Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 17

سورة النحل

اَفَمَنۡ یَّخۡلُقُ کَمَنۡ لَّا یَخۡلُقُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷﴾

Then is He who creates like one who does not create? So will you not be reminded?

تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کر سکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Is then He, Who creates, the same as one who does not create! Will you not then reflect! Then He shows His servants some of the many blessings He granted for them, and the many kinds of things that He has done for them. He says; وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا إِنَّ اللّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 ان تمام نعمتوں سے توحید کی اہمیت کو اجاگر فرمایا کی اللہ تو ان چیزوں کا خالق ہے، لیکن اس کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو، انہوں نے بھی کچھ پیدا کیا ہے ؟ نہیں، بلکہ وہ تو خود اللہ کی مخلوق ہیں۔ پھر بھلا خالق اور مخلوق کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟ جبکہ تم انھیں معبود بنا کر اللہ کا برابر ٹھہرا رکھا ہے۔ کیا تم ذرا نہیں سوچتے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] اوپر اللہ تعالیٰ کی جس قدر نشانیاں اور قدرتیں مذکور ہوئی ہیں وہ سب فطری چیزیں ہیں۔ جنہیں ہر شخص بچشم خود ملاحظہ کرسکتا ہے اور ایسے سیدھے سادے انداز میں بیان ہوئی ہیں جن کو سمجھنے کے لیے کسی خاص علم کی ضرورت نہیں۔ ہر شہری اور دیہاتی، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ سب ان کو دیکھ کر ان میں غور کرسکتے ہیں اور ایسی ہی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور پوچھا ہے کہ یہ سب کچھ تو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے شریکوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ اور اگر انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو وہ اللہ کے شریک کیسے بن سکتے ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۔۔ : یہ سب نعمتیں جو ذکر ہوئیں، سب جانتے اور مانتے ہیں کہ ایک اللہ کی پیدا کردہ ہیں اور جنھیں مشرکین پکارتے ہیں انھوں نے نہ کچھ پیدا کیا ہے، نہ کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ اس کا دعویٰ بھی نہیں کرسکتے (دیکھیے سورة حج : ٧٣) تو یہ بتاؤ کہ ہر چیز کے خالق کو تم نے ان بےبس ہستیوں کے برابر کردیا جو مکھی کا پر بھی نہیں بنا سکتیں، تو کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔ سچ ہے : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ) [ الأنعام : ٩١ ] ” انھوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔ “ یہ مضمون مفصل سورة رعد ( ١٦) میں ملاحظہ فرمائیں۔ علامہ زمخشری نے یہاں سوال اٹھایا ہے کہ ” مَنْ “ کا لفظ تو ذوی العقول کے لیے ہوتا ہے، یہاں بتوں کے لیے کیوں استعمال ہوا، پھر جواب دیا ہے کہ چونکہ مشرکین انھیں حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے تھے، اس لیے ان کے عقیدے کے مطابق ” كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ “ فرمایا ہے۔ حالانکہ اس کا سادہ اور صحیح جواب یہ ہے کہ وہ محض پتھروں کو نہیں پوجتے تھے، بلکہ ان ہستیوں کو پکارتے تھے جن کے وہ بت بناتے تھے، مثلاً انھوں نے مریم، ابراہیم اور اسماعیل کے مجسّمے بیت اللہ کے اندر رکھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھوں میں فال کے تیر پکڑائے ہوئے تھے۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( و اتخذ اللہ إبراہیم خلیلا ) : ٣٣٥١، ٣٣٥٢ ] قوم نوح کے بت بھی اولیاء اللہ ہی کے مجسمے تھے۔ دیکھیے تفسیر سورة نوح ( ٢٣) یہ سب ذوی العقول تھے، بلکہ ذوی العقول کے استاد تھے، اس لیے زمخشری نے جو سوال اٹھایا ہے وہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and es¬tablished that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation and animals, trees and plants with their fruits and flowers, how can that most sacred Being that is the Creator of all these things become, for no reason, like idols and icons which cannot create anything? Why would you not understand something so elementary?

خلاصہ تفسیر : سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو ( یعنی اللہ تعالیٰ ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو یہ نعمتیں ملتیں لیکن) واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (کہ کوئی شرک سے توبہ کرے تو مغفرت ہوجاتی ہے اور نہ کرے جب بھی تمام نعمتیں حیات تک منقطع نہیں ہوتیں) اور (ہاں نعمتوں کے فائض ہونے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ کبھی سزا نہ ہوگی بلکہ آخرت میں سزا دیں گے یہ تو حق تعالیٰ کے خالق اور منعم ہونے کا بیان تھا) اور جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود ہی مخلوق ہیں (اور جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود ہی مخلوق ہیں (اور اوپر قاعدہ کلیہ ثابت ہوچکا ہے کہ غیر خالق اور خالق مساوی نہیں پس یہ معبودین کیسے مستحق عبادت ہو سکتے ہیں اور) وہ (معبودین) مردے (بےجان) ہیں (خواہ دواما جیسے بت یا فی الحال جیسے وہ لوگ جو مر چکے ہیں یا فی المال جو مریں گے مثلا جن اور عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرہم) زندہ (رہنے والے) نہیں (پس خالق تو کیا ہوتے) اور ان (معبودین) کو (اتنی بھی) خبر نہیں کہ (قیامت میں) مر دے کب اٹھائے جائیں گے (یعنی بعض کو تو علم ہی نہیں اور بعض کو تعیین معلوم نہیں اور معبود کے لئے علم تو محیط چاہئے۔ خصوصا قیامت کا کہ اس پر جزا ہوگی عبادت وعدم عبادت کی تو اس کا علم تو معبود کے لئے بہت ہی مناسب ہے پس خدا کے برابر تو علم میں کیا ہوں گے اس تقریر سے ثابت ہوا کہ) تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے تو (اس ایضاح حق پر بھی) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے (اور اسی لئے ان کو ڈر نہیں کہ توحید کو قبول کریں معلوم ہوا کہ) ان کے دل (ہی ایسے ناقابل ہیں کہ معقول بات کے) منکر ہو رہے ہیں اور (معلوم ہوا کہ) وہ قبول حق سے تکبر کرتے ہیں (اور) ضروری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کے حوال پوشیدہ وظاہر جانتے ہیں (اور یہ بھی) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے (پس جب ان کا تکبر معلوم ہے تو ان کو بھی ناپسند کرینگے اور سزا دیں گے) معارف و مسائل : پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کی نعمتوں کا اور تخلیق کائنات کا مفصل ذکر کرنے کے بعد اس بات پر تنبیہ فرمائی جس کے لئے ان سب نعمتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور وہ ہے توحید حق تعالیٰ کی کہ ان سے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اس لئے فرمایا کہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تنہا زمین و آسمان بنائے کوہ ودریا بنائے نباتات وحیوانات بنائے درخت اور ان کے پھول پھل بنائے تو کیا وہ ذات پاک جو ان سب چیزوں کی خالق ہے ان بتوں کی مانند ہوجائے گی جو کچھ پیدا نہیں کرسکتے تو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 17۝ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے تَّذْكِرَةُ : ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ التذکرۃ جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔ مراد قرآن پاک ہے ۔ ذَكَّرْتُهُ كذا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧) سو کیا جو پیدا کرتا یعنی اللہ تعالیٰ تو وہ ان بتوں جیسا ہوجائے گا کہ جو پیدا ہی نہیں کرسکتے تو کیا پھر بھی تم مخلوقات خداوندی کی اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ (اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ) مشرکین عرب نے مختلف ناموں سے جو بت بنا رکھے تھے ان کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے۔ سورة یونس کی آیت ١٨ میں ان کے اس عقیدے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : (وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ) ” اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں “۔ اللہ کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ وہ کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق ہے اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ ان کے معبودوں کا اس تخلیق میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں۔ قرآن میں ان کے اس عقیدے کا بھی بار بار ذکر آیا ہے : (وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ) (لقمان : ٢٥) ” اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو لازماً یہی کہیں گے کہ اللہ نے ! “ ان لوگوں کے اسی عقیدے کی بنیاد پر یہاں یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود ‘ جو کچھ بھی تخلیق کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ‘ کیا اس اللہ کی مانند ہوسکتے ہیں جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق ہے ؟ اور اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو کیا پھر بھی تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے ہو ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16. That is, if you, people of Makkah, acknowledge (and they acknowledged this just as other mushriks did) that Allah alone is the Creator of all of you and everything, and no one of the partners, you have set up with Him, has created anything in the universe. How is it, then, that you ascribe from among the creation, a status equal to or like that of the Creator in the system of universe created by Him? How can it be possible that the power and the rights of the creation should be equal to the power and the rights of the Creator in the universe created by Himself? How can it be believed that the Creator and the creation possess the same qualities and characteristics, or can have such relationship as of father and son?

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :16 یعنی اگر تم یہ مانتے ہو ( جیسا کہ فی الواقع کفار مکہ بھی مانتے تھے اور دنیا کے دوسرے مشرکین بھی مانتے ہیں ) کہ خالق اللہ ہی ہے اور اس کائنات کے اندر تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں سے کسی کا کچھ بھی پیدا کیا ہوا نہیں ہے تو پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ خالق کے خلق کیے ہوئے نظام میں غیر خالق ہستیوں کی حیثیت خود خالق کے برابر یا کسی طرح بھی اس کے مانند ہو؟ کیونکر ممکن ہے کہ اپنی خلق کی ہوئی کائنات میں جو اختیارات خالق کے ہیں وہی ان غیر خالقوں کے بھی ہوں ، اور اپنی مخلوق پر جو حقوق خالق کو حاصل ہیں وہی حقوق غیر خالقوں کو بھی حاصل ہوں؟ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ خالق اور غیر خالق کی صفات ایک جیسی ہوں گی ، یا وہ ایک جنس کے افراد ہوں گے ، حتیٰ کہ ان کے درمیان باپ اور اولاد کا رشتہ ہوگا ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٧۔ ١٨۔ اللہ پاک نے آسمان اور زمین اور دریا کے پیدا کرنے کا ذکر اور اس سے جو جو نفع انسان کو پہنچتا رہتا ہے اس کا ذکر کر کے اب مشرکوں کو یوں سمجھایا کہ اب جو تم بتوں کی عبادت کرتے ہو اور انہیں خدا کا شریک ٹھہراتے ہو تو تم ہی بتلاؤ کہ ان بتوں نے کونسا آسمان بنایا کون سی زمین پیدا کی کدھر انہوں نے دریا بہائے اگر کچھ نہیں کیا تو پھر یہ اس خدا کے برابر کیوں کر ہوسکتے ہیں جس نے ساری چیزیں پیدا کی ہیں۔ تھوڑا سا تو غور کر کے دیکھو تمہارے خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے اور کیس کیسی نعمتیں تم کو دیں کیا تم ان کا شمار کرسکتے ہو اور اس کا شکر ادا کرسکتے ہو۔ ہرگز نہیں گن سکتے اگر وہ اپنی ہر نعمت کے مقابل میں تم سے شکر چاہے تو بالکل بجا ہے اور تم سے کوتاہی ہونے پر تمہیں سزا کا مستحق ٹھہرا سکتا ہے مگر اس نے ان باتوں سے درگز کی اور تم پر مہربانی کی کہ ہر نعمت پر تم سے شکر کا طلب گار نہیں ہے البتہ بہت سی نعمتوں کے مقابل میں تم سے ایک تھوڑا سا یہ شکریہ ادا کرنے کو کہتا ہے کہ تم خالق اور مخلوق کو برابر ٹھہرا کر اللہ کی تعظیم میں فرق نہ ڈالو اپنے خالق کو یاد رکھو یہ نہیں کہ بالکل ہی اس کو بھول جاؤ اور اس کا شریک ٹھہرانے لگو۔ ابن جریر نے ان اللہ لغفور رحیم کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ وہ تمہارے قصور کو معاف کرنے والا ہے جو ان نعمتوں کے شکریہ میں تم سے ہوا ہے اور جب تم شرک سے توبہ کرلو اور اس کی اطاعت اور اس کی خوشی کے ہر کام کی طرف رجوع ہوجاؤ تو وہ تم پر ازحد مہربان ہے اور توبہ قبول کرلیتا ہے اور توبہ قبول ہونے پر عذاب نہیں کرتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں انسان کی ضرورت اور راحت کی چیزوں کا ذکر فرما کر اوپر کے ذکر کا یہ نتیجہ اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کہ یہ سب چیزیں تو اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس لئے اب یہ بات ان مشرکوں کو سوچنی چاہئے کہ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کئے جانے کا کیا حق ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اگر بندے اس حق کو ادا کریں گے تو ان کا اللہ پر یہ حق ہوگا کہ اللہ ان کو عقبیٰ کے عذاب سے بچاوے ١ ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص شرک سے بچا تو اس نے حق بندگی ادا کر کے اس معبود حقیقی کی تعظیم میں فرق نہیں ڈالا اس لئے سوا شرک کے کچھ اور گناہ ہوں گے۔ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور جو شخص جیتے جی شرک میں گرفتار رہا اور اسی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا تو اس نے اللہ کی تعظیم میں فرق ڈال کر خالق اور مخلوق کا مرتبہ ایک کردیا۔ اس لئے ایسا شخص اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ اللہ اس پر مہربان ہو اور اس کے گناہوں کو بخشے غرض حافظ ابو جعفر ابن جریر نے ان اللہ لغفور رحیم کا جو مطلب بیان کیا ہے وہ معاذ بن جبل (رض) کی حدیث کے موافق ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ١٣ کتاب الایمان۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 بلکہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس میں استفہام برائے تکبیت ہے اور اس سے شرک کا ابطال مقصود ہے۔ (روح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١٧ تا ٢١ اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (١٦ : ١٧) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی تخلیق کی ہے اس شخص کے برابر تصور کرسکتا ہے جس نے کوئی چیز بھی پیدا نہیں کی۔ نہ بڑی اور نہ چھوٹی۔ افلا تذکرون (١٦ : ١٧) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ اس کے لئے تو محض یادداشت تازہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ امر تو تمہاری فطرت کے اندر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے کئی رنگ اور کئی پہلو بیان کرنے کے بعد یہ کہا : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (١٦ : ١٨) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے “۔ شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے اس لیے کہ نہ ان کا شمار ممکن ہے اور نہ شکر ، بلکہ اللہ کے اکثر انعامات ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک انسان کو علم ہی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بعض امور کو انسان روٹین کے امور سمجھتا ہے۔ ان کا اسے شعور ہی نہیں ہوتا۔ اسے تب احساس ہوتا ہے جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے۔ ذرا انسان کے جسم کی میکان کی ترکیب کو دیکھو ! جس کا ہر حصہ ایک فریضہ ادا کر رہا ہے اور انسان کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی پرزۂ جسم ناکارہ ہوجائے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم نعمت سے محروم ہوگیا ہے۔ بس انسان پر تقصیر اور ضعیف کی مدد کو تو اللہ کی صفت رحمت اور صفت عفو ریت پہنچتی ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم (١٦ : ١٨) ” بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا رحیم ہے “۔ وہ خالق ایسی ذات ہے جو ہمارے کھلے اور پوشیدہ تمام امور سے واقف ہے۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون (١٦ : ١٩) ” اور اللہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی “۔ لہٰذا یہ بات تعجب انگیز ہے کہ لوگ اللہ کی ذات کو ان اشخاص و اشیاء کے ساتھ برابر کرتے ہیں جو نہ کوئی حقیر سی شے بھی پیدا کرسکتے ہیں ، نہ کوئی چیز جانتے ہیں ، بلکہ وہ تو مردہ ہیں ، ان کے اندر زندگی داخل ہی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے۔ والذین یدعون ۔۔۔۔۔ وھم یخلقون (٢٠) اموات ۔۔۔۔۔ یبعثون (٢١) (١٦ : ٢٠- ٢١) ” اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں ، مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا “۔ یہاں جو بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے خالق تو وہ ہوتا ہے جسے بعث کا علم ہو ، کیونکہ تخلیق کی تکمیل تب ہوگی جب قیامت برپا ہوگی اور اس وقت تمام ذی عقل افراد کو ان کے کئے کی جزاء وسزا دی جائے گی۔ لہٰذا ایسے خدا جن کو بعث بعد الموت کا علم ہی نہیں ہے وہ خدایا الٰہ ہونے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے کہ ایک خالق کو نہ اپنی مخلوق کا پتہ ہو اور نہ یہ علم ہو کہ اس مخلوق کو کب اٹھایا جائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مخلوق اور خالق برابر نہیں ہوسکتے، تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو نہیں گن سکتے، اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں وہ بےجان ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے گزشتہ آیات میں توحید کے دلائل بیان فرمائے اور مخلوقات کی انواع و اقسام بیان فرمائیں اور ان کے فوائد بھی بتائے، یہ تمام چیزیں اور ان کے علاوہ ہر چیز جو کبھی موجود تھی یا موجود ہے یا موجود ہوگی سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو جاہلوں نے دوسروں کی عبادت شروع کردی ان کے وہ معبود اللہ کی مخلوق ہیں۔ مخلوق خالق کے برابر نہیں ہوسکتی پھر یہ کیسی حماقت ہے کہ مخلوق کو خالق کا ساجھی بنا دیا کچھ تو سمجھ کی بات کرتے اور دلائل توحید سے نصیحت لیتے، سورة لقمان میں فرمایا (ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (یہ اللہ کی مخلوق ہے سو مجھے دکھاؤ ان لوگوں نے پیدا کیا جو اس کے سوا ہیں، بلکہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں ہیں) درحقیقت یہ بہت بڑی بھونڈی اور بھدی اور بےعقلی کی بات ہے کہ خالق کو مخلوق کے برابر کردیا جائے اور مخلوق کو معبود بنالیا جائے، پھر فرمایا کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہیں کرسکتے، پہلی نعمت تو یہ ہے کہ اس نے وجود بخشا اعضاء دئیے آنکھ ناک دئیے، سمجھنے کی قوت دی، اچھے برے کی تمیز عطا فرمائی، اور اس کے علاوہ بےانتہاء نعمتیں ہیں، ان نعمتوں کی قدر دانی کا تقاضا یہ تھا کہ موحد بنتے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے لیکن اس کے برخلاف مشرکین نے شرک اختیار کرلیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت بیان فرمائی کفر و شرک بہت بڑا جرم ہے لیکن اگر کوئی مشرک یا کافر توبہ کرلے اور ایمان والا بن جائے تو اس کی مغفرت ہوجاتی ہے اگر کوئی شخص ایمان قبول نہ کرے تب بھی دنیا میں کچھ نہ کچھ نعمتیں ملتی رہتی ہیں، یہ شان رحمت کا مظاہرہ ہے، بعض حضرات نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہر نعمت کے مقابلہ میں شکر کا مطالبہ فرماتا تو اس سے عاجز رہ جاتے لیکن وہ غفور و رحیم ہے گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف کرتا ہے اور تھوڑے عمل پر بھی جزا دیتا ہے (ذکرہ ابن کثیر)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ یہ پہلی دونوں عقلی دلیلوں پر متفرع اور ان کا نتیجہ ہے۔ مذکورہ بالا دونوں دلیلوں کی تفصیلات سے معلوم ہوگیا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے اور مشرکین کے مزعومہ معبودوں نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا تو کیا ازر وئے عقل یہ ممکن ہے کہ جس نے سب کچھ پیدا کیا ہو اور جس نے کچھ بھی پیدا نہ کیا وہ دونوں برابر ہوں اور دونوں متصرف و مختار اور مستحق الوہیت ہوں ؟ نہیں ! نہیں ! ! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جو ساری کائنات کا خالق ہے وہی متصرف و کارساز اور مستحق الوہیت ہوسکتا ہے۔ ” اَ فَلَا تَذَکَّرُوْنَ “ یہ بات کس قدر واضح ہے مگر تم لوگ اس قدر واضح بیان کے بعد بھی سمجھنے اور نصیحت پکڑنے کی کوشش نہیں کرتے ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

17 ۔ پھر بھلا وہ جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتا ہے کیا وہ اس جیسا ہے جو کچھ بھی نہیں پیدا کرسکتا پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی ایک وہ جو تمام کائنات کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے کیا وہ اس کے برابر اور اس جیسا ہوسکتا ہے جو کچھ بھی نہ پیدا کرسکے جب برابر ی نہیں تو پھر کیوں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔