Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 110

سورة النحل

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُوۡا ثُمَّ جٰہَدُوۡا وَ صَبَرُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۰﴾٪  20

Then, indeed your Lord, to those who emigrated after they had been compelled [to renounce their religion] and thereafter fought [for the cause of Allah ] and were patient - indeed, your Lord, after that, is Forgiving and Merciful

جن لوگوں نے فتنوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کا ثبوت دیا بیشک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انہیں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The One who is forced to renounce Islam will be forgiven if He does Righteous Deeds afterwards Allah says: ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُواْ مِن بَعْدِ مَا فُتِنُواْ ثُمَّ جَاهَدُواْ وَصَبَرُواْ إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ Then, verily, your Lord for those who emigrated after they were put to trials and then performed Jihad, and were patient, - after this, your Lord is indeed Forgiving, Most Merciful. This refers to another group of people who were oppressed in Makkah and whose position with their own people was weak, so they went along with them when they were tried by them. Then they managed to escape by emigrating, leaving their homeland, families and wealth behind, seeking the pleasure and forgiveness of Allah. They joined the believers and fought with them against the disbelievers, bearing hardship with patience. Allah tells them that after this, meaning after their giving in when put to the test, He will forgive them and show mercy to them when they are resurrected.

صبر و استقامت یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی ۔ مال ، اولاد ، ملک ، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لئے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہو گئے ، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے ۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہو گا ، کوئی نہ ہو گا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا ۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا ۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے ۔ اللہ ظلم سے پاک ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

110۔ 1 یہ مکہ کے ان مسلمانوں کا تذکرہ ہے جو کمزور تھے اور قبول اسلام کی وجہ سے کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے۔ بالآخر انھیں ہجرت کا حکم دیا گیا تو اپنے خویش و اقارب، وطن مالوف اور مال جائداد سب کچھ چھوڑ کر حبشہ یا مدینہ چلے گئے، پھر جب کفار کے ساتھ معرکہ آرائی کا مرحلہ آیا تو مردانہ وار لڑے اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا اور پھر اس کی راہ کی شدتوں اور الم ناکیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ ان تمام باتوں کے بعد یقیناً تیرا رب ان کے لئے غفور ورحیم ہے یعنی رب کی مغفرت و رحمت کے حصول کے لئے ایمان اور اعمال صالح کی ضرورت ہے، جیسا کہ مذکورہ مہاجرین نے ایمان وعمل کا عمدہ نمونہ پیش کیا تو رب کی رحمت و مغفرت سے وہ شاد کام ہوئے۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُو ا عَنْہُ ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٤] ہجرت حبشہ :۔ اس آیت میں ان مظلوم مسلمانوں کا ذکر ہے جن پر قریش مکہ نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ اور جو با لآخر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ ہجرت ٤ یا ٥ نبوی میں ہوئی تھی۔ اور تقریباً اسی (٨٠) صحابہ اپنا گھر بار، رشتہ دار، اموال و جائداد اور اپنا وطن مالوف چھوڑ کر مکہ سے حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ پھر انھیں لوگوں نے دوبارہ حبشہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ پھر آپ کے ہمراہ غزوات میں بھی شریک ہوتے رہے اور ہر طرح کے مصائب خوشدلی سے برداشت کرتے رہے۔ ایسے لوگوں کی چھوٹی موٹی لغزشیں اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا ۔۔ : مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے، یا بعض ناجائز الفاظ منہ سے کہنے پر مجبور ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے، مگر اس کے بعد انھوں نے ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کیے، یعنی ہجرت کی، جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence of Verses Warnings of punishment against disbelief (kufr) - whether original or apostacy (irtidad) - appeared in previous verses. After that, in the first (106) of the initial three verses cited above, it has been pointed clearly that &Iman or the declaration of faith is a wealth that could work won¬ders for a kafir (disbeliever) or murtadd (apostate) who - if he were to come up with an honest and true &Iman - all his past sins would stand forgiven. In the second verse (107), the last day of Qiyamah was mentioned for the reason that all this phenomena of reward and punishment has to occur after that. In the third verse (108), it was said that the real punish¬ment of disbelief and sin will, though come after the Qiyamah, yet there are some sins the punishment of which is faced in a certain degree within the present world.

خلاصہ تفسیر : پچھلی آیت میں کفر پر وعید کا ذکر تھا خواہ کفر اصلی ہو یا ارتداد کا کفر اس کے بعد کی مذکورہ تین آیتوں میں سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ایمان ایسی دولت ہے کہ جو کافر یا مرتد سچا ایمان لے آئے اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ دوسری آیت میں قیامت کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ جزا و سزا سب قیامت کے دن ہی ہونے والی ہے۔ تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا کہ کفر و معاصی کی اصلی سزا تو قیامت کے بعد ہی ملے گی مگر بعض گناہوں کی سزا دنیا میں بھی کچھ مل جاتی ہے، تینوں آیتوں کی مختصر تفسیر یہ ہے، پھر (اگر کفر کے بعد یہ لوگ ایمان لے آویں تو) بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے مبتلاء کفر ہونے کے بعد (ایمان لا کر) ہجرت کی پھر جہاد کیا اور (ایمان پر) قائم رہے تو آپ کا رب (ایسے لوگوں کے لئے) ان (اعمال) کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت کرنے والا ہے (یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی برکت سے سب پچھلے گناہ معاف ہوجاویں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ان کو جنت میں بڑے بڑے درجے ملے گیں کفر سے پہلے کے گناہ صرف ایمان سے معاف ہوجاتے ہیں جہاد وغیرہ اعمال صالحہ شرط معافی نہیں لیکن اعمال صالحہ درجات جنت ملنے کے اسباب ہیں اس لئے اس کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے اور جزا و سزا مذکور اس روز واقع ہوگی) جس روز ہر شخص اپنی اپنی طرف داری میں گفتگو کرے گا (اور دوسروں کو نہ پوچھے گا) اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا بدلہ ملے گا (یعنی نیکی کے بدلے میں کمی نہ ہوگی گو اللہ کی رحمت سے زیادتی ہوجانے کا امکان ہے اور بدی کے بدلے میں زیادتی نہ ہوگی ہاں یہ ممکن ہے کہ رحمت سے اس میں کچھ کمی ہوجائے یہی مطلب ہے اس کا کہ) ان پر ظلم نہ کیا جائے گا (اس کے بعد یہ بتلایا گیا ہے کہ اگرچہ کفر و معصیت کی پوری سزا حشر کے بعد ہوگی مگر کبھی دنیا میں بھی اس کا وبال عذاب کی صورت میں آجاتا ہے) اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ (بڑے) امن و اطمینان میں رہتے (اور) ان کے کھانے پینے پہننے کی چیزیں بڑی فراغت سے ہر چار طرف سے ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں (ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا بلکہ) انہوں نے خدا کی نعمتوں کی بےقدری کی (یعنی کفر و شرک اور معصیت میں مبتلا ہوگئے) اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی حرکتوں کے سبب سے ایک محیط قحط اور خوف کا مزہ چکھایا (کہ مال و دولت کی فراوانی سلب ہو کر قحط اور بھوک میں مبتلا ہوگئے اور دشمنوں کا خوف مسلط ہو کر کے ان کی بستیوں کا امن و اطمینان بھی سلب کرلیا) اور (اس سزا میں حق تعالیٰ کی طرف سے کچھ جلدی نہیں کی گئی اول اس کی تنبیہ و اصلاح کے واسطے (ان کے پاس انہی میں کا ایک رسول بھی (منجانب اللہ) آیا (جس کے صدق و دیانت کا حال خود اپنی قوم میں ہونے کی وجہ سے ان کو پوری طرح معلوم تھا سو اس (رسول) کو (بھی) انہوں نے جھوٹا بتلایا تب ان کو عذاب نے آپکڑا جب کہ وہ بالکل ہی ظلم پر کمر باندھنے لگے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَصَبَرُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ١١٠۝ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا بخشنے والا پروردگار ،۔ هجر الهَجْرُ والهِجْرَان : مفارقة الإنسان غيره، إمّا بالبدن، أو باللّسان، أو بالقلب . قال تعالی: وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ [ النساء/ 34] كناية عن عدم قربهنّ ، وقوله تعالی: إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً [ الفرقان/ 30] فهذا هَجْر بالقلب، أو بالقلب واللّسان . وقوله : وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا [ المزمل/ 10] يحتمل الثلاثة، ومدعوّ إلى أن يتحرّى أيّ الثلاثة إن أمكنه مع تحرّي المجاملة، وکذا قوله تعالی: وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] ، وقوله تعالی: وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] ، فحثّ علی المفارقة بالوجوه كلّها . والمُهاجرَةُ في الأصل : مصارمة الغیر ومتارکته، من قوله عزّ وجلّ : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] ، وقوله : لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] ، وقوله : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] ، فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] فالظاهر منه الخروج من دار الکفر إلى دار الإيمان کمن هاجر من مكّة إلى المدینة، وقیل : مقتضی ذلك هجران الشّهوات والأخلاق الذّميمة والخطایا وترکها ورفضها، وقوله : إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] أي : تارک لقومي وذاهب إليه . وقوله : أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فِيها [ النساء/ 97] ، وکذا المجاهدة تقتضي مع العدی مجاهدة النّفس کما روي في الخبر : «رجعتم من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر» «1» ، وهو مجاهدة النّفس . وروي : (هاجروا ولا تهجّروا) «2» أي : کونوا من المهاجرین، ولا تتشبّهوا بهم في القول دون الفعل، والهُجْرُ : الکلام القبیح المهجور لقبحه . وفي الحدیث : «ولا تقولوا هُجْراً» «3» وأَهْجَرَ فلان : إذا أتى بهجر من الکلام عن قصد، ( ھ ج ر ) الھجر والھجران کے معنی ایک انسان کے دوسرے سے جدا ہونے کے ہیں عام اس سے کہ یہ جدائی بدنی ہو یا زبان سے ہو یا دل سے چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ [ النساء/ 34] پھر ان کے ساتھ سونا ترک کر دو ۔ میں مفا رقت بدنی مراد ہے اور کنایتا ان سے مجامعت ترک کردینے کا حکم دیا ہے اور آیت : ۔ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً [ الفرقان/ 30] کہ میری قوم نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ۔ میں دل یا دل اور زبان دونوں کے ذریعہ جدا ہونا مراد ہے یعنی نہ تو انہوں نے اس کی تلاوت کی اور نہ ہی اس کی تعلیمات کی طرف دھیان دیا اور آیت : ۔ وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا [ المزمل/ 10] اور وضع داری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ رہو ۔ میں تینوں طرح الگ رہنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی جملا کی قید لگا کر اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ حسن سلوک اور مجاملت کیس صورت میں بھی ترک نہ ہونے پائے ۔ اس طرح آیت وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا ۔ میں بھی ترک بوجوہ ثلا ثہ مراد ہے اور آیت : ۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] اور ناپاکی سے دور رہو ۔ میں بھی ہر لحاظ سے رجز کو ترک کردینے کی ترغیب ہے ۔ المھاجر رۃ کے اصل معیص تو ایک دوسرے سے کٹ جانے اور چھوڑ دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور ۃ کفار سے ) جنگ کرتے رہے ۔ اور آیات قرآنیہ : ۔ لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] فے کے مال میں محتاج مہاجرین کا ( بھی ) حق ہے ۔ جو کافروں کے ظلم سے ) اپنے گھر اور مال سے بید خل کردیئے گئے ۔ وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے ۔ فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] تو جب تک یہ لوگ خدا کی راہ میں ( یعنی خدا کے لئے ) ہجرت نہ کر آئیں ان میں سے کسی کو بھی اپنا دوست نہ بنانا ۔ میں مہاجرت کے ظاہر معنی تو دار الکفر سے نکل کر وادلاسلام کی طرف چلے آنے کے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی لیکن بعض نے کہا ہے کہ ہجرت کا حقیقی اقتضاء یہ ہے کہ انسان شہوات نفسانی اخلاق ذمیمہ اور دیگر گناہوں کو کلیۃ تر ک کردے اور آیت : ۔ إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] اور ابراہیم نے کہا کہ میں تو دیس چھوڑ کر اپنے پروردگاع کی طرف ( جہاں کہیں اس کو منظور ہوگا نکل جاؤ نگا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی قوم کو خیر باد کہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاؤں گا ۔ اور فرمایا : ۔ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فِيها [ النساء/ 97] کیا اللہ تعالیٰ کی ( اتنی لمبی چوڑی ) زمین اس قدر گنجائش نہیں رکھتی تھی کہ تم اس میں کسی طرف کو ہجرت کر کے چلے جاتے ۔ ہاں جس طرح ظاہری ہجرت کا قتضا یہ ہے کہ انسان خواہشات نفسانی کو خیر باد کہہ دے اسی طرح دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے میں بھی مجاہدۃ بالنفس کے معنی پائے جاتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں مروی ہے آنحضرت نے ایک جہاد سے واپسی کے موقع پر صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ۔ کہ تم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کیطرف لوٹ رہے ہو یعنی دشمن کے ئ ساتھ جہاد کے بعد اب نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ جهد الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع . وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ النفس ببذل الطاقة وتحمّل المشقة، يقال : جَهَدْتُ رأيي وأَجْهَدْتُهُ : أتعبته بالفکر، والجِهادُ والمجاهدة : استفراغ الوسع في مدافعة العدو، والجِهَاد ثلاثة أضرب : - مجاهدة العدو الظاهر . - ومجاهدة الشیطان . - ومجاهدة النفس . وتدخل ثلاثتها في قوله تعالی: وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] ، وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] ، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] ، وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «جاهدوا أهواء کم کما تجاهدون أعداء کم» «1» . والمجاهدة تکون بالید واللسان، قال صلّى اللہ عليه وسلم «جاهدوا الکفار بأيديكم وألسنتکم» «2» . ( ج ھ د ) الجھد والجھد کے معنی وسعت و طاقت اور تکلف ومشقت کے ہیں ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ الجھد ( فتح جیم کے معنی مشقت کے ہیں اور الجھد ( ( بضم جیم ) طاقت اور وسعت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ الجھد کا لفظ صرف انسان کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] اور جنہیں اپنی محنت ومشقت ( کی کمائی ) کے سوا کچھ میسر نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] کے معنی یہ ہیں کہ وہ بڑی زور زور سے قسمیں کھاکر کہتے ہیں کے وہ اس میں اپنی انتہائی کوشش صرف کریں گے الاجتھاد ( افتعال ) کے معنی کسی کام پر پوری طاقت صرف کرنے اور اس میں انتہائی مشقت اٹھانے پر طبیعت کو مجبور کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے میں نے غور ومحکر سے اپنی رائے کو مشقت اور تعب میں ڈالا ۔ الجھاد والمجاھدۃ دشمن کے مقابلہ اور مدافعت میں اپنی انتہائی طاقت اور وسعت خرچ کرنا اور جہا دتین قسم پر ہے ( 1 ) ظاہری دشمن یعنی کفار سے جہاد کرنا ( 2 ) شیطان اور ( 3 ) نفس سے مجاہدہ کرنا اور آیت کریمہ : ۔ وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] کہ اللہ کی راہ میں پوری طرح جہاد کرو ۔۔۔۔۔ تینوں قسم جہاد پر مشتمل ہے ۔ نیز فرمایا :۔ وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] کہ خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرو ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرتے رہے ۔ اور حدیث میں ہے (66) کہ جس طرح اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو اسی طرح اسی خواہشات سے بھی جہاد کیا کرو ۔ اور مجاہدہ ہاتھ اور زبان دونوں کے ساتھ ہوتا ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا (67) کہ کفار سے ہاتھ اور زبان دونوں کے ذریعہ جہاد کرو ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٠) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر اور اس کے ساتھی جنہوں نے اہل مکہ کی تکالیف اٹھا کر پھر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی پھر دشمنوں سے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تکالیف پر ثابت قدم رہے تو آپ کا رب ہجرت کے بعد بعد ایسے لوگوں کی بڑی بخشش کرنے والا اور ان پر بڑی رحمت فرمانے والا ہے۔ شان نزول : (آیت ) ”۔ ان ربک للذین ھاجروا “۔ (الخ) حضرت بلال (رض) حضرت عامر بن فہیرہ (رض) اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو تکالیف دی جاتی تھیں انھی حضرات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، یعنی آپ کے رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر میں مبتلا ہونے کے بعد ایمان لا کر ہجرت کی پھر جہاد کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٠ (ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَصَبَرُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) جن مؤمنین پر مکہ میں مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ان حالات میں انہوں نے ہجرت کی پھر وہ جہاد بھی کرتے رہے اس طرح راہ حق میں آنے والی آزمائشوں کے تمام مراحل انہوں نے کمال صبر سے طے کیے اللہ تعالیٰ انہیں ان کی ان قربانیوں اور سرفروشیوں کا ضرور اجر دے گا۔ انہیں بخشش عطا فرمائے گا اور ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

111. They were those believers who migrated to Habashah.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :111 اشارہ ہے مہاجرین حبشہ کی طرف ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

47: اِس آیت میں فتنے میں مبتلا ہونے سے اُن صحابہ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جو مکہ مکرَّمہ میں کافروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ پہلے چونکہ کافروں کے بُرے انجام کا ذکر تھا، تو اِس آیت میں نیک مسلمانوں کا اجر بھی بیان فرما دیا گیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے یہاں فتنے میں مبتلا ہونے کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ پہلے کفر میں مبتلا ہوگئے، بعد میں توبہ کی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پہلے سے جن مرتد لوگوں کا ذکر چلا آرہا ہے، اُنہی کے بارے میں اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اب بھی اگر وہ توبہ کر کے ہجرت کریں اور جہاد کریں تو اﷲ تعالیٰ اُن کے پچھلے گناہ معاف فرما دیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١٠۔ ١١١۔ جو لوگ دل کھول کر اسلام سے پھرگئے اوپر ان کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو کمزور تھے اور اپنی قوم میں خوار و ذلیل ہو رہے تھے اور کفار مکہ کے فتنے میں پڑگئے تھے اور پھر قابو و موقع پاکر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور خدا کی رضا مندی کے لئے اپنے سارے کنبے اور رشتے کے لوگوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور پھر جب کفار اور مسلمانوں میں جنگ کا سامان ہوا تو خوب لڑے اللہ پاک نے ان کی شان میں فرمایا کہ جب اتنے کام ان سے دیکھ لئے تو ان پر خدا کی بخشش ہوئی کیوں کہ اللہ جل شانہ غفور و رحیم ہے ان پر اس روز رحم فرمائے گا جس روز نہ باپ بیٹے کو اور نہ بیٹا باپ کو پوچھے گا بھائی کو بھائی کی پروا نہ ہوگی۔ بی بی شوہر سے شوہر بیوی سے گھبرائیں گے غرض کوئی کسی سے فائدہ نہیں حاصل کرسکتا فرمایا کہ وہ روز ایسا ہے کہ اس دن ہر ایک نفس کے کردار کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا جس نے جیسا کیا ہوگا اس کو ویسی جزا ملے گی ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہوگا بلکہ نیکی کرنے والوں کو نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ ملے گا اور گناہ کی سزا میں کچھ زیادتی نہ ہوگی۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں چند صحابہ کی روایتیں ١ ؎ اس باب میں آئی ہیں یہ روایتیں وھم لا یظلمون کی گویا تفسیر ہیں۔ ١ ؎ دیکھئے تفسیر ابن کثیر ٣١٦۔ ٣١٧ جۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:110) ثم ان ربک۔ یہ دلالت کرتا ہے اس امر پر کہ غافلون، خاسرون کا حال بلحاظ مرتبت ان اصحاب سے کتنا بعید ہے جن کا آیہ ہذا میں ذکر ہے۔ ان کے لئے غضب الٰہی و خسران اور ان کے لئے مغفرت ورحمت رب تعالیٰ ۔ ثم۔ پھر حرفِ عطف ہے۔ پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ یہ تاخیر خواہ بااعتبار زمانہ ہو یا بااعتبار مرتبہ۔ یا بلحاظ وضع ونسبت ہو یا بااعتبار نظام صناعی جیسے الا ساس اولا ثم البناء یعنی پہلے اساس (بنیاد) رکھی جاتی ہے پھر اس پر عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ دوسری دفعہ جو ثم آیا ہے وہ بااعتبار زمانہ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔ من بعد ما قتنوا۔ آزمائش میں ڈالے جانے کے بعد (یعنی کفار کے ہاتھوں مصائب و آلام میں ڈالے جانے کے بعد ) جیسے حضرت حمار بن یاسر اور ان جیسے دیگر صحابہ کرام (رض) جن کو اسلام سے مرتد کرنے کے لئے روح فرسا تکالیف دی گئی تھیں۔ من بعدھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مذکوراتِ بالا۔ یعنی آزمائش میں پڑنے اور ہجرت اور جہاد اور صبر کی طرف راجع ہے۔ صاحب ضیاء القرآن فرماتے ہیں : یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ سورت تو مکی ہے اس میں ہجرت اور جہاد کا ذکر کیسا۔ لیکن اول تو ابن عطبہ کی روایت میں ہے کہ یہ آیت مدنی ہے (اور مکی سورتوں میں مدنی آیتوں کی آمیزش کی مثالیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں) ۔ اور ہجرت سے مراد ہجرت حبشہ بھی ہوسکتی ہے اور جہاد اپنے لغوی معنوں میں (یعنی جدوجہد) پھر ان کے علاوہ صیغہ ماضی سے اخبار مستقبل کی مثالیں بھی قرآن میں شاذ نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی ان مشرکوں کے مک میں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر درالسلام میں چلے گئے۔ 3 مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے تھے۔ یا بعض الفاظ ناجائز منہ سے کر ڈالے مگر اس کے بعد ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کئے یعنی ہجرت کی جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی برکت سے ان کے سب گناہ گزشتہ کو کفروغیرہ معاف ہوجائیں گے اور رحمت الٰہیہ سے ان کو جنت اور اس کے بڑے بڑے درجے ملیں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے آیت ١٠٦ میں بےحد مجبور شخص کو جان بچانے کی اجازت دی تھی اب مظلوم لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ ممکن طور پر دین اور جان بچاکر انہیں ہجرت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جن لوگوں کو ناقابل برداشت اذیتوں کا نشانہ بنایا جائے اس حالت میں کہ انہیں جان اور دین بچانا مشکل ہوجائے تو انھیں ہجرت کرنے کی اجازت ہے تاکہ دین کی سربلندی کے لیے کوششیں جاری رکھیں اس راستہ میں انہیں جو بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر مصائب سے واسطہ پڑے تو انہیں صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔ اس دوران بتقضائے بشریت غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ ہجرت : اللہ تعالیٰ کی خاطر و طن عز یز چھوڑ نا اور گنا ہوں سے کنارہ کش ہونا، اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کے حصول کے ساتھ مشکلات سے نجات پانے کا راستہ ہے۔ ہجرت بظا ہر ہر چیز کو چھوڑنا ہے۔ لیکن حقیقت میں ہر چیز کے پالینے کا نام ہے۔ ” جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے ہجرت کی وہ اپنے لیے بڑی کشا دگی پائے گا۔ “ [ النساء : ١٠٠] شر یعت کی زبان میں ہجرت ہر اس کام کو چھوڑنا ہے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے میں حائل اور رکا وٹ بنتاہو۔ ایسے جو انمرد کو مہاجر اور اس کے عمل کو ہجرت کہا گیا ہے۔ عرف عام میں دین و ایمان کی خا طر وطن عزیزکو چھوڑنا ہجرت کہلاتا ہے۔ یہ دنیاجب سے معر ضِ و جود میں آئی ہے اس وقت سے لے کر آج تک حق و باطل کے معرکے پیش آ رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس معرکہ آرائی میں بیشمار ہجرتوں کی روداد تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی نبی یا رسول ہوگا جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کی ہو۔ شاید ہی کوئی فرد یا قوم ایسی ہوگی جس کی حالت ترک وطن کے بعد بہترنہ ہوئی ہو۔ تاریخ عالم میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے رفقا سے بڑھ کر کسی پر کسمپرسی کا عالم نہ گزرا ہوگا۔ مہاجرین کے پہلے قافلے کا عالم یہ تھا کہ وہ نہ صرف گھر بار سے محروم ہوئے بلکہ انہیں شیرخوار بچوں، بوڑھے والدین، جوان بیٹوں اور وفادار بیویوں سے الگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص اور دینی غیرت کی وجہ سے وسعت و کشادگی کے دروازے کھول دیے اور دنیاجہاں کی نعمتوں کو ان کے قدموں میں نچھاور کردیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) جب اپنے مواخاتی سا تھی کا یہ کہہ کر شکریہ ادا کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر چیزکو سلامت رکھے میں آپ پر بوجھ بننے کے بجائے منڈی کی طرف جارہا ہوں۔ مجھے یہاں کی منڈی کا راستہ اور طریقہ بتادیں۔ اس تہی دامنی کے بعدوہ وقت بھی آیا کہ زکوٰ ۃ کے علاوہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود جب دنیا سے رخصت ہوئے۔ تو منقو لہ جائیداد کے علاوہ ان کے پاس ایک کروڑ نقد ی اور سونا چاندی موجود تھا۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے کی بجائے افغان، کشمیر اور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کی اکثریت کے حالات و واقعات دیکھیں جو اس سچائی کی شہادت دے رہے ہیں کہ واقعتا ہجرت رزق کی کشادگی اور مسائل کا تریاق ثا بت ہوتی ہے۔ اور جو شخص گناہوں سے کنارہ کش ہوتا ہے ایسے پرہیز گار کی مشکلات اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے بہت جلد حل کردیتا ہے۔ ” جو لوگ مظالم کی وجہ سے اللہ کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ ان کو دنیا میں بہترین جائے قیام عطا کرنے کے ساتھ آخرت میں ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ کاش وہ اس حقیقت کو پاجائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے بھی یہی اجر ہے جو ثابت قدمی کے ساتھ اپنے رب پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ “ [ النمل : ٤١ تا ٤٢] ” اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اللہ کے راستے میں گھر بار چھو ڑا اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور جنہوں نے مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے اور ایماند ار ہیں ان ہی کے لیے بخشش اور بہترین رزق ہے۔ “ [ الانفال : ٤٧] مسائل ١۔ دین اور جان کو بچانے کی خاطر ہجرت اختیار کرنی چاہیے۔ ٢۔ دین کے لیے جہاد اور صبر کرنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن مہاجرین کا بہترین انجام اور ان کے فضائل : ١۔ اللہ تعالیٰ مہاجرین کی خطاؤں کو بخشنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (النحل : ١١٠) ٢۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے اس کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ (البقرۃ : ٢١٨) ٣۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو بہترین ٹھکانہ میسر آئے گا۔ (النحل : ٤١) ٤۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو بہترین رزق عطا کیا جائے گا۔ (الحج : ٥٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ لوگ عربوں میں ضعفاء میں سے تھے اور سرکش مشرکین نے ان کو ان کے دین اور نظریہ کی وجہ سے تکالیف دیں۔ لیکن جونہی ان کو مواقعہ ملا انہوں نے ہجرت کی۔ اسلام پختگی حاصل کی۔ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور دعوت اسلامی کی خاطر تکالیف اٹھاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کو مغفرت کی بشارت دیتے ہیں ۔ ان ربک من بعدھا لغفور رحیم (٦١ : ٠١١) ” ان کے لئے یقینا تیرا رب غفور ورحیم ہے “۔ یہ وہ دن ہے جس میں ہر نفس اپنے معاملات میں گھرا ہوگا۔ کوئی کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ہجرت کرکے ثابت قدم رہنے والوں کا اجر وثواب، قیامت کے دن کی پیشی کا ایک منظر یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت کے بارے میں علامہ بغوی معالم التنزیل (ص ٨٧ ج ٣) میں لکھتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ اور ابی جندب اور ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عبد اللہ بن ابی اسید کے بارے میں نازل ہوئی ان حضرات کو مشرکین نے اسلام قبول کرنے پر تکلیفیں دیں تو انہوں نے ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے بعض ایسے کلمات کہہ دئیے جو مشرکین کی خواہش کے مطابق تھے پھر ان حضرات نے ہجرت کی اور جہادوں میں حصہ لیا اور استقامت کے ساتھ ایمان پر جمے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر مہربانی فرمائے گا۔ صاحب معالم التنزیل نے حضرت حسن اور حضرت عکرمہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے اسلام کے بعد کفر اختیار کرلیا تھا پھر فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئے اور اچھے مسلمان ہوگئے ہجرت کی اور جہادوں میں بھی حصہ لیا۔ آیت کا سبب نزول جو بھی ہو اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے یہ اعلان عام ہے کہ کفر کے بعد جو بھی شخص ایمان قبول کرے گا اور ایمان پر ثابت قدم رہے گا دارالسلام کو ہجرت کرے گا جہاد میں حصہ لے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مغفرت فرما دے گا اسلام کی وجہ سے وہ سب معاصی ختم ہوجاتے ہیں جو زمانہ کفر میں کیے تھے اِنَّ الْاِسْلاَمَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ فتنہ میں ڈالنے والے ہوں یا فتنہ میں ڈالے جانے ہوں اخلاص کے ساتھ اسلام قبول کرنے پر پچھلا سب کچھ معاف ہے۔ قد قرأ ابن عامر فتنوا علی صیغۃ الماضی المعلوم۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

90:۔ ” ثُمَّ “ تعقیب ذکری کے لیے ہے اور یہ مہاجرین اور مجاہدین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ یعنی اس کے بعد یہ بھی سن لوں کہ جن لوگوں نے محض دین حق کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں اور وطن سے بےوطن ہوئے، اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور ہر آزمائش میں ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ ان کے حق میں بڑا ہی مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

110 ۔ پھر بلا شبہ آپ کا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر میں مبتلا ہوجانے کے بعد ہجرت کی اور اپنا وطن چھوڑا اور جہاد بھی کیا اور ثابت اور قائم رہے تو بیشک ان اعمال کے بعد آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی اوپر کی آیتوں میں کفر کے ارتکاب کا ذکر تھا خواہ وہ مجبورا ً ہو یا کشادہ دلی سے ہو ۔ اس آیت میں فرمایا اگر اس کے بعد جبر والے توبہ کرلیں اور کشادہ دلی والے توبہ کر کے ایمان لے آئیں اور جو کام اسلام کے ہیں۔ مثلا ً ہجرت و جہاد اور ایمان پر ثابت قدم تو بلا شبہ ان اعمال صالح کے بعد انکے ساتھ رحمت و مغفرت کا معاملہ کیا جائے گا اور ایمان و اعمال صالحہ کی برکت سے ان کے سب گزشتہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ میں بعض لوگ کافروں کے ظلم سے بچل گئے تھے یا زبانی لفظ کہہ لیا تھا اس کے پیچھے جب اتنے کام کئے ایمان کے وہ تقصیر بخشی گئی۔ ایک بزرگ تھے عماران کے باپ تھے یا سر اور ماں سمینہ ظلم اٹھاتے مرگئے پر لفظ کفر نہ کہا بیٹے نے خوف سے لفظ کہہ دیا پھر روتے ہوئے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تب یہ آیتیں اتریں ۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) نے شان نزول کا تعلق ایک قول کی بنا پر اختیار کیا ہے ہم نے ایک دوسرے قول کی بنا پر آیت کا مفہوم عام لے لیا ہے۔ واللہ اعلم