Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 1

سورة الحجر

الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ وَ قُرۡاٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱﴾

Alif, Lam, Ra. These are the verses of the Book and a clear Qur'an.

الرٓا یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلے اور روشن قرآن کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelievers will someday wish that They had been Muslims Allah says: الَرَ تِلْكَ ايَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْانٍ مُّبِينٍ Alif-Lam-Ra. These are Ayat of the Book and a plain Qur'an. We have already discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah said:

سورتوں کے اول جو حروف مقطعہ آئے ہیں ان کا بیان پہلے گزر چکا ہے ۔ آیت میں قرآن کی آیتوں کے واضح اور ہر شخص کی سمجھ میں آنے کے قابل ہونے کا بیان فرمایا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 کتاب اور قرآن مبین سے مراد قرآن کریم ہی ہے، جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا۔ جس طرح (ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ) 5 ۔ المائدہ :15) میں نور اور کتاب دونوں سے مراد قرآن کریم کی تکریم اور شان کے لئے ہے۔ یعنی قرآن کامل اور نہایت عظمت وشان والا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] قرآن کیا کچھ واضح کرنے والا ہے ؟ اس کا ایک مطلب اوپر ترجمہ میں مذکور ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن انسان کو تمام تر کیفیات سے آگاہ کرنے والا ہے۔ اس کی پیدائش سے پہلے کے حالات سے بھی، پیدائش سے موت تک کی کیفیات سے بھی اور مرنے کے بعد بھی جو صورت احوال واقع ہونے والی ہے اسے کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ :” الْكِتٰبِ “ الف لام کی و جہ سے ” کامل کتاب “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ” الْكِتٰبِ “ اور ” قُرْاٰنٍ “ دونوں مبالغہ کے لیے مصدر ہیں (جن کا معنی ہے لکھنا اور پڑھنا) جو اسم مفعول کے معنی میں ہیں، یعنی یہ اس کلام کی آیات ہیں جو بیشمار بار لکھا ہوا اور بیحد و حساب پڑھا ہوا ہے، فرمایا : (ۙاِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77 ۝ ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ ) [ الواقعۃ : ٧٧، ٧٨ ] ” بلاشبہ یہ یقیناً ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے، جو ایک ایسی کتاب میں ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔ “ لوح محفوظ میں لکھے جانے اور جبریل (علیہ السلام) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر قیامت تک نہ اس کے لکھنے والوں کا شمار ہے نہ پڑھنے والوں کا۔ پھر خوبی یہ کہ یہ کتاب ہے تو کامل (الف لام کی و جہ سے) اور قرآن ہے تو ہر بات کو کھول کر بیان کرنے والا۔ قیامت تک کوئی اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر نہیں لاسکتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر : الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک کامل کتاب کی اور قرآن واضح کی (یعنی اس کی دونوں صفتیں ہیں کامل کتاب ہونا بھی اور قرآن واضح ہونا بھی ان کلمات سے قرآن کا کلام حق ہونا واضح کرنے کے بعد ان لوگوں کو حسرت اور عذاب کا بیان ہے جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے یا اس کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے فرمایا رُبَمَا يَوَدُّ یعنی جب قیامت نے حشر ونشر کے میدان میں کافروں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا تو) کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ (یعنی ہم دنیا میں) مسلمان ہوتے (بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت و مصیبت دیکھیں گے تو ہر مرتبہ اپنے اسلام نہ لانے پر حسرت تازہ ہوتی رہے گی) آپ (دنیا میں ان کے کفر پر غم نہ کیجئے اور) ان کو ان کے حال پر رہنے دیجئے کہ وہ (خوب) کھا لیں اور چین اڑا لیں اور خیالی منصوبے ان کو غفلت میں ڈالے رکھیں ان کو ابھی (مرنے کے ساتھ ہی) حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے (اور دنیا میں جو ان کو ان کے کفر اور بدعملی کی فورا سزا نہیں ملتی اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سزا کا وقت مقرر کر رکھا ہے ابھی وہ وقت نہیں آیا) اور ہم نے جتنی بستیاں (کفر کی وجہ سے) ہلاک کی ہیں ان سب کے لئے ایک معین وقت لکھا ہوا ہوتا رہا ہے اور (ہمارا اصول ہے کہ) کوئی امت اپنی میعاد مقرر سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ پیچھے رہی ہے (بلکہ وقت مقرر پر ہلاک ہوئی ہے اسی طرح جب ان کا وقت آجائے گا ان کو بھی سزا دی جائے گی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ ۝ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١) میں ایسا اللہ ہوں کہ تمام چیزوں سے باخبر ہوں یا یہ کہ ایک قسم ہے، یہ سورت ایک مکمل کتاب کی آیتیں ہیں اور میں قرآن کریم کی قسم کھاتا ہوں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو بیان کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آ (الۗرٰ ) حروف مقطعات کا یہ سلسلہ سورة یونس سے شروع ہوا تھا۔ پانچ سورتوں کے آغاز میں الۗرٰ کے حروف ہیں اور ایک سورة (الرعد) میں ا آمآرٰ ۔ یہ اس سلسلہ کی چھٹی اور آخری سورت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1. This verse is the brief introduction to the Surah, and immediately after this begins its theme. “These are the verses of the Book and a clear Quran”: These are the verses of that Quran which makes its meaning lucid and understandable.

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :1 یہ اس سورہ کی مختصر تعارفی تمہید ہے جس کے بعد فورا ہی اصل موضوع پر خطبہ شروع ہو جاتا ہے ۔ قرآن کے لیے ”مبین“ کا لفظ صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیات اس قرآن کی ہیں جو اپنا مُدّعا صاف صاف ظاہر کرتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ الٓر حروف مقطعات میں سے ہے جن کا ذکر سورة بقرہ میں ہوچکا ہے کہ اس کے معنے سوائے خدا کے کسی کو نہیں معلوم اور جس طرح تمام سورتوں میں جو حروف مقطعات سے شروع ہوئی ہیں قرآن کی عظمت بیان فرمائی ہے اسی طرح اس سورت میں بھی حروف مقطعات کے بعد فرمایا کہ یہ سورت قرآن مجید کی آیتوں میں سے تھوڑی سی آیتیں ہیں اور پھر قرآن کی صفت بیان فرمائی کہ اس سے حق بات ناحق بات سے صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریف ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کے سبب سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہو ١ ؎ گی۔ یہ حدیث { وقران مبین } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں میں ایسی صاف صاف نصیحتیں ہیں جن سے قیامت تک بہت لوگوں کو ہدایت ہوگی اگرچہ بعضے سلف نے کتاب کی تفسیر تورات اور انجیل کو ٹھہرایا ہے مگر تورات اور انجیل کا اوپر کہیں ذکر نہیں ہے اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ کتاب اور قرآن شریف کی آیتوں میں ایسی صاف صاف نصیحتیں ہیں جن سے قیامت تک لوگوں کو ہدایت ہوگی اگرچہ بعضے سلف نے کتاب کی تفسیر تورات اور انجیل کو ٹھہرایا ہے مگر تورات اور انجیل کا اوپر کہیں ذکر نہیں ہے۔ اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ کتاب اور قرآن دونوں لفظوں سے قرآن ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ آیتیں ایسی صاحب عظمت کتاب کی ہیں جس کا نام قرآن ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٧٤٤ ج ٢ باب کیف نزول الوحی

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:1) تلک۔ اشارہ ہے ان آیات کی طرف جو اس سورة میں ہیں۔ الکتب۔ مکمل کتاب۔ ایسی کتاب جو اپنی افادیت اور جامعیت کے اعتبار سے صحیح معنوں میں کتاب کہلانے کی مستحق ہے۔ قران۔ کی تنکیر تعظیم کے لئے ہے۔ ایت قران۔ یہ آیات الکتاب کی ہیں اور قرآن مبین کی ۔ مبین۔ صفت ہے قرآن کی۔ یعنی وہ قرآن جو اپنا مدعا صاف صاف ظاہر کرتا ہے جو الرشد اور الغی کو مبین (واضح) طور پر بیان کرتا ہے۔ فارق بین الحق والباطل والحلال والحرام۔ جو حق اور باطل اور حلال و حرام میں فرق بیان کرنے والا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 ۔ الکتاب یعنی وہ عظیم الشان کتاب جس کے علاوہ کوئی کتاب ” الکتاب “ کہلانے کی مستحق نہیں اور قرآن مبین یعنی وہ قرآن جس کا مدعا نہایت واضح اور صاف ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ١) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز حیات ان کی گمراہی کا اصل سبب ہے کھانا تو ہر متنفس کھاتا ہے لہذا مومن بھی کھاتا ہے آرام بھی کرتا ہے اور دنیا میں وقت بسر کرنے کے لیے منصوبہ بندی بھی مگر فرق یہ ہے کہ کافر انہیں چیزوں کو مقصد حیات بنا لیتا ہے اور کھانے پینے ، لذات دنیا اور خواہشات کی تکمیل کے لیے منصوبہ بندی میں ایسا غرق ہوتا ہے کہ اسے نہ فکر آخرت رہتی ہے اور نہ اپنے پروردگار کے احسانات کا خیال آتا ہے مگر نور ایمان نصیب ہو تو کھانا زندہ رہنے کے لیے کھایا جاتا ہے کمانے اور کھانے میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کو مقدم رکھا جاتا ہے حتی کہ مومن بھوکا رہ لیتا ہے مگر لقمہ حرام سے اجتناب کرتا ہے کافر کو لقمہ تر چاہئے اسے حلال و حرام سے غرض نہیں ہوتی ایسے ہی آرام زندگی کی ضرورت ہے مومن بھی کرتا ہے لباس آرام دہ بستر ، گھر پر شئے سے مستفید ضرور ہوتا مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتے ہوئے اگر چھوڑنا پڑے تو آرام چھوڑتا ہے اطاعت الہی کو نہیں چھوڑتا گھر قربان کرتا ہے ایمان ترک نہیں کرتا بلکہ کافر محض دنیا کی لذات پہ جان دیتا ہے مومن جو منصوبہ بندی کرتا ہے ذاتی امور کیلئے خاندانی یا قومی وملکی ضروریات سے مقدم اطاعت الہی ہوتی ہے مگر کافر عظمت باری کے احساس سے بیگانہ ہو کر محض اپنے عیش و آرام کی فکر کرتا ہے لہذا جو بھی شخص محض لذیذ کھانے کا طالب ہو حلال و حرام کی تمیز نہ کرے محض عیش کرنا مقصد ہو جائز وناجائز کی فکر نہ ہو اور طول امل میں گرفتار طول امل سے مراد لذات دنیا اور حرص وہوا کی ماری ہوئی خواہشات کی تکمیل کی منصوبہ بندی سے ہے تو ایسے انسان کا ایمان خطرہ میں ہے آج اگر ہم اپنا اور اپنے ماحول کا جائزہ لیں تو یہی مرض ہمیں دین سے دور لے جا رہا ہے اور کافر معاشرہ کو دیکھیں تو یہی بیماری انہیں کفر کی دلدل میں نیچے ہی نیچے لے جا رہی ہے ” یہ کب تک ” موج اڑائیں گے “ اس کی فکر نہ کریں کہ دنیا کا ایک طے شدہ نظام ہے اور ہر آبادہ کا ایک طے شدہ وقت اگر سنبھل گئے تو خیر ورنہ ان سے پہلے بھی کتنی آبادیاں اپنا مقررہ وقت آنے پر تباہ وبرباد ہوئیں یہ بھی اپنے انجام کو پالیں گے کہ کوئی قوم یا طبقہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے مقررہ وقت سے نہ تو پہلے گذر سکتا ہے اور نہ اس وقت کو پیچھے کرسکتا ہے ۔ دنیا کی لذات نے انہیں اس قدر اندھا کردیا ہے کہ جب اللہ جل جلالہ کا کلام سنتے ہیں جس میں لذات کے مقابلے میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا حکم ہوتا ہے اور کھانا پینا عیش و آرام مقصد حیات نہیں بلکہ ضرورت زندگی کی حد میں آکر اللہ جل جلالہ کی مقرر حدود کے اندر رکھنا پڑتا ہے تو انہیں یہ بات عقل کے خلاف نظر آتی ہے اور کہتے ہیں کہ اگر آپ پر یہ قرآن اترا ہے جس میں اس طرح کے احکام ہیں تو معاذ اللہ آپ پاگل ہیں کہ کفار کا تو دین بھی دنیا ہی ہوتی ہے اور ہر عبادت ، رسم یا پوجا پاٹ کے ساتھ دنیا اور لذات دنیا کو بطور نتیجہ جوڑ رکھا ہوتا ہے بھلا دنیا قربان کرنا اور آخرت کی آرزو کب ان کی عقل میں آسکتی ہے لہذا کہتے ہیں اگر آپ کے پاس فرشتہ اللہ جل جلالہ کا کلام لاتے ہیں تو انہیں آپ ہمارے پاس کیوں نہیں لے آتے کہ ہم ان سے تصدیق کرلیں ۔ (فرشتہ سے کلام) یہ تک سمجھنے سے قاصر ہیں کہ فرشتہ سے کلام کے لیے تو نور نبوت شرط ہے قلب کی وہ پاکیزگی اور تزکیہ کی وہ کیفیت شرط ہے اگرچہ وحی الہی کے لیے تو نبوت شرط ہے مگر نور نبوت سے روشن قلوب فرشتوں تک سے کلام کرسکتے ہیں اور یہ کمال اہل اللہ میں پایا جاتا ہے جیسا عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات اور مختلف واقعات میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کا فرشتوں سے کلام کرنا ثابت ہے مگر یہ نہ صرف حصول ایمان کے بعد بلکہ تزکیہ کے بعد نصیب ہوتا ہے اور جب فرشتے اس حال میں نازل ہوں گے کہ ہر انسان انہیں دیکھ سکے بات کرسکے تو کام ختم ہوچکا ہوگا دنیا کی بساط لپٹ چکی ہوگی اور ہر ایک کو پورا پورا انصاف میسر ہوگا پھر عمل کی مہلت نہ ہوگی کہ یہ ان سے تصدیق حاصل کرکے عمل کرنے جائیں گے ، ان کا یہ کہنا کہ بھلا کب تک یہ بات رہے گی چند ایسے لوگ ہی تو جمع ہو رہے ہیں جو پڑے لکھے بھی نہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قصہ پارینہ بن جائے گی مگر یاد رکھو یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے ۔ (قرآن حکیم کا ایک اعجاز) قرآن حکیم کا ایک یہ بھی بہت بڑا عجاز ہے کہ جس طرح سے نازل ہوا بالکل اسی طرح بغیر ایک نقطے تک کی تبدیلی کے موجود ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گا اگرچہ یہود نے ایک ایسا فرقہ بھی ترتیب دیا جس نے یہ کہا کہ معاذ اللہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے قرآن بدل دیا اور اس میں کمی بیشی کردی مگر یہی بات ان کی تردید کرتی ہے کہ کیا وہ کلام جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا بدل گیا مگر جسے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے شائع کیا اسے پندرہ صدیاں بیت گئیں اور کوئی نہ بدل سکا یہ عقلا محال ہے اور قرآن کے اس وعدہ کا انکار کہ اللہ جل جلالہ خود اس کی حفاظت فرمانے والا ہے یہ جزو ایمان ہے کہ یہ وہی قرآن ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا اس میں تبدیلی وتحریف کا عقیدہ رکھنا کفر ہے اور ایسے لوگ قطعی کافر ہیں ۔ اللہ کریم نے اس کی حفاظت مومنین کے قلوب تک میں سمو کر کی ہے اور حفاظ اللہ کریم کے وہ سپاہی ہیں جو اس کی کتاب پہ اس نے مامور کردیئے ہیں ۔ (یہ وعدہ حفاظت حدیث کو بھی شامل ہے) قرآن حکیم اپنے معانی اور مفاہیم سے مکمل ہوتا ہے چونکہ یہ بنی نوع انسان کی اصلاح وہدایت کے لیے نازل ہوا اور اس کے ساتھ ایک معلم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرمایا گیا جس کا منصب عالی انسانوں کو اس کے اصل الفاظ کے ساتھ ان کے معانی کا سمجھانا تھا وہی ارشادات نبوی حدیث کہلائے لہذا حدیث شریف کو بھی اللہ جل جلالہ کی حفاظت حاصل ہے کیا یہ اللہ جل جلالہ کی حفاظت کا کرشمہ نہیں کہ کفار نے ہر دور میں حدیثیں گھڑنے اور غلط تاویلات کرنے کی پوری کوشش کی مگر اللہ جل جلالہ نے ایسے بندے پیدا کردیئے جنہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا آج بھی ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر آمیزش سے پاک روشن ستاروں کی مانند آسمان ہدایت پہ چمک رہے ہیں اور اکیلی حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہچان کے لیے مسلمانوں نے کم وبیش سترہ علوم ترتیب دیئے جن میں ہر ایک عقل انسانی کو دنگ کردیتا ہے اور سچ کو جھوٹ سے الگ اور واضح کرتا ہے صرف اسماء الرجال ہی کا فن اتنا حیران کن ہے کہ ہر روای کے پورے حالات سامنے آجاتے ہیں ، اور یہ کہنا کہ حدیث بعد میں لکھی گئی یہ کتابیں تیسری چوتھی صدی کی ہیں لہذا قابل اعتبار نہیں ایک بہت بڑا دھوکا ہے حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عہد نبوی ہی میں لکھی گئی اگر کتابوں کی تدوین بعد میں ہوئی تو ان میں انہیں احادیث کو ترتیب دیا گیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک ارشادات تھے ، لہذا حدیث شریف کا مطلق انکار تو خود کتاب اللہ ہی کا انکار ہے ۔ یہ نئی بات نہیں اس سے پہلے بھی مختلف فرقوں (شیعوں) کے پاس رسول بھیجے گئے قرآن حکیم نے لفظ شیعہ کا اطلاق ایسے گروہ پر کیا ہے جو گمراہ ہو اور اپنی گمراہی کو ہدایت اور حق ثابت کرنے پر مصر ہو تو انہوں نے اللہ کریم اور نبیوں کا مذاق اڑایا کہ انہیں دیکھو یہ کبھی حصول زر کے طریقوں پر پابندی لگاتے ہیں اور کبھی کھانے پینے میں حرام و حلال کی حدود مقرر کرتے ہیں اور جو لذتیں سامنے ہیں انہیں چھوڑ کر کسی اور جہاں کی بات کرتے ہیں ۔ دل کا یہ حال کہ اللہ جل جلالہ کی طرف دعوت مذاق معلوم ہو ایک عذاب ہے جو کفار کے دلوں میں دھنسا دیا جاتا ہے ان کے گناہوں اور کفر کے باعث ان کے قلوب کی یہ حالت کردی جاتی ہے کہ انہیں ارشادات رسول پر مذاق سوجھتا ہے ایسے لوگوں کو کبھی ایمان نصیب نہیں ہوتا ، یہ قانون آپ کو پہلی تمام امتوں میں نظر آئے گا کہ دین کا مذاق اڑانے والوں کو کبھی دین نصیب نہ ہوا ، ان کا حال تو ایسا ہوجاتا ہے کہ اگر ان پر آسمان کا دروازہ تک کھول دیا جائے اور یہ دن بھر اس میں سے آتے جاتے رہیں تو بھی ایمان نہ لائیں گے بلکہ الٹا کہہ دیں گے ہماری نظر بندی کردی گئی ہے یا ہم پر جادو کردیا گیا ہے جو ہم کو اس طرح سے نظر آتا ہے ورنہ یہ حقیقت نہیں ہے یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ قبول دین وایمان کا مدار قلب کی کیفیات اور اس کی حالت پر ہے صد افسوس کہ آج عموما مسلم معاشرہ اس طرف سے غفلت کا شکار ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5 تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ مبین کھلا، واضح، روشن۔ ربما کبھی کبھی۔ اکثر ۔ یود پسند ہوگا۔ لو اگر، کاش۔ مسلمین فرماں بردار۔ گردن جھکانے والے۔ ذر چھوڑ دے۔ یا کلون وہ کھائیں گے۔ یتمتعوا وہ فائدہ حاصل کریں گے۔ یلھھم (الھاء لھو) ، دل لگانا، غافل ہونا الامل امید، آزاد۔ سوف جلد، عنقریب۔ اھلکنا ہم نے ہلاک کیا۔ برباد کیا۔ قریۃ بستی۔ شہر کتاب لکھا ہوا۔ معلوم مقرر۔ ماتسبق آگے نہیں بڑھتی۔ امۃ جماعت، گروہ ۔ اجل مدت، موت۔ یستاخرون وہ دیر کرتے ہیں۔ پیچھے ہٹتے ہیں۔ تشریح آیت نمبر : 1 تا 5 مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی منکرین توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہ لانے والوں کا بھیانک انجام اور اللہ و رسول پر ایمان و یقین رکھنے والوں کے بہترین انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جس کے متعلق پہلے بھی تفصیل سے بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور حقیقت کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ وہی ان حروف کے معنی اور مراد سے واقف ہے۔ فرمایا گیا کہ قرآن کریم ایک نعمت ہے جو کتابی شکل میں موجود ہے اور اس کے معنی بہت صاف، واضح اور روشن ہیں جس کے سمجھنے میں کسی کو کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اس کا اندازہ اس قدر دلچسپ ہے کہ وہ انسانوں کو خود ہی اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ وہ کتاب مبین ہے جس کے نہ تو الفاظ پڑھنے میں کوئی دشواری ہے نہ اس کا ترجمہ کرنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے اور نہ اس کے حفظ کرنے میں کوئی دشواری ہے، یہ اپنے الفاظ، معانی اور عمل کی ایک واضح کتاب ہے۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین کو جنہوں نے اپنی آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں ان کو قرآن کریم کی یہ خوبیاں نظر نہیں آتیں لیکن قیامت میں جب اس قرآن کریم پر عمل کرنے والے عیش و آرام میں ہوں گے تب یہ کفار و مشرکین نہایت حسرت اور افسوس کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کاش ہم بھی اللہ کے فرماں بردار ہوتے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کو سمجھائیں لیکن ان کو کھانے کھلنے اور اپنی آرزؤں اور تمناؤں میں الجھا رہنے دیں بہت جلد ان کو ساری حقیقت کا علم ہوجائے گا فرمایا کہ ہم نے ہر قوم کو مہلت عمل دی ہے جس سے ان کو غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ شاید اللہ ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا حالانکہ تاریخ کے دریچوں سے اگر جھانک کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم کو ان کے برے اعمال کے سبب تباہ و برباد کیا ہے تو اس گھڑی کے آنے میں نہ کبھی دیر ہوئی ہے اور نہ جلدی۔ جب اس کا فیصلہ آجاتا ہے تب کوئی اس کے فیصلے سے بچ نہیں سکتا۔ ان آیات میں کفار مکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ آج وہ جن بدمستیوں میں لگے ہوئے ہیں ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اللہ کا وہ فیصلہ دور نہیں ہے جب ان کو قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسی نعمتوں کے ٹھکرانے پر سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور پھر ان کے کوئی چیز کام نہیں آئیگی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ خلاصہ اس سورت کا یہ مضامین ہیں حقیقت قرآن، تعذیب کفار، تحقیق رسالت، اثبات توحید، ذکر بعض انعامات جزائے مطیعین، سزائے مخالفین، بعضے قصص بطور نمونہ جزا و سزا، حقیقت قیامت، تسلیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ 3۔ یعنی اس کو دونوں صفتیں ہیں، کامل کتاب ہونا بھی اور قرآن واضح ہونا بھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن الم۔ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ جن کے بارے میں پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ان کا حقیقی علم اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ جن سورتوں کے شروع میں مقطعات لائے گئے ہیں اس میں کیا حکمت پنہاں ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جن سورتوں کی ابتداء حروف مقطعات سے کی ہے۔ اس میں کوئی خاص حکمت مضمر ہے۔ جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سورة الحجر کی ابتدا بھی حروف مقطعات سے ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ کتاب الٰہی ہے جس کا نام قرآن مجید ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو اپنے احکام بالکل واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید کے بد ترین مخالفوں کا اعتراف : ڈاکٹر گستادلی بان نے اپنی کتاب ” تمدن عرب “ میں قرآن کی حیرت انگیزی کا اعتراف کیا، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” پیغمبر نبی اُمّی اسلام کی ایک حیرت انگیز سر گزشت ہے، جس کی آواز نے ایک قوم ناہنجار کو جو اس وقت تک کسی ملک کے زیر حکومت نہ آئی تھی رام کیا، اور اس درجہ پر پہنچا دیا کہ اس نے عالم کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔ “ مسٹر وڈول جو قرآن مجید کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا لکھتا ہے : ” جتنا بھی ہم اس کتاب یعنی قرآن کو الٹ پلٹ کر دیکھیں اسی قدر پہلے مطالعہ میں اس کی مرغوبیت نئے نئے پہلوؤں سے اپنا رنگ جماتی ہے، فوراً ہمیں مسخر اور متحیر کردیتی ہے اور آخر میں ہم سے تعظیم کرا کر چھوڑتی ہے، اس کا طرز بیان با عتبار اس کے مضامین کے، عفیف، عالی شان اور تہدید آمیز ہے اور جا بجا اس کے مضامین سخن کی غایت رفعت تک پہنچ جاتے ہیں، غرض یہ کتاب ہر زمانہ میں اپنا پر زور اثر دکھاتی رہے گی۔ “ (فہم القرآن جلد اول صفحہ ٦٥) مسائل ١۔ قرآن مجید ایک واضح کتاب ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١ تا ١٥ الر تلک ایت الکتب وقران مبین (١٥ : ١) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن مبین کو نہیں مانتے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ بڑی حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے بلکہ کاش کہ وہ ایمان لاتے اور استقامت اختیار کرتے۔ ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین (١٥ : ٢) ” بعید نہیں کہ ایک وقت آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا “۔ یہ وقت دور نہیں ہے ، لیکن اس وقت ان کی یہ تمنائیں ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ اس وقت چاہتوں کا فائدہ نہ ہوگا۔ اس انداز بیان میں نہایت ہی لطیف طور پر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اور ان کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعوت اسلامی جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، اس کے قبول کرنے کے بعد مہلت بہت ہی محدود ہے ، اسے ضائع مت کرو ، بہت جلد ایسے حالات آنے والے ہیں کہ یہ لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ، لیکن اس وقت ان کی یہ خواہشات مفید نہ ہوں گی۔ ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔۔ یعلمون (١٥ : ٣) ” چھوڑ انہیں ، کھائیں پئیں اور مزے کریں اور بھلا وے میں ڈال رکھے ان کو جھوٹی امید ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ وہ جس حال میں ہیں ، انہیں اسی میں چھوڑ دے ، یہ تو محض حیوانوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کھانا پینا اور عیش کرنا ، جس میں کوئی غورو فکر نہیں ہے۔ وہ حیوانیت سے آگے کچھ دیکھنا نہیں چاہتے ، لہٰذا انہیں رہنے دیجئے اپنے حال میں۔ انہوں نے جھوٹی امیدوں کے طویل و عریض منصوبے اس زندگی کے بارے میں بنا رکھے ہیں حالانکہ زندگی کی گھڑیاں ٹک ٹک کر کے ختم ہو رہی ہیں اور فرصت اور مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا انجام خراب ہونے والا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں ، یہ لوگ تو دنیا کی بےوفا تمناؤں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ محض خواہشات کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، یہ خواہشات ان کو یہ دھوکہ دیتی ہیں کہ ابھی زندگی کی فرصت طویل ہے اور یہ کہ اس زندگی میں یہ لوگ تمناؤں کے طویل و عریض منصوبے کو رو بعمل لے آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ، کوئی بات ان کی تمناؤں کے علی الرغم نہ ہوگی الا یہ کہ ان سے کوئی بھی زندگی کا حساب و کتاب لینے والا نہیں ہے اور وہ جس طرح کھا پی رہے ہیں اس طرح آخرت میں یا زندگی کے آنے والے دنوں میں بھی وہ کامیاب رہیں گے۔ اور سراب کی طرح دھوکہ دینے والی امیدیں اور سراب کے پیچھے دشت پیمائی کی یہ تصویر در حقیقت ایک زندہ انسانی روپ کی تصویر ہے ، جو انسانی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ہمیشہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ ان امیدوں کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ ان میں مگن رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ امن و عافیت کی حدود کو اچانک پار کرلیتا ہے اللہ سے غافل ، موت سے غافل اور قضا وقدر کے فیصلوں سے بےعلم ، اپنے فرائض سے غافل ، حلال و حرام کی حدود کو پھاندتے ہوئے ، یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ اسے موت اور حشر ونشر کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ اچانک پکڑا جاتا ہے۔ یہ ہے ان کی بھلاوے کی حالت جس میں وہ مبتلا ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جاتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اس میں غرق چھوڑ دیں۔ عنقریب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی ، لیکن اس وقت ان کا یہ علم ان کے لئے مقید نہ ہوگا کیونکہ وہ زائد المیعاد ہوگا ۔ یہ ایک تہدید آمیز انداز گفتگو بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو جگانے کے لئے ایک چٹکی بھی دی جاتی ہے ، شاید کہ وہ مدہوشی سے جاگ اٹھیں جس کی وجہ سے وہ نہایت ہی اٹل انجام بد سے غافل ہیں۔ اس کائنات کا نظام ایک مخصوص سنت الہٰیہ کے مطابق چل رہا ہے۔ اس سنت میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ قوموں کا عروج وزوال بعینہٖ اس سنت کے مطا بق ہوتا ہے۔ اقوام کا انجام اس رویے کے مطابق متعین ہوتا ہے جو وہ اس سنت الٰہیہ کے حوالے سے اختیار کرتی ہیں۔ وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ معلوم (٤) ما تسبق ۔۔۔۔۔ یستاخرون (٥) (١٥ : ٤ : ٥) ” ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ لہٰذا اگر کسی کو قدرے مہلت مل گئی ہے اور عذاب ٹلا ہوا ہے تو اسے غافل نہ ہوجانا چاہئے۔ عذاب کا جلدی آنا یا دیر سے آنا سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا۔ یہ مہلت اقوام و ملل کو کون دیتا ہے ؟ یہ اللہ کے اختیار میں ہے اور مہلت یا عذاب کا تعین لوگوں کے طرز عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایمان لے آئے ، نیکی کی راہ اختیار کرے ، اپنے رویے کو درست کرلے اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر دے تو مہلت دراز ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ قوم فسق و فجور اور برے راستے اختیار کرتی ہے ، اس میں بھلائی کی مقدار کم رہ جاتی ہے اور اس سے خیر کی توقع نہیں ہوتی۔ اب یہ امت اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اس دنیا سے اس کے وجود کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود کردی جاتی ہے یا اس کو اس قدر ضعیف و ناتواں کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود ہی کالعدم تصور ہوتا ہے۔ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بعض اقوام نہ مومن ہیں ، نہ نیک ہیں ، نہ صالح ہیں اور نہ ان کے اندر عدل پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں عروج پارہی ہیں ، پر قوت اور ذی شوکت ہیں اور بدستور زندہ رہ رہی ہیں۔ یہ سوال بظاہر قوی نظر آتا ہے مگر یہ درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جن اقوام کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے ان میں خیر اور صلاح کے بعض پہلو لازماً موجود ہوتے تھے۔ مثلاً زمین کے اندر فریضہ خلافت خداوندی کو وہ اچھی طرح ادا کر رہی ہوتی ہیں اور دنیا کی آبادی اور تعمیر میں وہ اچھے کام کر رہی ہوتی ہیں ، وہ جن علاقوں میں بستی ہیں ان میں وہ عدل کرتی ہیں اگرچہ ان کا نظریہ عدل محدود ہوتا ہے۔ مادی ترقی ، مادی بہبود کا ایک معیار انہوں نے قائم کر رکھا ہے اگرچہ وہ محدود و نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ یہ اقوام یہ مہلت محض ان کی اس محدود و خیر کی وجہ سے پا رہی ہیں۔ جب بھی یہ خیر ختم ہوجائے گا ، یہ اقوام ختم ہوجائیں گی۔ حقیقت یہی ہے کہ سنت الٰہیہ میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ ہر امت اور ہر قوم کے زوال کے لئے ایک وقت مقرر اور یہ اپنے وقت پر ہوتا ہے۔ ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون (١٥ : ٥) ” کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے چھوت سکتی ہے “۔ کسی قوم کو اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اللہ کی گرفت نے ابھی تک اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے۔ یہاں سیاق کلام میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے برے رویے کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، حالانکہ رسول نے ان کے سامنے ایک کتاب مبین رکھ دی ہے۔ یہ ان کو جگاتی سے اور ان کو بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ ان کو نئی روشنی دیتی ہے ، لیکن وہ ہیں کہ الٹا مذاق کرتے ہیں اور گمراہی میں حد سے گزر رہے ہیں۔ وقالوا یایھا الذی۔۔۔۔۔۔ لمجنون (٦) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔۔ من الصدقین (٧) (١٥ : ٦- ٧) لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے ، تو یقیناً دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ “ انہوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ فقرہ جو کہا۔ یا یھا الذی نزل علیہ الذکر ” اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے “ بطور مذاق استعمال کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ درحقیقت وحی رسالت کے منکر تھے ۔ یہ فقرہ وہ بطور تحکم اور استہزا استعمال کر رہے تھے۔ نیز ان کا رویہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اس قدر گستاخانہ تھا کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے انک لمجنون (١٥ : ٦) ” تم یقیناً دیوانہ ہو “ کے الفاظ استعمال کئے اور وہ آپ کو مجنون اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کو مسلسل دعوت دے رہے تھے اور یہ لوگ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ بھی غایت درجہ مذاق کے طور پر کرتے تھے۔ لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین (١٥ : ٧) ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے “۔ منکرین کی جانب سے نزول ملائکہ کا مطالبہ اس سورة اور دوسری سورتوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ آپ سے بھی اور دوسرے رسولوں سے بھی یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے اور یہ مطالبہ جن لوگوں کی طرف سے ہوا ہے انہوں نے نہ انسان کو پہچانا ہے اور نہ ان کے دل میں اس کی اصل قدر و قیمت اجاگر ہے کہ اللہ نے مقام نبوت انسان کو عطا کیا ہے اور انسان میں سے برگزیدہ لوگوں کو بطور نبی مبعوث فرمایا ہے۔ قرآن کریم اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ فرشتوں کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ رسولوں کی معاونت تبلیغ میں کریں۔ فرشتے رسولوں کی معاونت میں اس وقت آتے ہیں جب تبلیغ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور سنت الٰہیہ کے مطابق فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اب مکذبین کو ہلاک کرنا ہے۔ ان کی مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ اس وقت جب فرشتے آتے ہیں تو مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (١٥ : ٨) “ اور ہم فرشتوں کو یوں نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ کیا یہ لوگ فرشتوں کا ایسا نزول چاہتے ہیں اور اسی کو مطالبہ کرتے ہیں ؟ ان کے اس مطالبے کی خطرناکی کے بیان کے بعد ، ان کے سامنے ہدایت اور عقل و تدبر کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت پیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتے سچائی کے ساتھ آتے ہیں اور وہ احقاق حق کر کے جاتے ہیں اور مکذبین اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں نابود کردیا جائے۔ چناچہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو وہ اس آخری سچے فیصلے کے نفاذ (Exicution) کے لئے آتے ہیں۔ ان پر جو فرشتے نازل نہیں ہو رہے تو اس میں ان کی خیر ہے لیکن وہ اپنی خیر کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ فرشتوں کے بجائے ان پر ذکر و فکر والی آیات نازل فرما رہے ہیں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ تفکر و تدبر کام لیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔ ان کے لئے فرشتوں کا نازل نہ ہونا بہتر ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (١٥ : ٩) “ اس ذکر ہم نے نازل کیا ہے ، اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔ لہٰذا ان کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ یہ قبول کرلیں۔ اب یہ آخری نصیحت تو محفوظ ہے اور ابد الآباد تک باقی رہنے والی ہے۔ اس میں حق ہے ، باطل کا کوئی آمیزہ نہیں ہے۔ اس میں اب کوئی تحریف نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ آخری نصیحت زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ وہ حق کے طالب ہوں اور ملائکہ کے نزول کا غلط مطالبہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ نے ابھی فرشتے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ ابھی ان کی خیرت چاہتا ہے اس لیے انہیں ہلاک کرنے والے فرشتے بھیجنے کے بجائے اس نے قرآن محفوظ بھیجا۔ اب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اپنی جگہ تسلی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کا استقبال تکذیب اور استہزاء سے کیا گیا ہو ، پہلی اقوام میں بھی رسول آتے رہے ہیں اور ان کو بھی آپ ؐ کی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا بھی آپ ہی کی طرح مذاق اڑایا گیا۔ ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔ الاولین (١٠) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (١١) (١٥ : ١٠- ١١) “ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو ، اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو ”۔ بتایا جاتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح انبیائے سابقین کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ ان کے مخاطبین نے سلوک کیا بعینہ ایسا ہی سلوک آپ کی پیش کردہ دعوت کے ساتھ یہ مکذبین کر رہے ہیں اور اسی طرح ہم اس دعوت کو ان کے دلوں میں چلاتے ہیں جبکہ یہ دل نہ اس پر غور کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی قبولیت کے لئے تیار ہیں۔ کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین (١٢) لا یومنون ۔۔۔۔ الاولین (١٣) (١٥ : ١٢- ١٣) “ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے ”۔ یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے غوروفکر کے لئے رسولوں نے دلائل پیش نہیں کیے ہوتے بلکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ عناد اور مکابرو میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور ایمان کی مخالفت میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ یہاں ان کی ذلت آمیز ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ بھی پیش کردیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے خلاف حد درجہ بغض اور حسد میں مبتلا ہیں۔ ولو فتحنا ۔۔۔۔۔ یعرجون (١٤) لقالوا انما۔۔۔۔۔۔ مسحورون (١٥) (١٥ : ١٤- ١٥) “ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے ”۔ مجرد یہ تصور کہ انسان آسمانوں میں بلند ہو رہا ہے ، یہ بھی ایک قسم کا دروازہ کھولنا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے اجسام کے ساتھ عملاً چڑھیں ، دیکھیں کہ آسمانوں کے دروازے ان کے سامنے مفتوح ہیں۔ وہ دیکھیں کہ وہ چڑھ رہے ہیں اور ان کے حواس مدرکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے ۔ اور وہ مشاہدہ کر رہے ہوں تو پھر بھی اپنی یہ ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے اور کہیں گے ، نہیں نہیں ، یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں محض تخیل ہے۔ بلکہ ہم پر صریح جادو کردیا گیا ہے۔ یہ جو کچھ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ، محسوس کر رہے ہیں ، یہ سب کچھ جادوگری ہے۔ یوں قرآن مجید ان کی ہٹ دھرمی کی یہ نہایت ہی انتہائی تصویر کشی کرتا ہے ، جس سے ان کا گھٹیا مفاد ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مجادلہ کرنا نہایت ہی لغویات ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس دلائل ایمان کی کمی نہیں اور یہ نہی ہے کہ وہ نزول ملائکہ کا مطالبہ کر رہے اور وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ اگر نزول ملائکہ کے بجائے خود ان کے لئے آسمانوں میں پر وز کا انتظام کردیا جائے ، تو بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ، یہ پرلے درجے کے ہٹ دھرم ہیں۔ لا پرواہ ، بےحیا اور دیدہ دلیر ہیں۔ حق اگر روز روشن کی طرح بھی آجائے تو بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں۔ یہاں قرآن مجید نے انسانوں میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ اس قدر بری تصویر کشی کہ انسان کو اس سے گھن آنے لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کے روپ کو نہایت ہی حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ ٭٭٭ اب ہٹ دھرمی کے منظر سے ہم کائناتی دلائل و نشانات کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تو صرف آسمانوں سے متعلق تھا ، اب پوری کائنات ہمارے سامنے ہے۔ پہلے آسمانوں کو لیا جاتا ہے ، پھر زمین کے بعض مظاہر سامنے لائے جاتے ہیں۔ ایسی ہواؤں کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو بارآلود بادلوں سے لدی ہوئی ہیں ، پھر اس کرۂ ارض پر موت وحیات کی بو قلمونیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے بعد حشر ونشر کے بعض مناظر۔ ان تمام نشانات و شواہد کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ ان سے اوپر چڑھ بھی جائیں تو بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے اور یہ کہیں گے ، کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ، نظر بندی کردی گئی ہے ، ہم مسحور ہوگئے ہیں۔ اب ذرا ان تمام مناظر و مشاہد کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ یہ اصل مقصد کے لیے توطئہ و تمہید ہے اور اس میں ترغیب دلائی گئی ہے کہ اس سورت میں جو بیان ہوگا وہ معمولی باتیں نہیں ہوں گی، وہ بہت ضوری اور اہم ہوں گی اس لیے ان کو غور سے سننا۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا جس سورت کی ابتداء میں ” تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتَابِ “ وارد ہو وہاں الکتاب بمعنی المکتوب سے وہ سورت مراد ہوگی یا قرآن اور اگر یہ الفاظ کسی سورت کے درمیان آجائیں تو اس سے بقرینہ مقام تورات و انجیل یا دیگر کتب سماویہ یا قرآن مراد ہوگا۔ قاعدہ تو یہی ہے لیکن سورة حجر کی ابتداء میں الکتاب کے ساتھ لفظ قرآن بھی آیا ہے اس لیے الکتاب سے تورات و انجیل مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کے بعض بیانات پہلی کتابوں میں نازل ہوچکے ہیں مثلاً تخویف دنیوی کے پہلے تین نمونے اور کچھ باتیں ایسی ہیں جن کا ذکر کتب سابقہ میں نہیں آیا اور وہ صرف قرآن ہی میں مذکور ہیں مثلاً تخویف دنیوی کے آخری دو نمونے۔ ” قال مجاھد و قتادۃ الکتاب ھنا ما نزل من الکتب قبل القران الخ “ (روح ج 5 ص 444) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 ۔ الر قف یہ سورت ایک کامل کتاب اور قرآن واضح کی آیتیں ہیں ۔ قرآن کریم واضح فرمایا کتاب کو یعنی اس کے مسائل اور دلائل اور اس کا طرز بیان نہایت صاف اور واضح ہے اور جو کتاب کامل ہے اسی کا نام قرآن مبین ہے۔ ایک ہی چیز کی دو صفتیں ہیں کتاب کامل ہونا اور قرآن مبین ہونا ۔