیز ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات عطا فرمائے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ ٣۔ ہر صابرو شاکر کے لیے ایام اور واقعات میں نشانیاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن آسمانی ہدایت نور ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اس نور کی طرف لوگوں کو بلایا کرتے تھے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تاکہ ان کے ذریعے اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : ٥) ٢۔ یقیناً آیا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب۔ (المائدۃ : ١٥) ٣۔ اللہ رہنمائی کرتا ہے نور کی طرف جس کو چاہتا ہے۔ (النور : ٣٥) ٤۔ ہم نے تو رات اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے۔ (المائدۃ : ٤٤) ٥۔ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : ١) ٦۔ اللہ اپنے دوستوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے شیطان اپنے دوستوں کو روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔ (البقرۃ : ٢٥٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔ آیت نمبر ٥ تا ٨ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ حکم تھا۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور (١٤ : ١) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔ ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (١٤ : ٥) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔ وذکرھم بایم اللہ (١٤ : ٥) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (١٤ : ٥) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔ واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (١٤ : ٦) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔ وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (١٤ : ٦) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا لے بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مصائب کو برداشت کرے لیکن اس کی استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے۔ وہ شکست برداشت نہ کرے ، روحانی طور پر ہمت نہ ہارے ، اپنے پروگرام پر چلنے کا عزم پورا رکھتا ہو اور اس کے اندر ظلم اور سرکشی کے مقابلے کے لئے تیاری کا عزم موجود ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو صبر نہیں بلکہ خواری اور ذلت کو قبول کرنا ہے اور نجات میں بھی ان کے لئے آزمائش ہے کہ آیا وہ شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی اس نعمت کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں۔ اور نجات کے بدلے اللہ کی راہ ہدایت کو اپناتے ہیں یا نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب مزید بیان کرتے ہیں۔ ایام اللہ کے بیان کے بعد اب ان کو مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تمہیں چاہئے کہ صبر اور شکر کو اپنا وطیرہ بنا لو اور اگر تم شکر کروگے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور اگر کفر کروگے تو اللہ کا عذاب پھر تیار ہوگا۔ واذ تاذن ۔۔۔۔۔۔ عذابی لشدید (١٤ : ٧) ” یاد رکھو ، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے “۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے ، یہ حقیقت کہ شکر نعمت سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفران نعمت سے انسان اللہ کی شدید پکڑ میں آجاتا ہے۔ جب ہم ذرا اس حقیقت پر غور کرتے ہیں تو پہلی ہی سوچ میں ہمارے دل اس حقیقت پر مطمئن ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے لیکن اگر ہم اس کے اسباب کو بھی معلوم کرنا چاہیں اور ایسے اسباب کی تلاش کریں جنہیں ہم سمجھ سکتے ہیں تو بھی ہمیں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شکر نعمت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کرنے والے کے نفس میں ایک صحیح معیار بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی نعمت کا فطری تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ ہر فطرت سلیم ، احسان کا فطری صلہ شکر کو سمجھتی ہے۔ ایک تو یہ سبب ہے ، دوسرے یہ کہ جو شخص نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہی ان نعمتوں کا متصرف ہے۔ اس طرح یہ شخص سر کشی سے باز رہتا ہے ، لوگوں پر اپنے آپ کو برتر نہیں سمجھتا اور اللہ کی نعمتوں کو مخلوق خدا کے اذیت دینے ، شر کرنے ، معاشرے میں فساد پھیلانے اور خصوصاً گندگی پھیلانے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔ ان امور سے انسان کے نفس کے اندر پاکی آجاتی ہے اور ایسا شخص عمل صالح کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ خدا کی دی ہوئی دولت میں اچھا تصرف کرتا ہے اور اس اچھے تصرف کی وجہ سے اس میں ترقی ہوتی ہے اور برکت آجاتی ہے ۔ اس طرح ایسے شخص سے اس کے اردگرد کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں اور پھر اس خوشی کی وجہ سے وہ اس کی اور معاونت کرتے ہیں۔ اس طرح معیشت کی ترقی کے لئے مزید پر امن ماحول فراہم ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مومن کے لئے تو صرف یہی کافی ہے کہ اگر شکر کرو گے تو میں زیادہ دولت دوں گا چاہے وہ دوسرے اسباب کو سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے کیونکہ اللہ کا وعدہ ایک حق ہے اور اس نے بہرحال پورا ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو اس طرح کہ نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے ، دوسرے اس طرح کہ دولت مند شخص اس بات کا انکار کردے کہ ان نعمتوں کا بخشنے والا اللہ ہے۔ وہ ان نعمتوں کو اپنے علم ، اپنی مہارت اور اپنی ذاتی جدو جہد کا ثمرہ قرار دے۔ گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ علم ، مہارت ، جدو جہد کی قوت یہ اللہ کی نعمتیں نہیں ہیں۔ یہ اس کی خود کی پیدا کردہ ہیں اور بھی کفران نعمت یوں ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے یہ شخص سرکشی اختیار کرتا ہے ، تکبر کرتا ہے ، اپنے آپ کو لوگوں کے مقابلے میں بڑی چیز سمجھتا ہے اور ان کے ذریعہ فساد پھیلاتا ہے اور عیش و عشرت کرتا ہے۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری میں آتے ہیں۔ عذاب شدید کی بھی پھر مختلف شکلیں ہیں ، کبھی تو یہ یوں آتا ہے کہ اللہ کی نعمت کسی سے سلب کرلی جاتی ہے اور وہ مشخص طور پر ان سے محروم ہوجاتا ہے یا انسانی شعور پر نعمتوں کا جو اثر ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی نعمت کو انسان کے لئے مصیبت بنا دیا جاتا ہے اور صاحب نعمت پر اس کی وجہ مصائب آجاتے ہیں۔ جو لوگ اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ حسد کرتے ہیں اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس پر ایک عرصے کے بعد عذاب آجاتا ہے اور کبھی اس عذاب کو آخرت تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔ لیکن عذاب ملتا ضرور ہے کیونکہ کفران نعمت کا جرم بغیر سزا کے نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی شکر کرتا ہے تو اللہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اور اگر کوئی کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ تو بذات خود غنی ہے اور دونوں جہانوں میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بذات خود محمود ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ صرف لوگوں کے شکر اور حمد کے ساتھ محمود ہو سکتا ہے۔ وقال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ لغنی حمید (١٤ : ٨) ” اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بےنیاز ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے “۔ اگر تم شکر کرو گے تو اس سے تمہاری زندگی سدھرے گی۔ لوگوں کے نفوس اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور پاکیزہ ہوں گے اور شکر کی وجہ سے وہ سدھر جائیں گے۔ وہ مطمئن ہوجائیں گے کہ اب یہ نعمت انشاء اللہ جاری رہے گی اور اس کے بگڑنے اور ختم ہونے کا خطرہ نہ رہے گا۔ نیز بطور شکر نعمت جو خرچ کیا جائے گا اس پر کوئی نفس پریشان نہ ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔ کیونکہ منعم موجود ہے اور بطور شکر جو حصہ جائے گا اس سے بقیہ حصہ پاک ہوگا اور اجر مزید ملے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے وعظ و نصیحت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ پس منظر میں چلے گئے تا کہ منظر پر ایک عظیم معرکہ دکھایا جاسکے۔ جو تمام انبیاء کی امتوں اور ان کے بالمقابل جاہلیتوں میں برپا ہوگا۔ ان جاہلیتوں نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ قرآن مجید کا یہ انوکھا اسلوب ہے کہ وہ کلام کا انداز یکلخت بدل کر اسے زندہ منظر میں بدل دیتا ہے۔ یہ منظر زندہ اور متحرک ہوتا ہے۔ اس میں افراد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کے تاثرات بھی صاف نظر آتے ہیں۔ زمان ومکان کو لپیٹ کر اب ایک عظیم منظر۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مبعوث ہونا اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا : ان دو آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے زمانہ اقتدار میں جب اپنے والدین اور بھائیوں کو اور ان کی ازواج واولاد کو بلا لیا تھا تو یہ لوگ مصر میں مستقل طور پر بس گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے چونکہ یہ لوگ مصری قوم یعنی قبطیوں کے نہ ہم وطن تھے نہ ہم مذہب تھے اس لیے انہوں نے ان کو اجنبی ہونے کی پاداش میں بہت بری طرح رگڑا۔ چار سو سال کی بدترین غلامی میں جکڑے رہے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو بنی اسرائیل ہی میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات عطا فرمائے اور ان پر توریت شریف نازل فرمائی چونکہ وہ پیدا ہونے کے بعد سے تیس سال کی عمر تک مصر ہی میں رہے اس کے بعد دس سال مدین میں رہے اس لیے بنی اسرائیل کی زبان بھی جانتے تھے اور قبطیوں کی زبان سے بھی واقف تھے ‘ آپ فرعون اور قوم فرعون کی طرف بھی مبعوث ہوئے اور بنی اسرائیل کی طرف بھی ‘ فرعون اور اس کی قوم تو کافر مشرک تھے ہی ان کی اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل بھی نہ صرف یہ کہ فسق وفجور میں مبتلا تھی بلکہ شرک کو بھی پسند کرنے لگی تھی اس لیے جب سامری نے بچھڑا بنایا تو اس کی پرستش کرنے لگے اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مشرکین پر گزرے تو کہنے لگے (یَا مُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ) (اے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسے ہی معبود تجویز کر دیجئے جیسے ان لوگوں کے لیے معبود ہیں) اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم اپنی قوم کو اندھیروں سے نکالو اور نور کی طرف لے آؤ کفر و شرک اور فسق وفجور اور معاصی سے انہیں ہٹاؤ اور بچاؤ اور ہدایت کی روشنی کی طرف لے آؤ (وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ ) (اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ) دن تو سارے اللہ ہی کے ہیں کیونکہ سب دنوں کو اسی نے پیدا فرمایا ہے لیکن محاورہ کے اعتبار سے یہاں انقلابات جہاں اور دکھ تکلیف کے واقعات یاد دلانا مقصود ہے دنیا میں کیسے کیسے بادشاہ اور دبدبے والے اصحاب اقتدار آئے انہوں نے کیا کیا بنایا اور کیا کیا خود صفحہ ہستی سے مٹ گئے ان کے لشکر بھی تباہ ہوئے قومیں بھی ختم ہوئیں محلات بھی برباد ہوئے جن میں سے بعض کا کوئی نشان باقی ہے اور بعض کے نشان بھی ختم ہوگئے ‘ انہیں میں فرعون بھی تھا جس کی سطوت اور شوکت بنی اسرائیل دیکھ چکے تھے اور چار سو سال سے دکھ تکلیف کو بھگت رہے تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ انہیں یہ واقعات اور قصے یاد دلاؤ دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں ان کا جو اپنا حال تھا اس کو بھی یاد کریں۔ بعض حضرات نے ایام اللہ سے نعماء اللہ مراد لیے ہے یعنی تم پر اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہوئے ہیں ان کو یاد کرو۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ) (بلاشبہ اس میں نشایاں ہیں ہر ایسے بندہ کے لیے جو خوب صبر کرنے والا ہو خوب شکر کرنے والا ہو) ۔ صبر شکر والے بندے بصیرت والے ہوتے ہیں جو شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو وہ گزشتہ انسانوں کی مصیبتیں یاد کرلے تو اس کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور مصیبت پر صبر کرنا آسان ہوجائے گا اور جو نعمتیں اسے ملی ہیں ان پر زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرنے کی طرف متوجہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ یہ تخصیص بعد تعمیم ہے اور یہ بھی ابتداء سورت ہی سے متعلق ہے یعنی دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو وقائع امم ماضیہ اور اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے اور کہا اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ دے گا۔ اور اگر ناشکری کرو گے تو عذاب دے گا۔ اسی طرح آپ بھی اپنی قوم کو وقائع امم ماضیہ یاد دلا کر ڈرائیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 ۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو کفر و معاصی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و فرمانبرداری کی روشنی کی طرف لے آ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے انقلابی واقعات جو کے پیش آتے رہے ہیں وہ واقعات ان کو یاد دلا ، کیونکہ ان واقعات میں ہر صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یاد دلا ان کو دن اللہ کے یعنی اللہ کے سا کے جو ہر قوم پر گزرے۔ 12 خلاصہ ۔ یہ ہے کہ ان کو مصیبت اور راحت کے وہ واقعات بھی یاد دلائو جو بنی اسرائیل پر گزرتے رہے ہیں ۔ بعض حضرات نے ایام اللہ کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں مراد لی ہیں ۔ بعض نے ان مصائب کو لیا ہے جو فرعون کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر پڑے لیکن صحیح یہ ہے کہ خواہ وہ فرعون کے مظالم ہوں یا ان مظالم سے نجات ہو ہر انقلابی دور میں جو باتیں پیش آتی ہیں وہ سب ہی مراد ہیں۔