Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 7

سورة إبراهيم

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکُمۡ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾

And [remember] when your Lord proclaimed, 'If you are grateful, I will surely increase you [in favor]; but if you deny, indeed, My punishment is severe.' "

اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ ... And (remember) when your Lord proclaimed, means, proclaimed and made known His promise to you. It is possible that this Ayah means, your Lord has vowed and sworn by His might, grace and exaltness. Allah said in a similar Ayah, وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ And (remember) when your Lord declared that He would certainly keep on sending against them (i.e. the Jews), till the Day of Resurrection. (7:167) Allah said, ... لَيِن شَكَرْتُمْ لاَزِيدَنَّكُمْ ... If you give thanks, I will give you more; meaning, `if you appreciate My favor on you, I will give you more of it, ... وَلَيِن كَفَرْتُمْ ... but if you are thankless, if you are not thankful for My favors, covering and denying, then, ... إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ verily, My punishment is indeed severe, by depriving you of the favor and punishing you for being unappreciative of it.' A Hadith states that, إِنَّ الْعَبْدَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُه A servant might be deprived of a provision (that was written for him) because of a sin that he commits. Allah said, وَقَالَ مُوسَى إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِي الاَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 اس نے تمہیں اپنے وعدے سے تمہیں آگاہ اور خبردار کردیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ قسم کے معنی میں ہو یعنی جب تمہارے رب نے اپنی عزت و جلال اور کبریائی کی قسم کھا کر کہا (ابن کثیر) 7۔ 2 نعمت پر شکر کرنے پر مذید انعامات سے نوازوں گا، 7۔ 3 اس کا مطلب یہ ہوا کہ کفران نعمت (ناشکری) اللہ کو ناپسند ہے، جس پر اس نے سخت عذاب کی وعید بیان فرمائی ہے، اس لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا کہ عورتوں کی اکثریت اپنے خاوندوں کی ناشکری کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی (صحیح مسلم)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] شکر اور اس کا فائدہ :۔ شکر یا احسان شناسی میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھ دی ہے کہ بھلائی کو بحال رکھتی ہے بلکہ مزید بھلائیوں کو بھی اپنی طرف جذب کرتی ہے اور ناشکری یا احسان فراموشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے احسان ناشناس سے پہلی نعمت بھی چھن جاتی ہے اور حالات مزید بدتر پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ نتائج اس دنیا سے گذر کر آخرت تک بھی چلتے ہیں۔ اس مضمون کی تفصیل کے لیے ہم یہاں دو احادیث درج کرتے ہیں :۔ ١۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : && بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمانا چاہا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا، && تم کیا چاہتے ہو ؟ && && اچھا رنگ اور اچھی جلد & کیونکہ لوگ مجھ سے نفرت و کراہت کرتے ہیں && فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کا رنگ اور جلد درست ہوگئی۔ پھر فرشتے نے پوچھا، && تمہیں کون سا مال پسند ہے ؟ && وہ کہنے لگا && اونٹ && فرشتے نے اسے ایک دس ماہ کی اونٹنی مہیا کردی اور کہا && اللہ اس میں برکت دے گا && پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہا && تم کیا چاہتے ہو ؟ && اس نے کہا && یہی کہ میرا گنج جاتا رہے اور اچھے بال اگ آئیں && فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہوگیا اور اچھے بال اگ آئے۔ پھر اس سے پوچھا && تمہیں کون سا مال پسند ہے ؟ && گنجے نے کہا && گائیں && چناچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ گائے مہیا کردی اور کہا && اللہ اس میں برکت دے گا && پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور پوچھا && تم کیا چاہتے ہو ؟ && اس نے کہا && یہی کہ یہ میری بینائی مجھ کو مل جائے && فرشتے نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ بینا ہوگیا۔ پھر اس سے پوچھا && تمہیں کون سا مال پسند ہے ؟ && اس نے کہا && بکریاں && چناچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری مہیا کردی اور کہا && اللہ اس میں برکت دے گا && کچھ مدت گزرنے پر کوڑھی کے پاس اونٹوں کا، گنجے کے پاس گائے کا اور اندھے کے پاس بکریوں کا بہت بڑا ریوڑ بن چکا تھا۔ اب فرشتہ پھر ان کے پاس (انسانی صورت میں) آیا۔ پہلے کوڑھی کے پاس گیا اور کہا && میں محتاج آدمی ہوں میرا سب سامان جاتا رہا اب اللہ کی اور اس کے بعد تیری مدد کے بغیر میں کہیں پہنچ بھی نہیں سکتا۔ میں تم سے اس اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تیرا رنگ اور جلد اچھی کردی اور تجھے بہت سا مال دیا کہ ایک اونٹ مجھے دے دو تاکہ میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ سکوں && وہ کہنے لگا && میں نے تو بہت سے لوگوں کا قرض دینا ہے && فرشتے نے کہا && میں تجھے پہچانتا ہوں تو کوڑھی تھا لوگ تجھ سے کراہت کرتے تھے اور تو محتاج تھا اور اللہ نے تم پر مہربانی کی اور یہ سب کچھ عطا کیا && کوڑھی کہنے لگا && واہ مجھے تو یہ سب کچھ باپ دادے کی وراثت سے ملا ہے && فرشتے نے کہا &&: اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تجھے تیری پہلی حالت میں لوٹا دے && پھر وہ گنجے کے پاس آیا۔ اس سے بھی بالکل ویسے ہی سوال و جواب ہوئے جیسے کوڑھی سے ہوئے تھے اسے بھی فرشتے نے بالآخر یہی کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تجھے اپنی پہلی حالت میں پھیردے۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور ویسے ہی سوال کیا جیسے کوڑھی اور گنجے سے کیا تھا۔ اندھا یہ سوال سن کر کہنے لگا && واقعی میں اندھا تھا۔ اللہ نے مجھے بینائی بخشی۔ میں محتاج تھا اللہ نے مجھے مالدار کردیا۔ اب تم نے مجھ سے اسی اللہ کے نام پر سوال کیا ہے جو کچھ چاہتے ہو لے لو میں روکوں گا نہیں۔ && فرشتے نے کہا، (میں محتاج نہیں فرشتہ ہوں) اپنی بکریاں اپنے ہی پاس رکھو۔ اللہ نے تم تین آدمیوں کو آزمایا تھا۔ اللہ تجھ سے تو خوش ہوگیا اور تیرے دونوں ساتھیوں (کوڑھی اور گنجے) سے ناراض ہوا۔ (بخاری، کتاب الانبیائ۔ باب ما ذکربنی عن اسرائیل حدیث ابرص واقرع واعمیٰ ) ٢۔ ناشکری کا انجام :۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : && مجھے دوزخ دکھائی گئی۔ اس میں عورتیں زیادہ تھیں جو کفر کرتی ہیں && صحابہ نے کہا && کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں ؟ && فرمایا : && نہیں وہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تم کسی عورت سے عمر بھر بھلائی کرو۔ پھر وہ تم سے کوئی ناگوار بات دیکھے تو کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں && (بخاری، کتاب الایمان۔ باب کفران العشیر وکفر دون کفر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ ۝ : ” آذَنَ یُؤْذِنُ “ کا معنی اطلاع دینا، اعلان کرنا ہے۔ باب تفعل میں جانے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ” صاف اعلان کردیا۔ “ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ : کیونکہ کسی کے بھی احسان کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ادا کرنے سے اس کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا تو کہنا ہی کیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَیْہِ الْمِدْحَۃُ مِنَ اللّٰہِ ، مِنْ أَجْلِ ذٰلِکَ وَعَدَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ ) [ مسلم، اللعان : ١٤٩٩ ]” کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنی تعریف پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ کو زبانی شکر اتنا پسند ہے تو عملاً شکر اور اطاعت پر اس کی نوازش کس قدر ہوگی۔ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ : اس کا جواب تو یہ تھا ” لَأُعَذِّبَنَّکُمْ “ کہ اگر تم کفر کرو گے تو میں تمہیں ضرور عذاب دوں گا، مگر اسے حذف کرکے ایسا جملہ استعمال فرمایا جو اس جملے کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی نہایت شدت کو بھی، یعنی فرمایا : (وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ ) اور یہ بھی قرآن کا اعجاز ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Outcome of Gratitude and Ingratitude In the third verse (7), it was said: وَإِذْ تَأَذَّنَ رَ‌بُّكُمْ لَئِن شَكَرْ‌تُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْ‌تُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (And when your Lord declared, |"If you express gratitude, I shall certainly give you more, and if you are ungrateful, then My punishment is severe.|" ). The word: تَأَذَّنَ (ta&adhdhana) is used in the sense of making known or announcing. The sense of the verse is that Allah Ta’ ala has announced it for all to hear: &If you are thankful for My blessings and do not waste them in acts of disobedience to Me and in deeds which have been prohibited, and try your best to mould your deeds to suit My pleasure, then, I shall increase these blessings for you.& This increase could be in the amount and volume of blessings, or it could be in their continuity and permanence as well. The Holy Prophet وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ said: &A person who is blessed with the Taufiq to be grateful shall never be deprived of barakah and increase in blessings.& (Reported by Ibn Marduwayh from Ibn ` Abbas (رض) - Mazhari) And then it was said: If you are ungrateful for My blessings then se¬vere is My punishment too. The sum total of ungratefulness is that one spends out the blessings given by Allah Ta` ala in acts disobedient to Him and in things and ways which are impermissible; or, that one is tardy in fulfilling what has been made obligatory on him or her. As for the severe punishment against ungratefulness for blessings in the present world, it is possible that these blessings may be taken back all of a sudden; or, one may fall into some unwelcome circumstances as a result of which he remains unable to make use of that blessing, and finds punishment wait¬ing for him in the Hereafter as well. It is worth remembering at this point that in this verse, Allah Tad does promise good return, reward and increase in blessing, and that too in an emphatic manner: لَازِیدَنَّکُم (I shall certainly give you more). But, in contrast to this, for the ungrateful it was not said: لَاُعُذِّبَںَّکُم (I shall certain¬ly punish you). Instead of that, given here is a limited warning which conveys the sense that &My punishment too, to whomsoever it reaches, is very severe.& In this particular interpretation, there is a hint that it is not necessary that every ungrateful person has to undergo punishment - the likelihood of forgiveness also exists.

شکر اور ناشکری کے نتائج : (آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ لفظ تاذن، اذن اور اطلاع دینے اور اعلان کرنے کے معنی میں ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان عام فرما دیا ہے کہ اگر تم نے میری نعمتوں کا شکر ادا کیا کہ انکو میری نافرمانیوں اور ناجائز کاموں میں خرچ نہ کیا اور اپنے اعمال و افعال کو میری مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کی تو میں ان نعمتوں کو اور زیادہ کر دوں گا یہ زیادتی نعمتوں کی مقدار میں بھی ہو سکتی ہے، اور ان کی بقاء و دوام میں بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص کو شکر ادا کرنے کی توفیق ہوگئی وہ کبھی نعمتوں میں برکت اور زیادت سے محروم نہ ہوگا (رواہ ابن مردویہ عن ابن عباس مظہری) اور فرمایا کہ اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی تو میرا عذاب بھی سخت ہے ناشکری کا حاصل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی اور ناجائز کاموں میں صرف کرے یا اس کے فرائض و واجبات کی ادائیگی میں سستی کرے اور کفران نعمت کا عذاب شدید دنیا میں بھی یہ ہوسکتا ہے کہ یہ نعمت سلب ہوجائے یا ایسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے کہ نعمت کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور آخرت میں بھی عذاب میں گرفتار ہو۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے شکر گذاروں کے لئے تو اجر وثواب اور نعمت کی زیادتی کا وعدہ اور وہ بھی بلفظ تاکید وعدہ فرمایا ہے لَاَزِيْدَنَّكُم لیکن اس کے بالمقابل ناشکری کرنے والوں کے لئے یہ نہیں فرمایا کہ لاعذبنکم یعنی میں تمہیں ضرور عذاب دوں گا بلکہ صرف اتنا فرما کر ڈرایا ہے کہ میرا عذاب بھی جس کو پہنچنے وہ بڑا سخت ہوتا ہے اس خاص تعبیر میں اشارہ ہے کہ ہر ناشکرے کا گرفتار عذاب ہونا کچھ ضروری نہیں معافی کا بھی امکان ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ ۝ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ می۔ 5 کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرو، جب تمہارے رب نے فرمایا اور کتاب میں تمہیں کو اس بات سے باخبر کردیا کہ اگر تم توفیق، عصمت، کرامت، اور نعمت پر شکر ادا کرو گے، تو اور زیادہ توفیق، عصمت نعمت اور کرامت دوں گا اور اگر میری یا میری نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو ناشکری کرنے والے پر میرا عذاب بہت سخت ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ (وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ ) اگر تم لوگ میرے احکام مانو گے اور میری نعمتوں کا حق ادا کرو گے تو میرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے میں تم لوگوں کو اپنی مزید نعمتیں بھی عطا کروں گا۔ (وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ) لیکن اگر تم کفران نعمت کرو گے میری نعمتوں کی ناقدری اور نا شکری کرو گے اور میرے احکام سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو میری سزا بھی بہت سخت ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11. That is, if you are grateful, you will appreciate Our favors and make right use of them, and will not rebel against Our commandments, but will surrender and submit to Us to show your gratitude to Us. 12. Deuteronomy (Bible) contains a long and detailed discourse to this effect. According to it, Prophet Moses (peace be upon him), on the eve of his death, reminded the Israelites of all important events from their history, and reiterated all the divine commandments of the Torah which Allah had sent to them through him. Then he told them in a long speech that if they obeyed their Lord, they would be given great rewards. But if they adopted the attitude of disobedience, they would get a terrible punishment. This discourse spreads over chapters 4, 6, 8, 10, 11 and 28, 30. Some of these passages are so impressive and instructive that it will be worthwhile to quote a few of them: Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord: And thou shalt love the Lord thy God with all thine heart, and with all thy soul, and with all thy might. And these words which I command thee this day, shall be in thine heart: And thou shalt teach them diligently unto thy children, and shalt talk of them when thou sittest in thine house, and when thou walkest by the way, and when thou liest down, and when thou risest up. (Deut. 6: 47). And now, Israel, what doth the Lord thy God require of thee, but to fear the Lord thy God, to walk in all his ways; and to love him, and to serve the Lord Thy God with all thy heart and with all thy soul, to keep the commandments of the Lord, and his statutes, which I command thee this day for thy good? Behold, the heaven and the heaven of heavens is thy Lord’s thy God, the earth also, with all that therein is. (Deut. 10: 12-14). And it shall come to pass, if thou shalt hearken diligently unto the voice of the Lord thy God, to observe and to do all his commandments which I command thee this day, that the Lord thy God will set thee on high above all nations of the earth: And all these blessings shall come on thee, and overtake thee, if thou shalt hearken unto the voice of the Lord thy God. Blessed shalt thou be in the city, and blessed shalt thou be in the field. The Lord shall cause thine enemies that rise up against thee to be smitten before thy face. The Lord shall command the blessing upon thee in thy storehouses, and in all that thou settest thine hand unto. The Lord shall establish thee an holy people unto himself. And all people of the earth shall see that thou art called by the name of the Lord; and they shall be afraid of thee. And thou shalt lend unto many nations, and thou shalt not borrow. And the Lord shall make thee the head, and not the tail; and thou shalt be above only, and thou shalt not be beneath. (28: 1-13). But it shall come to pass, if thou wilt not hearken unto the voice of the Lord thy God, to observe to do all his commandments and his statutes which I command thee this day; that all those curses shall come upon thee, and overtake thee: Cursed shalt thou be in the city, and cursed shalt thou be in the field. The Lord shall send upon thee cursing, vexation, and rebuke, in all that thou settest thine hand unto for to do. The Lord shall make the pestilence cleave unto thee. And thy heaven that is over thy head shall be brass, and the earth that is under thee shall be iron. The Lord shall cause thee to be smitten before thine enemies: thou shalt go out one way against them, and flee seven ways before them. Thou shalt betroth a wife, and another man shall lie with her: thou shalt build an house and thou shalt not dwell therein: thou shalt plant a vineyard, and shalt not gather the grapes thereof. Thine ox shall be slain before thine eyes. Therefore, shalt thou serve thine enemies which the Lord shall send against thee, in hunger, and in thirst, and in nakedness, and in want of all things: And he shall put a yoke of iron upon thy neck, until he have destroyed thee. And the Lord shall scatter thee among all people, from the one end of the earth even unto the other. (Deut: 28: 15-64).

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :11 یعنی اگر ہماری نعمتوں کا حق پہچان کر ان کا صحیح استعمال کرو گے ، اور ہمارے احکام کے مقابلہ میں سرکشی و استکبار نہ برتو گے ، اور ہمارا احسان مان کر ہمارے مطیع فرمان بنے رہو گے ۔ سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :12 اس مضمون کی تقریر بائیبل کی کتاب استثناء میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ نقل کی گئی ہے ۔ اس تقریر میں حضرت موسی علیہ السلام اپنی وفات سے چند روز پہلے بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے سارے اہم واقعات یاد دلاتے ہیں ۔ پھر توراۃ کے ان تمام احکام کو دہراتے ہیں جو اللہ تعالی نے ان کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو بھیجے تھے ۔ پھر ایک طویل خطبہ دیتے ہیں جس میں بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے رب کی فرمانبرداری کی تو کیسے کیسے انعامات سے نوازے جائیں گے اور اگر نافرمانی کی روش اختیار کی تو اس کی کیسی سخت سزا دی جائے گی ۔ یہ خطبہ کتاب استثناء کے ابواب نمبر ٤ – ٦ – ۸ – ۱۰ – ۱۱ اور ۲۸ تا ۳۰ میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے بعض بعض مقامات کمال درجہ مؤثر و عبرت انگیز ہیں ۔ مثال کے طور پر اس کے چند فقرے ہم یہاں نقل کرتے ہیں جن سے پورے خطبے کا اندازہ ہو سکتا ہے: ”سن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے ۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا کے ساتھ محبت رکھ ۔ اور یہ باتیں جن کا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں ۔ اور تو ان کی اپنی اولاد کے ذہن نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے ان کا ذکر کرنا “ ۔ ( باب ٦ ۔ آیات ٤ – ۷ ) ”پس اے اسرائیل! خداوند تیرا خدا تجھ سے اس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کا خوف مانے اور اس کی سب راہوں پر چلے اور اس سے محبت رکھے اور اپنے سارے دل اور ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی بندگی کرے اور خداوند کے جو احکام اور آئین میں تجھ کو آج بتاتا ہوں ان پر عمل کرے تاکہ تیری خیر ہو ۔ دیکھ آسمان اور زمین اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب خداوند تیرے خدا ہی کا ہے“ ۔ ( باب ۱۰ ۔ آیات ۱۲ – ۱٤ ) ۔ ”اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات کو جان فشانی سے مان کر اس کے ان سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھے دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا ۔ اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو ملیں گی ۔ شہر میں بھی تو مبارک ہوگا اور کھیت میں مبارک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خداوند تیرے دشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں تیرے روبرو شکست دلائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خداوند تیرے انبار خانوں میں اور سب کاموں میں جن میں تو ہاتھ ڈالے برکت کا حکم دے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تجھ کو اپنی پاک قوم بنا کر رکھے گا ور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی ۔ تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر خود قرض نہیں لے گا اور خداوند تجھ کو دُم نہیں بلکہ سر ٹھیرائے گا اور تو پشت نہیں بلکہ سرفراز ہی رہے گا“ ۔ ( باب ۲۸ ۔ آیات ۱ – ۱۳ ) ۔ ”لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی ۔ شہر میں بھی لعنتی ہوگا اور کھیت میں بھی لعنتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خداوند ان سب کاموں میں جن کو تو ہاتھ لگائے لعنت اور پھٹکار اور اضطراب کو تجھ پر نازل کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وبا تجھ سے لپٹی رہے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسمان جو تیرے سر پر ہے پیتل کا اور زمین جو تیرے نیچے ہے لوہے کی ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خداوند تجھ کو تیرے دشمنوں کے آگے شکست دلائے گا ۔ تو ان کے مقابلہ کے لیے تو ایک ہی راستہ سے جائے گا مگر ان کے سامنے سات سات راستوں سے بھاگے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عورت سے منگنی تو تو کرے گا لیکن دوسرا اس سے مباشرت کرے گا ۔ تو گھر بنائے گا لیکن اس میں بسنے نہ پائے گا ۔ تو تاکستان لگائے گا پر اس کا پھل نہ کھا سکے گا ۔ تیرا بیل تیری آنکھوں کے سامنے ذبح کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھوکا اور پیاسا اور ننگا اور سب چیزوں کا محتاج ہو کر تو اپنے ان دشمنوں کی خدمت کرے گا جن کو خداوند تیرے برخلاف بھیجے گا اور غنیم تیری گردن پر لوہے کا جواز رکھے گا جب تک وہ تیرا ناس نہ کر دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کر دے گا “ ۔ ( باب ۲۸ ۔ آیات ۱۵ – ٦٤ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧۔ اس سے پہلے کی آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے زبانی ان کی قوم بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے فرعون کے ظلم سے تمہیں اور تمہارے بال بچوں کو بچایا جس کا شکر تم کسی طرح ادا نہیں کرسکتے پھر کہا کہ خدا نے یہ حکم موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت دے رکھا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ نعمت ملے گی اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ معتبر سند سے انس (رض) کی ایک حدیث بخاری نے اپنی تاریخ میں نقل کی ہے کہ منجملہ ان پانچ چیزوں کے جن کے سبب سے دوسری پانچ چیزیں انسان کو مل جاتی ہیں ایک شکر بھی ہے کہ شکر کی عادت سے نعمت کی زیادہ ہوجاتی ١ ؎ ہے۔ یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کا ایک ٹکڑا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل جس اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن فرعون کو ہلاک کردینے کا احسان تم پر کیا ہے اس کا یہ حکم ہے کہ اس کی اس نعمت کی شکر گزاری اگر تم کرو گے تو وہ تم کو اور نعمتیں دیوے گا اور اگر تم اس کی نعمت کی ناشکری کرو گے تو تم نے دیکھ لیا کہ ناشکری کا وبال فرعون اور اس کی قوم پر کیسا پڑا۔ شکر کے مقابلہ میں کفر کے معنے ناشکری کے ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں جب تک شکر گزاری کی عادت رہی اس وقت تک نبوت بادشاہت سب کچھ رہا اور جب ان میں ناشکری پھیلی تو کچھ بھی نہ رہا۔ شکر گزاری کے زمانے تک بنی اسرائیل میں اور اس امت میں جو اقبال مندی رہی اور بعد اس کے ناشکری کے سبب سے اس اقبال مندی میں جو زوال آیا وہ سب قصے گویا آیت کی تفسیر ہیں معتبر سند سے زوائد مسند میں نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا احسان مندی کے طور پر اللہ کی نعمت کا تذکرہ زبان پر لانا یہ اللہ کی نعمت کی شکر گزاری ہے اور اللہ کی نعمت کو چھپانا اور بھول جانا یہ ناشکری ہے اور تھوڑی نعمت کی ناشکری بڑی نعمت کی ناشکری سکھا دیتی ٢ ؎ ہے۔ اور لوگوں کے احسان کی ناشکری آدمی کو اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ناشکری کی حد تک پہنچا دیتی ہے شکر گزاری اور ناشکری کی تفسیر میں اس حدیث کو بڑا دخل ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عمرو بن عوف انصاری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کی تنگ حالی کا کچھ اندیشہ نہیں اندیشہ تو یہ ہے کہ پہلی امتوں کی طرح ان کو فارغ البالی ہوگی اور اس فارغ البالی کے زمانہ میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہو کر ایک دوسرے کی ریس اور حرص کرنے لگے گا۔ اور آخر کو پہلی امتوں کی طرح ان پر بھی تباہی آجاوے گی۔ یہ حدیث بنی اسرائیل اور اس امت کے شکر گزاری اور نا شکری کے زمانے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان دونوں امتوں نے جب تھوڑی نعمت پر شکر گزاری کا برتاؤ کیا تو پوری فارغ البالی حاصل ہوئی اور پوری فارغ البالی کے زمانے میں جب ناشکری کے ڈھنگ برتے تو بربادی آگئی۔ ١ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٢٣٤ بحوالہ مسند امام احمد ص ٢٧٨ ج ٤۔ ٢ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٣٦٨۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:7) تاذن۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب تفعل) (تاذن) اس نے سنا دیا۔ اس نے خبر کردی۔ اس نے اعلان کردیا۔ اس نے بتادیا۔ (ملاحظہ ہو 7:167) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٢) اسرارومعارف اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ، (شکر کی حقیقت) شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر دوں گا لیکن اگر تم لوگوں نے ناشکری کا راستہ اپنایا جب میں سب سے بڑی ناشکری عقیدے کی خرابی ہے اور پھر وہی عمل کی خرابی تو یاد رکھ لو میرے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور یہ ناشکری اگر عقائد میں نہ بھی ہو تو اعمال کی سستی یا کجی گرفتار بلا کرسکتی ہے ، خواہ نعمت کے زوال کا سبب بن جائے یا اس کے استعمال میں رکاوٹ آجائے اور آخرت کے عذاب کا باعث بھی بن سکتی ہے ، مگر اس سب کے باوجود یہاں تاکیدا نہیں فرمایا گیا کہ چاہے تو معاف بھی کر دے یہ اس کی اپنی مرضی ہے ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ تمہارے شکر کرنے یا نہ کرنے سے اس کی عظمت پہ ذرہ برابر اثر نہ ہوگا نہ صرف تم اگر ساری مخلوقات ہی ناشکری کرنے لگے تو بھی وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اپنا نقصان کریں گے ، اللہ جل جلالہ کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہ آئے گا ۔ تم لوگوں نے پہلی اقوام کے حالات تو سن ہی رکھے ہیں جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم یا عاد وثمود یا اور دوسری اقوام جن کے حالات سے اللہ جل جلالہ ہی واقف ہیں تاریخ میں ان کا تذکرہ تک نہیں ملتا اور آج انسان ان کے نام تک سے آشنا نہیں ، ان سب لوگوں کے پاس اللہ جل جلالہ کی طرف سے رسول اور نبی مبعوث ہوئے اور بڑے بڑے معجزات سے تو ان بدنصیب افراد نے نہ صرف یہ کہ ایمان قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ اپنی پوری محنت اس پر صرف کردی کہ یہ اللہ جل جلالہ کی بات ہی دوسروں تک پہنچا نہ سکیں اور بڑے تکبر سے کہا کہ بھئی ہم آپ کی بات نہیں مانتے ، ماننا تو دور کی بات ہے ہم تو آپ کی بات کو درست جانتے بھی نہیں بلکہ ہمیں تو تمہاری دعوت ہی مشکوک نظر آتی ہے اور تمہارے دعوے نے تو ہمیں پریشان کردیا ہے بھلا یہ بھی کوئی بات ہے جو آپ کرتے ہیں اور جس طرح کا نظریہ آپ پیش کرتے ہیں کہ ایک ہستی یہ سارا نظام نہ صرف تخلیق کرتی ہے بلکہ اسے رواں دواں رکھنا بھی اسی کی رحمت کے سبب سے ہے یہ سب ہماری دانست میں عجیب و غریب لگتا ہے ۔ ان کے انبیاء ورسل نے فرمایا کہ جہالت کی بھی حد ہوتی ہے تمہیں اللہ جل جلالہ کی ذات اور اس کی قدرت کاملہ میں بھی شک ہے جبکہ یہ زمین وآسمان اور ان کی نیرنگیاں گوناگوں مخلوقات اور ان کا نظام کار یہ سب کائنات اس کی خالقیت اور قدرت کاملہ پہ پکار پکار کر گواہی دے رہی ہے ، اس کے ہونے میں تو شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا ، رہا معاملہ نبوت و رسالت کا تو ہمیں مبعوث فرما کر بھی تو تمہیں اپنی رحمت سے نوازنے کا سبب بنایا ہے اور تمہیں اس لیے پکار رہا ہے کہ تم نے آج تک اس کی کائنات میں اپنی پسند اپنا کر اور اس کی ذات وصفات کا انکار کرکے یا ان میں دوسروں کو شریک کرکے جو جرائم کا پہاڑ کھڑا کیا ہے اسے معاف کر دے تم اس کی اطاعت اختیار کرو اور وہ تمہیں اپنی بخشش کے سایہ میں لے لے ، ورنہ تمہارے گناہ تو تم پر قضائے معلق کو مسلط کردیں گے اور تم طبعی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی سب کے سب تباہ ہوجاؤ گے مگر اس کی رحمت عامہ تمہیں محروم نہیں محروم نہیں رکھنا چاہتی ، لہذا سے پہلے ہی سب کے سب تباہ ہوجاؤ گے ، مگر اس کی رحمت عامہ تمہیں محروم نہیں رکھنا چاہتی ، لہذا ہمیں مبعوث فرما کر اپنی اطاعت کی دعوت دے رہا ہے کہ تم اپنا طبعی وقت تو پورا کرسکو اور پھر جب دنیا سے رخصت ہو کر اس کی بارگاہ میں پہنچو تو تمہیں نجات نصیب ہو ، لیکن وہ بدنصیب قومیں یہ بات نہ پا سکیں اور وہ لوگ کہنے لگے بھئی تم لوگ بھی تو ہماری طرح بشر ہو ، سونا ، جاگنا ، کھانا ، پینا ، گھر بار سب ضروریات بشریت رسول زندگی تمہارے ساتھ بھی ہیں ، پھر تمہیں کیوں اللہ جل جلالہ کا بھیجا ہوا رسول مان لیں بلکہ ہمارا اندازہ تو یہ ہے کہ تم ہمیں محض باپ دادا کی پیروی سے ہٹا کر اپنے پیچھے لگانا چاہتے ہو کہ اس طرح قوم کی قیادت وسیادت تمہیں مل جائے گی اگر تم اللہ کے رسول ہوتے تو بشری ضروریات سے بالاتر ہوتے یہ بحث پہلے گذر چکی کہ رسالت بنی آدم ہی کو عطا ہوئی ہے اور نبی اور رسول بھی بشر ضرور ہوتے ہیں مگر ان کی بشریت کامل ہوتی ہے جبکہ ہم ناقص ہیں اور اپنی بشریت کے معیار پر دیکھ کر انکار کردیتے ہیں ایک انکار رسالت اس لیے کرتا ہے کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا تو دوسرا رسالت کا اقرار کرکے بشریت کا انکار کردیتا ہے کہ جب اللہ جل جلالہ کا رسول ہے تو بشر نہیں ہو سکتا ، دونوں طرف گمراہی ہے ، اللہ جل جلالہ پناہ دے ۔ یہی حال صوفیا اور اولیاء کی پہچان میں ہے کہ جاہلوں کے خیال میں ولی اللہ کوئی دوسری ہی مخلوق ہوتے ہیں بہرحال انہوں نے نے مطالبہ کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو کوئی واضح دلیل پیش کرو ، اللہ کے رسولوں نے فرمایا کہ پھر وہی بات دہراتے ہو کہ ہم کوئی مافوق الفطرت مظاہرہ کریں تب بات ہے ۔ (معجزہ و کرامت) ارے نادانو تم انسان ہو تو ہم بھی انسان ہیں اور تخلیق طور پر ہم میں بھی وہی انسانی طاقت ہے ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ جس پر چاہے اپنا احسان فرما دے ، لہذا اس نے ہمیں نور نبوت عطا فرما کر تقدس اور اپنے قرب کا وہ اعلی مقام بخشا ہے جہاں فرشتہ کا سمند خیال بھی قدم رکھنے کی جرات نہیں کرسکتا اور اس کے اس احسان نے ہمیں مزید بندہ اور اطاعت شعار بنا دیا ہے ، رہی بات معجزہ دکھانے کی تو یہ ہم اپنی پسند سے نہیں کیا کرتے یہ تو اس کی پسند ہے کہ چاہے تو ہمارے ہاتھ پر ظاہر کر دے کہ معجزہ و کرامت فعل اللہ جل جلالہ کا ہوتا ہے صادر نبی یا ولی کے ہاتھ پر ہوتا ہے ، رہی یہ بات کہ ہم گھبرا کر کہیں کہ ایسا ضرور ہو ورنہ ہماری بات نہ رہ سکے گی تو تم نے ایمان کی عظمت کو پہچانا نہیں ایمان کا تقاضا اپنی بڑائی ثابت کرنا نہیں ہوتا رہی یہ بات کہ ہم گھبرا کر کہیں کہ ایسا ضرور ہو ورنہ ہماری بات نہ رہ سکے گی تو تم نے ایمان کی عظمت کو پہچانا نہیں ایمان کا تقاضا اپنی بڑائی ثابت کرنا نہیں ہوتا بلکہ کمال اطاعت ہوتا ہے اور ۔ (توکل) یہی توکل ہے کہ ہر کام کے لیے وہ اسباب پوری محنت سے اختیار کئے جائیں مگر نتیجہ اللہ جل جلالہ کی پسند پہ چھوڑ دیا جائے یہ مطالبہ نہ رہے کہ جو میں چاہتا ہوں وہی ہو ۔ اور بھلا ہم اس پر بھروسہ نہ کریں یہ کیسے ممکن ہے کہ تم شک کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہو ، لہذا کرسکتے ہو مگر ہمیں تو اس نے اپنی بارگاہ کی راہوں کا آشنا کردیا ہے دن میں متعدد بار اس کی ذات کے حضور حاضری سے مشرف ہوتے ہیں اور یہی قرب کی لذتیں ہی تو ہیں کہ تمہاری اذیتوں کی ہمیں پرواہ تک نہیں ہوتی ورنہ پوری پوری قوم کے مظالم کے سامنے ایک ہستی کا یا چند افراد کا کھڑا رہنا ہرگز ممکن نہ تھا یہ لذت دیدار نے ممکن کردیا اور یاد رکھو جسے بھی یہ لذت نصیب ہوگی پھر وہ صرف اللہ جل جلالہ ہی پہ بھروسہ کرے گا ماسوا کی پرواہ نہ کرے گا ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9 شکرتم تم نے شکر کیا۔ ازیدن میں ضرور بڑھاؤں گا۔ انتم تم۔ غنی بےنیاز۔ حمید تمام خوبیوں کا مستحق۔ لم یات نہیں آئی۔ نبو خبر، اطلاع۔ لایعلم نہیں جانتا ردوا انہوں نے پلٹائے۔ ایدیھم ان کے ہاتھ ۔ افواہ منہ (فوہ) ۔ کفرنا ہم نے کفر کیا، انکار کیا۔ تدعون تم بلاتے ہو۔ مریب کھٹکنے والا، تردد کرنے والا۔ تشریح آیت نمبر 7 تا 9 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر انسان ان کو شمار کرنا چاہے تو کر نہیں سکتا۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ ان آیات میں اگرچہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے لیکن درحقیقت کفار مکہ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات بابرکات ہے۔ اگر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قدر کی تو ان کو قیامت تک کے لئے عزت و عظمت کا مقام مل جائے گا اور آخرت میں ان کا کیا مقام ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن اگر انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناقدری کی ان کی اطاعت نہ کی تو پھر قیامت تک ان کی ہدایت کا امکان باقی نہیں رہے گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ یاد دلایا ہے کہ اللہ نے ان پر کتنی بڑی بڑی عنایتیں کی ہیں۔ فرعون کے ظلم و ستم اور زیادتیوں سے ان کو بچایا۔ فرعون اور ان کے ماننے والوں کو غرق کردیا بنی اسرائیل کو عیش و آرام کی زندگی عطا کی، صحرا میں پانی، بادل کا سایہ اور کھانے کے لئے من وسلویٰ عطا کیا، ہدایت کے لئے توریت جیسی کتاب عطا کی گئی۔ فرمایا کہ تم ان نعمتوں کو یاد کرو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اگر تم نے اللہ کا شکر ادا کیا تو اور ہزاروں نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ لیکن اگر ناشکری کا طریقہ اختیار کیا گیا تو پھر اسی شدت سے اللہ کا عذاب بھی نازل ہوگا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ انسانوں اور ان کی عبادتوں اور تعریفوں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی حمد و ثنا کر رہا ہے وہ کسی کی تعریف کا محتاج نہیں ہے وہ تمام خوبیوں اور کمالات کا مالک ہے۔ البتہ اگر انسان اللہ کی عبادت و بندگی اور اس کی حمد و ثنا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے فائدہ مند ہے۔ اللہ کسی کی عبادت و بندگی کا محتاج نہیں ہے۔ ان کو یاد دلایا گیا ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود جیسی زبردست قومیں گذر چکی ہیں ان کو قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ دینا ایک بہت بڑی غلطی ہے بلکہ ان قوموں کے ساتھ اللہ نے کیا معاملہ کیا اس پر غور کرنا چاہئے۔ جب ان کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تب اللہ نے ان کو ان کے برے انجام تک پہنچایا۔ فرمایا کہ جب ان کفار و مشرکین کو اللہ کے رسول سچی باتیں بتاتے تھے تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے پیغمبروں کے منہ بند کرنے کی کوشش کرتے تھے کیونا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے منہ سے چی باتیں نکلیں اور اس بدمستی میں یہ کہتے تھے کہ ہم تمہاری رسالت کو نہیں مانتے ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس میں ہمیں سخت تر دد اور شبہ ہے لہٰذا ہم تمہاری کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اس کفر و انکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان قوموں پر اللہ کا شدید ترین عذاب آیا اور ان کو ان کی دولت اور بلند وبالا عمارتیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ شکر میں ایمان اور ناشکری میں کفر بھی داخل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان اطہر سے بنی اسرائیل کو آزادی کی نعمت یاد کروانے کے بعد سب لوگوں کو شکر گزار ہونے کی ہدایت۔ مذکورہ بالا آیت سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو اس لیے بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو ان کے ماضی کے ایام اور اللہ تعالیٰ کے انعام یاد کروا کر انہیں کفر و شرک اور بدعت ورسومات کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ یہ کوشش ہر اس شخص کے لیے مفید اور کارگر ثابت ہوگی جو مشکلات پر صبر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کو ان کے اذیت ناک ماضی کا حوالہ دیا گیا۔ اب انہیں اور دنیا کے ہر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ لوگو ! تمہارے رب کا یہ فرمان ہے کہ اگر تم اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتوں سے نوازتا رہے گا۔ اگر تم نے ناشکری کا وطیرہ اختیار کیا تو اس کا عذاب شدید ترین ہوگا۔ صبر کا معنی مصیبت میں حوصلہ رکھنا اور دین کے بتلائے ہوئے راستے پر مستقل مزاجی کے ساتھ گامزن رہنا ہے۔ شکر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اس کی فرما نبرداری میں زندگی بسر کرنا۔ شکر کی مختصر تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اقتدار دے تو رعایا کی خدمت بجالائے، مال دے تو اس کے بندوں پر خرچ کرے، علم عطا ہو تو لوگوں کی رہنمائی کرے۔ طاقت نصیب ہو تو لوگوں کی مدد کرے، صحت ہو تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کے ساتھ اس کے بندوں کی خدمت کرتا رہے۔ شکر کی اہمیت اور فوائد : اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف اور شکر کرنا مشکلات سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے، مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے، شکررب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے، اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ (بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَ کُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ) [ الزمر : ٦٦] ” پس اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزاربندوں میں شامل ہوجائیے۔ “ (أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیْرُ ) [ لقمان : ١٤] ” میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے ‘ بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ “ (لإَِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ ) [ ابراہیم : ٧] ” اگر تم شکرکا رویہ اپناؤ گے تو ہر صورت مزید عنایات پاؤگے۔ “ (مَایَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَکَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا) [ النساء : ١٤٧] ” اللہ کو تمہیں سزا دینے سے کیا فائدہ، اگر تم شکر اور تسلیمات کا انداز اختیار کرو۔ اللہ تو نہایت ہی قدر افزائی کرنے والا ہے۔ “ (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رض) قَالَ أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَلاَ تَدَعْ أَنْ تَقُوْلَ فِیْ کُلِّ صَلاَۃٍ رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ )[ سنن النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَآءِ ] ” حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے معاذ ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نماز کے بعد اس دعا کو پڑھنا نہ چھوڑنا اے میرے پروردگار ! ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو مزید دیتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے انعام کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ ٣۔ ناشکری کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے۔ ٤۔ شکر کے مقابلہ میں کفر ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر اور شکر کی فضیلت : ١۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ (ابراہیم : ٧) ٢۔ اللہ شکر گزار بندوں کا قدرد ان ہے (النساء : ١٤٧) ٣۔ اگر تم اس کا شکریہ ادا کرو تو وہ تم پر خوش ہوگا۔ (الزمر : ٧) ٤۔ اللہ شکر کرنے والوں کو جزادے گا۔ (آل عمران : ١٤٤) ٥۔ اگر تم اللہ کا شکریہ ادا کرو گے تو وہ تمہیں عذاب نہیں کرے گا۔ (النساء : ١٤٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کا اعلان کہ شکر پر مزید نعمتیں دوں گا اور ناشکری سخت عذاب کا سبب ہے : صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیت (وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ ) بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانے کے بعدیہ بھی فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ نعمتوں کی شکر گزاری پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید انعامات ملیں گے اور جیسا کہ شکر نعمتوں کے زیادہ ہونے کا سبب ہے اسی طرح سے ناشکری اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوجانے کا سبب ہے۔ لہٰذا زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور دل سے بھی اور اعضاء وجوارح سے بھی ‘ اعضاء وجوارح کا شکر ادا کرنا یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگائے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مال ملے اس کو فضول نہ اڑا دے طاعات میں خرچ کرے ‘ گناہوں میں خرچ کرنے سے بچے ‘ شکر ان سب باتوں کو شامل ہے اور ان سب امور کے خلاف اختیار کرنا ناشکری ہے۔ جس طرح شکر گزاری کی وجہ سے نعمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح ناشکری کی وجہ سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اور طرح طرح کے مصائب اور مشکلات اور دکھ تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔ سورة نحل کی آیت (وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَریۃ) (الایۃ) میں ایک بستی پر نعمتوں کی فراوانی پھر ان کی ناشکری اور ناشکری کی سزا کا تذکرہ فرمایا ہے۔ نیز سورة سبا رکوع ٢ میں قوم سبا پر جو نعمتیں تھیں ان نعمتوں کا تذکرہ ہے پھر قوم کی ناشکری اور ناشکری کی سزا مذکور ہے دونوں جگہ کا مطالعہ کرلیا جائے۔ مزید فرمایا کہ دیکھو اگر تم شکر کرو گے تو تمہارا ہی فائدہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے بےنیاز ہے حمید ہے سب تعریفوں کا مستحق ہے اسے کسی کے شکر کی حاجت نہیں ہے تم سب اور زمین کے رہنے والے تمام افراد اگر اللہ کی ناشکری کریں تو اس بےنیاز ذات کا کچھ بھی نقصان نہ ہوگا شکر گزاری میں تمہارا اپنا نفع ہے ناشکری میں تمہارا اپنا ضرر ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

7 ۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تم کو آگاہ کردیا تھا اور تم کو مطلع فرما دیا تھا کہ اگر تم نے میری نعمتوں پر اور میرے احسانات پر شکر بجا لانے کا شیوہ اختیار کیا اور شکر ادا کرتے رہے تو تم کو اپنی نعمتیں اور زیادہ دوں گا اور نعمتوں میں اضافہ کر دوں گا اور اگر تم نا شکری کرو گے اور نا سپاسی کا طریقہ اختیار کرو گے تو یقین جانو کہ میرا عذاب بہت سخت ہے ۔ یعنی میرے ذریعہ سے حضرت حق تعالیٰ کا یہ اعلان تم تک پہنچ چکا کہ نعمت پر شکر اور زیادہ نعمت کا باعث ہے اور کفران نعمت سلب نعمت اور عذاب الٰہی کا سبب ہے۔