Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 50

سورة إبراهيم

سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾

Their garments of liquid pitch and their faces covered by the Fire.

ان کے لباس گندھک کے ہونگے اور آگ ان کے چہروں پر بھی چڑھی ہوئی ہوگی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ ... Their garments will be of Qatiran (pitch), that is used to coat camels. Qatadah commented that; Qatiran (tar) is one of the fastest objects to catch fire. Ibn Abbas used to say that; the Qatiran, mentioned in the Ayah, is dissolved lead. It is possible that; this Ayah reads as: سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ referring to heated lead that has reached tremendous heat, according to Mujahid, Ikrimah, Sa'id bin Jubayr Al-Hasan and Qatadah. Allah said next, ... وَتَغْشَى وُجُوهَهُمْ النَّارُ and fire will cover their faces, which is similar to His other statement, تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَـلِحُونَ The Fire will burn their faces, and therein they will grin, with displaced lips. (23:104) Imam Ahmad recorded that Yahya bin Abi Ishaq said that Aban bin Yazid said that Yahya bin Abi Kathir said that Zayd bin Abi Salam said that Abu Malik Al-Ash`ari said that the Messenger of Allah said, أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لاَ يَتْرُكُونَهُنَّ الْفَخْرُ بِالاَْحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الاْاَنْسَابِ وَالاْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ وَالنَّايِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَب Four characteristics from the time of Jahiliyyah will remain in my Ummah, since they will not abandon them: boasting about their family lineage, discrediting family ties, seeking rain through the stars, and wailing for their dead. Verily, if she who wails, dies before she repents from her behavior, she will be resurrected on the Day of Resurrection while wearing a dress of Qatiran and a cloak of mange. Muslim collected this Hadith. Allah said next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

50۔ 1 جو آگ سے فوراً بھڑک اٹھتی ہے۔ علاوہ ازیں آگ نے ان کے چہروں کو بھی ڈھانپا ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٠] قطران سے مراد ہر وہ جلنے والا غلیظ مادہ ہے جو بدبودار، گاڑھا اور سیاہ دھواں چھوڑتا ہوا جلتا ہے اور تادیر جلتا رہتا ہے اور بجھنے میں نہیں آتا۔ اس کی آگ کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ آگ مجرموں کے تمام جسم سے لپٹ رہی ہوگی اور چہرہ کا نام بالخصوص اس لیے لیا گیا کہ بدن کی ظاہری ساخت میں سب سے اشرف حصہ چہرہ ہی ہوتا ہے اور چہرہ کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ دوسرے جسم کی نسبت سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ : ” سَرَابِیْلُ “ ” سِرْبَالٌ“ کی جمع ہے، بمعنی قمیص۔ ” قَطِرَانٍ “ کا معنی قاموس اور لسان العرب میں ہے ابہل، صنوبر (چلغوزہ) اور اس قسم کے درختوں مثلاً چیڑ یا دیار وغیرہ سے نکلنے والی گوند، یعنی رال یا گندہ بیروزا جو تیزی سے جلتا ہے اور سخت بدبو دار ہوتا ہے، خارش زدہ اونٹوں کو ملا جاتا ہے۔ تمام مترجمین کی طرح میں نے بھی پہلے اس کا ترجمہ گندھک کیا تھا، مگر تفسیر کے وقت مختلف لغات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ” قَطِرَانٍ “ رال (بیروزا) ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ تارکول کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس کا مادہ ” قَطْرٌ“ ٹپکنے کا مفہوم رکھتا ہے، اس لیے اس میں وہ تمام مائع چیزیں مراد ہوسکتی ہیں جو اشتعال پذیر یعنی شعلہ پکڑنے والی ہیں۔ (واللہ اعلم) ابومالک اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلنَّاءِحَۃُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلَیْھَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ ) [ مسلم، الجنائز، باب التشدید في النیاحۃ : ٩٣٤ ] ” نوحہ یعنی ماتم و بین کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر ” قَطِرَانٌ“ کی قمیص اور خارش کا کرتہ ہوگا۔ “ ابن عباس (رض) کی قراءت ہے ” مِنْ قَطِرٍ آنٍ “ یعنی ان کی قمیصیں کھولتے ہوئے تانبے سے ہوں گی، مگر پہلی قراءت ” قَطِرَانٍ “ متواتر اور راجح ہے۔ چہروں کو آگ سے ڈھانپنے کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ جسم کا سب سے باعزت حصہ ہے، اس کا حال یہ ہوگا تو دوسرے حصوں کا کیا حال ہوگا۔ یہ معاملہ کفار کے ساتھ ہوگا، کیونکہ مومنوں کے سجدے کے آثار (نشانات) کو جلانا اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کردیا ہے۔ ابوہریرہ (رض) کی ایک لمبی حدیث، جس میں قیامت کے کچھ احوال بیان ہوئے ہیں، اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( حَتّٰی إِذَا فَرَغَ اللّٰہُ مِنَ الْقَضَاءِ بَیْنَ الْعِبَادِ ، وَ أَرَادَ أَنْ یُخْرِجَ بِرَحْمَتِہِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ ، أَمَرَ الْمَلاَءِکَۃَ أَنْ یُخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ کَانَ لاَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا، مِمَّنْ أَرَاد اللّٰہُ أَنْ یَرْحَمَہُ مِمَّنْ یَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ ، فَیَعْرِفُوْنَھُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُوْدِ ، تَأْکُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُوْدِ ، حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُوْدِ ) [ بخاری، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : ( وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔ ) : ٧٤٣٧ ] ” جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہوں گے اور اہل نار میں سے اپنی رحمت کے ساتھ جسے نکالنا چاہیں گے تو فرشتوں کو حکم دیں گے کہ وہ ان لوگوں کو آگ سے نکال لائیں جنھوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تھا، ان لوگوں میں سے جن پر اللہ رحم کرنا چاہتا ہوگا، جو ” لا الٰہ الا اللہ “ کی شہادت دیتے ہوں گے تو وہ انھیں آگ میں سجدے کے نشان کے ساتھ پہچانیں گے۔ آگ ابن آدم کو کھاجائے گی مگر سجدے کے نشان کو نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔ “ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والے وہ ہوں گے جو شرک سے پاک ہوں گے اور جن کے جسم پر سجدے کے نشان ہوں گے۔ بےنماز اس نشان سے محروم ہوتے ہیں، انھیں اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ 50؀ۙ سربل السِّرْبَالُ : القمیص من أيّ جنس کان، قال : سَرابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرانٍ [إبراهيم/ 50] ، سَرابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ [ النحل/ 81] ، أي : تقي بعضکم من بأس بعض . ( س ر ب ل ) السربال ۔ کرتہ ۔ قمیص خواہ کسی چیز سے بنی ہوئی ہو جیسے فرمایا : سَرابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرانٍ [إبراهيم/ 50] ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے ۔ سَرابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ [ النحل/ 81] اور تمہارے ( آرام کے ) واسطے کرتے بنائے جو تم گرمی سے بچائیں اور کرتے یعنی زر ہیں جو تم کو ( اسلحہ ) جنگ ( کے ضر) سے محفوظ رکھیں ۔ تو باسکم سے مراد یہ ہے کہ تمہیں ایک دوسرے کے ضرر سے محفوظ رکھتے ہیں ۔ قَطِرَانُ : ما يَتَقَطَّرُ من الهناء . قال تعالی: سَرابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرانٍ [إبراهيم/ 50] ، وقرئ : ( من قِطْرٍ آنٍ ) أي : من نحاس مذاب قد أني حرّها، وقال : آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْراً [ الكهف/ 96] أي : نحاسا مذاب القطران کے معنی پگھل ہوئی رال یا گیند ھک کے ہیں قرآن میں ہے سَرابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرانٍ [إبراهيم/ 50] ان کے کرتے گند ھک کے ہوں گے ۔ ایک قراءت میں قطرآ ن ہے جس کے معنی پگھلے ہوئے گرم تانبے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْراً [ الكهف/ 96]( اب ) میرے پاس تانبا لاؤ کہ اس پر پگھلا کر ڈال دوں یہاں قطرا کے معنی پگھلا ہوا تا نبا کے ہیں ۔ غشي غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] ( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :58 بعض مترجمین و مفسرین نے قطیران کے معنی گندھک اور بعض نے پگھلے ہوئے تانبے کے بیان کیے ہیں ، مگر درحقیقت عربی میں قَطِیران کا لفظ زِفت ، قِیر ، رال ، اور تارکول کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:50) سرابیل۔ کرتے ۔ پیراہن۔ قمیصیں۔ سربال کی جمع۔ قطران۔ رال۔ تارکول۔ گندھگ۔ تغشی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ڈھانکے لیتی ہے۔ وہ ڈھانک لے گی۔ غشی وغشایۃ (باب سمع) بمعنی ڈھانکنا۔ چھپانا۔ تغشی وجوہہم النار۔ آگ ان کے چہروں کو چھپائے ہوئے ہوگی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ بعض مفسرین (رح) نے قطر ان کے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے بھی کئے ہیں مگر اکثر مفسرین (رح) نے اس سے مراد وہ سایہ بد بودار روغن لیا ہے جو اونٹوں کی خارش دور کرنے کے لئے ان کے جسموں پر ملا جاتا ہے اور کھال کو جلا ڈالتا ہے اور وہ گندھک اور اس قسم کی بعض دوسری چیزوں سے مرکب ہوتا ہے اور یہ اختلاف قطرآن کی قرأت کی وجہ سے ہے۔ حضرت ابو مالک اشعری (رح) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نوحہ یعنی ماتم بین کرنے والے عورت اگر مرنے سے پہلے تو بہ نہ کرے تو قیامت کے روز اس حال میں اٹھائی جائے کہ اس کے جسم پر قطران کا کرتا ہوگا۔ (صحیح بخاری مسلم وغیرہ) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ قطران درخت چیڑ کا روغن ہوتا ہے یعنی سارے بدن کو چیڑ کا تیل لپٹا ہوگا کہ اس میں آگ جلدی اور تیزی کے ساتھ لگے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر مجرمین کی بدحالی کا تذکرہ فرمایا کہ اے مخاطب تو اس دن مجرمین کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ باہم آپس میں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہونگے یعنی اپنے عقائد کفریہ کے اعتبار سے مختلف قسموں میں بٹے ہوئے ہونگے ایک ایک قسم کے لوگوں کو ملا کر بیڑیوں میں جکڑ دیا جائے گا دنیا میں کفر میں شریک تھے اور ایک دوسرے کے مددگار تھے اب وہاں سزا میں ساتھی ہونگے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں والمراد قرن بعضھم مع بعض وضم کل لمشار کہ فی کفرہ و عملہ ان کی مزید بدحالی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ ) قطران عرب میں ایک درخت ہوتا تھا جس کا سیال مادہ نکال کر اور پکا کر کھجلی والے اونٹوں کے جسم پر ملتے تھے جس کی تیزی کی وجہ سے کھجلی جل جاتی تھی جیسا کہ بعض علاقوں میں کھجلی سے چھٹکارا پانے کے لیے گندھک کو سیال کرکے ملایا جاتا ہے یہ قطران جو عرب میں ہوتا تھا آگ کو جلد پکڑتا تھا اور خوب زیادہ تیز ہوتا تھا مطلب یہ ہے کہ مجرمین کے جسموں پر قطران ملایا جائے گا جو ان کے جسموں پر کرتے کی طرح ہوگا اسے دوزخ کی آگ بہت جلد پکڑے گی جیسا کہ دنیا کی آگ دنیا والی قطران کو پکڑتی ہے، مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ قطران پگھلے ہوئے تانبے کو کہتے ہیں دوزخیوں کے لباس تانبے کے ہونگے۔ حضرت ابو مالک اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میت پر چیخ و پکار کر کے رونے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس پر ایک کرتہ قطران کا ہوگا اور ایک کرتا کھجلی کا ہوگا (رواہ مسلم) یعنی اس کے جسم پر خارش پیدا کردی جائے گی، اور اوپر سے قطران لپیٹ دیا جائے گا تاکہ اس سے اور زیادہ سوزش اور جلن ہو۔ (وَّتَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّارُ ) (اور ان کے چہروں کو آگ نے ڈھانپ رکھا ہوگا) آگ تو سارے ہی جسم کو جلائے گی لیکن چہروں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے فرمایا ہے کہ چہرہ اشرف الاعضاء ہے اور اس میں حواس ظاہرہ مجتمع ہیں اور سورة ھمزہ میں فرمایا (تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْءِدَۃِ ) اس میں دلوں کا خصوصاً ذکر فرمایا کیونکہ قلب حواس باطنہ کا سردار ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

50 ۔ اور ان مجرموں کے کرتے ایک بدبو دار تیل کے ہوں گے اور آگ نے ان کے چہروں کو ڈھانک رکھا ہوگا اور ان کے چہروں کو آگ لپٹی ہوئی ہوگی ۔ قطر ان چیڑکا تیل ہو یا گندھک ہو بہر حال کوئی ایسی چیز ہے جس کو آگ بہت جلد پکڑتی ہے تا کہ مجرم کو آگ فوراً ہی لپیٹ جائے۔