Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 4

سورة النحل

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴﴾

He created man from a sperm-drop; then at once, he is a clear adversary.

اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He has created man from a Nutfah, then behold, this same (man) becomes an open opponent. Allah mentions how man has been created from a Nutfah, i.e., something that is insignificant, weak and has no value - but when man becomes independent and is able to fend for himself - then he begins to dispute with his Lord, may He be exalted, and disbelieves in Him and fights His Messengers. But man was created to be a servant, not an opponent, as Allah says: وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ مِنَ الْمَأءِ بَشَراً فَجَعَلَهُ نَسَباً وَصِهْراً وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيراً وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُهُمْ وَلاَ يَضُرُّهُمْ وَكَانَ الْكَـفِرُ عَلَى رَبِّهِ ظَهِيراً And it is He Who has created man from water, and gave him descendants, and made Him kindred by marriage, and your Lord is capable (of all things). And they worship besides Allah, that which can neither profit them nor harm them; and the disbeliever is ever a helper (of Shaytan) against his Lord. (25: 54-55) And; أَوَلَمْ يَرَ الاِنسَـنُ أَنَّا خَلَقْنَـهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مٌّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَأ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ Does not man see that We have created him from Nutfah. Yet, behold he stands as an open opponent. And he puts forth for Us a parable, and forgets his own creation. He says: "Who will give life to these bones after they are rotten and have become dust" Say: "He will give life to them Who created them the first time! And He is the knower of every creature!" (36:77-79) Imam Ahmad and Ibn Majah reported that Busr bin Jahhash said: "The Messenger of Allah spat in his palm, then he said, يَقُولُ اللهُ تَعَالَى ابْنَ ادَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ فَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْكَ وَلِلَْرْضِ مِنْكَ وَيِيدٌ فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَة Allah, may He be exalted, says: "O son of Adam, how could you be more powerful than I when I have created you from something like this, and when I have fashioned you perfectly and made you complete, you walk wearing your two garments and the earth makes a sound (beneath your feet). You collect money but do not give anything to anyone, then when the soul of a dying person reaches the throat, you say, `I want to give in charity', but it is too late for charity."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی ایک جامد چیز سے جو ایک جاندار کے اندر سے نکلتی ہے۔ جسے منی کہا جاتا ہے۔ اسے مختلف اطوار سے گزار کر ایک مکمل صورت دی جاتی ہے، پھر اس میں اللہ تعالیٰ روح پھونکتا ہے اور ماں کے پیٹ سے نکال کر اس دنیا میں لاتا ہے جس میں وہ زندگی گزارتا ہے لیکن جب اسے شعور آتا ہے تو اسی رب کے معاملے میں جھگڑتا، اس کا انکار کرتا یا اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] ? صیم مبین سے مراد ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انسان جو ایک ننھی سی پانی کی بوند سے پیدا ہوا ہے نفخہ روح خداوندی کی بدولت وہ بحث و استدلال کا ڈھنگ سیکھ جاتا ہے اور اپنے مدعا پر طرح طرح کے دلائل پیش کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ اس مطلب میں قدرت خداوندی کا اظہار مقصود ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی اوقات کی طرف نظر نہیں کرتا کہ وہ ایک حقیر سی پانی کی بوند سے پیدا کیا گیا ہے پھر جب اس میں کچھ عقل آتی ہے تو حق کے مقابلہ میں کٹ حجتیاں پیش کرنے لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی جھگڑا کرنے سے باز نہیں آتا اور اس مطلب سے مقصود انسان کی سرکشی کا اظہار ہے اور اسی مطلب کی تائید سورة یٰسین کی آیت نمبر ٧٧، ٧٨ سے بھی ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ ۔۔ : ” نَطَفَ “ (ض، ن) ٹپکنا۔ ” نُّطْفَةٍ “ قطرہ۔ تاء تحقیر کے لیے ہے، یعنی حقیر اور معمولی قطرے سے۔ ” خَصِيْمٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے۔ زمین و آسمان کے بعد ان میں پیدا کردہ چیزیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش فرمائیں، سب سے پہلے انسان کا ذکر فرمایا، یہی بات سورة یس میں تفصیل سے بیان فرمائی، فرمایا : (اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ ) [ یٰسٓ : ٧٧، ٧٨ ] ” اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا، کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی ؟ “ ” إِذَا “ فجائیہ ” اچانک “ کے معنی میں آتا ہے، یعنی ایسی عجیب چیز کا وجود میں آنا جس کا وہم و گمان بھی نہ ہو، یعنی اگر یاد رکھتا تو ایک حقیر قطرے سے مختلف اطوار سے گزر کر وجود میں آنے والے انسان سے اس جھگڑے کی توقع ہی نہ کی جاسکتی تھی، بلکہ حق یہ تھا کہ وہ اپنی پیدائش کو یاد رکھتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت کے دونوں حصوں سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر استدلال مقصود ہو، یعنی نطفہ سے پیدا کیا، پھر اس میں کامل طور پر ساری قوتیں یعنی سوچنے سمجھنے کی اور بولنے کی پیدا کردیں کہ حجت و استدلال اور بحث کے قابل ہوگیا۔ (روح المعانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The verses affirm the Oneness of Allah through the great signs of the creation of the universe. The first such creation pointed to is the creation of the heavens and the earth. Then comes the creation of human beings whom Allah Ta’ ala has made the ones who are served by the whole uni¬verse. How did man originate? The text says that he was created from an insignificant drop. at happened then was: فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (and soon he turned into a quarrelsome person expressing himself openly). In other words, when the elementally weak man was endowed with strength and speech, he turned into a critic of the Creator Himself disputing His Being and Attributes publicly.

معارف و مسائل : ان آیتوں میں تخلیق کائنات کی عظیم نشانیوں سے حق تعالیٰ کی توحید کا اثبات ہے اول تو سب سے پہلی مخلوق آسمان اور زمین کا ذکر فرمایا اس کے بعد تخلیق انسان کا ذکر فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم کائنات بنایا ہے انسان کی ابتداء ایک حقیر نطفے سے ہونا بیان کر کے فرمایا (آیت) فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ یعنی جب اس ضعیف الخلقت انسان کو طاقت اور قوت گویائی عطا ہوئی تو خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگڑے نکالنے لگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ ۝ نطف النُّطْفَةُ : الماءُ الصافي، ويُعَبَّرُ بها عن ماء الرَّجُل . قال تعالی: ثُمَّ جَعَلْناهُ نُطْفَةً فِي قَرارٍ مَكِينٍ [ المؤمنون/ 13] ، وقال : مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ [ الإنسان/ 2] ، أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى [ القیامة/ 37] ويُكَنَّى عن اللُّؤْلُؤَةِ بالنَّطَفَة، ومنه : صَبِيٌّ مُنَطَّفٌ: إذا کان في أُذُنِهِ لُؤْلُؤَةٌ ، والنَّطَفُ : اللُّؤْلُؤ . الواحدةُ : نُطْفَةٌ ، ولیلة نَطُوفٌ: يجيء فيها المطرُ حتی الصباح، والنَّاطِفُ : السائلُ من المائعات، ومنه : النَّاطِفُ المعروفُ ، وفلانٌ مَنْطِفُ المعروف، وفلان يَنْطِفُ بسُوء کذلک کقولک : يُنَدِّي به . ( ن ط ف ) النطفۃ ۔ ضمہ نون اصل میں تو آب صافی کو کہتے ہیں مگر اس سے مرد کی منی مراد لی جاتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ ثُمَّ جَعَلْناهُ نُطْفَةً فِي قَرارٍ مَكِينٍ [ المؤمنون/ 13] پھر اس کو ایک مضبوط اور محفوظ جگہ ہیں نطفہ بنا کر رکھا ۔ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ [ الإنسان/ 2] نطفہ مخلوط سے أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى [ القیامة/ 37] کیا وہ منی کا جور رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا ۔ اور کنایۃ کے طور پر موتی کو بھی نطمۃ کہا جاتا ہے اسی سے صبی منطف ہے یعنی وہ لڑکا جس نے کانوں میں موتی پہنے ہوئے ہوں ۔ النطف کے معنی ڈول کے ہیں اس کا واحد بھی نطفۃ ہی آتا ہے اور لیلۃ نطوف کے معنی بر سات کی رات کے ہیں جس میں صبح تک متواتر بارش ہوتی رہے ۔ الناطف سیال چیز کو کہتے ہیں اسی سے ناطف بمعنی شکر ینہ ہے اور فلان منطف المعروف کے معنی ہیں فلاں اچھی شہرت کا مالک ہے اور فلان ینطف بسوء کے معنی برائی کے ساتھ آلودہ ہونے کے ہیں جیسا کہ فلان یندی بہ کا محاورہ ہے ۔ خصم الخَصْمُ مصدر خَصَمْتُهُ ، أي : نازعته خَصْماً ، يقال : خاصمته وخَصَمْتُهُ مُخَاصَمَةً وخِصَاماً ، قال تعالی: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] ، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] ، ثم سمّي المُخَاصِم خصما، واستعمل للواحد والجمع، وربّما ثنّي، وأصل المُخَاصَمَة : أن يتعلّق كلّ واحد بخصم الآخر، أي جانبه وأن يجذب کلّ واحد خصم الجوالق من جانب، وروي : ( نسیته في خصم فراشي) «1» والجمع خُصُوم وأخصام، وقوله : خَصْمانِ اخْتَصَمُوا [ الحج/ 19] ، أي : فریقان، ولذلک قال : اخْتَصَمُوا وقال : لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ، وقال : وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ، والخَصِيمُ : الكثير المخاصمة، قال : هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] ، والخَصِمُ : المختصّ بالخصومة، قال : بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] . ( خ ص م ) الخصم ۔ یہ خصمتہ کا مصدر ہے جس کے معنی جھگڑنے کے ہیں کہاجاتا ہے خصمتہ وخاصمتہ مخاصمۃ وخصاما کسی سے جھگڑا کر نا قرآن میں ہے :۔ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] اور وہ حالانکہ سخت جھگڑا لو ہے ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] اور جھگڑنے کے وقت بات نہ کرسکے ۔ اور مخاصم کو خصم کہا جات ہے ، اور خصم کا لفظ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی تثنیہ بھی آجاتا ہے۔ اصل میں خصم کے معنی کنارہ کے ہیں ۔ اور مخاصمت کے معنی ایک دوسرے سے کو کنارہ سے پکڑنے کے ہیں ۔ اور بوری کو کونے سے پکڑکر کھینچنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے :۔ (114) نسی تھا فی خصم فراشی کہ میں اسے اپنے بسترہ کے کونے میں بھول آیا ہوں خصم کی جمع خصوم واخصام آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ اخْتَصَمُوا[ الحج/ 19] دوفریق جھگڑتے ہیں ۔ میں خصما ن سے دو فریق مراد ہیں اسی لئے اختصموا آیا ہے ۔ الاختصام ( افتعال ) ایک دوسرے سے جھگڑنا ۔ قرآن میں ہے :۔ لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ہمارے حضور رد کد نہ کرو ۔ وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ۔۔۔۔ وہ آپس میں جھگڑیں گے ۔ الخصیم ۔ جھگڑا لو بہت زیادہ جھگڑا کرنے والا جیسے فرمایا :۔ هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] مگر وہ ( اس بارے میں ) علانیہ جھگڑنے لگا ۔ الخصم سخٹ جھگڑالو جس کا شیوہ ہ جھگڑنا ہو ۔ قرآن میں ہے :َ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] حقیقت یہ ہے ۔ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑا لو، لو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤) اور انسان کو یعنی ابی بن خلف جہنمی کو سڑے ہوئے نطفہ سے بنایا پھر وہ یکایک باطل کی حمایت میں کھلم کھلا جھگڑنے لگا کہ ہڈیاں جب ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو پھر ان کو کون زندہ کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ) انسان اپنے خود ساختہ نظریات کے حق میں خوب بحثیں کرتا ہے ‘ عقلی و نقلی دلیلیں دیتا ہے اور زور خطابت سے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7. This has two meanings and both are meant here. (1) Though Allah created man from an insignificant spermdrop, he is capable of arguing and giving reasons in support of his claim. (2) Man who has such an insignificant origin, has become so vain that he does not hesitate to dispute even with his Creator. If considered in its first sense, it is a chain in the series of arguments given in many succeeding verses to prove the truth of the message of the Prophet (peace be upon him). Please refer to (E.N. 15). If taken in the second sense, it is meant to warn man that he should not forget the insignificant origin of his existence while engaged in his rebellious arguments against his Creator. If he remembered the different stages of his humiliating birth and growth, he would consider many times before he assumed a haughty and rebellious attitude towards his Creator.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :7 اس کےدو معنی ہو سکتے ہیں اور غالبا دونوں ہی مراد ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ نے نطفے کی حقیر سی بوند سے وہ انسان پیدا کیا جو بحث واستدلال کی قابلیت رکھتا ہے اور اپنے مدعا کے لیے حجتیں پیش کر سکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ جس انسان کو خدا نے نطفے جیسی حقیر چیز سے پیدا کیا ہے ، اس کی خودی کا طغیان تو دیکھو کہ وہ خود خدا ہی کے مقابلہ میں جھگڑنے پر اتر آیا ہے ۔ پہلے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت اسی استدلال کی ایک کڑی ہے جو آگے مسلسل کئی آیتوں میں پیش کیا گیا ہے ( جس کی تشریح ہم اس سلسلہ بیان کے آخر میں کریں گے ) ۔ اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے سے پہلے ذرا اپنی ہستی کو دیکھ ۔ کس شکل میں تو کہاں سے نکل کر کہاں پہنچا ، کس جگہ تو نے ابتداء پرورش پائی ، پھر کس راستے سے تو برآمد ہو کر دنیا میں آیا ، پھر کن مرحلوں سے گزرتا ہوا تو جوانی کی عمر کو پہنچا اور اب اپنے آپ کو بھول کر تو کس کے منہ آ رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: یعنی انسان کی حقیقت تو اتنی ہے کہ وہ ایک ناپاک بوند سے پیدا ہوا ہے، لیکن جب اسے ذرا قوت گویائی ملی تو جس ذات نے اسے اس ناپاک بوند سے ایک مکمل انسان بنایا تھا اور اسے اشرف المخلوقات کا رتبہ بخشا تھا اسی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس سے جھگڑنا شروع کردیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:4) نطفۃ۔ اسم مفرد۔ صاف پانی۔ مراد نطفہ انسانی۔ فاذا۔ بعض کے نزدیک ظرف زمان ہے۔ سیبویہ کے نزدیک ظرف مکان ہے اہل کوفہ کے نزدیک حرف ہے اکثر شرط پر آتا ہے۔ اور مستقبل کے معنی دیتا ہے۔ (بطور ظرف زمان) حرف مفاجات (کسی چیز کا اچانک پیش آنا) کی صورت میں زمانہ حال کے معنی دیتا ہے۔ یہاں اسی معنی میں آیا ہے بطور حرف مفاجات۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ فالقھا فاذاھی حیۃ تسعی (20:20) پس اس نے اسے ڈال دیا اور وہ دوڑتا ہوا ایک سانپ بن گیا۔ پس اذا کے معنی ہوئے ۔ جب ۔ اس وقت۔ ناگہاں۔ خصیم۔ خصم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ سخت جھگڑالو۔ اخصام۔ خصما، خصمان۔ جمع۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اور اپنی حقیقت بھول گیا اور لگا قدرت کا انکار کرنے اور کہنے لگا کہ ” مرنے کے بعد بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت کے دونوں حصوں سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر استدلال مقصود ہو یعنی نطفہ سے پیدا کیا اور پھر سا میں کامل طور پر قوی اور راکیہ اور قوت گویائی پیدا کردی کہ حجت و استدلال کے ساتھ بحث کرنے کے قابل ہوگیا۔ (روح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ مطلب یہ کہ ہماری تو یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے یہ ناشکری کہ خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگٹرتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد انسان کی تخلیق کا بیان۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیز ہے اسے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے انسان کی تخلیق کے بیان سے پہلے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔ گویا کہ مکیں سے پہلے مکاں کا بیان ہوا۔ اب انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اے انسان تجھے اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا ہے اور زمین و آسمان کی تخلیق کی طرح تیری تخلیق میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو مرد اور عورت کے ملاپ کے ذریعے ان کے نطفہ سے بچہ کو پیدا کرتا ہے، اگر نہ چاہے تو مرد اور عورت کے زندگی بھر کے ملاپ سے کچھ بھی نہ پیدا ہو اور نہ انہیں کوئی دوسرا اولاد عطا کرسکتا ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود انسان نہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو اس کا شریک بناتا ہے بلکہ شرک جیسے عظیم گناہ کے من گھڑت دلائل بھی دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کھلے الفاظ میں جھگڑا کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہر انسان کو اپنی اوقات سامنے رکھنی چاہیے کہ وہ کیا تھا اور کہاں پہنچا اور کس ذات کبریا کے ساتھ اوروں کو شریک بنا کر اس کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے۔ ( یٰس : ٧٧) (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ اِنَّ خَلْقَ اَحَدِکُمْ ےُجْمَعُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ اَرْبَعِےْنَ ےَوْمًا نُّطْفَۃً ثُمَّ ےَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَبْعَثُ اللّٰہُ اِلَےْہِ مَلَکًا بِاَرْبَعِ کَلِمَاتٍ فَےَکْتُبُ عَمَلَہٗ وَاَجَلَہٗ وَ رِزْقَہٗ وَشَقِیٌّ اَوْ سَعِےْدٌ ثُمَّ ےُنْفَخُ فِےْہِ الرُّوْحُ فَوَالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَےْرُہُ اِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ فَےَدْخُلُھَاوَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَےَدْخُلُھَا)[ رواہ البخاری : باب خَلْقِ آدَمَ صَلَوَات اللَّہِ عَلَیْہِ وَذُرِّیَّتِہٖ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے سچے اور مصدوق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں ہر شخص کی تخلیق اس کی والدہ کے رحم میں چالیس دن ایک نطفہ کی صورت میں ہوتی ہے پھر چالیس دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن گوشت کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتے ہیں وہ اس کا کردار، اس کی موت، اس کا رزق، اس کا بد یا نیک ہونا لکھتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ اس اللہ کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آتی ہے اور وہ ایسے کام کرتا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص عمر بھر دوزخیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی ہوتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے۔ پھر وہ جنتیوں والے عمل کرکے جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہٗٓ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہٗٓ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہٗٓ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا) [ رواہ البخاری : باب قَوْلُہٗ قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیسا کہ اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ حالانکہ میرے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں۔ نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری ہر برابری کرنے والا نہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا۔ ٢۔ انسان جھگڑالو ہے۔ تفسیر بالقرآن انسانی تخلیق کے مختلف مراحل : ١۔ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : ٤) ٢۔ اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : ٥٩) ٣۔ حوا کو آدم سے پیدا کیا۔ (النساء : ١) ٤۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : ١٢) ٥۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٦۔ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ (النساء : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ) (اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا تو یکایک وہ جھگڑالو ہوگیا واضح طور پر) انسان کو اللہ تعالیٰ نے منی کے نطفہ سے پیدا فرمایا جو انسان کے نزدیک خود ایک گندی اور ذلیل چیز ہے لیکن انسان اپنی اصل کو تو دیکھتا نہیں اور جھگڑے بازی کرتا ہے اس کا یہ جھگڑا صرف مخلوق ہی کے ساتھ نہیں خالق تعالیٰ جل مجدہ کی اخبار اور احکام میں بھی جھگڑے بازی کرتا ہے سورة یٰسین میں فرمایا (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ) (کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ بلاشبہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا وہ واضح طور پر جھگڑالو ہوگیا اور اس نے ہمارے بارے میں مثل بیان کردی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا وہ کہتا ہے کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا اس حال میں کہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی) معالم التنزیل ص ٦٢ میں لکھا ہے کہ ابی بن خلف مشرک ایک دن ایک بوسیدہ ہڈی لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کیا تم یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے بوسیدہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کردے گا، اس پر آیت بالا نازل ہوئی، سبب نزول جو بھی ہو آیت بالا میں انسان کا جھگڑالو ہونا بیان فرمایا ہے۔ مشرکین اور کافرین کے جھگڑے جگہ جگہ قرآن حکیم میں نقل فرمائے ہیں اور ان کے سوالات اور کٹ حجتی کے جوابات بھی دئیے ہیں، کافر تو کافر ہیں جو لوگ نام کے مسلمان ہیں وہ بھی حجت بازی کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ شیطان کو ہمارے پیچھے کیوں لگا دیا ؟ کبھی کہتے ہیں کہ جب پہلے سے تقدیر میں لکھ دیا ہے تو ہمارا مواخذہ کیوں ہے ؟ کبھی کہتے ہیں کہ ہم نے کون سا تار بھیجا تھا کہ ہمیں پیدا کردے، کبھی کہتے ہیں اور کون شریعت پر چل رہا ہے جو ہم چلیں ؟ بعض لوگوں کو یوں بھی کہتے ہوئے سنا کہ سب نیک ہوجائیں تو دوزخ کس سے بھرے گی، بعض لوگوں سے یہ بات بھی سنی گئی ہے کہ اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں ہے ہم نے عبادت نہ کی تو کیا حرج ہے، ایسا کہنے والے وہ لوگ ہیں جو اسلام کے بھی دعوے دار ہیں اور اللہ پر اعتراض بھی کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنے سے کفر عائد ہوتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ انسان کی پیدائش بھی قدرت خداوندی کا ایک شاہکار ہے۔ مگر انسان ایسا جھگڑالو اور ناشکر گذار واقع ہوا ہے کہ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک خسیس اور حقیر نطفہ سے پیدا کر کے کس قدر شرف عطا فرمایا ہے بلکہ الٹا اللہ توحید اور حشر ونشر میں جھگڑتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4 ۔ اس اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بوند یعنی نطفہ سے پیدا کیا پھر وہی انسان اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں یکا یک کھلا کھلا اور علانیہ جھگڑنے لگا ۔ یعنی جس نے پیدا کیا اسی کے بارے میں جھگڑا شروع کردیا اور جھگڑا بھی علانیہ۔