Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 6

سورة إبراهيم

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہِ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ اَنۡجٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ٪﴿۶﴾  13

And [recall, O Children of Israel], when Moses said to His people, "Remember the favor of Allah upon you when He saved you from the people of Pharaoh, who were afflicting you with the worst torment and were slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.

جس وقت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کے وہ احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں ، جبکہ اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بڑے دکھ پہنچاتے تھے تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بہت بڑی آزمائش تھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah states: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَاكُم مِّنْ الِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءكُمْ ... And (remember) when Musa said to his people: "Call to mind Allah's favor to you, when He delivered you from Fir`awn's people who were afflicting you with horrible torment, and were slaughtering your sons and letting your women live; Allah states that Musa reminded his people about Allah's annals and days and of Allah's favors and bounties that He bestowed on them, when He saved them from Fir`awn and his people and the torment and disgrace they used to exert on them. They used to slaughter whomever they could find among their sons and let their females live. Allah delivered them from all this torment, and this is a great bounty, indeed. This is why Allah described this affliction, ... وَفِي ذَلِكُم بَلء مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ and in it was a tremendous trial from your Lord. `for He granted you (O Children of Israel) a great favor for which you are unable to perfectly thank Him.' Some scholars said that this part of the Ayah means, `what Fir`awn used to do to you was a tremendous بَلء (trial).' Both meanings might be considered here and Allah knows best. Allah said in another Ayah, وَبَلَوْنَـهُمْ بِالْحَسَنَـتِ وَالسَّيِّيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ And We tried them with good and evil in order that they might turn (to Allah). (7:168) Allah's statement next,

اولاد کا قاتل فرمان الہٰی کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں ۔ مثلا قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بےوقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے ۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے ۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہو سکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں ، واللہ اعلم ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ١٦٨؁ ) 7- الاعراف:168 ) یعنی ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کر دیا ۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی ۔ جیسے آیت ( وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ١٦٧؁ ) 7- الاعراف:167 ) ، میں ۔ پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہو گی ۔ حدیث میں ہے بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک سائل گزرا ، آپ نے اسے ایک کھجور دی ۔ وہ بڑا بگڑا اور کجھور نہ لی ۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ نے اسے بھی وہی کجھور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول کا عطیہ ہے ۔ آپ نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا ۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے لونڈی سے فرمایا اسے لے جاؤ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا ؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے ۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے ۔ چنانچہ فرمان ہے آیت ( اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۭ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Ċ۝ ) 39- الزمر:7 ) تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے اور آیت میں ہے آیت ( فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ Č۝ ) 64- التغابن:6 ) انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقا بےنیازی برتی ۔ صحیح مسلم شریف میں قدسی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بہی نہ گھٹے گا ۔ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو ۔ پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یعنی جس طرح یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی اسی طرح اس سے نجات اللہ کا بہت بڑا احسان تھا، اسی لئے بعض مترجمین نے بَلَاَء کا ترجمہ آزمائش اور بعض نے احسان کیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] یہ واقعات سورة بقرہ، سورة اعراف اور سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیے جائیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا ۔۔ : یہاں موسیٰ (علیہ السلام) چند نعمتیں گنوا رہے ہیں۔ ” يَسُوْمُوْنَكُمْ “ کے بعد ” وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ “ میں واؤ عطف سے معلوم ہوا کہ وہ لڑکوں کو ذبح کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے کے علاوہ اور بھی کئی بدترین عذاب دیتے تھے، مثلاً بیگار لینا، ذلیل کرنا اور مار پیٹ وغیرہ۔ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ : ” بَلَاۗءٌ“ کا لفظ مصیبت پر بھی آتا ہے اور نعمت پر بھی، فرمایا : ( وَنَبْلُوْكُمْ بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ) [ الأنبیاء : ٣٥ ] ” اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے۔ “ آل فرعون کے عذاب بلائے مصیبت تھے اور ان سے نجات بلائے نعمت تھی، عذاب بھی آزمائش اور اس سے رہائی کا انعام بھی آزمائش۔ ” ذٰلِكُمْ “ سے اشارہ ” سُوْۗءَ الْعَذَابِ “ کی طرف ہو تو مصیبت کے ساتھ آزمائش مراد ہے اور ” اِذْ اَنْجٰىكُمْ “ یعنی نجات کی طرف ہو تو نعمت کے ساتھ آزمائش مراد ہوگی اور قرآن کا اعجاز ہے کہ آیت کے ایک لفظ میں دونوں چیزیں آگئی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ۝ۧ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ سوم السَّوْمُ أصله : الذّهاب في ابتغاء الشیء، فهو لفظ لمعنی مركّب من الذّهاب والابتغاء، ، والسِّيمَاءُ والسِّيمِيَاءُ : العلامة، وقال تعالی: سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ [ الفتح/ 29] ، وقد سَوَّمْتُهُ أي : أعلمته، وقوله عزّ وجلّ في الملائكة : مُسَوِّمِينَ «3» أي : معلّمين ومُسَوِّمِينَ معلّمين لأنفسهم أو لخیولهم، أو مرسلین لها، وروي عنه عليه السلام أنه قال : «تَسَوَّمُوا فإن الملائكة قد تَسَوَّمَتْ» ( س و م ) السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانیکے ہیں پس اسکا مفہوم دو اجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا پھر کبھی صرف ذہاب یعنی چلے جانا کے معنی ہوتے ہیں ۔ السیماء والسیماء کے معنی علامت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ [ الفتح/ 29] کثرت سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ۔ اور سومتہ کے معنی نشان زدہ کرنے کے ہیں ۔ مُسَوِّمِينَ اور مسومین کے معنی معلمین کے ہیں یعنی نشان زدہ اور مسومین ( بصیغہ فاعل ) کے معنی والے یا ان کو چھوڑ نے والے ۔ آنحضرت سے ایک روایت میں ہے تسو مو اذان الملا ئدۃ قد تسومت کہ تم بھی نشان بنالو کیونکہ فرشتوں نے اپنے لئے نشان بنائے ہوئے ہیں ۔ ذبح أصل الذَّبْح : شقّ حلق الحیوانات . والذِّبْح : المذبوح، قال تعالی: وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] ، وذَبَحْتُ الفارة شققتها، تشبيها بذبح الحیوان، وکذلك : ذبح الدّنّ «3» ، وقوله : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، علی التّكثير، أي : يذبح بعضهم إثر بعض . وسعد الذّابح اسم نجم، وتسمّى الأخادید من السّيل مذابح . ( ذ ب ح ) الذبح ( ف ) اصل میں اس کے معنی حیوانات کے حلق کو قطع کرنے کے ہیں اور ذبح بمعنی مذبوح آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو ۔ ذبحت الفارۃ ۔ میں نے نافہ مشک کو کو چیرا ۔ یہ حیوان کے ذبح کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذبح الدن کا محاورہ ہے جس کے معنی مٹکے میں شگاف کرنے کسے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے ۔ میں صیغہ تفعیل برائے تکثیر ہے یعنی وہ کثرت کے ساتھ یکے بعد دیگرے تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے ۔ سعد الذابح ( برج جدی کے ایک ) ستارے کا نام ہے اور سیلاب کے گڑھوں کو مذابح کہا جاتا ہے ۔ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر کیا گیا انعام یاد کرو جب کہ اس نے تمہیں فرعون اور اس کی قبطی قوم سے نجات دی جو تمہیں سخت ترین عذاب دیا کرتے تھے اور تمہارے چھوٹے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو خدمت لینے کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے اور بچوں کے ذبح ہونے اور عورتوں سے خدمت لینے میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا بڑا امتحان تھا یا یہ کہ اس مصیبت سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں نجات دی اور یہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی نعمت ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:6) یسومونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تم کو تکلیف دیتے تھے۔ سام یسوم سوما۔ السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانے کے ہیں۔ پس اس کا مفہوم دواجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا۔ کبھی صرف جانا کے معنی میں آتا ہے جیسے سامت الابل۔ اونٹ چراگاہ میں چرنے کے لئے چلے گئے۔ یا سمت الابل فی المرعی۔ میں نے چراگاہ میں چرنے کے لئے اونٹ بھیجے۔ اور انہی معنوں میں قرآن پاک میں آیا ہے۔ منہ شجر فیہ تسیمون۔ (16:10) اور اس سے درخت بھی (شاداب) ہوتے ہیں جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔ اور کبھی صرف طلب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے آیہ ہذا میں۔ یعنی تم کو تکلیف پہنچانے کی نت نئی راہوں کے طالب وکوشاں رہتے ہیں۔ اس مادّہ سے سیمۃ وسومۃ وسیما۔ بمعنی علامت ونشان ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ یعرف المجرمون بسیماہم۔ (55:40) مجرمین اپنی نشانیوں یا علامتوں سے پہچانے جائین گے اور الملئکۃ مسومین۔ (3:125) اپنے پر یا اپنے گھوڑوں پر نشان امتیاز بنانے والے۔ یسومونکم سوء العذاب۔ وہ تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے۔ تمہارے لئے سخت تکلیفیں تلاش کرتے تھے۔ تفسیر مظہری میں ہے سوء العذاب سے مراد قتل ِ اولاد نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل کو غلام بنانا اور سخت ترین کام لینا مراد ہے کیونکہ ویذبحون کا عطف مغائرت کو چاہتا ہے۔ یستحیون۔ مضارع جمع مذکر غائب استحیاء (استفعال) مصدر۔ وہ جیتا رہنے دیتے تھے۔ بلاء عظیم۔ بڑی بھاری آزمائش ۔ بہت بڑی آزمائش۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 ۔ کہ تم کو غلامی کی ذلت سے نکالا اور آزادی کی نعمت سے مالا مال کیا۔ یا ” اس میں تمہارے مالک کی طرف سے تمہاری سخت آزمائش تھی۔ “ کہ ایسی مصیبت پر صبر کرتے ہو یا نہیں۔ لفظ ” بلاء “ کے اس موقع پر ” احسان “ اور آزمائش دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (روح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی مصیبت میں بلا تھی اور نجات میں نعمت تھی اور بلا اور نعمت دونوں بندہ کے لیے امتحان ہیں پس اس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایام اللہ یعنی نعمت ونقمت دونوں کی تذکیر فرمادی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آزادی حاصل کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو خطاب۔ بنی اسرائیل اس قدر متلون مزاج اور احسان فراموش تھے کہ جب فرعون کی غرقابی کے بعد بیت المقدس کی طرف جارہے تھے تو راستے میں انہوں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو بتوں کے سامنے اعتکاف کرتے تھے۔ نبی اسرائیل کے ذہن میں شرک اس قدر سمایا ہوا تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی اس قوم کے معبودوں کی طرح معبود بنا دیجئے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ڈانٹا کہ تم کیسے جاہل لوگ ہو۔ یہ لوگ تو برباد ہونے والے ہیں اور جو کچھ یہ کرتے ہیں یہ سب کا سب باطل ہے۔ کیا اللہ کے سوا میں تمہارے لیے کوئی اور الٰہ تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں پوری دنیا پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ (الاعراف : ١٣٨۔ ١٤٠) آزادی کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم کو خطاب : (وَإِذْ أَنْجَیْنَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُوّنَ أَبْنَآءََ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءََ کُمْ وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ)[ الاعراف : ١٤١] ” وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آل فرعون کے مظالم سے نجات عطا فرمائی۔ آل فرعون تمہیں شدید ترین عذاب میں مبتلا رکھتے تھے حال یہ تھا کہ آل فرعون تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری بچیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے سخت ترین آزمائش تھی۔ “ اسی بات کو موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بیان کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم ! اللہ کے احسان کو یاد کرو، جب اس نے آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں بدترین سزادیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بھاری آزمائش تھی۔ چند الفاظ اور سیاق وسباق کے فرق کے ساتھ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید میں تین مرتبہ آئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو یہ یاد دلانا مقصود ہے کہ اہل کتاب ! تم اپنے آپ کو بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کہتے ہو۔ سوچو اور غور کرو کہ آج کس طرح تم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کی مخالفت پر تلے ہوئے ہو حالانکہ وہ نسل کے اعتبار سے تمہارے جد امجد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بڑے بھائی، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، تمہارے انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے اور تمہاری کتابوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ تم آگے بڑھ کر ان کے معاون بنتے۔ مگر تم حسدو بغض میں آکر ان کی مخالفت کیے جا رہے ہو۔ مسائل ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو آزادی کی نعمت یاد دلائی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون سے نجات دلائی۔ ٣۔ فرعون نبی اسرائیل کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ تفسیر بالقرآن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے انعام یا ددلانا : ١۔ موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ (ابراہیم : ٦) ٢۔ موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کے انعام یادرکھنے کی تلقین کی۔ (المائدۃ : ٢٠) ٣۔ اے بنی اسرائیل اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر انعام کی ہیں۔ (البقرۃ : ٤٧) ٤۔ موسیٰ نے کہا کیا میں تمہیں کوئی اور معبود تلاش کرکے دوں حالانکہ اس نے تمہیں جہان والوں پر فضیلت دی ہے۔ (الاعراف : ١٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالو اور انہیں پرانے زمانے یاد دلاؤ تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ نے جو تم پر انعام فرمایا اسے یاد کرو انعامات تو ان پر بہت تھے لیکن ان کے حالات کے اعتبار سے جو ان پر سب سے بڑا انعام تھا وہ یاد دلایا کہ دیکھو اللہ نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی فرعون اور اس کے متعلقین اور اس کے سپاہی بنی اسرائیل پر بری طرح مسلط تھے وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے یعنی ذبح نہ کرتے تھے مگر یہ ان کی کوئی مہربانی نہ تھی وہ سمجھتے تھے کہ سبھی کو قتل کردیا جائے تو ہماری خدمت گزاری کون کرے گا وہ بنی اسرائیل سے طرح طرح کی بیگاریں لیتے تھے انہیں سخت ترین کاموں میں استعمال کرتے تھے یہ سب کچھ بنی اسرائیل کو معلوم تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں یاد دلایا اور فرمایا (وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ) کہ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑا امتحان تھا عربی زبان میں آزمائش اور امتحان کو بلاء کہتے ہیں۔ اور بلاء کا دوسرا معنی ” انعام “ ہے اگر یہ معنی لئے جائیں تو ترجمہ اور مطلب یہ ہوگا کہ ایسی تکلیفوں سے اور غلامی سے نجات دینے میں تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ یہ اصل میں تھا واذکر بیان موسیٰ اذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ الخ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے وقائع بیان کیے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے آپ بھی اسی طرح بیان فرمائی۔ ” وَ اِذْ تَاَذَّنَ “ یہ ” نِعْمَۃَ اللہِ الخ “ پر معطوف ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ ” وَ قَالَ مُوْسیٰ “ یہ سب وقائع ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یاد دلائے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

6 ۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ کے وہ احسان یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں جب کہ اس نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بد ترین عذاب کرنے کی جستجو میں رہتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور قتل کردیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان واقعات میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش اور بڑا امتحان تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی حکومت میں جو مظالم ان پر ہوئے تھے وہ ان کو یاد دلا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبردار ی کی طرف توجہ دلائی لڑکیوں کو عورتوں فرمایا چونکہ لڑکیاں بڑی ہو کر عورتیں ہوجاتی ہیں۔