Surat ul Hijir
Surah: 15
Verse: 78
سورة الحجر
وَ اِنۡ کَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾
And the companions of the thicket were [also] wrongdoers.
ایک بستی کے رہنے والے بھی بڑے ظالم تھے ۔
وَ اِنۡ کَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾
And the companions of the thicket were [also] wrongdoers.
ایک بستی کے رہنے والے بھی بڑے ظالم تھے ۔
The Destruction of the Dwellers of Al-Aykah, the People of Shu`ayb Allah tells; وَإِن كَانَ أَصْحَابُ الاَيْكَةِ لَظَالِمِينَ فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُّبِينٍ
اصحاب ایکہ کا المناک انجام اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے ۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو ۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی ۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا ۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الہی آیا ۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ۔
78۔ 1 أیکَہ گھنے درخت کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں گھنے درخت ہونگے۔ اس لئے انھیں ( اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ ) 15 ۔ الحجر :78) (بن یا جنگل والے) کہا گیا۔ مراد اس سے قوم شعیب ہے اور ان کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہے اور ان کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان قوم لوط کی بستیوں کے قریب ہی تھا۔ اسے مدین کہا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا اور اسی کے نام پر بستی کا نام پڑگیا تھا۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، رہزنی ان کا شیوہ اور کم تولنا اور کم ناپنا ان کا وطیرہ تھا، ان پر جب عذاب آیا ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوگیا پھر چنگھاڑ اور بھو نچال نے مل کر ان کو ہلاک کردیا۔
[٤٠] اصحاب الایکہ کون تھے ؟ یعنی بن کے رہن والے۔ یعنی ایسی قوم جو درختوں کے ذخیرہ کے پاس رہتی تھی اور یہ مدین کے پاس ہی تھے اور ان کی طرف بھی شعیب ہی مبعوث ہوئے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں تھیں اور بعض کے نزدیک ایک ہی قوم تھی۔ ان کا جرم شرک کے علاوہ تجارتی بددیانتیاں نیز ناپ تول میں کمی بیشی کرنا تھا۔ ان کا حال پہلے سورة اعراف کی آیت ٨٥ میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ ۔۔ : یہ ” اِنْ “ اصل میں ”إِنَّ “ تھا، اس کا اسم ضمیر شان ” ہٗ “ محذوف ہے، اس کی دلیل اور سبب وہ لام ہے جو ” ظَالِمِیْنَ “ پر آیا ہے، جو ” کَانَ “ کی خبر ہے۔ ” اَلْأَیْکُ “ اسم جنس ہے، درختوں کے جھنڈ، زیادہ ہوں یا ایک، جیسے ” تَمْرٌ“ اسم جنس ہے۔ تاء وحدۃ کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ” الْاَيْكَةِ “ کا معنی ہے ایک جھنڈ، جیسے ” تَمَرْۃٌ“ ایک کھجور۔ 3 بہت سے علماء کا کہنا ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قبیلہ تھا اور کئی مفسرین انھیں الگ الگ قوم شمار فرماتے ہیں۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ وہ شرک میں گرفتار تھے، ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے، راہ چلتے مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ ان دونوں کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا گیا، تاکہ وہ ظلم کی ان تمام صورتوں سے باز آجائیں۔ مدین والوں کی تفصیل سورة ہود (٨٤ تا ٩٥) میں ہے اور اصحاب الایکہ کی تفصیل سورة شعراء ( ١٧٦ تا ١٩١) میں ہے۔ بعض کے مطابق اصحاب مدین اسی قوم کے شہری لوگ تھے اور اصحاب الایکہ انھی کے باہر جنگل میں رہنے والے لوگ تھے۔
Commentary Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu&ayb (علیہ السلام) was sent to the other. In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir: اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً Madyan and the people of Aikah are two peoples. Allah Ta` ala sent Shu&ayb to them. And Al-Hijr is a valley situated in between Hijaz and Syria. It was in¬habited by the people of Thamud. A Brief Explanation Described at the beginning of the Surah was the hostility of the disbe¬lievers of Makkah against the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which also carried words of comfort for him briefly. Now, at the end of the Surah, more words of comfort appear to mollify his concern about their grudge and hostility. Here, he is being asked not to grieve over their hostile opposition because there is a day when all scores will be settled, and that is the day of Judgment, and it is bound to come as he has been told. Then, there is the fact that Allah did not create the heavens and the earth and whatev¬er is there in between them but with truth and wisdom. The wise consid-eration behind this creation is that people should believe in the existence of the maker of the universe, attest to His Oneness and supremacy and obey His injunctions. Also present there is the consequence of not doing so, after the argument of Allah stands established, that the defaulter be punished. Since this promised punishment does not seem to come in full right here in this mortal world, it has to be somewhere else. For that, the time is fixed, the time of the Qiyamah, the Day of Judgment. And this Hour is sure to come. Everyone will be taken care of there. This being the wise arrangement of things, let him not grieve. The better course for him is to overlook their wicked behaviour in a gracious manner, that is, neither pay attention to their behavior nor complain about it. The reason is that his Lord is great as Creator and great as the Master Knower as well. He knows his patience and fortitude and He knows the evil mechanizations of his enemies too. Therefore, He is to exact the full return from them of what they have been doing.
خلاصہ تفسیر : قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر : اور بن والے (یعنی شعیب (علیہ السلام) کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح (علیہ السلام) کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے رہے اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے تھے کہ (ان میں سب آفات سے) امن میں رہیں سو ان کو صبح کے وقت (خواہ اول ہی صبح میں یا دن چڑھے علی الاحتمالین) آواز سخت نے آپکڑا سو ان کے (دنیوی) ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے (ان ہی مستحکم گھروں میں عذاب سے کام تمام ہوگیا اس آفت سے ان کے گھروں نے نہ بچایا بلکہ اس آفت کا ان کو احتمال بھی نہ تھا اور اگر ہوتا بھی تو کیا کرتے) معارف و مسائل : آیکہ بن یعنی گھنے جنگل کو کہتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ مدین کے پاس ایک بن تھا اس لئے آیکہ اصحاب مدین ہی کا لقب ہے بعض نے کہا ہے کہ اصحاب آیکہ اور اصحاب مدین دو علیحدہ علیحدہ قومیں تھیں ایک قوم کی ہلاکت کے بعد شعیب (علیہ السلام) دوسری قوم کی طرف مبعوث ہوئے تفسیر روح المعانی میں ابن عساکر کے حوالہ سے یہ مرفوع حدیث نقل کی گئی ہے کہ (ان مدین واصحاب الایکۃ امتان بعث اللہ تعالیٰ الہیما شعیبا واللہ اعلم۔ ) اور حجر ایک وادی ہے جو حجاز وشام کے درمیان واقع ہے اس میں قوم ثمود آباد تھی۔ شروع سورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار مکہ کو جو شدید عناد و مخالفت تھی اس کا بیان تھا اس کے ساتھ اجمالا آپ کی تسلی کا مضمون بھی ذکر کیا تھا اب ختم سورت پر اسی عناد و مخالفت کے بارے میں آپ کی تسلی کے لئے تفصیلی مضمون بیان کیا جارہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے بقیہ خلاصہ تفسیر : اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان لوگوں کے عناد و خلاف سے غم نہ کیجئے کیونکہ اس کا ایک روز فیصلہ ہونے والا ہے اور وہ روز قیامت ہے جس کی آمد کے متعلق ہم آپ سے تذکرہ کرتے ہیں کہ) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیانی چیزوں کو بغیر مصلحت کے پیدا نہیں کیا (بلکہ اس مصلحت سے پیدا کیا کہ ان کو دیکھ کر صانع عالم کے وجود اور وحدت و عظمت پر استدلال کرکے اس کے احکام کی اطاعت کریں اور بعد اقامت اس حجت کے جو ایسا نہ کرے وہ معذب ہو) اور) دنیا میں پورا عذاب ہوتا نہیں تو اور کہیں ہونا چاہئے اس کے لئے قیامت مقرر ہے پس) ضرور قیامت آنے والی ہے (وہاں سب کو بھگتایا جائے گا) سو آپ (کچھ غم نہ کیجئے بلکہ) خوبی کے ساتھ (ان کی شرارتوں سے) درگذر کیجئے (درگذر کا مطلب یہ ہے کہ اس غم میں نہ پڑئیے اس کا خیال نہ کیجئے اور خوبی یہ کہ شکوہ و شکایت بھی نہ کیجئے کیونکہ) بلاشبہ آپ کا رب (چونکہ) بڑا خالق (ہے اس سے ثابت ہوا کہ) بڑا عالم (بھی) ہے (سب کا حال اس کو معلوم ہے آپ کے صبر کا بھی ان کی شرارت کا بھی اس لئے ان سے پورا پورا بدلہ لے لے گا )
وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ 78ۙ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو أيك الأَيْكُ : شجر ملتف وأصحاب الأيكة قيل : نسبوا إلى غيضة کانوا يسکنونها وقیل : هي اسم بلد . ( ای ک ) الایک ۔ درختوں کا جھنڈ ( ذوای کہ ) اور آیت ۔ وأصحاب الأيكةکی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ الایکۃ ان کے شہر اور آبادی کا نام ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
(٧٨۔ ٧٩) اور بن والے یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم بھی بڑے مشرک تھے سو ہم نے ان پر عذاب نازل کرکے ان سے دنیا میں بدلہ لیا اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں صاف سڑک پر واقع ہیں اور اس سے لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے۔
آیت ٧٨ (وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ ) ” اصحاب الایکہ “ سے اہل مدین مراد ہیں۔ یہ حضرت شعیب کی قوم تھی مگر یہاں اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا نام نہیں لایا گیا۔ ان سب اقوام کا تذکرہ یہاں پر انباء الرسل کے انداز میں ہورہا ہے۔
43. The people of Al-Aikah were the community of Prophet Shuaib (peace be upon him) and were called Midianites after the name of their capital city and their territory. As regards Al-Aikah, it was the ancient name of Tabuk and literally means a thick forest.
26: ایکہ اصل میں گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے وہ ایسے ہی گھنے جنگل کے پاس واقع تھی۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسی بستی کا نام مدین تھا، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مدین کے علاوہ کوئی اور بستی تھی، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اس کی طرف بھی بیجے گئے تھے۔ اس قوم کا واقعہ سورۃ اعراف آیت 85 تا 93 میں گذر گیا ہے تفصیلات کے لیے ان آیات کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
ف 9 مراد ہیں اس علاقے کے رہنے والے جہاں اب شہر تبوک واقع ہے۔ اس علاقے میں ” ایکہ “ یعنی ایک گھنا جنگل تھا، اس لئے ان کو ” اصحاب ایکہ “ (بن والے) کہا گیا یہ اور اصحاب مدین دو الگ الگ قومیں تھیں اور ان دونوں کی طرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ ایک حدیث سے بھی ثابت ہے۔ (قرطی کبیر)
فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط کے بعد اصحاب ایکہ کا انجام۔ ” اصحاب الایکۃ “ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ جنہیں تاریخ میں قوم مدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہل مدین عرب کے باشندے تھے۔ مدین حجاز کی سر زمین کے متصل اور بحیرۂ لوط کے قریب ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اپنے علاقہ میں نمایاں حیثیت کی حامل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف خطیب الانبیاء حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ یہ لوگ عقیدہ کے اعتبار سے کافر تھے۔ پرلے درجے کے راہزن، ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والے، خیانت اور ملاوٹ میں ملوث اپنے علاقے کے خاص قسم کے درخت کو متبرک سمجھ کر اس کی پوجا کرتے۔ اس درخت کے ارد گرد درختوں کا بہت بڑا جھنڈ تھا۔ جس وجہ سے انہیں ” اصحاب الایکۃ “ کہا جاتا ہے۔ ان کے جرائم کی تفصیل دیکھنے کے لیے سورة الاعراف آیت : ٨٥ تا ٩٣ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں جرائم سے باز رکھنے کی بڑی جدو جہد فرمائی۔ مگر یہ اس قدر ظالم اور سفاک لوگ تھے کہ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں پر مظالم کی انتہا کردی اور انہیں اپنے دین پر واپس لانے کے لیے دھمکیاں دیتے اور ظلم کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شدید زلزلے سے دوچار کیا اور انہیں ایک ایسے دھماکہ نے آلیا کہ یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے منہ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ جس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان سے انتقام لیا ان کا علاقہ اور انجام تمہارے سامنے ہے۔ (عَنْ أَبِیْٓ أُمَامَۃَ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، یَقُوْلُ إِذَا مَرَرْتُمْ عَلٰی أَرْضٍ قَدْ أُہْلِکَ أَہْلُہَا فَاعْدُوا السَّیْرَ ) [ رواہ الطبرانی فی الکبیروہو حدیث صحیح ] ” حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے تھے جب تم ایسی زمین سے گزرو جس کے بسنے والوں کو ہلاک کیا گیا ہو تو وہاں سے جلدی گزر جاؤ۔ “ مسائل ١۔ ایکہ بستی والے ظالم تھے۔ ٢۔ دونوں بستیاں شاہراہ پر واقع ہیں۔
آیت نمبر ٧٨ تا ٨٤ قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔ وانھما لبامام مبین (١٥ : ٧٩) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔ ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (١٥ : ٨٠) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔ واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (١٥ : ٨١) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔ وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (٨٢) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (٨٣) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (٨٤) (١٥ : ٨٢ تا ٨٤) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔ یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
حضرت لوط (علیہ السلام) اور اصحاب الایکہ کی بستیاں شاہراہ عام پر واقع ہیں اصحاب الایکہ ظالم تھے اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہلاک کیے گئے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ کرنے کے بعد اس آیت میں اصحاب الایکہ کے ظلم اور ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ” ایکہ “ اس جنگل کو کہتے ہیں جن میں درخت آپس میں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہوں اصحاب الایکہ جس علاقہ میں رہتے تھے وہاں درخت ہی درخت تھے اسی لیے بعض حضرات نے اصحاب الایکہ کا ترجمان بن والوں سے فرمایا ہے ان بن والوں کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ اصحاب مدین کی طرف بھی ان کی بعثت ہوئی تھی یہ دونوں قومیں ناپ تول میں کمی کرتی تھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دونوں کو سمجھایا دونوں قومیں ایمان نہ لائیں اور عذاب میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئیں اصحاب مدین کی ہلاکت اور عذاب کا تذکرہ سورة اعراف (رکوع ٩) اور سورة ھود (رکوع ٩) میں گزر چکا ہے اور سورة شعراء (رکوع ١٠) میں اصحاب الایکہ کی عذاب کی فرمائش مذکور ہے، ان کی ہلاکت اور عذاب کا ذکر فرماتے ہوئے سورة شعراء میں فرمایا (فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ اِِنَّہٗ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (سو انہوں نے شعیب کو جھٹلایا پھر ان کو سائبان کے دن کے عذاب نے پکڑ لیا بلاشبہ وہ بڑے دن کا عذاب تھا) جب ان لوگوں پر عذاب آنے والا تھا یہ لوگ سخت گرمی میں مبتلا ہوئے دور سے ایک بادل نظر آیا جس کی وجہ سے نیچے سایہ معلوم ہوا جلدی جلدی دوڑے ہوئے اس کے سایہ میں پہنچ گئے علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات دن تک ان لوگوں پر گرمی کو مسلط فرمایا پھر ایک بادل بھیجا ان لوگوں نے اس کے سایہ میں راحت تلاش کرنے کے لیے پناہ لے لی جب وہاں جمع ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ایک آگ بھیجی جس نے انہیں جلا کر راکھ کردیا۔
26:۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ ” اَصْحٰبُ الْاَیْکَةِ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔ ” اَلْاَیکَةَ “ درختوں کے جھرمٹ کو کہتے ہیں یہ درختوں کے جھرمٹوں میں آباد تھے اس لیے اس نام سے موسوم کیے گئے اصحاب الایکة ھم قوم شعیب (علیہ السلام) (کبیر ج 5 ص 412) ان لوگوں نے بھی پیغام توحید کی تکذیب کی اور ہلاک کردئیے گئے یہ دونوں آبادیاں (یعنی قوم لوط اور قوم شیعب کی) شاہراہ اعظم پر واقع ہیں تم اپنے سفروں میں ان کے پاس سے گذرتے ہو پھر عبرت کیوں نہیں پکڑتے۔