Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 51

سورة الحجر

وَ نَبِّئۡہُمۡ عَنۡ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۵۱﴾

And inform them about the guests of Abraham,

انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا ( بھی ) حال سنادو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Guests of Ibrahim and their Good News of a Son for Him Allah says: وَنَبِّيْهُمْ عَن ... And tell them about, Allah is saying: `Tell them, O Muhammad, about the story of, ... ضَيْفِ إِبْراَهِيمَ إِذْ .... the guests of Ibrahim. When, ... دَخَلُواْ عَلَيْهِ فَقَالُواْ سَلمًا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ they entered upon him, and said: "Salaman (peace!)."

فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے زور اور سفر ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے ۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا ۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا ۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں ، پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی ۔ جیسے کہ سورہ ھود میں ہے ۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی ۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ میں مایوس نہیں ہوں ۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] سیدنا ابراہیم کے مہمان فرشتے :۔ یہ مہمان فرشتے تھے جو اصل میں تو لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے جارہے تھے کہ ان کی بستی کو تباہ کر ڈالیں۔ پہلے وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف آئے اور انھیں مہمان اس لیے کہا گیا کہ وہ اجنبی صورت میں آئے تھے وہ انھیں ایک بیٹے یعنی سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دینے آئے تھے۔ یہ واقعہ پہلے سورة ہود کی آیت نمبر ٦٩ تا ٧٤ میں بھی گزر چکا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ : ” ضَيْفِ “ یہ ” ضَافَ یَضِیْفُ “ کا مصدر ہے، جو مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے، مہمان چونکہ کسی کی طرف مائل ہو کر ہی آتا ہے، اس لیے اسے ” ضَیْفٌ“ کہتے ہیں، یہ واحد، تثنیہ اور جمع سبھی کے لیے ” ضَیْفٌ“ واحد ہی آتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں جمع کے لیے آیا ہے بعض لوگ اس کی جمع ” اَضْیَافٌ“ یا ” ضُیُوْفٌ“ بھی استعمال کرتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر : اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان (لوگوں) کو ابراہم (علیہ السلام) کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم (علیہ السلام) ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے کہ ہم تو تم سے خائف ہیں انہوں نے کہا کہ آپ خائف نہ ہوں کیونکہ ہم (فرشتے ہیں منجانب اللہ ایک بشارت لے کر آئے ہیں اور) آپ کو ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جو بڑا عالم ہوگا (مطلب یہ کہ نبی ہوگا کیونکہ آدمیوں میں سب سے زیادہ علم انبیاء (علیہم السلام) کو ہوتا ہے مراد اس فرزند سے اسحاق (علیہ السلام) ہیں اور دوسری آیتوں میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت بھی مذکور ہے) ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے کہ کیا تم مجھ کو اس حالت میں (فرزند کی) بشارت دیتے ہو کہ مجھ پر بوڑھاپا آ گیا سو (ایسی حالت میں مجھ کو) کس چیز کی بشارت دیتے ہو (مطلب یہ کہ یہ امر فی نفسہ عجیب ہے نہ یہ کہ قدرت سے بعید ہے) وہ (فرشتے) بولے کہ ہم آپ کو امر واقعی کی بشارت دیتے ہیں (یعنی تولد فرزند یقینا ہونے والا ہے) سو آپ ناامید نہ ہوں (یعنی اپنے بڑھاپے پر نظر نہ کیجئے کہ ایسے اسباب عادیہ پر نظر کرنے سے وساوس ناامیدی کے غالب ہوتے ہیں) ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے بجز گمراہ لوگوں کے (یعنی میں نبی ہو کر گمراہوں کی صفت سے کب موصوف ہوسکتا ہوں محض مقصود اس امر کا عجیب ہونا ہے باقی اللہ کا وعدہ سچا اور مجھ کو امید سے بڑھ کر اس کا کامل یقین ہے بعد اس کے فراست نبوت سے آپ کو معلوم ہوا کہ ان ملائکہ کے آنے سے علاوہ بشارت کے اور بھی کوئی مہم عظیم مقصود ہے اس لئے) فرمانے لگے کہ (جب قرائن سے مجھ کو یہ معلوم ہوگیا کہ تمہارے آنے کا کچھ اور بھی مقصود ہے) تو (یہ بتلاؤ کہ) اب تم کو کیا مہم در پیش ہے اے فرشتو ! فرشتوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف (ان کو سزا دینے کے لئے) بھیجے گئے ہیں (مراد قوم لوط ہے) مگر لوط (علیہ السلام) کا خاندان کہ ہم ان سب کو (عذاب سے) بچا لیں گے (یعنی ان کو بچنے کا طریقہ بتلا دیں گے کہ ان مجرموں سے علیحدہ ہوجائیں) بجر ان کی (یعنی لوط (علیہ السلام) کی) بی بی کے کہ اس کی نسبت ہم نے تجویز کر رکھا ہے کہ وہ ضرور اسی قوم مجرم میں رہ جائے گی (اور ان کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوگی) پھر جب وہ فرشتے خاندان لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے (تو چونکہ بشکل بشر تھے اس لئے) کہنے لگے تم تو اجنبی لوگوں کو پریشان کیا کرتے ہیں) انہوں نے کہا نہیں (ہم آدمی نہیں) بلکہ ہم (فرشتے ہیں) آپ کے پاس وہ چیز (یعنی وہ عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے اور ہم آپ کے پاس یقینی ہونے والی چیز (یعنی عذاب) لے کر آئے ہیں اور ہم (اس خبر دینے میں) بالکل سچے ہیں سو آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر (یہاں سے) چلے جائیے اور آپ سب کے پیچھے ہو لیجئے (تاکہ کوئی رہ نہ جائے یا لوٹ نہ جائے اور آپ کے رعب اور ہیبت کی وجہ سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے جس کی ممانعت کردی گئی ہو) اور تم میں سے کوئی پیچھا پھر کر بھی نہ دیکھے (یعنی سب جلدی چلے جائیں) اور جس جگہ (جانے کا) تم کو حکم ہوا ہے اس طرف سب کے سب چلے جاؤ (تفسیر در منثور میں بحوالہ سدی نقل کیا ہے کہ وہ جگہ ملک شام ہے جس کی طرف ہجرت کرنے کا ان حضرات کو حکم دیا گیا تھا) اور ہم نے (ان فرشتوں کے واسطے سے) لوط (علیہ السلام) کے پاس یہ حکم بھیجا کہ صبح ہوتے ہی بالکل ان کی جڑ کٹ جائے گی (یعنی بالکل ہلاک و برباد ہوجائیں گے فرشتوں کی یہ گفتگو وقوع کے اعتبار سے اس قصہ بیان کرنے سے جو بات مقصود ہے یعنی نافرمانوں پر عذاب اور فرمانبرداروں کی نجات و کامیابی وہ پہلے ہی اہتمام کے ساتھ معلوم ہوجائے اگلا قصہ یہ ہے) اور شہر کے لوگ (یہ خبر سن کر کہ لوط (علیہ السلام) کے یہاں حسین لڑکے آئے ہیں) خوب خوشیاں مناتے ہوئے (اپنی فاسد نیت اور برے ارادہ کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کے گھر پہونچے) لوط (علیہ السلام) نے (جو اب تک ان کو آدمی اور اپنا مہمان ہی سمجھ رہے تھے ان کے فاسد ارادوں کا احساس کر کے) فرمایا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں (ان کو پریشان کر کے) مجھ کو (عام لوگوں میں) رسوا نہ کرو (کیونکہ مہمان کی توہین میزبان کی توہین ہوتی ہے اگر تمہیں ان پردیسیوں پر رحم نہیں آتا تو کم از کم میرا خیال کرو کہ میں تمہاری بستی کا رہنے والا ہوں اس کے علاوہ جو ارادہ تم کر رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب کا سبب ہے) تم اللہ سے ڈرو اور مجھ کو (ان مہمانوں کی نظر میں) رسوا مت کرو (کہ مہمان یہ سمجھیں گے کہ اپنی بستی کے لوگوں میں بھی ان کی کوئی وقعت نہیں) وہ کہنے لگے (کہ یہ رسوائی ہماری طرف سے نہیں آپ نے خود اپنے ہاتھوں خریدی ہے کہ ان کو مہمان بنایا) کیا ہم آپ کو دنیا بھر کے لوگوں (کو اپنا مہمان بنانے) سے (بارہا) منع نہیں کرچکے (نہ آپ ان کو مہمان بناتے نہ اس رسوائی کی نوبت آتی) لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (یہ تو بتلاؤ کہ اس بیہودہ حرکت کی کیا ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہمیں کسی کو مہمان بنانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی قضاء شہوت کے طبعی تقاضے کے لئے) یہ میری (بہو) بیٹیاں (جو تمہارے گھروں میں ہیں) موجود ہیں اگر تم میرا کہنا مانو (تو شریفانہ طور پر اپنی عورتوں سے اپنا مطلب پورا کرو مگر وہ کس کی سنتے تھے) آپ کی جان کی قسم اپنی مستی میں مدہوش تھے پس سورج نکلتے نکلتے ان کو سخت آواز نے آ دبایا (یہ ترجمہ مشرقین کا ہے اس سے پہلے جو مصبحین کا لفظ آیا ہے جس کے معنی صبح ہوتے ہوتے کے ہیں ان دونوں کا اجتماع اس اعتبار سے ممکن ہے کہ صبح سے ابتدا ہوئی اور اشراق تک خاتمہ ہوا) پھر (اس سخت آواز کے بعد) ہم نے ان بستیوں (کی زمین کو الٹ کر ان) کا اوپر کا تختہ (تو) نیچے کردیا (اور نیچے کا تختہ اوپر کردیا) اور ان لوگوں پر کنکر کے پتھر برسانا شروع کئے اس واقعہ میں بہت سے نشانات ہیں اہل بصیرت کے لئے (مثلا ایک تو یہ کہ برے فعل کا نتیجہ آخر کار برا ہوتا ہے اگر کچھ دن کی مہلت اور ڈھیل مل جائے تو اس سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے دوسرے یہ کہ دائمی اور باقی رہنے والی راحت وعزت صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی اطاعت پر موقوف ہے تیسرے یہ کہ اللہ کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کر کے فریب میں مبتلا نہ ہوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے وہ ظاہری اسباب کے خلاف بھی جو چاہے کرسکتا ہے وغیر ذلک۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ 51۝ۘ ضيف والضَّيْفُ : من مال إليك نازلا بك، وصارت الضِّيَافَةُ متعارفة في القری، وأصل الضَّيْفِ مصدرٌ ، ولذلک استوی فيه الواحد والجمع في عامّة کلامهم، وقد يجمع فيقال : أَضْيَافٌ ، وضُيُوفٌ ، وضِيفَانٌ. قال تعالی: ضَيْفِ إِبْراهِيمَ [ الحجر/ 51] ( ض ی ف ) الضیف الضیف ۔ اصل میں اسے کہتے ہیں کو تمہارے پاس ٹھہرنے کے لئے تمہاری طرف مائل ہو مگر عرف مین ضیافت مہمان نوازی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اصل میں چونکہ یہ مصدر ہے اس لئے عام طور پر واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی اس کی جمع اضیاف وضیوف وضیفاف بھی آجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ [ الحجر/ 51] بھلا تمہارے اس ابراھیم کے مہمانوں کی خبر پہنچتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١۔ ٥٢) آپ ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی یعنی حضرت جبریل (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ جو بارہ فرشتے اور آئے تھے ان کی اطلاع دیجیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر انکو سلام کیا جب انہوں نے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کے ہاں کھانا نہیں کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہم تم سے خوف زدہ ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ (وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ ) یہ واقعہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہم سورة ہود کے ساتویں رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30. The story of Prophets Abraham and Lot (peace be upon them) has been related to tell the disbelievers of Makkah how angels come down with truth. This was in response to their demand: Why do you not bring angels before us, if what you say is true? (Ayat 7). Then, only this brief answer was given: We do not send down angels in this way. When they come down, they come down with truth (Ayat 8). Now these two events are cited as two concrete forms of truth with which the angels came, as if to ask the disbelievers: Now decide for yourselves which of these two forms of truth would you want angels to bring to you. It is obvious that you do not deserve that truth which was sent to Prophet Abraham (peace be upon him). Do you then desire that truth which the angels brought to the people of Prophet Lot (peace be upon him)?

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :30 یہاں حضرت ابراہیم اور ان کے بعد متصلا قوم لوط کا قصہ جس غرض کے لیے سنایا جا رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس سورۃ کی ابتدائی آیات کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ۔ آیات ۷ -۸ میں کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ ” اگر تم سچے نبی ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کے لے کیوں نہیں آتے؟ “ اس کا مختصر جواب وہاں صرف اس قدر دے کر چھوڑ دیا گیا تھا کہ ” فرشتوں کو ہم یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے ، انہیں تو ہم جب بھیجتے ہیں حق کے ساتھ ہی بھیجتے ہیں“ ۔ اب اس کا مفصل جواب یہاں ان دونوں قصوں کے پیرائے میں دیا جا رہا ہے ۔ یہاں انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ایک ” حق “ تو وہ ہے جسے لے کر فرشتے ابراہیم کے پاس آئے تھے ، اور دوسرا حق وہ ہے جسے لے کر وہ قوم لوط پر پہنچے تھے ۔ اب تم خود دیکھ لو کہ تمہارے پاس ان میں سے کونسا حق لے کر فرشتے آسکتے ہیں ۔ ابراہیم والے حق کے لائق تو ظاہر ہے کہ تم نہیں ہو ۔ اب کیا اس حق کے ساتھ فرشتوں کو بلوانا چاہتے ہو جسے لے کر وہ قوم لوط کے ہاں نازل ہو ئے تھے؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے تھے۔ اُوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت بھی بہت وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہٰذا ایک اِنسان کو نہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہئے، اور نہ اس کے عذاب سے بے فکر ہو کر بیٹھنا چاہئے۔ اس مناسبت سے اُن مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اِس واقعے میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اﷲ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورۂ ہود آیت (۱۱:۶۹ تا ۸۳) میں گذر چکا ہے۔ اس کے مختلف حصوں کی وضاحت ہم نے وہاں کی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥١۔ ٥٦۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے یہ قصہ سورت ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف جب نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر چلے ہیں اور تمہیں اولاد کی خوشی سنانے آئے ہیں تمہارے گھر میں ایک ہوشیار لڑکا اسحاق پیدا ہوگا اور پھر تمہارا پوتا اسحاق کا بیٹا یعقوب۔ اس کے جواب میں ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ میں بوڑھا ہوں قریب قریب سو برس کی عمر آن پہنچی اور میری بیوی بھی نوے بانوے برس کی بوڑھی ہے اور بانجھ بھی ہے اس صورت میں اولاد کی کیا خوشی سناتے ہو یہ امر تو تعجبات سے ہے فرشتے بولے کہ یہ حق بات کی خوشی تم کو سنائی جارہی ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور یقینی اس کا ظہور ہوگا کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کبھی اس کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا اسے ہر طرح کی قدرت حاصل ہے اس کے نزدیک کیا دشوار ہے آپ اس خوشی سے ناامید نہ ہوں اللہ پاک نے تو اس بات پر بھی قادر ہے کہ بےماں باپ کے بھی لڑکا پیدا کر دے آپ کا عذر تو صرف بڑھاپا اور بانجھ ہوتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات سن کر جواب دیا کہ بیشک خدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اس کی رحمت سے تو گمراہ لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔ اس قصہ میں ایک قسم کا خوف اور اس کے ساتھ ہی خوشی بھی ہے اس لئے ذکر کیا کہ لوگ جان لیں کہ خدا کی عادت یوں ہی جاری ہے اور قصہ میں ایمان دار لوگوں کی نجات اور کفار کی ہلاکت کا ذکر ہے جس سے خداوند جل شانہ کا غفور رحیم اور اس کے عذاب کا سخت ہونا قریش کو سمجھایا گیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس قصہ میں اس بات کی شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب درد ناک ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ یہ فرشتے تھے جو مہمان بن کر حضرت ابراہیم کے پاس پہنچے اور پھر قوم لوط کو بلاک کرنے کے لئے سدوم میں پہنچ گئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا کردیتی ہے تب اس کی گرفت کی جاتی ہے۔ اللہ ہر آن اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے کے لئے اپنی رحمتیں بکھیرتا رہتا ہے۔ گزشتہ آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ میرے بندوں کو بتادیجیے کہ میں بہت مغفرت کرنے والا مہربان ہوں لیکن جب میں گرفت کرتا ہوں تو پھر مجھ سے کوئی اپنے آپ کو چھڑا نہیں سکتا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دو کیفیات کا ذکر فرمایا ہے۔ کچھ فرشتے خوبصورت انسانوں کی شکل میں حضرت ابراہیم کے پاس پہنچے۔ حضرت ابراہیم ان کے اجنبی چہروں سے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ہی گھر کے اندر تشریف لے گئے تاکہ جو کچھ میسر ہو وہ مہمانوں کی خدمت میں پیش کردیا جائے ۔ گھر میں بچھڑا تھا حضرت ابراہیم نے اس کو ذبح کیا اور بھنا ہوا گوشت لے کر مہمانوں کے پاس تشریف لائے تاکہ مہمان جی بھر کر کھانا کھا لیں۔ مگر حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں۔ اس زمانہ میں اگر کوئی اجنبی مہمان کھانے سے انکار کردیتا تو یہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ اس کے ارادے بظاہر اچھے نہیں ہیں۔ جب حضرت ابراہیم کے اصرار کے باوجود انہوں نے کھانے سے انکار کردیا تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ خوف پیدا ہونا قدرتی بات تھی کہ ان لوگوں کے آنے کا مقصد کیا ہے ؟ تب فرشتوں نے اپنے آپ کو حضرت ابراہیم پر ظاہر کردیا کہ وہ اللہ کے فرشتے ہیں جو ان کو (حضرت ابراہیم کو) حضرت اسحاق کی پیدائش کی خوش خبری دینے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے بےساختہ کہا کہ اس بڑھاپے میں اولاد کی خوش خبری کیسے ممکن ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ اے ابراہیم ہم نے جو کچھ خوش خبری دی ہے وہ برحق ہے اور آپ مایوس نہ ہوں کیونکہ اللہ کی رحمت سے مایوس تو صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو گمراہ ہیں پھر حضرت ابراہیم کے پوچھنے پر ان فرشتوں نے کہا کہ ہم قوط لوط جیسی مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ البتہ حضرت لوط کے گھر والوں کو نجات دینے کے لئے آئے ہیں لیکن ان کی وہ بیوی جو نافرمان ہے اور اللہ پر یقین نہیں رکھتی ان مجرمین کی ساتھی ہے وہ بھی اس قوم کے ساتھ رہ جائے گی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے۔ ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت ملاحظہ کر لیجیے : 1) ضعیف ابراہیم :- …… ابراہیم کے مہمان یعنی انہوں نے اپنے مہمانوں کے لئے کس قدر زبردست خلوص پیش کیا کہ ان کو سب سے پہلے اس بات کی فکر ہوگئی کہ یہ اجنبی مہمان ہیں قینا دور دراز سے آئے ہیں۔ بھوک پیاس سے نڈھال ہوں گے ہر بات سے پہلے ان کی مہمان داری میں لگ گئے۔ اپنے مہمانوں کی تواضح کے لئے خود ہی محنت و مشقت میں لگ گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اسی سنت انبیاء پر تھے کہ جب کوئی بھی مہمان آتا تو آپ اپنے دست مبارک سے اس کی خاطر تواضع میں کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ 2) جب وہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تو انہوں نے آتے ہی سلام کیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایات کی روشنی میں یہ اصول ملتا ہے کہ ہر آنے والا سب سے پہلے موجود لوگوں کو سلام کرے۔ اگر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوں تو جو کھڑے ہیں یا آنے والے ہیں وہ ان کو سلام کریں جو بیٹھے ہوئے ہیں۔ البتہ اگر کچھ لوگ تلاوت قرآن کریم یا نماز میں مشغول ہوں تو سلام نہیں کرنا چاہئے۔ 3) دشمن کا خوف طاری ہوجانا تقاضائے بشریت ہے۔ خوف پیدا ہونا بشریت یا نبوت کی شان کے خلاف نہیں ہے۔ چناچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار سے چھپ کر رات کی تاریکی میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کفار مکہ کی ایذا رسانیوں سے بچ کر غار ثور میں تین دن تک چھپے رہے اور اس کے بعد آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ وہاں سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ 4) اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے کوئی چیز بعید نہیں ہے۔ وہ انسانوں کی طرح وسائل کا محتاج نہیں ہے بغیر ماں اور باپ کے حضرت آدم کو پیدا فرمایا۔ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کو پیدا کیا، ایک سو دس سال کی عمر میں حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ جب اللہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کو کرنے کا حکم دیتا ہے اور وہ کام ہوجاتا ہے۔ 5) ایک مومن اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم نے تعجب سے کہا کہ اس بڑھاپے میں میرے گھر کیسے اولاد ہو سکتی ہے جبکہ میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے یعنی اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس پر فرشتوں نے عرض کیا کہ یہ اللہ کی رحمت اور اس کی طرف سے خوشخبری ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس کائنات کے نظام کو چلاتا ہے۔ مایوس تو صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو راہ پر نہ ہوں اس سے معلوم ہوا کہ ایک مومن کو امید کا دامن تھامے رہنا چاہئے۔ 6) فرشتے مجرم قوم کو تباہ و برباد کرنے اور اللہ کے حکم سے ان تمام لوگوں کو نجات دینے کے لئے آئے تھے جو حضرت لوط کے ماننے والے تھے ” آل “ سے مراد یہی لوگ ہیں۔ اسی طرح فرشتوں کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ حضرت لوط کے گھر والوں کو بھی اللہ کے عذاب سے دور رکھیں لیکن حضرت لوط کی بیوی ان نجات پانے والوں میں شامل نہیں ہوگی کیونکہ وہ مجرم قوم کی ساتھی ہے جس طرح وہ لوگ پیچھے رہیں گے اسی طرح حضرت لوط کی بیوی کا انجام بھی ان ہی کے ساتھ ہوگا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اصل چیز ایمان ہے کسی کا رشتہ دار ہونا نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ آیت میں رحمت کا بیان ہوا۔ اب اللہ کی رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانان گرامی کے ذکر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عذاب کا ذکر کیا۔ یہاں رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے جس کا پس منظر یہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری دینے والے ملائکہ حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے معمولی توقف کے بعد ان کی خدمت میں بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا۔ جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پریشانی دیکھتے ہوئے ملائکہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کی کہ آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قریب کھڑی ہوئی ان کی بیوی کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائی۔ جس پر بی بی صاحبہ نے بڑے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا میرے ہاں بیٹا جنم لے گا ؟ جبکہ میں بانجھ ہوں اور میرا خاوند بوڑھا ہوچکا ہے۔ یہ بات عجب معلوم ہوتی ہے۔ ملائکہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے ابراہیم کے اہل بیت ! کیا تم اللہ کی رحمت اور برکت پر تعجب کا اظہار کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی قابل تعریف اور بڑی عظمت والا ہے۔ ( ھود : ٦٩ تا ٧٣) یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنے مخا لفین کو ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا واقعہ سنائیں۔ جب انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش ہو کر سلام عرض کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا ہم تو آپ سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ مہمان ملائکہ نے عرض کیا ہم سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہم تو آپ کو ایک صاحب علم بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا یہ کیسی ہے ؟ میں تو بڑھاپے کی آخری دہلیز پر کھڑا ہوں۔ ملائکہ نے عرض کیا آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ابراہیم (علیہ السلام) فی الفور فرمانے لگے میں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں کیونکہ اس کی رحمت سے مایوس گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت پر پورا یقین رکھنے والے تھے لیکن اپنی اور اپنی رفیقۂ حیات کی عمر اور صحت کا خیال کرتے ہوئے خوشخبری پر تعجب کا اظہار فرمایا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے وسائل کی کمی اور نامساعد حالات کی بنا پر حقیقت کے بارے میں تعجب کا اظہار کرنا، اللہ کی رحمت پر مایوس ہونا نہیں ہے لہٰذا تعجب کا اظہار کرنا گناہ نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اظہار تفصیل کے لئے سوال کیا تھا ورنہ وہ تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔ نبی تو اسباب کی ناپیدگی کے باوجود اپنے رب کی رحمت پر بھرپور بھروسہ کرنے والا ہوتا ہے۔ دوسرا اس واقعہ میں یہ بتانا مقصود ہے اے اہل مکہ ! یہ حقیقت جان لو کہ تم فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے ہو کہ وہ آکر اس نبی کی تائید کریں تب ہم غور کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ یاد رکھو فرشتے یا تو کسی کے لئے رحمت لے کر آتے ہیں یا زحمت ! تم سوچ لو تم کس چیز کے مستحق ہو ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر اسباب کے سب کچھ کرسکتا ہے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں اولاد کے بظاہر اسباب نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بچے عنایت فرمائے۔ اسی طرح حالات نامساعد ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضرور بر ضرور سرفراز فرمائے گا۔ اللہ اسباب کا پابند نہیں اسباب اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٥١ تا ٥٦ جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے : فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔ قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (١٥ : ٥٣) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔ چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔ قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (١٥ : ٥٤) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا : قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (١٥ : ٥٥) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔ قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (١٥ : ٥٦) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔ اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ، ان سے خوفزدہ ہونا اور ان کو بیٹے کی بشارت دینا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر ہے، یہ مہمان اللہ جل شانہٗ کے بھیجے ہوئے فرشتے تھے جو اس لیے بھیجے گئے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دیں اور اس پر بھی مامور تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں، اس کا مفصل تذکرہ سورة ھود (ع ٧) میں گزر چکا ہے اور سورة ذاریات میں بھی مذکور ہے، اور سورة عنکبوت رکوع ٤ میں بھی ہے جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوگئے تو انہوں نے سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا (جیسا کہ سورة ھود اور سورة ذاریات میں تصریح ہے) یہ فرشتے چونکہ انسانوں کی صورتوں میں تھے اور اس سے پہلے ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی اس لیے اول تو یوں فرمایا کہ (قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ ) یعنی یہ حضرات ایسے ہیں جن سے کوئی جان پہچان نہیں، اور چونکہ انہیں انسان سمجھا تھا اس لیے ایک موٹا تازہ بچھڑا بھنا ہوا ضیافت کے طور پر ان کے سامنے لاکر رکھ دیا، وہ فرشتے تھے جو کھاتے پیتے نہیں ہیں اس لیے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے جب یہ ماجرا دیکھا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مزید توحش ہوا اور اپنے دل میں ان کی طرف سے ڈر محسوس کرنے لگے اور صرف دل میں ہی نہیں زبان سے بھی (اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ ) (بےشک ہم تم سے ڈر رہے ہیں) مہمانوں نے کہا کہ آپ ڈرئیے نہیں ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو صاحب علم ہوگا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر اس وقت زیادہ ہوچکی تھی خود بھی بوڑھے تھے اور ان کی بیوی بھی بوڑھی تھی جیسا کہ سورة ھود میں مذکر ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تعجب ہوا اور فرشتوں سے فرمایا کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں مجھے اس حالت میں بیٹے کی خوشخبری دے رہے ہو یہ کیسی بشارت دے رہے ہو اس بشارت کا ظہور کس طرح ہوگا چونکہ بات اس انداز سے فرمائی تھی جس میں استفہام انکاری کی جھلک تھی اس لیے فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہم نے آپ کو امر واقعی کی بشارت دی ہے (ظاہری اسباب عادیہ کے اعتبار سے اچنبھے کی سی بات ہے لیکن جس نے بشارت بھیجی ہے اس کے لیے کچھ مشکل نہیں) لہٰذا آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوجائیں جو امید نہیں رکھتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے نا امیدی کے طور پر میرا سوال نہیں بلکہ اس اسباب ظاہرہ کے اعتبار سے کچھ عجیب سا معلوم ہو رہا ہے اس لیے یہ سوال زبان پر آگیا کہ اب اس حالت میں اولاد کس طرح ہوگی یہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بعد ان کے بیٹے یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں تھی جیسا کہ سورة ھود میں مذکور ہے سورة صافات میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ جل شانہ سے دعا کی تھی کہ (رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (کہ اے میرے رب مجھے صالحین میں سے ایک فرزند عطا فرما دے) اللہ نے فرمایا (فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ ) (کہ ہم نے انہیں حلم والے فرزند کی بشارت دی) بعض مفسرین نے فرمایا کہ سورة صافات کی مذکورہ آیت میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری دی ہے اور سورة ھود اور سورة حجر اور سورة ذاریات میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری ہے اس پر مزید بحث انشاء اللہ تعالیٰ سورة صافات کی تفسیر میں آئے گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ یہ ابتداء سورت کے ساتھ متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں فرمایا مسئلہ مان لو ورنہ میرا عذاب آجائے گا اور معاندین امم سابقہ کی طرح پچھتاؤ گے اب یہاں سے تخویف دنیوی کے پانچ نمونے بیان کیے جا رہے ہیں تین امم سابقہ سے اور دو مشرکین مکہ سے۔ یہ نمونہ اول کی تمہید ہے۔ ” قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ “ سے پہلے ادماج ہے یعنی فرشتوں نے آکر سلام کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فوراً اٹھ کر اندر چلے گئے اور مہمانوں کے لیے بچھڑا ذبح کر کے اور تل کرلے آئے جب دیکھا کہ کھانے کے لیے وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو فرمایا ہم تو تم سے ڈر رہے ہیں الخ جیسا کہ مسلسل قصہ سورة اور ذاریات وگیرہ میں مذکور ہے۔ القصہ فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو فرزند کی خوشخبری دی تو اس پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ اس بڑھاپے میں فرزند ؟ ” قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بِالْحَقِّ الخ “ فرشتوں نے کہا ہم آپ کو پختہ بات کی خوشخبری دے رہے ہیں اور ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

51 ۔ اور اے پیغمبر آپ ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال بھی سنادیجئے اور ان کے واقعہ کی خبر بھی ان کو دے دیجئے۔