Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 39

سورة النحل

لِیُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیۡ یَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰذِبِیۡنَ ﴿۳۹﴾

[It is] so He will make clear to them [the truth of] that wherein they differ and so those who have disbelieved may know that they were liars.

اس لئے بھی کہ یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے تھے اسے اللہ تعالٰی صاف بیان کردے اور اس لئے بھی کہ خود کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لِيُبَيِّنَ لَهُمُ ... In order that He may make clear to them, means, to mankind, ... الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ ... what they differed over, means, every dispute. لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى that He may requite those who do evil with that which they have done (i.e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise). (53:31) ... وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَاذِبِينَ and so that those who disbelieved may know that they were liars. meaning that they lied in their oaths and their swearing that Allah would not resurrect those who die. Thus they will be pushed down by force to the Fire with horrible force on the Day of Resurrection, and the guards of Hell will say to them: هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see Taste its heat, and whether you are tolerant of it or intolerant of it - it is all the same. You are only being requited for what you have done. (52:14-16) Then Allah tells us about His ability to do whatever He wills, and that nothing is impossible for Him on earth or in heaven. When He wants a thing, all He has to do is say to it "Be!" and it is. The Resurrection is one such thing, when He wants it to happen, all He will have to do is issue the command once, and it will happen as He wills, as He says: وَمَأ أَمْرُنَأ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ And Our commandment is but one as the twinkling of an eye. (54:50) and, مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ The creation of you all and the resurrection of you all are only as (the creation and resurrection of) a single person. (31:28) And in this Ayah, Allah says: إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 یہ وقوع قیامت کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ان چیزوں میں فیصلہ فرمائے گا جن میں لوگ دنیا میں اختلاف کرتے تھے اور اہل حق اور اہل تقویٰ کو اچھی جزا اور اہل کفر و فسق کو ان کے برے عملوں کی سزا دے گا۔ نیز اس دن اہل کفر پر بھی یہ بات واضح ہوجائے گی کہ قیامت کے عدم وقوع پر جو قسمیں کھاتے تھے ان میں وہ جھوٹے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] روز آخرت کا قیام ضروری ہونے کی دو وجوہ :۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے اس دعویٰ کا نقلی جواب یہ دیا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے وہ پورا کرکے رہے گا۔ اور یہ وعدہ سابقہ انبیاء کی زبان سے لوگوں کو بتایا گیا اور تمام الہامی کتابوں میں موجود ہے اور مشرکین مکہ کو بھی اہل کتاب کا یہ عقیدہ اچھی طرح معلوم تھا۔ اور عقلی جواب یہ دیا کہ بھلا جو ہستی پہلی بار کائنات کا یہ وسیع سلسلہ وجود میں لاچکی ہے اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا یا ایسا ہی کائنات کا دوبارہ نظام وجود میں لانا کیا مشکل ہے ؟ لہذا وہ اس بات کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ پھر بعث بعد الموت کی دو وجوہ اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ آزادی و اختلاف رائے کی بنا پر دنیا میں بیشمار اختلافات رونما ہوئے اور نئے سے نئے نظریئے نئے نئے مذاہب اور نظام حیات رائج ہوتے رہے۔ کوئی قومیت کا پرستار ہے تو کوئی وطنیت کا، کوئی دہریت کا اور کوئی سوشلزم کا، کوئی کمیونزم کا اور کوئی سرمایہ داری کا اور کوئی خلافت کا ان میں ٹکراؤ ہوا۔ جنگیں ہوئیں۔ دونوں طرف سے لوگ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں قتل ہوئے۔ لیکن یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ ان میں سے کوئی سچا بھی تھا یا نہیں۔ یا اگر کوئی سچا تھا تو وہ کون سا گروہ تھا اور جھوٹا کون سا ؟ اور یہ کائنات چونکہ حق پر مبنی ہے لہذا اس بات کا فیصلہ ضروری تھا کہ اللہ ایسے لوگوں پر صحیح صورت حال کی وضاحت کر دے اور کافروں کو بالخصوص اس بات کا پتہ چل جائے کہ وہی جھوٹے تھے۔ اختلافات کی وضاحت اور مکافات عمل :۔ اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے اپنی پوری کی پوری زندگی ظلم و زیادتی کرنے میں گزاری تھی اور ان کے جرائم کی سزا کے لیے دنیا کی زندگی کی مدت بہت ناکافی تھی۔ اسی طرح جن لوگوں نے راہ حق میں قربانیاں دیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے رہے اور یہ دنیا کی زندگی کی مدت ان کی جزاء کے لیے ناکافی تھی۔ لہذا روز آخرت کا قیام عین عقل، عدل اور حکمت کے مطابق ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ : یعنی وہ کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں جو قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور یہ کہ حساب کتاب، جنت و دوزخ سب بےحقیقت چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب دنیا میں سب باتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سب اختلافات کو دور کرنے کے لیے دوسرے جہاں، یعنی آخرت کا ہونا ” لابد “ (جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں) ہے، تاکہ حق و باطل میں امتیاز ہوجائے اور منکرین اپنا کیا پائیں۔ ” كَانُوْا كٰذِبِيْنَ “ لفظ ” كَانُوْا “ میں، یعنی زمانۂ ماضی میں دوام اور استمرار پایا جاتا ہے، اس کے بجائے ” اِنَّھُمْ کَذَبُوْا “ یا ” إِنَّھُمْ کَاذِبُوْنَ “ میں یہ مفہوم ادا نہیں ہوتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ 39؀ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٩) تاکہ دین کے متعلق جس چیز میں اہل مکہ اختلاف کیا کرتے تھے، ان کے روبرو اس چیز کا اظہار کردے اور تاکہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم اور قیامت کے منکرین کو پورا یقین ہوجائے گا کہ دنیا میں ہم ہی جھوٹ کہتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩ (لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ ) اللہ تعالیٰ پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کو دوبارہ اٹھائے گا اور انہیں ایک جگہ جمع کرے گا۔ پھر ان کے تمام اختلافی نظریات و عقائد کے بارے میں حتمی طور پر انہیں بتادیا جائے گا۔ چناچہ اس وقت تمام منکرین حق کو اقرار کیے بغیر چارہ نہ رہے گا کہ ان کے خیالات و نظریات واقعی جھوٹ اور باطل پر مبنی تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

35. In (Ayat 39 )those two things have been stated which rationally and morally require that there must be Resurrection and life after death, that is: (1) To reveal what the reality was, and (2) To reward or punish people in accordance with the right or wrong stand they took about it in this world. It is common knowledge that since the creation of man on the earth there have been many differences regarding the reality which have been sowing dissension between families, nations and races. These have also led to the formation of many different societies, cultures and creeds on different theories. In every age millions of the torch bearers of each of these theories have been putting at stake all their life, property and honor to propagate and defend their favorite theory. Nay, there has always been such a bitter conflict between them that each group tried to annihilate the other, who, in his turn, stuck to it to the last. This being the case, common sense demands that such far reaching and serious differences should be cleared some time or other, so as to decide with certainty what was right and what was wrong, who was in the right and who was in the wrong. Obviously, it is not possible to lift the curtain from the reality in this world so as to reveal things in their true perspective. This is because the system on which this world has been created does not allow this. Therefore, there should be another world to fulfill this demand of common sense. This is not the demand of common sense alone but also of the moral sense, which requires that the partners in this conflict should be rewarded or punished according to right or wrong, just or unjust part they played in it. For, some of these committed cruelties on the others, who had to make sacrifices for their cause. Then each one should also bear the responsibility for formulating and practicing a moral or immoral philosophy which influenced millions and billions of others for better or worse. Moral sense demands that there should be a time for the moral consequences to take their due course. As this is not possible in this world there should be another world for the purpose.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :35 یہ حیات بعد الموت اور قیام حشر کی عقلی اور اخلاقی ضرورت ہے ۔ دنیا میں جب سے انسان پیدا ہوا ہے ، حقیقت کے بارے میں بے شمار اختلاف رونما ہوئے ہیں ۔ انہی اختلافات کی بنا پر نسلوں اور قوموں اور خاندانوں میں پھوٹ پڑی ہے ۔ انہی کی بنا پر مختلف نظریات رکھنے والوں نے اپنے الگ مذہب ، الگ معاشرے ، الگ تمدن بنائے یا اختیار کیے ہیں ۔ ایک ایک نظریے کی حمایت اور وکالت میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے مختلف زمانوں میں جان ، مال ، آبرو ، ہر چیز کی بازی لگا دی ہے ۔ اور بے شمار مواقع پر ان مختلف نظریات کے حامیوں میں ایسی سخت کشاکش ہوئی ہے کہ ایک نے دوسرے کو بالکل مٹا دینے کی کوشش کی ہے ، اور مٹنے والے نے مٹتے مٹتے بھی اپنا نقطہ نظر نہیں چھوڑا ہے ۔ عقل چاہتی ہے کہ ایسے اہم اور سنجیدہ اختلافات کے متعلق کبھی تو صحیح اور یقینی طور پر معلوم ہو کہ فی الواقع ان کے اندر حق کیا تھا اور باطل کیا ، راستی پر کون تھا ، اور ناراستی پر کون ۔ اس دنیا میں تو کوئی امکان اس پردے کے اٹھنے کا نظر نہیں آتا ۔ اس دنیا کا نظام ہی کچھ ایسا ہے کہ اس میں حقیقت پر سے پردہ اٹھ نہیں سکتا ۔ لہٰذا لا محالہ عقل کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرا ہی عالم درکار ہے ۔ اور یہ صرف عقل کا تقاضا ہی نہیں ہے بلکہ اخلاق کا تقاضا بھی ہے ۔ کیونکہ ان اختلافات اور ان کشمکشوں میں بہت سے فرقوں نے حصہ لیا ہے ۔ کسی نے ظلم کیا ہے اور کسی نے سہا ہے ۔ کسی نے قربانیاں کی ہیں اور کسی نے ان قربانیوں کو وصول کیا ہے ۔ ہر ایک نے اپنے نظریے کے مطابق ایک اخلاقی فلسفہ اور ایک اخلاقی رویہ اختیار کیا ہے اور اس سے اربوں اور کھربوں انسانوں کی زندگیاں برے یا بھلے طور پر متاثر ہوئی ہیں ۔ آخر کوئی وقت تو ہونا چاہیے جبکہ ان سب کا اخلاقی نتیجہ صلے یا سزا کی شکل میں ظاہر ہو ۔ اس دنیا کا نظام اگر صحیح اور مکمل اخلاقی نتائج کے ظہور کا متحمل نہیں ہے تو ایک دوسری دنیا ہونی چاہیے جہاں یہ نتائج ظاہر ہو سکیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٩۔ ٤٠۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ کفار اس بات پر قسمیں کھاتے تھے کہ مر کر پھر جینا کوئی چیز نہیں ہے جس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ کیا وجہ ہے جو ایسا نہیں ہوسکتا ضرور ضرور قیامت ہوگی اللہ پاک نے وعدہ کرلیا ہے اور اس کا وعدہ بالکل حق اور سچا ہوتا ہے اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اللہ جل شانہ اپنی ساری مخلوق کو زندہ کرے گا یہ مشرک یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اسی واسطے مقرر کیا ہے کہ دنیا میں لوگ جن باتوں میں اختلاف کیا کرتے ہیں کوئی رسول کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے کوئی بتوں کو پوجتا ہے کوئی خالص اللہ جل شانہ کو یہ سب حال لوگوں پر اس روز کھل جائے گا اور کفار اچھی طرح اپنے کفر کو جان لیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ جو اعتقاد رکھتے تھے وہ محض غلط تھا اور بالکل گمراہ ہو رہے تھے پھر یہ ارشاد فرمایا کہ کفار کا یہ اعتراض کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کرنا ممکن نہیں ہے بالکل غلط ہے کیوں کہ جس نے پہلے بغیر نمونہ کے ہر شئی کی ایجاد کی اس میں کیا قدرت نہیں ہے کہ اس شئے کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اس کو دوبارہ وجود میں لائے یہ بات تو بالکل آسان ہے کہ ایک شئی جس کا وجود ہوچکا ہے پھر اس کو فنا کے بعد ویسا ہی بنا دیا جائے۔ بہت مشکل تو وہ کام ہے کہ جب سرے سے کوئی شئی موجود نہ ہو اور اس کا ڈھانچہ تیار کیا جائے پھر فرمایا کہ اس کی قدرت اور اس کے اختیار کچھ ایسے ویسے نہیں ہیں اس کا تو ارادہ کرنا ہی کافی ہوتا ہے جب وہ کسی شئے کے بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ایک کن کے حکم سے وہ شئی ظہور میں آجاتی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت سے حدیث قدسی اوپر گزر چکی ہے ١ ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر انسان سوچے تو پانی جیسی پتلی چیز سے اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دی پھر دوسری دفعہ انسان کی رواں دواں خاک سے اس کے پتلے کے بنانے اور اس میں روح کے پھونکے جانے کی خبر جو میں نے اپنے کلام پاک میں دی تو انسان نے اس کو جھٹلایا یہ ہٹ دہرمی انسان کو زیبا نہیں تھی بعث و نشور بیہقی اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے ٢ ؎۔ کہ ایک شخص عاص بن وائل نے ایک بوسیدہ ہڈی کو مل کر وہ خاک ہوا میں اڑا دی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑی بحث کی کہ یہ رواں دواں خاک کہاں سے آوے گی اور اس کا پتلہ پھر کیوں کر بنے گا۔ مسند امام احمد، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے بشیر بن حجاش (رض) کی معتبر روایت گزر چکی ہے ٣ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان اس تھوک جیسی حقیر چیز سے پیدا ہوا لیکن وہ اپنی حقیقت کو بھول گیا اور حشر کو جھٹلانے لگا اتنا نہیں سمجھتا کہ بغیر حشر کے قائم ہونے اور نیک و بد کی جزا و سزا کے تمام دنیا کا پیدا کرنا بالکل بےٹھکانے رہتا ہے اور اس طرح کا بےٹھکانے پیدا کرنا خدا کی شان سے بہت بعید ہے یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں جہاں جاوے گی اس کا سب پتہ اور نشان لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ ان سب روایتوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حشر کا انکار انسان کے حوصلہ سے باہر اور بڑی ہٹ دہرمی اور تمام دنیا کو بلا نتیجہ پیدا کرنے کا الزام اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگانا ہے۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٢٠٣۔ ٣٣٠۔ ٢ ؎ جلد ہذا ص ٣١١۔ ٣ ؎ جلد ہذا ص ٣١٠۔ ٣٣٠۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:39) لیبین لہم۔ میں لام تعلیل کا ہے اور اس کا تعلق فعل مقدر یبعثہم سے ہے جس پر لفظ بلی دلالت کرتا ہے۔ اور لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب من یموت (38) کی طرف راجع ہے اس میں مومن کافر سبھی شامل ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ مردوں کو ضرور بالضرور دوبارہ اٹھائے گا تا کہ ان پر (وہ بات) واضح کردے جس کے متعلق ان میں اختلاف تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 جو قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور یہ کہ حساب و کتاب جنت و دوزخ سب بےحقیقت چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب دنیا میں سب باتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سب اختلاف کو دور کرنے کے لئے دوسرے جہان یعنی آخرت کا ہونا لا ابدی ہے کہ حق و باطل میں امتیاز ہوجائے اور منکرین اپنا کیا پاویں۔ (کذافی الموضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ پس قیامت کا آنا یقینی اور عذاب سے فیصلہ ہونا ضروری۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

39 ۔ یہ دوسری زندگی اس لئے ہوگی تا کہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کیا کرتے تھے ان باتوں کی حقیقت ان پر واضح کر دے اور ان کے روبرو بیان کر دے اور اس لئے تا کہ منکر اس امر کو جان لیں کہ واقعی وہ جھوٹے تھے۔ پہلی آیت میں وقوع قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی تاکید ہے اور دوسری آیت میں وقوع قیامت کی وجہ سے ہے اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ایک دن ایسا ہونا چاہئے جس میں تمام امور مختلفہ کا اظہار ہوجائے اور منکروں کو ان دعاوی کی تکذیب معلوم ہوجائے جو دعویٰ وہ کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا اور کسی نے اللہ تعالیٰ کو مانا اور کوئی منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے جھگڑے تحقیق ہوں سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع اور منکر اپنا کیا پاویں ۔ 12